لالہ مصری خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
لالہ مصری خان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 27 اگست، 2016

کمہار بیتی





کمہار بیتی

’’آہا! تو استاد چٹکی بھی رونق افروز ہیں!‘‘ لالہ مصری خان نے ہماری نشست گاہ میں داخل ہوتے ہی نعرہ بلند کیا۔ ’’یہ تو اور بھی اچھی بات ہے، مگر تمہارے لئے نہیں!‘‘ اب کے اُن کا روئے سخن ہماری طرف تھا۔ہماری کیفیت اگر بری نہیں تھی تو کچھ ایسی اچھی بھی نہ تھی۔ لالہ اپنی بات کہہ کر صوفے پر ڈھیر ہو چکے تھے۔ ہم نے نگاہوں میں ڈھیر سارے سوالیہ نشان بھر کر اُن کے رُخِ وَردَہ کا جائزہ لیا۔ لگا کہ مزاجِ گرامی سے الف حسبِ معمول غائب ہے اور گرمی باقی ہے۔ ہم انہیں مخاطب کرنے بلکہ ان کے بے رحم تبصرے کا جواب دینے کے لئے الفاظ جمع کر رہے تھے کہ استاد بول پڑے: ’’ہوا کیا ہے مصری خان؟ کیوں لال بھبوکا ہو رہے ہو؟‘‘ استاد کا لہجہ اور الفاظ کی چبھن دونوں ہم آہنگ ہو گئے تھے۔

ہم عتابِ مزید سے بچ جانے کی مسرت بھی پوری طرح حاصل نہیں کر پائے تھے کہ لالہ مصری خان کی دھاڑ سنائی دی: ’’پتہ نہیں آج کل بے وزنے مصحفی اتنے وافر کیوں ہیں! وہ پڑھنے کی چیز تھی ہی نہیں اور جنابِ غالبِ دوراں فرما رہے ہیں کہ یہ غزل ہے‘‘۔ ہماری کچھ ہمت بندھی کہ وقتی طور پر ہم محفوظ ہیں۔ عرض کیا: ’’ہم کیا عرض کریں لالہ؟ ہمیں کیا معلوم کہ آپ کیا پڑھ بیٹھے ہیں‘‘۔ کہنا تو ہم یہ بھی چاہ رہے تھے کہ آپ کا پڑھنے سے تعلق کب سے قائم ہو گیا؛ مگر ہمیں یہ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ لالہ گرجے: ’’دم لو، دم لو! بتاتا ہوں‘‘ اور پھر لالہ نے جو واردات سنائی اور جن الفاظ میں سنائی ان کو ضبطِ تحریر میں لانا اپنے بس میں نہیں، خلاصہ پیش کئے دیتے ہیں۔

ہوا غالباً یہ تھا کہ کسی نو آموز نے اپنی کوئی چیز لالہ مصری خان کو ٹیگ کر دی اور عنوان دیا: ’’میری تازہ غزل‘‘۔ خان لالہ پہلے تو اُس کی بحر کی تلاش میں بحرِ منجمد شمالی سے جنوبی تک کی برف توڑتے رہے، مگر بحر ناپید! پھر وہ قوافی کی طرف متوجہ ہوئے، وہاں بھی مایوسی ہوئی تو مضامین میں جھانکا؛ ادھر بھی انہیں ویرانہ ملا بلکہ ان کے الفاظ میں ’’ایسے بارہ سالہ لڑکے کا عشق، جو عہدِ شیراز میں ہوتا  تو خود معشوق کے رتبے پر فائز ہوتا‘‘۔

لالہ کہہ رہے تھے: ’’ہوا ہی کچھ ایسی چل پڑی ہے۔ جس شعبے میں جو بھی نیا آتا ہے خود کو تیس نہیں ساٹھ مار خان سمجھتا ہے۔ اور اردو غزل؟ اس بے چاری کی تو وہ بے حرمتی ہوتی ہے کہ .... (لالہ کے ناقابلِ اشاعت فرمودات محذوف) .... وہ جسے نہ زبان و بیان کا پتہ ہوتا ہے نہ علامت کا نہ رعایت کا نہ بحور و قوافی کا وہ اپنے دودھ کے دانت اس بے چاری صنف پر تیز کرتا ہے۔ جب اسے یہ زَعم ہو جائے کہ  غزل میں ولی سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں، تو دیگر اصناف شعر کو کچھ ایسے تختۂ مشق بناتا ہے کہ اُن کی مُشکیں کس کے رکھ دیتا ہے۔ جب بڈھا ہونے کو آتا ہے، مضامین اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، قوت متخیلہ بانجھ ہو جاتی ہے، الفاظ پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے تو اسے اپنے عہدِ معشوقی کی محبوبہ غزل پھر یاد آ جاتی ہے۔ ستر بہتر کا ہو کر یہ فیصلہ صادر کر دیتا ہے کہ غزل کا دور نہیں رہا، اور نثر لکھ کر اُسے نظم تسلیم کروانے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے‘‘۔

استاد چٹکی لالہ کی ہر بات پر یوں سر ہلاتے جاتے تھے کہ ہمیں ان کی گردن میں مہروں کا ہونا بھی مشکوک سا لگا۔ تاہم انہوں نے ہم پر نہایت مہربانی فرماتے ہوئے ہمیں زحمتِ سوال سے بچا لیا۔ کہنے لگے: ’’تو، اس میں بدرے کا کیا قصور؟ تم نے کیوں کہا کہ تمہارے لئے اچھی نہیں؟‘‘ لالہ مصری خان نے بلند بانگ قہقہہ لگایا، اور خاموش ہو گئے۔ ہم سے نہ رہا گیا: ’’استاد نے کچھ پوچھا ہے خان لالہ!‘‘ جواب ملا: ’’تم بھی خود کو غزل کا شاعر مانتے ہو۔ مانتے ہو نا؟‘‘ بڑا عجیب سوال تھا، ہم کیا عرض کرتے!۔

اللہ بھلا کرے استاد چٹکی کا، انہوں نے اگرچہ ہمیں  خَرکار قرار دے دیا تھا  تاہم اُن کا انداز اتنا ادبی  تھا کہ خان لالہ پھر سے قہقہہ لگا اٹھے۔ وہ الگ بات کہ  اس  قہقہہ ثانی کا اختتام کچھ کھینچو کھینچو جیسا تھا۔ استاد نے کہا تھا: ’’ڈِگا کھوتے توں، تے وَٹ کمہیار تے‘‘۔

*****
بدرِ احمر ۔۔۔ جمعہ 26؍ اگست 2016ء

بدھ، 15 جون، 2016

نیلا کالا آسمان





نیلا کالا آسمان


بسمل بزمی کے چہرے پر خوف اور پریشانی کے سائے لہراتے دیکھ کر ہمارا فکرمند ہو جانا عین فطری عمل تھا۔ یہ حضرت تو ہر بات کو چٹکی میں اڑا دیا کرتے ہیں، آج کیا ہوا۔ ہمارے استفسار پر کہنے لگے: "مجھے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، اور پھر وہیں مر مُک جاؤں گا۔ میری مدد کرو یار بدرِ احمر۔" پوچھا: پتہ بھی تو چلے آخر کون سا آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔ بولے: "تمہیں پتہ ہے لغویات برداشت کرنا میرے بس میں نہیں۔" یہ کہا اور سوچ کے بحرِ مردار میں ڈوب گئے۔ جیسے بھی بن پڑا ہم انہیں کھینچ کھانچ کے لالہ مصری خان کے ہاں لے گئے۔

خان لالہ کے بارے میں یہ جو کہتے ہیں کہ ان کے سامنے مجسمہء آزادی میں پنہاں عشتار دیوی کی بے لباس روح بھی فرفر بولنے لگے، کچھ ایسا غلط نہیں ہے۔ بزمی صاحب جو وہی اپنا کہا دہرائے جا رہے تھے: "مجھے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، اور پھر وہیں مر مُک جاؤں گا"۔ لالہ کی ایک دھاڑ پر پانی ہو گئے اور لگے گھگیانے، نیلے آسمان، چیتے اور گدھے کی کہانی سنا ڈالی۔ وہ کہانی آپ کو نہیں پتہ؟ چلئے اس کا خلاصہ سن لیجئے۔

گدھا کہتا تھا "آسمان کالا ہے"، چیتا کہتا تھا "نہیں! نیلا ہے"۔ بات بڑھی تو شاہِ بیاباں تک پہنچی، دونوں کی طلبی ہو گئی، مؤقف سنا گیا۔ حکم جاری ہوا کہ "چیتے کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے۔"چیتا پریشان کہ مؤقف بھی میرا درست اور سزا بھی مجھی کو؟ وہ بے وقوف صاف بچ نکلا؟ عرض کیا: "بادشاہ سلامت! ایسا کیوں، کیا میں نے غلط کہا؟" حاکم گَرجا: "نہیں! تو نے سچ کہا اور تجھے سزا سچ کہنے کی نہیں ملی۔ تجھے سزا ملی ہے اس بات کی کہ تو نے گدھے سے بحث کیوں کی؟"

لالہ مصری خان نے کہا تو  کچھ نہیں، چیتے کی سی خشونت بھری نظروں سے بسمل بزمی کو گھورا؛ پھر ان کا بلند بانگ قہقہہ دیر تک فضا میں دھاڑتا رہا۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ خان لالہ کے قہقہے میں ڈھیچوں ڈھیچوں کا تاثر کیوں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدرِ احمر بدھ 15 جون 2016ء

جمعرات، 24 مارچ، 2016

اب کیا ہوا؟





اب کیا ہوا؟


لالہ مصری خان پر حسبِ معمول بے زاری طاری تھی۔ ہم نے رسماً پوچھ لیا کہ اب کیا ہوا۔ وہ تو گویا بھرے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے: "یارا، یہ لوگ غریب محنت کشوں کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کو ذرا خیال نہیں آتا! یارا، تم کسی غریب کی مدد نہیں کر سکتے تو اس کا مذاق تو نہ اڑاؤ!" ہمارے استفسار پر لالہ مصری خان نے یہ چھوٹا سا واقعہ سنایا۔
۔۔۔
ایک پٹھان پھیری والا آتا ہے یہاں، سائیکل پر پھرا کرتا ہے۔ سوکھی روٹیاں، ٹین ڈبہ، کچرا خریدتا ہے۔ چارے چوکر والے کو اور کباڑ والےکو بیچ کر اپنی دیہاڑی کماتا ہے جیسی بھی ہو۔ ابھی کچھ دیر پہلے نوری صاحب نے اس سے پوچھا "سوکھی روٹیاں کس بھاؤ لیتے ہو، اور بیچتے کس بھاؤ ہو"۔
جواب ملا: "بیس روپے کلو لیتا ہوں اور چارے چوکر والے کو پچیس روپے کلو بیچتا ہوں"۔
نوری صاحب نے فتویٰ دیا: "پانچ روپے کلو پیچھے منافع! پانچ کلو کے پیچھے پچیس روپے کماتے ہو۔ یہ تو سود ہے بچے، اتنا منافع!؟"
پھیری والے نے خاصی برداشت کا مظاہرہ کیا: "آپ کیا سمجھتے ہو بابا، پچیس روپے بہت ہے؟"
"ہاں تو، بہت ہے نا! اور ٹین ڈبے سے بھی کچھ تو کماتے ہو گے" یہ کہا اور نوری صاحب گھر کے اندر چلے گئے۔ پھیری والے نے اپنے ساری بیزاری ہم پر انڈیل دی۔ وہ کہہ رہا تھا۔ "اس بابے کو دیکھو! میں گلی گلی پھرتا ہوں، سوکھی روٹیاں، ٹین ڈبا اکٹھا کرتا ہوں۔ سارا دن جان مارتا ہوں۔ اور یہ لوگ! نہ لینا نہ دینا باتیں بناتے ہیں، مجھے کہتا ہے یہ سود ہے"۔ وہ اور بھی بہت کچھ کہتا رہا۔ کسی غریب محنت کش کا مذاق اڑایا جائے گا تو وہ کہے گا ہی۔
ہم نے اس سے کہا: "بات سنو بچے! تم لوگ جو ہو نا، گلی گلی پھر کر رزق ڈھونڈنے والے، تمہیں دل بڑا رکھنا چاہئے۔ یہ باتیں بنانے والے لوگ چھوٹے دل والے ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں کی پروا نہ کیا کرو"۔ اس نے سلام کیا اور سائیکل پر سوار ہو گیا۔
۔۔۔
لالہ مصری خان واقعہ سنا چکے تو ہمیں محسوس ہوا کہ ساری بے زاری ہم پر سوار ہو گئی ہے۔ لالہ ہماری طرف یوں دیکھ رہے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں: اب کیا ہوا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدرِ احمر کے قلم سے



پیر، 4 جنوری، 2016

دور کی کوڑی


دور کی کوڑی


لالہ مصری خان کا چہرہ خلافِ معمول کھلا ہوا تھا۔ ہم نے کچھ تو عالمِ حیرت میں اور کچھ بہ تقاضائے اشتیاق اس نعمتِ غیر مترقبہ کی شانِ نزول دریافت کی تو انہوں بلال میاں سے اپنی ملاقات اور گفتگو کا احوال سنا ڈالا۔ بلال میاں بھی اپنی جگہ فردِ فرید واقع ہوئے ہیں۔ جدت بلکہ جدیدیت کے شوقین ہیں۔ انگریزی شوق سے بولتے ہیں، حسبِ موقع کم اور بے موقع زیادہ۔ بات بات پر اپنے لوگوں کی بود و باش اور معاشرتی اقدار پر نکتہ چینی ان کا محبوب مشغلہ ہے، جب کہ ان کے نزدیک اصلاح کے سارے معیارات کی مدح سرائی ہمیں حضرتِ حالی کی یاد دلا جاتی ہے۔
شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے
وہ لے جا کے سب اہلِ مغرب نے جوڑے

اس سے پہلے کہ بات دور جا نکلے اور یار لوگ ہمیں ’’دقیانوسی، رجعت پسند‘‘ وغیرہ کے القابات سے نوازیں، لالہ مصری خان اور بلال میاں کی گفتگو کا کچھ مذکور ہو جائے۔ بلال میاں کے من میں سمائی کہ اپنے نظامِ تعلیم کو درست کیا جائے۔ بات بھی کچھ ایسی بری نہیں بلکہ بڑی بات ہے کہ قسمتِ نوعِ بشر ہمارے سرکاری اور نجی اسکولوں کی پیشانیوں پر لکھے ایک شعر ہی سے تو تبدیل ہوتی ہے۔ ہمارے خان لالہ کو تو وہ شعر بھی ایک آنکھ نہیں بھایا اور انہوں نے اک مقدس فرض کی تکمیل کے ڈانڈے تذلیل سے جا ملائے۔ مصری خانی متن سے گریز اولیٰ! ہم نہیں چاہتے کہ سکولوں کی طرح ہمارے مہربانوں کی پیشانیوں پر بھی اژدہے لوٹتے دکھائی دینے لگیں۔

بلال میاں کی جو شامت آئی تو براہِ راست خان لالہ سے کہہ بیٹھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ ہمارے نظامِ تعلیم کو مغربی نظام سے ہم آہنگ کیا جائے، وہ لوگ ہم سے آگے نکلے ہیں تو اس کی وجہ تعلیم کا نظام ہے، اور ان کے بچے ابتدا ہی سے انگریزی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں‘‘۔ لاٹ صاحب کے ہندوستانی نظامِ تعلیم کی بات چھیڑنا دوستوں کو بے فائدہ رنجیدہ کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ لاٹ صاحب یہاں بس کلرک اور غلام پیدا کرنا چاہ رہے تھے۔ وہ تو جو چاہ رہے تھے کر گزرے مگر ہمارے پالیسی سازوں کے سر تال کو نہ جانے کیا ہوا کہ ستر سال ہونے کو آئے اس لے میں کوئی تبدیلی نہیں کر پائے۔ بلکہ معاملہ تیز ترک گام زن والا ہے کہ انگریزی کے غم میں ہم ان سے زیادہ ہلکان ہو رہے ہیں۔

بلال میاں کی حیرت کی انتہا نہیں رہی ہو گی جب لالہ مصری خان نے کہا: ’’کیوں نہیں! ضرور ہونا چاہئے بلکہ خشتِ اول سے ہونا چاہئے‘‘۔ ہاں انہوں نے بعد میں جو کچھ کہا اس سے بلال میاں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بڑے بوڑھوں سے سنا کہ ایک وزیرِ با تدبیر ایسے بھی ہو گزرے ہیں جو جملہ دستاویزات پر بکمالِ شفقت انگوٹھا ثبت فرمایا کرتے تھے۔ ویسے بھی، دایاں ہو یا بایاں، انگوٹھا تو انگوٹھا ہوتا ہے؛ اور ہوتا بھی کسی طاقتور کا ہے، کسی ماڑے موٹے کا تو ٹینٹوا ہی ہو سکتا ہے۔ یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ انگوٹھا لگاتے یا دباتے وقت ان کے سامنے ٹینٹوا کس کا ہوتا ہو گا۔ 

لالہ مصری خان کا اگلا ارشاد تھا: ’’بھائی! پہلی کچی سے بچوں کو سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتو میں پڑھائیے اور چوتھی پانچویں سے اردو متعارف کرائیے، پھر آگے اردو میں چلئے اور اعلیٰ جماعتوں میں انگریزی بھی پڑھائیے، عربی بھی‘‘۔ بلال میاں کے ذہن میں تو وہی بات تھی انگریزی میں ابتدائی تعلیم دینے کی، کہ ترقی کا جن انگریزی میں مقید ہے۔اور ان کا مؤقف یہ بھی تھا کہ اردو بانجھ ہے، مقامی زبانیں ان پڑھ ہونے کی دلیل ہیں؛ وغیرہ۔ گھڑوں پانی والی بات لالہ نے یہ کہی: ’’میاں صاحب زادے! فرانس والے اپنے چھوٹے بچوں کو فرانسیسی پڑھاتے ہیں، جرمنی والے جرمن پڑھاتے ہیں، روس اور چین والے علاقائی زبانوں میں پڑھاتے ہیں؛ تمہیں اپنی مقامی اور قومی زبان سے کد کیوں ہے! مغرب والوں کا طریقہ بھی تو یہی ہے‘‘۔ خان لالہ نے اتنا سا تو نہیں کہا ہو گا نا، بہت کچھ کہا ہو گا جس کا ہمیں کچھ کچھ اندازہ پہلے بھی تھا، اور کچھ ان کے چہرے پر بحال ہوتے تناؤ سے بھی ہو رہا تھا۔

ہماری سوچوں میں ایک طوفان برپا تھا مگر ہم لالہ مصری خان سے کچھ بھی نہیں کہہ سکے۔ سو، اب خودکلامیوں پر گزران ہے اور خود سے پوچھا کرتے ہیں کہ: (۱) ہمارے طبقہ اشرافیہ میں مغرب کتنا ہے اور مشرق کتنا ہے، (۲) جب وہ بہم ہوتے ہیں تو کس زبان میں بات کرتے ہیں، (۳) ترقی سے ہماری کیا مراد ہے اور کیا ہونی چاہئے، (۴) علم کس چڑیا کا نام ہے؛ وغیرہ وغیرہ۔

*******
محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ سوموار: ۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء

اتوار، 1 نومبر، 2015

بے چارہ (7)۔

 
بے چارہ (7)


سرِ راہ ملاقات ہو گئی، علیک سلیک کے بعد فرمانے لگے: ’’کیسے ہو؟‘‘
عرض کیا: ’’خدا کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے خداوندِ دو عالم کے کرم سے، آپ کیسے ہیں؟‘‘ 
فرمانے لگے: ’’اللہ کا شکر ہے ... اور ہاں، یہ تم نے کیا کہا؟ ’خدا‘ کا شکر ہے؟ تمہیں پتہ ہے؟ خدا نہیں کہتے، اللہ کہتے ہیں‘‘۔
عرض کیا: ’’خدا سے میری مراد ظاہر ہے ’اللہ‘ ہی ہے، میں مجوسی بھی تو نہیں جو آپ کو میرا لفظ ’خدا‘ بولنا اتنا کھٹکا ہے‘‘۔
ارشاد ہوا: ’’جب تمہارے پاس لفظ ’اللہ‘ موجود ہے، تو پھر ’خدا‘ کہنے کا کیا جواز ہے؟ فارسی مجوسیوں کی زبان ہے، تم مجوسی نہ ہو کر ان کی زبان بول رہے ہو! اور وہ بھی ’اللہ‘ کی شان میں! لا حول ولا قوۃ الا باللہ، کیا زمانہ آ گیا ہے! کسی کو کام کی بات بتائیں تو ناک چڑھاتا ہے‘‘۔ 
ہماری طبیعت تو خاصی مکدر ہوئی، تاہم یہ مکالمہ چونکہ ہمارے صدر دروازے پر ہو رہا تھا، سو ہم نے خوش اخلاقی کو خود پر لازم رکھتے ہوئے کہا: ’’چھوڑئیے! آپ کن چکروں میں پڑ گئے۔ آئیے، آپ کو چائے پلاتے ہیں‘‘۔
کہنے لگے: ’’نہیں، میرا روزہ ہے، اور نماز کا وقت بھی ہو رہا ہے، میں چلوں گا۔ ’خدا‘ اور ’اللہ‘ کے فرق پر پھر بات ہو گی‘‘۔
وہ جانے لگے تو ہم نے روک لیا: ’’تو آپ نماز پڑھتے ہیں؟‘‘۔ جواب ملا: ’’ہاں، کیوں؟ تم نہیں پڑھتے؟‘‘۔
عرض کیا: ’’حضور! نماز تو وہ ہے جو مجوسی پڑھتے ہیں، اور ... ’روزہ‘ نام کی کسی عبادت کا نہ قرآن شریف میں ذکر ہے اور نہ کسی حدیث میں۔ یہ آپ نے کہاں سے لے لی؟‘‘ ۔
بہ آوازِ بلند ’لاحول‘ کا مکرر ورد کرتے ہوئے انہوں نے دو تین بار ’استغفراللہ‘ کہا اور بولے: ’’کیا کفر بک رہے ہو؟ میں بھی مجوسی تو نہیں جو تمہیں میرا ’نماز‘ کہنا اتنا برا لگا ہے۔ اور کیا کہتے ہیں نماز روزے کو؟ نماز، روزہ ہی تو کہتے ہیں!‘‘۔
عرض کیا: ’’آپ ہی کا فرمان آپ کو یاد دلایا ہے کہ جب آپ کے پاس لفظ ’صوم و صلوٰۃ‘ موجود ہے تو نماز روزہ کہنے کا کیا جواز ہے؟‘‘۔ وہ ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے، مگر ہم نے بات جاری رکھی: ’’حضور والا! اللہ کریم بھی جانتا تھا اور جانتا ہے کہ دینِ اسلام کسی ایک محدود علاقے کے لئے نہیں پورے کرہء ارض کے لئے ہے۔ اور اللہ کریم یہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں ...‘‘۔
وہ پھٹ پڑے: ’’تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟ اب تم یہ کہو گے کہ ہمیں نماز پڑھنی بھی اپنی اپنی زبان میں چاہئے عربی ہی کیوں؟ ہے نا؟‘‘۔
عرض کیا: ’’نماز نہیں حضرت! صلوٰۃ! اور وہ بالکل اس طرح جیسے نبی کریم نے فرمایا: صلُّوا کما رئیتمونی اُصَلّی۔ اگر لفظ نماز سے آپ کی مراد وہی نماز ہے تو نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر مجوسیوں والی نماز ہے تو وہ نہ میں پڑھتا ہوں نہ آپ۔ خاطر جمع رکھئے اور جائیے کہ’ آپ کی مسجد‘ میں نماز کا وقت ہو چلا ہے‘‘۔ وہ پھٹ پڑے: ’’اب یہ کیا بک رہے ہو!‘‘۔ 
عرض کیا: ’’جناب! یہ بھی آپ کا ارشاد ہے، پرسوں جب میں نے کہا کہ اذان ہو رہی ہے توآپ نے فرمایا تھا: ’یہ ہماری مسجد کی اذان نہیں ہے‘ ۔ فرمایا تھا، نا؟‘‘۔
انہوں نے ہمیں یوں گھورا جیسے کچا چبا جانے کا ارادہ ہو، اور سلام کہے بغیر چلے گئے۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ اتوار ۔ یکم نومبر ۲۰۱۵ء

بے چارہ (6)۔


بے چارہ (6)




’’بیٹا پیدا ہوا تھا، ماموں جی! تھوڑی دیر بعد فوت ہو گیا‘‘ فون پرداماد کی غم میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری۔ 

لالہ مصری خان بیگم سمیت بیٹی کے گھر پہنچے، بچوں کو دلاسا دیا، نومولود کی میت کو غسل دیا، کفن پہنایا،  بیٹے کو بھیجا کہ قبر کھدوائے۔ بیٹی اور داماد سے کچھ مشاورت کی اور جنازے کی نماز کا وقت طے کر لیا۔ محلہ داروں، دوستوں اور قریبی عزیزوں کو خبر کر دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ جو سہولت سے پہنچ سکے پہنچ جائے۔ مولوی صاحب کو بھی اطلاع دے دی، انہوں نے کہا میں پہنچ جاؤں گا۔

اعلان کے مطابق نماز کا وقت ہو گیا، مولوی صاحب نہیں پہنچے تھے۔ کوئی پانچ منٹ اوپر ہوئے ہوں گے کہ حاضرین سے ایک ’’مولانا‘‘ لالہ مصری خان کے پاس آئے اور فرمانے لگے: ’’آپ کے مولوی صاحب تو نہیں آئے، ہم جنازہ پڑھا دیں؟‘‘ لالہ نے کہا: ’’ذرا سا انتظار اور کر لیتے ہیں۔‘‘ مولانا گویا ہوئے: ’’پتہ نہیں کتنا انتظار کرنا پڑے!‘‘ لوگوں کی توجہ ان کی گفتگو پر لگی تھی۔ لالہ خاموش رہے مگر ان کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر مولانا  صاحب ادھر ادھر ہو گئے۔ 

لالہ مصری خان نے وہاں موجود لوگوں کو ، جو پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے، متوجہ کیا اور بلند آواز میں بولے: ’’دوستو! میں مولوی صاحب کا انتظار صرف اس لئے کر رہا  ہوں کہ انہیں نماز پڑھانے کا کہہ چکا ہوں۔ وہ آتے ہوں گے، کوئی مسئلہ ہوتا، تو مجھے ضرور بتاتے۔ پھر بھی ہم زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔ چند منٹ اور دیکھ لیتے ہیں، وہ نہیں آتے تو نماز میں خود پڑھاؤں گا۔ جو دوست بہت جلدی میں ہیں انہیں اجازت ہے!‘‘ اتنے میں مولوی صاحب کی موٹر سائیکل سڑک سے اتر کر آتی دکھائی  دی۔

نماز ہو چکی تو ہم نے دیکھا کہ ’’مولانا‘‘ صاحب وہاں نہیں تھے۔ 


محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء

جمعہ، 17 جولائی، 2015

بے چارہ (5)

بے چارہ (5)


اماں جی کئی دَہائیوں سے شوگر جیسی گھُنی بیماری میں مبتلا تھیں۔ بہتیرا علاج بھی کیا، پرہیز بھی اور دوا دارو کے ساتھ دم دردو بھی۔میاں جی خود دل کے مریض ہونے کے باوجود اماں جی کو لئے کبھی اِس ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں کبھی اُس ہسپتال میں، کبھی اِس مستجاب الدعوات بزرگ کے ہاں سراپا نیاز ہیں تو کبھی اُس مزار پرشیرینی بانٹ رہے ہیں۔غرض جو کچھ بن پڑا سو کیا مگر اماں جی کی طبیعت سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ایک دن لیٹے لیٹے بے ہوش ہو گئیں۔ بھاگم بھاگ  ہسپتال پہنچے، اماں جی کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں پہنچا دیا گیا، گیس ماسک، ڈرپ، دھڑکن، سانس، بلڈ پریشر ناپنے کے خود کار آلے سب کچھ لگ گیا۔ مگر اماں جی کے ،میاں جی کے اور چھوٹے استاد کے نصیب میں جو لکھا تھا ہو کر رہا، ساری ڈیجیٹل سکرینیں صفر پر رک گئیں اور دھڑکن کی لکیر سیدھی ہو گئی۔

’’اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی‘‘ نظیر اکبر آبادی کی نظم ’’آدمی نامہ‘‘ کے مناظر بارے پھر دیکھے گئے ۔ جنازہ کھلے میدان میں پہنچ گیا تو ایک بات کچھ ’’خلافِ توقع‘‘ ہو گئی۔ چھوٹے استاد نے اپنی والدہ کی نماز خود پڑھانی چاہی۔ اور تو اور بڑے استاد جی بھونچکا رہ گئے: میاں کیا کرتے ہو؟ پہلے یہاں ایسا کب ہوا؟ کسی علامہ کا بھی کوئی قریبی فوت ہوا تو نماز کسی اور نے پڑھائی حالانکہ علامہ صاحب کئیوں کی نمازیں پڑھا چکے تھے۔ چھوٹے استاد کا کہنا بھی ٹھیک تھا کہ ماں کی نماز میں کیوں نہیں پڑھا سکتا! اس پر بڑے استاد جی نے دیکھا کہ کوئی حیلہ نہیں چلے گا تو چار و ناچار مان گئے۔


صفیں سیدھی ہوئیں، تو لوگوں کو پھر وہی بھولا ہوا سبق یاد دلایا گیا کہ اس میں چار تکبیریں ہوتی ہیں، ان کے درمیان یہ کچھ پڑھا جاتا ہے، چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرتے ہیں۔ یار لوگوں نے بھی غور سے سنا کہ اگلے دس منٹ تک یاد رہ جائے؛ ہمیں کون سا مرنا ہے! یہ تو اماں جی کو مرنا تھا سو مر گئیں، یہاں سے فراغت ہو تو جا کر اپنے کریانہ سٹور، کلینک، وڈیو شاپ، سویٹ ہاؤس کھولیں گاہکی کا وقت ہے۔


کرنا خدا کا یوں ہوا کہ فطرت اپنی قوت دکھا گئی۔ ماں کے مرنے کا دکھ کسے نہیں ہوگا! سامنے ماں کی میت پڑی ہے، پیچھے بوڑھے میاں جی اپنی سانسوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے دائیں بائیں بھائی کھڑے ہیں۔ چھوٹے استاد نے سلام پھیرا تو آواز بھرا گئی۔ 
’’نماز فاسد ہو گئی!‘‘ یہ نعرہ بڑے استاد جی نے لگایا تھا۔ 
’’فاسد کیوں کر ہو گئی حضرت؟‘‘ کسی نے پوچھ ہی لیا۔
’’امام کو رونا نہیں آنا چاہئے! امام رو دیا تو نماز جاتی رہی‘‘ 
’’حضور، یہ کیا فرما رہے ہیں؟ نماز میں رونا تو انبیائے کرام کی سنت ہے‘‘ 
’’ہم جنازے کی بات کر رہے ہیں، دوسری نمازوں کی نہیں‘‘
’’حضور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے فوت ہو ئے تو .......‘‘ 
’’استاد کی زبان پکڑتے ہو، ناہنجار!‘‘ ایک بہت بڑے استاد جی بولے، اورچھوٹے استاد جی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ’’جنازہ پھر پڑھاؤ! بلکہ بہتر ہے کہ ہم پڑھا دیں، تم پھر رو دو گے!‘‘





محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۲۰۱۵ء


بدھ، 15 جولائی، 2015

بے چارہ (4)۔

بے چارہ (4

یہ بھی ہے اظہار کی صورت
ہونٹ ہلیں آواز نہ آئے
شعر کی حد تک تو بات جو ہے سو ہے، مگر ہونٹ ہلیں لالہ مصری خان کے اور آواز نہ آئے؟ بات سمجھ میں آنے والی نہیں تھی۔ ہم رہ نہیں سکے، پوچھا کیا ہوا؟تو وہ کچھ بجھے بجھے سے دکھائی دینے لگے۔ ہم نے پھر پوچھا تو خاصی دھیمی آواز میں گویا ہوئے: ’’میں نے بچوں کو مِدّی میاں کے گھر سے اٹھوا لیا ہے‘‘۔ ہمیں بہت حیرانی ہوئی، کہ لالہ تو بہت خوش ہوا کرتے تھے، یہ یکا یک کیا ہو گیا!۔ 

مِدّی میاں ہمارے ایک محلے دار کی عرفیت ہے ۔پورا نام ان کا بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا؛ کوئی فون پر بھی ان سے پوچھ لے کہ ’کون بول رہا ہے‘ تو کہتے ہیں’مِدّی میاں بول رہا ہوں۔ مدی میاں کی بیٹیاں درسِ نظامی سے فارغ التحصیل ہیں، دونوں کی قرأت و تجوید کی تعریف سنی تو خان لالہ نے ان سے بات کی کہ بچیوں سے کہو میرے دونوں چھوٹے بچوں کو قرآن شریف پڑھا دیں۔ مدی میاں نے کہا: بھئی ہم تو ٹیوشن فیس لیتے ہیں۔ لالہ نے بہ رضا و رغبت  ایک ہزار روپے دے دئے اور بچے مدی میاں کے ہاں جانے لگے۔ دو مہینے میں بچوں نے کچا قاعدہ، نورانی قاعدہ اور یسرناالقرآن پڑھ لئے۔ لالہ بہت خوش تھے کہ بچوں کی شین قاف بھی درست ہو گئی ہے، اعراب، رموزِ اوقاف اور دیگر عناصر میں بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ وقتاً فوقتاً ہمیں بتاتے رہتے، اور اس وقت لالہ کے چہرے پر مسرت کی دمک قابلِ دید ہوتی۔

’’ ایک دم ایسا کیا ہو گیا،خان جی؟ آپ تو بہت خوش تھے۔‘‘ لالہ مصری خان نے ایک گہری سانس لی (جو سانس سے زیادہ آہ کہلانے کی مستحق ہے) اور کہنے لگے: ’’بس یار! بات پیسوں کی نہیں، بات قاعدے کی ہے۔ مدی میاں اور ان کی بچیوں کی سوچ کھلی تو بچوں کو اٹھوا لیا ہے۔‘‘ لالہ نے بات جاری رکھی:

’’ پرسوں بچوں نے بتایا کہ کل سے پہلا سیپارہ لے کر جانا ہے۔ میں بازار گیا اور تلاش کر کے ترجمے والے سیپارے لایا کہ چلئے معانی کی باضابطہ تعلیم نہ سہی، سبق پرھتے میں معانی دیکھتے رہنے سے انسیت پیدا ہو گی اور ہولے ہولے تفہیم بھی ہونے لگے گی۔ کل بچے سیپارے لے کر گئے تو انہیں کہا گیا کہ بغیر ترجمے والے لے کر آؤ پھر سبق پڑھائیں گے۔ بچے گھر آ گئے میرے لئے یہ مطالبہ حیران کن سے زیادہ تکلیف دہ تھا، بات سمجھ میں آنے والی نہیں تھی۔ گھر والی کو بھیجا کہ پتہ تو کرو اصل بات کیا ہے۔ اس نے آ کے بتایا کہ بچوں نے بالکل ٹھیک بتایا ہے انہیں کہا گیا تھا کہ ’بغیر ترجمے والے لے کر آؤ پھر سبق پڑھائیں گے۔ ‘ بھئی اس کی کوئی تُک؟ مجھے تو انہوں نے اسی طرح کہا ہے، آپ اُن کے باپ سے بات کریں؛ مشورہ صائب تھا۔ کل میں مدی میاں سے ملا تو اُن کا مؤقف بھی یہی تھا کہ جی بغیر ترجمے والے لاؤ۔ پوچھا کہ حضرت آپ نہیں چاہتے ؟کہ بچے کتاب اللہ کا علم حاصل کریں؟ یا آپ چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کو پڑھ کر بھی اس سے مفاہیم و مطالب سے محروم رہیں؟ کہنے لگے نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا: چلئے آپ ترجمہ نہیں پڑھاتے نہ پڑھائیں، بچے خود پڑھتے ہیں تو انہیں پڑھنے دیں ۔ انہیں سیپاروں پر سبق جاری رکھیں۔ مگر مِدّی میاں تو گویا ضِدّی میاں بن گئے۔ نہیں جی! سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر بچوں کو قرآن شریف پڑھانا تو ان کو بغیر ترجمے والے سیپارے لے کر دیں۔ سو، میں نے بچوں کو اٹھوا لیا۔‘‘ خان لالہ کی بات ختم ہوئی ، ہم نے دیکھا ان کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ 

ہم تو اُن کے چہرے پر برہمی کی بجلیاں دیکھنے اور گرج کڑک سننے کے عادی ہو چکے تھے، ان کی آنکھوں میں پھیلی دھند ہمارے لئے خاصی پریشان کن تھی۔ پوچھا: ’’اب؟ بچوں کو قرأت و تجوید کے ساتھ قرآن نہیں پڑھائیں گے کیا؟‘‘

’’کیوں نہیں پڑھاؤں گا!‘‘ لالہ کی دھاڑ کچھ بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ ’’میں نے تو سہولت دیکھی تھی کہ بچے چھوٹے ہیں، گھر نزدیک ہے، فکرمندی نہیں ہوتی، قاری مطیع الرحمان والی مسجد ذرا ہٹ کے ہے ۔ میں نے انہیں قرآن پڑھاتے دیکھا ہے، معانی چھَپائی میں نہیں بھی ہوتے تو وہ آسان آسان بیان کرتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں: ’اگلے سیپارے سے ہم ترجمہ بھی ساتھ ساتھ پڑھیں گے‘۔ میری اُن سے بات ہو گئی ہے، کہنے لگے: ’لالہ ! جو پیسے مجھے دینے ہیں وہ مسجد کو دیں، اللہ برکت دے گا‘۔ سو، آج بچے مسجد گئے ہوئے ہیں۔ میں تو عصر کی نماز پڑھ کے چلا آیا۔‘‘ لالہ مصری خان اپنی بات مکمل کر چکے تو اُن کے چہرے پر اطمینان جھلک رہا تھا۔

تاہم ایک سوال ہنوز جواب طلب ہے۔ قرآن شریف پڑھانے والوں کا ایک خاص طبقہ ایسا کیوں چاہتا ہے کہ لوگ اس کتاب کی صرف عبارت پڑھ سکیں؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ اللہ کریم کے اس ابدی پیغام کی تفہیم بھی ہو؟ اس میں کس کا مفاد ہے؟ اور کیا؟ 

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ بدھ ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۵ء


اتوار، 5 جولائی، 2015

تینوں اِک اَلِف درکار

تینوں اِک اَلِف درکار


’’کیا بک رہے ہو، بدرُو!!‘‘ لالہ مصری خان کی دھاڑ ہمارے لئے قطعی طور پر غیر متوقع تھی۔ مزید پریشانی ہمیں اُن کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھ کر ہوئی، وہ کہہ رہے تھے: ’’تمہیں پتہ بھی ہے؟ کہ تم کہہ کیا رہے ہو!!!‘‘

ہم نے تو یوں ہی سرسری انداز میں بات کی تھی کہ: ’خاکوانی میاں ہم سے یا ہماری علمیت سے دبتے ہیں‘۔ ہمارے لہجے میں البتہ سرخوشی کی لہر ضرور تھی۔ دیکھئے نا، کوئی آپ سے مرعوب ہو تو ایک انجانا سا سرور تو ہوتا ہے۔ اس پر لالہ جی کا یوں آگ بگولا ہونا ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ ہمارے پاس سوائے چند الٹے سیدھے لفظوں کے اور ایسی کوئی شے تو ہے نہیں (اور اچھا ہی ہے کہ نہیں ہے) جس کے بل پر ہم کسی پر رعب جھاڑ سکیں۔ نہ پاؤ کروڑ کی کار، نہ ہزار گز کا شاہانہ بنگلہ، نہ مل، نہ جاگیر، نہ نوکروں چاکروں کی فوج، نہ جیالے، نہ متوالے۔ ایک یہ دو حرف ہی تو ہیں اپنے پاس! اور خان لالہ اس پر بھی تین حرف بھیج چکے؟!۔

ڈرتے ڈرتے عرض کیا: ’’لالہ جی! ہم نے کون سا کسی امارت وزارت کا رعب ڈالا ہے، علم کا رعب ایسا برا بھی نہیں کہ ...‘‘ ۔ خان لالہ کا دایاں ہاتھ فضا میں بلند ہوا، ہم سمجھے کہ آیا ایک جھانبڑ بھی۔ جھانبڑ تو خیر نہیں پڑا، ایک اور دھاڑ سنائی دی جو پہلی سے کہیں زیادہ بلند اور تلخ تھی: ’’نائیں! تمہیں کچھ علم نہیں ہے! جاہل ہو تم، گنوار ہو!‘‘۔ یہ کہا اور صوفے پر یوں ڈھے گئے جیسے ہزار میٹر کی دوڑ ہار کر آئے ہوں۔ کچھ گہری سانسیں لیں اور بے دم سا ہو کر آنکھیں موند لیں، چند منٹ کی خاموشی کے بعد بولے: ’’سنو! بدرِ احمر!‘‘ہمیں لالہ کی آواز کسی کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔ اُن کا چہرہ جو ابھی کچھ دیر پہلے غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا، وہ بھی اتر چکا تھا، لہجہ اور الفاظ دونوں گویا زخمی ہو چکے تھے، وہ کہہ رہے تھے: ’’کاش تمہیں کچھ علم ہوتا! تمہیں علم ہوتا کہ ... علم دوسروں کو مرعوب کرنے کے لئے نہیں ہوتا، برخوردار! علم انکسار سکھاتا ہے، تکبر نہیں ... علم حِلم ہے اور عالم کو تو حلیم الطبع ہونا چاہئے! کیسے عالم ہو تم؟ کہ چاہتے ہو دوسرے تم سے ڈریں، خوف کھائیں؟ مرعوب ہوں! اس سے تو کہیں بہتر تھا کہ تمہیں کچھ بھی علم نہ ہوتا‘‘۔ لالہ جی اور بھی بہت کچھ کہتے رہے مگر ہمارے سنسناتے ہوئے کانوں میں لفظ نہیں اتر رہے تھے، صرف کرب اتر رہا تھا۔ اپنی بے وقعتی کا کرب، اپنا تنک سا ظرف کہ ایک حرف سے لبریز ہو گیا! اور دوسرا طغیانی بن گیا!؟ ’’کتنے چھوٹے ہو تم! بدرِ احمر!‘‘ یہ خان لالہ کی نہیں، ہماری اپنی آواز تھی۔

ہم نے بمشکل سر اٹھایا۔ سامنے صوفے پر دھُند سی پھیلی ہوئی تھی اور اس میں ایک چہرہ بھیگ رہا تھا۔ دھند چھٹی تو ہمیں وہ چہرہ جگمگاتا ہوا لگا۔ لالہ مصری خان کے ہونٹ، آنکھیں اور گال تو کیا، کانوں کی لَویں تک مسکرا رہی تھیں۔ ہمیں اپنے گالوں پر سرکتے قطروں کا احساس ہوا تو ہم نے لالہ کی آنکھوں میں دھند سی اتری دیکھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے، ہمارے قریب آئے، ہمارے چہرے کو اپنے مضبوط چوڑے چکلے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولے: ’’مجھے معاف کر دینا، میرے چھوٹے بھائی! غصے نے مجھے بے قابو کر دیا تھا، میں پتہ نہیں کیا کچھ کہہ گیا۔ ہاں، ایک بات جو تمہارے علم میں ہو گی، یاد دلا دوں ... عالم وہ ہے جس کے آگے لوگ اپنے دل چیر کر رکھ دیں، کجا آں کہ اسے دیکھ کر دبکتے پھریں‘‘۔ لالہ جی کے لہجے کا ٹھہراؤ اور احساس کا نشتر اتنا گہرا تھا، کہ ہمیں اپنی انا چِرتی ہوئی محسوس ہوئی، ایک ایک لمحہ جانئے ایک ایک صدی بن گیا۔

نہ جانے کب! وہ کیفیت فرو ہوئی تو پتہ چلا کہ ہم اکیلے ہیں۔ لالہ مصری خان اگر وہاں تھے بھی تو کب کے جا چکے تھے۔

بدرِ احمر کے قلم سے ... بدھ ۱۸؍ فروری ۲۰۱۵ء


بے چارہ (3) ۔

بے چارہ (3)

یوں تو اُس کی چال میں بھی لڑکھڑاہٹ تھی، اس نے دو کی بجائے چار برس کی عمر میں چلنا سیکھا تھا وہ بھی جھولتے جھالتے۔ مگر زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ بچہ ٹھیک طور پر بول نہیں سکتا تھا۔ بچے کے کتنے ہی ٹیسٹ ہوئے، آنکھیں کان گلا سب ٹھیک تھے۔ ڈاکٹر کہتے تھے اس کے اعضاء درست ہیں مسئلہ اعصاب کے ساتھ ہے۔  سیروں کے حساب سے سیرپ اور دوائیاں اس کے پیٹ میں اتاری جا چکی تھیں؛ ٹیکوں کے نشانات سے سارا جسم بھرا پڑا تھا۔

لاڈلے میاں کے والد کو ایم ڈی صاحب کا شوفر ہونے کے ناطے جائز کے ساتھ ساتھ دیگر نوع کی مراعات بھی حاصل ہیں جن کے استعمال میں اس نے ہمیشہ فراخ دلی سے کام لیا ہے۔ سپیشل سکول نہ تو ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ان کی فیسیں ادا کرنا ہما شما کے بس میں ہوتا ہے۔ ایسے اداروں میں بچوں کے دیگر ہوش ربا اخراجات کے لئے بھی معقول اور مستقل ذرائع درکار ہوتے ہیں جب کہ خود ساختہ مراعات کی عمر قلیل اور غیر یقینی ہوا کرتی ہے۔

عام سکول میں لاڈلے میاں کو داخلہ دلوانا جنابِ شوفر کے شایانِ شان نہیں تھا۔ سو، اسے ایک اقامتی دینی مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ اور کچھ نہیں تو مولوی تو بن ہی جائے گا، نا!مسیں بھیگنے تک وہ خاصا چالاک ہو چکا تھا۔ اس کی زبان اور قدم دونوں ہنوز لڑکھڑاتے تھے مگر اسے اس کی چنداں پروا نہیں تھی۔ اس کی تربیت بھی ہزاروں ایسے بچوں کی نہج پر ہوئی تھی جنہیں سوچنے کی اجازت نہیں ہوتی؛ انہیں بڑے استاد جی جو کچھ بتا دیں اس پر مکمل ایمان لانا ہوتا ہے۔ بڑے استاد جی کی تربیت بھی تو ایسے ہی ایک مدرسے میں ہوئی تھی اور وہی نسل در نسل منتقل ہوتی اس تک پہنچی تھی۔

وہ اذان بھی کہا کرتا، اقامت بھی اور نعتیں بھی۔ موقع بموقع اعلانات بھی وہی کرتا۔ اہلِ محلہ نے بڑے استاد جی سے مکرر درخواست کی کہ لاڈلے میاں کے الفاظ سننے والوں کی سمجھ میں نہیں آتے، اعلانات کسی اور کے ذمے لگا دیں۔ جواب ملا:’’ ہماری سمجھ میں تو آتے ہیں!‘‘

لالہ مصری خان کے بقول لاڈلے میاں مطبخ کے انچارج ہیں اور خوب صحت مند ہیں۔ متعدد انواع کی راتوں اور عیدوں کے مواقع پر لذات کام و دہن کا انتظام و انصرام انہیں کے ذمے ہوتا ہے۔ بڑے استاد جی کی آشیرواد حاصل کرنے میں جہاں جہاں لاڈلے میاں طباقوں سے کام لیتے ہیں وہیں کچھ ایسے ذرائع سے کام لینے میں بھی ماہر ہیں جن کا ذکر کرنے کی قلم اجازت نہیں دیتا۔

تازہ خبر یہ ہے کہ لاڈلے میاں کو مدرسے کے نصاب میں غیر اعلانیہ طور پر شامل ایک کتاب میں سے درس دینے کا سلسلہ بھی تفویض کر دیا گیا ہے۔ کسی منہ پھٹ بدتمیز کی اس ہرزہ سرائی پر  کہ موصوف کے ارشادات کو سمجھنا  عام انسانی کانوں کے بس کا روگ نہیں؛ بڑے استاد جی نے فرما دیا: ’’سہولت اس میں یہ بھی ہے کہ کتاب کے متن میں نثر کم اور ابیات زیادہ ہیں، بنا بریں عقائد و نظریات کی تدوین بہتر انداز میں ہو سکتی ہے۔ رہا بولنے کا مسئلہ،  تو وہ  اس  بے چارے کی طبعی مجبوری ہے، اس پر تنقید سے گریز کیا جائے۔‘‘ خان لالہ شدت سے اس دن کے منتظر ہیں جس دن لاڈلے میاں خطیب کی اور پھر بڑے استاد جی کی مسند پر رونق افروز ہوں گے۔



بدرِ احمر کے قلم سے: اتوار ۵؍ جولائی ۲۰۱۵ء

جمعہ، 3 جولائی، 2015

بے چارہ ۔(2)۔

 
بے چارہ (2)

کالے رنگ کی ریشمی چادر پر سنہری، نقرئی اور دیگر شوخ رنگ کے دھاگوں سے بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔ ان کے بیچوں بیچ کلمۂ شہادت، آیت الکرسی، اور دیگر کلمات عمدہ اور منقش خطوط  میں کشیدہ کئے ہوئے  تھے۔ مخصوص طرز کی ایک چارپائی پر چادر اس سلیقے سے رکھی تھی کہ اس پر  لکھا قرآن شریف کی آیت کا جزو ’’کُلُّ نفسٍ ذائقَۃ المَوت‘‘ قبلہ کی طرف بھی رہے، اور جنازے میں آئے ہوئے لوگوں سے ہر ایک کی نظر میں بھی نہ آئے۔ بڑے خواجہ صاحب تو اپنی زندگی گزار گئے تھے، اب ہر ایک کو اُس کی موت یاد دلا کر کیا فکرمند کرنا!
خواجہ صاحب کا نام جو مدت ہوئی محلے داروں کے ذہن سے محو ہو چکا تھا؛ صبح سویرے مسجد کے سپیکر پر اس اعلان کے طور پر پکارا گیا کہ وہ اِس دارِفنا سے کُوچ کر چکے ہیں، ہما شما ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ’’کَون خواجہ خیر دین یار؟‘‘ کسی نے جواب میں بڑے خواجہ صاحب کہا تو لوگوں کا ہجوم ’’خواجوں کی حویلی‘‘ پر پِل پڑا۔ اس میں خواجہ اینڈ سنز کی انسانی شہرت سے  کہیں زیادہ کشش خواجہ مارکیٹ کی تھی۔ رزق تو اللہ کریم دیتا ہے؛ جسے چاہے جتنا عطا کر دے! یرزقُ مَن یشاءُ بغیرِ حساب۔ یہاں تک کہ رزق جو ایک انسان کے لئے لکھ دیا گیا ہے اس کی مثال موت کی سی ہے؛ وہ ملے گا، ضرور ملے گا اور مقررہ وقت پر ملے گا۔ یوں کہئے رزق مَوت کی طرح انسان کےپیچھے پڑا ہوا ہے۔ اس امر کا انحصار البتہ انسان پر ہے کہ وہ اپنے نصیب میں لکھے ہوئے رزق کو حاصل کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کرتا ہے اور اس کے صائب یا غیرصائب ہونے پر کتنی توجہ دیتا ہے۔
کمائی تو ہر کوئی کرتا ہے۔ کماتا وہ بھی ہے جس کی ایک فون کال پر لاکھوں روپے کا حساب ادھر سے ادھر ہو جاتا ہے۔کماتا وہ بھی ہے جو سرِراہ ہاتھ پھیلا کر آواز لگا رہا ہوتا ہے: ’’دے جا انھیا! سخی نوں پیسہ‘‘ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو بس کی بھیڑ میں پھنسے ایک سفید پوش بابو کی وہ جیب صاف کر جاتا ہےجس میں اس کی مہینے بھر کی تنخواہ ہوتی ہے اور اس کی بیوی اپنے چار بچوں کو بہلا رہی ہوتی ہے کہ: ’’آج بابا کو تنخواہ ملی ہے، شام کو بازار جائیں گے اور کھلونے بھی لائیں گے اور نئے کپڑے بھی۔ ‘‘ حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اتنے میں تو چولھا بھی مشکل سے چلتا ہے۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو ایک کار کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے شخص کی کنپٹی پر ٹھنڈی فولادی نالی رکھ کر اس کے زور پر گاڑی میں سوار خواتین کا سارا زیور اتروا لیتا ہے۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو ایک جعلی ٹیکا تیار کرتا ہے اور اسےکیمسٹوں اور ہسپتالوں تک یوں پہنچاتا ہے کہ اصلی لائف سیونگ ڈرگ کا ٹیکا  سرے سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہو جاتا ہے کہ اس کا اپنا جوان بیٹا  وہی زہر سپلائی کرتے ہوئے اپنے ابا جیسے کسی قارون کی گاڑی سے ٹکرا کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور اسی جیسی جعلی ’’لائف سیونگ ڈرگ‘‘ کا شکار ہو جاتا ہے۔
کمائی وہ بھی کرتا ہے جو سارا دن گدھا گاڑی  پر دوسروں کا سامان ڈھوتا ہےاور خود بھی  گدھے کی طرح جان کھپاتا ہے۔ وہ بھی جو سارا دن اینٹیں ڈھوتا ہے، وہ بھی جو منشی گیری کرتا ہے اور تب تک کرتا ہے جب تک اس کی آنکھیں دیکھنے سے انکار نہیں کر دیتیں۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو مونگ پھلی کی بھٹی کے ساتھ اپنا خون بھی جلاتا ہے؛ کہ خون جلے گا تو چولھا جلے گا۔اور کمائی وہ بھی کرتا ہے جو سارا دن چھابڑی سر پر اٹھائے پھرتا ہے؛ موسم کے مطابق چھوٹی موٹی اشیاء کچھ گھر پر تیار کر کے اور کچھ بازار سے خرید کر ان کی پڑیاں بناتا ہے اور پانچ دس پیسے پڑیا پر اپنی محنت کے کما کر شام کوآٹا دال  خرید لاتا ہے۔ مال اور مشقت، قیمت دونوں کی لگتی ہے۔ خالص پر جو ملتا ہے بھلے تھوڑا ہو پر اسے کھا کر رات کو نیند بے فکری کی آتی ہے۔ ناخالص پر کچھ زیادہ مل جاتا ہے اور جیبیں بھرنے لگتی ہیں، نیند کا کیا ہے خالص نہ سہی، ناخالص سہی!
اگلا مرحلہ خرچ کرنے کا ہے جو کمانے سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں! بڑے خواجہ صاحب نے ایسی ’’چھوٹی چھوٹی‘‘ باتوں کی کبھی پروا نہ کی؛ نہ کمانے میں نہ خرچ کرنے میں۔پروا کرتے تو چھابڑی سے مارکیٹ تک کی ملکیت؟ اتنا ضرور ہوا کہ ہر نومولود کو چمچ سونے کا مل گیا۔ یہی بڑے خواجہ صاحب کی کمائی تھی، یہی بچت اور جمع پونجی؛ جسے اب چار پانچ چھوٹے خواجاؤں کے بیچ بٹنا تھا۔ بڑے خواجہ صاحب کالے رنگ کی منقش چادر میں سفید براق ریشمی چادروں میں لپٹے پڑے تھے،بڑے خواجہ صاحب جو ٹھہرے! کھدر لٹھا بھی کوئی سستا نہیں پر ہے تو کھدر لٹھا ہی نا!
اتنی ساری باتیں کرنے کا موقع یوں مل گیا کہ مولوی صاحب کی زوجہ محترمہ کو ہنگامی حالت میں  ہسپتال جانا پڑا۔ خاصے انتظار کے بعد خبر ملی کہ موبائل فون کی گھنٹیاں پڑوسی سن رہے ہیں، جسے مولوی صاحب پریشانی کے عالم میں گھر کے صحن میں چارجنگ پر لگا چھوڑ گئے ہیں۔ جنازہ گاہ میں شور سا ابھرا کہ کوئی ہم مسلک بندہ تلاش کرو جو بڑے خواجہ صاحب کی نماز پڑھا سکے۔ اس شور میں کئی منٹ اور لگ گئے تو ایک کھنک دار آواز نے سب کو چونکا دیا۔ کوئی کہہ رہا تھا: ’’مرحوم کے بیٹے کہاں ہیں؟ ان میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز  کیوں نہیں پڑھا دیتا!؟‘‘ ادھر سے کوئی اور چلایا: ’’یہ کون بدتمیز ہے؟ کیسے موقعے پر کیسی باتیں کر رہا ہے۔ کوئی مولوی ڈھونڈ کر لاؤ، اعلان کراؤ پانچ سو، ہزار کے اس مجمعے میں کوئی مولوی ہے؟‘‘ پتہ نہیں اس پکار کا جواب ملا یا نہیں، اور ملا تو کتنی دیر بعد ملا۔       


بدرِ احمر کے قلم سے: جمعہ ۳؍ جولائی ۲۰۱۵ء

بے چارہ ۔ (1) ۔


بے چارہ (۱)

لالہ مصری خان نے بھرپور بے تکلفی سے مٹھائی کی پلیٹ پر ہاتھ صاف کیا، بلکہ پلیٹ ہی صاف کر دی۔ اپنی پگڑی کے لٹکتے ہوئے پلو سے ہونٹوں مونچھوں اور داڑھی کو صاف کیا، کھنکار کر گلے میں اٹکے ہوئے ذرات سے نجات حاصل کی اور اپنی مخصوص پاٹ دار آواز میں گیا ہوئے: ’’مبارک ہو بھئی! ویسے یہ مٹھائی تھی کس خوشی میں؟‘‘
ہم نے بتایا کہ’’ اللہ کریم نے ہمیں بیٹی سے نوازا ہے۔‘‘ تو لالہ کا چہرہ گویا کھل اٹھا۔ اس پر ان کی باتوں  نے افکار کے بہت سارے در وا کر دیے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے: ’’بیٹی اللہ کی عجیب نعمت ہے۔ تم اس کو پالتے پوستے ہو، تعلیم دلاتے ہو، گھر گھرہستی سکھاتے ہو، اس کے لئے ایسا لڑکا تلاش کرتے ہو جو تمہارے معیارات پر پورا اترتا ہو، دو بول پڑھاتے ہو اور دعاؤں کی چھاؤں میں اسے رخصت کرتے ہوئے ٹوٹ کر روتے بھی ہو اور مزید دعاؤں کی بارش سی برسا دیتے ہو۔‘‘ پھر جیسے چونک کر پوچھا: ’’یہ مولوی صاحب گئے ہیں ادھر سے؟‘‘ 
ہم نے اثبات میں سر ہلا دیا تو پوچھا: ’’کیوں؟ ‘‘ بتایا کہ ’’بیٹی کے کان میں اذان کہنے کو بلوایا تھا۔‘‘
لالہ کا چہرہ ایک دم تمتما اٹھا، بھاری بھرکم مونچھیں زنجیروں میں جکڑے ہوئے مگرمچھوں کی طرح تڑپنے لگیں اور آنکھیں ایسی سرخ ہو گئیں جیسے اندر کہیں کوئی جوالا مکھی پھٹ پڑا ہو۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے لالہ کے چہرے پر بھونچال کے اثرات دیکھے۔ غیض و غضب کے اس منظر سے ہم بخوبی واقف تھے، تاہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ مولوی صاحب اور اذان کے ساتھ اس زلزلے کا کیا رشتہ بنتا ہے جس نے ان کی براعظمی پلیٹوں کا باہم ٹکرا دیا تھا۔ ہم خوف زدگی کے عالم میں ان کے چہرے کو ایک ٹک دیکھ رہے تھے کہ دیکھئے کون سا لاوا نکلتا ہے اور کس کس کو بھسم کر کے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ 
’’کیوں؟ آخر کیوں؟‘‘ وہ بدقت تمام بولے۔ زلزلہ ان کی آواز پر بھی حاوی ہو رہا تھا۔ ’’مولوی کو بلانا کیوں ضروری تھا؟ تمہارا گلا کٹ گیا تھا کیا؟ خود اذان کیوں نہیں کہی؟‘‘ لالہ مصری خان کے لہجے کی کڑواہٹ میں شکایت کی نمکینی بھی شامل تھی۔
’’وہ، خان لالہ، بات دراصل یہ ہے کہ، وہ اصل میں، بات، اذان، کچھ بھی تو نہیں لالہ! بس وہ ایک جھجک سی آتی تھی‘‘۔ 
’’کس بات کی جھجک؟ کوئی گناہ کا کام تھا کیا؟‘‘ لاوا بہہ نکلا۔ ’’مولوی کو بلا بھیجا کہ نیک آدمی ہے ایک آدھ گناہ سے اس کا کیا جائے گا؟ ہے نا!‘‘ ہم لالہ کی نگاہوں کی مزید تاب نہیں لا سکتے تھے۔ بات ان کی صد فی صد درست تھی۔ ندامت کے بار نے ہماری گردن جھکا دی تھی۔
لالہ کہہ رہے تھے: ’’دنیا جہان کے شاعروں کی غزلیں کیا پورے پورے دیوان تمہیں یاد ہیں، بات کرتے ہو تو دلیل اور ردِ دلیل کا وہ ماحول بناتے ہو کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ تمہیں کیا اذان اور اقامت نہیں آتی؟ ‘‘۔
ہم بمشکل کہہ پائے کہ’’ آتی تو ہے، مگر ۔۔‘‘
’’مگر کیا؟ تمہیں ایک اتنے ذرا سے کام کے لئے مولوی درکار ہے! افسوس کا مقام ہے، کہ ایک مسلمان باپ کو اپنے بچے کے کان میں اذان کہنے کو مولوی درکار ہے۔‘‘ ہماری یہ کیفیت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’’اس بچی سے بڑے کتنے ہیں؟‘‘
’’جی، تین ماشاء اللہ۔‘‘
’’ما شاء اللہ تب کہنا جب اپنی بیٹیوں کے نکاح کا خطبہ خود پڑھ سکو، نہ پڑھ سکو تو خود انا للہ پڑھ لینا۔‘‘ 
لالہ مصری خان کے اتنے تلخ جملے پر بھی ہم نے خاموشی میں عافیت جانی۔ کچھ دیر میں ان کا غصہ فرو ہوا تو بولے :’’ پانی پلواؤ، تمہیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ پانی غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں طنز کا عنصر در آیا: ’’یہ مولوی نالائق ہے تمہارا، ہے نا؟ اس نے تمہیں اتنی سی بات نہیں بتائی۔‘‘ ہمیں یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی دقت نہیں ہوئی کہ نام مولوی کا لیا جا رہا ہے، اور خبر ہماری۔
ہمارے چہرے پر شرمندہ سی مسکراہٹ دوڑ گئی اور ہم پانی لانے کے لئے بیٹھک کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔


بدرِ احمر کے قلم سے: جمعرات ۲؍ جولائی ۲۰۱۵ء


بدھ، 24 جون، 2015

۔۔ کَون جھُڈو! ۔۔ (بدرِ احمر کے قلم سے)۔

کون جھڈو!


ہم نے لالہ مصری خان کو خلافِ معمول خوشگوار موڈ میں پایا تو خاصے حیران ہوئے، تاہم ان سے اس خوشگواری کی وجہ پوچھنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ کہنے لگے : ’’کوئی شگفتہ سی بات سناؤ آج، روز والے رونے لے کر نہ بیٹھ جانا!‘‘’’ٹھیک ہے لالہ! پنجابی کی مزاحیہ شاعری سے ایک جھڈو کی کہانی سنئے۔‘‘ لالہ جھٹ سے بولے: ’’کون جھڈو؟ ہم ان کی طنز کو نظر انداز کر کے کہانی کا نثری خلاصہ سنانے لگے۔ 

جھڈّو اس کا اصل نام نہیں تھا، وہ تو گاؤں والے اس کی حماقتوں پر اسے ’’جھُڈو‘‘ کہنے لگے اور پھر اصل نام ہی بھول بھال گئے۔ ایک دن سوچا :یہ بھلا کیا ہوا کہ ہم عقل کی بات کریں تب بھی جھڈو؟ کہیں اور چلتے ہیں، اپنا نام بدل کر آتے ہیں۔ لوگ جھڈو کو بھول بھال جائیں گے، اور ہم اپنے اصل نام سے جانے جائیں گے۔ 
نکل کھڑے ہوئے بس، منزل وغیرہ تو تھی کچھ نہیں، چلتے رہے چلتے رہے، چلتے رہے۔ دن ڈوبنے کو ہوا تو خود کو کسی گاؤں کے باہر پایا، سوچا کسی کے ہاں رات گزارتے ہیں، پھر آگے چلیں گے۔ پہلا جو گھر دکھائی دیا، اس کے بڑے سارے صحن میں رک گئے۔ عام غریب گھروں کا سا گھر تھا، صحن میں مٹی کی ایک ناند، ایک طرف مرغیوں کا کھُڈا، دو جھلنگا چارپائیاں، مٹی کے چولھے میں جلتی لکڑیاں، اوپر ہنڈیا رکھی تھی۔ سامنے ایک بڑا سا کمرہ تھا جس کے اندر تاریکی تھی۔ دوسری طرف ایک چھپر، چھپر میں بھی ناند، جلانے کی لکڑیوں کا ڈھیر، اور ایک فالتو چارپائی۔
جھڈو میاں نے بلند آواز سے پکارا: ’’بی بی، بہنا، بھائی، کوئی ہے؟ مسافر ہوں، رات گزارنی ہے، دن چڑھے چلا جاؤں گا‘‘۔ تاریک کمرے سے ایک اَدھِیڑ عمر کی عورت نمودار ہوئی، جس کے چہرے پر غربت کے نشان تھے اور خشونت نمایاں تھی۔ تاہم جھڈو میاں کو رات گزارنے کی اجازت مل گئی۔ عورت نے کہا: ’’میں باہر جاتی ہوں، گائے کو کھول دوں گی وہ گھر آ جائے گی۔ دھیان کرنا بچھڑے کو فوراً باندھ دینا کہ دودھ ہی نہ پی جائے۔ چولھے پہ ہنڈیا پڑی ہے، ابل نہ جائے اور بچہ سو رہا ہے، گائے سے ڈر بھی سکتا ہے۔‘‘ اور باہر چلی گئی۔
جھڈو میاں نے سوچا ’دیکھیں تو سہی پک کیا رہا ہے‘۔ ہنڈیا کا ڈھکن اٹھایا تو اندر کھولتے پانی میں ہری پیاز کے قتلے اور مسور کی دال کے اکا دکا دانے ان کا منہ چڑا رہے تھے۔ اتنے میں گائے دندناتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی، بچھڑا اس کی ٹانگوں میں گھُسا جاتا تھا۔ جھڈو میاں بچھڑے کو پکڑنے کو لپکے تو گائے ان کو اجنبی جان کر بدک گئی، اس ہڑبونگ میں بچہ رونے چلانے لگا۔ جھڈو میاں کبھی بچے کی طرف بھاگتے ہیں کبھی بچھڑے کی طرف۔ ادھر ہنڈیا جو ابلی تو چولھے میں آگ ہی بجھ گئی،جھڈو میاں چولھے کی طرف لپکے۔
اب کے منظر کچھ یوں تھا کہ: گائے سکون سے ناند پر کھڑی چارہ کھا رہی ہے، بچھڑا مزے سے ماں کا دودھ پی رہا ہے، بچہ بلند آواز میں روئے جا رہا ہے اور جھڈو میاں بیٹھے زمین سے سر لگائے، چولھے میں پھونکیں مار رہے ہیں۔ ایسے میں عورت سر پر چارے کا بڑا سا گٹھا اٹھائے صحن میں داخل ہوئی۔ یہ منظر دیکھا  تو ٹھٹھک کر بولی: ’’ہا، ہائے وے جھُڈّوا! ایہ کیہ بنائی بیٹھا ایں‘‘۔
جھڈو میاں کو گویا بجلی کا جھٹکا لگا ہو، اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بولے: ’’بھیناں، چھوڑ اِس سب کچھ کو! اور مجھے یہ بتا کہ تجھے میرا نام کس نے بتایا؟‘‘

لالہ مصری خان ہماری طرف بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے، ہماری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں بولے: ’’پھر؟ اس نے بتایا نہیں کیا؟‘‘ گویا لالہ ہمیں جھڈو کہہ گئے تھے!! 

.... بدرِ احمر کے قلم سے
 بدھ ۲؍ جولائی ۲۰۱۴ء