بے چارہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بے چارہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 1 اپریل، 2016

۔ بے چارہ (۸) ۔




بے چارہ (۸)

ہمیں یک گونہ مسرت ہوئی جب حضرت صاحب نے فرمایا کہ آج ہم سورۃ اخلاص کا مطالعہ کریں گے۔ یوں بھی آدھا گھنٹہ بہت مناسب وقت تھا۔ ہم نے حضرت صاحب سے شاید کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کر لی تھیں۔ سو، اگر ان کے خطاب بلکہ خطبے کے بعد ہمیں یک گونہ مسرت کی بجائے دو گونہ حسرت کا شکار ہونا پڑا۔ اس میں حضرت صاحب کا کیا قصور! انہیں تو اپنے لگے بندھے انداز میں اپنی علمیت کا اظہار کرنا تھا، سو کر دیا۔ ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ساٹھ سے اوپر کے ہو گئے مگر اپنے حضرت صاحبان کی نظر میں ہماری عقل کی سطح میں سے صفر نکل جاتا ہے، چھ بچتا ہے بس! اوپر کا کیا ہے! ہوا نہ ہوا، برابر۔
بہر کیف حضرت صاحب نے تقریر کی ابتدا فرمائی اور سورۃ اخلاص کی اہمیت کو احادیث کی روشنی میں بیان فرمایا۔ ہمیں اپنے علم کی محدودیت کے پیشِ نظر اتنی خوش گمانی ضرور ہے کہ حضرت نے روایات ساری درست نقل فرمائی ہیں، اور ایک ہی متن کی متعدد روایات کو بھی پورے اہتمام سے لفظ  بہ لفظ پڑھا اور ان کا آزاد ترجمہ کیا ہے (آزادی کا حق انہیں نہیں تو اور کسے حاصل ہو گا!)۔ ترجمہ اگر نہیں کیا  تو  اسی سورۃ اخلاص کا نہیں کیا جس کا وہ مطالعہ فرمانے چلے تھے۔  حال آن کہ حضرت صاحب بھی ہمارے اس ملی المیے سے آگاہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ ان کے سامنے بیٹھے لوگوں میں شاید کسی ایک آدھ کو ’’لم یلد و لم یولد‘‘ کا مطلب معلوم ہو۔ ثلثِ قرآن کا جو تصور موصوف نے بیان فرمایا  اسے سن کر ہمیں ممتاز مفتی کی ’’ثوابوں کی گٹھڑیاں‘‘ یاد آ گئیں۔ آدھے گھنٹے کے ’’خالص عالمانہ خطاب‘‘ کے بعد حضرت صاحب سے یہ بھی نہ ہوا کہ ایک رکعت میں ہی اس سورۃ کی تلاوت شامل فرما لیتے۔
ہم اگر مزید کچھ عرض کریں گے توحضرت صاحب اور ان کا پورا مکتبۂ تہی فکر ہمارے خلاف ایک پورا مجلۂ فتاویٰ جاری فرما دیں گے، سو ہمیں خاموش رہنے کی اجازت دی جائے۔

بدرِ احمر کے قلم سے

یکم اپریل ۲۰۱۶ء

اتوار، 1 نومبر، 2015

بے چارہ (7)۔

 
بے چارہ (7)


سرِ راہ ملاقات ہو گئی، علیک سلیک کے بعد فرمانے لگے: ’’کیسے ہو؟‘‘
عرض کیا: ’’خدا کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے خداوندِ دو عالم کے کرم سے، آپ کیسے ہیں؟‘‘ 
فرمانے لگے: ’’اللہ کا شکر ہے ... اور ہاں، یہ تم نے کیا کہا؟ ’خدا‘ کا شکر ہے؟ تمہیں پتہ ہے؟ خدا نہیں کہتے، اللہ کہتے ہیں‘‘۔
عرض کیا: ’’خدا سے میری مراد ظاہر ہے ’اللہ‘ ہی ہے، میں مجوسی بھی تو نہیں جو آپ کو میرا لفظ ’خدا‘ بولنا اتنا کھٹکا ہے‘‘۔
ارشاد ہوا: ’’جب تمہارے پاس لفظ ’اللہ‘ موجود ہے، تو پھر ’خدا‘ کہنے کا کیا جواز ہے؟ فارسی مجوسیوں کی زبان ہے، تم مجوسی نہ ہو کر ان کی زبان بول رہے ہو! اور وہ بھی ’اللہ‘ کی شان میں! لا حول ولا قوۃ الا باللہ، کیا زمانہ آ گیا ہے! کسی کو کام کی بات بتائیں تو ناک چڑھاتا ہے‘‘۔ 
ہماری طبیعت تو خاصی مکدر ہوئی، تاہم یہ مکالمہ چونکہ ہمارے صدر دروازے پر ہو رہا تھا، سو ہم نے خوش اخلاقی کو خود پر لازم رکھتے ہوئے کہا: ’’چھوڑئیے! آپ کن چکروں میں پڑ گئے۔ آئیے، آپ کو چائے پلاتے ہیں‘‘۔
کہنے لگے: ’’نہیں، میرا روزہ ہے، اور نماز کا وقت بھی ہو رہا ہے، میں چلوں گا۔ ’خدا‘ اور ’اللہ‘ کے فرق پر پھر بات ہو گی‘‘۔
وہ جانے لگے تو ہم نے روک لیا: ’’تو آپ نماز پڑھتے ہیں؟‘‘۔ جواب ملا: ’’ہاں، کیوں؟ تم نہیں پڑھتے؟‘‘۔
عرض کیا: ’’حضور! نماز تو وہ ہے جو مجوسی پڑھتے ہیں، اور ... ’روزہ‘ نام کی کسی عبادت کا نہ قرآن شریف میں ذکر ہے اور نہ کسی حدیث میں۔ یہ آپ نے کہاں سے لے لی؟‘‘ ۔
بہ آوازِ بلند ’لاحول‘ کا مکرر ورد کرتے ہوئے انہوں نے دو تین بار ’استغفراللہ‘ کہا اور بولے: ’’کیا کفر بک رہے ہو؟ میں بھی مجوسی تو نہیں جو تمہیں میرا ’نماز‘ کہنا اتنا برا لگا ہے۔ اور کیا کہتے ہیں نماز روزے کو؟ نماز، روزہ ہی تو کہتے ہیں!‘‘۔
عرض کیا: ’’آپ ہی کا فرمان آپ کو یاد دلایا ہے کہ جب آپ کے پاس لفظ ’صوم و صلوٰۃ‘ موجود ہے تو نماز روزہ کہنے کا کیا جواز ہے؟‘‘۔ وہ ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے، مگر ہم نے بات جاری رکھی: ’’حضور والا! اللہ کریم بھی جانتا تھا اور جانتا ہے کہ دینِ اسلام کسی ایک محدود علاقے کے لئے نہیں پورے کرہء ارض کے لئے ہے۔ اور اللہ کریم یہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں ...‘‘۔
وہ پھٹ پڑے: ’’تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟ اب تم یہ کہو گے کہ ہمیں نماز پڑھنی بھی اپنی اپنی زبان میں چاہئے عربی ہی کیوں؟ ہے نا؟‘‘۔
عرض کیا: ’’نماز نہیں حضرت! صلوٰۃ! اور وہ بالکل اس طرح جیسے نبی کریم نے فرمایا: صلُّوا کما رئیتمونی اُصَلّی۔ اگر لفظ نماز سے آپ کی مراد وہی نماز ہے تو نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر مجوسیوں والی نماز ہے تو وہ نہ میں پڑھتا ہوں نہ آپ۔ خاطر جمع رکھئے اور جائیے کہ’ آپ کی مسجد‘ میں نماز کا وقت ہو چلا ہے‘‘۔ وہ پھٹ پڑے: ’’اب یہ کیا بک رہے ہو!‘‘۔ 
عرض کیا: ’’جناب! یہ بھی آپ کا ارشاد ہے، پرسوں جب میں نے کہا کہ اذان ہو رہی ہے توآپ نے فرمایا تھا: ’یہ ہماری مسجد کی اذان نہیں ہے‘ ۔ فرمایا تھا، نا؟‘‘۔
انہوں نے ہمیں یوں گھورا جیسے کچا چبا جانے کا ارادہ ہو، اور سلام کہے بغیر چلے گئے۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ اتوار ۔ یکم نومبر ۲۰۱۵ء

بے چارہ (6)۔


بے چارہ (6)




’’بیٹا پیدا ہوا تھا، ماموں جی! تھوڑی دیر بعد فوت ہو گیا‘‘ فون پرداماد کی غم میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری۔ 

لالہ مصری خان بیگم سمیت بیٹی کے گھر پہنچے، بچوں کو دلاسا دیا، نومولود کی میت کو غسل دیا، کفن پہنایا،  بیٹے کو بھیجا کہ قبر کھدوائے۔ بیٹی اور داماد سے کچھ مشاورت کی اور جنازے کی نماز کا وقت طے کر لیا۔ محلہ داروں، دوستوں اور قریبی عزیزوں کو خبر کر دی اور یہ بھی کہہ دیا کہ جو سہولت سے پہنچ سکے پہنچ جائے۔ مولوی صاحب کو بھی اطلاع دے دی، انہوں نے کہا میں پہنچ جاؤں گا۔

اعلان کے مطابق نماز کا وقت ہو گیا، مولوی صاحب نہیں پہنچے تھے۔ کوئی پانچ منٹ اوپر ہوئے ہوں گے کہ حاضرین سے ایک ’’مولانا‘‘ لالہ مصری خان کے پاس آئے اور فرمانے لگے: ’’آپ کے مولوی صاحب تو نہیں آئے، ہم جنازہ پڑھا دیں؟‘‘ لالہ نے کہا: ’’ذرا سا انتظار اور کر لیتے ہیں۔‘‘ مولانا گویا ہوئے: ’’پتہ نہیں کتنا انتظار کرنا پڑے!‘‘ لوگوں کی توجہ ان کی گفتگو پر لگی تھی۔ لالہ خاموش رہے مگر ان کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر مولانا  صاحب ادھر ادھر ہو گئے۔ 

لالہ مصری خان نے وہاں موجود لوگوں کو ، جو پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے، متوجہ کیا اور بلند آواز میں بولے: ’’دوستو! میں مولوی صاحب کا انتظار صرف اس لئے کر رہا  ہوں کہ انہیں نماز پڑھانے کا کہہ چکا ہوں۔ وہ آتے ہوں گے، کوئی مسئلہ ہوتا، تو مجھے ضرور بتاتے۔ پھر بھی ہم زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔ چند منٹ اور دیکھ لیتے ہیں، وہ نہیں آتے تو نماز میں خود پڑھاؤں گا۔ جو دوست بہت جلدی میں ہیں انہیں اجازت ہے!‘‘ اتنے میں مولوی صاحب کی موٹر سائیکل سڑک سے اتر کر آتی دکھائی  دی۔

نماز ہو چکی تو ہم نے دیکھا کہ ’’مولانا‘‘ صاحب وہاں نہیں تھے۔ 


محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء

جمعہ، 17 جولائی، 2015

بے چارہ (5)

بے چارہ (5)


اماں جی کئی دَہائیوں سے شوگر جیسی گھُنی بیماری میں مبتلا تھیں۔ بہتیرا علاج بھی کیا، پرہیز بھی اور دوا دارو کے ساتھ دم دردو بھی۔میاں جی خود دل کے مریض ہونے کے باوجود اماں جی کو لئے کبھی اِس ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں کبھی اُس ہسپتال میں، کبھی اِس مستجاب الدعوات بزرگ کے ہاں سراپا نیاز ہیں تو کبھی اُس مزار پرشیرینی بانٹ رہے ہیں۔غرض جو کچھ بن پڑا سو کیا مگر اماں جی کی طبیعت سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ایک دن لیٹے لیٹے بے ہوش ہو گئیں۔ بھاگم بھاگ  ہسپتال پہنچے، اماں جی کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں پہنچا دیا گیا، گیس ماسک، ڈرپ، دھڑکن، سانس، بلڈ پریشر ناپنے کے خود کار آلے سب کچھ لگ گیا۔ مگر اماں جی کے ،میاں جی کے اور چھوٹے استاد کے نصیب میں جو لکھا تھا ہو کر رہا، ساری ڈیجیٹل سکرینیں صفر پر رک گئیں اور دھڑکن کی لکیر سیدھی ہو گئی۔

’’اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی‘‘ نظیر اکبر آبادی کی نظم ’’آدمی نامہ‘‘ کے مناظر بارے پھر دیکھے گئے ۔ جنازہ کھلے میدان میں پہنچ گیا تو ایک بات کچھ ’’خلافِ توقع‘‘ ہو گئی۔ چھوٹے استاد نے اپنی والدہ کی نماز خود پڑھانی چاہی۔ اور تو اور بڑے استاد جی بھونچکا رہ گئے: میاں کیا کرتے ہو؟ پہلے یہاں ایسا کب ہوا؟ کسی علامہ کا بھی کوئی قریبی فوت ہوا تو نماز کسی اور نے پڑھائی حالانکہ علامہ صاحب کئیوں کی نمازیں پڑھا چکے تھے۔ چھوٹے استاد کا کہنا بھی ٹھیک تھا کہ ماں کی نماز میں کیوں نہیں پڑھا سکتا! اس پر بڑے استاد جی نے دیکھا کہ کوئی حیلہ نہیں چلے گا تو چار و ناچار مان گئے۔


صفیں سیدھی ہوئیں، تو لوگوں کو پھر وہی بھولا ہوا سبق یاد دلایا گیا کہ اس میں چار تکبیریں ہوتی ہیں، ان کے درمیان یہ کچھ پڑھا جاتا ہے، چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرتے ہیں۔ یار لوگوں نے بھی غور سے سنا کہ اگلے دس منٹ تک یاد رہ جائے؛ ہمیں کون سا مرنا ہے! یہ تو اماں جی کو مرنا تھا سو مر گئیں، یہاں سے فراغت ہو تو جا کر اپنے کریانہ سٹور، کلینک، وڈیو شاپ، سویٹ ہاؤس کھولیں گاہکی کا وقت ہے۔


کرنا خدا کا یوں ہوا کہ فطرت اپنی قوت دکھا گئی۔ ماں کے مرنے کا دکھ کسے نہیں ہوگا! سامنے ماں کی میت پڑی ہے، پیچھے بوڑھے میاں جی اپنی سانسوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے دائیں بائیں بھائی کھڑے ہیں۔ چھوٹے استاد نے سلام پھیرا تو آواز بھرا گئی۔ 
’’نماز فاسد ہو گئی!‘‘ یہ نعرہ بڑے استاد جی نے لگایا تھا۔ 
’’فاسد کیوں کر ہو گئی حضرت؟‘‘ کسی نے پوچھ ہی لیا۔
’’امام کو رونا نہیں آنا چاہئے! امام رو دیا تو نماز جاتی رہی‘‘ 
’’حضور، یہ کیا فرما رہے ہیں؟ نماز میں رونا تو انبیائے کرام کی سنت ہے‘‘ 
’’ہم جنازے کی بات کر رہے ہیں، دوسری نمازوں کی نہیں‘‘
’’حضور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے فوت ہو ئے تو .......‘‘ 
’’استاد کی زبان پکڑتے ہو، ناہنجار!‘‘ ایک بہت بڑے استاد جی بولے، اورچھوٹے استاد جی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ’’جنازہ پھر پڑھاؤ! بلکہ بہتر ہے کہ ہم پڑھا دیں، تم پھر رو دو گے!‘‘





محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۲۰۱۵ء


بدھ، 15 جولائی، 2015

بے چارہ (4)۔

بے چارہ (4

یہ بھی ہے اظہار کی صورت
ہونٹ ہلیں آواز نہ آئے
شعر کی حد تک تو بات جو ہے سو ہے، مگر ہونٹ ہلیں لالہ مصری خان کے اور آواز نہ آئے؟ بات سمجھ میں آنے والی نہیں تھی۔ ہم رہ نہیں سکے، پوچھا کیا ہوا؟تو وہ کچھ بجھے بجھے سے دکھائی دینے لگے۔ ہم نے پھر پوچھا تو خاصی دھیمی آواز میں گویا ہوئے: ’’میں نے بچوں کو مِدّی میاں کے گھر سے اٹھوا لیا ہے‘‘۔ ہمیں بہت حیرانی ہوئی، کہ لالہ تو بہت خوش ہوا کرتے تھے، یہ یکا یک کیا ہو گیا!۔ 

مِدّی میاں ہمارے ایک محلے دار کی عرفیت ہے ۔پورا نام ان کا بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا؛ کوئی فون پر بھی ان سے پوچھ لے کہ ’کون بول رہا ہے‘ تو کہتے ہیں’مِدّی میاں بول رہا ہوں۔ مدی میاں کی بیٹیاں درسِ نظامی سے فارغ التحصیل ہیں، دونوں کی قرأت و تجوید کی تعریف سنی تو خان لالہ نے ان سے بات کی کہ بچیوں سے کہو میرے دونوں چھوٹے بچوں کو قرآن شریف پڑھا دیں۔ مدی میاں نے کہا: بھئی ہم تو ٹیوشن فیس لیتے ہیں۔ لالہ نے بہ رضا و رغبت  ایک ہزار روپے دے دئے اور بچے مدی میاں کے ہاں جانے لگے۔ دو مہینے میں بچوں نے کچا قاعدہ، نورانی قاعدہ اور یسرناالقرآن پڑھ لئے۔ لالہ بہت خوش تھے کہ بچوں کی شین قاف بھی درست ہو گئی ہے، اعراب، رموزِ اوقاف اور دیگر عناصر میں بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ وقتاً فوقتاً ہمیں بتاتے رہتے، اور اس وقت لالہ کے چہرے پر مسرت کی دمک قابلِ دید ہوتی۔

’’ ایک دم ایسا کیا ہو گیا،خان جی؟ آپ تو بہت خوش تھے۔‘‘ لالہ مصری خان نے ایک گہری سانس لی (جو سانس سے زیادہ آہ کہلانے کی مستحق ہے) اور کہنے لگے: ’’بس یار! بات پیسوں کی نہیں، بات قاعدے کی ہے۔ مدی میاں اور ان کی بچیوں کی سوچ کھلی تو بچوں کو اٹھوا لیا ہے۔‘‘ لالہ نے بات جاری رکھی:

’’ پرسوں بچوں نے بتایا کہ کل سے پہلا سیپارہ لے کر جانا ہے۔ میں بازار گیا اور تلاش کر کے ترجمے والے سیپارے لایا کہ چلئے معانی کی باضابطہ تعلیم نہ سہی، سبق پرھتے میں معانی دیکھتے رہنے سے انسیت پیدا ہو گی اور ہولے ہولے تفہیم بھی ہونے لگے گی۔ کل بچے سیپارے لے کر گئے تو انہیں کہا گیا کہ بغیر ترجمے والے لے کر آؤ پھر سبق پڑھائیں گے۔ بچے گھر آ گئے میرے لئے یہ مطالبہ حیران کن سے زیادہ تکلیف دہ تھا، بات سمجھ میں آنے والی نہیں تھی۔ گھر والی کو بھیجا کہ پتہ تو کرو اصل بات کیا ہے۔ اس نے آ کے بتایا کہ بچوں نے بالکل ٹھیک بتایا ہے انہیں کہا گیا تھا کہ ’بغیر ترجمے والے لے کر آؤ پھر سبق پڑھائیں گے۔ ‘ بھئی اس کی کوئی تُک؟ مجھے تو انہوں نے اسی طرح کہا ہے، آپ اُن کے باپ سے بات کریں؛ مشورہ صائب تھا۔ کل میں مدی میاں سے ملا تو اُن کا مؤقف بھی یہی تھا کہ جی بغیر ترجمے والے لاؤ۔ پوچھا کہ حضرت آپ نہیں چاہتے ؟کہ بچے کتاب اللہ کا علم حاصل کریں؟ یا آپ چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کو پڑھ کر بھی اس سے مفاہیم و مطالب سے محروم رہیں؟ کہنے لگے نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا: چلئے آپ ترجمہ نہیں پڑھاتے نہ پڑھائیں، بچے خود پڑھتے ہیں تو انہیں پڑھنے دیں ۔ انہیں سیپاروں پر سبق جاری رکھیں۔ مگر مِدّی میاں تو گویا ضِدّی میاں بن گئے۔ نہیں جی! سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر بچوں کو قرآن شریف پڑھانا تو ان کو بغیر ترجمے والے سیپارے لے کر دیں۔ سو، میں نے بچوں کو اٹھوا لیا۔‘‘ خان لالہ کی بات ختم ہوئی ، ہم نے دیکھا ان کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ 

ہم تو اُن کے چہرے پر برہمی کی بجلیاں دیکھنے اور گرج کڑک سننے کے عادی ہو چکے تھے، ان کی آنکھوں میں پھیلی دھند ہمارے لئے خاصی پریشان کن تھی۔ پوچھا: ’’اب؟ بچوں کو قرأت و تجوید کے ساتھ قرآن نہیں پڑھائیں گے کیا؟‘‘

’’کیوں نہیں پڑھاؤں گا!‘‘ لالہ کی دھاڑ کچھ بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ ’’میں نے تو سہولت دیکھی تھی کہ بچے چھوٹے ہیں، گھر نزدیک ہے، فکرمندی نہیں ہوتی، قاری مطیع الرحمان والی مسجد ذرا ہٹ کے ہے ۔ میں نے انہیں قرآن پڑھاتے دیکھا ہے، معانی چھَپائی میں نہیں بھی ہوتے تو وہ آسان آسان بیان کرتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں: ’اگلے سیپارے سے ہم ترجمہ بھی ساتھ ساتھ پڑھیں گے‘۔ میری اُن سے بات ہو گئی ہے، کہنے لگے: ’لالہ ! جو پیسے مجھے دینے ہیں وہ مسجد کو دیں، اللہ برکت دے گا‘۔ سو، آج بچے مسجد گئے ہوئے ہیں۔ میں تو عصر کی نماز پڑھ کے چلا آیا۔‘‘ لالہ مصری خان اپنی بات مکمل کر چکے تو اُن کے چہرے پر اطمینان جھلک رہا تھا۔

تاہم ایک سوال ہنوز جواب طلب ہے۔ قرآن شریف پڑھانے والوں کا ایک خاص طبقہ ایسا کیوں چاہتا ہے کہ لوگ اس کتاب کی صرف عبارت پڑھ سکیں؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ اللہ کریم کے اس ابدی پیغام کی تفہیم بھی ہو؟ اس میں کس کا مفاد ہے؟ اور کیا؟ 

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ بدھ ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۵ء


اتوار، 5 جولائی، 2015

بے چارہ (3) ۔

بے چارہ (3)

یوں تو اُس کی چال میں بھی لڑکھڑاہٹ تھی، اس نے دو کی بجائے چار برس کی عمر میں چلنا سیکھا تھا وہ بھی جھولتے جھالتے۔ مگر زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ بچہ ٹھیک طور پر بول نہیں سکتا تھا۔ بچے کے کتنے ہی ٹیسٹ ہوئے، آنکھیں کان گلا سب ٹھیک تھے۔ ڈاکٹر کہتے تھے اس کے اعضاء درست ہیں مسئلہ اعصاب کے ساتھ ہے۔  سیروں کے حساب سے سیرپ اور دوائیاں اس کے پیٹ میں اتاری جا چکی تھیں؛ ٹیکوں کے نشانات سے سارا جسم بھرا پڑا تھا۔

لاڈلے میاں کے والد کو ایم ڈی صاحب کا شوفر ہونے کے ناطے جائز کے ساتھ ساتھ دیگر نوع کی مراعات بھی حاصل ہیں جن کے استعمال میں اس نے ہمیشہ فراخ دلی سے کام لیا ہے۔ سپیشل سکول نہ تو ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ان کی فیسیں ادا کرنا ہما شما کے بس میں ہوتا ہے۔ ایسے اداروں میں بچوں کے دیگر ہوش ربا اخراجات کے لئے بھی معقول اور مستقل ذرائع درکار ہوتے ہیں جب کہ خود ساختہ مراعات کی عمر قلیل اور غیر یقینی ہوا کرتی ہے۔

عام سکول میں لاڈلے میاں کو داخلہ دلوانا جنابِ شوفر کے شایانِ شان نہیں تھا۔ سو، اسے ایک اقامتی دینی مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ اور کچھ نہیں تو مولوی تو بن ہی جائے گا، نا!مسیں بھیگنے تک وہ خاصا چالاک ہو چکا تھا۔ اس کی زبان اور قدم دونوں ہنوز لڑکھڑاتے تھے مگر اسے اس کی چنداں پروا نہیں تھی۔ اس کی تربیت بھی ہزاروں ایسے بچوں کی نہج پر ہوئی تھی جنہیں سوچنے کی اجازت نہیں ہوتی؛ انہیں بڑے استاد جی جو کچھ بتا دیں اس پر مکمل ایمان لانا ہوتا ہے۔ بڑے استاد جی کی تربیت بھی تو ایسے ہی ایک مدرسے میں ہوئی تھی اور وہی نسل در نسل منتقل ہوتی اس تک پہنچی تھی۔

وہ اذان بھی کہا کرتا، اقامت بھی اور نعتیں بھی۔ موقع بموقع اعلانات بھی وہی کرتا۔ اہلِ محلہ نے بڑے استاد جی سے مکرر درخواست کی کہ لاڈلے میاں کے الفاظ سننے والوں کی سمجھ میں نہیں آتے، اعلانات کسی اور کے ذمے لگا دیں۔ جواب ملا:’’ ہماری سمجھ میں تو آتے ہیں!‘‘

لالہ مصری خان کے بقول لاڈلے میاں مطبخ کے انچارج ہیں اور خوب صحت مند ہیں۔ متعدد انواع کی راتوں اور عیدوں کے مواقع پر لذات کام و دہن کا انتظام و انصرام انہیں کے ذمے ہوتا ہے۔ بڑے استاد جی کی آشیرواد حاصل کرنے میں جہاں جہاں لاڈلے میاں طباقوں سے کام لیتے ہیں وہیں کچھ ایسے ذرائع سے کام لینے میں بھی ماہر ہیں جن کا ذکر کرنے کی قلم اجازت نہیں دیتا۔

تازہ خبر یہ ہے کہ لاڈلے میاں کو مدرسے کے نصاب میں غیر اعلانیہ طور پر شامل ایک کتاب میں سے درس دینے کا سلسلہ بھی تفویض کر دیا گیا ہے۔ کسی منہ پھٹ بدتمیز کی اس ہرزہ سرائی پر  کہ موصوف کے ارشادات کو سمجھنا  عام انسانی کانوں کے بس کا روگ نہیں؛ بڑے استاد جی نے فرما دیا: ’’سہولت اس میں یہ بھی ہے کہ کتاب کے متن میں نثر کم اور ابیات زیادہ ہیں، بنا بریں عقائد و نظریات کی تدوین بہتر انداز میں ہو سکتی ہے۔ رہا بولنے کا مسئلہ،  تو وہ  اس  بے چارے کی طبعی مجبوری ہے، اس پر تنقید سے گریز کیا جائے۔‘‘ خان لالہ شدت سے اس دن کے منتظر ہیں جس دن لاڈلے میاں خطیب کی اور پھر بڑے استاد جی کی مسند پر رونق افروز ہوں گے۔



بدرِ احمر کے قلم سے: اتوار ۵؍ جولائی ۲۰۱۵ء

جمعہ، 3 جولائی، 2015

بے چارہ ۔(2)۔

 
بے چارہ (2)

کالے رنگ کی ریشمی چادر پر سنہری، نقرئی اور دیگر شوخ رنگ کے دھاگوں سے بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔ ان کے بیچوں بیچ کلمۂ شہادت، آیت الکرسی، اور دیگر کلمات عمدہ اور منقش خطوط  میں کشیدہ کئے ہوئے  تھے۔ مخصوص طرز کی ایک چارپائی پر چادر اس سلیقے سے رکھی تھی کہ اس پر  لکھا قرآن شریف کی آیت کا جزو ’’کُلُّ نفسٍ ذائقَۃ المَوت‘‘ قبلہ کی طرف بھی رہے، اور جنازے میں آئے ہوئے لوگوں سے ہر ایک کی نظر میں بھی نہ آئے۔ بڑے خواجہ صاحب تو اپنی زندگی گزار گئے تھے، اب ہر ایک کو اُس کی موت یاد دلا کر کیا فکرمند کرنا!
خواجہ صاحب کا نام جو مدت ہوئی محلے داروں کے ذہن سے محو ہو چکا تھا؛ صبح سویرے مسجد کے سپیکر پر اس اعلان کے طور پر پکارا گیا کہ وہ اِس دارِفنا سے کُوچ کر چکے ہیں، ہما شما ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ’’کَون خواجہ خیر دین یار؟‘‘ کسی نے جواب میں بڑے خواجہ صاحب کہا تو لوگوں کا ہجوم ’’خواجوں کی حویلی‘‘ پر پِل پڑا۔ اس میں خواجہ اینڈ سنز کی انسانی شہرت سے  کہیں زیادہ کشش خواجہ مارکیٹ کی تھی۔ رزق تو اللہ کریم دیتا ہے؛ جسے چاہے جتنا عطا کر دے! یرزقُ مَن یشاءُ بغیرِ حساب۔ یہاں تک کہ رزق جو ایک انسان کے لئے لکھ دیا گیا ہے اس کی مثال موت کی سی ہے؛ وہ ملے گا، ضرور ملے گا اور مقررہ وقت پر ملے گا۔ یوں کہئے رزق مَوت کی طرح انسان کےپیچھے پڑا ہوا ہے۔ اس امر کا انحصار البتہ انسان پر ہے کہ وہ اپنے نصیب میں لکھے ہوئے رزق کو حاصل کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کرتا ہے اور اس کے صائب یا غیرصائب ہونے پر کتنی توجہ دیتا ہے۔
کمائی تو ہر کوئی کرتا ہے۔ کماتا وہ بھی ہے جس کی ایک فون کال پر لاکھوں روپے کا حساب ادھر سے ادھر ہو جاتا ہے۔کماتا وہ بھی ہے جو سرِراہ ہاتھ پھیلا کر آواز لگا رہا ہوتا ہے: ’’دے جا انھیا! سخی نوں پیسہ‘‘ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو بس کی بھیڑ میں پھنسے ایک سفید پوش بابو کی وہ جیب صاف کر جاتا ہےجس میں اس کی مہینے بھر کی تنخواہ ہوتی ہے اور اس کی بیوی اپنے چار بچوں کو بہلا رہی ہوتی ہے کہ: ’’آج بابا کو تنخواہ ملی ہے، شام کو بازار جائیں گے اور کھلونے بھی لائیں گے اور نئے کپڑے بھی۔ ‘‘ حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اتنے میں تو چولھا بھی مشکل سے چلتا ہے۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو ایک کار کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے شخص کی کنپٹی پر ٹھنڈی فولادی نالی رکھ کر اس کے زور پر گاڑی میں سوار خواتین کا سارا زیور اتروا لیتا ہے۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو ایک جعلی ٹیکا تیار کرتا ہے اور اسےکیمسٹوں اور ہسپتالوں تک یوں پہنچاتا ہے کہ اصلی لائف سیونگ ڈرگ کا ٹیکا  سرے سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہو جاتا ہے کہ اس کا اپنا جوان بیٹا  وہی زہر سپلائی کرتے ہوئے اپنے ابا جیسے کسی قارون کی گاڑی سے ٹکرا کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور اسی جیسی جعلی ’’لائف سیونگ ڈرگ‘‘ کا شکار ہو جاتا ہے۔
کمائی وہ بھی کرتا ہے جو سارا دن گدھا گاڑی  پر دوسروں کا سامان ڈھوتا ہےاور خود بھی  گدھے کی طرح جان کھپاتا ہے۔ وہ بھی جو سارا دن اینٹیں ڈھوتا ہے، وہ بھی جو منشی گیری کرتا ہے اور تب تک کرتا ہے جب تک اس کی آنکھیں دیکھنے سے انکار نہیں کر دیتیں۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو مونگ پھلی کی بھٹی کے ساتھ اپنا خون بھی جلاتا ہے؛ کہ خون جلے گا تو چولھا جلے گا۔اور کمائی وہ بھی کرتا ہے جو سارا دن چھابڑی سر پر اٹھائے پھرتا ہے؛ موسم کے مطابق چھوٹی موٹی اشیاء کچھ گھر پر تیار کر کے اور کچھ بازار سے خرید کر ان کی پڑیاں بناتا ہے اور پانچ دس پیسے پڑیا پر اپنی محنت کے کما کر شام کوآٹا دال  خرید لاتا ہے۔ مال اور مشقت، قیمت دونوں کی لگتی ہے۔ خالص پر جو ملتا ہے بھلے تھوڑا ہو پر اسے کھا کر رات کو نیند بے فکری کی آتی ہے۔ ناخالص پر کچھ زیادہ مل جاتا ہے اور جیبیں بھرنے لگتی ہیں، نیند کا کیا ہے خالص نہ سہی، ناخالص سہی!
اگلا مرحلہ خرچ کرنے کا ہے جو کمانے سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں! بڑے خواجہ صاحب نے ایسی ’’چھوٹی چھوٹی‘‘ باتوں کی کبھی پروا نہ کی؛ نہ کمانے میں نہ خرچ کرنے میں۔پروا کرتے تو چھابڑی سے مارکیٹ تک کی ملکیت؟ اتنا ضرور ہوا کہ ہر نومولود کو چمچ سونے کا مل گیا۔ یہی بڑے خواجہ صاحب کی کمائی تھی، یہی بچت اور جمع پونجی؛ جسے اب چار پانچ چھوٹے خواجاؤں کے بیچ بٹنا تھا۔ بڑے خواجہ صاحب کالے رنگ کی منقش چادر میں سفید براق ریشمی چادروں میں لپٹے پڑے تھے،بڑے خواجہ صاحب جو ٹھہرے! کھدر لٹھا بھی کوئی سستا نہیں پر ہے تو کھدر لٹھا ہی نا!
اتنی ساری باتیں کرنے کا موقع یوں مل گیا کہ مولوی صاحب کی زوجہ محترمہ کو ہنگامی حالت میں  ہسپتال جانا پڑا۔ خاصے انتظار کے بعد خبر ملی کہ موبائل فون کی گھنٹیاں پڑوسی سن رہے ہیں، جسے مولوی صاحب پریشانی کے عالم میں گھر کے صحن میں چارجنگ پر لگا چھوڑ گئے ہیں۔ جنازہ گاہ میں شور سا ابھرا کہ کوئی ہم مسلک بندہ تلاش کرو جو بڑے خواجہ صاحب کی نماز پڑھا سکے۔ اس شور میں کئی منٹ اور لگ گئے تو ایک کھنک دار آواز نے سب کو چونکا دیا۔ کوئی کہہ رہا تھا: ’’مرحوم کے بیٹے کہاں ہیں؟ ان میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز  کیوں نہیں پڑھا دیتا!؟‘‘ ادھر سے کوئی اور چلایا: ’’یہ کون بدتمیز ہے؟ کیسے موقعے پر کیسی باتیں کر رہا ہے۔ کوئی مولوی ڈھونڈ کر لاؤ، اعلان کراؤ پانچ سو، ہزار کے اس مجمعے میں کوئی مولوی ہے؟‘‘ پتہ نہیں اس پکار کا جواب ملا یا نہیں، اور ملا تو کتنی دیر بعد ملا۔       


بدرِ احمر کے قلم سے: جمعہ ۳؍ جولائی ۲۰۱۵ء

بے چارہ ۔ (1) ۔


بے چارہ (۱)

لالہ مصری خان نے بھرپور بے تکلفی سے مٹھائی کی پلیٹ پر ہاتھ صاف کیا، بلکہ پلیٹ ہی صاف کر دی۔ اپنی پگڑی کے لٹکتے ہوئے پلو سے ہونٹوں مونچھوں اور داڑھی کو صاف کیا، کھنکار کر گلے میں اٹکے ہوئے ذرات سے نجات حاصل کی اور اپنی مخصوص پاٹ دار آواز میں گیا ہوئے: ’’مبارک ہو بھئی! ویسے یہ مٹھائی تھی کس خوشی میں؟‘‘
ہم نے بتایا کہ’’ اللہ کریم نے ہمیں بیٹی سے نوازا ہے۔‘‘ تو لالہ کا چہرہ گویا کھل اٹھا۔ اس پر ان کی باتوں  نے افکار کے بہت سارے در وا کر دیے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے: ’’بیٹی اللہ کی عجیب نعمت ہے۔ تم اس کو پالتے پوستے ہو، تعلیم دلاتے ہو، گھر گھرہستی سکھاتے ہو، اس کے لئے ایسا لڑکا تلاش کرتے ہو جو تمہارے معیارات پر پورا اترتا ہو، دو بول پڑھاتے ہو اور دعاؤں کی چھاؤں میں اسے رخصت کرتے ہوئے ٹوٹ کر روتے بھی ہو اور مزید دعاؤں کی بارش سی برسا دیتے ہو۔‘‘ پھر جیسے چونک کر پوچھا: ’’یہ مولوی صاحب گئے ہیں ادھر سے؟‘‘ 
ہم نے اثبات میں سر ہلا دیا تو پوچھا: ’’کیوں؟ ‘‘ بتایا کہ ’’بیٹی کے کان میں اذان کہنے کو بلوایا تھا۔‘‘
لالہ کا چہرہ ایک دم تمتما اٹھا، بھاری بھرکم مونچھیں زنجیروں میں جکڑے ہوئے مگرمچھوں کی طرح تڑپنے لگیں اور آنکھیں ایسی سرخ ہو گئیں جیسے اندر کہیں کوئی جوالا مکھی پھٹ پڑا ہو۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے لالہ کے چہرے پر بھونچال کے اثرات دیکھے۔ غیض و غضب کے اس منظر سے ہم بخوبی واقف تھے، تاہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ مولوی صاحب اور اذان کے ساتھ اس زلزلے کا کیا رشتہ بنتا ہے جس نے ان کی براعظمی پلیٹوں کا باہم ٹکرا دیا تھا۔ ہم خوف زدگی کے عالم میں ان کے چہرے کو ایک ٹک دیکھ رہے تھے کہ دیکھئے کون سا لاوا نکلتا ہے اور کس کس کو بھسم کر کے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ 
’’کیوں؟ آخر کیوں؟‘‘ وہ بدقت تمام بولے۔ زلزلہ ان کی آواز پر بھی حاوی ہو رہا تھا۔ ’’مولوی کو بلانا کیوں ضروری تھا؟ تمہارا گلا کٹ گیا تھا کیا؟ خود اذان کیوں نہیں کہی؟‘‘ لالہ مصری خان کے لہجے کی کڑواہٹ میں شکایت کی نمکینی بھی شامل تھی۔
’’وہ، خان لالہ، بات دراصل یہ ہے کہ، وہ اصل میں، بات، اذان، کچھ بھی تو نہیں لالہ! بس وہ ایک جھجک سی آتی تھی‘‘۔ 
’’کس بات کی جھجک؟ کوئی گناہ کا کام تھا کیا؟‘‘ لاوا بہہ نکلا۔ ’’مولوی کو بلا بھیجا کہ نیک آدمی ہے ایک آدھ گناہ سے اس کا کیا جائے گا؟ ہے نا!‘‘ ہم لالہ کی نگاہوں کی مزید تاب نہیں لا سکتے تھے۔ بات ان کی صد فی صد درست تھی۔ ندامت کے بار نے ہماری گردن جھکا دی تھی۔
لالہ کہہ رہے تھے: ’’دنیا جہان کے شاعروں کی غزلیں کیا پورے پورے دیوان تمہیں یاد ہیں، بات کرتے ہو تو دلیل اور ردِ دلیل کا وہ ماحول بناتے ہو کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ تمہیں کیا اذان اور اقامت نہیں آتی؟ ‘‘۔
ہم بمشکل کہہ پائے کہ’’ آتی تو ہے، مگر ۔۔‘‘
’’مگر کیا؟ تمہیں ایک اتنے ذرا سے کام کے لئے مولوی درکار ہے! افسوس کا مقام ہے، کہ ایک مسلمان باپ کو اپنے بچے کے کان میں اذان کہنے کو مولوی درکار ہے۔‘‘ ہماری یہ کیفیت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’’اس بچی سے بڑے کتنے ہیں؟‘‘
’’جی، تین ماشاء اللہ۔‘‘
’’ما شاء اللہ تب کہنا جب اپنی بیٹیوں کے نکاح کا خطبہ خود پڑھ سکو، نہ پڑھ سکو تو خود انا للہ پڑھ لینا۔‘‘ 
لالہ مصری خان کے اتنے تلخ جملے پر بھی ہم نے خاموشی میں عافیت جانی۔ کچھ دیر میں ان کا غصہ فرو ہوا تو بولے :’’ پانی پلواؤ، تمہیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ پانی غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں طنز کا عنصر در آیا: ’’یہ مولوی نالائق ہے تمہارا، ہے نا؟ اس نے تمہیں اتنی سی بات نہیں بتائی۔‘‘ ہمیں یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی دقت نہیں ہوئی کہ نام مولوی کا لیا جا رہا ہے، اور خبر ہماری۔
ہمارے چہرے پر شرمندہ سی مسکراہٹ دوڑ گئی اور ہم پانی لانے کے لئے بیٹھک کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔


بدرِ احمر کے قلم سے: جمعرات ۲؍ جولائی ۲۰۱۵ء