منگل، 21 نومبر، 2017

ایک پَینی کا تحفہ


ایک پَینی کا تحفہ
(ایک انگریزی کہانی کی تحویلِ نو)



وہ چاروں ایک میز کے گرد بیٹھے تھے۔ وِلی اور باب کے چہروں پر بشاشت تھی، اور ایڈی کے چہرے پر بے چینی جھلک رہی تھی جب کہ  سیلی کے چہرے کا تناؤ اس کی دل آویز مسکراہٹ میں چھپ گیا تھا۔ وہ تھی ہی ایسی! عین شباب کی عمر میں بھی اس کے مزاج میں بہت ٹھہراؤ تھا۔ میز پر کیک کے دو ڈبے رکھے تھے، ایک درمیانے اور ایک چھوٹے سائز کا۔ ان تینوں نے ڈبوں پر ایک نظر دوڑائی اور پھر ایک دوسرے کے چہروں کو ایسے دیکھنے لگے جیسے پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ سیلی نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا اور نگاہیں خلا میں کسی غیر مرئی نقطے پر مرتکز کر دیں۔ چند لمحوں میں تناؤ کی کیفیت جیسے رفع ہو گئی اور وہ پرسکون مگر بہت سنجیدہ دکھائی دینے لگی۔ ایڈی سے رہا نہیں گیا۔ "کیا کر رہی ہو سیلی؟ اب ان ڈبوں کو کھولو بھی!" وِلی اور باب اس کی بے تابی پر کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ایڈی نے کہا کچھ نہیں مگر غصے بھری نظروں سے ان کو گھورا، اور شرمندہ سا ہو کر سر جھکا لیا۔

ان چاروں کے یہاں جمع ہونے، اور کیک کے ڈبوں  کا پس منظر خاصا دل چسپ تھا۔ وہ چاروں باہم دوست تھے۔ ایڈی، وِلی اور باب، تینوں سیلی کی مقناطیسی شخصیت کے حصار میں تھے۔ سیلی سب سے کشادہ پیشانی کے ساتھ پیش آتی، کسی کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ اس کا میلان کس کی جانب زیادہ ہے۔ وہ خود بھی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی ان تینوں میں سے کس کو رفیقِ حیات منتخب کرے۔ اس نے یہ بات ان تینوں کو بتا بھی دی تھی ۔ ان تینوں میں بہرحال کچھ خوبیاں ایسی ضرور تھیں جو ایک کو دوسرےسے ممتاز کرتی تھیں؛ اور  ایک مشترکہ خوبی کہ رقابت آشنا کوئی بھی نہیں تھا۔

سیلی نے خود کو قسمت کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔ بہ این ہمہ تینوں میں سے کسی ایک کا انتخاب تو اسی کو کرنا تھا۔ اس نے ایک تقریب کی تجویز پیش کر دی کہ وہ چاروں جمع ہوں اور سیلی اپنے فیصلے کا کیک کاٹے۔ کیک میں ایک پینی کا سکہ ہو گا، وہ جس کے منہ میں چلا گیا، سیلی اس سے شادی کر لے گی۔ سیلی اپنے لئے چھوٹا کیک الگ سے بنائے گی تاکہ سکہ خود اس کے منہ میں جانے کا امکان ہی نہ رہے۔ یہ دو کیک وہی تھے۔ سیلی نے بڑا کیک تین برابر حصوں میں کاٹا؛ سب نے اپنی مرضی سے ایک ایک ٹکڑا اٹھایا اور کھانے لگے۔ سیلی چھوٹے کیک سے جی بہلانے لگی۔ ایڈی نے ایک دم ہررا کا نعرہ لگایا، اپنے منہ سے ایک پینی کا سکہ نکال کر میز پر رکھا اور سیلی کا منہ چوم لیا۔ فیصلہ ہو چکا تھا، تقریب ہنسی خوشی اختتام پذیر ہو گئی۔

شادی کی تقریب میں وِلی اور باب نے نو بیاہتا جوڑے کو تحفے میں بالکل ایک جیسے پیکٹ دئے۔ تحفے کھولنے کا وقت آیا، تو ایڈی اور سیلی نے سب سے پہلے اپنے دوستوں کے تحفوں کو کھولا ۔ ارے! یہ کیا؟ دونوں میں پینی کا ایک ایک سکہ؟! ایڈی نے اس کو شرارت سے تعبیر کیا مگر سیلی کی گہری مسکراہٹ کچھ اور کہہ رہی تھی۔ "کیا بات ہے سیلی؟ لگتا ہے کوئی خاص بات ہے"۔ "ہاں! میں نے کیک میں تین سکے رکھے تھے۔ ان دونوں نے  اپنے منہ میں آنے والے سکوں کو منہ میں دبا لیا تھا"۔ایڈی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ سیلی شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی: "تم زیادہ بے تاب تھے نا؟ اس لئے!"۔ ایڈی کو ایسا لگا کہ وہ اُسی میز پر سر جھکائے بیٹھا ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭

تحریر: محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان  ۔۔۔ منگل 21 نومبر 2017ء


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں