منگل، 27 اکتوبر، 2015

وہ چلا گیا ۔۔ 1996ء کا لکھا ہوا ایک فکاہیہ

وہ چلا گیا

پرانے ریکارڈ سے ایک ہلکی پھلکی تحریر


ایک تو وہ میرزا صاحب تھے، جن کے پاس ایک بائیسکل تھی، وہ خود تو بے چاری دریا برد ہو گئی مگر میرزا صاحب کو شہرتِ دوام بخش گئی۔  موصوف مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے اور کسی کو تکلیف پہنچانا تو در کنار، ذرا سی خفت میں مبتلا کرنے کے روادار بھی نہیں تھے۔ ہو سکتا ہے ان کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو، مگر ہمیں میرزا صاحب کے اس وصفِ خاص کا ان کی وجہِ شہرت ہونا کچھ مشکوک لگتا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ فی زمانہ میرزا صاحب جیسے صاحبِ دل کا وجود ایک معجزہ لگتا ہے، اور یہ بھی کوئی ایک ایسا شخص ہم نے نہیں دیکھا جو خود کو تفنن کا نشانہ بنا کر دوسروں کو محظوظ ہونے کا موقع دے۔ یہ بھی درست ہے، وہ بھی درست ہے، تو پھر یہ بھی درست ہے کہ میرزا صاحب ایسے صاحبِ دل کی نیک نامی بعید از قیاس ہے اور اِس وصفِ خاص کی بنا پر تو اور بھی بعید ہے۔ یہی بات قرینِ قیاس لگتی ہے کہ ان کی مرحومہ بائیسکل ہی ان کی شہرت کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ہمارے اس طرزِ استدلال کی بنیاد یار لوگوں کا یہ طرزِ عمل بھی ہے کہ وہ اپنے سوا سب کو تضحیک کا نشانہ بلکہ موضوع بنانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے اور ہم اس کے نہ صرف عینی و گوشی گواہ ہیں بلکہ بسا اوقات یہ موضوع ہماری ذات رہی ہے۔

میرزا صاحب نے مرحومہ کو غالباً اس لئے سپردِ موجِ دریا کر دیا کہ بے چارہ آہنی ڈھانچہ شرمندگی کا شکار نہ ہو۔ مگر ہمارے مہربانوں کا خیال ہے کہ انہوں نے انتقاماً اسے دریا میں پھینکا تھا۔ بے جان مرحومہ پر یہ الزام ہے کہ اس نے میرزا جیسے بامروت شخص کی سبکی کچھ اس طرح کر ڈالی کہ ان کی تمام تر رواداریاں سیلِ غضب میں بہہ گئیں اور جھنجھلاہٹ کے اس بہاؤ کی وجہ سے بے چاری بائیسکل دریا میں ڈوب مری۔ یہاں دریا میں بہہ جانے والی بات واقعاتی اور عقلی سطح پر شاید قابلِ تسلیم نہ ہو گی۔ کہا جاتا ہے کہ لوہا پانی پر تیرتا نہیں ہے اور سوئی جیسی ہلکی چیز تک ڈوب جاتی ہے۔ اگر واقعتاً ایسا ہے تو اس دوپائے کی عقل کو داد دئے بغیر نہیں رہا جاتا کہ ایک پورے کا پورا شہر پانی پر نہ صرف تیرتا ہے بلکہ دوڑتا اور سفر کرتا ہے۔ یوں تو پوری دنیا پانی پر تیر رہی ہے تاہم ایسے سرِ آب رواں دواں شہروں کو بحری جہاز کہا جاتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ خشکی اور سمندر کی روایات جداگانہ ہیں۔

اتفاق سے (واضح رہے کہ ہم نے حسنِ اتفاق یا سوئے اتفاق نہیں کہا)! اتفاق سے ہماری ایک اور میرزا صاحب سے بھی علیک سلیک ہے۔ ان کے
 پاس بھی لوہے کی ایک سواری ہے جو آہنی شہر یعنی بحری جہاز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے بھاگ دوڑ سکتی ہے مگر نیلے پانیوں میں نہیں تارکول کی کالی سڑکوں پر۔ آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ یہ آہنی گھوڑی جو ہمارے اِن میرزا صاحب کے تصرف میں ہے ایک چمچماتی کار ہے جس کے نام اور ماڈل، حتیٰ کہ رنگ کے بارے میں کچھ پوچھ کر ہمیں شرمندہ نہ کریں تو احباب کی نوازش ہو گی۔ وجہ اس معذرت نامے کی یہ ہے کہ کار اور اس کے جملہ متعلقات ہماری دل چسپی کا موضوع کبھی نہیں رہے۔ ہم تو اسے اپنی درویشی کی شان ہی کے خلاف گردانتے ہیں۔ آپس کی بات ہے کہ ہمارے اس انداز فکر کے پیچھے ہماری کچھ جائز قسم کی مجبوریاں ہیں ورنہ کار میں بیٹھنا ہمیں ذاتی طور پر بہت اچھا لگتا ہے، خواہ وہ کسی میرزا صاحب کی ہو یا سرکار کی۔ اپنی یا کرائے کی کار کے متعلق سوچنا البتہ ہمیں اچھا نہیں لگتا۔

بائیسکل والے میرزا صاحب کے بر عکس کار والے میرزا صاحب خاصے ’’برنجاں برنج‘‘ قسم کے صاحب لوگ ہیں اور اکثر لئے دئے رہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو، آخرِ کار ’’صاحبِ کار‘‘ اور ’’بے کار‘‘ میرزا میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہونا چاہئے۔ ہم یقین کی حد تک جانتے ہیں کہ اِن کے پاس اپنی کار کے مکمل مالکانہ و غاصبانہ حقوق ہیں جب کہ اُن کی بائیسکل بھی مانگے کی لگتی تھی۔ لیجئے! یہاں ایک اور تفریق در آئی ہے، یقین اور گمان کا فرق اہمیت تو رکھتا ہے نا! پھر، وہ انیسویں صدی کے اواخر میں عالمِ فنامیں وارد ہوئے اور یہ اکیسویں صدی میں بھی اس دارِ فانی سے کوچ فرمانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، حالانکہ ان کے پاس کار ہے اور کوچ کرنا اِن کے لئے زیادہ آسان ہے۔ یہاں سے عالمِ برزخ تک بائیسکل پر تو جایا نہیں جا سکتا! ہمارے اِن میرزا صاحب کی کار کو دیکھ کر ممکن لگتا ہے اور یہ اِن کے لئے کارِ خیر بھی ہو گا، کارِ خیر میں تاخیر کے ہم قائل نہیں۔ اگر میرزا صاحب ہم سے اتفاق رائے نہ رکھنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں! بالخصوص ایسے میں جب کہ ہمارے پاس کار نہیں ہے۔ سائیکل اور کار کا کیا مقابلہ اور کیا موازنہ سوائے اس کے کہ دونوں میں لوہا ہوتا ہے۔ کار میں لوہے کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی کچھ تاثیر خون میں بھی شامل ہو جائے تو کیا برائی ہے۔

یوں تو اپنے قریشی صاحب بھی ’’صاحبِ کار‘‘ ہیں مگر وہ ذرا مختلف قسم کے صاحب ہیں اور ان کی آنکھیں ابھی پوری طرح سفید نہیں ہوئیں، ورنہ صاحب! ہمارے یہ میرزا صاحب؟ ان کی کیا پوچھتے ہیں! خیر سے ستر کے پیٹے میں ہیں جب ہم جیسوں کے نہ پیٹ میں آنت بچتی ہے نہ منہ میں دانت، مگر موصوف خاصا معقول حجم کا شکمِ بے شکن اٹھائے پھرتے ہیں، اس پر کسی ہوئی پیٹی سمیت! صاحب کے دانت ہم نے نہیں دیکھے کہ اتنی جرأت ہم میں کہاں۔ بالوں میں سفیدی اترنے لگی (یہ خاصی پرانی بات ہے) تو اسے روکنے کے سارے دیسی اور ولایتی نسخے آزمانے کے بعد، نصف سے زیادہ بالوں سے محروم ہو کر ہی سہی، اس بن بلائی سفیدی سے کسی حد تک محفوظ رہے۔ مگر اس کو کیا کہئے کہ بالوں کی سفیدی بھی خون میں در آئی۔ آخر بے چاری کو کہیں تو اترنا تھا!

اس تناظر میں کبھی کبھی اپنے قریشی صاحب پر غصہ بھی آتا ہے کہ صاحب، اب تک بائیسکل والے میرزا صاحب کے زمانے کی شرافت اٹھائے پھرتے ہیں؛ نہ اکڑ، نہ پھوں، نہ ناز، نہ نخرہ۔ اور تو اور ان کی کار بھی نخروں سے محروم ہے۔ پڑوسی کی بیوی بیمار ہو گئی، قریشی صاحب کو رات گئے جگایا گیا۔ جگانے والے ناہنجار نے نہ معذرت کی نہ شرمندہ ہوا، الٹا ٹھک سے حکم صادر کیا: ’’قریشی! گاڑی نکالو اور جلدی سے ڈاکٹر صاحب کو اٹھا لاؤ، تمہاری بھابی کو کچھ تکلیف ہو گئی ہے‘‘۔ تکلیف کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہنا دخل در معقولات کے زمرے میں آسکتا ہے۔ اب قریشی صاحب ہیں کہ جیسے بستر سے نکلے ویسے کار میں جا بیٹھے اور شفاخانے میں جا نازل ہوئے۔ بکھرے ہوئے بال، آنکھوں میں نیند کے ڈورے، گلے میں ایک کھلا بنیان جس پر سینڈو کی تصویر بنی ہے اور نیچے لکھا ہے: فرام رَشیا وِد لَو؛ پائجامہ گھٹنوں سے ذرا نیچے اور ٹخنوں سے خاصا اوپر، پاؤں میں کھڑاؤں۔ اس ہیئت کذائی میں کوئی شرطہ انہیں پکڑ کر نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے جرم میں بند بھی کر دیتا تو ہمارے نزدیک معصوم ٹھہرتا، مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ آج تک ایسا ہوا نہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے جو اس ناگفتہ بہ تصویر کو دیکھا تو جانا کہ دردِ زِہ ان کے پڑوسی کی بیوی کو نہیں خود اِن کو لاحق ہے۔ ٹونٹی اور ڈبہ اٹھایا، عینک ناک پر ٹکائی اور اِن کے ساتھ ہو لئے۔ خیر! ہم تو ٹھہرے سائیکل والے میرزا صاحب کے طرف دار کہ کند ہم جنس با ہم جنس پروزا۔ یوں بھی ہماری وضع داری مزید کچھ کہنے کی اجازت نہیں دیتی اور نہ ہی اپنے ’’صاحبِ کار‘‘ میرزا صاحب اسے پسند فرمائیں گے۔

میرزا صاحب ایک دن ہمارے ’’بے کار‘‘ سرکاری کوارٹر کے سامنے کار میں تشریف آور ہوئے تو ہمیں حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا۔ ریکٹر سکیل سے متعلق ہماری معلومات واجبی سے بھی کسی قدر کم سہی تاہم ہمارے اندازے کے مطابق اس جھٹکے کی شدت زلزلے کی تباہ کن سطح یعنی آٹھ سے یہی کوئی آٹھ دس گنی ہو گی۔ وہ تو خیر گزری کہ موصوف نے غریب خانے کو شرفِ میزبانی کا اہل نہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی ورنہ شاید چائے والے کے حساب میں ہماری گھر والی جو خیر سے ایک بہت ہی شیریں مرض (یعنی ذیابیطس) اپنی جان سے لگائے ہوئے ہیں، اس سے بھی بڑے زلزلے سے دو چار ہو جاتیں اور اس چائے وائے پر ہمیں زیرِ لب بالائے لب ہائے وائے کرتے ، قریشی صاحب کے گھر کی طرف دوڑ لگانی پڑتی کہ گاڑی نکالئے آپ کی بھابی کو واقعی کچھ ہو گیا ہے، اور ... اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کے بھتیجے بھتیجیاں سوتیلی ماں کے روایتی ظلم وستم کا نشانہ بنیں تو اپنے گھر سے اپنی بھابی کے علاج کے لئے رقم بھی اٹھا لائیے گا۔

میرزا صاحب کے ساتھ آنے والا زلزلہ بچوں کو ذرا بھی متاثر نہیں کر سکا اور یہی بچوں کا کمال ہے کہ ان کی معصومیت انہیں اس سے بھی بڑے جھٹکوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہمارے چھوٹے صاحب زادے ... نہیں صاحب زادے نہیں ... کیونکہ ہمیں درویشی کا دعویٰ تو ہے صاحب ہونے کا نہیں ... ہمارا چھٹا بیٹا اتفاقاً اپنے سے چھوٹے کو لے کر نکلا۔ ہمارے اندر کار میں بیٹھنے کا جو شوق چھپا بیٹھا ہے ہماری اولاد میں اس حد تک ضرور سرایت پذیر ہوا ہے کہ وہ کسی چمچماتی کار کو چھو کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ بَس، اس سے یہی خطا ہو گئی کہ اس نے اپنی خواہش کے تحت میرزا صاحب کی کار کو چھو لیا۔ وہ تو شکر ہے پتھر کا نہیں ہو گیا! میرزا صاحب نے جو ناک کے معاملے میں بھی خاصے محتاط واقع ہوئے ہیں اور حساس بھی، اپنے اسی پیمانۂ تفاخر کو سکیڑا اور بچے سے فرمایا: ’’اس چھوٹے کو لے جاؤ!‘‘۔ اپنی مسندِ شاہی کی رونق کو ویران کئے بغیر انہوں نے ہمیں بکمالِ نوازش کار میں بیٹھنے کی اجازت بلکہ حکم سے نوازا۔ 

ان کی کار ہمارے گھر سے بہر حال کشادہ تر تھی، دل کی حالت ہمیں نہیں معلوم۔ ہم بھی جی کڑا کر کے گاڑی میں داخل ہو گئے مگر اتنا کڑا نہیں کر سکتے جتنا اس کے اندر اور باہر کے ساتھ مطابقت کے لئے ضروری تھا۔ گاڑی کی سیٹ کے ساتھ بھی ہمارا رویہ معذرت خواہانہ رہا ہو گا جب کہ گدی خاصی نرم تھی اور ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے پر مائل بھی۔ ہم میں اس گدی کے معصوم جذبات کو پامال کرنے کی ہمت نہ تھی، اس لئے میرزا صاحب سے اجازت لئے بغیر گاڑی سے بہ خیریت باہر نکل آئے۔

 موصوف کی روانگی کے ساتھ ہم گھر میں داخل ہوئے تو ہمارا لختِ جگر ہماری ہم عمر بائیسکل کا پیڈل اتار کر اس سے کھیل رہا تھا اور بہت مسرور  تھا۔  زلزلے کی کیفیت ٹل چکی تھی، بچے کی اس محویت کو دیکھ کر ہمارے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی جوہماری گھر والی کے لئے شاید ایک نایاب نعمت رہی ہو گی۔ اس نے عالمِ حیرت میں مسکراتے ہوئے پوچھا: ’’ کیا بات ہے؟‘‘ ہم نے بے ساختہ کہا: ’’وہ چلا گیا‘‘ اور ایک میلا کپڑا لے کر بائیسکل پر جمی گرد جھاڑنے لگے۔
********
محمد یعقوب آسی ۔ 30 نومبر 1996ء

7 تبصرے:

  1. ایک شگفتہ مضمون جسے میں انشائیہ قرار دیتے ہوئے الجھن محسوس کر رہا ہوں ۔۔ عجیب سی کیفیت طاری رہی ۔۔ کہیں ایک سیدھا سادہ مضمون ، کہیں انشائیہ اور آخر میں افسانے کا سا ماحول ۔۔ مجھے تو کچھ نیا نیا سا لگا ۔۔ ہاں کچھ جگہوں پر جملوں کی تکرار نے قدرے بے مزہ کیا لیکن تسلسل کی فضا نے اس کیفیت کو طاری ہونے سے باز رکھا ۔۔ ’’زلزلے کی کیفیت ٹل چکی تھی، بچے کی اس محویت کو دیکھ کر ہمارے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی جوہماری گھر والی کے لئے شاید ایک نایاب نعمت رہی ہو گی۔ اس نے عالمِ حیرت میں مسکراتے ہوئے پوچھا: ’’ کیا بات ہے؟‘‘ ہم نے بے ساختہ کہا: ’’وہ چلا گیا‘‘ اور ایک میلا کپڑا لے کر بائیسکل پر جمی گرد جھاڑنے لگے۔
    ‘‘ اس پیرا گراف نے تحریر کا رخ یکسر بدلتے ہوئے ایک نیا ماحول تخلیق کر ڈالا جس کی بدولت حسیاتی سطح پر قاری ایک ہی وقت میں مختلف قسم کی کیفیات کا شکار ہو جاتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. شکریہ جی منیر انور صاحب ۔۔۔ اس فقیر تو قطعاً یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ "انشائیہ" ہے۔ بہت محبت ہے آپ کی۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. کہانی، افسانہ، فکاہیہ، انشائیہ، مضمون؛ وغیرہ ۔۔ ان میں فرق تو ہے نا! میری سطح کا ایک قاری جو ہر بیانیہ تحریر میں میں توقع رکھے کہ اس میں ایک کہانی ہو گی، اس کے کردار ہوں گے، تو اسے یقیناً مایوسی ہو گی۔ لفظیات اور ان میں پوشیدہ معانی کو نظر انداز کرتے ہوئے، ہم اس کو ایک رواں کہانی کے طور پر نہیں لے سکتے کہ اس تحریر میں اصولی طور پر کوئی کہاںی موجود نہیں ہے۔

    آپ نے درست کہا منیر انور صاحب! کہ آخری پیراگراف ایک نیا ماحول تخلیق کرتا ہے۔ تاہم اس ماحول کی نشاندہی پہلے سے کی جا چکی ہے۔ آپ کی توجہ کے لئے ممنون ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بات آپ کے دعوے کی نہیں حضرت ۔۔ میرے محسوسات کی ہے ۔۔ میں نے آغاز کیا تو مجھے لگا انشائیہ ہے پھر کیفیات بدلتی رہیں ۔۔

      حذف کریں
    2. رہی بات فکاہیہ یا دیگر پیچیدہ کیٹیگرائزیشن کی تو اس چکر میں قاری کہاں الجھتا ہے صاحب یہ تو نقادوں کا کام ہے وہ چاہیں تو خذف کو گہر قرار دیں یا در ثمین کو خاک کا ذرہ کہہ دیں ۔۔ تاہم سنا ہے ان کی ’’ مستند ‘‘ رائے کے پیچھے بھی کہانیاں ہوتی ہیں ۔۔ ذاتی پسند و نا پسند، شخصی تنازعات، گروہی مجبوریاں وغیرہ وغیرہ

      حذف کریں
  4. ابتدا سے آخری لائن تک بہت شگفتہ اور......
    وہ چلا گیا...... بہت معنی خیز....
    لیکن جانا تو ازل سے ھی طے ھے ...

    جواب دیںحذف کریں