جمعہ، 28 اکتوبر، 2016

میرا پہلا شعر



میرا پہلا شعر


یہ بات ہے 1984ء کی۔ ستمبر یا اکتوبر کے دن تھے، ٹھیک ٹھیک تاریخ ریکارڈ میں بھی نہیں ملی۔ اتنا یاد ہے کہ وہ بُدھ کا دِن تھا، حلقہ تخلیقِ ادب ٹیکسلا کی طرف سے بلاوا آیا تھا۔ یہ کسی بھی باضابطہ ادبی تنظیم کے باضابطہ اجلاس میں میری اولین شرکت تھی۔ شعری نشستوں میں شاعرانہ مزاج سے شناسائی کی ضرورت زیادہ ہوا کرتی ہے، جس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا۔ سو، میں بتائے ہوئے وقت کے عین مطابق مقامِ اجلاس پر (ایچ ایم سی بوائز سکول) پہنچ گیا۔ تب اِس کا نام ایچ ایف ایف سکول ہوا کرتا تھا۔ ڈیوٹی پر موجود چوکیدار نے بتایا کہ اجلاس تو آج ہونا ہے مگر وہ لوگ دیر میں آئیں گے۔ گھر واپس چلا جاتا تو شاید چلا ہی جاتا، میں نے وہیں ارد گرد وقت گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایچ ایم سی اب بھی ایک چھوٹی جگہ ہے، تب اور بھی چھوٹی ہوتی تھی۔ ایک چائے خانے پر آپ کتنی دیر بیٹھ سکتے ہیں؟ یہی کوئی آدھا گھنٹہ؟ سکول کے بالکل سامنے ایک کھلا میدان تھا (بعد میں وہاں بنگلے بن گئے)۔ لوکل الیکشنز ہونے والے تھے۔ وہاں میدان میں ایک ٹینٹ لگا تھا، میں ادھر کو نکل گیا۔ مختصر سا اسٹیج بنا تھا، سامنے کوئی ایک سو کرسیاں رہی ہوں گی، جن میں آدھی خالی تھیں، ایک صاحب تقریر کر رہے تھے۔ کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا، پھر اُکتا کر مارکیٹ کی طرف نکل گیا۔ چائے پی، سکول پہنچا تو مجھے وہاں اختر شادؔ نظر آ گئے؛ 1979ء میں ان سے غمِ نان جویں کے سلسلے میں ملاقات ہوئی تھی، کسی اور کو میں جانتا بھی نہیں تھا۔ مجھے اُس دن پتہ چلا کہ حضرت شعر بھی فرماتے ہیں۔ ایک ہم دمِ دیرینہ کا مل جانا بھی کیا کم تھا!

شعرائے کرام ایک ایک کرکے آتے گئے، اور ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں، احباب سے تعارف ہوا۔ سات آٹھ لوگ جمع ہو گئے تو اجلاس کے آغاز کا اعلان ہو گیا، اختر شادؔ نے نظامت سنبھالی۔ مجھے حیرت کا سخت جھٹکا لگا جب اجلاس کی صدارت کے لئے میرا نام لیا گیا۔ بہتیرا کہا کہ: صاحبو! میں تو ان محفلوں کے آداب سے بھی واقف نہیں ہوں، اور کبھی کسی ادبی اجلاس میں شرکت بھی نہیں کی۔ مجھے امتحان میں نہ ڈالئے!۔ مگر کسی نے ایک نہ سنی تو میں سکڑتا سمٹتا صدارت کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اختر شادؔ نے گزشتہ اجلاس کی روداد پڑھ کر سنائی، مختصر سی روداد تھی جس میں شعراء کا نمونہء کلام پیش کیا گیا تھا۔

اچھے خاصے منجھے ہوئے شعرائے کرام اپنا کلام سناتے گئے اور میں سناٹے میں آتا گیا کہ ’’آسی میاں! اپنے کلامِ خام میں سے جسے تم نے اپنی غالب کُش غزل سمجھ کر آج منتخب کر کے لائے ہو، وہ کم از کم غزل کہلانے کی مستحق نہیں! اور تم بیٹھے ہو کرسیء صدارت پر۔ آج پہلے ہی دن ایسے پرزے اڑیں گے کہ پھر دکھائی نہیں دو گے‘‘۔ مگر وہاں سے مفر کوئی نہیں تھا۔ سو بیٹھا رہا، شعر سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ اپنی اس کاوشِ خام کا کیا کروں۔ تب تک حلقے کے صدر مقبول کاوشؔ کی باری آ گئی تھی اور ان کے بعد میری پیشی تھی وہ بھی اتنے سارے ججوں کے سامنے! کاوشؔ صاحب پڑھ چکے۔ ناظمِ اجلاس نے مجھ سے ’’درخواست‘‘ کی کہ میں اپنے کلام سے ’’نوازوں‘‘!

کسی بھی ادبی تنظیم میں میرا پہلا اجلاس مجھے بہت بری طرح یہ احساس دلا گیا کہ میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اوزان کی شرط بھی پوری کر جائے تو بڑی بات ہے، مضمون، غزل، اسلوب، لفظیات، صنعتیں وغیرہ تو سب بعد کی باتیں ہیں۔ ابھی تو گلے پڑا ڈھول بجانا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو ’’سنبھالا‘‘ دینے کے لئے مختصر سی گفتگو سے آغاز کرنے کا سوچا۔ کہنا چاہتا تھا کہ میں ’’نوآموز‘‘ ہوں مگر منہ سے ’’نو آمیز‘‘ نکلا۔ بہر کیف بات کسی طور سنبھل ہی گئی۔ اختر شادؔ کا موجود ہونا بھی میرے لئے ڈھارس کا سبب ٹھہرا۔

میرے پاس جو ’’غزل‘‘ تھی، میری باری آتے تک وہ غزل نہیں رہی تھی۔ میں نے اُس پر ایک عنوان دے دیا تھا ’’ابنِ آدم‘‘ اور نظم کے طور پر پیش کی تھی، ہر چند کہ اس میں اوزان کے مسائل تھے جن کا ادراک مجھے اُس نشست سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ ٹینٹ میں تقریر کرتے ہوئے صاحب البتہ میرے کام آ گئے تھے۔ ان کی جتنی گفتگو میں نے سنی، اس کے ردِ عمل میں ایک شعر موزوں ہو گیا تھا، جسے میں نے چائے پینے کے دوران اپنی نوٹ بُک میں لکھ لیا تھا۔ یہ شعر اُس مختصر سی جلسہ گاہ میں گزرے کچھ دقیقوں کا ردِ عمل ہے، یہ میرے ادبی سفر کا پہلا باضابطہ شعر ہے اور ابھی تک فرد ہے، کہ اس زمین میں کوئی دوسرا شعر مجھ سے نہیں ہو سکا۔
 میرا لہو مجھی کو بیچا، مجھ سے دام بٹور لئے
 واہ رے لاشوں کے بیوپاری، مجھ کو بیچا میرے ہاتھ

محمد یعقوب آسیؔ جمعہ 28؍ اکتوبر 2016ء

ہفتہ، 8 اکتوبر، 2016

پریشانم، چہ ویرانم






پریشانم، چہ ویرانم

جی، میں بات کر رہا تھا، مسلم معاشروں میں زمانہ جاہلیت کے نظریات کا نفوذ۔ یہاں ایک بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ فی زمانہ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلم معاشروں کے اندر جو کچھ عملاً ہو رہا ہے، وہ سارا کچھ اسلامی اصولوں سے منطبق نہیں ہے، یہ ہمارا المیہ ہے۔ اور مزید بدقسمتی یہ ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کو غلط تسلیم کرنے پر تیار نہیں بلکہ عذر گناہ کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔دنیا میں اسلامی نظام خلافت کہیں رائج نہیں۔ سود کو حلال سے آگے لازمی کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ جہاد کے تصور کو تنقیص کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے نام پر ان کو شمع محفل بنایا جا رہا ہے۔ مخلوط تعلیم عین عنفوان شباب تک چلتی ہے جہاں ۔۔۔ اس سے آگے کیا کہوں؟ نماز اور رقص دونوں عبادت سمجھ لئے گئے ہیں۔ موسیقی کو روح کی غذا کہا جا رہا ہے اور خاکم بہ دہن، کچھ لوگ اس کو اللہ کی کتاب پر ترجیح دینے والے بھی ہیں۔
نماز، روزہ، زکوۃ کا کہیں کھلم کھلا اور کہیں گھما پھرا کر انکار کیا جا رہا ہے۔ جہیز کو وراثت کے اسلامی قانون پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ قرآن شریف کی زبان کو سیکھنا تضییع اوقات سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ہمیں کچھ سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ایک بندہ مال کمانے کے لئے پیچ در پیچ علوم کے علاوہ تین چار پانچ زبانیں سیکھ لیتا ہے مگر قران اور حدیث کی تفہیم کے لئے عربی سیکھنا کارِ بے کار سمجھتا ہے۔ تفرقہ، فرقہ واریت، شیعہ سنی وہابی دیوبندی بریلوی تبلغی وغیرہ وغیرہ میں ہر ایک کو کلیتاً درست تسلیم کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کا نیا فلسفہ دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ سارے درست ہیں تو ان کے عقائد اور افکار میں جتنے فاصلے ہیں وہ بھی درست؟ تو پھر اللہ اور اس کا رسول کہاں رہ گئے۔
اور اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ جو کچھ عملاً ہو رہا ہے اسے اسلام کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے۔ اسلام کا نام لینے والے ہم نام نہاد مسلمان یا تو اپنے سوا سب کو بیک جنبش زبان کافر قرار دے دیتے ہیں یا یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یار چھوڑو جو کوئی جس راستے پر ہے سب ٹھیک ہے۔ یعنی حق نا حق برابر؟ ظلم اور کس چیز کو کہا جا سکتا ہے؟ بلکہ اب تو اتحاد بین المذاہب کی پرشور تبلیغ کی جا رہی ہے۔ یعنی اللہ اور رسول کو تسلیم کرنے والا اور اللہ اور رسول کا انکار کرنے والا دوست ہو گا۔ چہ عجب؟ شیطان کی امت اور محمد الرسول اللہ کی امت میں دوستی، کیا تماشا ہے!!!؟ ۔
ترک دنیا کا تصور بھی ایک ایسا ہی شوشہ ہے۔ ارسطو، افلاطون کا زمانہ تو حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی پہلے کا ہے، سو، ان کے افکار انسانی اختراع ہی کہلائیں گے کہ اس دور میں انسان من حیث المجموع اللہ سے کٹ چکا  تھا اور سوفسطائی انداز فکر معاشرے میں فساد برپا کئے ہوئے تھا۔ آج ہم اگر ان لوگوں کی فکری راہنمائی کو تسلیم کرتے ہیں تو قصور وار نہ قرآن ہے نہ صاحب قرآن۔ اسلام نے تو رُہبانیت کا انکار کیا ہے، کوئی شخص خواہ وہ جتنا بڑا عالم ہو، اگر وہ رہبانیت کی کوئی صورت اپنا لے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ رہبانیت جائز ہو گئی۔ اگر ترک دنیا، قوالی، ناچ، شراب، عشق بازی، چلتے دریا میں کھڑے ہو کر چلے کاٹنا؛ یہی سب کچھ حقیقی اسلام ہے تو پھر نبی اور نبی کے صحابی تو ہمارے بابوں ملنگوں فقیروں پیروں سے بہت پیچھے رہ گئے؟ اللہ معاف کرے!۔
مسلمان ہونے کے لئے صوفی، سادھو، سنت، جوگی ہونا ضروری نہیں بلکہ یہ تو خطرے والی بات ہے۔ اللہ کی شان میں گستاخی، بابا جی کو جائز بلکہ ان کے وقار میں اضافہ؟؟ اللہ رحم کرے۔ اللہ کی شان میں گستاخی جدید شاعری کا خاصہ؟ خدا ایسی زبانوں اور ایسے اقلام پر رعشہ طاری نہیں کرتا تو اس لئے کہ اس نے مہلت کا قانون دے دیا ہے۔ رہی مسلمان کی اس دنیا میں زبوں حالی کی وجوہات اور کفار کی بظاہر پر تعیش زندگی، تو اس پر قرآن اور حدیث میں سب کچھ کھول کر بیان کر دیا گیا ہے، مگر اس کا کیا کیجئے کہ دانشِ افرنگ کے پروردہ اذہان اس کو ایک جھوٹے وعدہ حور کی صورت بنا کر پیش کر دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ بات کرنے والا اور بات سننے والا دونوں حیات بعد الموت پر حقیقی  ایمان سے محروم ہیں۔
سچ اور جھوٹ کا ملغوبہ سچ نہیں کہلا سکتا۔ اگر کسی نے سچ میں ایک فیصد جھوٹ ملا دیا تو بھی وہ سچ کے درجے سے گر گیا، اور اگر کسی نے ۹۹ فیصد جھوٹ ملا دیا تو بھی حاصل جھوٹ ہی ہوا۔ میں جی میں آدھا مسلمان ہوں، وہ جی وہ مجھ سے بھی آدھا مسلمان ہے جی اور آپ تو جی آپ مجھ سے اچھے ہیں آپ اسی فیصد مسلمان ہیں جی ۔ استغفراللہ !!!۔ مسلمان وہ ہے جو سو فیصد مسلمان ہے، ورنہ وہ خود کو اور لوگوں کو تو دھوکا دے سکتا ہے، اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
لوگ دھڑلے سے قران شریف کی آیات کی غلط املا لکھتے ہیں اور پھر اس کا جواز بھی بناتے پھرتے ہیں اور دعوے بھی کرتے ہیں کہ جی ہم دانشور ہیں۔ شراب کو جائز سمجھنے والے بھی مسلمان، زناء کو قانونی اور جائز بنانے والے بھی مسلمان، سود پر معیشت استوار کرنے والے بھی مسلمان، رشوت کو طاقتور بنانے والے بھی مسلمان، تو ایسوں کے فکری سربراہ بھی ویسے ہی ہوں گے؛ رقص کو نماز قرار دینے والے، سازینوں پر قرآن کی تلاوت کرنے والے، مساجد میں شور مچا کر لوگوں کی مت مارنے والے، تشریح اور تفسیر میں ڈنڈی بلکہ ڈنڈا مارنے والے۔
نظریہء ضرورت اور دور حاضر کا تقاضا قرار دے کر اسلام کے احکام کو موقوف کرنے والے کسی ایسے اسلام پر ہی متفق ہو سکتے ہیں جو ترک دنیا میں ملتا ہے۔ اسلام کی حقیقی روح تو یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہاں اسلام نافذ ہو گا تو وہاں اس کا پھل ملے گا۔ یہاں کوئی ملغوبہ چلتا رہے گا تو وہاں بھی ویسا کچھ ہی ملے گا۔
دیگر مذاہب کے لوگوں سے لین دین تجارتی معاہدے جنگی معاہدے تک تو درست مگر ان سے دوستی؟ نہیں ہر گز نہیں۔ ہاں آپ کہتے ہیں کہ جی اگر میں ان سے دوستی نہیں کرتا تو میری سلامتی کو خطرہ ہے۔ سلامتی کو خطرہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ میں مسلمان کیوں کہلاتا ہوں؟ تو پھر دوستی نہ کرنا بلکہ دشمنی کرنا فرض عین ہے۔ ورنہ دوستی کے نام پر غلامی کر کے جو سلامتی حاصل ہو گی، وہ تذلیل کے سوا کچھ نہیں اور سلامتی کب تک، کہاں تک؟ کیا یہ سلامتی واقعی سلامتی ہے؟
پریشانی تو کجا، اب تو اس پر حیرت بھی نہیں ہوتی۔ فکر و احساس پر ویرانی چھا جائے تو اس کا حاصل یہی کچھ ہو گا۔ پریشانم نہ حیرانم؛ چہ ویرانم!۔


فقط: محمد یعقوب آسیؔ           ہفتہ: 8۔ اکتوبر 2016ء۔

جمعرات، 6 اکتوبر، 2016

ہم یہ کچھ تو کر ہی سکتے ہیں




قومی سطح پر اردو کے مؤثر نفاذ میں ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں؟ یہ سوال ہے۔
اس کے جواب میں عرض کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم یہ کچھ تو کر ہی سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔1۔ ماضی کو کریدنے اور اُس زمانے کی ذمہ داریاں نبھانے نہ نبھانے وغیرہ کا سلسلہ ترک کر دیں۔

۔2۔ اپنے اپنے ماحول میں اپنی اپنی استعداد کے مطابق درست اور شائستہ اردو کو رواج دیں۔ مادری زبان کی نفی مقصود نہیں۔

۔3۔ اس وقت مختلف املاء کمیٹیوں کی جو سفارشات منظر پر موجود ہیں ان کا اپنی استعداد کے مطابق جائزہ لیں اور ان میں بہتری تجویز کرتے رہیں۔

۔4۔ اصطلاحات سازی اور دیگر زبانوں میں رائج اصطلاحات کو اردو میں ڈھالیں۔ ڈھالنا اور ترجمہ کرنا دو مختلف عمل ہیں۔

۔5۔ کوئی فرد یا ادارہ (سرکاری ہو تو بہتر ہے) ایک آدھ ایسی ویب سائٹ بنائے (اور چلائے بھی) جہاں احباب اپنی تجاویز اور مشورے پیش کر سکیں۔

۔6۔ عمومی ذریعہ تعلیم اردو ہو۔ چھوٹی سطح سے مقامی زبان میں پڑھایا جائے۔ تیسری چوتھی جماعت سے اردو کا تعارف ہو اور چھٹی جماعت سے ذریعہ تعلیم ہی اردو ہو۔ ہائی سکول میں دیگر زبانیں جن کا ہماری معاشرت سے تعلق ہے (عربی، فارسی) اور انگریزی (بین الاقوامی) بطور مضمون پڑھائی جائیں۔ کالج کی سطح پر انگریزی اور اردو متوازی چلائی جائیں۔ یونیورسٹی میں چونکہ میدانِ مطالعہ کی تخصیص ہو جاتی ہے، لہٰذا ذریعہ تعلیم سکالر کی ضرورت کے مطابق ہوں۔ تاہم اردو ادب اور اطلاقی اردو کو قائم رکھا جائے۔ نصاب کا تعین کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات دی جائیں جن میں قومی مقاصد کا بہت واضح تعین بھی ہو جائے۔

۔7۔ مقامی اور مادری زبانوں کی اردو کے خلاف محاذ آرائی کا ماحول ختم کیا جائے۔ ان زبانوں کے اسماء و افعال کو اردو میں شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ فطری حد بندی مزاج کے اشتراک سے از خود طے پا جائے گی۔ اس میں کوئی قدغن لگانے کی نہ ضرورت ہے نہ فائدہ۔

۔8۔ سرکاری اداروں اور دفاتر کی زبان اردو ہو، بین الاقوامی سطح کے ادارے ملک کے اندر اردو چلائیں اور ملک کے باہر اپنی ضروریات کے مطابق جیسے بھی چل سکے۔ اسلام اور پاکستان ۔ ان دونوں کا احترام بہر طور ہر سطح پر ملحوظ رہے۔

۔9۔ مقتدرہ قومی زبان اور اکادمی ادبیات میں اردو کی ترویج کے حوالے سے خصوصی پیش رفت کا اہتمام کیا جائے۔ تاکہ محض قابل ہی نہیں بلکہ قابل اور مخلص لوگ اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کر سکیں۔

۔10۔ اردو کی ترویج پر بہت سارا کام جو پہلے ہو چکا ہے اس سب کو یک جا کیا جائے اور اس کی عام قاری تک رسائی آسان کی جائے۔ کتابوں کی اشاعت کو ممکنہ حد تک سستا کیا جائے کہ زیادہ تر کتابیں عام قاری کی رسائی آسان ہو سکے۔ سادہ اور سستے ایڈیشن کا رواج ایک بار چلا تھا، اسی نہج کو پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے۔

۔11۔ گھروں میں بولی جانے والی زبان کو انگریزی کی غیرضروری ترجیح کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اپنی اپنی مادری اور علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو کو رواج دیا جائے۔

۔12۔ سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت خلوص کی ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اس کے ہم رکاب کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

فقط ۔۔ محمد یعقوب آسی (ٹیکسلا) پاکستان ۔ جمعرات 6 اکتوبر 2016ء۔