اتوار، 14 اپریل، 2019

جی آیاں نوں! مگر ذرا دیکھ بھال کر




جی آیاں نوں! مگر ذرا دیکھ بھال کر



مکرمی جناب!

بلا تمہید؛  کوئی وقت ضائع کئے بغیر؛ گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنی اردو ٹھیک کیجئے۔ جملے وغیرہ بعد کی بات ہے، آپ کے ہاں املاء کی بہت غلطیاں ہیں۔ ایک شخص جو خود کو کسی بھی سطح کا قلم کار سمجھتا ہے یا قلم کار بننا چاہتا ہے اس کے لئے اولین شرط اس زبان کا درست استعمال ہے (ہجے، تلفظ، محاورہ، ضرب الامثال، بیان وغیرہ)۔ زبان کی غلطی اس کے لئے ناقابلِ معافی ہے۔

شعر کہنا کوئی فرضِ عین نہیں ہے۔ اور شعر میں ایک خاص تقاضا آپ کے اندر ایک شاعر کا ہونا ہے، جو لے، سر، تال، بندش، عروض وغیرہ (یا جو نام بھی اسے دے لیں) سے ہم مزاج ہو۔ اگر وہ شاعر آپ کے اندر موجود نہیں تو آپ کبھی شاعر نہیں بن سکتے۔ اگر وہ ہے تو آپ کے خیالات کا بلند اور پاکیزہ ہونا لازمی ہے، آپ کو مختلف الفاظ اور جملوں کی معنوی تہہ داری سے شغف ہونا چاہئے۔ آپ کا مطالعہ وسیع ہونا چاہئے۔ اپنے زیرِ نظر شاعروں اور ان کے کلام کا اپنے طور پر ہر پہلو سے تجزیہ کیجئے اور اچھے شاعروں سے (یا ان کے کلام سے) دیکھئے اور سیکھئے۔ یہ تین چار چیزیں وہ ہیں جو اگر آپ کے اندر ہیں تو ہیں، نہیں ہیں تو کوئی دوسرا یہ چیزیں آپ کے اندر پیدا نہیں کر سکتا۔ ایسے میں اپنے ساتھ اس کا وقت بھی ضائع نہ کریں۔

آپ کے علاقے میں کوئی نہ کوئی ادبی تنظیم ضرور موجود ہو گی، اس کے معمول کے اجلاسوں میں جایا کیجئے۔ بہترین تربیت وہاں ہوتی ہے۔ آپ مختلف احباب سے مختلف عناصر پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ ایک بات جسے زبانی بیان کرنے میں آدھا منٹ لگتا ہے اسی کو تحریری طور پر بیان کرنے میں 15 منٹ لگ سکتے ہیں۔ آپ اپنے لئے یہ کام کر بھی لیں تو کوئی دوسرا بھی آپ کے لئے اتنی مشقت کرے قطعاً ضروری نہیں۔ پہلے اپنے آپ کو پرکھ لیجئے اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں تو آپ کو برے شاعر سے اچھا شاعر بننے میں مدد کی جا سکتی ہے، اگر آپ شاعر نہیں ہیں تو کوئی آپ کو شاعر بنا نہیں سکے گا۔

اس وقت مناسب ترین طریقہ یہی ہے کہ آپ اپنے محلے شہر وغیرہ کے کسی ادبی پلیٹ فارم سے جڑ جائیں اور اس کے معمول کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔ وہیں آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کے اندر ایک شاعر ہے بھی یا نہیں، اور اگر ہے تو اسے کس سطح کی تربیت کی ضرورت ہے۔ فاصلاتی تربیت ایسی مؤثر نہیں ہو سکتی۔

اور ہاں! میں چکنی چپڑی باتیں نہ لکھتا ہوں، نہ پڑھتا ہوں، نہ کرتا ہوں، نہ سنتا ہوں۔ مجھ پر اپنے الفاظ ضائع نہ کیجئے گا (فیس وغیرہ کی باتیں اپنے وقت پر اچھی لگیں گی)، بہت نوازش۔



فقط محمد یعقوب آسیؔ       اتوار: 14۔ اپریل۔ 2019ء