جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

اختر شادؔ : اپنی ذات میں اک قافلہ



اختر شادؔ : اپنی ذات میں اک قافلہ



زندگی رواں دواں ہے۔ مظاہر کا تسلسل، تواتر اور تقاطع زندگی کا خاصہ ہیں۔ ٹیکسلا برِصغیر میں زندگی کا ایک قدیم مسکن ہے۔ یہ شہر اُس دور میں بھی ممتاز حیثیت رکھتا تھا جب تاریخ لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ برصغیر کی پہلی معروف تصنیف ’’مہابھارت‘‘ کا مصنف بھی اسی شہر کا باشندہ تھا۔ دنیائے ادب کی بات کریں تو بھی اس دیارِ سنگ و آہن کے اہلِ قلم ایک مسلّمہ حیثیت رکھتے ہیں۔ حدید و حجر کی اس وادی میں قلم کا سفر ہمیشہ جاری رہا ہے۔ گزرتے وقت اور بدلتی اقدار کے ساتھ ساتھ جب قدیم تہذیب کا یہ گہوارہ ایچ ایم سی، ایچ ایف ایف، پی او ایف، اور ایچ آر ایف جیسے عظیم صنعتی منصوبوں کا مقام ٹھہرا تو تہذیب نے ایک نئی کروٹ لی۔ یہاں باضابطہ ادبی تنظیموں کی داغ بیل ڈالی گئی۔

حلقہ تخلیقِ ادب، ٹیکسلا بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ مئی ۱۹۸۴ء سے مصروفِ عمل اس پلیٹ فارم نے اہلِ حرفت میں سے جو اہلِ حرف متعارف کرائے، اُن میں ایک جوان سال شاعر اختر شادؔ ہے۔ شادؔ بطور شاعر ۱۹۸۴ء میں متعارف ہوا اور بہت جلد ممتاز ہو گیا۔ اس کا امتیاز اُس کے لہجے کی وجہ سے ہے جس کی توانائی اُس کے بہت شروع کے اشعار میں محسوس کی جانے لگی:
آج کرتی ہے کیا ہوا دیکھو
آشیانہ ذرا بنا دیکھو

میری حالت جو دیکھنا چاہو
ٹمٹماتا ہوا دیا دیکھو


اختر شادؔ کا اپنا کہنا ہے: ’’شاعری کا مطالعہ کرنے کے لئے دو امور ہمیشہ پیشِ نظر رہنے چاہئیں؛ اول شاعر کی ذاتی زندگی اور دوسرا اُس کا عہد‘‘۔ میں اپنے محترم دوست کے اسی قول کو نبھاتے ہوئے آپ کو اپنے مشاہدے میں شریک کرنا چاہوں گا۔

یہ غالباً ۱۹۷۹ء کی بات ہے۔ انجینئرنگ کالج (موجودہ انجینئرنگ یونیورسٹی) ٹیکسلا میں ایک نوجوان ملازم ہوا۔ وہی ایک نادیدہ سی جھجک جو کسی ادارے میں ہر نئے آنے والے کے انداز و اطوار میں ہوتی ہے، اُس میں بھی تھی۔ تاہم اُس کی روشن آنکھیں اور کشادہ پیشانی آنے والے نامعلوم زمانوں کی باتیں کرتی محسوس ہوتی تھیں۔میرے اور اُس کے درمیان ایک غیرمحسوس سی ہم آہنگی تشکیل پاتی گئی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں: زندگی برقرار رکھنے کی تگ و دو میں پیش آنے والے کم و بیش مماثل مرحلے، ادب سے تھوڑی بہت شناسائی اور حرف سے ناطہ، آپ جو بھی کہہ لیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ میرا اور اُس کا پہلا سانجھا غم نانِ جویں کا غم تھا اور یہی قدرِ مشترک آگے چل کر ایک مضبوط تعلق کا روپ دھار گیا۔

ہواؤں کے مقابل آشیانے بنانے والا اور فصیلوں پر چراغ جلانے والا اختر شادؔ وقت کے ہاتھوں کندن بننے کے لئے بھاری مشینوں کے کارخانے (ایچ ایم سی) کی بھٹی میں ڈال دیا گیا جہاں اس کے سامنے شعلے تھے، اس کے ارد گرد حبس تھا اور اوپر دھوئیں کا بادل۔ اور اِن میں گھرا ہوا ایک حساس نوجوان تھا جس کے خدشات میں گھرے ہوئے جوان جذبوں نے کچھ ایسی صدا تخلیق کی:
یہ نہ سمجھو جبر و استحصال کا عادی ہوں میں
رزق چھن جانے کا ڈر خاموش رکھتا ہے مجھے

دھوئیں کی چھت کے نیچے رزق پارے چنتے چنتے
خدائے رزق! میں خود بھی دھواں ہونے لگا ہوں


دھوئیں کی اِسی چھت کے نیچے مقبول کاوشؔ مرحوم نے ایک شمع روشن کر رکھی تھی۔ اس شمع کے گرد رقص کرنے پروانوں میں ایک پڑھا لکھا شخص وسیم کشفی تھا جو بقولِ خود اپنی تعلیم بیچ کر سگرٹ پھونکا کرتا تھا۔ رؤف امیر تھاجو ذرا سی بات پر بگڑ جانے اور ذرا سی دیر میں من جانے کے حوالے سے معروف تھا۔ صدیق ثانیؔ تھا جو اپنے رکھ رکھاؤ، مزاج اور اسلوب میں حلقے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا۔ اور اختر شاد تھا:
شادؔ اُس عہد کا شاعر ہے زمانے، کہ جہاں
زیبِ قرطاس و قلم نغمے نہیں نوحے ہیں


کارگاہ میں اختر شادؔ کا کام تھا تیار شدہ پرزہ جات کو جانچنا پرکھنا اور اُن کو مارک کرنا! ’یہ پاس ہے، یہ فیل ہے، اس کی رگڑائی ہوگی، یہ دوبارہ ڈھلے گا‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور یہی مارک کرنے کا عمل وہ فکری سطح پر کرتا رہا، معاشرے کو مارک کرنا اور آپ جانتے ہیں کہ شاعر اور ادیب کا منصب بھی یہی ہے۔

پہلے تو وہ دِن بھر ورکشاپ میں کام کیا کرتا اور رات بھر کتابوں کے ساتھ جاگا کرتا۔ اور، پھر یوں ہوا کہ وہ دن بھر گورنمنٹ کالج اصغر مال (راولپنڈی) میں رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر رسمی طور پر بھی ادب اور علم سے وابستہ رہتا اور رات بھر مشینوں کے ساتھ جاگتا۔ جسم اور روح دونوں کو زندہ رکھنے کی اس کاوشِ مسلسل میں وہ کتنے ہی سال جی بھر کر سو نہیں سکا۔ اس سے بڑھ کر کٹھنائی اور کیا ہو گی! یہ سارا عرصہ کم و بیش دس سال پر محیط ہے۔ اور قابل غور بات یہ ہے کہ اس سارے عرصے میں ادب کے ساتھ اختر شادؔ کی محویت اور تعلق میں کبھی کہیں کوئی جھول نہیں آیا۔ آج حلقہ کا اجلاس ہے، وہاں اختر شادؔ ہے۔ کل دیارِ ادب کی نشست ہے، وہاں اختر شاد ہے۔ اگلے دن مجلسِ ادب میں کسی افسانے پر بحث ہے، وہاں اختر شادؔ ہے۔یعقوب آسیؔ کے گھر احباب جمع ہیں، وہاں اختر شادؔ ہے۔ صدیق ثانیؔ کا گاؤں (میر پور، ضلع ہزارہ) یونیورسٹی کے پرلی طرف واقع ہے۔ میرپور اور یونیورسٹی کی پگڈنڈیاں ہیں، رات بھیگ رہی ہے، یعقوب آسیؔ ہے، صدیق ثانیؔ ہے اور اختر شادؔ ہے۔ایسا سرگرم شخص جب زمانے کا سرد گرم چکھ چکے تو اُس کا شعر کیسا ہو گا، اُس کے الفاظ میں کیا کیا جادو بیانیاں نہ ہوں گی! ۱۹۸۷ء اور اس سے پہلے کے چند اشعار دیکھئے۔
عجیب بات کہ ملبوس تار تار بھی تھا
مگر میں خود ہی جلاتا رہا کپاس کے پھول

سجا کر سرخ جوڑا تم مرے خوابوں میں آنا
کہ میں نے بھیج دی جذبوں کی اِک بارات رانی

رات کی گاڑی تو کب کی لُٹ چکی ہوتی مگر
خوف کی ڈائن ابھی ڈاکو سے ہم آغوش ہے

اب یہ وادی سبز منظر زیبِ تن کیسے کرے گی
پچھلا موسم جاتے جاتے سرخ قطرے بو گیا ہے

مرے مزاج کی بے رنگیوں کو مت دیکھو
میں اپنا رنگ کئی موسموں میں رکھتا ہوں


اختر شادؔ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس نے ہمیشہ ہر کام پوری ذمہ داری کے ساتھ کیا ہے۔ اُس کا یہ احساسِ ذمہ داری اس کے کلام میں جا بجا ہویدا ہے:
میں رنگ و نور کی جوئے رواں لاؤں کا بستی میں
میں چھوڑوں تیشۂ فرہاد، ایسا ہو نہیں سکتا

جو میرے ساتھ چلے ہو تو اعتماد رہے
میں ساتھ چھوڑ کے رستے میں چل نہیں دیتا


پروفیسر انور مسعود کے الفاظ ہیں ’’شاعری سے عہدہ برآ ہونا کوئی آسان ہے؟‘‘ بلا شبہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اور سلیم احمد کا کہنا ہے ’’شاعری پورا آدمی مانگتی ہے‘‘۔میں کہتا ہوں یہ تو اندھی پوروں سے مہرِ نو تراشنا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اختر شادؔ اپنی جوانی میں بھی طویل زندگی کا تجربہ حاصل کرتا ہے اور پھر اسے پوری ذمہ داری سے آگے منتقل کرتا ہے:
قلیل عرصۂ ظلمت میں دل پہ گزرے ہیں
وہ حادثات کہ تاریخِ رفتگاں میں نہیں

وہ اپنے دشمنوں سے دوستی میں مر مٹا ہے
خدا شاہد ہے، اپنی موت مرتا تو نہ مرتا

تعلق زندگی سے اور بھی مضبوط ہوتا ہے
ہتھیلی میں نئی پیوست جب بھی کیل ہوتی ہے

شبِ آئندہ کے اسرار دنیا والے کیا جانیں
ہم اہلِ درد پر افلاک سے تنزیل ہوتی ہے


چمکنا چھوڑ دے تو سورج سورج نہ رہے، سوچنا اور کہنا چھوڑ دے تو شاعر شاعر نہ رہے۔ سوچنے اور کہنے کا یہ عمل کوئی حادثاتی عمل نہیں ہے، یہ تو ایک سلسلہ ہے۔ بقول ابن الحسن سید ’’شاعری اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے فرد محسوسات سے معنویت کی طرف سفر کرتا ہے اور منزل اور دونوں کو یک جا پاتا ہے‘‘۔ میں اس پر یہ اضافہ کرتا ہوں کہ اس سفر میں اس کی ذات ہے، اس کا اندازِ فکر ہے، اس کا ماحول ہے، اس کے حالات ہیں، اس کے تجربات ہیں، اس کی واردات ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ اس کی پوری شخصیت اپنے تہذیبی تناظر کے ساتھ موجود ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ شاعر کی ذات کو نکال کر اس کی شاعری کو پرکھ سکیں۔ میں نے اختر شادؔ کے ذاتی حالات کا جو مختصر نقشہ پیش کیا ہے، اس کا مقصد یہی ہے کہ آپ میری بات کے عواقب سے آگاہ ہو کر بہتر طور پر میرا ساتھ دے سکیں۔
روشنی کم ہی سہی پر انتا کافی ہے مجھے
تیرگی سے بر سرِ پیکار لکھا جائے گا

سروں سے برف کی چادر ہٹا دے، مر رہے ہیں
کہیں سے کوئی حدت ہم کو لادے، مر رہے ہیں

میں یوں تو شہر میں پرچم بکف پھرتا ہوں لیکن
پسِ دیوارِ جاں میرے ارادے مر رہے ہیں


آپ اختر شادؔ کی پوری شاعری دیکھ لیں، اس کے ہاں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں۔ وہ جو بات کرتا ہے صاف اور کھری کرتا ہے۔ اس نے اپنے ماضی کو مستقبل سے بالکل فطری انداز میں ملایا ہے اور اس پر مستزاد اُس کا احساس ہے جو واقعات و حادثات کی تہہ تک پہنچنے میں قاری کی مدد کرتا ہے:
اس طرح مارے گئے اہلِ ہنر دربار میں
سانپ تھا لپٹا ہوا ہر ایک کی دستار میں

وہ شخص میری حقیقت سے با خبر نہ ہوا
میں وضع دار تھا، دنیا میں مشتہر نہ ہوا

نہ داستان ہتھیلی پہ یوں اٹھا کے پھرو
جو مشتہر ہو بڑا غم کبھی نہیں ہوتا

پہن کے آگ جو شب کی ردا پہ اترا تھا
یہ سانحہ ہے وہ کردار داستاں میں نہیں


اختر شادؔ کی یہ وضع داری اُس کے لفظوں تک محدود نہیں۔ مجھ سمیت جن دوستوں نے اسے قریب سے دیکھا ہے اور اُس کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہے وہ جانتے ہیں کہ اختر شادؔ انتہائی وضع دار آدمی ہے۔ اتنا وضع دار، کہ:
میں اپنے دشمنِ جاں کو سہارا دیتا تھا
جو میرے سامنے اُس کے قدم اکھڑتے تھے

خزاں رسیدہ زمانے کا دکھ مرا حصہ
نئی بہار کا پہلا گلاب تیرے لئے


گلاب، شفق، پانی، بادل، آسماں، رنگ! یہ رنگ کائنات کا بنیادی جزو ہیں۔ مصور رنگوں کے امتزاج سے احساسات کا اظہار کرتا ہے۔ اہلِ فکر نے رنگوں سے نظریات کے نمائندوں کا کام لیا ہے۔ ہمارے سیاسی تناظر میں سبز اور سرخ رنگ کو کچھ خاص معانی پہنا دئے گئے ہیں، مگر شادؔ کا رویہ قطعی مختلف ہے۔ اس کے ہاں رنگوں کے مفاہیم جہاں فطرت سے ہم آہنگ ہیں وہیں معانی کے نئے آفاق کے در وا کرتے ہیں:
ردائے سبز پر خیمہ بنائیں چاہتوں کا
دھنک سے رنگ میں لاؤں تو کرنیں کات رانی

پڑھا ہے وقت کے کیدو کی آنکھ میں، مَیں نے
کسی سے عشق نہ کرنا یہ نیلا موسم ہے

چراغ زرد ہوا چہرۂ فقیر سمیت
میں ڈگمگانے لگا اپنے دست گیر سمیت


اُس کا تشخص، جیسا میں نے پہلے عرض کیا، اس کی ذات اور اس کے گھر سے ہے۔ اس کا ’اپنا آپ‘ تمام اہلِ وطن، تمام اہلِ قلم، تمام اہلِ اسلام، تمام اہلِ ادراک اور تمام اہلِ جہاں پر محیط ہے۔ اُس کا گھر دو کمروں کے ایک تنگ کوارٹر سے شروع ہوتا ہے تو وطنِ عزیز اور اسلامی دنیا کی حدود کو پھلانگتا ہوا پورے کرۂ ارض پر پھیل جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنے گھر کا کما حقہٗ ادراک رکھتا ہے، حقائق کی تلخیوں سمیت!
ہم نے اختر شادؔ یہ اپنے گھر میں اکثر دیکھا ہے
حسبِ موقع بات ہوئی، پھر شور اٹھا، تردید ہوئی

شب کے سنّاٹے میں ایک نحیف صدا ابھری
بیٹے! میں چالیس برس تک بے اولاد رہی

بے چہرگی تم پہن نہ لینا مرے بچو!
رنگوں میں نہائی ہوئی تصویر پکارے

مجھے لَوٹا مری پہچان کا کہنہ حوالہ
غم بے چہرگی کی داستاں ہونے لگا ہوں


ہم روز کہتے ہیں: زندگی سفرِ مسلسل ہے، انسان مسافر ہے و علیٰ ہٰذالقیاس۔ یہ موضوع ہر زمانے میں اور ہزاروں لاکھوں انداز میں بیان ہوا ہے۔ سفر کے مختلف حوالوں اور اس کے فکری، فنی، تہذیبی، علمی، ادبی، معاشرتی، نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی پہلوؤں پر اتناکچھ لکھا گیا ہے کہ کسی حوالے کی ضرورت نہیں پرٹی۔ ہاں، کچھ باتیں ایسی ضرور ہیں جو حوالہ بن جاتی ہیں:
جدا ہیں سب سے مری منزلیں مگر خود کو
بہ اقتضائے سفر قافلوں میں رکھتا ہوں

یہ میری آبلہ پائی یہ دشتِ شب کا سفر
بنے گا میرے زمانے کی آبرو اک دن

درمیاں ریگِ رواں آئے کہ سنگ و خار ہوں
شادؔ جانا ہے مجھے اس پار زخمی پؤں سے


تلمیحات جو حال اور مستقبل کو ماضی سے ملاتی ہیں، خود اس قدر مضبوط معنویت رکھتی ہیں کہ بات کرنے والا تلمیح کے جادو میں آ جاتا ہے اور بسا اوقات ماضی پرستی کا شاکر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اگر عزمِ صمیم کے ساتھ مستقبل کو دیکھنے والی نگاہ حاصل ہو تو تلمیحات نئے معانی سے مزین ہو جاتی ہیں۔ ایک بڑھیا یوسف کو خریدنے کے لئے سوت کی اٹی لائی تھی اور اختر شادؔ کے ہاں:
کہیں سے آج تو یوسف کو ڈھونڈ کر لاؤ
زلیخا شہر میں ریشم بدست آئی ہے

سبھی کچھ ہے مگر بیٹوں کی قربانی نہیں ممکن
خلیلِ عصر کو جلنا پڑے گا اب الاؤ میں

یہ انہدام ہے کوہِ وفا کا اے خسرو!
تمہارا قصر بھی نیچے ہے جوئے شیر سمیت


وقت کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہونے والی تہذیبی توڑ پھوڑ، انسانی قدروں کا زوال، رخنہ بر اندام رشتے، آج کے ایٹمی دور کے عطا کردہ نئے غم اور اس مشینی زندگی میں انسانی محسوسات کی بے وقعتی! کتنے دکھ ہیں! کتنی تلخ حقیقتیں ہیں! اختر شادؔ کی زبانی:
شور برپا ہے کہ اس شہر کو خالی کر دو
آگ طوفان کسی سمت سے در آیا ہے

منزلوں کی سمت کوئی بھی قدم اٹھتا نہیں
اب سفر ہونے لگا ہے دائروں کی شکل میں

یہ نفسا نفسی کا دور کیسا کہ جس کو دیکھو
خود اپنے مرقد کا سنگِ مرمر تراشتا ہے

کھو کے ہوش و حواس ناچتی ہے
زندگی بے لباس ناچتی ہے

کیا خبر تھی اس طرح بونے بڑے ہو جائیں گے
پاؤں رکھ کر میرے شانوں پر کھڑے ہو جائیں گے

اے شادؔ کسی دشتِ وفا کیش کو نکلو
اس شہر میں لیلائے غزل مرنے لگی ہے

شناختوں کے یہ مرحلے اب تو اور دشوار ہو گئے ہیں
اُدھر ہیں اس کے نقوش گھائل، اِدھر ہیں میری فگار آنکھیں


اس سب کے باوجود وہ مایوس نہیں ہے، کیوں کہ وہ تو زندگی کا شاعر ہے اور زندگی کا سفر جامد ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کا عزم جواں ہے، اسے یقین ہے کہ انسان ایک بار پھر تعظیم کا حق دار قرار پائے گا، اسے یقین ہے کہ صدائے حق پھر بلند ہو گی:
حصارِ جبر کی اندھی فصیل ٹوٹے گی
صدا کے قافلے گھومیں گے کو بکو اک دن

میں وہ صدا ہوں جو دنیا سے مٹ نہیں سکتی
میں اپنی گونج کئی وادیوں میں رکھتا ہوں

اسے اپنی فکر، اپنے مشاہدے، اور اپنے اظہار پر اعتماد ہے:
وقت کی تمثیل میری آنکھ میں محفوظ ہے
کون سا کس نے کیا کردار لکھا جائے گا

مرے افکار میرے ہم سفر ہیں
میں اپنی ذات میں اک قافلہ ہوں

*****
۔ محمد یعقوب آسی۔ ۱۰ اپریل ۱۹۹۹۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مضمون ’’اختر شاد کے ساتھ ایک شام‘‘ (منعقدہ ٹیکسلا ۱۱؍ اپریل ۱۹۹۹ء) میں پیش کیا گیا۔ اور بعد ازاں ماہنامہ ’’کاوش‘‘ ٹیکسلا (شمارہ جولائی ۱۹۹۹ء) میں شائع ہوا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں