پیر، 4 ستمبر، 2017

عقل ہی جاتی رہی



عقل ہی جاتی رہی

تفصیل اِس اجمال کی کچھ یوں ہے۔

ایک مریضِ بحرِ عریض و بسیط کو غوطہ زنی کا شوق ایسا چرایا کہ نئے ابحار تلاشیں اور ان پر ستم فرمائی کریں۔ ابحار والا کام تو آن جناب کے بس کا نہیں تھا، بلکہ غوطے کا سوچ کر ہی ان کی سانس غبارہ اور پھر غبار ہو گئی۔ انہوں نے ابحار کو بدل کر بحور کر لیا۔ اور نظر انداز شدہ بحر تلاش کر لی۔ یہ "تلاش کر لی" بھی ہمارا حُسنِ ظن ہے، ان کا معاملہ شاید بٹیر ہاتھ لگ جانے والا رہا ہو۔ انہوں نے اس  بحرِ کوبیدہ کا کچھ نام بھی ارشاد فرمایا تھا جو ہمارے سر سے خاصی محفوظ بلندی سے گزر گیا۔ اتنی بلندی پر سے کہ ہمارا پلہ بھی بچا رہا۔  خیر گزشت، اور ہم یہ داستانِ غمِ عَلَم سنانے کو محفوظ رہ گئے۔ اس بحر کا زحاف گزیدہ نام خود بحر کی ضخامت سے بڑا رہا ہو گا، سو، ہم اسے بحرِ عریض و بسیط کا نام عطا کرتے ہیں۔ غواص مذکور کے مطابق بحر کے ارکان ہیں: فاعلاتن فاعلن فاعلاتن فاعلن ۔

ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم آن جناب کے لئے اردو میں مروج جملہ بحور کا رجسٹر تیار کر کے آن جناب کی خدمت میں زبر زیر پیش کریں اور تنوین منصوب کے طورپر یہ بھی وضاحت کریں کہ اردو کے شعرا کے ذوق پر کون سا مرض طاری ہو گیا ہے، جس سے ان کا ذوقِ گہرہائے نیلی فام ہم کنارِ مرگِ ناگہان ہوا۔ تحقیقِ عمیق کے بعد جان کی امان یقینی بناتے ہوئے عرض کیا: اردو شعر کا مزاج اس بحر کے شایانِ شان نہیں ہے۔ عربی اور فارسی میں بھی ہم ابیات تو نہیں ڈھونڈ پائے البتہ کچھ گیت میسر ہوئے ہیں، جن کے سارے ابحار دیپک راگ کی تپش کا شکار ہو کر ہوا ہو گئے۔ دیپک راگ کے نام کی خاصیت تھی یا کیا تھا، یہ تو ہمارے محدود علم میں نہیں، ہم نے موصوف کے رُخِ  "دِیپا" کو متغیر اور پھر  سرخ مثلِ بوزنہ ہو تے دیکھا تو پتلی گلی میں سے ہو کر نکل گئے۔

مگر کہاں تک! اگلے دن ہمیں پا بہ جولان کر کے جنابِ مریض کے حضور پیش کر دیا گیا۔ انہوں نے ہمارے جرم سے کہیں زیادہ کڑی اور بے رحم سزا کے طور پر اپنے کچھ ارشادات کی ضرباتِ شدیدہ میں مبتلا کیا، اور پھر کمال غضب و لطف مخلوط کے ساتھ ارشاد فرمایا: سنا تم نے؟ اردو شعراء کا مزاج فی الواقع اس بحرِ ذخار کے شایان نہیں۔ ہم نے اس میں یہ غزل فرما کر اردو کو اس گوہرِ گراں مایہ سے سرفراز کیا ہے۔ اردو والوں کو ہمارا ممنون و مقروض رہنا چاہئے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے ضربات میں شدت اتنی تھی کہ ہم ایک کو چار گنتے رہے۔ ہمارے حساب سے گنتی اسی (80) تک پہنچ کر رک گئی۔ اسی کوڑوں کی سزا سے مماثلت کے ساتھ ساتھ ہمارے ذہن میں یہ رنج بھی متواتر سسکاریاں لیتا رہا کہ کاش وہ یہاں بے چاری  غزل کی حرمت کو پامال نہ کرتے! ہزل بھی وہ نہیں رہی ہو گی (اس کی ضربات ہزل نما ہرگز نہیں تھیں)۔ یوں بھی ہم اس کو ہزل قرار دے دیتے تو پتہ نہیں غزل کے نام کیا کچھ ایسا سننا پڑتا کہ ہماری حالت غزال پسِ زندانِ آہنی جیسی ہو جاتی۔ اتنی کہ شاعر لوگ ہمارے نالہ و شیونِ آہوانہ کو غزلِ حقیقی کا نام دے دیتے۔

ہم جناب مریض عروضانی سے کیا انتقام لیتے، مرے نوں مارے شاہ مدار کے مصداق اپنا غصہ بھی اس صنفِ مقہور پر نکالا اور اپنے تئیں اسی بحرِ عریض و بسیط میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد (انگوٹھوں سمیت) کی رعایت سے پورے دس مصرعے کہہ دیے۔ یہ تو ہمارے مہربانوں کا حسنِ نظر اور حسنِ ظن ہے کہ ہماری اس انتقامی کاروائی کو غزل کا مقام دینے میں بھی متامل نہیں۔ ہمارا دوسرا دکھ بے چاری بحرِ رمل مثمن محذوف سے وابستہ ہے۔ وہ بے چاری ہماری بے بسی کے اس ٹھڈے کا شکار ہو گئی جو ہم نے خیالوں حضور شاعر کی طرف اور عملاً ہوا میں چلایا تھا۔ اس کی ضرب سیدھی بے چاری کی کمر میں پڑی اور پورا ایک مہرہ (سببِ خفیف) ایک لمحے میں عالمِ غیاب میں چلا گیا۔ اب کے چلتی ہے تو چل نہیں پاتی۔

اپنے ارشد عزیز نے تو خیر ہماری اس غزل کی درگت بنتے دیکھی ہے۔ چال کی لڑکھڑاہٹ نہ تو اپنے روشن دماغ جناب منیر انور سے چھپی رہی، نہ اپنے شہزاد عادل کی زیرک نگاہی سے۔ اپنے ابوذر نے تو سارا نزلہ ہی ہم پر ڈال دیا کہ اس بے چاری کمر نہ توڑنے میں کیا حرج تھا؟اپنے ان عزیز دوستوں کو حرج اور ہرج کے ہجوں اور معانی میں الجھا چھوڑ کر ہم آپ کو پتے کی ایک بات بتاتے ہیں۔

اس انحطاط زدہ اور رو بہ زوالِ مزید زمانے میں کوئی شاید ہمیں یوں بھی یاد رکھ لے کہ تھا وہ اک یعقوب آسیؔ جس نے ایک غیرمانوس بحر میں پورے پانچ شعر کہے۔ تاہم یہ خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے کہ جو بھی ان دس مصرعوں کا ذکر کرے گا، خود ہماری مندرجہ بالا گزارشات بلکہ تلخ نوائی کو کیسے بھول جائے گا؟ جہاں ہم نے چالیس ہم وزن سطروں کو برداشت کر لیا، وہاں آپ بھی ان دس سطروں کو برداشت کر ہی لیں گے، کہ ان پر اشعار کا شائبہ تو ہو سکتا ہے۔

ہم سے بچھڑے آپ کیا، ہر خوشی جاتی رہی
زندگی، تیرہ شبی! چاندنی جاتی رہی

حیف خود بینی مری، کھا گئی میری شناخت
خود نمائی رہ گئی، بے خودی جاتی رہی

درد کی پہنائیاں، زیست کا ساماں جو تھیں
وہ متاعِ جاں جو تھی، لٹ چکی، جاتی رہی

خود کو اس کے ہاتھ میں دے دیا اچھا کیا
دل پہ جس کا بوجھ تھا، بے کلی جاتی رہی

ہاں مگر اک بات ہے، زیست کرنا آ گیا
ہو کے پیوندِ زمیں، سر کشی جاتی رہی

ایک گزارش ہے!شہزاد عادل والی نہ چلائیے گا کہ "عقل ہی جاتی رہی"۔



محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔۔۔  سوموار: 4 ستمبر 2017ء ۔

1 تبصرہ: