پیر، 30 نومبر، 2015

ہمزہ اور یائے مستور


ہمزہ اور یائے مستور




اردو میں ہم فارسی سے آمدہ الفاظ تمنائی، دریائی، تماشائی، وغیرہ سے مانوس ہیں۔ فارسی رسمِ تحریر میں ان کی املاء  تمنایی، دریایی، تماشایی، وغیرہ ہے جب کہ ہم ان کی یی کے بجائے ئی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ یعنی جس ی پر ی وارد ہوئی وہ ہمزہ میں بدل گئی۔ ایک بات اور بھی قابلِ غور ہے۔ ہم لکھتے ہیں: مجلس آرا، دریا، تمنا، تماشا، سر و پا، فردا ۔ فارسی والے یوں بھی لکھتے ہیں: مجلس آرای، دریای، تمنای، تماشای، سر و پای، فردای مگر یہ ی عام طور پر بولنے میں نہیں آتا۔ جب اس پر کوئی حرکت ہو تو لکھنے بولنے دونوں میں آ جاتا ہے۔ خدای سے خدایان، خوش بوی سے سے خوش بویات، خوب روی سے خوب رویان؛ وغیرہ۔ اس کو یائے مستور کہہ لیجئے۔ یائے مستور کے مقامات تین ہیں: 

ایک ۔ جب ایک اسم الف معروف پر ختم ہو رہا ہو۔ خدا، ہوا، صدا، نوا۔ ان میں ہر جگہ یائے مستور موجود ہے۔ اس پر واوِ عطف واقع ہو تو ہمزہ غیر مملوء (لکھے بغیر) شامل ہو جاتا ہے۔ خدا و انساں (صوتیت: خدا ؤ انساں، خدا ءُ انساں) اگر اس میں یائے مستور لکھا ہوا ہو تو۔ خدای و انساں (صوتیت: خدا یو انساں، خدا یُ انساں)۔ معانی وہی ہیں :خدا اور انسان۔  
شُذرہ: ایسے اسم پر اضافت یا توصیف کی وجہ سے زیر لاگو ہو تو فارسی طریقہ تو ہے کہ یائے مستور کو لکھ کر اس پر زیر لگاتے ہیں۔ ہوایِ غم، نوایِ جبریل۔ مگر یہ اردو میں مانوس نہیں ہے۔ اردو میں الف کے بعد کی یائے مستور کی جگہ ہمزہ اور اس پر واقع ہونے والی زیر کی جگہ یائے مجہول (ے) لکھتے ہیں: نوائے وقت، بلائے بے درمان۔ شعر میں اس یائے مجہول کو گرایا جانا عام ہے۔

دو ۔ جب ایک اسم واو معروف یا واوِ لین پر ختم ہو رہا ہو۔ خوب رُو، پیش رَو، خوش بُو، سرِ مُو، وغیرہ۔ ان میں بھی ہر جگہ یائے مستور موجود ہے۔ ان اسماء کے آخر پر زیرِ اضافت یا زیرِ توصیف لاگو ہو تو یائے مستور حسب بالا ظاہر ہو جاتی ہے۔ فارسی کے مطابق: رُویِ سخن (اردو: روئے سخن)، بانویِ شہر (اردو: بانوئے شہر)، رُویِ زیبا (اردو: رُوئے زیبا)، بُویِ گل (اردو: بوئے گل)  وغیرہ۔ دیگر کوئی حرکت واقع ہونے کی صورت بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ جمع: خوب رُویان، خوش بویات، جویا (متلاشی)۔ غالب نے تو اردو میں بھی اس ی (یائے مستور) کو متحرک کیا ہے۔ ع: چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد ۔

تین ۔ جب اس ی پر زیر واقع ہو تو قاعدے کے مطابق وہ زیر اسی ی پر واقع ہوتا ہے اور فارسی والے لکھتے بھی اسی طرح ہیں۔ گرمیِ محفل، شادیِ مرگ، خوبیِ قسمت۔ اردو میں البتہ ایسی ی کے بعد (یاد رہے کہ ی کے بعد! نہ کہ پہلے!) والی یائے مستور بہ صورتِ ہمزہ ظاہر ہو جاتی ہے اور زیر اس ہمزہ پر وارد ہوتی ہے۔ گرمیءِ محفل، شادیءِ مرگ، خوبیءِ تقدیر، والیءِ شہر، مَےءِ لالہ فام، در پےءِ آزار وغیرہ۔ 

یائے مستور کی جگہ آنے والا ہمزہ چھوٹے ہمزہ کی صورت میں ی، ے کے اوپر لکھا جانے لگا اور زیر اس پر وارد ہوئی۔ گرمیِٔ محفل، شادیِٔ مرگ، خوبیِٔ تقدیر، والیِٔ شہر، مَۓِ لالہ فام، در پۓِ آزار وغیرہ۔ ترتیب اس کی وہی تھی (ی، ہمزہ، زیر) مگر  خطاطی میں (اور بعد میں کمپیوٹر کی کچھ مجبوریوں کے سبب) بعد کی بجائے اوپر آنے کی وجہ سے کچھ غلط تصورات پل گئے۔ جن کے زیرِ اثر  اصل املاء: گرمیءِ محفل، شادیءِ مرگ، خوبیءِ تقدیر، والیءِ شہر، مَےءِ لالہ فام، در پےءِ آزار (ہمزہ چھوٹا لکھیں یا، کمپوٹر کی مجبوری کے تحت بڑا) کی غلط املاء: گرمئی محفل، شادی مرگ، خوبئی تقدیر، والئی شہر، مَئے لالہ فام، در پئے آزار، وغیرہ چل نکلی۔

لفظ مَے اور پَے کے معاملے میں کچھ مزید غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ بعضوں نے مۓِ لالہ فام (مےءِ لالہ فام) کو مئے لالہ فام لکھنا شروع کر دیا۔ پھر اسی غلطی کے تواتر کے سبب ایک نئی بات پیدا ہو گئی کہ مَے کے ہجے کیا  ہیں؟ یعنی بعضوں کے ہاں اس کی املاء بجائے خود سوال کی زد میں آ گئی۔ اور، یار لوگ  اسے "مئے" لکھنے لگے جو قطعی طور پر غلط ہے۔ لفظ مَے اصولی طور پر دو حرف کا ہے (م، ے) فارسی میں گول ی اور لمبی ے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، اردو میں ہوتا ہے۔ 

درست کیا ہے؟ نمایش یا نمائش؟ زندہ و پایندہ یا زندہ و پائندہ؟  اس کا اصولی جواب جاننے کے لئے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ یائے مستور پیدا کیسے ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے فارسی کے کچھ بنیادی قواعد کا علم ہونا لازمی ہے۔ آئندہ سطور میں ہم ان قواعد کا اجمالی ذکر کریں گے۔ تفصیل اس فقیر کے مضمون "زبانِ یارِ من" میں آ چکی ہے۔

فارسی میں مصدر وہ اسم ہے جس میں معانی کام، عمل، فعل کے پائے جاتے ہیں اور اصلاحاً فعل وہ اس لئے نہیں کہلاتا کہ فعل کے میں زمانہ کے ساتھ فاعل، مفعول یا نائب فاعل کا ہونا لازمی ہے۔ اردو میں مصدر کی موٹی علامت ہے: اس کے آخری دو حرف "نا"۔ کھانا، پینا، لکھنا، پڑھنا، آنا، جانا، دیکھنا، مرنا، جینا۔ وغیرہ۔ چلئے انہی کے لئے فارسی مصادر دیکھ لیتے ہیں: خوردن، نوشیدن، نوشتن، خواندن، آمدن، رفتن، دیدن، مُردن، زیستن ۔۔۔ ان میں ہم نے دیکھا کہ مصدر کے آخری دو حرف "تن" ہیں یا "دَن"۔ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اگر ہو گا تو وہ مصدر نہیں کہلائے گا۔

فارسی اہلِ زبان کے ہاں ہر مصدر کے ساتھ ایک مضارع منسلک ہوتا ہے۔ مصدر سے مضارع بنانے کے قواعد کوئی ہیں بھی تو وہ بہت پیچیدہ ہیں۔ ہم غیر فارسی والوں کے لئے یہی کافی ہے کہ ہر مصدر کے ساتھ ایک مضارع متعین شدہ موجود ہے اور ہمیں اسی کو درست تسلیم کرنا ہے (بہ الفاظ، دیگر ان کو یاد کرنا ہے)۔

منقولہ بالا مصادر کے مضارع یہ ہیں: خوردن سے خورَد، نوشیدن سے نوشَد، نوشتن سے نویسَد، خواندن سے خوانَد، آمدن سے آیَد، رفتن سے رَوَد، دیدن سے بینَد، مُردن سے میرَد، زیستن سے زِیَد ۔۔ توجہ فرمائیے کہ مضارع کا آخری حرف ہمیشہ د (مجزوم) ہوتا ہے اور اس سے پہلے حرف پر ہمیشہ زبر (فتحہ) واقع ہوتا ہے۔ ان کے رسمی معانی کئے جاتے ہیں: وہ کھائے، وہ پئے، وہ لکھے، وہ پڑھے، وہ آئے، وہ جائے، وہ دیکھے، وہ مرے، وہ جیے۔ تاہم یہ کامل معانی یوں نہیں کہلاتے کے کہ مضارع پر سابقے لاحقے داخل ہونے سے نئے معانی بنتے ہیں، جو ہمارا اس وقت کا موضوع نہیں۔ کچھ اور مصادر اور ان کے مضارع دیکھے لیتے ہیں: گفتن سے گوید، آمدن سے آید، جُستن سے جُویَد، نمودن سے نمایَد۔ ان کو پہلی فہرست میں شامل کر لیجئے۔

نوٹ کیجئے کہ اگر مضارع سے اس کی علامت یعنی د کو ہٹا دیا جائے تو د سے پہلے حرف کی زبر از خود ساقط ہو جاتی ہے اور وہ ساکن ہو جاتا ہے۔ خوردن سے خورَد اور اس سے خور، نوشیدن سے نوشَد اور اس سے نوش، نوشتن سے نویسَد اور اس سے نویس، خواندن سے خوانَد اور اس سےخوان، رفتن سے رَوَد اور اس سے رَو، دیدن سے بینَد اور اس سے بِین، مُردن سے میرَد اور اس سے مِیر، زیستن سے زِیَد اور اس سے زی، گفتن سے گوید اور اس سے گوی، جُستن سے جُویَد اور اس سے جوی، نمودن سے نمایَد اور اس سے نمای، آمدن سے آیَد اور اس سے آی۔

یہ سارے جہاں فعل امر ہیں یعنی کھا، پی، لکھ، پڑھ، جا، دیکھ، مر، جی، کہہ، ڈھونڈ، دکھا، آ ۔۔۔ وہیں یہ اسم فاعل بھی ہیں۔ مثلاً گوشت خور، عرضی نویس، نعت خوان، تیز رَو، جواں میر، قصہ گو، حیلہ جُو، چہرہ نما، (آ یعنی آنے والا اردو میں مانوس نہیں ہے)۔ گفتن اور اس کے بعد کے مضارعوں میں حرفِ مزارع د سے پہلے ی موجود تھی، د کے ہَٹنے پر صوتیت میں ساکت (خاموش) ہو گئی ساقط نہیں ہوئی۔ یہی یائے مستور ہے۔ اس کو جہاں حرکت ہو گی ظاہر کر دیں گے اور کبھی بغیر حرکت کے بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔ یہی وہ ی ہے جو حسبِ موقع اردو میں ہمزہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

اس بحث کی روشنی میں اور اسی قاعدے کی توسیع کے حاصل کے طور پر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اردو کے لئے نمایش اور نمائش، نمایندہ اور نمائندہ، آیندہ اور آئندہ، پایندہ اور پائندہ، ہر دو صورتیں درست ہیں۔ اگر آپ کا عمومی میلان فارسی کی طرف ہے تو ی لکھئے، بصورتِ دیگر ہمزہ لکھئے؛ اس کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔



محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان۔  سوموار 30 نومبر 2015ء۔

اتوار، 22 نومبر، 2015

ہمزہ کیسے لکھیں اور کہاں لکھیں



ہمزہ کیسے لکھیں اور کہاں لکھیں
جناب ذیشان نصر کے ایک سوال کے جواب میں


اصول و قواعد کی بحث تو خیر خاصی طویل ہے، میں نے اس پر کچھ لکھا بھی ہے۔ کسی وقت میرے بلاگ کا چکر لگائیے۔ ایک مضمون تو ہے ’’ہمزاتِ ہمزہ‘‘ اس کے علاوہ ایک مقام پر میں نے ’’یائے مستور‘‘ پر بھی بحث کی ہے، اور ہمزہ مستور پر بھی (اس وقت یاد نہیں کہاں کی ہے)۔

فی الحال الفاظ زیرِ بحث کے بارے میں عرض کئے دیتا ہوں۔ شمع یہ سودائئِ دل سوزئِ پروانہ ہے (چھوٹے ہمزہ کے ساتھ، زیر چھوٹے ہمزہ پر واقع ہو گی)۔ یہاں خط کی شکل درست نہیں بن رہی۔ ترتیبِ حروف یہ ہے: سو دا ئیءِ دل سوزیءِ پروانہ (ی کے اوپر چھوٹا ہمزہ اور اس ہمزہ پر زیر)۔واضح رہے کہ اصولی طور پر زیرِ اضافت یہاں ی پر واقع ہوتی ہے، یعنی: ’’سودائیِ دل سوزیِ پروانہ‘‘ یہ املاء درست ہے۔ تاہم ایک روایت چلی آتی ہے کہ ایسی ی پر جہاں زیر واقع ہو ہمزہ اضافی لکھتے ہیں اور زیر کی علامت ہمزہ پر منتقل ہو جاتی ہے، سو یہاں چھوٹا ہمزہ بناتے ہیں۔ سودائئِ دل سوزئِ پروانہ (سودائیِ دل سوزیِ پروانہ) فرق ان میں صرف خطاطی کا ہے، اور کوئی فرق نہیں۔

ایسا ہی معاملہ ’’بے تابئِ الفت‘‘ کا ہے۔ ترتیب: بے تابیءِ الفت ( ترجیحاً چھوٹا ہمزہ زیر کے ساتھ) اور اگر پڑھنے میں دقت کا خدشہ ہو تو بڑا ہمزہ ی کے بعد لکھ کر اس پر زیر لگائیں گے۔ یا پھر ہمزہ لکھیں گے ہی نہیں: بے تابیِ الفت (تاہم ایسے میں غلط گمان یہ ممکن ہے کہ لکھی ہوئی زیر حرف ماقبل ی کی ہے، اس لئے ہمزہ لکھنا اولیٰ۔ زندگئِ جاوداں کا بھی یہی معاملہ ہے۔

مجموعی طور پر میں سفارش کروں گا کہ آپ ایسی ی پر چھوٹا ہمزہ لگائیں اور زیر کی علامت نہ لکھیں، پڑھنے والا از خود سمجھ جائے گا کہ یہاں ہمزہ پر زیر واقع ہو رہا ہے: سودائئ دل سوزئ پروانہ (سودائی کی شکل خطاطی میں ٹھیک کر لیجئے: سودائئ ) ، زندگئ جاوداں، بے تابئ الفت، گرمئ محفل، شوخئ تحریر؛ وغیرہ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا ہمزہ ی کے بعد لکھا جائے گا: گرمئی محفل یا شوخئی تحریر لکھنا قطعی طور پر غلط ہے۔ بقیہ الفاظ کو اسی پر قیاس کر لیں۔  ایک بات یاد رہے کہ الف مقصورہ (لیلیٰ، دعویٰ) اور الف کو اس حوالے سے مماثل قیاس کریں گے اور ترکیب کی صورت میں املاء یوں ہو گی: لیلائے شب، دعوائے حق، دنیائے دنی، بالائے لب، نوائے سروش؛ وغیرہ۔

سلسلۂ کوہسار، قصۂ غم، فسانۂ آزاد؛ وغیرہ۔ ان میں ہ کے بعد چھوٹا ہمزہ ہے اور زیر اس ہمزہ پر ہے۔ تاہم جیسے پہلے کہا گیا: ہ، ی پر چھوٹا ہمزہ عام طور پر لکھا ہی تب جاتا ہے جب وہاں زیرِ اضافت یا زیرِ توصیف واقع ہو رہا ہو، لہٰذا زیر کی علامت حذف بھی کر دیں تو پڑھنے میں مسئلہ نہیں بنتا۔ مہدی مجروح دو الگ الگ لفظ ہیں۔ مراد ہے : میر مہدی مجروح  (مرزا غالب کے قریبی ساتھی تھے)... میر مہدی (نام) مجروح (تخلص)... اس پر اضافت نہیں ہے۔ ترکیب کی صورت یہ ہو گی: مہدئ موعود، وادئ فاران، بازئ دِل؛ وغیرہ۔

فارسی اور عربی میں ی کو گول (ی) یا لمبی (ے) کسی بھی طرح لکھ دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چھوٹی ی، بڑی ے کا فرق اردو اور پنجابی وغیرہ سے خاص ہے۔ مے (شراب) کو بہت سارے دوست مئے لکھتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ میکدہ، میخانہ وغیرہ سے بھی عیاں ہے کہ ’’مے‘‘ ایک دو حرفی لفظ ہے۔ اس کو مَے لکھیں یا مَی ایک ہی بات ہے، مئے کا کوئی جواز نہیں۔ اسی نہج پر درست املا ہے: مۓ شبانہ، مےءِ شبانہ (رات کی بچی ہوئی شراب)۔ اس کو مئے شبانہ یا مئی شبانہ لکھنا کسی طور بھی درست نہیں۔ ایسا ہی معاملہ شے، طے، کے، قے، درپے (سب یائے لین)؛ کا ہے۔ درست املا: مے، شے، طے، کے (مراد ہے کیخسرو)، قے، درپے؛ مۓ ناب، شۓ نایاب، درپۓ آزار؛ ترکیب میں ہمزہ ایسی ے کے بعد واقع ہوتا ہے، حسبِ خط اس کو چھوٹا ہمزہ لکھیں، بڑا ہمزہ لکھیں وہ ضرورت کی بات ہے۔  مئے، شئے، طئے، کئے، قئے، درپئے؛ وغیرہ لکھنا درست نہیں ہے۔

یائے معروف کے بعد ایسا اضافی ہمزہ واقع  ہونے کی دو مثالوں کے ساتھ ان گزارشات کو سمیٹتے ہیں۔ (1) درست املاء: شومیِ قسمت، شومیٔ قسمت، شومیءِ قسمت ۔۔۔ غلط املاء: شومئی قسمت۔ (2) درست املاء: والیِ شہر، والیٔ شہر، والیءِ شہر ۔۔۔ غلط املاء: والئی شہر۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ
ہفتہ ۲۱ نومبر ۲۰۱۵ء

اتوار، 1 نومبر، 2015

بے چارہ (7)۔

 
بے چارہ (7)


سرِ راہ ملاقات ہو گئی، علیک سلیک کے بعد فرمانے لگے: ’’کیسے ہو؟‘‘
عرض کیا: ’’خدا کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے خداوندِ دو عالم کے کرم سے، آپ کیسے ہیں؟‘‘ 
فرمانے لگے: ’’اللہ کا شکر ہے ... اور ہاں، یہ تم نے کیا کہا؟ ’خدا‘ کا شکر ہے؟ تمہیں پتہ ہے؟ خدا نہیں کہتے، اللہ کہتے ہیں‘‘۔
عرض کیا: ’’خدا سے میری مراد ظاہر ہے ’اللہ‘ ہی ہے، میں مجوسی بھی تو نہیں جو آپ کو میرا لفظ ’خدا‘ بولنا اتنا کھٹکا ہے‘‘۔
ارشاد ہوا: ’’جب تمہارے پاس لفظ ’اللہ‘ موجود ہے، تو پھر ’خدا‘ کہنے کا کیا جواز ہے؟ فارسی مجوسیوں کی زبان ہے، تم مجوسی نہ ہو کر ان کی زبان بول رہے ہو! اور وہ بھی ’اللہ‘ کی شان میں! لا حول ولا قوۃ الا باللہ، کیا زمانہ آ گیا ہے! کسی کو کام کی بات بتائیں تو ناک چڑھاتا ہے‘‘۔ 
ہماری طبیعت تو خاصی مکدر ہوئی، تاہم یہ مکالمہ چونکہ ہمارے صدر دروازے پر ہو رہا تھا، سو ہم نے خوش اخلاقی کو خود پر لازم رکھتے ہوئے کہا: ’’چھوڑئیے! آپ کن چکروں میں پڑ گئے۔ آئیے، آپ کو چائے پلاتے ہیں‘‘۔
کہنے لگے: ’’نہیں، میرا روزہ ہے، اور نماز کا وقت بھی ہو رہا ہے، میں چلوں گا۔ ’خدا‘ اور ’اللہ‘ کے فرق پر پھر بات ہو گی‘‘۔
وہ جانے لگے تو ہم نے روک لیا: ’’تو آپ نماز پڑھتے ہیں؟‘‘۔ جواب ملا: ’’ہاں، کیوں؟ تم نہیں پڑھتے؟‘‘۔
عرض کیا: ’’حضور! نماز تو وہ ہے جو مجوسی پڑھتے ہیں، اور ... ’روزہ‘ نام کی کسی عبادت کا نہ قرآن شریف میں ذکر ہے اور نہ کسی حدیث میں۔ یہ آپ نے کہاں سے لے لی؟‘‘ ۔
بہ آوازِ بلند ’لاحول‘ کا مکرر ورد کرتے ہوئے انہوں نے دو تین بار ’استغفراللہ‘ کہا اور بولے: ’’کیا کفر بک رہے ہو؟ میں بھی مجوسی تو نہیں جو تمہیں میرا ’نماز‘ کہنا اتنا برا لگا ہے۔ اور کیا کہتے ہیں نماز روزے کو؟ نماز، روزہ ہی تو کہتے ہیں!‘‘۔
عرض کیا: ’’آپ ہی کا فرمان آپ کو یاد دلایا ہے کہ جب آپ کے پاس لفظ ’صوم و صلوٰۃ‘ موجود ہے تو نماز روزہ کہنے کا کیا جواز ہے؟‘‘۔ وہ ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے، مگر ہم نے بات جاری رکھی: ’’حضور والا! اللہ کریم بھی جانتا تھا اور جانتا ہے کہ دینِ اسلام کسی ایک محدود علاقے کے لئے نہیں پورے کرہء ارض کے لئے ہے۔ اور اللہ کریم یہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں ...‘‘۔
وہ پھٹ پڑے: ’’تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟ اب تم یہ کہو گے کہ ہمیں نماز پڑھنی بھی اپنی اپنی زبان میں چاہئے عربی ہی کیوں؟ ہے نا؟‘‘۔
عرض کیا: ’’نماز نہیں حضرت! صلوٰۃ! اور وہ بالکل اس طرح جیسے نبی کریم نے فرمایا: صلُّوا کما رئیتمونی اُصَلّی۔ اگر لفظ نماز سے آپ کی مراد وہی نماز ہے تو نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر مجوسیوں والی نماز ہے تو وہ نہ میں پڑھتا ہوں نہ آپ۔ خاطر جمع رکھئے اور جائیے کہ’ آپ کی مسجد‘ میں نماز کا وقت ہو چلا ہے‘‘۔ وہ پھٹ پڑے: ’’اب یہ کیا بک رہے ہو!‘‘۔ 
عرض کیا: ’’جناب! یہ بھی آپ کا ارشاد ہے، پرسوں جب میں نے کہا کہ اذان ہو رہی ہے توآپ نے فرمایا تھا: ’یہ ہماری مسجد کی اذان نہیں ہے‘ ۔ فرمایا تھا، نا؟‘‘۔
انہوں نے ہمیں یوں گھورا جیسے کچا چبا جانے کا ارادہ ہو، اور سلام کہے بغیر چلے گئے۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ اتوار ۔ یکم نومبر ۲۰۱۵ء

بے چارہ (6)۔


بے چارہ (6)




’’بیٹا پیدا ہوا تھا، ماموں جی! تھوڑی دیر بعد فوت ہو گیا‘‘ فون پرداماد کی غم میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری۔ 

لالہ مصری خان بیگم سمیت بیٹی کے گھر پہنچے، بچوں کو دلاسا دیا، نومولود کی میت کو غسل دیا، کفن پہنایا،  بیٹے کو بھیجا کہ قبر کھدوائے۔ بیٹی اور داماد سے کچھ مشاورت کی اور جنازے کی نماز کا وقت طے کر لیا۔ محلہ داروں، دوستوں اور قریبی عزیزوں کو خبر کر دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ جو سہولت سے پہنچ سکے پہنچ جائے۔ مولوی صاحب کو بھی اطلاع دے دی، انہوں نے کہا میں پہنچ جاؤں گا۔

اعلان کے مطابق نماز کا وقت ہو گیا، مولوی صاحب نہیں پہنچے تھے۔ کوئی پانچ منٹ اوپر ہوئے ہوں گے کہ حاضرین سے ایک ’’مولانا‘‘ لالہ مصری خان کے پاس آئے اور فرمانے لگے: ’’آپ کے مولوی صاحب تو نہیں آئے، ہم جنازہ پڑھا دیں؟‘‘ لالہ نے کہا: ’’ذرا سا انتظار اور کر لیتے ہیں۔‘‘ مولانا گویا ہوئے: ’’پتہ نہیں کتنا انتظار کرنا پڑے!‘‘ لوگوں کی توجہ ان کی گفتگو پر لگی تھی۔ لالہ خاموش رہے مگر ان کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر مولانا  صاحب ادھر ادھر ہو گئے۔ 

لالہ مصری خان نے وہاں موجود لوگوں کو ، جو پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے، متوجہ کیا اور بلند آواز میں بولے: ’’دوستو! میں مولوی صاحب کا انتظار صرف اس لئے کر رہا  ہوں کہ انہیں نماز پڑھانے کا کہہ چکا ہوں۔ وہ آتے ہوں گے، کوئی مسئلہ ہوتا، تو مجھے ضرور بتاتے۔ پھر بھی ہم زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔ چند منٹ اور دیکھ لیتے ہیں، وہ نہیں آتے تو نماز میں خود پڑھاؤں گا۔ جو دوست بہت جلدی میں ہیں انہیں اجازت ہے!‘‘ اتنے میں مولوی صاحب کی موٹر سائیکل سڑک سے اتر کر آتی دکھائی  دی۔

نماز ہو چکی تو ہم نے دیکھا کہ ’’مولانا‘‘ صاحب وہاں نہیں تھے۔ 


محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

دھَولا جھاٹا


دھَولا جھاٹا

سچی گل دساں؟ سچ لُکایا نہیں جا سکدا۔ کوئی جھٹ دی جھٹ پردہ پا لؤ تے وکھری گل اے، پر ہے اوہ وی کچی۔ ایسی لئی بندہ اپنے لئی آپ وخت کیوں سھیڑے، بھلا۔ دسمبر دے حوالے نال بڑی شاعری پڑھن وچ آئی پر بہتے شاعراں نے یا تے برف دی گل کیتی، یا پھر ٹھنڈ دی، تے نال وچھوڑے دی۔ دسمبر اک طرح ہجر وچھوڑے دی علامت بن گیا، پھر چل سو چل۔ ایہ جو وی اے اپنی تھاں ٹھیک ہووے گا، پر ایہ کافی نہیں سی، نہ ہے! اک بندہ اپنے اڈھ مڈھ نوں بھل جاوے، اپنی ہنڈی ورتی توں اکھاں میچ لوے تے پھر اوہنوں کوئی کہوے گا وی کیہ؟ ۱۹۷۱ء دی جنگ تے اوہدے نتیجے وچ دھرتی ماں دے سینے وچ پئے پھٹ پہلوں تے سہہ جانا تے پھر اونہاں نوں مڈھوں ای بھلا وسار دینا ایڈا سوکھا نہیں سی۔ ایہ بڑیاں ڈوہنگیا ں پیڑاں نیں، گل جنی لمی کیتی جاؤ، ودھدی تری جائے گی، تے پھر ایس نوں سمیٹنا اوکھا ہو جائے گا۔ اسیں سارے سمجھدے وی آں۔ چلو دسمبر ای سہی، برفاں ای سہی، برف تے ہوندی ای چٹی سفید اے، ہن میرے ورگے جے رنگ برنگیاں، عینکاں لا کے کہندے پھرن: ایہ لال اے، نہیں ایہ ہری اے، نہیں ایہ کھٹی اے، نہیں! نیلی اے؛ تے پھر کہندے پھرن۔

قوماں دی حیاتی وچ ساریاں جتاں ای نہیں ہوندیاں ہاراں وی ہوندیاں نیں۔ تے قوماں نوں زندہ رہن لئی چاہی دا اے اپنیاں ہاراں دا چیتا رکھن تے نال ایہ وی سوچن سمجھن پئی سانوں اوہ مار پئی کیوں! ۱۹۷۱ء وچ لگا زخم بھرنا کوئی ایڈا سوکھا کم نہیں۔ بندے بندے دی گل ہووے تے معاف کر دینا سب توں اچا کم اے، پر جے قوماں اپنے ویریاں نال یارانے نبھان لگ پین تے پھر سمجھو اپنی سنگھی آپ ویری دے ہتھ وچ دین والی گل ہوندی اے۔ لکھاریاں دی ذمہ داری سی اوہ قوم نوں سوچ دیندے، ایس پھٹ وچ پیندیاں تراٹاں اپنے لفظاں وچ بھردے، پر ہن کیہ آکھئے! بہتیاں نے ہجر، وصال دے تا، ٹھنڈ دا دھتورا پی کے اوہناں تراٹاں نوں انج بھلا چھڈیا۔

گل ٹری کتھوں سی اپڑ کتھے گئی۔ تھوڑی جیہی گل اپنے بارے وی کر لئی جاوے۔ میرے اتے ۱۹۷۲ء دا پورا سال سوگ ورگا ای رہیا۔ اک تے اوہو ای ڈھاکے دی موت، تے کچھ آندراں نوں لگی ہوئی لو۔ ڈھڈ نہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں۔پر، ایہ وی اچرج رولا اے؛ جدوں کوکڑے لوسدے ہون تے (کہندے نیں) شاعری اپنے آپ تے بڑے زور نال پنگردی اے۔ 

اک ہور سچی گل سن لؤ! مینوں شعر کہنا کوئی نہیں آندا۔ شعر کیہ نثر لکھنی وی نہیں سی آندی پر دسمبر ۱۹۷۱ء نے پھڑ کے کجھ انج ہلون چھڈیا پئی، دکھڑے تے جھیڑے، سوچاں تے دھڑکو آپے کتوں لفظ وی لبھ لیائے تے جناں کو فہم خیال نے ساتھ دتا اونہاں نوں کوئی نہ کوئی شکل صورت دین دا جتن وی کرن دی کیتی۔ ۱۹۷۲ء دا سارا ورھا تے نال ۱۹۷۳ء وی، مینوں انج لگدا سی کوئی میرے اندر بہہ کے روندا اے پیا، ہاڑے ماردا اے۔ تھرتھلی پیندی رہی تے میں کچھ سیدھاں وی لاندا رہیا۔ ایتھے اک ہور بڑی فطری جیہی گل سامنے آندی اے! ہاسا آندا اے تے تہاڈے کچھ کچھ وس وچ وی ہوندا اے تسیں پنجابی وس ہس لؤ یا اردو وچ، یا انگریزی وچ، جیہری بولی تسیں بول سمجھ سکدے او اوہدے وچ ہس وی سکدے او۔ پر، جدوں سٹ لگدی اے تے ’’ہائے‘‘ اپنی ماں بولی وچ ای نکلدی اے۔

ایسے طرح دے کجھ ہاواں ہوکے رنگ وٹا کے نکلدے رہے نیں۔ ایہ دسنا ضروری نہیں پئی اوہ سارا کچھ جناں وی سَچا ہووے، سُچا ہووے، ہے کچا سی! اودوں ادبی ماحول وی تے نہیں سی ملیا، بس اپنی ذات تے اپنے دکھڑے، اپنیاں سدھراں، اپنے چاء تے نال کلا آپ ای آپ۔ اونہاں نوں تھوڑا بہت مانج کوچ کے پیش کرن دا آہر کیتا اے۔ کتھے اُنی، وِیہ (۱۹، ۲۰) سالاں دا مُنڈا کھُنڈا، کلم کلا! تے کتھے پتراں نوہنواں، دوہتریاں پوتریاں دی بھِیڑ وچ گھریاتریٹھ (۶۳) سالاں دا دھَولے جھاٹے والا بابا، فرق تے ہووے گا۔ اک سانجھ ہے اوس مُنڈے کھُنڈے نال! اکلاپے دی سانجھ! میرے حق وچ دعا کر چھڈیا جے، اللہ خیر کرے گا۔ 

محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان ... ہفتہ ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء

۔۔ 1972ء وچ پنجابی شعر کہن دیاں کوششاں ۔ اخیر والا گیت دسمبر 1973ء دا کہیا ہوئیا اے ۔۔

لکھاری
شِکر دوپہر دا بلدا سورج
دھپ دا بھانبڑ تھاں تھاں مچے
واء دا پتہ اک نہ ہلے
چھتاں تھلے، کندھاں اوہلے
رکھاں ہیٹھاں
اکو جیہا مروڑ تے مڑھکا
پکھی نوں ہلکورے دیندی
اک مٹیار دا چوڑا چھنکے
چوڑے دا چھنکارا اٹھے
کملے دا دل بھلیں پے جائے
کملا اپنی جندگھلاندا اے
اکھر اکھر پورنے پاندا اے
شعر بناندا اے
کالے حرفاں نال بناندا اے
شِکر دوپہر دا بلدا سورج
جس دی گرمی
کملے دل چوں اٹھی بھاف نوں
اکھاں تیک لیاندی اے تے
ہنجوں ہار بنا دیندی اے
کملا شعر بنائی جاوے
جھلا اپنے دل دیاں گلاں
لوکاں تائیں سنائی جاوے
لکھدا لکھدا اک دن آپ وی
اوہ لکھیارا، اوہ دکھیارا، سیکاں مارا
اوسے اگ وچ رل جاندا اے
سڑ جاندا اے بل جاندا اے
اے پر اپنی اگ وچ سڑ کے
دوجیاں نوں پاندا اے ٹھنڈاں
اوہ پھر انج ہوندا اے جیوں کر
شام دے ویلے
سارے دن دا تھکیا ہوئیا
لہندے پاسے ڈُبدا سورج
۱۹۷۲ء

گیت
آ سجنا! دلدارا پیاریا
مینوں لا لَے سینے نال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال

جد کا گیوں آرام نہ مینوں
دل تے رات پکاراں تینوں
دل دا حال سناواں کہنوں
دکھ سکھ پھولاں کس دے نال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال

مولا اوہ دن کدوں لیاسی
جس دن میرا جانی آسی
آ کے اپنا حال سناسی
تے کجھ سنسی میرا حال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال
میں ہر ویلے ہوکے بھردا
غم دے تیر دلے تے جردا
ہور کسے نال گل نہ کردا
رکھے سارے روگ سنبھال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال

ربا میرا ماہی آوے
پھٹڑ دل تے پھاہیا لاوے
یا میری جند وی اُڈ جاوے
مک شک جاون کل ملال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال

دل میرا اک اجڑیا ڈیرہ
جیہڑا ازلاں توں گھر تیرا
اس وچ کوئی دوش نہ میرا
ڈھایو ای اپنے ہتھاں نال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال

دس میں تینوں کیویں بھلاواں
کڈھ کلیجہ کنج وکھاواں
دل تے ورتی کیویں سناواں
جیواں اوکھے سوکھے حال
آ جا دونویں رل کے کھیڈاں
لکن میچی اتھراں نال
۱۹۷۲ء

گیت
ایتھے وگے ہنیری وَیراں دی
توں پیار دی جوت جگائی رکھ
کوئی سُندا اے یا نہیں سُندا
توں راگ اپنا گرمائی رکھ
اتے پیار دی جوت جگائی رکھ

ایتھے وِیر بھرا وچ وَیر پیا
ہائے کڈا وڈا قہر پیا
ایتھے ہتھ لہو وچ رنگے نیں
ایتھے لوگ مال دے ڈنگے نیں
ایتھے مِیت بھالیاں نہیں لبھنے
توں من نوں مِیت بنائی رَکھ
اتے پیار دی جوت جگائی رکھ

ایتھے لالچ ودھدا جاندا اے
بندے نوں بندہ کھاندا اے
مایا نے وَیل مچائے نیں
وِیراں وچ وَیر پوائے نیں
جے وَیر وَیل توں بچنا ای
مایا توں اَکھ بچائی رکھ
اتے پیار دی جوت جگائی رکھ

نت نویں پواڑے پیندے نیں
نت رونے ہاڑے پیندے نیں
نت جھگڑا جھگڑی رہندی اے
اچھلدی پگڑی رہندی اے
توں اس جھگڑے توں پاسے رہ
توں اپنی لج بچائی رکھ
اتے پیار دی جوت جگائی رکھ
کوئی سُندا اے یا نہیں سُندا
توں راگ اپنا گرمائی رکھ
اتے پیار دی جوت جگائی رکھ
۱۹۷۲ء

گیت
جتھے وگدی سی کجلے دی دھار وے
اوتھے بجھ گئے نیں ہنجواں دے تار وے
سانوں تیراں غماں نے دتا مار وے
کتے وطناں نوں موڑ مہار وے

سانوں بھل گئیاں ونگاں چھنکانیاں
ہوکے بن گئیاں ہجر کہانیاں
نت وسدیاں اکھیاں نمانیاں
وے میں لک لک روواں زار زار وے
کتے وطناں نوں موڑ مہار وے
۱۹۷۲ء

گیت
اج گھر گھر پئیاں دوہائیاں یارو عشق دیاں
اسیں جگ تے ریساں پائیاں یارو عشق دیاں

عشق دا مرشد پیر نہ کوئی
عشق دے گل زنجیر نہ کوئی
چلی تد تدبیر نہ کوئی
ہوے!
جدوں چڑھ کے فوجاں آئیاں یارو عشق دیاں
کس رسماں توڑ نبھائیاں یارو عشق دیاں

چاتر وڈی عقل سیانی
ہنجواں اگے ہوئی نمانی
دل تے مکی آن کہانی
ہوے!
جس رمزاں کل سمجھائیاں یارو عشق دیاں
اسیں جگ تے ریساں پائیاں یارو عشق دیاں
۱۹۷۲ء

چوبرگہ
توں تاں عمراں دی گل کردا ایں ایتھے کل دی وی کچھ سار نہیں
کل دی تاں گل دریڈی اے، گھڑی پل دی وی کچھ سار نہیں
کل خبراں اللہ سوہنے نوں، اتے دوجا کوئی کیہ جانے
کن مرنا جینا ہونا کیہ، کسے گل دی وی کچھ سار نہیں
۱۹۷۲ء

چوبرگہ
گل کرنی سوکھی ہوندی اے، گل کر کے نبھاونا سہل نہیں
کربل وچ بال کُہا دینا، اتے سیس کٹاوناں سہل نہیں
اک گل کہہ کے اس گل دے لئی اگ وچ کُد جاوناں سہل نہیں
تن دن وی رکھاں دے پتر کھا کے ڈنگ ٹپاوناں سہل نہیں
۱۹۷۲ء

لوبھ
کتے نوں مردار ڈھِیا، اوہ وَڈھ وَڈھ چکاں کھاوے
جے کوئی دوجا نیڑے آوے، گھرکی مار ڈراوے
کاگ تائیں ہک ٹکڑا لبھا، کاں کاں شور مچاوے
آؤ اس نوں رل کے کھائیے، ایہ آواز لگاوے
۱۹۷۲ء

جیو دی نگری
جیو دی نگری بھول بھلیاں، کیہڑا عقل جیو دی رکھے
جیو وچ پریم، کرودھ پلیندے، جا ہر دی وکھو وکھ اے
جیو وچ میوے لکھ سوادیں پر چکھن ہون نہ چکھے
آسی سجھ نہ جیو دی پائی، جی ویکھیا ورھیاں لکھ اے
۱۹۷۲ء

تڑپ
مزا جو عشق دی تڑپ چ ملدا، اوہ نہ ملدا وچ وصال اے
کرے اڈیکاں نالے عاشق سمجھے جیوں سوہنا میرے نال اے
اک وار جے لگے تے پھر نہیں مڑدا، ایہ عشق دا مرض کمال اے
تینوں خبر نہیں پر تیں بن سجناں، ساڈا کیہ جیہا ہوئیا حال اے
۱۹۷۲ء

جھانجے جھیڑے
کوڑی دنیا، کوڑ پسارا، کوڑے جھانجے جھیڑے
کوڑا جیون، سچ مریون، باقی کوڑ بکھیڑے
دل دیاں گلاں مولا جانے، جو حلقوموں نیڑے
دل تھیں نام پکارو اس دا، سنسی ہو اریرے
جگ تے آیاں سیں کاہدے لئی پے گیوں کمیں کیہڑے
آون لگیاں کیہ متھیا ہئی تیں نال خالق تیرے
عشق چواتی جتھے لگے سب کچھ ساڑ نبیڑے
سکھ نہ وسیا اوہ گھر جتھے عشق نے لائے ڈیرے
رانجھا رہ گیا مجھیں جوگا، ہیر نوں لے گئے کھیڑے
عاشق رلدے رہے سدا تھیں، رہے انوکھے جھیڑے
لے وے کاگا چوری کھا لے، جان صدقرے تیرے
یار دے نانویں سنیہا لے جا، مولا توڑ اپیڑے
پرت جواب نہ آیا کوئی گھلے لکھ سنیہڑے
رونق رہی نہ تیں بن کائی، پا پھیرا ساں ویہڑے
ہو نہ آس امیدوں وانجھا، ہو کجھ ہور اگیرے
اک در بند ہووے سو کھلدا رستے ہور بہتیرے
اوہی اوڑک منزل پوتن، جان گھلاون جیہڑے
دل دا نور انہاں نوں ڈھینڈا جیہڑے رین جگیرے
کجھ اجیہے سنگی ڈھیئے ڈاکو چور لٹیرے
رتاں پی پی آپے دامن ساڈے لہو لبیڑے
نال اپنے لے ڈبے سانوں سنگ اجیہے سھیڑے
کجھ اجیہے لدھے جنہاں بھلے کل بکھیڑے
کچھ اجیہے من جنہاں دے یار مرے دے ڈیرے
تے کچھ دوھ سبھاں توں ڈتھے حرص ہوس دے گھیرے
پتہ نہیں کجھ کِت ول جانا، مل لئے راہ کیہڑے
پینڈا جام تھیا جیون دا، کیہڑا ریہڑی ریہڑے
جیون کتھا نہ پچھیو میری اس وچہ گھاء گھنیرے
دتی جان رضا پر آسیؔ جھیڑے سب نبیڑے
۱۹۷۲ء

پریت
اسیں اوس محبت توں دور چنگے جیہڑی دنے تے رات رواوندی اے
چنگے بھلے سیانیاں نوں پھڑ کے جیہڑی رولدی، مت ونجاوندی اے
بھریاں مجلساں دے وچ بیٹھ کے تے رج پج بدنام کرواندی اے
محلوں کڈھ کے شہنشاہ زادیاں نوں لیڑے پاڑ فقیر بناوندی اے
اَن دھَن دی حب کیہ کم آونا، ایویں دھکے تروڑے کھواوندی اے
آؤ ہور محبت دا راہ دساں کندن خاک نوں جیہڑی بناوندی اے
جیہڑی دلاں دے جندرے کھولدی اے، جیہڑی اپنا آپ وکھاوندی اے
دنے، رات، دوپہر نوں جدوں چاہو، گھریں سد محبوب ملاوندی اے
درشن یار والا گھڑی گھڑی ہووے، جس دی مشک معراج چوں آوندی اے
میرا یار اکو جیہڑا یار سب دا اوہدی حب ڈاہڈے کمیں آوندی اے
حب یار دی میرے جیہے عاصیاں دی بیڑی پار سمندروں لاوندی اے
۱۹۷۲ء

چانگر
بس بس میاں کچھ وس ناہیں، کوئی عذر نہ دھر دربار اگے
کیہ مجال اے کسے دی دم مارے کھڑا ہو کے اوس سرکار اگے
دھون پا نیویں جگرا کر وڈا چنگی گل نہیں بولنا یار اگے
ہن پھٹ جے پیا تے کلپدا ایں پہلوں آئیوں کیوں حسن کٹار اگے
سارے جگ دا منہ کیہ موڑیں گا توں، کلی جان کیہ کل سنسارے اگے
نٹھ نٹھ بے سرت ہو ڈھے پوسیں تیرا زور کیہ گھوڑ سوار اگے
اٹھ جاگ مسافرا ستیا اوئے لنکھ گئے تیرے بیلی یار اگے
اٹھ نٹھ بوڑھ پے سنگیاں نوں پیر پٹ توں وی تن چار اگے
جے کر حاضری وچ نماز نیتیں، تیرے سینے دے وچ کوہ طور بیبا
تے جے ویہلیاں ٹکراں لانیاں نی، ایویں بہہ مصلے نہ جھور بیبا
۱۹۷۲ء

گیت
لکھیاں تے لگیاں تے چلدا نہ زور وے
اساں کچھ سوچیا سی ہوئیا کچھ ہور وے

اساں سوچیا سی ساڈا ماہی گھر آوے گا
ساڈی سنے گا نالے اپنی سناوے گا
آیا پر ماہی آیا ہو کے کچھ ہور وے
لکھیاں تے لگیاں تے چلدا نہ زور وے
اساں کچھ سوچیا سی ہوئیا کچھ ہور وے

ماہی اج ساڈے کولوں اکھیاں نیں پھیریاں
ڈاہڈیا وے ڈاہڈیاں نیں مرضیاں وی تیریاں
لوکاں پچھے لگ کے تے گئیوں مکھ موڑ وے
لکھیاں تے لگیاں تے چلدا نہ زور وے
اساں کچھ سوچیا سی ہوئیا کچھ ہور وے

لگیاں سی آساں سانوں سب مر گئیاں نیں
ماہی ساڈے خبراں وی ساڈیاں نہ لئیاں نیں
خورے اوہدے دل وچ وسیا کیہ چور وے
لکھیاں تے لگیاں تے چلدا نہ زور وے
اساں کچھ سوچیا سی ہوئیا کچھ ہور وے

وَیریاں نے اوہنوں خورے کیہ سمجھایااے
کیہڑا کیہڑا میرے تے بہتان لوکاں لائیا اے
ماہی کتے پچھے تے سناواں سب کھول کے
لکھیاں تے لگیاں تے چلدا نہ زور وے
اساں کچھ سوچیا سی ہوئیا کچھ ہور وے

سکھ وسیں نت شالا میری ایہ دعا وے
سانوں بھانویں مڈھوں ای نہ بھیڑیا بلا وے
دل چو نہ رکھیں ساڈے ولوں کوئی چور وے
لکھیاں تے لگیاں تے چلدا نہ زور وے
اساں کچھ سوچیا سی ہوئیا کچھ ہور وے
دسمبر ۱۹۷۳ء 
*******