ہفتہ، 10 جون، 2017

خاموشی ۔۔۔ ایک مکالمہ



خاموشی


لچھن: پتہ نہیں، عجیب سی بے چینی لگی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیوں۔
چھکن: کام وغیرہ ٹھیک چل رہا ہے؟ کوئی مسئلہ رہا ہو گا۔
لچھن: کام تو ٹھیک چل رہا ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ کہانا کہ سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔
چھکن: بیوی بچے ٹھیک ہیں؟
لچھن: ہاں، ٹھیک ہیں۔ ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون پر بات بھی ہوئی۔
چھکن: تم گاؤں کب گئے تھے؟
لچھن:  کوئی چار مہینے ہو گئے۔
چھکن: کتنا رہے وہاں؟ ایک مہینہ؟
لچھن:  نہیں کچھ زیادہ، ڈیڑھ مہینے کے قریب۔
چھکن: بیوی بچے بھائی بہن سسرالی، سب ٹھیک ہیں؟
لچھن:  ہاں سب ٹھیک ہیں۔
چھکن: تو تم ملے ہو نا، سب سے؟
لچھن:  ہاں تقریباً سب سے ملا ہوں۔ جن سے نہیں ملا ان کی بھی خیر خبر مل گئی تھی، سب نارمل ہے۔
چھکن: اماں کیسی تھیں جب تم واپس آئے؟
لچھن:  ....... (خاموشی) ........
چھکن: کیا ہوا؟ وہ خیریت سے تو ہیں؟ تم پریشان ہو گئے ہو۔
لچھن:  ....... (خاموشی) ........
چھکن:  چپ کیوں ہو گئے ہو؟ میں نے اماں کا پوچھا ہے، کیسی ہیں وہ؟
لچھن:  پتہ نہیں۔
چھکن: ہائیں، پتہ نہیں؟ کیا مطلب؟ تم اماں سے نہیں ملے؟
لچھن:  نہیں۔
چھکن: عجیب آدمی ہو؟ تم ڈیڑھ مہینہ گاؤں میں رہے، سب سے ملے اماں سے نہیں ملے؟
لچھن:  ہاں۔
چھکن: یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ 
لچھن:  ....... (خاموشی) ........
چھکن: ویسے وہ ٹھیک ہیں نا؟
لچھن:  ٹھیک ہی ہوں گی، نہیں تو کوئی مجھے بتا دیتا۔
چھکن: یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کوئی کیوں بتا دیتا، تم خود کیوں نہیں ملے ان سے؟
لچھن:  بس! نہیں ملا۔
چھکن: اماں کو پتہ تو ہو گا کہ تم آئے، کتنے ہی دن رہے اور چلے گئے۔
لچھن:  ہاں، انہیں پتہ ہے۔
چھکن: کچھ سوچا تم نے؟ یا کچھ محسوس کیا؟
لچھن:  کیا؟
چھکن: تمہارا بچوں سے ملنے کو جی چاہا، تم گئے سب سے ملے، جی خوش ہوا؟
لچھن:  ہاں۔
چھکن: ایک ماں کا بیٹا ایک عرصے کے  بعد گاؤں میں آیا، مہینہ بھر سے زیادہ رہا اور ماں سے ملے بغیر چلا گیا!
لچھن:  تو؟ تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟
چھکن: اس ماں کے دل پر کیا بیتی ہو گی، کچھ اندازہ ہے تمہیں؟
لچھن:  ....... (خاموشی) ........
چھکن: تم کیا کہو گے؟ اماں تم سے ناراض ہیں شاید؟
لچھن:  ہاں۔
چھکن: تو انہیں راضی کرنا تھا، نا۔
لچھن:  تمہیں کچھ پتہ بھی ہے وہ کیوں ناراض ہیں؟
چھکن: اس کیوں سے کیا ہوتا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے تم ناراض ہو۔
لچھن:  یہ تم نے کیسے کہہ دیا؟
چھکن: تم ناراض نہ ہوتے تو اماں سے ملتے ضرور۔ وہ تمہارا انتظار کرتی رہی ہوں گی۔
لچھن:  ہاں، بیوی نے بتایا تھا۔
چھکن: اور کیا بتایا تھا؟ خیر، جو بھی بتایا تھا، تم جانو۔ اب پریشانی کس بات کی ہے۔
لچھن:  یہی تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔
چھکن: میری سمجھ میں تو آ رہا ہے۔
لچھن:  کیا؟
چھکن: تمہاری ماں کو تم سے پھر اذیت پہنچی ہے۔
لچھن:  کیا مطلب؟ پھر؟؟؟
چھکن: ہاں، تمہیں اماں سے ناراض ہونے کا حق کس نے دیا۔
لچھن:  شکایت مجھے بھی تو ہو سکتی ہے؟
چھکن: کیسی شکایت؟ اماں نے تم سے کہا کہ نماز نہ پڑھا کرو؟ یا کہا کہ بیوی کو ناحق طلاق دے دو؟
لچھن:  یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
چھکن: اگر ایسا کچھ نہیں کہا تو تمہیں اماں سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں۔
لچھن:  ....... (خاموشی) ........
چھکن: تمہارا مسئلہ میری سمجھ میں آ گیا ہے۔ 
لچھن:  وہ کیا؟
چھکن: اماں کو تم سے جو اذیت پہنچی ہے تمہاری بے کلی اسی کا ردِ عمل ہے۔
لچھن:  تم میری اماں کو نہیں جانتے۔
چھکن: یہ تم نے ’’میری اماں‘‘ کہا؟
لچھن:  ہاں، کیوں؟
چھکن:  اگر وہ تمہاری اماں ہیں تو تم ان سے ملے کیوں نہیں؟
لچھن:  ....... (خاموشی) ........
چھکن: دیکھو، تمہارے اندر کا شریف آدمی ابھی زندہ ہے، وہی تمہیں بے چین کر رہا ہے۔
لچھن:  مگر ......
چھکن: مگر وگر کچھ نہیں۔ ایک بار پھر گاؤں جاؤ اور واپس تب آنا جب وہ تم سے راضی ہو جائیں۔
لچھن:  یہ تو بہت مشکل ہے۔ انہیں راضی کرے گا کون؟
چھکن: تم! اور کون؟
لچھن:  یہ ناممکن ہے۔
چھکن:  واقعی؟ 
لچھن:  ہاں۔
چھکن:  ٹھیک ہے، ابھی تم جاؤ اور جب اماں تم سے راضی ہو جائیں تو مجھے بتا دینا۔
لچھن:  اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو؟
چھکن:  تو ... ممکن ہے تم مجھ سے نہ مل سکو۔
لچھن:  ....... (خاموشی) ........

ړ ړ ړ ړ ړ ړ ړ

محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان ہفتہ .... ۱۰؍ جون ۲۰۱۷ء


جمعرات، 1 جون، 2017

جمع پونجی ۔ جون 2017ء ۔






جمع پونجی




نام: محمد یعقوب آسیؔ
جائے پیدائش: ضلع اوکاڑا کا ایک گاؤں، یکم جنوری ۱۹۵۳ء
کسبِ نانِ جویں: ڈپٹی کنٹرولر امتحانات (ریٹائرڈ) انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا، ضلع راولپنڈی
سکونت: موضع اعوان آباد، نزد انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا،
ضلع راولپنڈی
تعلیم: بی اے (ملتان) ۱۹۷۸ء

چلو، آؤ چلتے ہیں بے ساز و ساماں
قلم کا سفر خود ہی زادِ سفر ہے

ادبی سرگرمیاں:

اواخر ۱۹۸۴ء میں مقامی ادبی تنظیم ’’حلقہ تخلیقِ ادب، ٹیکسلا‘‘ میں شامل ہوا، اور تیس برس تک شامل رہا۔ اس دوران حلقے کا صدر بھی رہا، معتمد عمومی (جنرل سکریٹری) بھی، اور معتمد نشر و اشاعت (پریس سکریٹری) بھی۔ اوائل ۲۰۱۲ء میں پہلے سے موجود ’’دیارِ ادب ٹیکسلا‘‘ کی نئے سرے سے تنظیم کی اور معتمد عمومی مقرر کیا گیا۔ ۲۰۱۵ء کے بعد قویٰ ویسے نہ رہے تو اپنی ذمہ داریاں دوستوں کے سپرد کر دیں۔ دمِ تحریر (جون 2017ء) ادبی اجلاسوں اور تقاریب میں بہ نفسِ نفیس آنا جانا موقوف ہے۔ انٹرنیٹ پر البتہ چل رہا ہے؛ ادب بھی اور حدِ ادب بھی۔

کتابیں
ا: زمینی اشاعتیں
۔۱۔ فاعلات: اردو کے لئے عروض کا نیا نظام دوست ایسوسی ایٹس، لاہور؛ ۱۹۹۳ء
۔۲۔ مجھے اک نظم کہنی تھی: اردو نظمیں الف لام میم پبلی کیشنز، ٹیکسلا؛ ۲۰۱۵ء
۔۳۔ پنڈا پیر دھروئی جاندے: پنجابی شاعری الف لام میم پبلی کیشنز، ٹیکسلا؛ ۲۰۱۵ء
۔۴۔ لفظ کھو جائیں گے: اردو نظمیں الف لام میم پبلی کیشنز، ٹیکسلا؛ ۲۰۱۵ء
۔۔۔ شعری مجموعوں کی اشاعت کے بعد کی شاعری اپنے دوسرے بلاگ پر جمع کر رہا ہوں:۔
http://assykakarokuch.blogspot.com/

ب: انٹرنیٹ پر اشاعتیں
۔۵۔ فاعلات: دوسرا انٹرنیٹ ایڈیشن؛ ترمیم اور اضافے کے ساتھ
۔۶۔ زبانِ یارِ من: فارسی زبان اردو کے اہلِ قلم کے لئے۔ انٹرنیٹ ایڈیشن
۔۷۔ آسان علمِ قافیہ: انٹرنیٹ ایڈیشن
۔۸۔ آسان عروض کے دس سبق: انٹرنیٹ ایڈیشن
۔۹۔ میرے حرف سفیر: کتابوں کا تعارف انٹرنیٹ ایڈیشن
۔۱۰۔ بھلے لوگ: چیدہ چیدہ ادبی شخصیات انٹرنیٹ ایڈیشن
ج: زیرِ ترتیب
۔۱۱۔ مٹی میری مہکدی: پنجابی زبان، رسم الخط، قواعدِ املاء (زیرِ ترتیب)۔
۔۱۲۔ دھَولا جھاٹا: پنجابی شاعری (زیرِ ترتیب)۔   یہ شائع ہو چکی (”آئنے سے مکالمہ کا ایک“ جزو) 2019ء ۔
۔۱۳۔ اچیاں لمیاں ٹاہلیاں: پنجابی نثر (زیرِ ترتیب)۔ ۔۔۔۔
۔۱۴۔ خوشبو اور پہیلی: اردو نثر (زیرِ ترتیب)۔ ۔۔۔   یہ شائع ہو چکی 2018ء ۔
۔۱۵۔ فکر پارے: متفرق موضوعات، انٹر ویو، مباحث (زیرِ ترتیب)۔
۔۱۶۔ ستارہ بولتا ہے: اردو شاعری (زیرِ ترتیب)۔  یہ شائع ہو چکی (آئنے سے مکالمہ) 2019ء ۔
۔۱۷۔ مری آنکھیں مجھے دے دو: ہلکی پھلکی تحریریں (زیرِ ترتیب)۔
۔۱۹۔ تھا وہ اک یعقوب آسیؔ : سرنوشت (زیرِ ترتیب)۔
۔۲۰۔ علم دریچے: مطالعاتی مضامین (زیرِ ترتیب)۔
۔۲۱۔ رنگ باتیں کریں: ریڈیو ڈرامے (زیرِ ترتیب)۔  یہ شائع ہو چکی 2018ء ۔
رابطے

مِری آنکھیں مجھے دے دو: http://yaqubassy.blogspot.com/
آسی کا کرو کچھ : http://assykakarokuch.blogspot.com/
گوگل پلس: https://plus.google.com/+YaqubAssy
اسکائیپ: Yaqub Assy

آٹوگراف
میری پہچان کھو گئی ہے کہیں
میری بے چہرگی تلاش میں ہے


شاعری کے نمونے
غزلیں: اردو
۔۱۔ گرا تو ہوں پہ لمبے فاصلے طے کر گیا ہوں ( ۹؍ مئی ۲۰۱۷ء)۔
۔۲۔ کاٹ کی، تلوار کی باتیں کریں ( ۹؍ مئی ۲۰۱۷ء)۔
۔۳۔ تھی کہاں شمع کہ پروانہ ہی آتا کوئی ( ۲۱؍ مئی ۲۰۱۵ء)۔
۔۴۔ راستہ میں بناؤں گا یارو (۲۳؍ جنوری ۲۰۱۷ء)۔
۔۵۔ یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں (یکم مارچ ۲۰۱۷ء)۔
۔۱۔
گرا تو ہوں پہ لمبے فاصلے طے کر گیا ہوں
کہ میں ٹوٹے پروں کے زور پر اُڑتا رہا ہوں
مجھے اسلاف سے ورثے میں فتنے بھی ملے ہیں
پہ حسبِ استطاعت اِن کے آگے ڈَٹ گیا ہوں
پٹخ دیں گے زمیں پر، آج کل کی بات ہے بس
میں اپنے دوستوں پر بوجھ بنتا جا رہا ہوں
ستارے مجھ کو جلتی بجھتی آنکھیں لگ رہے ہیں
اِنہی آنکھوں سے شش پہلو جہاں کو دیکھتا ہوں
مرے اُس فعل کو وہ بزدلی گردانتا ہے
سہارا کیوں دیا دشمن کو، اب پچھتا رہا ہوں
نکلتے ہیں تڑپ کر، اشک ہوں یا لفظ، آسیؔ
میں چشم و لب کی کم ظرفی سے تنگ آیا ہوا ہوں
۔۲۔
کاٹ کی، تلوار کی باتیں کریں
دوست ایسے پیار کی باتیں کریں
دردِ گردہ کا مجرب ہے علاج
پہلوئے دِلدار کی باتیں کریں
ہم گریباں چاک، دامن تار تار
جبہ و دستار کی باتیں کریں
چرس کے نشے میں از خود رفتگاں
طالعِ بیدار کی باتیں کریں
ہزل کہتے ہیں، بتاتے ہیں غزل
یار کس معیار کی باتیں کریں
ہاتھ حسرت گنج پر کیا پھیرنا
آؤ، زلفِ یار کی باتیں کریں
۔۳۔
تھی کہاں شمع کہ پروانہ ہی آتا کوئی
شہرِ ظلمات میں جگنو بھی نہ چمکا کوئی
چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر
ہائے اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی
آئنہ یوں بھی مجھے دوست نما لگتا ہے
مجھ کو اُس پار نظر آتا ہے مجھ سا کوئی
بارش اتنی تو نہیں تھی کہ ڈبو ہی دیتی
میرے اندر سے امڈ آیا تھا دریا کوئی
کوئی تنہا ہے پہ یادوں میں گھرا بیٹھا ہے
اور بیٹھا ہے سرِ بزم اکیلا کوئی
۔۴۔
راستہ میں بناؤں گا یارو
تم مرے پیچھے پیچھے آ جاؤ
ساتھ چلنے کا رنگ ہو اپنا
تھام کر ہاتھ میرے ساتھ چلو
چال دیکھو کبھی ستاروں کی
حال میں اپنے یوں نہ مست رہو
اپنی پہچان چاہتے ہو میاں؟
آئنے سے مکالمہ کر لو
دوستی یہ نہیں کہ راہ براہ
وہی رسمی سوال: کیسے ہو
وقت کے ہاتھ میں طمنچہ ہے
کون جانے کہاں پہ کھیت رہو
۔۵۔
یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں
کہ خود کو اجنبی لگنے لگا ہوں
یہ تنہائی ہے کیوں میرا مقدر
یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں
سرِ دشتِ تخیل یہ خموشی!
میں اپنی ہی صدا سے ڈر گیا ہوں
تمہاری ذات سے نسبت جو ٹھہری
سو خود کو معتبر لگنے لگا ہوں
کھٹکتا ہوں انہیں تو کیا عجب ہے
تمہارے ساتھ جو بیٹھا ہوا ہوں
گھرا ہوں جانے کب سے دوستوں میں
کسی دشمن کا رستہ دیکھتا ہوں
مروت کا نہ پوچھو یار، مجھ سے
میں اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوں
وہ مجھ جیسا مرا ہمزاد ہو گا
کہ میں کب کا یہاں سے جا چکا ہوں
مجھے کتنے ملے غم دوستوں سے
بتاؤ کوئی، میں بھولا ہوا ہوں

غزلیں: پنجابی
۔۱۔ کچھ نہ بولیں یار، پواڑا مچے گا ( ۱۶ فروری ۲۰۱۷ء)۔
۔۲۔ عمر وہانی، نہ دن چڑھیا، تے نہ مکے جگراتے ( ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔
۔۳۔ بھجدیاں نوں واہنْ سانواں، سانویں سدھی گل اے ( ۱۹؍ فروری ۲۰۱۷ء)۔
۔۱۔
کچھ نہ بولیں یار، پواڑا مچے گا
ہار کسے نہیں مننی گوگا مچے گا
بکل مار کے بیٹھے نوں کیوں چھیڑدے او
بکل کھلی تے پھر ہاسا مچے گا
اسیں جے تیلی جنی گل تے ہسے وی
تیرے دل وچ ڈر دا دیوا مچے گا
بکل والا چور بھجایاں بھجنا نہیں
اینویں چار چوفیرے رولا مچے گا
ویکھ، چواتی نہ لا، آپ وی سڑ جاسیں
بھانبڑ تیرے وسوں بوہتا مچے گا
ساری عمر دا کتیا مٹی ہو جانا
سکی لکڑ چرخہ، ڈاہڈا مچے گا
آسیؔ تیرا کہیا کسے نوں پچنا نہیں
آل دوالے چیک چہاڑا مچے گا
۔۲۔
عمر وہانی، نہ دن چڑھیا، تے نہ مکے جگراتے
خبرے کس نے ساڈے لیکھیں لکھ چھڈے جگراتے
توں کلا نہیں دندِیں پھَسیا، جھاتی مار چوفیرے
سارے پنڈ نوں وڈھی جاندے دھڑکو تے جگراتے
لوکی چڑھے مداریاں دے ہتھ، نچدے ڈانگوں ڈردے
ہڈاں وچوں پیڑ کیہ مکے، نہیں مکدے جگراتے
اچے محلیں پین دھمالاں کھاہدا ہضم نہ ہووے
ساڈی پانڈے آندراں وَڈھ وَڈھ کھاندے پئے جگراتے
لگدا اے جیوں پینڈے پٹے ڈوہنگیاں صدیاں والے
ہجر تیرے وچ اسیں ہنڈائے اوہ لمے جگراتے
تیریاں ٹھنڈیاں ہانواں کنے جگنو مار مکائے
چھڈ اوئے آسیؔ جھورا جھردیاں نہیں ٹلدے جگراتے
۔۳۔
بھجدیاں نوں واہنْ سانواں، سانویں سدھی گل اے
نہیں جے تے نانہہ سہی، ایڈی کیہڑی گل اے
ماڑی موٹی گل اے، یا وڈی ساری گل اے
گل کریں سوچ کے، پہچان تیری، گل اے
گل کیتی کدے کدے پے جاندی گلْ وی
تیری میری گل نہیں ایہ، گل آلے دی گل اے
گلاں گلاں وچ گل کر وی تے جائی دی
بُجھ لوے کوئی تے ایہ ہور چنگی گل اے
سجناں نوں گل نہ وگاہتی کدی مارئیے
مڑ کے جے آن وجے، ہور ماڑی گل اے
ڈاہڈیاں دے نال چل جاندی ڈاہڈی گل وی
ماڑیاں نوں تھاں اتے مار جاندی گل اے
کہندے نیں سیانے پھٹ بھر جاندا ڈانگ دا
کدی نہ اوہ بھردا، جو پھٹ پاندی گل اے
آسیؔ چھڈ یار، کوئی گل کر چج دی
سِدھی جنہوں کہندا ایں، جلیبی جیہی گل اے

نظمیں :پنجابی
۔۱۔ بولْیاں اِٹّاں
۔۲۔ ہاڑا
بولْیاں اِٹّاں
کندھاں دے وی کن ہوندے نیں
پر، اِس نگری وچ میں سُنیا
ایتھے سارِ یاں بولْیاں اِٹاں
کوئی نہیں سنْدا، جو وی کہہ لؤ
چیکاں مارو، ہاڑے پاؤ
چار چوفیرے اکو چپ اے
چپ کر جھلیا، یلھ ولَلیا
تیری کسے نہ سنْنی ایتھے
بھانویں جناں رولا پا لَے
کندھاں دے وی کن ہوندے سنْ
اے پر، اج کل کوئی نہیں ہوندے
ہوون وی تے سنْدے کوئی نہیں
مکدی گل اے، چپ ای چنگی
ایتھے سارِیاں بولْیاں اِٹاں
ہاڑا
سن جوگیا راہوں بھلیا، مڑ گھر نوں پھیرا پا
تیری جوگن پئی اڈیکدی، تکدی پئی سنُجے راہ
میں کُٹھی کَرد پریم دی، میرا سنگھی دے وچہ ساہ
وے نہ مردی نہ میں جیوندی، گئی لمی عمر وہا
میں تتڑی تاڑ تریہہ دی، جیوں مچھی بِن دریا
ساہ ساہ وچ بھانبڑ مچدے، میرے لوں لوں لگی بھا
ہڈ بالن کیتے ہجر نے، اتے جثہ وانگ سواہ
جے سُندا ایں کوکاں میریاں، کوئی اُتر چا پرتا
کوئی گھل سنیہا سکھ دا، کوئی گھل پُرے دی وا
میں راہیں جند وچھا دیاں، کراں تیری آدربھا
سن جوگیا راہواں بھلیا، مڑ گھر نوں پھیرا پا

ایک پوربی گیت
اَگَنیا سَوَنیا کی
برہن کے چِت کو جلاوے
اَرے کون بُجھاوے
منوا کو
برہا کی لپک جھُلساوے
اَرے کون بجھاوے
موہے سمجھ ناہیں آوے
نَینَن کی جوڑی
لیکھَن پھوڑی
چھم چھم نِیر بہاوے
سپنا ساجن کا
سنگ نِیرَن کے بہہ جاوے
اَرے برہن کو سمجھاوے
چین ناہیں پاوے
تو جَل جَل جاوے
لَپکَن برہا کی
اک نِیر کا موتی ٹپکے
اِک لامبو سا بھڑکاوے
اَگَنیا سَوَنیا کی
برہن کے چِت کو جلاوے

فارسی شعر سے پنجابی شعر میں ترجمہ
غزل ۔۔۔ میرزا قتیل
ما را بغمزہ کُشت و قضا را بہانہ ساخت
خود سوی ما ندید و حیا را بہانہ ساخت
زاہد نداشت تابِ جمالِ پری رُخان
کُنجی گرفت و یادِ خدا را بہانہ ساخت
رفتم بمسجدی کہ ببینم جمالِ دوست
دستی بہ رُخ کشید و دعا را بہانہ ساخت
دستی بدوشِ غیر نہاد از رَہِ کرم
ما را چو دید لغزشِ پا را بہانہ ساخت
ترجمہ از محمد یعقوب آسیؔ
سانوں کُٹّھا ناز ادا تھیں، اَتے گھڑیوس پَج قضا
نظراں نہیں آپ ملاوندا اَکھے ڈَکے لاج حیا
ملاں دا جِگرا نہیں سی جھل سکدا حسن جمال
اک نکرے لگ کے بہہ گیا، جیوں پکڑی یاد خدا
اسیں ویکھن سوہنے یار نوں جا اپڑے وچ مسیت
اُس بُک وچ مکھ لکو لیا، جیوں رُجّھا وچ دعا
ہتھ موہڈے رکھ رقیب دے جاندا سی نال پریت
اَتے موچ بہانہ ماریا جدوں سانوں ویکھ لیا

فقط ... محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان: یکم جون ۲۰۱۷ء

*******