پیر، 22 جون، 2015

۔۔۔ برگِ آوارہ کی تمثیل ۔۔۔


برگِ آوارہ کی تمثیل
سید علی مطہر اشعر کے فن اور شخصیت کے حوالے سے خامہ فرسائی کی ایک کوشش

ماہنامہ کاوش (ٹیکسلا)جلد اول شمارہ ۲ تا ۷ (جون تا نومبر ۱۹۹۸)
سہ ماہی کاروان (بہاول پور) شمارہ جون ۔ستمبر ۲۰۰۹





(1)
ماہنامہ کاوش ٹیکسلا ؛ جلد اول شمارہ نمبر۲ (جون ۱۹۹۸ء) صفحہ ۱۵ تا ۱۹

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے
بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے

نہ جانے کون سا لمحہ تھا جب میں نے خود کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی مطہر اشعر کی شاعری پر بات کرنا برگِ آوارہ کی تمثیل سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ بہاروں کے سودائی تو بہت ہیں کہ برگ و گل سب کو اچھے لگتے ہیں۔ خزاں سے پیار کرنے کا سلیقہ کم کم لوگوں کو آتا ہے۔ اشعر صاحب کا نام ایسے ہی چیدہ چیدہ لوگوں میں شامل ہے۔ زندگی خزاں اور بہار کا امتزاج ہے، اسے قبول کرنا ہے تو کلی طور پر قبول کرنا ہے۔
جوان ہاتھ میں اشعرؔ تھا اک ضعیف کا ہاتھ
خزاں بدست خرامِ بہار اچھا لگا

اشعرؔ صاحب کی شاعری پر بات کرنا دراصل اپنا قد بڑھانے کی کوشش ہے، جیسے لوہا پارس کو چھونے کی کوشش کرے کہ سونا ہو جائے۔ میں نے اُن کے کلام کا مطالعہ شروع کیا تو محسوس ہوا کہ میرا فیصلہ (کہ اُن کی شاعری پربات کی جائے) چاند کو گودلینے کا فیصلہ ہے۔ سو، میں نے اُن کی ذات اور چند واقعات کو اِس تحریر میں شامل کر دیا ہے تا کہ میرے لئے بات کرنا کسی قدر آسان ہو سکے۔

اشعرؔ صاحب کی شاعری کا سب سے بڑا وصف راست گوئی ہے۔ شوکتِ الفاظ ا ور شانِ معانی جو اُن کے کلام میں پائی جاتی ہے، اُس کے پیچھے اُن کی پوری شخصیت پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ مناسب ہو گا اگر اُن کے فن کے ساتھ ساتھ اُن کی ذات اور زندگی کی باتیں بھی چلتی رہیں۔ اشعر صاحب کا تعلق خانوادۂ سادات سے ہے اور فکر و عقیدت کا محور سبطِ رسول کی ذات ہے۔ ان کے بزرگ ہندوستان کے علاقہ روہتک کے ایک قصبہ شکارپور میں رہتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۵۱ء میں اشعرؔ صاحب نے مہاجرت اختیار کی اور پاکستان آ گئے۔ بعد ازاں اُن کے والد ۱۹۵۸ء میں یہاں آئے، وہ عربی فارسی انگریزی اور اردو کے معروف عالم تھے۔ رئیس امروہوی، نسیم امروہوی اور جون ایلیا اشعرؔ صاحب کے سسرالی عزیزوں میں سے ہیں۔ اشعرؔ صاحب کو بچپن ہی ست شعر کا چسکا تھا، طبع موزوں تھی، سکول کے زمانے سے شعر کہنا شروع کیا۔ ایک گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’ایک ہندو لڑکا میرا ساتھی تھا، ایک مصرع وہ کہتا دوسرا میں کہتا اور یوں ہم شعر موزوں کیا کرتے تھے‘۔
عجیب بات ہے دورِ شباب میں اشعرؔ
مصیبتوں کا زمانہ شباب پر آیا

یہ شعر انہوں نے ۱۹۵۵ء میں کہا (راقم کی تاریخ پیدائش ۱۹۵۳ء ہے)۔اپنے اس دور کے ہم جلیسوں کے نام یاد کرتے ہوئے اشعرؔ صاحب نے بتایا: ’’ایک صفدر خان تھا، وہ پٹھان تھا، اس کا تعلق لکھنؤ سے تھا، اور ایک میں۔ ہم اکٹھے رہتے، گھنٹوں بحثیں ہوتیں، موضوع کی کوئی قید نہ ہوتی، خوب خوب نکتہ آفرینیاں ہوتیں، شعر کہے جاتے اور ایک دوسرے کے کلام پر ناقدانہ گفتگو ہوتی۔ تپش برنی، کمال کاسگنجوی اور شاہد نصیر کے ساتھ نشستیں ہوتیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ شاہد نصیر سے کسبِ فیض کرنے والوں میں احمد فراز، محسن احسان اور ناصر کاظمی شامل ہیں۔

واہ چھاؤنی کا صنعتی ماحول اپنی نوعیت کا منفرد ماحول ہے۔ یہاں تعلیمی سہولتیں کسی قدر بہتر ہونے کی وجہ سے شعور اور آگہی، جذبات اور احساسات کو جلا ملتی ہے۔ بارش کا پانی تو ہر جگہ برستا ہے، اب یہ مٹی پر منحصر ہے کہ وہ پھول اگاتی ہے یا جھاڑ جھنکاڑ۔ علی مطہر اشعرؔ پر جب آگہی کی بارش ہوئی تو وہ رنگ برنگ پھول کھلے اور وہ خوشبو پھیلی کہ ایک زمانہ انہیں جان گیا۔ کلام کی در و بست، الفاظ کی نشست و برخاست، محاورے کا استعمال، تلمیح کی علامتی اور محسوساتی سطح، خیال کی گہرائی اور گیرائی، زیرک نگاہی، وقار اور تمکنت، شوکتِ لفظی، لہجے کی گھن گرج اور اعتماد، اور بے شمار ایسی خوبیاں ہیں جو قاری کو پہلی خواندگی میں اسیر بنالیتی ہیں۔ علی مطہر اشعرؔ کا لہجہ اور اسلوب بہت نمایاں، بہت منفرد ہے۔ ایک حمد میں، مَیں چونک اٹھا ، مندرجہ ذیل دو شعرذوبحرین ہیں:
چند لفظوں کے توسط سے بھلا کیسے لکھوں
میرے مالک میں تری حمد و ثنا کیسے لکھوں
وسعتِ ارض و سما کیا ہے بجز وہم و خیال
اور کچھ بھی ہے یہاں تیرے سوا کیسے لکھوں
یہ اشعار بحرِ رمل مثمن محذوف (فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) پر بھی پورے اترتے ہیں اور بحر ارمولہ (فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن) پر بھی۔حوالہ: ’’فاعلات‘‘ از محمد یعقوب آسی، مطبوعہ دوست ایسوسی ایٹس لاہور ۱۹۹۳: صفحہ ۸۸۔

نعت کہنا دو دھاری تلوار پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس میں جہاں ادب، احترام، خود سپردگی اور خلوص ضروری ہے وہیں یہ بھی لازم ہے کہ اُس ذاتِ گرامی ﷺ کو جو اللہ کو بھی سب سے عزیز ہے، اللہ کے مصداق نہ بنا دیا جائے اور:
جب اُنﷺ کی ذاتِ گرامی پہ گفتگو کیجے
ادب ادب کی طرح ہو، یقیں یقیں کی طرح

علی مطہر اشعرؔ کی نعت گوئی میں حُسنِ بیان بھی ہے اور وقار بھی، مگر اس خواہش کو کیا کہئے کہ جس ذاتِ بے مثال کی مدحت بیان کی جا رہی ہے اُس کی نسبت سے طرزِ بیان بھی اُتنا ہی بے مثال ہو، اشعرؔ صاحب کو یوں بے چین کر دیتی ہے کہ وہ کہہ اٹھتے ہیں:
کرتے تو رہے مدحتِ سرکارِ رسالت
ہم وضع نہ کر پائے مگر طرزِ بیاں اور
بیٹھے ہیں سرِ رہ گزرِ شہرِ مدینہ
منتظرِ اِذنِ سفر غم زدگاں اور

ملاحظہ فرمائیے کہ ترکیب سازی، الفاظ کی نشست اور معنویت کیا بر محل ہے! محسوس ہوتا ہے کہ دل کے تار چھیڑے جا رہے ہیں اور فن کار کی ضرب ہے کہ وجود کا تار و پو جھنجھنا اٹھتا ہے۔ اشعرؔ صاحب کا تعلق خانوادۂ شبیر سے ہے اور اظہار کی دولت جو انہیں عطا ہوئی ہے، خوب ہوئی ہے۔ سانحۂ کربلا پر انہوں نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔ اشعرؔ صاحب کے بقول انیسؔ اور دبیرؔ اُن پر ’’وارد‘‘ ہوئے ہیں۔ میں نے اُن کے ہاں خاص طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ وہ اِس عظیم سانحے کی تفہیم زندگی کی اطلاقی سطح پر کرتے ہیں:
دستورِ آگہی ہے، وفا کا نصاب ہے
شبیر ایک لفظ نہیں ہے، کتاب ہے
پھر سر اٹھا رہے ہیں یزیدانِ عصرِ نو
محسوس ہو رہی ہے ضرورت حسین کی

الغرض، حوالہ فکری ہو یا فنی، اشعرؔ صاحب کے ہاں دونوں حوالوں سے خوبصورت شاعری ملتی ہے۔ انہوں نے نظمیں بھی کہیں، افسانے بھی لکھے مگر اُن کی شناخت میرے نزدیک ان کی غزل ہے۔ اشعرؔ صاحب کا تعلق محنت کش طبقے سے ہے۔ وہ ایک عمر واہ کی اسلحہ ساز فیکٹری میں گزار آئے۔ ایک تو صنعتی ماحول جس میں انسان بھی کل پرزہ بن جاتا ہے اور پھر اسلحہ سازی اور بارود سازی کا۔ ایسے میں ایک حساس شخص جو جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے شب و روز محنت کرتا ہے اُس کے محسوسات کیا ہوں گے، اور اگر اسے قدرتِ اظہار بھی عطا ہوئی ہو تو اس کے الفاظ کس قدر فسوں سازی کریں گے!، یہ تب کھلتا ہے جب ہم ان کی غزل کا مطالعہ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’’میں شعر کہا کرتا تھا۔ راز مراد آبادی یہاں آئے اور ’واہ کاریگر‘ جاری کیا تو مجھے افسانوں پر لگا دیا۔ میں نے کئی افسانے لکھے جو سب ’واہ کاریگر‘ میں شائع ہوئے۔ میرے پاس ان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ میں نے کچھ تنقیدی مضامین بھی لکھے جو’نیرنگِ خیال‘ اور’ادبیات‘ میں شائع ہوئے۔

واہ اور ٹیکسلا کے ادبی منظر نامے میں اشعرؔ صاحب بہر طور نمایاں نظر آتے رہے ہیں۔ فانوس، بزمِ رنگ و آہنگ، مجلسِ ادب، صریرِ خامہ (واہ چھاؤنی) اور حلقہ تخلیقِ ادب (ٹیکسلا) ، اِن سب تنظیموں سے منسلک رہے مگر انتظامی امور سے گریز اپنائے رکھا۔ کچھ عرصہ پہلے حلقہ تخلیقِ ادب نے اُن کے ساتھ شام منانے کا اہتمام کیا۔ انہیں گھر (لالہ زار کالونی)سے لانے لے جانے کی ذمہ داری جاوید اقبال نے لی۔ گاڑی لے کر اُن کے ہاں پہنچے توپتہ چلا اشعرؔ صاحب کسی کام سے ٹیکسلا گئے ہیں۔ اجلاس کے میزبانوں نے انہیں پا پیادہ ایچ ایم سی بس سٹاپ سے ایچ ایم سی سکول (مقامِ اجلاس) کو آتے دیکھا تو حیران ہوئے۔ پوچھا آپ پیدل آ رہے ہیں، آپ کو لینے تو گاڑی گئی ہوئی ہے۔ کمال بے نیازی سے کہا: ’’بس، میں تو چلا آیا!‘‘

(2)
ماہنامہ کاوش ٹیکسلا ؛ جلد اول شمارہ نمبر۳ (جولائی ۱۹۹۸ء) صفحہ۳ تا ۷

دورانِ گفتگو اشعرؔ صاحب نے کہا: ’’مشاعرہ ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن ہے۔ اور طرحی مشاعرے نے روایت کو زندہ رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے‘‘۔ اشعرؔ صاحب خود بھی جب سے شعر سے وابستہ ہوئے، مشاعروں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اُن سے پوچھا گیا کہ آج کے شعراء کیسا لکھ رہے ہیں (اشارہ گرو و نواح کے موجود شاعروں کی طرف تھا)۔ انہوں نے سب سے پہلے اختر عثمان کا نام لیااور کہا: ’’اختر نے جدید شاعری کی ہے اور جدت اور روایت کو ساتھ ساتھ رکھا ہے، رؤف امیر اپنے حوالے کی صحیح شاعری کر رہا ہے اور اپنی تاریخ بنا رہا ہے‘‘۔
وہ سال خوردہ صداؤں کی بازگشت میں تھی
سو ہم نے لوحِ سماعت کو پھر سے سادہ کیا
عجیب نقش بنائے تھے ریگِ صحرا نے
ہوا نے راہ نوردوں کو خوش لبادہ کیا

’’عرب میں مشاعرے کی ابتدا جنگ سے ہوئی۔ لوگ جمع ہوتے اور اپنے اپنے قبیلے کے جوانوں کی بہادری اور شجاعت کی داستانیں بیان کرتے۔ دوسرے فریق کی ہجو کہتے۔ بسا اوقات تلواریں کھنچ جاتیں۔ شاید ہی کوئی عرب ہو جو سخن گو نہ ہو ۔یونان اس میدان میں عرب سے بہت پیچھے تھا۔ غنائیہ یونان کی نہیں عرب کی سرزمین سے اٹھا ہے۔ عرب کے لغوی معنی ہیں: بات کرنے والا، بولنے والا۔ اس طرح وہ غیر عربوں کو عجمی یعنی گونگا کہا کرتے۔ ایران نے البتہ عرب تہذیب کو متاثر کیا ہے اور عربوں نے فارس کی زبان کو قبول بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیب سازی میں عربی اور فارسی الفاظ باہم مستعمل ہیں‘‘۔ اشعرؔ صاحب ایسی قیمتی باتیں اکثر بتایا کرتے ہیں اور جدید تراکیب اس روانی سے استعمال کرتے ہیں کہ قاری کو حیران ہونے کا موقع بھی نہیں دیتے۔
ہر ایک لفظ ہے تمثیلِ برگِ آوارہ
خزاں پسندئ جاں ہے غزل سرائی میں بھی
اسیرِ خواہشِ تکمیلِ فن تو ہم بھی ہیں
مگر سلیقۂ کسبِ ہنر نہیں رکھتے
اُس کی ہر جنبشِ ابرو کی ضیافت کے لئے
اک طرف سلسلۂ شیشۂ پندار بھی ہو
جو کشتی کو ڈبونا چاہتے تھے
وہ خوش بختانِ ساحل ہو گئے ہیں
پھر ایک سلسلۂ فصلِ گل ہویدا ہوا
جب اُس نے خونِ کفِ پا سپردِ جادہ کیا

اشعرؔ صاحب نے برصغیر میں اردو شاعری کے ارتقا کا مختصر جائزہ یوں بیان کیا ہے: ’’برصغیر کی موجودہ شاعری ان سلاطین کی مرہونِ منت ہے جو قصیدے لکھوایا کرتے تھے۔ اَوَدھ کے نوبوں نے شعرا کی باقاعدہ کفالت کی اور وظائف مقرر کئے۔ رثائی ادب پروان چڑھا۔ ہندوستان میں فارسی کے نفوذ کے ساتھ غزل بھی اردو شاعری میں داخل ہوئی۔ مشاعرہ وجود میں آیا۔ طرحی مشاعرہ نے ذوق کو جلا بخشی اور مسابقت کو ہوا دی۔ نتیجہ کے طور پر زبان و بیان، مضمون آفرینی، معاملہ بندی اور ہیئت کے نئے نئے تجربات سامنے آئے۔ صرف غزل کی بات کریں تو بھی مشاہیر کے ہاں ایک ہی زمین میں بہت سی غزلیں ملتی ہیں۔اور نئے ذائقے طرحی مشاعرے کی دین ہیں۔‘‘ انہی تجربات کے تسلسل میں اشعرؔ صاحب نے معروف زمینوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
میرے پندارِ محبت نے سکھایا ہے مجھے
اپنی آنکھوں کے دریچوں میں سجانا دل کا
بدن تو تیرگی میں جذب ہو جانے کے عادی ہیں
مگر مانوس ہوتی ہے نظر آہستہ آہستہ
ہم سر گزشتِ دستِ تمنا لکھیں اگر
آسودگانِ کوئے بتاں کی خبر ملے
وہ سنگِ در بھی حلقۂ اہلِ ہَوَس میں ہے
ٹکرائیں صاحبانِ وفا اپنے سر کہاں

حالات ذاتی ہوں، مقامی، ملکی یا بین الاقوامی، انسان کے افکار پر اثر انداز ہوا کرتے ہیں اور کسی حد تک تبدیلی بھی لاتے ہیں۔ اہلِ قلم نے ہر زمانے میں اپنے منصب کا پاس رکھا ہے اور کڑے وقتوں میں بھی اپنے دور کی صحیح صحیح تصویر کشی کی ہے۔ اشعرؔ صاحب کے الفاظ میں ’’اگر آپ کسی دور کی تاریخ دیکھنا چاہیں تو اُس دور کی شاعری میں دیکھیں‘‘۔ معاشرہ تبدیلیوں کا شکار ہوا۔ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ پورے برصغیر کے باشندوں کو یوں بھگتنا پڑا کہ انگریز، جو یہاں تاجر کے روپ میں آیا تھا حاکم بن بیٹھا۔ اہل قلم نے نئے حالات میں قوم کو نئی سوچ دی۔ موضوعات تبدیل ہوئے، استعاروں اور علامات کی معنویت کو نئے زاویے ملے۔ غلامی اور آزادی، انسان کی تذلیل و توقیر، عمل اور ردِ عمل کی شاعری ہونے لگی۔ گل و بلبل اور عارض و لب کی جگہ زندگی ہے دیگر مسائل نے لے لی۔ نظیر اکبر آبادی، اکبر الہ آبادی، علامہ محمد اقبال اور الطاف حسین حالی کی شاعری میں اُس دور کے واقعات کا رد عمل نمایاں ہے۔ تحریکِ پاکستان کے حوالے سے بھی یہی صادق آتا ہے۔ پہلے پہل چند لوگ ہوا کرتے ہیں جو افکار کو نئی راہیں دکھاتے ہیں۔ جیسے فیض نے ایک بار کہا کہ منفی سیاسی رویوں نے مثبت شاعری کو جنم دیا ہے۔‘‘

۱شعرؔ صاحب نے اقبال کے حوالے سے ایک دل چسپ واقعہ بھی سنایا: لکھنؤ میں مشاعرہ تھا۔ اقبال کو دعوت دی گئی اور ان کا ٹرین سے لکھنؤ جانا قرار پایا۔ منتظمین نے جن لوگوں کو استقبال کے لئے ریلوے سٹیشن بھیجا وہ اقبال کے صورت آشنا نہیں تھے۔ انہوں نے اقبال کو شناخت تو کر لیا تاہم تصدیق کی غرض سے پوچھا: ’آپ ہی علامہ محمد اقبال ہیں؟‘۔ اقبال نے کہا ’ہاں جی۔‘ ایک صاحب فوراً بولے:’جی ہاں، آپ اقبال ہی ہیں‘۔ اقبال چنداں حیران ہوئے، پوچھا :’یہ کیا ماجرا ہے؟ خود ہی سوال کرتے ہیں اور خود ہی جواب دیتے ہیں!‘۔ کہا گیا: ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ آپ ہاں جی کہیں گے، جی ہاں نہیں کہیں گے‘۔
علی مطہر اشعرؔ کے اشعار میں تاریخ کی جھلکیاں دیکھئے:
پھر حلیفوں میں نہ گھِر جائے کہ نادان ہے وہ
اس نے حالات کو سمجھا کہ نہیں دیکھ تو لیں
میرا اک بچہ بھی مزدوری کے قابل ہو گیا
اس حوالے سے مرے حالات کچھ بہتر بھی ہیں
میرے اوقات بھی پابندِ سلاسل ہیں کہ اب
وقف رکھتا ہے انہیں شعبدہ گر اپنے لئے

تاریخ میں تو قوموں کے حالات ہوتے ہیں۔ اشعرؔ صاحب تو ایک انفرادی واقعے کو دیکھتے ہیں اور اسے شعر میں یوں ڈھالتے ہیں کہ ان کے جملہ محسوسات قاری تک پہنچ جاتے ہیں۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں:
مقام فکر ہے سوزن بدست ماں کے لئے
رفو طلب ہے پسر کا لباسِ صد پارہ
گھر کے سب لوگ گراں گوش سمجھتے ہیں مجھے
سنتا رہتا ہوں بڑے غور سے سب کی باتیں
اپنے ماں باپ کی ہر بات بتاتا ہے مجھے
میرے کانوں میں وہ کرتا ہے غضب کی باتیں
وہ مری بات کبھی غور سے سنتا ہی نہیں
کیسے سمجھاؤں اُسے حدِ ادب کی باتیں

علی مطہر اشعرؔ کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ ایک عمر کانٹوں کی سیج پر گزار آئے ہیں۔ کار زارِ حیات میں پیٹ بھرنے، تن ڈھانپنے، سر چھپانے کی کٹھن گھاٹیوں کے علاوہ عزتِ نفس اور احترامِ آدمیت کا حساس مسئلہ بھی ہے۔ روپے کی چمک دمک اور مصنوعی زندگی کی چکا چوند کے اس دَور میں جہاں چہرے کی سلوٹوں سے زیادہ لباس کی سلوٹوں اور دلوں کی وسعتوں سے زیادہ طباقوں کی وسعت کو دیکھا جاتا ہے ، وہاں دلِ درد مند کا تڑپ اٹھنا ناگزیر ہے۔مثال کے طور پر اشعرؔ صاحب کے یہ شعر دیکھئے:
اک چھوٹے سے سیب کو کتنی قاشوں میں تقسیم کروں
کچھ بچوں کا باپ ہوں اشعرؔ ، کچھ بچوں کا تایا ہوں
اسے سمجھنے کی خواہش ہے سعیِ لا حاصل
وہ ایک غم جو مری ہر خوشی میں در آیا
پیرہن تبدیل کر لینا تو ممکن ہے مگر
اپنے چہرے سے نقوشِ مفلسی کیسے مٹائیں
ذرا سی بات تھی گھر سے دکان تک جانا
بڑا طویل سفر تھا کہ گھر تک آئے ہیں

کہا جاتا ہے کہ غربت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس سے قطع نظر کہ یہ خیال کہاں تک درست ہے، یہ ضرور ہے کہ جب دولت کو شرافت کا اورقوت کو اعتبار کا معیار سمجھا جانے لگے تو سوچیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ انسان کے اندر فطرت کا قائم کردہ نیکی اور بدی، حق اور ناحق کو پرکھنے کا نظام خلفشار اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اعتبار واہمہ بن جاتا ہے اور شرافت خود ایک سوالیہ نشان میں ڈھل جاتی ہے۔ معاشرے کے حالات اور عمومی رویے جیسے بھی ہوں اقدار کا شہرِ آرزو بسا رہتا ہے اور معاشرے کا حقیقی نباض کچھ اس طرح کی باتیں کرتا ہے:
مژدۂ خوبئ تعبیر ملے گا کہ نہیں
دیکھئے خواب میں دیکھا ہوا کب دیکھتے ہیں
پہلے وہ بہاروں کے کچھ آثار بنا لے
پھر دام تہِ دامنِ آثار بنے گا
اب اس زمین کو نسبت ہے ایسی بیوہ سے
کہ جس غریب کے سارے پسر ہوں آوارہ
اے تیرگی ہم سے تو ترا عقد ہوا ہے
ظاہر ہے ہمیں چھوڑ کے تو کیسے چلی جائے
بات کرنے کی اجازت بھی ہے اِس شرط کے ساتھ
قصۂ تلخئ حالات نہیں کہہ سکتے
ہم بھی ہجومِ بے بصراں میں شریک تھے
دستار اُس کے ہاتھ میں دی جس کا سر نہ تھا
تعمیرِ نو کی بات تھی توسیعِ قصر تک
موضوعِ گفتگو کسی مفلس کا گھر نہ تھا

میں نے پوچھا: ’آپ نے اتنی شاعری کی مگر ابھی تک کوئی کتاب نہیں لائے۔ اس میں کیا مصلحت ہے؟ مسکرا کر خاموش ہو گئے۔ [’’تصویر بنا دی جائے ‘‘کے نام سے ان کا شعری مجموعہ دسمبر ۲۰۰۴ء میں منظرِ عام پر آیا]۔ پھر کہنے لگے: ’’میری شاعری میں فرق واقع ہوا ہے۔ شاعر کا اپنا ایک پس منظر اور پیش منظر ہوتا ہے، جس کے سحر سے وہ نکل نہیں پاتا۔ رؤف امیر اور اختر عثمان منفرد لہجہ رکھتے ہیں‘‘۔ مجھے مخاطب کر کے کہا: ’’آپ نے عروض پر کام کیا ہے۔ ’فاعلات‘ مجھے اس لئے اچھی لگی کہ جس طرح شاعری میں جدت آئی ہے، اسی طرح علم عروض میں بھی ایک نیا پن آیا ہے۔ ویسے عام مشاہدہ ہے کہ جو شخص عروضی شاعر ہو وہ موضوعات کے اعتبار سے اتنا مستحکم نہیں ہوتا۔ سرِ نوکِ خیال جو آئے کہہ ڈالیں ، بعد میں اس کی نوک پلک درست کرتے رہیں۔ شاعری انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ہر شخص شاعری کرتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس کی سطح کیا ہے۔‘‘ اشعرؔ صاحب کے بقول امان اللہ نے افسانوں میں شاعری کی ہے۔ شاعری کی مقصدیت اور منصب کے حوالے سے انہوں نے کہا: ’’شاعری میں غم کا عنصر اسے چاشنی دیتا ہے اور فکری تحریک اسے آگے بڑھاتی ہے۔ غم کے ساتھ اس کے تدارک کی فکر شاعری کو ایک مقصد دیتی ہے‘‘:
اس کوزۂ جاں کو سرِ مژگاں نہ تہی کر
کچھ خون کے قطرے کسی طوفاں کے لئے رکھ
اشعرؔ جو فشارِ غمِ فردا سے بچا لے
ایسا کوئی نشتر بھی رگِ جاں کے لئے رکھ

(3)
ماہنامہ کاوش ٹیکسلا ؛ جلد اول شمارہ نمبر۴ (اگست ۱۹۹۸ء) صفحہ ۱۱ تا ۱۳

پھر کہیں اس کی جسامت کا تعین ہو گا
پہلے قطرے کو سمندر میں اترنے دیجے
شاعری میں دو باتیں بہت اہم ہوتی ہیں: (۱) شاعر نے کہا کیا ہے اور (۲) کس طرح کہا ہے۔ پہلی بات شاعری کے موضوعات اور شاعر کی طرزِ فکر کو احاطہ کرتی ہے اور دوسری بات شاعر کے سلیقے اور اندازِ اظہار کو۔ سلیقہ اور انداز، جیسا کہ ان کے ناموں سے ظاہر ہے، لگے بندھے الفاظ کی میکانکی نشست یا محاورات کے استعمالِ محض کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں زبان کے جملہ عناصرِ ترکیبی اور علمِ بیان کی تمام جہتوں کا رچاؤ سامنے رکھتے ہوئے شاعری کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ شاعر نے زبان و بیان کی چاشنی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے موعودہ مضامین کو کس قدر حسن و خوبی سے شعر بند کیا ہے۔اصنافِ شعر اور اس سے متعلقہ اصطلاحات کا لفظاً ذکر کئے بغیر ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ قلم کار کی علمی استعداد نے اسے کس قدر چابک دستی عطا کی ہے، معنی آفرینی کے لئے وہ کون سے حربے استعمال کرتا ہے اور کس قدر سلیقے کے ساتھ۔ یہ سارا معاملہ چونکہ ذوقِ لطیف سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا اسے کسی لگے بندھے جملے میں بیان کرنا شاید ممکن نہیں۔ احساسات، ضروری نہیں کہ لفظوں کی صورت میں بعینہٖ ادا ہو جائیں۔ تاہم ترسیلِ احساس کی ممکنہ بلند سطح کو چھوتے ہوئے شاعرکیسی زبان استعمال کرتا ہے اور لطیف احساسات کو زبان کی لطافتوں سے کس طرح اور کس حد تک ہم آہنگ رکھتا ہے، یہ اسلوب ہے۔ عام زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ اسلوب کے کچھ عناصر ترکیبی ہیں مثلاً زبان دانی اور لفظیات، ترکیب سازی، استعارے اور علامات، سوالیہ یا بیانیہ انداز، لف و نشر اور مراعات النظیر کی بندش، معنی آفرینی کے حربے، صنائع اور بدائع کا برتاؤ، اور دیگر فنیات۔ مگر یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس وقت تک اسلوب کا نام نہیں پا سکتے جب تک ہم شاعر کی ذات، اس کی پسندیدہ لفظیات اور ان کی نشست و برخاست کو شامل نہ کر لیں۔ اس پورے پس منظر اور پیش منظر میں شاعر کی اپنی ترجیحات بھی شامل ہوتی ہیں اور نفسِ مضمون کے اعتبار سے لسانی تقاضے بھی۔ اب یہ شاعر پر منحصر ہے کہ وہ اس پوری صورتِ حال سے کس طرح عہدہ برآ ہوتا ہے۔ علی مطہر اشعرؔ کی غزلوں کے مطالعے سے یہ بات بڑی اچھی طرح سامنے آئی کہ وہ شعری حسن اوعر سلیقے کے محض قائل ہی نہیں بلکہ انہوں نے اس کو بڑی خوبی سے نبھایا ہے اور ساتھ ساتھ خود تنقیدی کے عمل کو بھی ہر سطح پر قائم رکھا ہے۔
یہ شغلِ شعر و سخن بھی عذاب ہے اشعرؔ
خود اپنے خون میں اپنا قلم ڈبونا ہے
رنگوں سے نہ رکھئے کسی صورت کی توقع
وہ خون کا قطرہ ہے کہ شہکار بنے گا
کج کلاہوں کو یہ توفیق کہاں ہے اشعرؔ
جتنے اخلاص سے ہم اہل ہنر سوچتے ہیں

اشعرؔ صاحب کے ہاں کچھ الفاظ اور تراکیب بڑے تواتر سے آئی ہیں اور بہت خوب آئی ہیں۔ اس لئے ہم انہیں اشعرؔ صاحب کے اسلوب کا حصہ کہہ سکتے ہیں:
اشعرؔ کہو بہشتِ بریں کتنی دور ہے
اس شہر آرزو کے ہیں دیوار و در کہاں
یہی بہت ہے سکونِ دل و نظر کے لئے
پسِ خیال سرِ شہرِ آرزو رہنا
کیا قباحت ہے جو ویران دریچوں میں چلیں
کیا یہی کوئے بتاں ہے، ذرا دیکھیں تو سہی
کیا قباحت ہے اگر شہر میں دریافت کریں
ہے کوئی اور بھی ہم سا کہ نہیں، دیکھ تو لیں
یہ بات باعثِ حیرت بھی ہے فرشتوں میں
کہ آدمی نے ابھی حوصلہ نہیں ہارا
یہ بات باعثِ حیرت ہے ہم سفر کے لئے
کہ ہم ارادۂ ترکِ سفر نہیں رکھتے

اشعرؔ صاحب نے خوب صورت فارسی تراکیب وضع کی ہیں اور انہیں اس چابک دستی ہے استعمال کیا ہے کہ ثقالت کا ذرا سا تاثر بھی پیدا نہیں ہونے دیا۔ دریدہ حال، زندہ دلانِ شب، غریبِ رہگزر، اندیشہ پسند، قصۂ تلخئ اوقات، بام ہوس، اندیشۂ تخریبِ رگِ جاں، غبارِ دشتِ طلب، اکتفا پسندئ جاں، ترتیبِ رسمِ غم، داستانِ عرصۂ جاں، محوِ یاس، رہینِ خوئے قناعت، ہجومِ نقشِ کفِ پا، عرصۂ گُل، گماں سرشت، حجلۂ شب۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنے اشعار میں عربی اور فارسی کے ایسے مفرد الفاظ بھی باندھے ہیں جو بالعموم کم کم دکھائی دیتے ہیں۔ متذکرہ بالا تراکیب کو اشعار میں سلاست کے ساتھ باندھنا، ظاہر ہے، بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ آج کے سہل پسند دور میں یہ نعرہ بڑی شد و مد کے ساتھ لگایا جا رہا ہے کہ اردو کو ’’فارسیت سے پاک‘‘ کیا جائے، بھلے اس کے لئے ہندی اور انگریزی کے الفاظ ہی کیوں نہ لانے پڑیں۔ اس نعرے کے پیچھے کار فرما سیاسی مقاصد اور سازشوں سے قطع نظر اس وقت ہمارے پیش حقیقت یہ ہے کہ اردو کا خمیر فارسی اور عربی سے اٹھا ہے۔ یہ کل کی بات ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں اردو کو مسلمانوں کی زبان ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا۔ منطقی طور پر یہ بات بالکل بجا ٹھہرتی ہے کہ جس حسن و خوبی سے فارسی اور عربی تراکیب اردو میں سما جاتی ہیں، ہندی انگریزی بلکہ بعض علاقائی زبانوں کی تراکیب بھی اتنی نفاست سے نہیں آ سکتیں۔ اشعرؔ صاحب کے ہاں ایسی بظاہر بھاری بھرکم اور مشکل تراکیب اس قدر نرمی سے شاملِ کلام ہوتی ہیں کہ پڑھنے اور سننے والے کو لطف آ جاتا ہے
اک نقص یہ بھی تھا کہ سرِ جادۂ طلب
جتنے بھی رہ نورد تھے سب محوِ یاس تھے
میں اس کی دوسری دستک نہ سن سکا اشعرؔ
رہینِ خوئے قناعت تھا وہ گدائی میں بھی
وابستہ در و بام کی تعمیر سے اشعرؔ
اندیشۂ تخریبِ رگِ جاں بھی بہت ہے
ساری شکایتوں کا ہدف میری ذات ہے
وہ محوِ گفتگو ہے بظاہر پسر کے ساتھ
پدر کی سوچ میں حائل ہوا تھا بے چارہ
کہ سرخ ہو گیا بچے کا زرد رخسارہ
ابھی نہ جاؤ خرابوں میں روشنی لے کر
دریدہ حال و پریشاں ہیں بے لباس ہیں لوگ

سہل ممتنع یا کلامِ بے ساختہ ایسے اشعار کو کہا جاتا ہے جو شعر کی جملہ پابندیوں کے اندر رہتے ہوئے نثر بلکہ ’بے ساختہ نثر‘ کے بہت قریب ہوں۔ ایسے اشعار کی زبان سادہ، سہل اور رواں ہوتی ہے۔ اشعرؔ صاحب کے ہاں بھی ایسے اشعار بہت ملتے ہیں جن کو نثر کی صورت میں بھی یوں لکھا اور ادا کیا جا سکتا ہے کہ مفاہیم ذرہ بھر بھی متاثر نہیں ہوتے:
ہم اپنا قد بڑھا کر کیا کریں گے
غنیمت ہے کہ پیروں پر کھڑے ہیں
ہم میں اک شخص بھی ناواقفِ حالات نہیں
سب کے سب صاحبِ ادراک ہیں سب سوچتے ہیں
شبِ غم کی سحر ہونے سے پہلے
کوئی آنسو سرِ مژگاں نہ رکھنا
یہ بھی اک طرفہ تماشا ہے کہ اُس کی چاہ میں
اپنے کچھ بے لوث یاروں کو عدو کہنا پڑا
مجھ پہ اکثر خواب کا عالم بھی گزرا ہے
طوفانوں میں ساحل میرے ساتھ رہے ہیں

صرف اسی پر بس نہیں۔ میری نظر میں اُ ن کے کتنے ہی ایسے مصرعے بھی آئے جو ادائیگی میں تو بے ساختہ پن رکھتے ہی ہیں، معنوی سطح پر بھی اپنی جگہ مکمل مفہوم دیتے ہیں اور زبردست فکری گہرائی اور گیرائی کے حامل ہیں۔ چند مصرعے نقل کرتا ہوں:
ع :خدا جانے ہمیں کیا ہو گیا ہے
ع :اس کو یہ گماں تھا کہ مرے یار بہت ہیں
ع :مسافر خواب میں گھر دیکھتا ہے
ع: سمجھ لیجے سویرا ہو گیا ہے
ع: مری اپنی کوئی حالت نہیں ہے
ع: ہم برے سارا زمانہ اچھا
ع: آنکھ یوں ہی تو نم نہیں ہوتی
ع: یہ قرضِ محبت ہے ادا ہو کے رہے گا

انکسار اور خود سپردگی کا عنصر رومانی شاعری کا خاصہ ہے۔ بسا اوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ کہ ایسے عالم میں شاعر عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کے مضامین خلط ملط کر بیٹھتا ہے۔ بعض مقامات پر وہ یا تو اپنی ذات کی مکمل نفی تک پہنچ جاتا ہے یا اظہار کا وقار مجروح کر بیٹھتا ہے۔ اس سے شعر کی فکری سطح تو گرتی ہی ہے، فنی طور پر بھی کمزوری در آتی ہے۔ اشعرؔ صاحب کے ہاں خود سپردگی اور انکسار میں بھی اپنی ذات کا ادراک اور عزتِ نفس کا احساس برابر قائم رہتا ہے اور عاشقی میں خود سپردگی اور اور خودداری کاایسا حسین امتزاج بنتا ہے، جس کا وصفِ خاص اعتدال ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
ہوا کی تاب کہاں لا سکیں گے ایسے پر
جو مل بھی جائیں کہیں سے بنے بنائے پر
کاسہ بدست گھر سے نکلتے ہی دفعتاً
اشعرؔ خیالِ عزتِ سادات آ گیا
قد بڑھانے کے طریقے ہمیں تعلیم نہ کر
تو اگر حد سے گزرتا ہے گزر اپنے لئے
دیکھ اے قریۂ نو میری سلیقہ مندی
ایسے آباد ہوں جیسے کبھی اجڑا ہی نہ تھا
ہمیں کسی سے تغافل کا ڈر نہیں اشعرؔ
کہ ہم قدم کسی دہلیز پر نہیں رکھتے

(4)
ماہنامہ کاوش ٹیکسلا ؛ جلد اول شمارہ نمبر۵ (ستمبر ۱۹۹۸ء) صفحہ ۲تا ۴

اردو اور فارسی شاعری میں غزل کی اہمیت اور مقام کی بدولت اسے شاعری کا عطر بھی کہا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ غزل میں اختصار کا عنصر ہے۔ شاعر کو دو مصرعوں میں ایک مکمل مفہوم بیان کرنا ہوتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ غزل کا دھیماپن ہے۔ وسیلۂ اظہار کے طور پر الفاظ کے چناؤ اور برتاؤمیں صوتی اور معنوی دونوں سطحوں پر زبان کی لطافت کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بیان کرنا دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ بعض نقاد اب بھی غزل کے مستقبل کو مخدوش قرار دے رہے ہیں۔ اُن کے نزدیک آج کے دور کے مسائل اس وقت سے کہیں مختلف ہیں جب غزل کو رواج ملا۔ انسانی زندگی کے عملی مسائل میں غم جاناں کے سوا اور بھی بے شمار غم ہیں۔ آج کے دور کی بے چینی، عدم تحفظ، بھوک اور افلاس، خوف اور گھٹن، جنگ اور قحط، معاشرتی جبر وغیرہ کے سامنے لب و عارض اور گل و بلبل کی حکایات میں چنداں کشش نہیں رہی۔ منکرینِ غزل دوسری وجہ غزل کو ہیئت کو گردانتے ہیں کہ اس میں اوزان، ردائف، قوافی اور دیگر لوازمات کی پابندیاں اظہار کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک غیر صحت مند رویہ ہے اور اس کا محرک سہل پسندی کے سوا کچھ نہیں۔

اردو شاعری اپنا فطری سفرطے کرتے ہوئے جب ولی دکنی تک پہنچی تو اُس وقت تک غزل ایک مضبوط شعری صنف کے طور پر تسلیم کی جا چکی تھی۔ یاد رہے کہ بعض تحقیقاتی اختلافات کے باوجود قلی قطب شاہ، شاہ مراد، شاہ نصیر اور ولی دکنی کا دور اردو شاعری کی فنیات کا پہلا دور کہلاتا ہے۔ تب سے اب تک غزل کی ہیئت میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں ہوئی۔ بہ ایں ہمہ، غزل ہر دور میں مستحکم رہی ہے۔ نظم کی دیگر اصناف میں کتنی ہی نئی چیزیں آئیں۔آزاد نظم کا تجربہ بڑی حد تک کامیاب رہا تو بات آزاد نظم سے بڑھتی ہوئی نام نہاد نثری نظم تک جا پہنچی جسے آج کل ’’نثم‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ غزل میں بھی ’آزاد غزل‘ کی اصطلاح کے پردے میں ابیات اور فردات کو غزل قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عین ممکن ہے اگلے چند سالوں میں کوئی ’’نثری غزل‘‘ بھی سامنے آ جائے۔بدیسی زبانوں کی بعض اصناف کو بعینہٖ ان کے اصل ناموں سے اردو میں رائج کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں ۔ ان میں ہائیکو اور سانیٹ نمایاں ہیں۔ زمانہ شاہد ہے کہ ایسے تجربات اگرچہ وقتی طور پر بہت مقبول ہوتے دکھائی دیتے ہیں مگر اپنی ثقافتی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے دیرپا اور حقیقی قبولِ عام کبھی حاصل نہیں کر پاتے۔ جیسے نثر لکھ کر شاعر کہلوانے کے شوق نے ’’نثری نظم‘‘ یا ’’نثم‘‘ کو جنم دیا، ویسے ہی غزل کہے بغیر غزل گو کہلوانے کی دھن میں ابیات اور فردات کو ’’آزاد غزل‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ فنی اور فکری سطح پر ایسے انحطاط زدہ رویوں کے باوجود غزل نے اپنی اصلی روایتی صورت میں رہتے ہوئے ہر بدلتے زمانے کا نہ صرف ساتھ دیا ہے بلکہ خود کو تسلیم بھی کروایا ہے۔ ہر دور کے مسائل کو غزل میں بڑی خوبصورتی سے نبھایا جا رہا ہے۔ اور تو اور، جسے اینٹی غزل کا نام دیا گیا، وہ بھی تو غزل ہی کی مسخ شدہ صورت تھی۔

اصل میں فرق جدت اور جدیدیت کا ہے۔ میرے نزدیک جدت روایت سے جنم لیتی ہے اور روایت کے ساتھ منسلک رہتے ہوئے اسے آگے بڑھاتی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے جس کا ایک عظیم ثبوت خود ہماری اردو زبان ہے جو در حقیقت جدت کی پیداوار ہے۔ واضح رہے کہ روایت اور جمود میں فرق ہے۔ جب ہم روایت کو بیک جنبشِ قلم رد کر دیں اور اس کے باوجود مصر رہیں کہ یہی روایت ہے تو بات بگڑ جاتی ہے۔ مختصراً ہمیں یہ کہنا ہے کہ غزل اردو شاعری میں جدتوں کی روایت کا ایک خوب صورت مظہر ہے۔ میں علی مطہر اشعرؔ کا شمار ایسے شعرا میں کرتا ہوں جنہوں نے اپنی زریں روایات سے مضبوط تعلق قائم رکھتے ہوئے جدید تقاضوں کو نبھایا ہے اور تلخئ ایام کی حکایت بیان کرتے ہوئے بھی غزل کی لطافت کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے افلاس اور غربت، غیر یقینی صورتِ حالات، خوف اور واہموں کی بہتات، انسانی اقدار کے انحطاط، معاشرتی سیاسی اور معاشی جبر، اور ایسے ہی بہت سارے مسائل کو غزل میں بیان کیا ہے جہاں لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہو جایا کرتا ہے۔ بہ ایں ہمہ اُن کی غزل میں چاشنی کم نہیں ہوئی۔

انسان بیک وقت دو قسم کی کیفیات سے دو چار ہے؛ خارجی اور داخلی۔ خارجی کیفیات ایسے عوامل کی پیدا کردہ ہیں جو انسان کے ارد گرد پائے جاتے ہیں اور داخلی کیفیات انسان کے طرزِ فکر اور طرزِ احساس کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ بہ نظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ دونوں عالم در اصل ایک دوسرے کا ردِ عمل بھی ہیں اور تکملہ بھی، اور دونوں کے باہمی تعلق میں انسان کی ذات اپنی پوری جزئیات کے ساتھ اہم اور بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس طرح انسان کا داخل اس کے خارج پر اور خارج اس کے داخل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اشعرؔ صاحب کی غزلوں میں مضامین کے تنوع کے ساتھ ساتھ یہ بات بہت اہم ہے کہ انہوں نے انسان کے داخل اور خارج کے مابین ایک توازن کو ملحوظ رکھا ہے اور یہی حفظِ مراتب ان کے اسلوب کا نمایاں وصف ہے جسے ہم نے اعتدال کا نام دیا ہے۔

سانحۂ کربلا انسانی تاریخ کا فقیدالمثال واقعہ ہے اور اس کی جس قدر تعبیرات کی گئی ہیں وہ سب انسانی زندگی کو احاطہ کرتی ہیں۔ ایک طرف یہ حق اور باطل کی جنگ ہے تو دوسری طرف تسلیم و رضا اور جبر و استبداد کی چشمک ہے۔ ایک طرف جان نثاری کی روشن مثالیں ہیں تو دوسری طرف پچھتاوے ہیں۔ انسانی فطرت کی بو قلمونیوں کے علاوہ اس عظیم تاریخی واقعے میں جو سب سے نمایاں بات نظر آتی ہے وہ حق پر قربان ہو جانے کا جذبہ ہے۔ ظلم کو بطور اصول کبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح دریائے فرات کے کنارے لڑی جانے والی اس عدیم المثال جنگ میں بہنے والا لہو رہتی دنیا تک حق کی سرخ روئی کی دلیل رہے گا۔ اشعرؔ صاحب کے خاندانی پس منظر میں بتایا جا چکا کہ ان کا تعلق اسی گھرانے سے ہے جس کے شیرخوار بچوں کے خون کی سرخی بھی اس سعیِ حاصل میں شامل ہے۔ پھر، بچپن میں انیس اور دبیر کا مطالعہ ان کا معمول رہا۔ جون ایلیا اور رئیس امروہوی جیسے بزرگ ان کے اقربا میں شامل ہیں۔ خود اشعرؔ صاحب کو ادراک و اظہار کی جو دولت ملی اور لفظوں پر جو تصرف انہیں حاصل ہے ان تمام عوامل کو سامنے رکھیں تو بجا طور پر اُن سے یہ امید کی جانی چاہئے کہ انہوں نے سانحۂ کربلا کو انتہائی گہرائی میں نہ صرف محسوس کیا ہو گا بلکہ اپنے قاری اور سامع کو بھی اس میں شامل رکھا ہو گا۔ میرے پاس ان کا جو نمونۂ کلام موجود ہے اس میں حمد و نعت کے بعد یہ سب سے بڑا موضوع ہے۔ اشعرؔ صاحب نے اس سانحے کو محسوساتی اور اطلاقی دونوں سطحوں پر بھرپور عقیدت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ صرف چند اشعار نقل کر رہا ہوں:
اصطلاحاً یہی اک نام مناسب ہو گا
کربلا کیا ہے، گلستانِ ابو طالب ہے
جا بجا دشتِ بلا خیز میں سادات کا خون
منتشر خونِ رگِ جانِ ابو طالب ہے
شبیر کے لہو سے امامِ حسن کے بعد
دشتِ بلا میں لکھا گیا ہے علی کا نام
ہنوز طفل کھڑے ہیں اس اعتماد کے ساتھ
جو مَشک لے کے گیا ہے وہ آب لائے گا
اس کے لہو سے دینِ نبی سرخ رو ہوا
وہ اک دلیلِ عظمتِ خطمی مآب ہے
ممکن نہیں ہے ترکِ عزادارئ حسین
ہم قرض جانتے ہیں محبت حسین کی
یہ کس کے نقشِ پا ہیں صبحِ عاشورہ سے محشر تک
ذرا سی دیر میں طے کر لیا یہ فاصلہ کس نے
یہ کس حق آشنا کی بازگشتِ سجدہ ریزی ہے
جنوں کو کر دیا پابندِ تسلیم و رضا کس نے
ابھی ممکن نہیں اشعرؔ یہ امرِ مستند لکھنا
کہ کی ہے کربلا کے سانحے کی ابتدا کس نے

اشعرؔ صاحب کو فطرت نے سوزِ فکر کے ساتھ سوزِ گلو سے بھی نوازا ہے اور کلامِ اشعرؔ بزبانِ اشعرؔ کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ انہوں نے مرثیے، سوز، سلام، منقبت لکھے بھی خوب ہیں اور پڑھے بھی خوب ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی شاعری میں جا بجا کربلا کے حوالے کہیں جلی اور کہیں خفی انداز میں بھرپور توانائی اور اطلاقی روح کے ساتھ موجود ہیں:
اشعرؔ وہی جو آج ستم گر کے ساتھ ہیں
کل حسنِ اتفاق سے سب میرے پاس تھے
مرے لبوں کی نمی تھی کہ سعیِ لا حاصل
وہ ریگ زار سا چہرہ بہت ہی پیاسا تھا
مرنے کے باوجود جو زندہ دکھائی دے
مقتل میں کوئی ایسا بھی لاشہ دکھائی دے
ہر قطرۂ خوں منتظرِ اذنِ فغاں ہے
یہ قرضِ محبت ہے ادا ہو کے رہے گا
وہ بھی مجرم ہے کہ فریاد نہیں کی جس نے
اس کو نا کردہ گناہی کی سزا دی جائے
منزل شناس تھے جو گئے قتل گاہ تک
ہر مستقر پہ گھٹتے رہے کارواں کے لوگ

(5)
ماہنامہ کاوش ٹیکسلا ؛ جلد اول شمارہ نمبر۶ (اکتوبر ۱۹۹۸ء) صفحہ۳ تا ۵

کیفیت ایسی نہ گزری تھی سو گزری مجھ پر
ہنستے ہنستے کبھی گریاں نہ ہوا تھا سو ہوا
زندگی کی رنگا رنگی اور ہر دم بدلتے حالات میں ایسا ہو جاتا ہے۔ اظہار کے بھی ہزاروں رنگ ہیں، زندگی کی طرح۔ کبھی کچھ نہ کہنے میں سب کچھ کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی لفظ بھی گونگے ہو جاتے ہیں۔ احساس کو اظہار تک آنے میں طویل اور کڑا سفر کرنا پڑتا ہے اور لفظ کا روپ دھارنے کے لئے تہذیب کے ساتھ رچاؤ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر تاثیر کی دولت ملتی ہے۔ زندگی اپنے تمام زاویوں اور تمام رنگوں کے ساتھ احساس کی تہہ میں موجود رہتی ہے اور اظہار کے لئے ایک سلیقہ اور طریقہ مقرر کرتی ہے جو کبھی خود کلامی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی غیر مبہم اعلانیہ انداز میں۔
کوئی سنے نہ سنے داستانِ عرصۂ جاں
تم اپنے آپ سے مصروفِ گفتگو رہنا
کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے
بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے

زندگی نہ محض پھولوں کی سیج ہے اور نہ محض کانٹوں کا بستر۔ اس میں خوشیاں بھی ہیں غم بھی، قہقہے بھی ہیں نوحے بھی۔ چھوٹی بڑی بے شمار مسرتیں بھی ہیں اور لذتیں بھی اور چھوٹے بڑے ہزاروں تفکرات اور وسوسے بھی۔ ان سب کو قبول کرنا ہے اور ان سب کے ساتھ رہنا ہے کہ یہی زندگی ہے اور یہی اعتدالِ فکر ہے۔ اس کے باوجود کہ عارضی ہوتی ہے اور غم دیرپا۔ اشعرؔ صاحب کہتے ہیں:
یہ تو لازم ہے کہ چاہت کے سفر میں اشعرؔ
ارض گل پوش بھی ہو وادئ پر خار بھی ہو

غم اور احساسِ غم اگر ذاتی حوالے تک محدود رہے تو انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے اور اگر اس کا حوالہ ذات کے زنداں سے نکل کر معاشرے کا احاطہ کرنے لگے تو پھر لازم ہو جاتا ہے کہ غم کا ادراک بھی بامقصد ہو اور اس کا اظہار بھی۔ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بحث پرانی ہو چکی! سچ یہی ہے کہ ادب زندگی کا حصہ ہے، اسے زندگی کا حصہ رہنا ہو گا اور زندگی میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، یہی ادیب اور شاعر کا فرضِ منصبی ہے۔ اپنے اردگرد بستے انسانوں کے مسائل کا حل ڈھونڈنے سے پہلے ضروری ہے کہ مسائل کا ادراک بھی ہو۔ یہ ادراک بجائے خود ایک نعمت ہے اور اشعرؔ صاحب نے اسی نعمت کو عام کیا ہے۔

ہمارے المیوں اور مسئلوں کی بہت سی سطحیں ہیں جن کا حلقۂ اثر ایک فرد سے لے کر پوری کائنات تک محیط ہو سکتا ہے۔انسان اپنے خارج کو اپنے داخل کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ داخل میں اگر سکون ہی سکون ہے، چاہے وہ بے حسی کی دین ہی کیوں نہ ہو، تو خارج کی بلاخیز موجوں کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ داخل میں سکون ہی سکون نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو گا۔ خارج میں جو کچھ ہم دیکھتے ہیں اسی داخل کا کرشمہ ہے۔ داخل کی تشکیل میں ایک دو نسلوں کا نہیں صدیوں کی بود و باش اور فکری ورثوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ انسان روایات تشکیل دیتا ہے، روایات کو توڑتا ہے اور نئی روایات بنتی ہیں۔ یہ فطرت کے اس عمل سے بہت مشابہ ہے کہ سمندر کی سطح پر لاکھوں کروڑوں حباب بنتے ہیں، ٹوٹتے ہیں ، پھر بنتے ہیں۔ جب تک داخل کا سمندر اور خارج کی ہوا موجود ہے یہ عمل جاری رہے گا۔ اور، جب تک احساس اور اظہار زندہ ہیں ادب تخلیق ہوتا رہے گا۔ اقدار کے سیپ بھرتے رہیں گے اور غوّاصانِ بحرِ حیات کے لئے فکرِ جدید کے موتی بہم ہوتے رہیں گے۔

اشعرؔ صاحب نے اس سارے عمل میں اپنے قاری کو ساتھ رکھا ہے۔ ان کے احساس کا کینوس جس قدر وسیع ہے رنگ بھی اسی قدر ہمہ گیر ہیں اور نقشہ کش اس حد تک ملوث ہے کہ اس کی بنائی ہوئی تصاویر کے رنگوں میں اس کا خونِ جگر جھلکتا ہے۔
رنگوں سے نہ رکھئے کسی صورت کی توقع
وہ خون کا قطرہ ہے کہ شہکار بنے گا

زندگی کی وہ تصویر جو آئینے میں دکھائی دیتی ہے ایک سچے فنکار کو تڑپا دیتی ہے۔ اشعرؔ صاحب نے اپنی شخصیت کے استعارے میں کیسے کیسے نقش ابھارے ہیں، ملاحظہ ہوں:
ہر اک شکن کسی افتاد کی علامت ہے
بہت سے کرب منقش ہیں ایک چہرے میں
ہر روز انقلاب ہے چہرے کے عکس میں
ہر صبح اک شکن کا اضافہ دکھائی دے
نئی سلوٹ درونِ آئنہ ہے
نئے چہرے کا عنواں دیکھتا ہوں

یہاں معاشرے کی شکست و ریخت کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے۔ اخلاقی اقدار اور ان کی پاسداری کی طرف سے بے توجہی بدترین معاشرتی منافقت کو جنم دیتی ہے اور پھر خود غرضی اور خود فریبی کی وہ ہوا چلتی ہے کہ بڑے بڑے زاہد اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ دورخی کا دور دورہ ہوتا ہے اور نفسا نفسی کا وہ عالم جس کے گواہوں میں ہماری پوری دو نسلیں شامل ہیں۔ ایسے کردار و عمل کی مضبوط علامت اشعرؔ صاحب کے شعروں کا ’وہ شخص‘ ہے جو دراصل ایک فرد نہیں ایک معاشرتی رویے کا نام ہے۔ اس ’شخص‘ کے بھی دو پہلو ہیں؛ ایک داخلی اور ایک خارجی۔ اس کی ذات کے مختلف پہلو جو اشعرؔ صاحب نے بیان کئے ہیں پورے معاشرے میں پائے جانے والے مختلف رویوں کے عکاس ہیں۔
جس کی خواہش تھی کہ وہ بامِ ہوس تک پہنچے
اب وہی شخص کہاں ہے، ذرا دیکھیں تو سہی
میرے بارے میں پریشان نہیں ہے وہ شخص
فکر لاحق ہے اسے شام و سحر، اپنے لئے
ان دنوں وہ بھی اسی شخص کی تحویل میں ہے
ہم نے رکھا تھا جو اِک کاسۂ سر اپنے لئے
آمادۂ فساد رہا بات بات پر
وہ سنگِ رہگزر تھا مرا ہم سفر نہ تھا
حسرت رہی کہ کارگہِ ہست و بود میں
جیسا بھی کوئی شخص ہو ویسا دکھائی دے

الغرض اشعرؔ صاحب کا ’وہ شخص‘ نفاق، جبر، خود غرضی اور دو رخی کا استعارہ ہے ۔ اس تسلسل میں اشعرؔ صاحب مزید کہتے ہیں:
قد بڑھانے کے طریقے ہمیں تعلیم نہ کر
تو اگر حد سے گزرتا ہے گزر اپنے لئے
نشاط ان کے تصرف میں ہے پسِ پردہ
غموں سے چور ہیں اشعرؔ مگر وہ پردے پر
ہم میں اک شخص بھی ناواقفِ حالات نہیں
سب کے سب صاحبِ ادراک ہیں، سب سوچتے ہیں

اُن کے ’اس شخص‘ کی دل فریبیاں بھی ملاحظہ کرتے چلئے جو اس کا دوسرا پہلو ہے:
کبھی چراغِ توقع بجھا گیا وہ شخص
کبھی کرن کی طرح تیرگی میں در آیا
کچھ اس لئے بھی بہت دل فریب ہے وہ شخص
وفا کا شائبہ رکھتا ہے بے وفائی میں بھی
یا یہ کہ رہ و رسم کی تحریک بھی وہ تھا
یا یہ کہ وہی ہم سے گریزاں بھی بہت ہے

(6)
ماہنامہ کاوش ٹیکسلا ؛ جلد اول شمارہ نمبر۷ (نومبر ۱۹۹۸ء) صفحہ ۳تا ۴

اشعرؔ صاحب کی عماقتِ نظر کا اندازہ لگانے کے لئے یہی جان لینا کافی ہے کہ انہوں نے اپنے ارد گرد رونما ہونے والے ان واقعات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے جن کو عام آدمی اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے قلم سے نکل کر یہ واقعہ ایک انفرادی منظر نہیں رہتا بلکہ اجتماعیت اختیار کر جاتا ہے۔ ایک فٹ پاتھ پر ایک گداگر عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور وہ بچے کا پھٹا ہوا قمیص سی رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ اشعرؔ صاحب نے اِسے کیا بنا دیا:
مقامِ فکر ہے سوزن بدست ماں کے لئے
رفو طلب ہے پسر کا لباسِ صد پارہ

یہ ایک گدا گر ماں کا معاملہ نہیں رہا، معاشرے کے لاکھوں محروم انسانوں کی محرومیوں کا نقشہ بن جاتا ہے۔ بایں ہمہ انسان اور انسانیت کا احترام ہمیشہ اشعرؔ صاحب کے پیشِ نظر رہا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی کی محرومی اور مجبوری کو تماشا بنایا جائے یا کسی طور بھی یہ احساسِ محرومی سزا بن جائے۔ بعض اوقات تو عطا بھی سزا محسوس ہوتی ہے:
پوچھیں نہ کسی شخص سے حالاتِ پسِ در
توہین نہ کی جائے کبھی غم زدگاں کی
اس کی عطا میں طنز کا کچھ شائبہ بھی تھا
لرزش سی آ گئی مرے دستِ سوال میں

اشعرؔ صاحب نے آگہی کا عذاب جھیلا ہے۔ یہ آگہی جو بلاشبہ ایک نعمت ہے، کبھی کبھی زحمت بھی بن جایا کرتی ہے۔ قوموں کی زندگی میں پچاس ساٹھ سال کا عرصہ اگرچہ کوئی بڑا عرصہ نہیں ہوتا، تاہم اس عرصے میں قومی مزاج کی جو تشکیل ہوتی ہے اس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ اشعرؔ صاحب ہمارے قومی مزاج کی کجی کو دیکھتے ہیں تو تڑپ اٹھتے ہیں۔
ہم سے اندیشہ پسندوں کی تو عادت ہے یہی
درد محسوس کیا کرتے ہیں ڈر سوچتے ہیں
تجھ پہ کھل جائے تو سرنامۂ محشر ٹھہرے
تیرے بارے میں جو ہم شام و سحر سوچتے ہیں
روشنی ہو گی تو دیکھیں گے تباہی کے نشاں
یہ اندھیرے کبھی حالات نہیں کہہ سکتے
انہیں پسند ہے شہرِ خیال میں رہنا
گماں سرشت ہیں، پروردۂ قیاس ہیں لوگ
ہم جس زمیں پہ آئے تھے صدقے اتار کے
اب تک ہمارے واسطے گھر کیوں نہیں ہوئی
یہ بات بھی طے ہو گئی دہشت زدگاں میں
جو سنگ بدست آئے گا سردار بنے گا
اب فیصلہ ہوا ہے کہ بے سمت ہی چلو
شاید اسی طرح کوئی رستہ دکھائی دے

اس کے باوجود اشعرؔ صاحب کی تڑپ مایوسی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ حالات کی بہتری کے لئے ایک مسلسل کاوش کا درس دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ سے ان کا عزم جھلکتا ہے، وہ جہدِ مسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور حالات کی تلخی کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی۔ یہ عزم اور حوصلہ وہ آئندہ نسلوں تک کچھ اس انداز میں پہنچاتے ہیں:
قریہ قریہ دے رہے ہیں لوگ سورج کی خبر
لیکن اے زندہ دلانِ شب دیے بجھنے نہ پائیں
یہ سفر عرصۂ محشر میں بھی ساقط نہ ہوا
زندگی راہ بناتی رہی تلواروں پر
اشعرؔ علاجِ زخمِ جگر کی سبیل کر
کچھ وقت تو لگے گا مگر اندمال میں
میرے بچے گر مری تحریک پر چلتے رہے
اُن کے حق میں خوبئ تقدیر ہو جاؤں گا میں

اشعرؔ صاحب کے کلام کی ایک نمایاں خوبی، جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا، یہ ہے کہ انہوں نے تلمیحات کا اطلاقی سطح پر انطباق کیا ہے۔ کچھ مثالیں دیکھئے:
پھر پلٹ کر وہ مرے گھر بچشمِ تر جائیں
مجھے کنویں میں گرا لیں تو ہم سفر جائیں
ہم کو سوالِ آب پر قتل نہیں کیا گیا
ہم سے یہ کہہ دیا گیا پانی نہیں فرات میں

دبنگ اور باوقار لہجہ جس میں ایک شاہانہ طمطراق پایا جاتا ہے اشعرؔ صاحب کے بہت سے اشعار میں ملتا ہے۔ ان کی کئی ردیفوں کا انداز ’غیر شخصی حکمیہ انداز‘ ہے اور بعض مقامات پر ایک لااُبالی مگر طنزیہ لہجہ سامنے آتا ہے:
کوئی تحریک تو ہو حفظِ رگِ جاں کے لئے
خلقتِ شہر کو حالات سے ڈرنے دیجے
اس کی ہر جنبشِ ابرو کی ضیافت کے لئے
اک طرف سلسلۂ شیشۂ پندار بھی ہو
دم بھی گھٹ جائے تو پندار کی تذلیل نہ ہو
روزنِ در سے کسی کو نہ صدا دی جائے
میری آواز بھی اب اُس پہ گراں ہے اشعرؔ
آسماں تک کوئی دیوار اٹھا دی جائے
پھر کوئی نیا قافلہ ترتیب دیا جائے
ہم آبلہ پا کب سے دوراہے پہ کھڑے ہیں

اشعرؔ صاحب کے ہاں جہاں موضوعات کی رنگا رنگی ملتی ہے وہیں ان کا جداگانہ اسلوب ان موضوعات کو ایک نیا اور جاذبِ نظر رنگ عطا کرتا ہے۔ زبان پر انہیں گرفت حاصل ہے، فارسی عربی کی بھاری بھرکم تراکیب ان کے اشعار میں یوں پرو دی گئی ہیں کہ ان کی ثقالت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ یوں غزل اپنی زندہ اور متحرک روایت سے مسلسل مربوط رہ کر نئے لہجے سے آشنا ہوتی ہے۔ اشعرؔ صاحب کے خونِ جگر کی سرخی زبان کو عجیب طرح کی رعنائی عطا کرتی ہے اور اشعرؔ صاحب کا یہ کہنا بالکل بجا قرار پاتا ہے کہ:
جو بات بھی کرتا ہوں وہ مبہم نہیں ہوتی
اشعرؔ یہی خوبی ہے مرے طرزِ بیاں میں
دکھا رہا ہے تماثیلِ برگِ آوارہ
ہجومِ نقشِ کفِ پا کا رہنما ہونا
کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے
بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے
*****

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ ٹیکسلا (پاکستان)۔


2 تبصرے: