بدھ، 29 نومبر، 2017

ناراضگی ۔۔۔ ایک بڑا مسئلہ





ناراضگی  ۔۔۔ ایک بڑا مسئلہ


مسئلہ تو ہے نا! لالہ مصری خان  کسی کا ذکر کر رہے تھے۔ کہنے لگے: "ہو گئی، یار! ناراضگی، بس! اب چھوڑو بھی"۔ استاد چٹکی کو شاید ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش تھی۔  یوں بھی ان کی خان لالہ سے گاڑھی چھنتی ہے یا نہیں ٹھنتی ضرور ہے، اور وہ بھی بات بے بات۔ جھٹ  بول اٹھے: "یہ ناراضگی ہوتی کیا ہے؟"
خان لالہ بھنک گئے: "کیا مطلب ہے تمہارا؟ پھر کوئی نئی سوجھی کیا؟"
"نئی نہیں سوجھی خانہ خ! بات پرانی ہے۔ اکثر لوگ لکھتے بھی ہیں، بولتے بھی ہیں 'ناراضگی'۔ پر یہ ہے غلط"۔
"اور تم اس غلطی کو چٹکی بجاتے میں دور کر دو گے؟ جی فرمائیے! ہم ہمہ تن گوش ہیں"۔
استاد چٹکی کسی نہ کسی طور خان لالہ کے اس جملے کو پی گئے اور عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ بولے: "فارسی والے گاف وہاں لاتے ہیں جہاں بوجوہ ہائے خفی کو بدلنا ہوتا ہے۔ مثلاً: بچہ، بچگان، بچگانہ؛ آزردہ، آزردگی؛ دیوانہ، دیوانگی؛ وارفتہ، وارفتگی؛ ناراض میں تو ہائے خفی نہیں ہے۔ اس پر جہاں لازم ہو، یائے معروف کا اضافہ کریں گے: فیاض، فیاضی؛ مایوس، مایوسی؛ بے ہوش، بے ہوشی؛ ناراض، ناراضی"۔  یہ کہا اور فاتحانہ انداز میں لالہ مصری خان کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔
لالہ پر اس کا کچھ اثر ہوا یا نہیں، ہم ضرور استاد کے رعب میں یا شاید بھرے میں آ گئے تھے۔ ہمیں حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا جب ہم نے خان لالہ کے ہونٹوں کو طنزیہ انداز میں پھیلے اور آنکھوں کو چمکتے دیکھا۔ کہنے لگے: "بہت تیز بھاگتے ہو استاد! منہ کے بل گرو گے"۔
"وہ کیسے؟
" وہ ایسے ! سنو"۔ اب کے استاد بھی ہمہ تن گوش تھے، ہم تو تھے ہی۔
 لالہ مصری خان نے پوچھا: "جب نفی بناتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ صفت پر سابقہ "نا" لاتے ہو؛ مثلاً: کافی، نا کافی؛ صاف، ناصاف؛ جائز، ناجائز؛ روا، نا روا؛ قابل، ناقابل؛ اور ۔۔۔ راضی، ناراضی!۔۔۔ ناراضی کیا ہوا پھر؟ ناراض ہونا جیسا تم لائے ہو؟ یا وہ جو ناراض ہے جیسا یہاں سے اخذ ہوتا ہے؟"
استاد بھی ہار کب ماننے والے تھے، بولے: "وہ تو ناراض ہوتا ہے۔ ناراضی ہے ناراض ہونا"۔
لالہ بولے: " نالائق، وہ جو لائق نہ ہو؛ ناجائز، وہ جو جائز نہ ہو؛ ناصاف، وہ جو صاف نہ ہو؛ ناکافی، وہ جو کافی نہ ہو؛ میں نے ٹھیک کہا؟"
"ہاں، ٹھیک کہا"۔
"اسی نہج پر ناراضی وہ جو راضی نہ ہو" خان لالہ نے لوہار کی ایک مار دی۔ استاد بہت چیں بہ جبیں ہوئے اور دیر تک "نہ نہ نہ نہ نہ نہ ۔۔۔" کرتے رہے۔ لالہ نے پھر کہا: "سنو! صاف، ناصاف؛ ساز، ناساز؛ روا، ناروا کی نہج پر ناراض وہ ہے جو راض نہیں ہے۔ اور یہ راض کیا ہے؟ جانتے ہو؟"
استاد جیسے بجھ سے گئے، بولے:"یہ تو میں واقعی نہیں جانتا، کہ راض کیا ہے۔ ناراض کا پتہ ہے"۔ لالہ مصری خان نے ایک لمبی سانس لی اور کہا: "خیر، میں بتاتا ہوں۔ راض اور راضی ایک ہی چیز ہے، اس میں کوئی فرق نہیں"۔ استاد پر جیسے حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہوا ہو، بولے: "ک ک ک کیسے؟"
لالہ کہنے لگے: "فان، باغ، عاد؛ یہ تین لفظ تو قرآن شریف میں بھی ہیں، معانی وہی ہیں: فانی، باغی، عادی۔ اور بھی ہوں گے، فوری طور پر ذہن میں نہیں آ رہے۔ اسی نہج پر راض ہے بمعنی راضی! یعنی ان میں کوئی فرق نہیں۔ اس پر آپ  'لا' لگائیں، 'نا' لگائیں: فان فانی سے لافانی، کاف کافی سے ناکافی،راض راضی سے ناراضی!"۔
استاد کو جیسے چپ سی لگ گئی۔ خاموشی کھَلنے لگی تو ہم نے خان لالہ سے پوچھا: "اس کا حل کیا ہے؟"
بولے: "بہت سیدھا سا حل ہے! ناراض آپ کے ہاں رائج ہے، وہ ناراضی کا قائم مقام ہے۔ ناراضی (غلط معانی: ناراض ہونے کی کیفیت) کو بھول جائیے اور 'ناراضگی' کو قبول کر لیجئے جیسے آپ نے بہت سارے اور الفاظ غلط العام، اور غلط العوام، اور وضعی، اور پتہ نہیں کس کس نام سے قبول کئے ہوئے ہیں۔ کہو استاد! کوئی ناراضگی تو نہیں نا؟"
استاد کھسیانی ہنسی ہنس دئے۔ ناراضگی جاتی رہی!

بدرِ احمر  ۔۔۔ بدھ 29 نومبر 2017ء  


منگل، 21 نومبر، 2017

ایک پَینی کا تحفہ


ایک پَینی کا تحفہ
(ایک انگریزی کہانی کی تحویلِ نو)



وہ چاروں ایک میز کے گرد بیٹھے تھے۔ وِلی اور باب کے چہروں پر بشاشت تھی، اور ایڈی کے چہرے پر بے چینی جھلک رہی تھی جب کہ  سیلی کے چہرے کا تناؤ اس کی دل آویز مسکراہٹ میں چھپ گیا تھا۔ وہ تھی ہی ایسی! عین شباب کی عمر میں بھی اس کے مزاج میں بہت ٹھہراؤ تھا۔ میز پر کیک کے دو ڈبے رکھے تھے، ایک درمیانے اور ایک چھوٹے سائز کا۔ ان تینوں نے ڈبوں پر ایک نظر دوڑائی اور پھر ایک دوسرے کے چہروں کو ایسے دیکھنے لگے جیسے پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ سیلی نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا اور نگاہیں خلا میں کسی غیر مرئی نقطے پر مرتکز کر دیں۔ چند لمحوں میں تناؤ کی کیفیت جیسے رفع ہو گئی اور وہ پرسکون مگر بہت سنجیدہ دکھائی دینے لگی۔ ایڈی سے رہا نہیں گیا۔ "کیا کر رہی ہو سیلی؟ اب ان ڈبوں کو کھولو بھی!" وِلی اور باب اس کی بے تابی پر کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ایڈی نے کہا کچھ نہیں مگر غصے بھری نظروں سے ان کو گھورا، اور شرمندہ سا ہو کر سر جھکا لیا۔

ان چاروں کے یہاں جمع ہونے، اور کیک کے ڈبوں  کا پس منظر خاصا دل چسپ تھا۔ وہ چاروں باہم دوست تھے۔ ایڈی، وِلی اور باب، تینوں سیلی کی مقناطیسی شخصیت کے حصار میں تھے۔ سیلی سب سے کشادہ پیشانی کے ساتھ پیش آتی، کسی کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ اس کا میلان کس کی جانب زیادہ ہے۔ وہ خود بھی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی ان تینوں میں سے کس کو رفیقِ حیات منتخب کرے۔ اس نے یہ بات ان تینوں کو بتا بھی دی تھی ۔ ان تینوں میں بہرحال کچھ خوبیاں ایسی ضرور تھیں جو ایک کو دوسرےسے ممتاز کرتی تھیں؛ اور  ایک مشترکہ خوبی کہ رقابت آشنا کوئی بھی نہیں تھا۔

سیلی نے خود کو قسمت کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔ بہ این ہمہ تینوں میں سے کسی ایک کا انتخاب تو اسی کو کرنا تھا۔ اس نے ایک تقریب کی تجویز پیش کر دی کہ وہ چاروں جمع ہوں اور سیلی اپنے فیصلے کا کیک کاٹے۔ کیک میں ایک پینی کا سکہ ہو گا، وہ جس کے منہ میں چلا گیا، سیلی اس سے شادی کر لے گی۔ سیلی اپنے لئے چھوٹا کیک الگ سے بنائے گی تاکہ سکہ خود اس کے منہ میں جانے کا امکان ہی نہ رہے۔ یہ دو کیک وہی تھے۔ سیلی نے بڑا کیک تین برابر حصوں میں کاٹا؛ سب نے اپنی مرضی سے ایک ایک ٹکڑا اٹھایا اور کھانے لگے۔ سیلی چھوٹے کیک سے جی بہلانے لگی۔ ایڈی نے ایک دم ہررا کا نعرہ لگایا، اپنے منہ سے ایک پینی کا سکہ نکال کر میز پر رکھا اور سیلی کا منہ چوم لیا۔ فیصلہ ہو چکا تھا، تقریب ہنسی خوشی اختتام پذیر ہو گئی۔

شادی کی تقریب میں وِلی اور باب نے نو بیاہتا جوڑے کو تحفے میں بالکل ایک جیسے پیکٹ دئے۔ تحفے کھولنے کا وقت آیا، تو ایڈی اور سیلی نے سب سے پہلے اپنے دوستوں کے تحفوں کو کھولا ۔ ارے! یہ کیا؟ دونوں میں پینی کا ایک ایک سکہ؟! ایڈی نے اس کو شرارت سے تعبیر کیا مگر سیلی کی گہری مسکراہٹ کچھ اور کہہ رہی تھی۔ "کیا بات ہے سیلی؟ لگتا ہے کوئی خاص بات ہے"۔ "ہاں! میں نے کیک میں تین سکے رکھے تھے۔ ان دونوں نے  اپنے منہ میں آنے والے سکوں کو منہ میں دبا لیا تھا"۔ایڈی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ سیلی شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی: "تم زیادہ بے تاب تھے نا؟ اس لئے!"۔ ایڈی کو ایسا لگا کہ وہ اُسی میز پر سر جھکائے بیٹھا ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭

تحریر: محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان  ۔۔۔ منگل 21 نومبر 2017ء


ہفتہ، 11 نومبر، 2017

حرف آویزی




حرف آویزی


فنِ شعر کی بہت اہم اور مشہور اصطلاح ہے "عیبِ تنافر"؛ اور محل اس کا وہ ہے جہاں تنافر میں کوئی عیب رہ جائے۔ شعر کے اندر الفاظ کچھ ایسے وارد ہوں کہ ان کو ادا کرنے میں کسی نہ کسی درجے کی ثقالت محسوس ہو۔ ایسا وہاں ہوتا ہے جہاں  (مثال کے طور پر):

۔1۔ ایک لفظ کسی حرف ساکن غیر مجزوم پر ختم ہو اور اگلا لفظ اسی حرف سے شروع ہو رہا ہو۔ (عروض کی زبان میں:  پہلا حرف ہجائے کوتاہ ساکن اور دوسرا ہجائے کوتاہ متحرک): یاد دلانا، چالاک کہیں کا، کام مرا، دُور رہو، غیر روایتی، سبز زمیں، خواب درد دیتے ہیں، راس سبھی کو؛ وغیرہ۔

۔2۔ اسی قبیل میں ہم مخرج حروف بھی آتے ہیں؛ وہ  جن کی صوتیت میں ہم عربی فارسی جیسا امتیاز عام طور پر نہیں کرتے: (ت، ط، تھ)، (ث، س، ص)، (ح، ہ)، (ذ، ز، ض، ظ)، (غ، گ، گھ)، (خ، ق، ک، کھ)، (پھ، ف)، (ج، جھ)، (د، دھ، ڈ، ڈھ)۔ مثالیں: سات طریقے، ٹھوس ثبوت، خاص سوال، مکروہ حقیقت، ناجائز ذرائع، ایاغ گری، بے باک قلم؛ وغیرہ۔

۔3۔ ایک لفظ کسی حرف ساکن غیر مجزوم پر ختم ہو اور اگلا لفظ اس کے ہم مخرج متحرک حرف سے جو کسی ہجائے بلند کا حصہ ہو۔ (عروض کی زبان میں: پہلا حرف ہجائے کوتاہ ساکن اور دوسرا حرف ہجائے بلند کا اول حرف): مثلاً: غریب باپ، نیک کام، خاص سامان، ہزار رُخ، ہنوز زِندہ، دروغ گوئی، محتاط طَرز، عجیب بات، رات تک؛ وغیرہ۔

۔4۔ مذکورہ بالا ایسے حروف کا جمع ہونا جن کے مخارج قریب قریب واقع ہوئے ہوں۔ مثلاً: خیاط زادہ، بسیط ظرف، بعید زمانے؛ وغیرہ۔

۔5۔ یاد رہے کہ ایسی جفت میں پہلا حرف کسی وجہ سے متحرک ہو جائے تو ثقالت جاتی رہتی ہے: راہِ حق، عروج و زوال، حقِ قیام، فیوضِ ظاہر و باطن، کلامِ منظوم، ابرِ رواں، ساز و سامان؛ وغیرہ۔

۔6۔ پہلے لفظ کا آخری حرف سببِ خفیف (ہجائے بلند) کا حصہ ہو، تو وہاں تشدید جیسی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً: سب باتیں، سینے کے بل لیٹا ہوا وغیرہ؛ ایسی صورت کو "خلط" کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ تشدید حقیقی کسی ایک لفظ کے اندر ہوتی ہے اور اس سے گریز ممکن ہی نہیں؛ لہٰذا وہ یہاں زیرِ بحث نہیں ہے۔

تصریح:۔
 اردو عروض میں ہجاء اکیلا حرف ہے، متحرک ہو یا ساکن (غیر مجزوم)۔ ہجائے بلند میں دو حرف ہوتے ہیں؛ پہلا متحرک اور دوسرا ساکن (مجزوم)۔ ہجائے بلند اور سببِ خفیف ایک ہی چیز ہے۔ اس کے مقابل سببِ ثقیل ہے یعنی دو ہجائے کوتاہ جو باہم مل کر ہجائے بلند (سببِ خفیف) نہیں بناتے، الگ الگ رہتے ہیں۔ مثالیں:
نزد: نز (ہجائے بلند)، د (ہجائے کوتاہ ساکن)۔ دُور: دُو (ہجائے بلند)، ر (ہجائے کوتاہ ساکن۔ ۔ ترکیب نزد و دور: د(واوِ عطفی کی وجہ سے) متحرک ہو گیا۔ بقیہ وہی کچھ ہے۔۔ وِصال: و (ہجائے کوتاہ متحرک)، صا (ہجائے بلند)، ل (ہجائے کوتاہ ساکن)۔۔ ترکیب وصالِ یار: ل (زیرِ اضافت کی وجہ سے) متحرک ہو گیا، بقیہ وہی کچھ ہے۔۔ ترکیب جبینِ نیاز : جبین کا نون اضافت کی وجہ سے متحرک ہوا، نیاز کا نون اصلاً متحرک ہے، ان دونوں کا مجموعہ (نِ نَ) سببِ ثقیل ہوا۔
  

لفظ "تنافر" کے معانی میں دُور ہونا، دُور دُور ہو جانا، ایک دوسرے سے الگ ہو جانا؛ بھی شامل ہے۔ اصطلاح کے طور پر "تنافر" ایک خوبی ہے یعنی مذکورہ بالا صورتوں میں حروف کے مخارج باہم اتنے دور ہوں کہ خلط یا ثقالت پیدا نہ کریں۔ اسے حسنِ تنافر جیسا نام دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ عیبِ تنافر وہ صورت ہوئی جہاں تنافر میں عیب رہ جائے، اس کی تکمیل نہ ہو رہی ہو؛ وہ ساری صورتیں اوپر بیان ہو چکیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے "تنافر" کے مادے (ن، ف، ر) اور اس کے مشتقات کا طائرانہ جائزہ لے لیا جائے۔


ن ف ر (نَفَرَ یَنفِرُ ) نفرت کرنا۔ دور ہونا۔ بھاگنا۔اَنفَرَ (اِنفار) بھگانا۔ نافَرَ:حسب و نسب میں فرق کرنا۔ منافرت: باہمی نفرت۔  تَنفَر: کُوچ کرنا، دور چلے جانا۔ تَنافَرَ  (تنافر) ایک دوسرے کے مقابل فخر کرنا، فرق رکھنا  (آگے لمبی تفصیل ہے)۔ اس مادے کے مشتقات (نفور، نفرت، منتفر، منافرت ، تنافر) سب میں الگ ہونا مشترک ہے۔ یک جا ہونے کے معانی نہیں ہیں۔  لفظ "تنافر" باب تفاعل میں آتا ہے۔ اس میں کم از کم دو فریق ہوتے ہیں۔ باب تفاعل میں کچھ دوسرے الفاظ کو بھی دیکھ لیا جائے: تعاون (ع و ن) ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ تقابل  (ق ب ل) ایک دوسرے کے سامنے آنا۔ تواضع  (وضع) ایک دوسرے کے لئے سینہ، دل کو کھولنا۔  تناسل (ن س ل): ایک دوسرے سے نسل بڑھانا۔ تشابہ (ش ب ہ) ایک کا دوسرے جیسا لگنا ۔ توازن (و ز ن) اہمیت میں ایک دوسرے جیسا ہونا۔ و علیٰ ھٰذا القیاس۔


اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔ نفرت، منافرت، نفور، تنافر کے معروف لفظی معانی میں نفرت مشترک ہے اور عام انسانی ذہن اسی طرف پہلے جاتا ہے۔ ایسے میں ہم بات چاہے اصطلاح کی کریں کہ تنافر ایک خوبی ہے تو ذہن اس کو بہ سہولت قبول نہیں کرتا۔ ایسے میں  تاویلات اور تشریحات کا ایک الجھا دینے والا سلسلہ چل نکلتا ہے۔

حسنِ تنافر، عیبِ تنافر اور ان کی تاویلات و  تشریحات میں الجھے رہنے  سے کہیں اچھا ہے کہ آپ اس اصطلاح کو بدل لیجئے۔ جہاں عیب تنافر  نہیں ہے وہاں نہیں ہے، جرح کی ضرورت ہی نہیں! جہاں ہے وہاں اسے کوئی اور نام دے لیجئے؛ مثلاً: لعوق، عالقہ، خلط، گرہ، آویخت وغیرہ۔ اسے یاد رکھنا بھی سہل ہو گا، اور بیان کرنا بھی۔ مجھے ذاتی طور پر "حرف آویزی" اچھا لگا، "خلط" بھی مناسب ہے۔ جو بھی اختیار کیجئے اس میں سہولت پیدا کیجئے، اپنے لئے بھی، دوسروں کے لئے بھی۔ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ "حرف آویزی" ہی کیوں۔ آویزد مضارع ہے آویختن مصدر سے، اس کے معانی میں لٹکنا، لٹکانا، الجھنا، رکاوٹ ڈالنا وغیرہ شامل ہیں۔ کوئی لٹکی ہوئی چیز حسن کا سبب بھی ہو سکتی ہے؛ مثلاً: آویزے (کان کا زیور)، آویزاں کرنا (جھالر وغیرہ کی صورت دے کر سجانا، دکان میں چیزوں کو نمایاں کرنے کے لئے کسی خاص ترتیب میں ٹانگنا)۔ آویزش یا آویخت کے معانی  ہیں: چپقلش، کش مکش، چشمک، کھینچا تانی، عدم موافقت؛ وغیرہ۔

مجوزہ اصطلاح (حرف آویزی) کی طرف آتے ہیں: جہاں حروف کی بنیاد پر اصوات ایک دوسرے سے الجھ جائیں، وہ آویخت کی صورت ہے۔ اسمِ حاصل مصدر آویزی سے ترکیب حرف آویزی  بنی۔ اس کو "خلط" کہنے میں بھی کوئی قباحت نہیں تھی تاہم واحد لفظ  خلط یا آویزش یا آویخت سے بات صاف نہ ہوتی، آویزشِ حرف نسبتاً مشکل ترکیب ہوتی۔ سہولت کی خاطر ہم نے "حرف آویزی"  کو اصطلاح تجویز کیا ہے؛ معارف و معانی وہی ہیں جو "عیبِ تنافر" کی مد میں بیان ہو چکے۔ یہاں کوئی چیز مسلط نہیں کی جا رہی، سہولت کی طرف ایک راہ سجھائی جا رہی ہے۔
ع: "گر قبول افتد زہے عز و شرف"۔ 


محمد یعقوب آسیؔ  (ٹیکسلا) پاکستان ۔۔۔  11 نومبر 2017ء


۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 7 نومبر، 2017

۔۔ حُکمِ بَہِشت ۔۔





۔۔۔۔۔۔۔
ایک مکالمہ

وہ فرمانے لگے:
ایک سوال ہے آپ سے. کیونکہ آپ کھلے ذہن سے سوچتے ہیں

فقیر نے عرض کیا:
اللہ توفیق دے
جی ارشاد
سورہ بقرہ کے آغاز میں ہی
وعلم آدم الاسماء
اور اس نے آدم کو تمام نام سکھا دیے
ثمہ٭ عرضھم الی الملءکۃ فقال انبءونی 
پھر یہ چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کیں اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاو
جب وہ نہیں بتا سکے تو آدم سے کہا انھیں بتاو
اور آدم نے بتا دیے
٭ اغلاط کا ذمہ اُس کا جس نے آیت نقل کی۔ 
میرے ذہن میں ہے۔
سوال عطا ہو
اس میں بظاہر چیٹنگ لگتی ہے
کیا مطلب ؟؟
ایسا کیوں ہے
ایک شاگرد کو جواب بتا دو دوسروں کو نہ بتاو
اور امتحان لو
اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔
اس میں ایک باریک نقطہ ہے
اللہ کریم کے بارے میں یوں بات کرنا، مجھے ۔ ۔ ۔ ۔
آپ کو پہنچ جانا چاہیے
نکتہ ۔۔۔۔۔۔۔ خیر وہ بھی بتا دیجئے۔
آدم کو اس طرح نہیں سکھایا تھا کہ دیکھو اس کا نام یہ ہے اور اس کا یہ
بلکہ آدم نے خود سے یہ نام رکھے تھے اور آدم کی سرشت میں علم حاصل کرنا رکھ دیا گیا ہے اس لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی
واللہ اعلم
آپ بہت کچھ نظرانداز کر رہے ہیں یا مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔
نکات کی طرف اشارہ کئے دیتا ہوں۔
۔ 1 ۔ فرشتوں کو کس نے بتایا تھا کہ آدم (مراد ہے اولادِ آدم) زمین میں فساد مچائے گا، خون بہائے گا۔
۔ 2 ۔ سوال اللہ کی دی ہوئی اسی خبر پر مبنی ہے کہ جب وہ فساد مچائے گا تو اسے بنانا کیوں۔ (یہ میری سوچ نہیں ہے)۔
خلیفہ کہنے اور اختیار دینے سے انھوں نے اخذ کیا
خلیفہ کا فرض منصبی فساد مچانا نہیں ہوتا۔
اختیار سے فساد ہوتا ہے
ضروری نہیں۔
ورنہ اختیار کی وحدانیت نہ ہوتی
فساد کا درست مفہوم کیا ہے؟
گھر میں بھی دفتر میں بھی
دو مرضیاں ٹکرانا اور ہر ایک کا اپنی مرضی کرنے کی خواہش اور کوشش کرنا
نہیں وہ اختلاف ہے۔ فساد کا مطلب ہے متعینہ راستے سے ہٹنا اور دوسروں کو بھی ہٹانا۔
راستے میں سارا کچھ آ گیا۔ ہر وہ چیز جس کا تعلق اوامر و نواہی سے ہے۔
دنیا میں فساد سے مثال؟
ابلیس ۔۔۔۔۔۔۔
اور ابلیس کے پیروکاروں کا عمل
دنیا فساد سے بھری پڑی ہے۔
جرمن کہتے ہیں ہم افضل یہودی کہتے ہیں ہم افضل
جنگ عظیم
کہتے رہیں۔ اللہ کیا کہتا ہے۔ کیا اس سوال سے پہلے وہ دونوں اللہ کو ویسا مانتے تھے جیسا ماننا چاہئے۔
امریکہ کہتا مرضی کوریا کہتا ہے میری مرضی. فساد
میری گزارش کو نظر انداز نہ کیجئے۔
عالمی سے پہلے ۔۔۔۔ یہودی اور جرمن ۔۔ کیا وہ دونوں اللہ کو ویسا مانتے تھے جیسا ماننا چاہئے؟
اللہ کے حکم کو بھی بندوں نے اپنے ذہن سے سمجھنا ہے
نبی کس لئے ہوتا ہے؟
میرے اور آپ کے درمیان بھی اختلاف چل رہا ہے
یہ وہ بندوں کو اللہ کی باتیں سمجھائے، مقاصد، طریقے۔ سارا کچھ ۔۔۔۔۔۔
جب ہر بندے کو اپنے ذہن سے سمجھنا ہے تو نبی کی کیا ضرورت تھی؟
لیکن اختلاف اور فساد تب بھی رہا. لیکن کم
آپ میرے سوالوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ابھی فساد کی وجوہات پر ہم بات کر رہے ہیں
جی نہیں۔ میرا سوال تھا (جسے آپ نے نظر انداز کر دیا) کہ فساد کا درست مفہوم کیا ہے۔
سارا کا سارا رستہ متعین نہیں ہو سکتا
استغفراللہ ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کہتا ہے ہے اسلام میں داخل ہو جاؤ کلی طور پر
واسءلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون
اللہ کہتا ہے تمہارا سب کا ضابطہ حیات اسلام ہے
اہل الذکر سے پہلے اس سے کیوں نہ پوچھا جائے جس نے ذکر نازل کیا۔
ورنہ اجتہاد نہ ہو
ایک نئی جرح ۔۔۔۔۔۔
میرے بنیادی سوالوں سے انحراف کر کے آپ بات کو کہیں اور لے جا رہے ہیں۔
آپ کی انگلیاں کیوں نہ کانپ گئیں جب آپ نے اس سیاق و سباق میں چیٹنگ کا لفظ لکھا؟
میں نے بظاہر لکھا تھا
آپ نے شاید نظر انداز کیا
اور اس "بظاہر" پر اپنے دلائل بھی دئے۔ ایک شاگرد، دوسرا شاگرد والی بات۔ میں نے نہیں کی۔
دلیل یہ کہ آدم نے خود سیکھ لیے
ایک لفظ "بظاہر" لکھ کر آپ یا تو چیٹنگ کی نفی کرتے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون کہنا ہے کہ آدم نے خود سیکھ لیا؟
اللہ کہتا ہے  اس کو سکھا دیے ۔ آپ کا وہ ارشاد نقل کر رہا ہوں جس سے آپ نے مکالمے کی ابتدا فرمائی:َ
۔۔۔ نقل ۔۔۔۔ " وعلم آدم الاسماء اور اس نے آدم کو تمام نام سکھا دیے" ۔۔۔۔ نقل ختم ۔۔۔
قرآن میں رزق کا مفہوم بھی اسی قسم کا ہے
پھر ایک نیا موضوع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے بنیادی بات ۔۔۔۔۔۔
قرآن میں گمراہی کا مفہوم بھی اسی قسم کا ہے
آپ بات کو گھما پھرا کر الجھا رہے ہیں۔
اللہ کہتا ہے ہم نے کیا
آپ کے سوال کا بنیادی جواب میں نے عرض کیا۔ آپ اس سے فرار ہو رہے ہیں۔
خوش رہئے۔
جو چیز لازماً ہونی ہے اور آدم کی سرشت میں ہے اس کی نسبت بعض دفعہ اللہ اپنی طرف کرتے ہیں
آپ کو پتہ نہیں آپ کہہ کیا رہے ہیں۔
ورنہ آپ اس امتحان کی توجیہ بتا دیں
اللہ کریم توفیق سے نوازے۔ کتاب اللہ کو اللہ کا کلام سمجھ کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔
یعنی آپ چیٹنگ کے نظریے کی حمایت کر رہے ہیں؟
نہیں
میں بتانے لگا تھا، آپ نے بیچ میں نئی باتیں چھوڑ دیں۔
میں نے توجیہ کی
میں سنوں گا
لفظ بدلنے سے مفہوم نہیں بدلتے۔
میں اپنے فورم پر آپ کا سوال نقل کرتا ہوں۔ آپ توثیق کر دیجئے گا کہ سوال میرا ہی ہے۔ پھر اس پر گفتگو ہو گی۔
ان شاء اللہ
ان شاء اللہ
میں منتظر ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ سوال نقل کر دوں؟
لنک دیجیے گا
میں فون پر ہوں
وہاں پابندی ہے، کوئی دوسرا بندہ پوسٹ نہیں کر سکتا۔
مجھے اتنی بھی جلدی نہیں ہے۔
تیرے آزاد بندوں کی...
اپنا سوال یہاں بھیج دیجئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بندہ ہنور سوال کا منتظر ہے..

اتوار، 5 نومبر، 2017

رَمِ زندگی




رَمِ زندگی
بانگِ درا سے علامہ اقبال کی ایک نظم "میں اور تو" کا طالب علمانہ مطالعہ



نہ سلیقہ مجھ میں کلیِم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری، تُو قتیلِ شیوۂ آزری
میں نوائے سوختہ در گلُو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بُو
میں حکایتِ غمِ آرزو، تُو حدیثِ ماتمِ دلبری
مرا عیش غم، مرا شہد سم، مری بود ہم نفَسِ عدم
ترا دل حرم، گِرَوِ عجم، ترا دیں خریدۂ کافری
دمِ زندگی رمِ زندگی، غمِ زندگی سمِ زندگی
غمِ رم نہ کر، سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری
تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری
کوئی ایسی طرزِ طواف تُو مجھے اے چراغِ حرم بتا!
کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشتِ سمندری
گِلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے
کسی بُت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی "ہَری ہَری"
نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری
کرم اے شہِؐ عَرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظرِ کرم
وہ گدا کہ تُو نے عطا کِیا ہے جنھیں دماغِ سکندری
۔۔۔

اقبالؔ کا شعر ممتاز کیوں ہے؛ یہ سوال اب سوال نہیں رہا بلکہ مطالعے کا ایک قرینہ بن گیا ہے۔ چند موٹی موٹی باتیں دہرا لینا زیرِ نظر نظم کی تفہیم میں کچھ سہولت پیدا کر دے گا۔ سب سے پہلی اور بنیادی بات اس کا یقین اور فکرِ شفاف ہے،  اسے کہیں بھی کسی بھی قسم کا ابہام درپیش نہیں۔  وہ جانتا ہے کہ مجھے کیا کہنا ہے اور میرے مخاطب کون ہیں۔ یہاں شعر کے حوالے سے دورِ حاضر کے دو معروف مغالطوں کا ذکر ضروری محسوس ہوتا ہے؛ ایک نام نہاد روشن خیالی اور دوسرا ابہام۔ بلکہ اب تو ان دونوں چیزوں کا ہونا لازم سمجھ لیا گیا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ نام نہاد روشن خیالی کی بنیاد قبل مسیح کے اسکالروں نے ڈالی تھی، اور ابہام گوئی اردو شاعری میں اقبال کے زمانے سے بہت پہلے رواج پا چکی تھی۔ واضح رہے کہ معنوی تہہ داری اور کثیرالجہاتی اور چیز ہے، ابہام اور چیز ہے۔ ایک اور شوشہ یہ بھی چھوڑا گیا کہ شعر کو خالصتاً فن برائے تفریحِ طبع ہونا چاہئے اس میں کوئی مقصد در آئے تو تفریح جاتی رہتی ہے؛ یہ بھی مغالطہ ہے۔ ایک عام سا انسان بھی بے مقصد کوئی کام نہیں کرتا۔ حتٰی  کہ جبلی تقاضوں کی تسکین بھی ایک مقصد رکھتی ہے۔ تفریحِ طبع کا بھی ایک مقصد ہے کہ آپ وقتی طور پر ہی سہی، تفکرات سے تھوڑی سی رہائی پا کر اپنی توجہ زندگی کے مقاصد پر مرکوز کر سکیں۔ تاہم یہ بجائے خود اتنا بڑا مقصد نہیں ہے جس پر سارے مقاصد قربان کر دئے جائیں۔ خالق نے یہ کائنات بغیر کسی مقصد کے نہیں بنائی، اس میں موجود ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے، کوئی اس کو پہنچ پائے یا نہ پہنچ پائے۔ "فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان کوئی کام بے مقصد نہ کرے" (انور مسعود)۔ شعر کہنا کوئی آسان کام نہیں ہے کہ آپ اس پر بغیر کسی مقصد کے پوری عمر گلا دیں۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم خود قبول کرتے ہیں۔ جب ایک ذمہ داری لے لی تو پھر اُس میں لیت و لعل کہ کوئی گنجائش بنتی نہیں ہے۔

اقبال نے شعر کو ایک فن سے کہیں زیادہ ایک ذریعہء اظہار  کی حیثیت سے اختیار کیا ہے کہ اپنی بات بہتر اور پرکشش انداز میں بیان کر سکے؛ گویا فن اور مقصد یک جان ہو گئے۔ یہی خاصیت اقبال کے شعر کو اٹھا کر سب سے اوپر لے جاتی ہے۔ اقبال کے پیغام کی قوت کا ایک بہت اہم پہلو اس کا علمی تبحر ہے، اور تحریک کا منبع اس کا یقین ہے۔ اُس کا مطالعہ اور دقتِ شعور اُس کی اِس آرزو کا مکمل جواز فراہم کرتے ہیں: "یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنار کر"۔ نظم کی طرف آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔

نہ سلیقہ مجھ میں کلیِم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری، تُو قتیلِ شیوۂ آزری

کلیم: حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ سامری: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا وہ جادوگر جس کی داستان عبرت کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔ خلیل: حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ آزر: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ جو شاہی بت خانے کا نگہبان، بااثر درباری  (غالباً وزیر مشیر) اور اپنے زمانے کا بہت مشہور بت گر تھا۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے وہ نبی ہیں جنہیں رب نے کچھ معاملات میں کڑی آزمائش میں ڈالا، وہ اس میں سرخرو ہوئے تو اللہ نے ان کو اپنا خلیل بنا لیا۔ آزر، باپ، بت گر، بت فروش، بت پرست اور حاکم؛ اور خلیل اللہ، بیٹا، جو لوگوں کو بتوں کی پوجا سے منع کرتا ہے اور لا الٰہ الا اللہ کی طرف بلاتا ہے۔  بیٹا حق پر ڈٹا ہوا ہے اور باپ باطل پر نہ صرف جما ہوا ہے بلکہ اللہ کے نبی کو دھمکاتا ہے کہ باز آ جا، نہیں تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام  کا باطل سے پہلا عظیم معرکہ ایک میدان میں ہوتا ہے جہاں فرعون کے پروردہ چوٹی کے جادو گر ہیں۔ معرکے کا فیصلہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہی چوٹی کے جادوگر حق کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور انہیں فرعون جیسے شقی اور خود کو خدا کہلانے والے جابر کا بھی کوئی خوف نہیں رہتا۔ فرعون غرق ہو جاتا ہے، موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکل  جاتے ہیں۔ اللہ کریم کا حکم آتا ہے، کوہِ طور پر جاتے ہیں وہاں چالیس روز تک کا قیام ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں انہی کی قوم کا ایک جادوگر سامری گائے کا ایک بت بناتا ہے اور قوم کے آدھے لوگ اس کے پیروکار بن جاتے ہیں۔ گویا حق کا وہی معرکہ جو ایک میدان میں فرعونی جادوگروں سے ہوا تھا، ایک بدلی ہوئی صورت میں اپنی ہی قوم کے ایک جادو گر سے درپیش ہوتا ہے۔ فتح تب بھی حق کی ہوئی تھی، فتح اب بھی حق کی ہوتی ہے۔ موسیٰ اور ابراہیم کے ان واقعات کی روشنی  میں اقبال بتا یہ رہا ہے کہ وہاں سلیقہ اور قرینہ یعنی ایمان و ایقان کی دولت میسر تھی تو حق نے فتح عطا فرمائی۔

اس شعر کا مقصود اس تلخ حقیقت کو سمجھنا اور تسلیم کرنا ہے کہ ملتِ ابراہیم میں  آج وہ سلیقہ اور قرینہ نہیں رہا۔ کلامِ اقبال کا ایک وصفِ خاص یہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے، اور حقائق کو کہیں ایک پہلو سے کہیں دوسرے پہلو سے بیان کرتا ہے۔ اسی شعر کے مرکزی نکتے پر اقبال کے دو شعر پیش کئے جاتے ہیں:۔
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
مجھے ہے حکمِ اذاں، لا الٰہ الا اللہ
بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں
و علیٰ ھٰذا القیاس
۔۔۔۔۔

میں نوائے سوختہ در گلُو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بُو
میں حکایتِ غمِ آرزو، تُو حدیثِ ماتمِ دلبری

گل و بلبل کا مکالمہ اردو شعر میں بہت عام رہا ہے۔ یہ شعر بادی النظر میں نالہء بلبل ہے جو گل سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: میں گلے میں سڑی ہوئی آواز بن چکا ہوں، تیرا رنگ اُڑ چکا ہے، خوشبو ساتھ چھوڑ گئی ہے، میں غمِ آرزو کی حکایت بن کر رہ گیا ہوں اور تو ماتمِ دلبری کی داستان ہے۔ جیسا پہلے عرض کیا گیا، ابہام اور چیز ہے تہہ داری اور چیز ہے۔ گل و بلبل کے اس منظر نامے کے لئے اتنے دقیق الفاظ و تراکیب لانے میں شاعر کا ایک اہم مقصد کار فرما ہے۔ اس نے نہ بلبل کا نام لیا، نہ گل کا؛ گویا یہ مکالمہ، یا مونولاگ، ایک وسیع تناظر پر محیط ہو گیا۔ یعنی بات پھر مقصد کی طرف چلی گئی۔ جذبہ و ہمت جواب دے جائیں تو مقصد کی جاذبیت جاتی رہتی ہے۔ اس شعر کو اقبال کے عہد کی امتِ مرحوم کے حالات کا عالمی نقشہ اور اس کا اظہاریہ بہت واضح ہے۔

ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہو گی کہ یہ غزل نہیں ہے نظم ہے اور اس کے اشعار کا مضمون باہم مربوط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ کلامِ اقبال کی یہ ایک اضافی خوبی ہے اس کی نظم کے اشعار جہاں اپنے سیاق و سباق سے منضبط ہیں وہیں غزل کے شعروں کی طرح ہر شعر اپنے اندر ایک مکمل مضمون سموئے ہوئے ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اقبال کی نقل نہیں ہو سکتی، اس میں اقبال کے شعر کی اس دوہری معنویت کا بھی بہت حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔

مرا عیش غم، مرا شہد سم، مری بود ہم نفَسِ عدم
ترا دل حرم، گِرَوِ عجم، ترا دیں خریدہء کافری

اس شعر میں کچھ خود فریبیاں مذکور ہیں۔ سادہ تر الفاظ میں ہم اس کے مفہوم کو یوں بیان کر سکتے ہیں: میں جسے عیش گردانتا ہوں وہ حقیقت میں غم ہے، میں نے زہر کو شہد سمجھ لیا ہے (شہد میں شفا کلام اللہ سے مشہود ہے)؛ میرا ہونا نہ ہونا برابر ہوا۔ تیرا دل جو اپنی مرتبت میں حرم یعنی اللہ کا گھر ہونا چاہئے، وہ عجم کے ہاں گِروی رکھا ہوا ہے، اور جسےتو دین سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہے وہ کافری کا خریدا ہوا ہے۔ خالص توحید ایسی نہیں ہوتی۔

اقبال نے انسان کو بالعموم اور امتِ مسلمہ کو بالخصوص اپنا موضوع بنایا ہے۔ اور اس امت کے عروج و زوال کا بہت باریکی سے مطالعہ کیا ہے؛ جسدِ امت پر غیروں کی ضربوں کو بھی دیکھا ہے اور اندر سے اٹھتی ہوئی ٹیسوں کو بھی محسوس کیا ہے۔ " تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من" کی صدا بھی بلند کی ہے اور اپنی حمیت کی میراث کو بازیاب کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
خدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہے
۔۔۔۔۔

دمِ زندگی رمِ زندگی، غمِ زندگی سمِ زندگی
غمِ رم نہ کر، سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری

زندگی تحرک اور تحریک کا نام ہے، یہ سانس سانس دوڑ رہی ہے اور اس کی یہ دوڑ ہی اس کے ہونے کا ثبوت ہے، تھم جائے تو زندگی نہ رہے۔ حکیم الامت نے زندگی کو کبھی محض پھولوں کی سیج قرار نہیں دیا؛ وہ عشرتِ امروز کا قائل ہی نہیں۔ اس کے ہاں زندگی کا فلسفہ کتاب اللہ سے ماخوذ ہے جس میں عالمِ عمل اور عالمِ جزا کا بہت واضح نقشہ بنتا ہے۔ صرف یہ نہیں، اقبال تو اس امر کو بھی مانتا ہے کہ امتوں کے اعمال کا نتیجہ اسی دنیا میں سامنے آ جایا کرتا ہے۔ اس کی طویل نظم "خضرِ راہ" کا ذیلی عنوان "زندگی" منقولہ بالا شعر کو اس کے فلسفہء حیات اور قوتِ عمل سے مربوط کرتا ہے، چند شعر نقل کئے جاتے ہیں:۔
برتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تُو اسے پیمانہء امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم‌دواں، ہر دم جواں ہے زندگی
اپنی دُنیا آپ پیدا کر، اگر زِندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے، ضمیر کُن فکاں ہے زندگی
 ۔۔۔۔۔

تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری

وہ پتلی ٹانگوں والا لڑکا  جس کی ساری زندگی فقر و غنا میں کٹ گئی، دینِ متین کی قوت بن کر سامنے آتا ہے  تو ایسے کہ اس کی مثال کوئی کہاں سے لائے گا۔ جَو کی روٹی مشکل زندگی کی علامت ہے۔ یہ علی رضی اللہ عنہ ہیں، اقبال نے وہیں سے استنباط کیا ہے کہ آپ کے اندر اگر ایمان کی حرارت اور چمک ہے تو تنگ دستی کوئی ایسی شے نہیں کہ اس سے ڈرا جائے۔ غیرتِ ایمانی کا شعلہ لپکتا ہے تو دنیاوی مفادات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اس مجاہدے کی مزید بات آگے آتی ہے۔
بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
اقبال کا قاری اس کے فلسفہء عشق کی پہنائیوں سے نا آشنا نہیں ہو سکتا۔
کوئی ایسی طرزِ طواف تُو مجھے اے چراغِ حرم بتا!
کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشتِ سمندری

اقبال کا روئے خطاب حرم کی طرف ہے؛ وہ اس کو چراغ کی اور خود کو پروانے کی جگہ رکھ کر سمندر کی سرشت کا متمنی ہوتا ہے۔ یہ سمندر پانی کا نہیں ہے وہ کیڑا ہے جو ادبی روایات کے مطابق آگ میں پلتا ہے۔ کِرماتش کے لئے آگ موت نہیں، عین حیات ہے۔ حرم کو چراغ کا استعارہ کثیر جہتی ہے؛ کہ چراغ میں روشنی بھی ہے، تپش بھی ہے اور زندگی نام ہی تپش کا ہے۔ پیامِ مشرق میں نیم سوختہ پروانہ ایک "کرمِ کتابی"  کو زندگی کا سبق اس انداز میں دیتا ہے:۔
تپش می کند زندہ تر زندگی را
تپش می دہد بال و پر زندگی را
عرفی شیرازی نے کہا ہے:
ہم سمندر باش و ہم ماہی کہ در جیحونِ عشق
رُوےِ دریا سلسبیل و قعرِ دریا آتش است
۔۔۔۔۔

گِلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے
کسی بُت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی "ہَری ہَری"

اقبال نے یہاں مکالمے کا سا اظہاریہ اختیار کیا ہے۔ پہلا شعر اقبال کا حرم سے خطاب ہے اور یہاں حرم کا اہلِ حرم سے شکوہ ہے۔ عین نافِ زمین پر واقع اس گھر کی عظمت کے کئی پہلو ہیں۔ آدم و حوا کی جوڑی کو جب زمین پر اتارا گیا، اس گھر کی بنیادوں کے نشانات موجود تھے۔ روایات میں ہے کہ ابوالبشر نے حکمِ الٰہی کی تعمیل میں اس گھر کی تعمیر کی اور یہ دنیا میں موجود اور بعد میں آنے والے انسانوں  کے لئے قبلہ مقرر ہوا۔ وقت کی دست برد، آندھیاں، طوفان، بارشیں سیلاب وغیرہ کے اثرات پورے روئے زمین پر واقع ہوتے رہتے ہیں، یہ فطرت کا طریقہ ہے۔ گردشِ لیل و نہار میں یہ گھر کئی بار پانی مٹی ریت میں دب گیا، پھر تعمیر ہوا۔ خلیل اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام  کے پہلوٹی کے فرزند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا اپنی والدہ کے ساتھ اس وادی میں اترنا اللہ کریم کی بے کراں حکمتوں اور انعامات میں بہت اہم واقعہ ہے۔ اس بار اللہ نے اس گھر کی بازتعمیر سے پہلے یہاں پانی کا ایسا انتظام کیا کہ ننھے اسماعیل کی ماں پکار اٹھی: "زَم! زَم" (ٹھہرجا، ٹھہر جا)۔ زَم زَم کے اس نعرے میں کتنی اور کیسی کیسی طغیانیاں رہی ہوں گی، اس کا ادراک آنکھ سے زیادہ دل کا کام ہے۔ ادھر یہ پانی محض پانی نہیں تھا، انسان کی جملہ غذائی ضرورتوں کی تسکین کا سامان تھا۔ یوں بھی زندگی وہیں پنپتی ہے جہاں پانی ہو؛ طیور و وحوش، انسان اور اَنعام بھی وہاں بہم ہوتے ہیں جہاں پانی ہو۔ یہ چشمہء حیواں پھوٹا بھی تو اللہ کے اس گھر کے آس پاس جسے بارِ مکرر تعمیر ہونا تھا۔ زم زم کا یہ نعرہ اسی ماں کے منہ سے نکلا تھا، وہ پیاس کی شدت سے تڑپتے ننھے اسماعیل کی زندگی کی دعائیں کرتی، دھم دھم دھمکتے سینے اور منہ زور بگولوں کی طرح سنسناتی پھولتی سانسوں کے ساتھ دونوں پہاڑیوں کے بیچ میں دیوانہ وار دوڑتی پھرتی تھی۔ حکم جاری ہو گیا کہ اس کی طرف سفر کیا جائے، اس کا طواف کیا جائے، اس نواح میں مقررہ مقام پر جانور ذبح کئے جائیں، قیام کیا جائے، اللہ کی تسبیح و تہلیل کی جائے اور حج کے سارے مناسک ادا کئے جائیں؛اور جو بھی صاحبِ ایمان کرہء ارض پر کہیں بھی ہے وہ اس کو قبلہ بنائے۔ ماں کی طوفانی دوڑوں کو ان مناسک کا حصہ بنا دیا گیا۔

ایک فرد سے لے کر پورے عامِ انسانیت تک کے تمام معاملات کو چاہے وہ کسی بھی محاذ پر ہوں، کسی بھی سطح کے ہوں، اس گھر کے رب کے رُخ پر ہونا ہے، اور اس گھر سے پھوٹنے والی روشنی کو سارے زمانوں کے لئے سارے انسانوں کے لئے راہنما ہونا ہے۔مگر اس کے لئے ایک ضربِ کاری کی ضرورت ہے۔ اس شعر میں ایک ترکیب آئی ہے: "جفائے وفا نما"؛ اس کی حقیقت کھل جائے تو انسان اندر سے کانپ جاتا ہے۔ سادہ ترین لفظوں میں اس کا معنیٰ ہے: منافقت۔
رازِ حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ
وہی حرم ہے، وہی اعتبارِ لات و منات
خُدا نصیب کرے تجھ کو ضربتِ کاری!
۔۔۔۔۔

نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری

اس وقت بلکہ گزشتہ کئی صدیوں سے صورتِ حال ایسی چل رہی ہے کہ مردِ مومن اپنی اصلی اور حقیقی منزل سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ نیکی اور بدی کی قوتوں کا ٹکراؤ ہمیشہ جاری رہا ہے۔ اللہ کریم کے لئے ابلیس کو فنا کر دینا کوئی مشکل نہیں تھا، مگر اس نے بدی کی اس قوت کو موقع دیا۔ مالک اپنی حکمتوں کو خود ہی جانتا ہے، تاہم ایک بات سامنے کی ہے کہ اگر اس دنیا میں صرف نیکی ہی نیکی کی قوت ہوتی، بدی کا تصور بھی نہ ہوتا تو شاید نیکی بھی نیکی نہ رہتی۔ نیکی اور بدی، اسلام اور کفر، عدل اور ظلم، شکر اور ہوس کے درمیان جنگ ہبوطِ آدم کے وقت سے جاری ہے اور سورِ اسرافیل تک جاری رہے گی، کہ یہی منشائے الٰہی ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا (جو اپنی ذات میں ایک امت تھے) کفر کے خلاف اعلانِ بغضاء کتاب اللہ میں مذکور ہے۔ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا نشان جو ہمیں اسی کتاب سے ملتا ہے کہ وہ آپس میں رحیم ہیں اور کفار پر بہت سخت:۔
ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
زیرِ نظر شعر میں مذکور ستیزہ کاریاں اہلِ نظر کے لئے نئی بات نہیں ہے۔ یہ پنجہ فگنی ہزاروں برس سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام پورے طور پر نافذ نہیں ہو جاتا۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر پہلے بھی ہوا، یہاں تاریخ کے دو کردار اور بھی مذکور ہیں۔ ایک یہودیوں کا سرخیل مرحب جو خیبر کی جنگ میں علی رضی اللہ عنہ کے مقابل تھا، بالآخر جہنم واصل ہوا؛ اور دوسرا عنتر بن شداد کے نام سے مشہور تھا۔کتب میں عنتر ابن ابن ابن شداد لکھا ہے، یعنی یہ شخص شداد کا بیٹا  نہیں تھا اس کی نسل میں سے تھا، اور بہت سخت کافر تھا۔ اس نے طویل عمر (تقریباً 127 شمسی سال) پائی۔ عنتر بن شداد 521ء کے لگ بھگ یمن میں پیدا ہوا، 28ھ (648ء) میں قتل ہوا، یہ سیدنا عثمان غنی کا دورِ خلافت تھا۔ یہ شداد وہی ہے جس نے اپنے تئیں اس دنیا میں جنت بنائی تھی، جو اُسے دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوئی۔
۔۔۔۔۔

کرم اے شہِؐ عَرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظرِ کرم
وہ گدا کہ تُو نے عطا کِیا ہے جنھیں دماغِ سکندری

نظم کا آخری شعر ہے؛ بات یہیں پہنچنی چاہئے تھی۔ سیدالانبیاء، خیر البشر، سرورِ کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے حوالے سے اقبال کا (آخری ایام میں کہا ہوا) یہ قطعہ دیدہء دل سے پڑھنے اور رگِ جاں سے محسوس کرنے کے قابل ہے:
تو غنی از ہر دو عالم، من فقیر
روزِ محشر عذر ہایِ من پذیر
گر تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفٰے پنہان بگیر

وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ حضورِ رسالت مآب میں اُن کی آواز گھٹ جاتی تھی۔ "حاشا! کوئی گستاخی نہ ہو جائے"۔ حکم ہوا کہ نبی کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو، ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا جاتا رہے۔ ایک صحابی نے ،کہ اُن کی آواز فطری طور پر بلند تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا چھوڑ دیا؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری یہ  آواز مجھے لے ڈوبے۔ ایسی تواضع کے حامل وہی لوگ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو ٹھینگے پر رکھتے تھے۔ اقبال یہاں سراپا سپاس اور مجسم سوال دکھائی دیتا ہے، تو نہایت ادب کے ساتھ کرم کا منتظر ہے وہ بھی اپنے لئے نہیں، ہر اس شخص کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یافتہ ہے۔
۔۔۔۔۔

ہم نے نظم کا شعر بہ شعر مطالعہ کرنے کی سعی کی ہے۔ مناسب ہو گا کہ اس کو ایک اکائی کے طور پر بھی دیکھا جائے۔
پہلا شعر: امت کی موجودہ کم مائیگی اور دُون ہمتی کا اقرار
دوسرا شعر: اسی تسلسل میں عدم مؤدت کی فضا کا نوحہ
تیسرا شعر: امت کی فکری ژولیدگی کی کیفیات
چوتھا شعر: زندگی کے سرد و گرم سے بنرد آزما ہونے کا عزم اور دعوت
پانچواں شعر: اپنے وسائل میں زندہ رہنے اور آتشِ شوق کو زندہ رکھنے کی ترغیب
چھٹا شعر: درونِ ذات اور امت میں عزم و ہمت کے احیاء کی آرزو
ساتوں شعر: اپنے مرکز سے جڑنے کی اہمیت کا اظہار
آٹھواں شعر: تاریخی تسلسل اور اسلاف کی قربانیوں کا تذکرہ
نواں (آخری) شعر: سرورِ کائنات کے حضور خود سپردگی کا اقرار

زیرِ نظر نظم کے معنوی آفاق پر ایک نظر ڈال چکے، ان میں جتنے ڈوبتے جائیں گے، اوپر اٹھتے جائیں گے۔  بارے اسلوب کے زاویے سے بھی دیکھ لیا جائے۔ رعایات کا نظام اور اس کی بندشیں ملاحظہ ہوں: ۔
پہلے شعر میں: کلیم اور سامری، خلیل اور آزر، ہلاک اور قتیل، سلیقہ اور قرینہ، میں اور تو، جادو اور شیوہ۔
دوسرے شعر میں:نوا اور گلو، رنگ اور بو، سوختہ پریدہ اور رمیدہ، آرزو اور دل بری، غم اور ماتم، حکایت اور حدیث۔
تیسرے شعر میں: عیش اور غم، شہد اور سم، بود اور عدم، دل اور دین، گرو اور خریدہ، عجم کافری اور حرم۔
چوتھے شعر میں: زندگی، دم، رم، غم، سم، غمِ رم اور سمِ غم۔ اس شعر کی نغمگی سونے پر سہاگہ ہے۔
پانچویں شعر میں: خاک، شرر، فقر و غنا، نانِ شعیر، قوت، جہاں، مدار۔
چھٹے شعر میں: طرزِ طواف، پتنگ، چراغِ حرم، سمندر، عطا۔
ساتویں شعر میں: جفائے وفا نما، گلہ، حرم، اہلِ حرم، بت کدہ، صنم، بیان، ہری ہری۔
آٹھویں شعر میں: ستیزہ گاہ، پنجہ فگن، حریف، اسد اللہ، مرحب، عنتر۔
نویں شعر میں: شہِ عرب و عجم، کرم، منتظرِ کرم، دماغِ سکندری، گدا، عطا۔
۔۔۔۔۔

ہیئت کے اعتبار سے یہ ایک قطعہ بند نظم ہے جس میں شاعر نے قافیے کو کافی سمجھا ہے۔ اقبال کے ہاں یہ بات بہت عام ہے کہ وہ ردیف کا التزام نہیں کرتا، آگئی تو آگئی نہیں آئی تو بھی ٹھیک ہے۔اُس کے وسیع و عمیق مطالعے کی قوت بھی ہے کہ الفاظ  بہ یک لحاظ اس کے سامنے دست بستہ حاضر ہوتے ہیں اور اقبال ان کو اپنی مرضی سے باندھتا ہے۔ بہ این ہمہ اس کی نظموں میں بھی غزل کی سی فضا پائی جاتی ہے۔ ہر شعر اپنی اپنی جگہ ایک مضمون کو مکمل معنوی اکائی میں پیش کرتا ہے اور نظم کے شعر مل کر ایک بڑے موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔ اُس کی غزل کی تہہ میں ایک رو چل رہی ہوتی ہے اور اشعار کے مختلف الاشکال بھنور اور لہرئیے اسی رو سے جڑے ہوتے ہیں۔ نظم میں ریزہ خیالی کا اور غزل کے اشعار میں ہم آہنگی کا  سلیقہ کوئی اقبال سے سیکھے۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ شاعری اقبال کا مسئلہ رہی ہے نہ مطمع، اس نے شاعری کو ایک مؤثر ذریعہء اظہار کے طور پر اپنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہ لیا جائے کہ اُس نے شعر کے اوصاف کو نظر انداز کیا ہو گا۔ صاف سی بات ہے کہ ذریعہء اظہار کا جو بھی طریقہ آپ اختیار کرتے ہیں، اس میں ہمہ پہلو جمالیات اور صحت کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ اقبال نے شعر کے اوصاف کو قائم رکھنے سے ایک قدم آگے اس کی افادیت میں اضافہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔

شعر پر ایک بودا سا اعتراض یہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ مقصدیت شعر کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اقبال کے ہاں ہمیں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ اقبال کے مقصد نے اس کے شعر کو نکھارا ہے اور شعری فنیات نے اس کی مقصدیت کے اظہار کو مہمیز کیا ہے۔ یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ شعر کا نفسِ مضمون اپنی زبان ساتھ لے کر آتا ہے، دقیق و عمیق افکار، فلسفیانہ موضوعات، گہری محسوساتی سطح، عزم صمیم اور جہد مسلسل کی باتیں، تصورات کی تصویر کشی، انسانی فکر کا وسیع اور وقیع مطالعہ،  تاریخ کا شعور، مابعد الطبیعیات، الٰہیات؛ اور جتنے عناصر اقبال  کی شاعری کا خمیر ہیں؛ ان کی لفظیات بھی تو ویسی ہی ہونی چاہئے۔ اقبال نے ساحری یہ کی ہے کہ ایسے موضوعات کو محسوسات کی سطح پر لا کر پوری ادبی چاشنی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے ہاں فن اور مقصد اس طرح یک جان ہو جاتے ہیں کہ کسی ایک کو بھی منہا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کسی عام شاعر کا کام تھا بھی نہیں؛ اس کے لئے ایک اقبال درکار تھا۔ اسی نہج پر اقبال کا قاری بھی شعر و ادب کے عام قاری سے مختلف ہے، اُسے بھی اگر اقبال کی سی نہیں تو اس کے سے انداز کی وسعتِ نظر اور دقت شعور کی ضرورت بہر حال ہے۔

اقبال کی فکری اور نظری شخصیت کی مضبوطیء تعمیر میں مجھے دو شخص نمایاں نظر آتے ہیں۔ ایک بزرگ مشرقی خاتون امام بی بی اور اس کے میاں شیخ نور محمد دونوں مل کر ایک شخصیت بن جاتے ہیں؛ دوسری شخصیت مولوی میر حسن کی ہے۔ ان بزرگوں کے سایہء عاطفت میں پرورش پانے والا کشمیریوں کے محلے کا لڑکا"بالا" اتنا قوی ہو جاتا ہے کہ دیارِ فرنگ کی رنگینیاں اور فریب کاریاں بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں بلکہ اس کی مشرقیت اور بلند و بالا ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع النظر ہو جاتی ہے۔
خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

اقبال کے شعر میں روانی اور تیزی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی تند خو موجیں بھاری پتھروں، چھوٹے موٹے سنگریزوں اور پانی سطح پر تیرتے کاہ و برگ کو یکساں رفتار پر بہا لے جاتی ہے۔ عام پیرایہء اظہار میں بوجھل محسوس ہونے والی تراکیب، استعارے، علامتیں، صنائع، تلمیح و تضمین اقبال کے شعر میں ہلکے پھلکے ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ دوڑتے دوڑتے قاری کی سانس پھول جائے تو بھی اقبال اسے اپنے ساتھ کھینچ لے جاتا ہے۔ ضرورت ذوقِ نظر کی ہے، جو میسر ہو تو سب کچھ شیشہ ہو جاتا ہے۔
فِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔ
مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش
حلّاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر
اک مرد قلندر نے کِیا رازِ خودی فاش!
۔۔۔۔۔

محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان

۔۔۔ اتوار: 5 ۔ نومبر  2017ء  ۔۔۔