بدھ، 29 نومبر، 2017

ناراضگی ۔۔۔ ایک بڑا مسئلہ





ناراضگی  ۔۔۔ ایک بڑا مسئلہ


مسئلہ تو ہے نا! لالہ مصری خان  کسی کا ذکر کر رہے تھے۔ کہنے لگے: "ہو گئی، یار! ناراضگی، بس! اب چھوڑو بھی"۔ استاد چٹکی کو شاید ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش تھی۔  یوں بھی ان کی خان لالہ سے گاڑھی چھنتی ہے یا نہیں ٹھنتی ضرور ہے، اور وہ بھی بات بے بات۔ جھٹ  بول اٹھے: "یہ ناراضگی ہوتی کیا ہے؟"
خان لالہ بھنک گئے: "کیا مطلب ہے تمہارا؟ پھر کوئی نئی سوجھی کیا؟"
"نئی نہیں سوجھی خانہ خ! بات پرانی ہے۔ اکثر لوگ لکھتے بھی ہیں، بولتے بھی ہیں 'ناراضگی'۔ پر یہ ہے غلط"۔
"اور تم اس غلطی کو چٹکی بجاتے میں دور کر دو گے؟ جی فرمائیے! ہم ہمہ تن گوش ہیں"۔
استاد چٹکی کسی نہ کسی طور خان لالہ کے اس جملے کو پی گئے اور عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ بولے: "فارسی والے گاف وہاں لاتے ہیں جہاں بوجوہ ہائے خفی کو بدلنا ہوتا ہے۔ مثلاً: بچہ، بچگان، بچگانہ؛ آزردہ، آزردگی؛ دیوانہ، دیوانگی؛ وارفتہ، وارفتگی؛ ناراض میں تو ہائے خفی نہیں ہے۔ اس پر جہاں لازم ہو، یائے معروف کا اضافہ کریں گے: فیاض، فیاضی؛ مایوس، مایوسی؛ بے ہوش، بے ہوشی؛ ناراض، ناراضی"۔  یہ کہا اور فاتحانہ انداز میں لالہ مصری خان کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔
لالہ پر اس کا کچھ اثر ہوا یا نہیں، ہم ضرور استاد کے رعب میں یا شاید بھرے میں آ گئے تھے۔ ہمیں حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا جب ہم نے خان لالہ کے ہونٹوں کو طنزیہ انداز میں پھیلے اور آنکھوں کو چمکتے دیکھا۔ کہنے لگے: "بہت تیز بھاگتے ہو استاد! منہ کے بل گرو گے"۔
"وہ کیسے؟
" وہ ایسے ! سنو"۔ اب کے استاد بھی ہمہ تن گوش تھے، ہم تو تھے ہی۔
 لالہ مصری خان نے پوچھا: "جب نفی بناتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ صفت پر سابقہ "نا" لاتے ہو؛ مثلاً: کافی، نا کافی؛ صاف، ناصاف؛ جائز، ناجائز؛ روا، نا روا؛ قابل، ناقابل؛ اور ۔۔۔ راضی، ناراضی!۔۔۔ ناراضی کیا ہوا پھر؟ ناراض ہونا جیسا تم لائے ہو؟ یا وہ جو ناراض ہے جیسا یہاں سے اخذ ہوتا ہے؟"
استاد بھی ہار کب ماننے والے تھے، بولے: "وہ تو ناراض ہوتا ہے۔ ناراضی ہے ناراض ہونا"۔
لالہ بولے: " نالائق، وہ جو لائق نہ ہو؛ ناجائز، وہ جو جائز نہ ہو؛ ناصاف، وہ جو صاف نہ ہو؛ ناکافی، وہ جو کافی نہ ہو؛ میں نے ٹھیک کہا؟"
"ہاں، ٹھیک کہا"۔
"اسی نہج پر ناراضی وہ جو راضی نہ ہو" خان لالہ نے لوہار کی ایک مار دی۔ استاد بہت چیں بہ جبیں ہوئے اور دیر تک "نہ نہ نہ نہ نہ نہ ۔۔۔" کرتے رہے۔ لالہ نے پھر کہا: "سنو! صاف، ناصاف؛ ساز، ناساز؛ روا، ناروا کی نہج پر ناراض وہ ہے جو راض نہیں ہے۔ اور یہ راض کیا ہے؟ جانتے ہو؟"
استاد جیسے بجھ سے گئے، بولے:"یہ تو میں واقعی نہیں جانتا، کہ راض کیا ہے۔ ناراض کا پتہ ہے"۔ لالہ مصری خان نے ایک لمبی سانس لی اور کہا: "خیر، میں بتاتا ہوں۔ راض اور راضی ایک ہی چیز ہے، اس میں کوئی فرق نہیں"۔ استاد پر جیسے حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہوا ہو، بولے: "ک ک ک کیسے؟"
لالہ کہنے لگے: "فان، باغ، عاد؛ یہ تین لفظ تو قرآن شریف میں بھی ہیں، معانی وہی ہیں: فانی، باغی، عادی۔ اور بھی ہوں گے، فوری طور پر ذہن میں نہیں آ رہے۔ اسی نہج پر راض ہے بمعنی راضی! یعنی ان میں کوئی فرق نہیں۔ اس پر آپ  'لا' لگائیں، 'نا' لگائیں: فان فانی سے لافانی، کاف کافی سے ناکافی،راض راضی سے ناراضی!"۔
استاد کو جیسے چپ سی لگ گئی۔ خاموشی کھَلنے لگی تو ہم نے خان لالہ سے پوچھا: "اس کا حل کیا ہے؟"
بولے: "بہت سیدھا سا حل ہے! ناراض آپ کے ہاں رائج ہے، وہ ناراضی کا قائم مقام ہے۔ ناراضی (غلط معانی: ناراض ہونے کی کیفیت) کو بھول جائیے اور 'ناراضگی' کو قبول کر لیجئے جیسے آپ نے بہت سارے اور الفاظ غلط العام، اور غلط العوام، اور وضعی، اور پتہ نہیں کس کس نام سے قبول کئے ہوئے ہیں۔ کہو استاد! کوئی ناراضگی تو نہیں نا؟"
استاد کھسیانی ہنسی ہنس دئے۔ ناراضگی جاتی رہی!

بدرِ احمر  ۔۔۔ بدھ 29 نومبر 2017ء  


4 تبصرے: