جمعہ، 15 مئی، 2020

سنت اور فرض کا فرق؟؟


سنت اور فرض کا فرق

مسئلہ (سنت اور فرض کا فرق) شروع کہاں سے ہوا۔ اللہ کریم نے اپنے انبیاء کے وظائف میں کچھ ایسی باتیں رکھ دی ہیں، کہ امتی ان باتوں کے مکلف نہیں۔ جو چیز نبی پر فرض ہے ہو سکتا ہے امت اس چیز سے واقف ہی نہ ہو۔ جو چیز امت کے لئے مستحب ہے وہ نبی کے لئے لازم بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں؟ وہ ہمارے پاس اللہ کا نمائندہ اور رسول ہے، اس کی ذمہ داریاں (اللہ کے حوالے سے) امتی سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایسے امور بھی ہو سکتے ہیں جن میں نبی کو اختیار دیا گیا ہو اور امتی کو نہ دیا گیا ہو۔ ہم امتی ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ایک امتی ہونے کے ناطے ہمیں کیا کرنا ہے۔ یہاں تک احکام بالکل واضح کر دئے گئے اور ان کا قابلِ عمل ہونا بھی یقینی بنا دیا گیا۔ ان سے آگے؟ اللہ جانے اور اس کا نبی جانے، آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟

عبادات اور مناسک میں مثلاً نماز اور روزے میں توجہ فرمائیے۔ جسے ہم عرفِ عام میں فرض کہتے ہیں، وہ ہے جسے کتاب اللہ نے کُتِبَ علَیکم کہا ہے کہ ان کا کرنا لازم ہے مثلاً نمازِ ظہر کے چار فرض (جمعے کی نماز میں وہی فرض دو رہ گئے)۔ کچھ مناسک وہ ہیں جن کا اللہ کریم نے ویسے حکم نہیں دیا، نبی ان کو کرتا ہے؛ وہ سنت ہیں۔ جیسے ظہر سے پہلے کی (چار، یا دو) اور بعد کی (دو) سنتیں ہیں۔ ان کو سنتِ مؤکدہ کا نام دے دیا گیا۔ کچھ مستحبات ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے تاہم حکم ہے کہ کر لو تو اچھا ہے، جیسے ظہر کی نماز کے بعد دو نفل ہیں۔ ظہر کی مثال ہم نے اس لئے لی ہے کہ اس میں وہ مناسک کے تینوں درجے آ گئے۔ عصر کی نماز (چار فرض) سے پہلے دو یا چار رکعت پڑھنا مستحب ہے، اس کو سنتِ غیرمؤکدہ کا نام دے دیا گیا۔

یوں کچھ وضاحتیں خود اپنے اوپر لاد لی گئیں اور وہی کہ فرض کا انکار نہیں ہو سکتا، سنت کا انکار ہو سکتا ہے؛ وغیرہ۔ خدا کے بندو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ ایک عمل سنت ہے اور مؤکدہ ہے تو تم اس کا انکار کیسے کر سکتے ہو جس کی تاکید نبی نے کی؟ کیا مذاق ہے! اور جسے تم غیر مؤکدہ کہتے ہو، وہی تو مستحب ہے کہ بھائی پڑھ لو تو اچھا ہے، نہ پڑھنے سے نماز کو کچھ نہیں ہوتا، ہاں تم ان کی برکات سے محروم رہنا پسند کرو تو تمہاری مرضی۔ بیماری میں سفر میں جہاں قصر ہے وہ فرض نمازوں پر ہے۔ بیٹھ کر، لیٹ کر، اشاروں سے نماز پڑھنا بھی فرض نمازوں پر ہے۔

سفر، جنگ، بیماری میں سنت رکعتوں سے ویسے ہی رخصت مل جاتی ہے (دلوں کا حال اللہ جانتا ہے)۔ جنگ کی حالت میں نماز کیسے پڑھی جائے، اس کا مختصر بیان قرآن شریف میں آ گیا۔ تفصیلات کتابوں میں میسر ہیں۔ جیسے نماز کے اوقات کا بیان قرآن شریف میں آ گیا، کتنی رکعتیں پڑھنی ہیں، وہ کون کون سی ہیں، نماز کے ارکان (قیام، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ، قعدہ) کی تفصیلات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان بھی فرما دیں کر کے بھی دکھا دیں۔

جب قرآن نازل ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرتِ سوالات سے منع کر دیا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قومِ موسیٰ کی طرح سوال کرتے جاؤ اور ان کے جواب میں عمل مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے۔ کون جانے! جب حکم ہوا کہ گائے ذبح کرو تو وہ سوال کرنے لگے اور سوال پر سوال کرتے گئے۔ گائے کی ڈیفینیشن ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ ویسی گائے کا ملنا محال ہو گیا۔ حکم ملتے ہی وہ لوگ کوئی سی گائے ذبح کر دیتے، حکم کی تعمیل بہ سہولت ہو جاتی۔ ان کا تو رویہ ہی عجیب تھا کہ: موسیٰ! تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ تفصیللات سب جانتے ہیں، اشارہ کافی است۔

اب کیا نئی بات ہو گئی ہے، کیا نماز بدل گئی ہے؟ نہیں نماز تو نہیں بدلی پڑھنے والے نہیں رہے اور جو رہ گئے ہیں ان میں موشگافیاں کرنے والے زیادہ ہیں اور تسلیم کرنے والے کم۔ تلقین کرتے رہئے۔ جو سچ اور درست ہے بیان کرتے رہئے، مفروضات سے گریز کیجئے، اللہ بھلی کرے گا۔ اپنا دل میلا نہ کیا کیجئے!۔


محمد یعقوب آسی ۔۔ جمعہ: ۱۵۔ مئی ۲۰۲۰ء

تھا وہ اک یعقوب آسیؔ ۔ تازہ ترین



تھا وہ اک یعقوب آسیؔ


ایک گھنٹے کا بریک ٹائم؛ میرے دفتر میں کچھ مہربان جمع تھے۔ ایک بزرگ تھے، چوہدری صاحب، فزکس کے پروفیسر؛  عمر اور عہدے دونوں میں میرے سینئر تھے، اور ہم میں خاصی بے تکلفی تھی۔ وہ مجھے ’’اوئے یعقوب!‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے اور میں انہیں ’’تایا جی‘‘ کہا کرتا۔ پانچ بلکہ سات وقت کے پکے نمازی تھے؛ ان کی ٹھوڑی گھُٹنے کی طرح صاف تھی۔ دوسرے ایک مقامی مسجد کے امام تھے، میرے ساتھ دوسرے درجے کے افسر، مختصر سا وجود، مختصر سا چہرہ اور اس پر مختصر سی داڑھی (داڑھی کے بال گھنے نہیں تھے)، تاہم بہت مناسب لگتی تھی۔ تیسرے ایک حافظ صاحب تھےاسلامیات کے پروفیسر، فربہ جسم، بھرا بھرا چہرہ، گھنی مگر چھوٹی چھوٹی داڑھی جسے وہ ایک انچ تک نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک ملک صاحب تھے شعبہ جسمانی تربیت کے اکلوتے افسر؛ داڑھی کبھی رکھ لیتے، کبھی مونڈ دیتے، کبھی سفید رہنے دیتے کبھی بسمہ لگا لیتے؛ اُس دن تازہ مُنڈی ہوئی تھی۔ ایک مہر صاحب تھے۔ ایم دوسری مسجد کے نائب امام، معمر شخص تھے، داڑھی بے ترتیب، جیسے بڑھتی گئی بڑھتی گئی، وہ خط کرنے کے بھی حامی نہیں تھے۔ اور ایک میں تھا، تقریباً ویسا ہی جیسا آپ مجھے میری فیس بک والی تصویروں میں دیکھتے ہیں؛ تب بال اتنے سفید نہیں تھے۔

تایا جی نے ایک دم سوال داغ دیا: ’’اوئے یعقوب! اک گل دس، داڑھی دے بارے توں کیہ کہندا ایں، کس طرح دی ہووے، کنی وَڈّی ہووے؟‘‘  ..... بات وہی ہو گئی کہ
؏: اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے

عرض کیا: ’’آپ اپنے سمیت ہم سب نمونوں کو دیکھ لیجئے! گوڈے والے سب ایک سے ہیں، فرق داڑھی والوں میں ہے‘‘۔ تایا جی نے مجھے گھُورا مگر بولے کچھ نہیں، میں نے جسارت جاری رکھی۔’’داڑھی کا ایک بال بھی نہ مونڈا جائے، نہ کاٹا جائے، خط کر سکتے ہیں، چھوٹی بڑی ہو سکتی ہے، ایک مٹھی کی ہو، اتنی ہو، اتنے لمبے بال چھوڑ کر کترا لیں؛ یہ ہو، وہ نہ ہو؛ یہ ساری باتیں دیکھی جانی چاہئیں اور درست ترین، مستند ترین کو اپنانا چاہئے؛ مگر پہلی بات یہ ہے کہ داڑھی رکھنی ہے!! اس میں کوئی کلام نہیں۔  ..... ہم چاروں میں کم از کم ایک اشتراک تو ہے! دیکھنے والے کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اِس بندے نے داڑھی رکھی ہوئی ہے شیو نہیں بڑھی ہوئی۔ ایک شخص روزانہ سویرے اٹھ کر پہلا کام یہ کرے کہ سنتِ رسول کو چہرے پر سے کھرچ کر دھو کر بہا دے، یا اگر روز نہیں تو کم از کم ہر جمعے کے مبارک دن کا آغاز لازماً سنت کُشی سے کرے، کہ ’اَج مسیتے جانا اے یار‘ ۔۔ تو میں کیا کہہ سکتا ہوں‘‘۔۔۔ پھر؟ کوئی بھی، کچھ بھی تو نہیں بولا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تب بھی کچھ اور نہیں کہنا پڑا، اور اب بھی مجھے کچھ اور نہیں کہنا۔ ماسوائے اس کے کہ اگر آپ کی داڑھی قدرتی طور پر اگتی ہی نہیں یا بالوں کے کسی مرض وجہ سے پھوٹنا بند کر دیتی ہے، جھڑ جاتی ہے؛ تو آپ معذور ہیں۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ:  ۱۵۔ مئی ۲۰۲۰ء

شاعری؛ کیا اور کیوں




شاعری؛ کیا اور کیوں

سوال دراصل یہ بن گیا ہے کہ شاعری میں ہو کیا رہا ہے اور ہونا کیا چاہئے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر اور ہمارے شعر پر کون سی حدود لاگو ہوتی ہیں۔

دین وہ ہے جو انسان کی نجی اور معاشرتی زندگی کے ہر ہر شعبے میں مکمل راہ نمائی کرے اور جہاں ضروری ہو، حدود و قیود کا تعین بھی کرے۔ یہ کام اللہ کا ہے اور اللہ نے اس کے لئے انبیاء کو مبعوث فرمایا؛ جنہوں نے اس دین کو عملاً نافذ کر کے دکھایا۔ اسی بات کو یوں کہہ لیجئے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہم اپنی زندگی کے جملہ معاملات و مسائل میں قرآن اور حدیث کے پابند ہیں؛ اور آزادیاں یا گنجائشیں بھی وہیں تک لے سکتے ہیں، جہاں تک کی اسلام اجازت دیتا ہے؛ اس سے آگے حدود اللہ ہیں۔ اس امر کو یوں دیکھئے کہ اسلام محض چند مناسک کا مجموعہ نہیں اور نہ یہ کسی خاص لباس، زبان، ثقافت اور علاقے سے مشروط ہے۔ اسلام مکمل دین ہے اور اس کا تقاضا ’’کافّۃ‘‘ ہے۔ یعنی اسلام میں داخل ہونا ہے اور کلی طور پر داخل ہونا ہے۔ اسلام کا کوئی حصہ، کوئی رکن نہیں چھوڑا جا سکتا ہے اور دنیا کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جو اسلام سے بالاتر ہو۔

شاعری بھی انسانی زندگی اور معاشرت کا ایک حصہ اور ایک مؤثر ذریعہء اظہار و ابلاغ ہے۔ اس پر اسلامی قدر کا نفاذ بھی ویسا ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہئے جس قدر اس فن کی اثر آفرینی ہے۔ جنابِ نادمؔ کے سوال کے جواب میں شاعری کی علمی حیثیت اور اس پر احکام کے اطلاق کے حوالے سے اتنا کچھ کہہ دیا گیا ہے اور وہ اتنا کافی ہے کہ اس پر مزید کوئی اضافہ کرنا، کم از کم میرے لئے ممکن نہیں۔ میں یہاں صرف ایک بگاڑ کی بات کروں گا جسے میں بنیادی بگاڑ سمجھتا ہوں۔

امتیں صرف دو ہیں: ایک اسلام اور ایمان والے ہیں، دوسرے منکرین ہیں۔ واضح رہے کہ منافقین عام منکرین کی نسبت بدتر ہیں کہ وہ ہیں تو منکرین مگر دعویٰ مسلم ہوتے کا کرتے ہیں، اور اپنی معاشرتی زندگی میں بظاہر مسلمانوں جیسا دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ لوگ ’’اللہ کو اوراہلِ ایمان کو دھوکا دیتے ہیں‘‘۔ اشارہ کر دیا ہے، تفصیلی شناخت اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کے فرمودات میں میسر ہے۔ رہے منکر، وہ تو منکر ہیں؛ انہیں اللہ کے حکم کی تعمیل سے کوئی غرض ہوتی تو انکار ہی نہ کرتے۔

ہوا یہ، کہ منکرین اور ان کے فکری بالکوں نے مختلف امور پر ایک ایک کر کے کچھ ایسی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی اور ہنوز کر رہے ہیں کہ: نماز اسلام میں ہے، اسلام نماز میں نہیں؛ داڑھی اسلام میں ہے، اسلام داڑھی میں نہیں؛ سود سے پیسہ بڑھتا ہے اور زکوٰۃ سے گھٹتا ہے؛ اسلام کو آپ کی زندگی کی سائنس سے غرض ہے فن سے نہیں؛ ناچ، گانا، مصوری، موسیقی، سنگ تراشی، فنِ تعمیر، ادب، شعر اور دیگر فنون مذہب سے بالاتر ہیں یا مذہب کو ان سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔ بنیادی کج فکری کا یہ فتنہ آج کا تازہ فتنہ نہیں ہے، اس کو صدیوں سے (پوری دنیا میں عام طور پر اور مسلم معاشروں میں خاص طورپر) پھیلایا جا رہا ہے۔ بہت سارے ذہن تو اس فتنے کا شکار ہو چکے ہیں اور بہت سارے بڑی تیزی سے شکار ہورہے ہیں۔ شعر کی اثرپذیری کو معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے کے لئے ہتھیار کے طور پر برتنے کا صیہونی دجالی منصوبہ اپنے خطوط پر عمل پیرا ہے اور’’ نیو ورلڈ آرڈر‘‘ اور ’’نیو روڈ میپ‘‘ کے کارپرداز اِس میں بھی سارے شیطانی حربوں سے کام لے رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے شاعروں سے واقف ہوں جو ’’پورا شاعر‘‘ بننے کے شوق میں شراب اور نشے تک کے عادی ہو چکے ہیں کہ ان کے لحاظ سے یہ ’’کچھ بڑے شاعروں‘‘ کی سنت ہے۔محبوب کے سِفلی تصور نے کتنے ہی شاعروں کو اس گناہ پر بھی لگا دیا جسے ’’برا راستہ‘‘ فرمایا گیا ہے۔

شاعروں کو معاشرہ ’’باشعور‘‘ لوگوں میں شمار کرتا ہے۔ اور کتنے ہی لوگ ایسےہیں جو اپنے عقائد اور ایمانیات میں بھی شعراء کےکلام کو بنیاد مانتے ہیں۔وعید حقیقت میں انہی لوگوں کےلئے ہے کہ انہوں نے شاعر کی بات مان لی اور اس کے پیچھے چل پڑے؛ اللہ اور رسول کی بات جاننے کی پروا نہیں کی، ماننا تو بعد کی بات ہے۔ شاعر پر قدغن یہ لگتی ہے کہ نامعلوم وادیوں میں نہیں بھٹکنا؛ انسان کی زندگی کا ایک مقصد ہے، جس سے محرومی اپنے لئے بے راہ روی کا اور دوسروں کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ مسلمان کے پاس تو ضائع کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا۔ اس پر تو بہت عظیم ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں اور اسے اللہ کے ہاں وقت کا حساب بھی دینا ہے ۔ بھلائی دینِ اسلام کی روح ہے بلکہ اسلام سراسر بھلائی ہے۔ پروفیسر انور مسعود سےکہا گیا کہ نئے لکھنے والوں کے لئے کوئی نصیحت کریں؛ انہوں نے کہا: محسنات اور منکرات کا کسے نہیں پتہ! بھائی محسنات کو اپنا لو، منکرات کو چھوڑ دو! اور ہاں! یہ بات خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بے مقصد نہیں بنائی۔ سنتِ الٰہی یہی ہے کہ آدمی کوئی بے مقصد کام نہ کرے۔

شعر تو ہر موضوع پر کہا جاتا ہے، کہا جاتا رہے گا۔ مگر یاد رہے کہ ہمیں جو بھی کرنا ہے، ایسے کرنا ہے کہ اس میں بھلائی ہو، برائی نہ ہو۔ شعر بے مقصد نہ ہو، بامقصد ہو؛ اور مقصد بھی نیک ہو۔ نیک وہ ہے جو اللہ اور رسول کی ہدایات کی روشنی میں نیک ہے۔ ظاہر ہے انداز بھی نیک، شستہ اور شائستہ اپنانا پڑے گا۔

وما توفیقی الا باللہ۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ جمعہ ۱۵۔ مئی ۲۰۲۰ء