منیر انور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
منیر انور لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 31 مئی، 2017

یوں تو یہ بھی سوال بنتا ہے







یوں تو یہ بھی سوال بنتا ہے

شذرہ


منیر انور کے اولین شعری مجموعے "روپ کا کندن" پر میں نے عرض کیا تھا کہ شعر کا منصب ایک بات، خیال، احساس، نظریہ، کیفیت میں قاری کو شامل کرنا ہے۔ جمالیات شعر کا بنیادی خاصہ ہے۔ شعر جتنا سادہ ہو گا، قاری کے لئے اتنا ہی سہل ہو گا۔اس کی سچائی ہے جو اس کو تاثیر عطا کرتی ہے۔  کوئی جھوٹ بولے بھی تو اپنے آپ سے کیا جھوٹ بولے گا، اور کب تک اور کتنا؟ منیر انور جھوٹ کے اس چکر میں پڑا ہی نہیں۔ اپنےشعروں میں بھی وہی ایک سادہ سا، بلکہ سیدھا سادا، راست گو منیر انور بولتا سنائی دیتا ہے جو لچھے دار باتیں کرنے کی صلاحیت رکھتا تو ہے مگر کرتا نہیں۔ اسے تو اپنے مقصد سے غرض ہے اور اس بات سے کہ قاری اس کو کتنی سہولت سے پا لیتا ہے۔ میں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا تھا کہ منیر انور اپنی اسی سادہ بیانی سے پہچانا جائے گا۔

اس کے تازہ شعری مجموعے "رقص جاری رہے" کے مسودے سے میں سمجھا ہوں کہ وہ میری توقعات نہیں بلکہ میری امیدیں تھیں، جو مجھے پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس نے بہت مختصر دورانئے کا یہ سفر بہت تیزی سے اور درست سمت میں کیا ہے۔ اس کی وسعتِ نظر کا تو میں پہلے سے قائل رہا ہوں؛ اس کے انداز کی سادگی پختہ تر ہو گئی ہے، گہرائی اور بڑھ گئی ہے  اور اس کا قاری خود کو زیادہ سہولت میں پاتا ہے۔ اس کے لہجے میں جہاں گہری سنجیدگی پائی جاتی ہے، وہیں ایک ایسی منفرد شوخی بھی شامل ہو گئی ہے جس میں درد کی سانجھ غالب ہے۔ اس کے درد اب ایک نئی تال پر رقص کرتے ہیں۔
صرف اپنا خیال رکھنا تھا
اور وہ بھی نہیں ہوا تجھ سے
میں نے جب اپنی ہار مانی تھی
اُس کا لہجہ بجھا بجھا کیوں تھا

۔۔۔۔  محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان : بدھ 31 مئی 2017ء ۔





پیر، 3 اپریل، 2017

کھوٹی دمڑی ۔ ایک داستان ۔ ایک تمثیل




کھوٹی دمڑی
کردار اور صداکار
قصہ گو: منیر انور (لیاقت پور) پاکستان
 راجا: محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان
فقیر: ریاض شاہد (گوجراں والا) پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔ 1 ۔۔۔۔۔۔۔۔
قصہ گو:         دوپہر ڈھل رہی تھی۔ سڑک کے کنارے ٹاہلی کی چھاؤں میں ایک نابینا فقیر کشکول سامنے رکھے چُپکابیٹھا تھا۔ اس نے کچھ گھوڑوں کی ٹاپ سنی اور کچھ لوگوں کی آوازیں، کان ادھر لگائے ہی تھے کہ ’’چھن ن ن ن‘‘ ایک سکہ اس کے کشکول میں گرا۔ فقیر نے اپنی بے نور آنکھوں کو ادھر ادھر گھمایا اور خود کلامی کے انداز میں بولا:
فقیر:              ’’واہ بادشاہ! ایک دمڑی دی فقیر کو اور وہ بھی کھوٹی!!‘‘۔
قصہ گو:         کشکول میں دمڑی پھینکنے والا واقعی اس راجدھانی کا راجا تھا۔ وہ بہت حیران ہواکہ اندھے فقیر نے یہ کیسے جان لیا کہ میں راجا ہوں اور یہ دمڑی کھوٹی ہے۔ اس نے فقیر سے پوچھا:
راجا:              ’’تو نے کیوں کر جان لیا، اندھے؟‘‘۔
فقیر:              ’’ابھی تو جا، اکیلے میں بتاؤں گا‘‘۔
۔۔۔۔ 2 ۔۔۔۔
قصہ گو:         راجا کے حکم پر فقیر کو محل میں لے جا کر ایک کھولی میں بٹھادیا گیا۔ راجا اپنے چوبدار کے ساتھ کھولی میں داخل ہوا اور کہا:
راجا:              ’’اب بول اندھے! تو مجھے اکیلے میں کیا بتانے والا تھا‘‘۔
فقیر:              ’’اپنے اس چوبدار کو چلتا کر، پھر بتاتا ہوں‘‘۔
قصہ گو:         راجا کو شک گزرا کہ فقیر اندھا نہیں ہے بنا ہوا ہے۔ چپکے واپس مڑا تو فقیر بولا:
فقیر:              ’’تجھے شک گزرا، نا؟ جب یقین ہو جائے تب آ جائیو‘‘ ۔
قصہ گو:         وہ بہت تلملایا، فقیر پر ایک نگران مقرر کیا اور تین چار دن تک فقیر کو نہ ملا، نہ دربار میں طلب کیا۔ اسے بتایا گیا کہ فقیر سچ مچ نابینا ہے تو وہ اکیلا کھولی میں آیا۔ فقیر نے کہا:
فقیر:              ’’ سُن! کوئی فوجدار یا کوئی ریاست کا بڑا ہی ہو سکتا ہے کہ جس کے ساتھ لاؤ لشکر اور لگامیں ہوں، سو میں جان گیا کہ تو کوئی بڑا طاقت والا ہے۔ تونے میرے سامنے کھوڑا روکا اور سکہ کشکول میں پھینکا، سو میں جان گیا کہ تو بہت گھمنڈی بھی ہے، طاقت اور گھمنڈ آج کے بادشاہوں کا خاصہ ہے، سو میں جان گیا کہ تو بادشاہ ہے۔ میری عمر گزری ہے لوگ میرے کشکول میں سکے ڈالتے ہیں، میں سکوں کی آوازوں سے بہت کچھ جان لیتا ہوں، سو میں جان گیا کہ یہ دمڑی ہے اور وہ بھی کھوٹی۔ بس اب جا اور لوگوں کو ڈراتا رہ کہ تجھے یہی ایک کام آتا ہے‘‘۔
راجا:              ’’تُوتو اندھا ہے ۔تجھے کیسے پتا کہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ ‘‘۔
فقیر:              ’’جب تو سڑک پر رکا تھا تو سب رک گئے تھے، کسی نے ایک حرف نہیں بولا، تیرے ساتھ تیرا چوبدار تھا، سو چپ۔ مجھ پہ جو نگران تو نے رکھا، وہ جب بھی بولا، ڈرا سہما بولا۔ برتن تیرے گھر کے کھانا کسی اور کے گھر کا‘‘۔
راجا:              ’’تو نے کیسے جانا؟‘‘
فقیر:              ’’اب کچھ نہیں بتاؤں گا کہ میں کیسے جان گیا، تو اپنے کام میں لگا رہ اور مجھے جانے دے‘‘۔
راجا:              ’’اندھے! تو مجھے کام کا آدمی لگتا ہے، میں تجھ سے کوئی مشورہ مانگوں تو صحیح مشورہ دے گا؟‘‘۔
فقیر:              ’’ہاں، چاہے تجھے برا لگے۔‘‘
قصہ گو:         راجا نے فقیر کا پانچ روپلی مہینہ وظیفہ لگا دیا اور اس کو دربار میں بٹھایا۔ سارا دن وہ بیٹھا لوگوں کی باتیں سنتا اور رات کو کھولی میں آ جاتا۔ راجا اُس سے پوچھتا تو وہ بتا دیتا کہ فلاں نے سچ بولا، فلاں نے جھوٹ کہا۔ فقیر کی بہت باتیں سچی نکلتیں۔ راجا جس نے کبھی کسی سگے پر اعتبارنہ کیا تھا، فقیر کی بات کو جھٹک نہیں پاتا تھا، اندر ہی اندر ڈرتا بھی تھا۔
۔۔۔۔ 3 ۔۔۔۔
قصہ گو:         ایک دن راجا کو ایک گھوڑی پیش کی گئی، گھوڑی راجا کو بھا گئی، وہ اسے لے لینا چاہتا تھا، سوچا فقیر سے پوچھ لوں۔ بولا:
راجا:              ’’اندھے! بتا میں یہ گھوڑی لے لوں کہ نہ لوں؟‘‘
فقیر:              ’’مجھے گھوڑی تک لے چل‘‘۔
قصہ گو:         اسے گھوڑی تک لے جایا گیا، اس نے گھوڑی کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور بولا:
فقیر:              ’’بادشاہ! یہ گھوڑی میدان میں دغا دے گی۔ لینی ہے تو لے لے۔‘‘
راجا:              ’’آنکھوں والوں کو دِکھی نہیں کیا؟ تو کہتا ہے دغا دے گی! مجھے تیری بات کا ثبوت چاہئے!‘‘۔
فقیر:              ’’ایک حوض میں پانی بھر، کہ وہ گھوڑی کے پیٹ کو لگے، پھر گھوڑی کو اس میں اتار دے‘‘۔
قصہ گو:         گھوڑی کو حوض میں اتارا گیا تو اُس نے پانی سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ راجا بولا:
راجا:              ’’یہ اَڑ کیوں گئی اندھے!‘‘
فقیر:              ’’میں نے کہا تھا نہیں بتاؤں گا، پر چل! بتا دیتا ہوں۔تیری طرح ناز نخرے میں پلی ہے۔ میں نے اس کی پیٹھ پہ ہاتھ پھیرا تو اس نے جسم ڈھیلا چھوڑ دیا، میدان کی ہوتی تو کھال کو چھانٹتی! اَڑے گی نہیں تو کیا کرے گی؟‘‘۔
قصہ گو:         راجا خوش ہو کے بولا:
راجا:              ’’آدھی روپلی بڑھا دو اِس کا وظیفہ!‘‘
قصہ گو:         راجا کو ایک لڑکی پسند آ گئی وہ اسے محل سرا میں لانا چاہتا تھا۔ فقیر سے پوچھا تو بولا:
فقیر:              ’’اُس لونڈیا سے کہہ میرے آگے سے گزر جائے۔‘‘
راجا:              ’’تجھے کون سا دِکھتا ہے، اندھے! کہ تو دیکھ کے بتائے گا۔‘‘
فقیر:              ’’جو میں نے کہا وہ کر، نہیں تو جا اپنی مرضی کر‘‘۔
قصہ گو:         لڑکی کو فقیر کے آگے سے گزارا گیا۔ لڑکی چلی گئی تو فقیر نے بتایا:
فقیر:              ’’یہ ڈومنی کی چھوکری ہے، ساری عمر کوٹھے پہ گزری ہے اس کی، چاہے تو بیاہ لے چاہے تو ویسے رکھ لے، یہ کچھ برا نہیں منائے گی‘‘۔
قصہ گو:         راجا نے لڑکی کو آزمایا تو وہ سو جان سے قربان ہونے پہ تیار۔ تحقیق کرائی پتہ چلا، فقیر نے جو بتایا وہ سب سچ تھا۔ راجا نے پوچھا:
راجا:              تو کن لوگوں کے پیچھے پھرتا ہے اندھے! تو پہلے سے اس لڑکی کو جانتا تھا؟ پر نہیں تو کیسے جان سکتا ہے ۔ پر یہ تو نے کیسے جانا کہ وہ ڈومنی کی بیٹی ہے؟‘‘
فقیر:              ’’اب ایک آخری سوال رہ گیا ہے، جو تو مجھ سے پوچھے گا، اس لئے بتا دیتا ہوں۔ کہ وہ لونڈیا زمین پر ایڑی مار کے چلتی ہے، ساری عمر کے ناچ کی لت کہاں جائے گی‘‘۔
قصہ گو:         راجا نے اس کا وظیفہ آدھی روپلی اور بڑھا دیا۔ وہ  فقیر سے سچ مچ خوف زدہ رہنے لگا۔
۔۔۔۔ 4 ۔۔۔۔
قصہ گو:         ایک دن فقیر نے کہا:
فقیر:              ’’بادشاہ میں ایک بات کہتا ہوں پر مجھے پتہ ہے تو مانے گا نہیں۔‘‘
راجا:              ’’بول‘‘
فقیر:              ’’مجھے جانے دے نہیں تو تُو میری جان کو آ جائے گا اور میں تو بھاگ کے بھی کہیں نہیں جا سکتا‘‘۔
قصہ گو:         راجا گھمنڈ سے ہنسا اور کہا:
راجا:              ’’تو نے ٹھیک کہا اندھے! تو آنکھ کا اندھا ہے پر تیری عقل کام کرتی ہے۔ میں نے تیری یہ بات نہیں مانی! تو یہیں رہے گا، اور بھاگنے کی سوچے گا تو مارا جائے گا۔‘‘
فقیر:              ’’یہی تو میں نے کہا کہ میں تو بھاگ کے بھی کہیں نہیں جا سکتا‘‘۔
قصہ گو:         قسمت کا لکھا ہو کے رہتا ہے۔ ایک دن راجا کو سوچ آئی کہ میرا باپ کون تھا۔ اُس نے فقیر سے پوچھا:
راجا:              ’’میری حقیقت کیا ہے‘‘۔
قصہ گو:         فقیر ذرا دیر کو چپ رہا، پھربولا:
فقیر:              ’’یہی سوال ہے جس کا مجھے ڈر تھا۔ خیر، میں تجھے بتاؤں گا ضرور، پر میری ایک شرط ہے۔ مجھے اُسی ٹاہلی کے نیچے لے چل، اور صرف تو میرے ساتھ جائے گا‘‘۔
قصہ گو:         راجا کو مانتے ہی بنی۔ دوپہر ڈھل رہی تھی جب وہ ٹاہلی کے نیچے پہنچے۔ فقیر نے راجا کو سائے میں بیٹھنے کو کہا، اور خود ذرا ہٹ کے اپنے گرد حصار کھینچ لیا۔پھر بولا:
فقیر:              ’’میں جو کہوں گا، اُسے سن کے تو باؤلا ہو جائے گا، اس لئے میں نے اپنے گرد حصار کھینچا ہے۔ اس میں گھسنے کی کوشش نہ کرنا نہیں تو بھسم ہو جائے گا۔‘‘
قصہ گو:         راجا بہت بھنایا اور بولا:
راجا:              ’’زیادہ بَڑ بَڑ نہ کر اندھے! مجھے بتا میرا باپ کون تھا‘‘۔
فقیر:              ’’تو کسی چمار کا بیٹا ہے جو تیرے ظاہری باپ کا نمک خوار تھا۔ اب جا اور جا کے پڑتال کر لے‘‘۔
قصہ گو:         راجا غصے سے حصار کی طرف بڑھا مگر ڈر کے پیچھے ہٹ گیا۔ اور وہاں سے جاتے ہوئے کہنے لگا:
راجا:              ’’تو نے جو کہا، جھوٹ نکلا تو جان کہ تو مارا گیا، اور سچ نکلا تو بھی مارا گیا‘‘۔
فقیر:              ’’یہ تو میں جان گیا تھا کہ تو میری جان کو آئے گا، پر یہ کوئی نہیں جانتا کہ تو مجھ پر قابو بھی پا سکے گا کہ نہیں۔ اب جا!!‘‘۔
۔۔۔۔ 5 ۔۔۔۔
قصہ گو:         راجا نموشی کا بارکاندھوں پہ دھرے محل کو پلٹا اور اپنی ماں کی کوٹھڑی میں جا گھسا۔ پہلے تو اپنی ماں کو خوب مارا پیٹا، وہ دہائی دیتی رہی پر کون ہوتا جو راجا کے منہ لگتا۔ ماں ادھ موئی ہو کے گری پڑی تھی تب اُس نے پوچھا: ’’بول میرا باپ کون تھا‘‘۔ بڑھیا جان گئی تھی کہ اب کچھ چھپائے نہ چھپے گا۔ بولی: تو مَوجُو چمار کا بیج ہے جو مہاراجاکے زمانے میں اصطبل اور محل سرا کی صفائی کا نگران تھا۔ ایک بارمہاراجا جو شکار کو نکلا تو کئی دن لوٹ کے نہیں دیا۔ اُس پیچھے کچھ ایسا ہو گیا کہ موجو چمار کا ۔۔۔‘‘۔ راجا اس سے آگے کچھ نہ سن سکا۔ اُس نے تلوار کے ایک ہی وار میں اپنی ماں کی گردن اڑا دی اور لہو سے لتھڑی تلوار لئے آندھی طوفان کی طرح ٹاہلی تک جا پہنچا۔ فقیر ابھی تک حصار میں بیٹھا تھا۔ راجا نے اسی تلوار کا وار کیا، تو تلوار حصار کے اندر نہیں گئی، ٹن ن کی آواز سے واپس پلٹ آئی۔ راجا جھاگ اگل رہا تھا:
راجا:              ’’میں اُس کو مار کے آیا ہوں، اب تو مرے گا!‘‘
فقیر:              ’’وہ عورت تیری ماں تھی اور تو خود اس کا پاپ! ارے پاپ نے پاپن کو مارا تو کیا مارا!‘‘
قصہ گو:         راجا جان گیا تھا کہ وہ فقیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہیں ڈھے گیا اور ہارے ہوئے لہجے میں بولا:
راجا:              ’’اب تو بتادے کہ تو نے کیسے جان لیا؟‘‘
فقیر:              ’’ایک: تیرا وہ دان ایک کھوٹی دمڑی کا ایک اندھے فقیر کو، اور وہ بھی بڑے گھمنڈ سے؛
دوجا: تیرا ہر بات پر مجھے اَندھا کہہ کے بلانا؛
 تیجا: تیرے لوگوں کا تجھ سے ڈرنا اور تیرا اُن پر اعتبار نہ کرنا؛
چوتھا: تیرا خوش ہونے پر بجائے کوئی دھن دان کرنے کے وظیفہ بڑھانا، اور وہ بھی آدھی روپلی؛
پانچواں: تجھے گھوڑی گدھی کی پہچان نہ ہونا؛
چھٹا: بادشاہ ہو کے ڈومنیوں سے پیچ لگانا؛ اور
 ساتواں: ایسی بات سوچنا جو کوئی سپوت سوچے تو اپنی سوچ سے مر جائے۔
یہ سارا کچھ کسی بادشاہ کا پوت نہیں کر سکتا۔ اور اُس کا ثبوت ہے تیرا اپنی ماں پر ہاتھ اٹھانا اور پھر اُس کو جان سے مار دینا جس نے تجھ حرامی کو اپنے لہو اور دودھ سے پالا۔ اب یہ کشکول تو لے لے کہ تو مجھ سے بڑھ کے ناچار ہے‘‘۔
قصہ گو:         راجا تو جیسے زمین میں گڑ گیا ہو، کاٹو تو بدن میں لہو نہیں؛ ٹھوڈی سینے سے لگ گئی تھی۔ کتنے جتن سے اُس نے سر اٹھایا تو دیکھا، فقیر وہاں نہیں تھا، حصار سے باہر کشکول پڑا تھا، جس میں ایک دمڑی رکھی تھی، وہ بھی کھوٹی۔
۔۔۔۔ 6 ۔۔۔۔
قصہ گو:         سنا ہے اسی ٹاہلی کے نیچے ایک فقیر بیٹھا ہوتا ہے؛ ہٹا کٹا، دیکھتا بھالتا، ہر ایک سے ایک کھوٹی دمڑی کا سوال کیا کرتا ہے۔کوئی دے دے تو اس کی طرف گھورتا ہے، نہ دے تو اُس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے اور اپنی زنگ بھری اسی تلوار سے زمین پر وار کرنے لگتا ہے جس کی دھار نے اس کی ماں کا لہو پیا تھا!!۔
اختتام
شذرہ: اس ڈرامے کی صدابندی ہو چکی ہے۔ ضروری ایڈیٹنگ کے بعد پنج ریڈیو سے نشر کر دیا جائے گا۔


تحریر: محمد یعقوب آسیؔ  ۔۔۔  4 اپریل 2014ء
تحویلِ متن: یکم اپریل 2017ء

بدھ، 15 جولائی، 2015

قبائے گل

قبائے گل
منیر انور کے اولین شعری مجموعے ’’روپ کا کندن‘‘ کا سادہ سا مطالعہ

منیر انور بلاشبہ ایک اچھا شاعر ہے اور اس سے بھی اچھی بات، کہ وہ ایک اچھا آدمی بھی ہے۔ اس کی ذات میں بھی اور شاعری میں بھی ایک دل آویز شگفتگی اور سلیقہ مندی پائی جاتی ہے۔ وہ محسوسات بھی بہت تیز رکھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ان کا اظہار کس طور کرنا ہے۔ اور میرے لئے مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ میں کسی حد تک منیر انور کو ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں۔ ’’کسی حد تک‘‘ اس لئے کہا کہ پورے طور پر تو میں خود کو بھی نہیں جانتا، منیر انور کے بارے میں یہ دعوٰی کیسے کر سکتا ہوں! اور ’’مسئلہ‘‘ اس لئے کہ جب ہم ایک شاعر کو جان لیں تو اس کی شاعری پر بات کرنی مشکل ہو جاتی ہے۔ دانستہ یا نادانستہ طور پر ہم شاعر کے کہے کو اس کی شخصیت میں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے شناسائی نہ ہوتی تو میں بہت سہولت سے یہ تو کہہ سکتا تھا کہ: جیسا میں نے اس کو اس کی شاعری میں پایا۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ جتنی بھی شناسائی ہے، جیسی بھی ہے اس کو دل و دماغ سے کھرچا بھی نہیں جا سکتا۔ چلئے، ملی جلی بات کرتے ہیں، کچھ شاعری کی کچھ منیر انور کی اور کچھ اپنی بھی! یہی باتیں کرنے کی غرض سے میں منیر انور کے شعری مجموعے ’’روپ کا کندن‘‘ سے اشعار نقل کر رہا تھا کہ اس شعر نے مجھے گویا جکڑ لیا:
بڑا بلیغ اشارہ تھا اس کی باتوں میں
ہمارا ذکر تھا اور راہ کے غبار کی بات

یہاں منیر انور کتنی سہولت سے ہلکے پھلکے انداز میں کتنے بڑے دکھ کا اظہار کر گیا ہے! یہ دکھ صرف منیر انور کا دکھ نہیں ہے، محسوسات رکھنے والا ہر شخص کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں ایسی کیفیت سے ضرور گزرتا ہے۔ اس اکیلے شعر میں کیفیات، حقائق، معاشرتی اور شخص رویے اور کتنے ہی موضوعات سموئے ہوئے ہیں۔ اس ایک شعر پر ایک مبسوط مضمون لکھا جا سکتا ہے مگر یہاں میرے لئے ایسا کرنا دشوار ہے کہ مجھے روپ کے کندن میں جھلکتی تپش کو بھی بھگتنا ہے، اور منیر انور کی کچھ سوچتی ہوئی مسکراہٹ کو بھی۔

بڑا عجیب آدمی ہے یہ شخص بھی! کچھ نہ کچھ کہنے پر اکساتا رہتا ہے؛ فون پر بات ہو تب، آن لائن ہو تب، اور نہ ہو تب بھی۔ ایسے شخص کے ساتھ گپ شپ تو بہت کی جا سکتی ہے، مگر بات لکھنے پہ آ جائے تو سوچنا بھی بہت پڑتا ہے۔ وہ ہے بھی بہت حساس اور اتنا مجبور ہے کہ اپنے احساسات کا ذرا سا بھی پردہ نہیں رکھ سکتا۔ اس کا چہرہ، اس کی آنکھیں بلکہ اس کی آواز بھی سب کچھ احساس بن جاتا ہے۔ ایسی کیفیت کا تو مشاہدہ ہی دل کے تاروں کو جھنجھنا دیتا ہے اور میرے جیسا شخص سوچتا رہ جاتا ہے کہ کچھ کہوں؟ نہ کہوں؟ کیا کہوں؟ کیا کروں؟ اتنے سارے سوال اور اس پر یہ کہنا کہ:
دیکھ کتنا ترا خیال کیا
تجھ سے کوئی نہیں سوال کیا
مجھ پہ الزام کم نوائی ہے
کوئی سنتا تو بولتا یارو

اس کی باتیں کوئی سنے بھی کیا، اتنی نفاست سے سچ بول جاتا ہے کہ یار لوگ اتنی نفاست سے جھوٹ نہیں بولتے۔ وہ اپنے مخاطب کو حسابِ سود و زیاں کے سیلِ بے اماں میں دھکیل کر خود بھی سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔
میں بھی اب سوچتا ہوں سود و زیاں
وہ بھی محوِ حساب لگتا ہے

پھر، پتہ نہیں منیر انور کیا کچھ سوچنے لگتا ہے! اپنے جیسے لوگوں کے بارے میں، اور اپنے جیسوں پر سوار لوگوں کے بارے میں، اپنے معاشرے کی بے سمتی کے بارے میں، اجتماعی حالت اور حالات کے بارے میں؛ سوچنے والوں کو کمی کس بات کی ہے! بات بہت دور چلی جاتی ہے، اسے یوں لگتا ہے کہ ہماری مٹی کو کچھ ہو گیا ہے۔
یہ کیسی بے مروت سرزمیں ہے
یہاں سب کے رویے اجنبی ہیں
یہاں انساں ہیں کم منصب زیادہ
کوئی مخدوم کوئی خان زادہ
کوئی رفیق، نہ منزل نہ کوئی رختِ سفر
یہ کس خمار میں کس سمت کو چلے ہو تم

ساتھ ساتھ بہلاوے بھی تو بہت ہیں، اور حالات کی یا اپنی فکری بے سروسامانی کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ہم ایک ہی سوراخ سے بیسیوں بار ڈسے جا چکے ہیں پھر بھی ایڑی وہیں رکھی ہے۔ آگہی نام کی سپنی کے زہر میں بھی کیا نشہ ہے کہ جس کو یہ ایک بار ڈس لے وہ عذاب بھی سہتا ہے اور اسی سپنی سے بار بار ڈسوانا بھی چاہتا ہے۔ منیر انور کی اذیت کے نشے میں سرشار کچھ سسکاریاں نقل کر رہا ہوں۔
کہاں پہ کس نے ہمیں کس قدر تباہ کیا
سوال کتنے ہیں لیکن جواب کوئی نہیں
محبت، امن، احساں، بھائی چارا
انہی لفظوں سے پھر بہلا رہے ہیں

خود ساختہ خیر خواہوں کا وعدے پر وعدہ، جسے پورا کرنے کا ارادہ کسی کا بھی نہیں ہوتا، انسان بے زاری اور بے یقینی میں مبتلا ہے اور شام و سحر کے نسل در نسل پروان چڑھتے اندیشے انسانیت کو اندر ہی اندر کھائے جا رہے ہیں۔ منیر انور کے کچھ شعر نقل کرتا چلوں جن میں اس کا دکھ کسی سحرِ بے درماں کی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
یہی انسان کو کھائے چلا جاتا ہے اندر سے
یہی اندیشۂ شام و سحر آہستہ آہستہ
میرے لوگوں کو نئے خواب دکھائے اس نے
میرے صحراؤں کو بے فیض گھٹائیں دے کر

ایسے میں کوئی کیا امیدیں پالے گا، بھلا؟ کہ مسئلہ صرف خیرخواہوں کا نہیں، مسئلہ ہماری طرزِ فکر کا بھی ہے۔ برگ و بار کی آرزو کے مارے ہوئے یہ بھول رہے ہیں کہ پھل محض آرزوؤں سے نہیں ملتا، کچھ کر گزرنے سے ملتا ہے۔
یہاں شجر کا شجر داؤ پر ہے نادانو!
تمہارے لب پہ وہی شاخ و برگ و بار کی بات

میں نے کہا ہے نا، منیر انور بہت جذباتی آدمی ہے۔ ایسے شخص کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک دم جیسے مایوس ہو گیا اور سب سے اچھی بات بھی یہی جذباتیت ہوتی ہے کہ امید کا ایک تنک منک سا جگنو اس کی فکر میں کئی سورج اگا دیتا ہے۔ میں بھلا کیا کہوں گا، منیر انور کے یہ شعر خود پڑھ لیجئے۔
جگنوؤں کی ضیا چھن گئی دوستو
تتلیوں کا زمانہ ہوا ہو چکا
ایک سادہ سی مسکراہٹ نے
زندگی بخش دی نہال کیا
تیرے لہجے سے حوصلہ پا کر
گنگنانے لگی حیات مری

منیر انور خود تو الجھتا ہی ہے اپنے قاری کو بھی الجھا دیتا ہے۔ اس سے ملنے جلنے والا کوئی بھی شخص اس کو جیسے جیسے جانتا جاتا ہے، مشکل میں پڑتا جاتا ہے، کہ اس کی سادگی تک رسائی کیوں کر ہو گی! کمال کا آدمی ہے!
ہم نے ہر حال میں گزاری ہے
ہم نے ہر حال میں کمال کیا
کتنے برسوں کا سفر خاک ہوا
اس نے جب پوچھا کہ کیسے آئے

تاہم وہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے کہ جس کا بقول انور مسعود کوئی حسابی تجزیہ کیا جا سکے کہ اس میں اتنے فی صد محبت ہے، اتنے فی صد غصہ ہے، اتنے فی صد نازک خیالی ہے۔ منیر انور پر ہی کیا موقوف، ہم کسی بھی انسان کو اس انداز میں نہیں پرکھ سکتے۔ اثرات جیسے بھی ہوں، حاصل کوئی بھی ہو، جذبات ہوتے بہت لطیف ہیں اور اس رعایت سے جذبات نگاری بہت نازک کام ٹھہرتا ہے۔ بات ملنے کی ہو، شرمانے لجانے کی ہو، مل کر بچھڑنے کی ہو، لہجے کی ہو، بھول جانے اور یاد رکھنے کی ہو، تاثرات کی ہو، نگاہوں کی ہو؛ ہر بات کے ہزار پہلو ہوتے ہیں۔ منیر انور ان ہزار پہلو کیفیات کا اظہار بھی ویسے ہی کرتا ہے کہ اس کے شعر میں ہزار نہ سہی بہت سارے پہلو اس حد تک ضرور کھل جاتے ہیں کہ اس کا قاری ان کو محسوس بھی کرتا ہے اور لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔
اس کا انکار ٹھیک تھا لیکن
اس کا لہجہ سنا تھا؟ کیسا تھا؟
عجب اک اضطراری کیفیت ہے
اسے بھی بھول جانا چاہتے ہیں
ہوا ہے اس پہ چاہت کا اثر آہستہ آہستہ
شفق اتری تو ہے رخسار پر آہستہ آہستہ
میں نے پھر بات ہی بدل ڈالی
اس کی آنکھوں میں اک سوال تو تھا

یہاں انسان بہت عجیب و غریب صورتِ حال سے دوچار ہوتا ہے۔ تعلقِ خاطر اور اس کی اہمیت بجا، محبوبیاں اور محجوبیاں اپنی ہی ایک اہمیت رکھتی ہیں، تاہم ان کے ساتھ ساتھ ایک انانیت بھی ہوتی ہے۔ اس کے بھی ہزار روپ ہیں، کہیں وہ خود داری ہے تو کہیں خود پرستی، کہیں خود شناسی ہے تو کہیں خود فریبی۔ ذات کے شعور کے سارے کرشمے انسان کے اندر ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں، اور جوں ہی اظہار کا ایک معتبر ذریعہ میسر ہو، یہ شعور سب پر آشکار ہونے لگتا ہے۔ منیر انور کی خود شناسی کے اظہار میں اس کا مخاطب کہیں محبوب ہے تو کہیں اقتدار، کہیں اس کے ہم جنس ہیں تو کہیں اس کے افرادِ خانہ، جن میں اس کی راحتِ جاں بھی شامل ہے اور جیتے جاگتے پھول اور کھلونے بھی۔ جہاں وہ کسی اور کو اس مکالمے میں شریک نہیں پاتا وہاں اس کی خود شناسی ایک ایسی خود کلامی کا روپ دھار لیتی ہے کہ ایک عالم ہم کلام محسوس ہوتا ہے۔ میں یہاں اپنے قاری کو بھی اس مکالمے میں شریک کرنا چاہوں گا۔
ترے در پر صدا دیتے دُبارہ
ہم اس انداز کے سائل نہیں تھے
گئے تھے ہم بھی فقط رسم ہی نبھانے کو
اور اس کا طرزِ عمل بھی منافقانہ تھا
بس وہی لہجہ، تحکم، خود نمائی، خود سری
کچھ نیا ہرگز نہیں تھا آپ کے پیغام میں
تم تو بس یوں ہی پریشاں ہو گئے ہو دوستو
عمر گزری ہے ہماری قریۂ دُشنام میں
یہ کم نظر نہیں سمجھیں گے داستانِ الم
کسی پہ حالِ دلِ زار آشکار نہ کر
چند لوگوں کی خوش خیالی سے
قبر تھی اک جو آستانہ بنی
راہ میں ہے جو سمندر حائل
یہ مری ذات بھی ہو سکتی ہے

یار لوگوں نے بہت دیر تک یہ بحث چھیڑے رکھی کہ شاعری میں مقصدیت کا کتنا حصہ ہونا چاہئے۔ ہر ایک اپنی اپنی راگنی گایا کرتا اور اس میں مست رہتا۔ بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملیں، پر یہ ضرور ہوا کہ اپنا ایک خیال یا پیش نظریہ سا بن گیا۔ میں شعر کہتا ہوں، منیر انور شعر کہتا ہے تو کیا ایسے ہی کہہ دیتا ہے بس؟ بات حلق سے اترنے والی نہیں ہے۔ یہ جو ہولناک پہنائیوں کی حامل کائنات ہے، اس میں ہزاروں لاکھوں دنیائیں ہیں، یہ سب کچھ ’’بس یوں ہی‘‘ تو ہو نہیں سکتا۔ میں بات کرتا ہوں تو مجھے کچھ نہ کچھ کہنا ہوتا ہے! مقصد ہی تو ہوتا ہے کہ ایک بات، ایک خیال، ایک احساس، ایک نظریہ، ایک سوچ، ایک کیفیت کسی نہ کسی کو بتانی ہے، اب اس کو کوئی جتنا نکھار سنوار لے۔ اس کی بنیاد میں جتنی سچائی زیادہ ہو گی اتنی تاثیر بھی زیادہ ہو گی اور جتنی سادگی زیادہ ہو گی اتنی سہولت بھی زیادہ ہو گی۔ کوئی جھوٹ بولے بھی تو اپنے آپ سے کیا جھوٹ بولے گا؟ اور بولے گا بھی تو کب تک؟ منیر انور نے عقل مندی کی کہ جھوٹ کے اس چکر میں پڑا ہی نہیں۔ بات پھر پھرا کر وہیں پہنچ جاتی ہے جو میں پہلے عرض کر چکا۔ ان شعروں میں بھی دیکھ لیجئے، وہی ایک سادہ سا، بلکہ سیدھا سادہ، راست گو منیر انور بولتا سنائی دیتا ہے جو لچھے دار باتیں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر کرتا نہیں۔ اسے تو اپنے مقصد سے غرض ہے اور اس بات سے کہ قاری اس کو کتنی سہولت سے پا لیتا ہے۔
ذرا سا اپنے گریباں میں جھانکئے انور
گلہ درست نہیں آسمان والے سے
جل رہا ہے مرے ہمسائے کا گھر اور میں بس
اپنی دیوار کو شعلوں سے بچانا چاہوں
چور کے ہاتھ کاٹنے سے قبل
غور کر لیجئے عوامل پر
کہا اس نے کہ منزل اور کتنی دور ہے انور
کہا میں نے ہمیں اِس دھند کے اُس پار جانا ہے
دائرے سے نکال دے کوئی
ہم کو رستے پہ ڈال دے کوئی
جو میں نہ ہوتا سرِ دار دوسرا ہوتا
کسی کو خلقِ خدا کی زباں تو ہونا تھا
آدمی مانے نہ مانے ورنہ پہلے روز سے
اس میں انور اک عیارِ خیر و شر رکھا گیا
جو بات آج سرِ بزم کہنے والا ہوں
وہ جان جائے تو شاید کبھی نہ کہنے دے
ابھی ابہام غالب ہے مگر کھل جائے گا انورؔ
کمالِ خوبئ دستِ ہنر آہستہ آہستہ

یہاں بھی منیر انور سیدھی سچی بات کر گیا کہ ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو کھلے گا، تاہم وقت لے گا۔ کوئی بڑا بول بولے بغیر وہ بڑی بات کہہ گیا ہے۔ بات سے بات نکلتی ہے، کبھی نکالا بھی کرتے ہیں؛ فن جو ٹھہرا! بات سے بات نکالنے کے اس عمل کو تخلیقیت کہہ لیجئے یا مضمون آفرینی، قریب قریب ایک ہی بات ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کبھی عار نہیں رہا کہ مضمون بندی یا مضمون نگاری اور چیز ہے ،مضمون آفرینی اور چیز ہے۔ اس نکتے پر تفصیلی گفتگو کسی اور موقع پر اٹھائے رکھتے ہیں، یہاں منیر انور کے ہاں مضمون آفرینی کے کچھ نمونے دیکھ لئے جائیں۔
میں اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا زمانہ تھا
وہ میری کھوج میں نکلا بکھر گیا آخر
حوصلے سے سہارنا غم کو
درد کو بے وقار مت کرنا
بچھڑ کے مجھ سے اسے ماننا پڑا یہ بھی
وہ معتبر تھا اگر تھا مرے حوالے سے
جل بجھا ہے چمن کا ہر بوٹا
راکھ باقی ہے سو، ہوا لے جائے
پھول کب کا بکھر چکا انورؔ
پتیاں بھی کوئی اٹھا لے جائے
وہ بہت زود رنج ہے لیکن
لب پہ آئی ہنسی کا کیا کیجے

منیر انور نے بڑی سادگی سے اپنی خاموشی اور کم گوئی کی بات بھی کر دی اور اس کا جواز بھی لے آیا، مگر وہ کم گو ہے نہیں! یہ الگ بات کہ وہ معدودے چند الفاظ میں طویل واردات کو بیان کر جائے اور یہی الگ بات کسی شاعر کی الگ شناخت بھی بن سکتی ہے۔ چھوٹی بحر میں بڑی بات کہہ جانا مضمون آفرینی اور انشا پردازی کا ایسا برتاؤ ہے جو ہر کس و ناکس کے حصے میں نہیں آتا۔ منیر انور ایک انشائیہ نگار کے انداز میں ایک بات میں کئی باتیں چھیڑ کر چل دیتا ہے اور قاری کا ذہن پلٹ پلٹ کر اس کے لفظوں کی طرف آتا ہے۔ میرے ساتھ تو یہی ہوا ہے، دیگر قارئین کے بارے میں کیا عرض کروں شعر پیش کر دیتا ہوں۔
شام ڈھلے مل بیٹھیں گے
تیری یادیں، ہم، تارے
ہمیں کچھ حوصلہ سا ہو گیا ہے
ہوئی ہے صاف جب ان کی جبیں کچھ
ہزار بحرِ حوادث کو مات دی لیکن
کسی کی آنکھ کا آنسو ڈبو گیا ہم کو
میرے بچے اداس رہتے ہیں
کام سے وقت ہی نہیں ملتا
یہ فقط اشک تو نہیں انور
خواب آنکھوں میں جھلملاتے ہیں
اتنے وہ مختار نہیں
جتنے ہم ہیں بے چارے
موسموں کی تبدیلی
رنگ تو دکھاتی ہے

شعری فنیات کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں، اور اس موضوع پر تفصیلی مباحث کا یہ موقع بھی نہیں۔ قارئین کو منیر انور کی کتاب ’’روپ کا کندن‘‘ میں شامل مندرجہ ذیل غزلوں کا خصوصی مطالعہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔
مناظر شہر قصبے اجنبی ہیں
تخاطب لفظ لہجے اجنبی ہیں
ہاں، موسمِ بہار بھی باقی نہیں رہا
ہاں، تیرا انتظار بھی باقی نہیں رہا
اب مری راہ سے ہٹا سپنے
اب کسی اور کو دکھا سپنے
تھوڑی سی مٹی کی اور دو بوند پانی کی کتاب
ہو اگر بس میں تو لکھیں زندگانی کی کتاب
یوں نہیں ہے کہ یہیں کوئی نہیں
سوچنے والا کہیں کوئی نہیں
ربط باہم بحال کر انور
تو ہی کوئی سوال کر انور
ملا تو دے کے جدائی چلا گیا آخر
ہمارے حصے میں تنہا سفر رہا آخر
خول سے اپنے نکل آئیں جناب
اس جہاں پر غور فرمائیں جناب
تیرے بام و در پتھر
پھینک بے خطر پتھر

منیر انور نے پنجابی میں بھی غزل اور نظم کہی ہے۔ اگرچہ کم کہی ہے مگر جتنی کہی ہے عمدہ کہی ہے، اور اس زیرِ نظر کتاب میں شامل کر دیا ہے۔ اس کا مطالعہ ہم بعد میں کسی وقت کریں گے۔ ابھی ان کی اردو نظموں کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔ ’’دائمی روشنی‘‘، ’’کرب کا موسم‘‘، ’’تذبذب‘‘، ’’کم مائیگی‘‘، ’’حادثہ‘‘، ’’کہا تو تھا‘‘، ’’مشورہ‘‘، ’’گم گشتہ‘‘، اور ’’ فہمائش‘‘؛ کل نو نظمیں ہیں سب میں مشترک خوبی اختصار ہے۔ عنوانات کا تسلسل، اس سے قطع نظر کہ یہ اتفاقی ہے یا ارادی، قابلِ توجہ ہے۔ ’’تذبذب‘‘ انتظار کے دنوں کا صلہ ہے۔ ’’کم مائیگی‘‘ کچھ نہ کہہ سکنے پر دکھ کا اظہار ہے؛ ’’حادثہ‘‘ تین سطروں میں کل چودہ الفاظ (درد کی کسی رو میں ... اس نے کہہ دیا آخر ... کاش ہم نہیں ملتے)، جو حساس قاری کے ایک ایک طبق پر دمک اٹھتے ہیں۔ ’’کہا تو تھا‘‘ نارسائی کا ایسا دکھ ہے جس میں اپنی ذات سے زیادہ کسی دوسرے کا احساس اجاگر ہے۔ ’’مشورہ‘‘ دائمی فراق کے اولین لمحات پر ایک ایسے کرب کا اظہار ہے، جسے محسوس ہی کیا جا سکتا ہے، حیطۂ الفاظ میں نہیں لایا جا سکتا۔ ’’دائمی روشنی‘‘ چھ ابیات پر مشتمل مثنوی مادرِ وطن کے حوالے سے ندامت اور عزمِ نو پر مشتمل عمدہ اظہاریہ ہے۔ ’’کرب کا موسم‘‘ دورِ حاضر کے سدا بہار المیوں پر ایک مختصر اور پرتاثیر معرّٰی نظم ہے۔ ’’ فہمائش‘‘ دوہری معنوی سطح کی حامل نظمِ معرّٰی ہے جس میں ماں کی جدائی کا درد بہت نمایاں ہے۔

منیر انور کی اردو اور پنجابی نظموں اور غزلوں کی بہت خاص بات ان کی سادہ لفظیات ہے۔ اور وہ ہے کہ انہی سادہ سادہ لفظوں سے بڑے بڑے مفاہیم و مطالب پیدا کر جاتا ہے۔ اس کے سادہ سے اسلوب میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جو مجھے خواجہ حیدر علی آتشؔ کا یہ شعر یاد دلا گیا۔
تکلف سے بری ہے حسنِ ذاتی
قبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے


۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ سوموار: ۷؍ جولائی ۲۰۱۴ء ۔