ہفتہ، 25 اگست، 2018

میں کاٹ دی




میں کاٹ دی




          ابو خاصے پریشان تھے کہ اب کی بار قربانی کا کیا ہو گا۔ منڈی میں کام کا جانور شاذ و نادر دکھائی دیتا تھا۔ کوئی اچھا بکرا دکھائی دے جاتا تو بیچنے والا ستر ہزار، اسی ہزار مانگ لیتا۔ ابو کہتے تھے: ایسا نہ ہو کہ اچھے جانور اور مہنگائی کے چکر میں قربانی ہی جاتی رہے، محلے میں کسی کے ساتھ گائے میں حصہ رکھوا لو، چھوٹا جانور اچھا بن گیا تو وہ بھی لے لیں گے، نہ بنا تو کم از کم عیدِ قربان خالی تو نہیں جائے گی۔ عید ہو اور ہمارے ہاں قربانی نہ ہو؟ پچھلے چالیس برس میں ایسا نہیں ہوا، الحمد للہ۔ ابو کو یہی دھڑکا لگا تھا کہ اب کی بار کہیں ایسا ہو ہی نہ جائے۔ اس گھر کی تو روایت تھی کہ عیدالفطر کے قریب قریب کبھی رمضان کے اواخر میں کبھی شوال کے شروع میں ایک دو جانور خرید لاتے، دو مہینے ان کی خوب ”ٹہل سیوا“ ہوتی ، چارہ، دانہ، چَرائی، نہلانا دھلانا یوں ہوتا کہ جانوروں کے لئے کبھی بچوں کو اور کبھی امی کو بھی جھاڑ پلا دی جاتی کہ یہاں صفائی کیوں نہیں ہوئی، یہ جگہ گیلی کیوں ہے؛ وغیرہ۔

          ابو دفتر سے آتے تو جانوروں کی خدمت میں جُت جاتے۔ انہیں باہر گراؤنڈ میں لے جاتے،گھاس چَراتے، درختوں کی نرم شاخیں توڑ توڑ کر تازہ پتے کھلاتے۔ کپڑوں پر جانوروں کا پیشاب مینگنیاں لگتی ہیں تو لگتی رہیں، کوئی پروا نہیں۔ امی کہتیں: ”اپنے کپڑوں کا تو خیال کر لیا کرو، نماز پڑھنے جوگے بھی نہیں رہتے“۔ تنک کر کہتے: ”تو پھر دھو دو، اِن کو؛ صبح تک سوکھ جائیں گے۔ دانہ وَنڈا مجھے دو، ان کو کھِلا لوں، پھر بدل لوں گا کپڑے بھی!“۔ روزانہ دفتر جانے سے پہلے ایک طویل ہدایت نامہ جاری کرتے کہ ان کو پانی ایسے نہیں پلانا، ایسے پلانا ہے، جگالی نہ کریں تو مجھے فون کر دینا، بارش کا موسم ہے ان کو برآمدے میں باندھ لو؛ وغیرہ وغیرہ۔

          امی اُن سے بھی دو ہاتھ آگے ہوتیں: ”اے لڑکیو! اِ بے زبانوں کو کچھ کھانے کو دیا ہے؟ نہیں دیا نا؟ کھیل میں مگن ہو؟ اے میں کہتی ہوں، تمہارے باپ نے ان کو لا کے باندھ تو دیا ہے، بھوکے پیاسے رکھنے کو! اے لو، میری بھی مت ماری گئی، سبز چارہ تو وہ خرید کر دے گئے جاتے ہوئے، دانہ گھر میں پڑا ہے۔ اٹھو نکمیو! کھیلنا ہے تو اِن کے ساتھ کھیلو، قربانی کے جانور ہیں، لاڈ پیار تو اِن کا حق بنتا ہے“۔

          عید کے دن، نماز پڑھتے ہی گھر کو بھاگتے، کسی ساتھی کی مدد سے جانور کو ذبح کرتے، کھال اتارتے میں خراب کر بیٹھتے تو شرمندہ بھی ہوتے۔ امی کہتیں کسی قصائی کو بلا لیا کرو، تو کہتے: ”نہیں، ابھی ہاتھ ٹھیک نہیں پڑتا، پڑنے لگے گا۔ قصائی والی بات دل کو نہیں لگتی، اور پھر کون اس کا انتظار کرتا رہے! سچی بات ہے خود اپنی تسلی نہیں ہوتی“۔ ہوتے ہوتے ابو کا ہاتھ گھل گیا۔ اب بھی اکثر کہا کرتے ہیں: اپنا کام اپنے ہاتھوں کرنے کا لطف بھی اپنا ہے۔ اور ان کی یہ بات صرف کہنے کی نہیں، کرتے بھی خود ہیں؛ اگرچہ اب ان کی توانائیاں ویسی نہیں رہیں۔ ریٹائر ہوئے دس برس سے اوپر ہو گئے۔ اب بیٹوں سے کہتے ہیں کہ خود سنبھالو سارا کچھ۔ کہنے کو کہہ دیتے ہیں مگر ساتھ لگے رہتے ہیں، ہر بات پر ٹوکتے ہیں، ایسے کرو، ایسے نہ کرو، تم نے نہیں ہو گا، لاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ چھری پکرٹے ہیں، ایک دو ہاتھ چلاتے ہیں اور ہانپنے لگتے ہیں: لو بھئی، اپنی جان ساتھ نہیں دیتی۔ تمہارا کام ہے، کرو۔ میں چلا اپنے کمرے میں! یہاں رہوں گا تو تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ تب ابو کا زیادہ وقت گھر سے باہر گزرا کرتا تھا۔ امی کی وفات کے بعد پورا پورا دن گھر میں پڑے رہتے۔ کوئی ملنے کو آ گیا تو آ گیا، اپنا کہیں آنا جانا ”بہت ضروری“ تک محدود ہو گیا۔ اپنے کمرے سے بھی حسبِ ضرورت نکلا کرتے، اور جب نکلتے تو ان کی آنکھیں اور ناک سرخ ہوتیں اور چہرے پر سجی مسکراہٹ میں تصنع جھلکتا۔ کوئی پوچھتا تو زکام کا بہانہ کر دیتے۔ وہ طنطنہ جو اُن کے لہجے کا خاصہ ہوا کرتا تھا، جاتا رہا۔ تاہم مزاج میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

          بات ہو رہی تھی اس عیدالاضحی کی۔ ہفتہ پہلے خالدی (بیٹے) کو پچاس ہزار دے دئے، اور کہہ دیا اچھا جانور لے کر آنا ہے۔ ایک بکرا آتا ہے تو ایک لے آؤ، دو آتے ہیں تو دو لے آؤ۔ خالدی صاحب، سارا دن گزار کر خالی لوٹ آئے، اگلے دن پھر لوٹ آئے کہ منڈی قابو میں نہیں ہے۔کہا: ”کل پھر جاؤ، پیسے اور چاہئیں تو لے جاؤ، کوئی جانور لاؤ، نہیں ملتا تو یہاں کسی کے ساتھ گائے وغیرہ میں شامل ہو جاؤ، وقت ضائع نہ کرو“۔ پھر بجھے ہوئے لہجے میں بولے: ”پانچ دن میں کوئی کیا سیوا کر لے گا، جانور دیکھ کر لانا یار، بیمار وغیرہ نہ ہو۔ ایک دو مہینے ہوں تو دوا دارو بھی ہو جاتا ہے، پانچ دن میں تو کچھ نہیں ہو سکتا“۔

          خالدی صاحب غروبِ آفتاب کے بعد پلٹے۔ کسی بکرے کا بھاؤ نہیں بنا تھا، سو وہ ایک بچھڑا لے آئے۔ بچھڑا مناسب ہی تھا۔ ایک رات تو اسے پڑوس میں دودھ والوں کے ہاں باندھا، اگلے دن فیصلہ ہوا کہ جب اپنے صحن میں کچی جگہ بھی ہے، درخت بھی ہیں، دھوپ بھی ہے سایہ بھی ہے تو پڑوسیوں کے ہاں باندھنے کی کیا ضرورت ہے، اسے گھر پر ہی رکھا جائے۔چھوٹے بچوں کی تو گویا اسی دن عید ہو گئی۔ اڑوس پڑوس سے اپنے ہم عمر بچوں کو لا رہے ہیں، دکھا رہے ہیں، ہم اس کو عید پر ذبح کریں گے؛ وغیرہ وغیرہ۔ سب سے چھوٹی ڈھائی برس کی عیشہ جانوروں کے قریب نہیں جاتی، دور سے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ اس کی لغت میں بکرا بھی ”میں“ ہے اور بچھڑا بھی ”میں“ ہے۔ دو دن بعد دو بکرے بھی آ گئے، ایک اپنے لئے اور ایک اپنے عزیزوں کا۔ بکرا اکیلا ہو تو شور بہت مچاتا ہے، دو ہوں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر چپ رہتے ہیں۔ دانے چارے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ابو کے حکم نامے گھر کے سارے افراد (خالدی، اس کی بیوی، دوسرا بیٹا، بیٹی )کے لئے پھر سےجاری ہونے لگے۔ 

          عید کا دن آ گیا۔ مرد عورتیں عید کی نماز سے واپس ہوئے۔ تو پہلے عزیز میاں کا بکرا ذبح کیا گیا، پھر اپنا۔ گوشت تیارہو گیا تو گھر والوں کو حکم دیا کہ اس کو تقسیم کریں، پکائیں، محلے کے ان گھروں میں بھیج دیں جن کی قربانی نہیں ہے۔ دن کے دو بجے کے قریب بچھڑے کی باری آئی۔پڑوس میں ایک ساتھی کا گائے ذبح کرنے اور کھال اتارنے کا تجربہ کار، اپنے بھائی کے ساتھ آ گیا تو جانور کو رسیوں وغیرہ سے باندھ کر گرایا گیا۔ چھوٹے بچے، اپنے بھی اور کچھ پڑوسیوں کے بھی، جمع تھے اور ابو اُن سب کو لے کر برآمدے میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ بچے معصومانہ سوال کرتے، ابو کا جواب دیتے اور ہر آدھے منٹ بعد بچوں کو یاد دلاتے کہ جانور کے قریب نہیں جانا، چوٹ بھی لگ سکتی ہے؛ وغیرہ۔

          خالدی صاحب نے بچھڑے کا سر مضبوطی سے پکڑ کر زمین سے چپکایا ہوا تھا، کہنے لگا: ”ابو، وہ ذبح والی چھری دیجئے ذرا“۔ ابو اٹھے خالدی چھری پکڑائی اور چارپائی پر آ گئے۔ انہوں نے دیکھا عیشہ ایک دم پریشان ہو گئی اور اس کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا، اس نے منہ بسورا اور پھر رونے لگی: ”نہیں نہیں نہیں“!۔ تب تک بچھڑے کی گردن پر چھری پھر چکی تھی۔بچی ایک دم دھاڑیں مار کر رونے لگی: ”میں کاٹ دی، میری میں کاٹ دی“۔ اس کا رونا خون دیکھ کر یا ڈر کی وجہ سے نہیں تھا، بچھڑے سے لگاؤ کی وجہ سے تھا۔وہ یوں بلک بلک کر رو رہی تھی کہ اس کا درد صرف محسوس کیا جا سکتا تھا، بیان نہ ہو پاتا۔ ابو اسے اٹھا کر اند لے گئے، وہ ہچکیوں میں کہہ رہی تھی : ”پھوپھو! بابا میں کاٹ دی! ماما! بابا میں کاٹ دی“۔ ”بیٹا! وہ تو ہم لائے ہی کاٹنے کے لئے تھے! میں اللہ کےپاس گئی“ مگر بچی تھی کہ روئے جا رہی تھی: ”بابا، میں کاٹ دی۔ بابا اچھے نہیں“۔ ابو سے زیادہ شاید ہی کوئی اس بچی کا مزاج آشنا ہو گا۔ وہ شدید بے چینی کے عالم میں کبھی برآمدے میں چلے جاتے کبھی اپنے کمرے میں۔ بچی کا کرب ان کے چہرے پر عیاں تھا؛ پھر انہوں نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ بچی رو رہی تھی، اسے کوئی کھلونا دیتے تو پھینک دیتی، ماں بلاتی تو کہتی : میں بولتی نہیں۔ خالدی صاحب اندر آئے عیشہ کو مخاطب کیا تو کہنے لگی: ”میں بولتی نہیں، بابا اچھے نہیں، میں کاٹ دی“۔ بڑوں کے پیار، چمکار کے اثر سے کوئی گھنٹہ بھربعد بچی پر سکون ہو گئی اور پھر سو گئی۔ ابو کمرے سے باہر نکلے تو سب نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ اے کاش ہماری میں  بھی کسی طور کاٹی جا سکے! قربانی تو اُس کی ہے جس نے یہ میں کاٹ دی۔


تحریر: محمد یعقوب آسیؔ
ہفتہ      25 اگست 2018ء
  



6 تبصرے:

  1. بہت خوبصورتی سے تانا بانا بنتے ہوئے غیر متوقع لیکن بھرپور اختتام کیا۔۔۔ اسی میں کے تو سارے جھگڑے ہیں۔ خوش رہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. نہایت خوبصورت تمثیل ۔۔۔ اسی کا نام تو قربانی ھے !

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت خوبصورت تحریر۔۔۔۔ سچے موتیوں کی لڑی لگتی ہے۔۔۔ ایسے جیسے سارے منظر میں نے بھی دیکھے ہوئے ہیں۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. یہ اپنی زندگی معمول کے پیش منظر ہیں، محترمی رانا صاحب۔ نظر کا زاویہ کبھی پس منظر کو اجاگر دیتا ہے تو لگتا ہے کوئی بھولی ہوئی بات یاد آ گئی، یا کہ ایسے تو سوچا ہی نہیں تھا!!۔ آپ کی جانب سے اس حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں۔

      حذف کریں