پیر، 25 جولائی، 2016

مہکتی بولیاں





مہکتی بولیاں

بولی پنجابی  لوک شاعری کی بہت قدیم اور مقبول صنف ہے۔ اس کا صرف ایک مصرع ہوتا ہے، جس کا ایک مخصوص وزن ہے۔ اس وزن سے ہٹ جائے تو اس کو بولی  نہیں کہا جا سکتا۔ عام خیال یہی ہے کہ یہ صنف پنجاب میں زمانہ قدیم سے مقبول ہے۔  پنجاب کی مٹی میں گندھی ہوئی اور سرسوں کی مہک سے لدی اور ہوئی یہ صنف اپنے اندر نہ صرف بے پناہ ثقافتی رچاؤ رکھتی ہے بلکہ کومل جذبات کے اظہار کا ایک خوبصورت وسیلہ بھی ہے۔ مثال کے طور پر:
لے جا چھلیاں بھنا لئیں دانے، مترا دور دیا
ٹانگا آ گیا کچہریوں خالی، سجناں نوں قید بول گئی
جوگی اتر پہاڑوں آیا، چرخے دی گھوک سن کے
یار چھڈیا گلی دا پھیرا، پنجاں دے تویت بدلے

گزشتہ دہائی کے دوران وطنِ عزیز کی علاقائی زبانوں کی اصناف میں اردو شاعری کا رجحان کھل کر سامنے آیا ہے۔ ان تجربوں میں ماہیا، کافی اور دوہا، جو پنجابی سے آئی ہیں، نمایاں ہیں۔ یہ خیال بھی گزشتہ دہائی میں پنپا کہ پنجابی لوک شاعری کی قدیم صنف بولی  کو اردو میں لایا جائے۔ بولی میں، چونکہ، ایک خاص لے میں رہتے ہوئے، ایک مصرعے میں خیال مکمل کرنا ہوتا ہے، لہٰذا یہ اظہار میں جامعیت کی متقاضی صنف، اختصار کی بہت عمدہ مثال ہے۔ 

فن کے حوالے سے بولی کی پوری چال چوبیس ماتراؤں کی ہوتی ہے۔ پہلے چرن میں چودہ ماترائیں ہوتی ہیں، پھروسرام جو بالعموم خالی ہوتا ہے۔تاہم اس میں دو ماتراؤں تک کی گنجائش ہے۔ دوسرے چرن میں دس ماترائیں ہوتی ہیں۔ لوک بولی کے پہلے چرن کے شروع میں لگھو آئے یا گورو، چرن کا اختتام گورو پر ہوتا ہے۔ بولی کا حسن یہ ہے کہ وسرام پر مضمون کاپہلا حصہ مکمل ہو جائے۔یعنی اظہار کے اعتبار سے بولی کا پہلا چرن بیت کے پہلے مصرعے کی طرح ہو اور دوسرا دوسرے مصرعے کی طرح؛ دونوں چرن مل کر ایک مضمون مکمل کریں۔ گائیکی کے تقاضوں سے قطع نظر، وسرام خالی ہو تو اچھا تاثر دیتا ہے بشرطے کہ پہلے چرن کے آخری لگھو کو کھینچ کر پڑھا جا سکے۔ 

اردو عروض میں اس کا قریب ترین وزن فعلن (چھ بار) یعنی بارہ سبب کے برابر بنتا ہے۔ تاہم اس میں دو تین باتوں کو دھیان میں  رکھنا ہو گا:  
۔(1) معنی اور بُنَت دونوں اعتبار سے بولی کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ سات سبب کا ہے۔ اس میں شعر کے مصرعے کی طرح مضمون کا ایک حصہ آتا ہے۔ دوسرا حصہ پانچ سبب کا ہے، معانی کے اعتبار سے اس کو شعر کا دوسرا مصرع سمجھ لیا جائے۔ 
۔(2) ہر حصہ سبب خفیف (ہجائے بلند) پر ختم ہو گا۔ عروض میں وسرام کی گنجائش نہیں ہے، اس کو حذف کر دیا گیا ہے۔  
۔(3) بولی میں حرکات و سکنات کی ترتیب میں سخت پابندی لازم نہیں۔ تاہم  ایک سے زیادہ سبب ثقیل (دو سے زیادہ ہجائے کوتاہ) متواتر نہ آئیں۔  بولی کا اختتام سبب خفیف پر ہونا چاہئے۔

 جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے، جیسے پہلے کہا جا چکا، بولی  پنجاب کی دھرتی سے پھوٹی ہے۔ اس میں موضوع کوئی بھی ہو پنجاب کی ’’رہتل‘‘ کا عنصر غالب رہتا ہے۔ چھلیاں، کھلیان، دانے، مکئی، ٹانگا، کچہری، قید، جوگی، گھوک، چرخہ، پھیرے، تویت، پتن، دریا، کھیتی، ہل، پنجالی، واہن، کھال بنے، بیڑی، پگ، گوری، سَک، سُرمہ، مَجھ، گاں، ساگ، سرہوں، اچار، امبیاں، کھٹے،مکھن، دُدھ، کھُوئی، ٹاہلی، بیری، توت، تیلی، نتھ، مندری، اور ایسے بے شمار دیگر ثقافتی مظاہرہیں جو بولی کا تانا بانا بناتے ہیں۔ چند مثالیں اور دیکھئے:
نتھ والی نے بھنا لئے گوڈے، تیلی والی کھال ٹپ گئی
کچی ٹٹ گئی جنھاں دی یاری، پتناں تے رون کھڑیاں
نہ جا چھڈ کے دیس دوآبہ، امبیاں نوں ترسیں گی
میرے یار نوں مندا نہ بولیں، میری بھانویں گت پٹ لے

لوک صنفِ شعر کو ’’لوک‘‘ اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ ایک تو اس کے اولین شاعر کا نام حتمی طور پر معلوم نہیں ہوتا دوسرے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے کی وجہ سے اور کچھ مقامی لہجوں کے زیرِ اثر، مقبول فن پاروں میں لفظی سطح پر بھی فرق آ جاتا ہے؛ کہیں کم کہیں زیادہ۔ ایک اہم فرق وسرام کے خالی یا پر ہونے کا بھی ہوتا ہے۔ کسی گلوکار نے بھی اگر گائیکی کی سہولت کے لئے پر کر دیا تو وہ صورت بھی چل نکلی۔ لہٰذا اس میں لفظی فرق کی بحث پر غلط یا صحیح کا فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر منقولہ بالا چاروں بولیوں کی مندرجہ ذیل عبارت بھی یکساں طور پر مقبول ہو سکتی ہے:
نتھ والی نے بھنا لئے گوڈے، تے تیلی والی کھال ٹپ گئی
کچی ٹٹ گئی جنہاں دی یاری، اوہ پتناں تے رون کھڑیاں
ناں جا چھڈ کے دیس دوآبہ،نی امبیاں نوں ترسیں گی
میرے یار نوں مندا نہ بولیں،تے میری بھانویں گت پٹ لے

’’لوک شاعری کرنا‘‘ بڑی عجیب سی اصطلاح ہو گی، پہلے بیان ہو چکا کہ وہاں شاعر عام طور پر معلوم نہیں ہوتا۔ جب کہ میں اگر بولی تخلیق کرتا ہوں تو میرا نام بھی اس کے ساتھ چلے گا۔ اس لئے یوں کہنا مناسب تر ہو گا کہ میں نے لوک شاعری کے تتبع میں کچھ بولیاں کہنے کی کوشش کی ہے ( اگر حسنِ اتفاق سے میری کوشش کو لوک کی حیثیت حاصل ہو جائے تو یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہو گا)۔ بولی کے فطری مزاج کے تحت میری طبع زاد بولیوں کے مضامین بھی زمین اور تہذیب سے جڑے ہوئے ہوں گے، تاہم جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے شاعر اپنے گردو پیش سے بھی بے گانہ نہیں رہ سکتا۔ سو، میری کہی ہوئی بولیوں میں کچھ مضامین روایت سے کسی قدر ہٹے ہوئے بھی آئے ہیں۔ بہ این ہمہ میری کوشش رہی ہے کہ ان کا اسلوب روایت سے جڑا ہوا ہو اور تشبیہات و استعارات زمین سے پھوٹتے ہوئے محسوس ہوں؛ ملاحظہ فرمائیے۔
پھل جھڑ گئے کریڑی نال سڑ گئے، ٹہنیاں تے کنڈے رہ گئے
ساڈے وَیریاں نال یارانے، وِیراں وچ وَیر وَڈھواں
اسیں ویچ گھراں دے بوہے، گلی چ گواچے پھردے
اج سورج لہندیوں چڑھیا، تے برفاں چ اگ لگ گئی
میرا سہمیا شہر کراچی، سمندراں چوں سپ نکلے
بوسنیا چ بُسکن بچڑے، تے مانواں دیاں نینداں اڈیاں
کندھاں چیچنیا دیاں چیکن، دھرتی نے دھاڑاں ماریاں
موت پنڈ دیاں گلیاں چ نچدی، حویلیاں چ واجے وجدے
تیرے پیڑ کلیجے اٹھدی، تے ویکھدا میں، کِویں ہسدوں
چنی لاہ دے چنار دیے نارے، نی اج تیرے وِیر مر گئے
اک ماراں مارے گجھیاں، تے رون وی نہ دیوے چندرا
جس منگویں عینک لائی، اوہ دوجیاں نوں راہ دَسدا
کیہ دسیے انکھ دے قصے، جے سر اتوں پگ ڈگ پئے
ہن میرے لک نوں آوے، اوہ پہلوں میری بانہہ بھن کے
موت بوہے اگے بھنگڑا پاوے، حویلی چ دھمالاں پیندیاں
میری گندل ورگی وینی ویکھیں وے کتے توڑ نہ دئیں

پروفیسر انور مسعود نے ۱۹۹۰ء میں ایک انٹرویو میں مشورہ دیا تھا کہ یہ پنجابی لوک شاعری کی سوغات ہے، اس میں آپ ایک سطر میں پوری نظم بیان کر جاتے ہیں۔ اس صنف کو اردو میں لانا چاہئے۔اکثر اصناف کے ساتھ یہ ہوا کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہونے پر ان میں وہ اصل ثقافتی رچاؤ کم ہو گیا؛ اردو ماہئے مثال ہمارے سامنے ہے۔ عین ممکن ہے کہ بولی کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو، تاہم میں نے پنجابی کی اس مقبول صنف کو اردو کا جامۂ اظہار دینے کی ابتدائی مشق کے طور پر کچھ بولیاں کہیں جو ماہنامہ ’’کاوش‘‘ ٹیکسلا (اکتوبر ۱۹۹۹ء) میں شائع ہوئیں۔ میری اولین کاوش ہونے کی وجہ سے مضامین اور خیال کی گہرائی اور گیرائی شاید وہ نہ رہی ہو گی جو اصل یعنی لوک پنجابی بولی میں پائی جاتی ہے۔ تاہم میری ارادی کوشش تھی کہ موضوعات اور اسلوب روایتی رہیں تاکہ ایک دم اجنبیت کا احساس پیدا نہ ہو (کہ زبان بدلی تو مضامین بھی جاتے رہے)۔ 
دل کا ہے کھیل انوکھا دونوں ہارتے ہیں
دو آنسو، اک رومال، اک شیشی خوشبو کی
اک تیری یاد کا ساون، اک رومال ترا
کہیں دور کوئی کرلایا، آدھی رات گئے
پھر پھول کھلے زخموں کے، درد بہار آئی
شبِ تار فراق کی آئی، اشکوں کے دیپ جلیں
اک ہجر کا مارا تڑپا، دھرتی کانپ اٹھی
اک تارا دل میں ٹُوٹا، زخمی اشک ہوئے
من ساون گھِر گھِر برسا، روح نہال ہوئی
یادیں الّھڑ مٹیاریں، کیسی دیواریں
ترے شہر کے رستے پکّے، کچّا پیار ترا
وہ سانجھ سمے کی سرسوں، یہ دل کولھو میں
کہیں دور کوئی کرلایا، دھرتی کانپ اٹھی
دل جھل مل آنسو جگنو، تارے انگیارے
اک بیٹی ماں سے بچھڑی، رو دی شہنائی
سپنے میں جو تو نہیں آیا، نندیا روٹھ گئی
بیلے میں چلی پُروائی، میٹھی تانوں کی
پھر یاد کسی کی آئی، جیسے پُروائی
میں نے ہجر کی تان جو چھیڑی، بانسری رونے لگی

دوستوں سے بے تکلفی اور فکری سانجھ کی بدولت کچھ شگفتہ نگاری بھی در آیا کرتی ہے۔ اسے آپ چاہیں تو ’’تجربہ‘‘ قرار دے دیں، مگر میرے نزدیک یہ افتادِ طبع کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ چند نمونے پیش کرکے اپنی گزارشات کا اختتام کرتا ہوں:
دے کے کال کرن دا لارا، ترنجاں چ جٹی رُجھ گئی
جٹ بنیاں تے پھردا بڈورا، ہتھ چ موبائل پھڑ کے
جیہڑے پنڈ نوں نہ جانا ہووے، اوہدا کاہنوں راہ پچھنا

شذرہ:
اس مضمون میں ماہنامہ ’’کاوش‘‘ ٹیکسلا(اکتوبر ۱۹۹۹ء) میں شائع شدہ مضمون کے کم و بیش سارے مندرجات آ گئے ہیں۔ طبع زاد اردو بولیاں میری اردو نظم کی کتاب ’’مجھے اک نظم کہنی تھی‘‘ (اشاعت ۲۰۱۵ء) میں، اور پنجابی بولیاں میری پنجابی شاعری کی کتاب ’’پنڈا پیر دھرُوئی جاندے‘‘ میں شامل ہیں۔

محمد یعقوب آسیؔ .... سوموار: ۲۵؍ جولائی ۲۰۱۶ء


جمعہ، 15 جولائی، 2016

اصطلاحات کی اردو میں تحویل






اصطلاحات کی اردو میں تحویل


ایک توجہ طلب بات! کہ ہم کسی  لفظ کو کیوں بدلنا چاہتے ہیں؟ ظاہر ہے سہولت کے لئے اور اس لئے کہ اپنے انفرادی علمی میدان کے مطابق ہر شخص ان الفاظ، اصطلاحات اور اسماء کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور سمجھا سکے۔ اب اگر میں انگریزی کا ایک مشکل لفظ نکال کر اس کی جگہ فارسی یا عربی کا اتنا ہی مشکل لفظ ڈال دوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ تراجم آسان تر ہونے چاہئیں۔ اس میں ادبیت اور تراکیب سازی کا اہتمام قطعاً ضروری نہیں۔ ہمارے اصطلاح ساز کے ہاں کچھ رابطہ الفاظ (کا، کے، کی، اور، پر، میں، سے؛ وغیرہ) پتہ نہیں کیوں ناپسندیدہ ہیں۔ یا ہم عربی اور فارسی ترکیب سازی کا جو ماحول ادب کی زبان میں دیکھتے ہیں وہی بازار اور لیبارٹری میں بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اصطلاحات سازی میں اردوئے معلیٰ یا مسجع زبان کی بجائے تفہیم، بلاغت اور ادائیگی کی سہولت کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے۔

زبان تو زندگی کے سارے میدانوں کے لئے ہوتی ہے اور ہر علمی میدان کی طرح عملی شعبوں کی لفظیات بھی اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ جمالیات، قواعدِ لسان، صرف و نحو، ترصیع و تسجیع کی اہمیت بالکل بجا، مگر اپنے میدان میں! اصطلاحات کی تحویل میں ہمیں اپنے لوگوں کو زبان دان نہیں بنانا ان کے لئے آسانی پیدا کرنی ہے اور ان کے شعبوں کو زبان دینی ہے؛ زبان دانی کا شعبہ الگ ہے۔ اپنے اپنے شوق، رجحانات اور ترجیحات پر ہر فرد کو آزادانہ فیصلے اور مزید طلبِ علم کا اختیار حاصل ہے۔ 

روزمرہ کی زبان کے طور پر اصطلاحات اور تراجم میں اگر ہم ایسی تفصیلات میں پڑ جائیں مثال کے طور پر "ربڑ ایک درخت کا نام بھی ہے، غلیل میں لگنے والی فیتی بھی ربڑ ہوتی ہے۔ شیشوں کے درمیان اور رگڑ کو روکنے کے لئے بھی ربڑ ہوتی ہے، ان سب میں لفظی سطح پر بھی فرق ہونا چاہے"۔ میرا نہیں خیال کہ یوں ہم کوئی آسانی بہم پہنچائیں گے۔ اپنے اپنے فیلڈ کے لحاظ سے ایک ہی لفظ متعدد مفاہیم بھی رکھ سکتا ہے۔ ایک دو مثالیں: ۔۔ گوڈا ۔۔ مستری کا اپنا ہے، پہلوان کا اپنا ہے، ہڈی جوڑ والے کا اپنا ہے، ٹھنڈی کُٹ کا اپنا ہے، حتیٰ کہ چاند کا گوڈا اپنا ہے۔ ۔۔ ہانڈی ۔۔ مستری کی اپنی ہے، باورچی کی اپنی ہے، عطار کی اپنی ہے، خمیر اٹھانے والے کی اپنی ہے، انجینئر کی اپنی ہے۔ کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنا، نہ ہانڈی کا نہ گوڈے کا۔ ایسے الفاظ رائج کیجئے۔ عوام بھی سمجھتے ہیں، خواص بھی سمجھتے ہیں اور کم و بیش ہر متعلقہ شخص کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ کس ہانڈی یا کوڈے کی بات ہو رہی ہے۔

اطباء مولی کے نمک کو مولی کا نمک کیوں نہیں لکھتے، جوہرِ بادنجان  ہی کیوں لکھتے ہیں؟   ہومیو پیتھی والوں سے کوئی پوچھے کہ (AquaTurmerika) ہی کیوں، ہلدی کا پانی کیوں نہیں؟ عام خوردنی نمک جو بازار میں 10 روپے کلو ملتا ہے میڈیکل سٹور پر وہ 500 روپے کا 50 گرام کیسے ہو جاتا ہے؟ اس کا ایک اجنبی سا نام جو کسی جناتی زبان میں لکھا ہوتا ہے اور بس! وہ انگریزی بھی نہیں ہوتی! 

ایک زمانے میں ہمیں جنرک ناموں کا دورہ بھی پڑا تھا۔ ڈیٹول ساٹھ برس پہلے بھی اسی نام سے  معروف تھا، آج بھی اسی نام سے معروف تھا۔ دورے کے زمانے میں اسے جو نام تفویض کیا گیا وہ کم از کم ایسا ضرور تھا کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آتی تھی، جرثومے بھی نام سنتے ہی مرگِ مفاجات کا شکار ہو جاتے ہوں گے! اس فقیر کی طرف سے یادِ ماضی کا ایک تحفہ سمجھ لیجئے! وہ تھا: diiodohydrooxychloroxylenol ۔ کہئے کیسا لگا! 


ع: میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند



محمد یعقوب آسیؔ

جمعہ 15 جولائی، 2016ء

بدھ، 15 جون، 2016

نیلا کالا آسمان





نیلا کالا آسمان


بسمل بزمی کے چہرے پر خوف اور پریشانی کے سائے لہراتے دیکھ کر ہمارا فکرمند ہو جانا عین فطری عمل تھا۔ یہ حضرت تو ہر بات کو چٹکی میں اڑا دیا کرتے ہیں، آج کیا ہوا۔ ہمارے استفسار پر کہنے لگے: "مجھے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، اور پھر وہیں مر مُک جاؤں گا۔ میری مدد کرو یار بدرِ احمر۔" پوچھا: پتہ بھی تو چلے آخر کون سا آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔ بولے: "تمہیں پتہ ہے لغویات برداشت کرنا میرے بس میں نہیں۔" یہ کہا اور سوچ کے بحرِ مردار میں ڈوب گئے۔ جیسے بھی بن پڑا ہم انہیں کھینچ کھانچ کے لالہ مصری خان کے ہاں لے گئے۔

خان لالہ کے بارے میں یہ جو کہتے ہیں کہ ان کے سامنے مجسمہء آزادی میں پنہاں عشتار دیوی کی بے لباس روح بھی فرفر بولنے لگے، کچھ ایسا غلط نہیں ہے۔ بزمی صاحب جو وہی اپنا کہا دہرائے جا رہے تھے: "مجھے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، اور پھر وہیں مر مُک جاؤں گا"۔ لالہ کی ایک دھاڑ پر پانی ہو گئے اور لگے گھگیانے، نیلے آسمان، چیتے اور گدھے کی کہانی سنا ڈالی۔ وہ کہانی آپ کو نہیں پتہ؟ چلئے اس کا خلاصہ سن لیجئے۔

گدھا کہتا تھا "آسمان کالا ہے"، چیتا کہتا تھا "نہیں! نیلا ہے"۔ بات بڑھی تو شاہِ بیاباں تک پہنچی، دونوں کی طلبی ہو گئی، مؤقف سنا گیا۔ حکم جاری ہوا کہ "چیتے کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے۔"چیتا پریشان کہ مؤقف بھی میرا درست اور سزا بھی مجھی کو؟ وہ بے وقوف صاف بچ نکلا؟ عرض کیا: "بادشاہ سلامت! ایسا کیوں، کیا میں نے غلط کہا؟" حاکم گَرجا: "نہیں! تو نے سچ کہا اور تجھے سزا سچ کہنے کی نہیں ملی۔ تجھے سزا ملی ہے اس بات کی کہ تو نے گدھے سے بحث کیوں کی؟"

لالہ مصری خان نے کہا تو  کچھ نہیں، چیتے کی سی خشونت بھری نظروں سے بسمل بزمی کو گھورا؛ پھر ان کا بلند بانگ قہقہہ دیر تک فضا میں دھاڑتا رہا۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ خان لالہ کے قہقہے میں ڈھیچوں ڈھیچوں کا تاثر کیوں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدرِ احمر بدھ 15 جون 2016ء

جمعہ، 27 مئی، 2016

لفظ (یاد) رہ جائیں گے ۔۔۔ احمد فاروق







لفظ (یاد) رہ جائیں گے

محمد یعقوب آسی کے فنِ شعر پر احمد فاروق کا مختصر تبصرہ (بہ شکریہ: اَدَب زار)



یہ جو ایک مسلمہ طرزِ نقد و نظر رائج ہے کہ شاعر کے ہاں فلاں فلسفہ، یہ جذبات اور وہ خیالات پائے جاتے ہیں اور یہ کہ ان اجزا کی موجودگی اس دعوے کا کافی و شافی ثبوت ہے کہ یہ شاعری ہے، مجھے اس سے اختلاف ہے۔ کیا اگر فلسفہ جذبات اور خیالات نثر میں بیان کر دیے جائیں یا محض منظوم کر دیے جائیں تو یہ شاعری بن جائیں گے؟

شعر بننے کے لئے بنیادی عنصر لفظ کا برتنا (بلکہ بسر کرنا) ہے۔ برتنے کا ہنر تو لفظ کے برتن میں اپنے معانی ڈال دے۔ ادھر لفظ کے اندر پہلے سے بھرے معانی ہی چھلکائے جا سکیں تو بڑی بات ہو۔ اور پھر لفظ جوڑ کر ایسا مصرع بنانا جو لفظوں کی بے روح قطار کی تہمت سے بچ سکے کارِ دیگر ہے۔
بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

حشو و زوائد سے پاک مصرع زبانِ حال سے دعویٰ کرے کہ اک لفظ ہو نہ پائے اِدھر سے اُدھر مرا۔ پھر لفظوں کو یوں ہم آمیز کرنا کہ آمیختہ نئے معانی سے چمک جائے، کہ پتھر کے ٹکڑے مل کر پانی کا سا بہاؤ دکھائیں۔ فطرت کی مرصع سازی سے ایک مثال دیکھیں کہ آکسیجن کے اپنے معانی، ہائیڈروجن کے اپنے معانی، ان کی بندش سے بنا پانی، یکسر مختلف کہ اجزا کے معانی یک قلم منسوخ۔ مگر ان اجزا کو یوں ملانا ایک جوکھم ہے۔

اس سب جوکھم سے عہدہ برآ ہونے کی مثالیں دیکھئے:
شہر پہ چھایا ہے سناٹا
کیا جانے کب کیا ہو جائے
اُن زلفوں کی یاد دلائیں
شام کے لمبے لمبے سائے

ہم سفر کوئی نہ تھا اور چل دیے
اجنبی تھا راستہ اور چل دیے
شدّتِ شوقِ سفر مت پوچھیے
ناتواں دل کو لیا اور چل دیے
اہل محفل کی جبینیں دیکھ کر
خوش رہو، ہم نے کہا، اور چل دیے
عشق پروانوں کا بھی سچا نہیں
شمع کا شعلہ بجھا اور چل دیے

میری بچی بھولپن میں بات ایسی کہہ گئی
مجھ کو یاد آئیں بڑی شدت سے اماں جان کل

کیا خبر کیسی کیسی بہشتیں نظر میں بسا لائے تھے
مر گئے لوگ شہرِ بلا میں اماں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
میرے جذبوں کے بازو بھی لگتا ہے جیسے کہ شل ہو گئے
سرد لاشوں میں ٹھٹھری ہوئی بجلیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
یوں خیالوں کی تصویر قرطاس پر کیسے بن پائے گی
لفظ کھو جائیں گے فن کی باریکیاں ڈھنڈتے ڈھونڈتے
ہم سا بے خانماں ہو کسی رنج میں مبتلا کس لئے
اپنا گھر ہی نہ تھا تھک گئیں آندھیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
لو، کسی کوئے بے نام میں جا کے وہ بے خبر کھو گیا
روزناموں میں چھپتی ہوئی سرخیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
آدمی کیا ہے یہ جان لینا تو آسیؔ بڑی بات ہے
سوچ پتھرا گئی رشتۂ جسم و جاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے

میں اسے دیکھتا تھا، وہ مجھ کو
خامشی میں کلام کیا کیا تھے
شہر میں ہم اداس رہتے ہیں
دشت میں شاد کام کیا کیا تھے
شام ہونے کو آئی تو سوچا
آج کرنے کے کام کیا کیا تھے
جو ستارے بجھا دیے تو نے
گردشِ صبح و شام! کیا کیا تھے

بند کوچے کے دوسری جانب
راستے بے شمار نکلے ہیں

زندگی اک دم حسین لگنے لگی مجذوب کو
اک نگاہِ ناز نے کیا کیا نہ جادو کر دیے
تھا وہ اک یعقوب آسیؔ دفعتاً یاد آ گیا
میری گردن میں حمائل کس نے بازو کر دیے

ازل کے حبس کدوں میں چلی ہوا تازہ
نگاہِ ناز نے وا کر دیے ہیں باب عجیب

من پاگل جو ساری رات بناتا ہے
لے جاتا ہے دِن تصویریں بھی اپنی

اس شہر کا کیا جانئے کیا ہو کے رہے گا
ہر شخص بضد ہے کہ خدا ہو کے رہے گا

سرِ شام ہے جو بجھا بجھا یہ چراغِ دل
دمِ صبح پاؤ گے اطلاعِ فراغِ دل

اعتماد اپنے لکھے پر کچھ مجھے یوں بھی ہوا
پڑھتے پڑھتے بھول جاتا ہوں، بتا دیتے ہیں دوست

زندگی درد کا دریا ہی سہی پر، ہمدم
موج در موج بڑا لطف ہے پیراکی میں

عمر نے چہرے پہ صدیوں کی کہانی لکھ دی
زندگی ٹیڑھی لکیروں نے لکھی ہاتھوں پر

آپ کرتے ہیں بات خوابوں کی
اور ہم نیند کو ترستے ہیں
اک عجب سلسلہ شکست کا ہے
اشک بھی ٹوٹ کر برستے ہیں

فلسفہ، جذبات، خیالات آپ جانیں، مجھے تو ان اشعار میں وہ لفظ ملے جو یاد رہ جائیں گے۔

احمد فاروق .... بدھ ۲۵؍ مئی ۲۰۱۶ء


منگل، 24 مئی، 2016

صفا سے صفا تک




صفا سے صفا تک

پہلا منظر
حجاز کا وسیع صحرا، آگ برساتا ہوا سورج، جھلستی ہوئی ریت پر اٹھتی گرم ہوا کے بگولوں سے بنتے ہوئے سراب؛ ان سب نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک مشتعل الرأس شتر سوار،ردیف ایک عورت اور ایک شیرخوار بچہ؛ ، جھلسا دینے والے سرمئی پتھر پر مشتمل دو پہاڑیوں کے بیچ پھیلی ڈھلان پر سواری رکتی ہے۔ وہ تینوں اونٹ سے اترتے ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان ہونے والا مکالمہ سرسراتی گرم ہوا کا حصہ بن جاتا ہے۔ دونوں مل کر ایک مختصر سا خیمہ گاڑتے ہیں۔ مرد کچھ دیر رکتا ہے، پھر اونٹ پر کجاوہ کستا ہے، اور سوار ہو جاتا ہے۔ عورت سے بچہ لے کر اپنی گود میں بٹھاتا ہے، عورت اونٹ کے پاس ہی کھڑی ہے: ’’آپ ہمیں یہاں کیوں لائے ہیں اور کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں‘‘۔
’’یہ میرے اللہ کا حکم ہے اور اس کا سہارا کافی ہے‘‘۔
’’ایسی بات ہے تو جائیے، اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے۔ پھر کب آئیں گے؟‘‘
’’جیسے اور جب میرا اللہ چاہے گا‘‘ یہ کہہ کر بچہ عورت کے حوالے کر دیتا ہے، دونوں کو دعائیں دے کر اونٹ کو ہانک دیتا ہے۔ عورت اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ وہیں رک جاتی ہے۔ حدِ نگاہ تک بانجھ ریت پھیلی ہوئی ہے،نہ آدم نہ آدم زاد، نہ کوئی درخت نہ جھاڑی۔ آسمان کی ویران پہنائیوں میں اڑتا ہوا کوئی ایک پرندہ بھی دکھائی نہیں دیتا ۔ عورت اپنا مختصر سا کھانے کا سامان اور پانی کی مشک کو سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیتی ہے اور بچہ فطرت کے عطا کردہ چشموں سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔ لطف اندوز کیوں نہ ہو! وہ اپنی ماں کی گود میں ہے، اُسے گود سے باہر کے عالم سے کیا سروکار!
سورج کی تپش میں کمی ہونے لگتی ہے اور وہ دونوں پہاڑیوں کے درمیان سے تا حدِ نظر پھیلے ریت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ ماں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتی ہے اور اس رحمان و رحیم سے مخاطب ہوتی ہے جو ہزاروں لاکھوں ماؤں سے زیادہ مہربان ہے۔ رات کی تاریکی پھیلتی جا رہی ہے اور ماں کے لبوں اور آنکھوں سے بہتے دعاؤں کے چشمے جاری ہیں۔
***
دوسرا منظر
ماں پر ایسا کڑا وقت آن پڑا ہے کہ کسی پر کیا آیا ہو گا۔ پانی کا مشکیزہ تک خالی ہو چکا ہے اور فطرت کے چشموں سے بچے کی سیرابی مشکل ہو گئی ہے۔بچہ بلکنے لگتا ہے تو ماں اس کو خیمے میں لٹا کر جنوبی سمت والی پہاڑی پر جا چڑھتی ہے۔ صحرا کا منظر پہلے دن جیسا ہی ہے، دور دور تک انسان تو کیا کوئی پرندہ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ ماں پہاڑی سے اتر آتی ہے۔بچہ خیمے میں اکیلا ہے؛ یہ سوچ ماں کے قدموں کو مہمیز بن جاتی ہے، وہ دوڑ کر خیمے تک پہنچتی ہے، بچے کو دیکھتی ہے تو اور پریشان ہو جاتی ہے۔ پھر شمالی سمت والی پہاڑی کی طرف جاتی ہے، پہاڑی پر چڑھتی ہے، ادھر بھی وہی عالم ہے۔ پھر وہی بچہ خیمے میں اکیلا ہے؛ وہی پہاڑی سے اتر کر خیمے کی طرف دوڑنا؛پھر جنوب والی پہاڑی کی طرف! ماں اللہ کی رحمت کا یقین دل میں لئے دونوں پہاڑیوں کے بیچ بھاگتی رہتی ہے۔
اسے بھاگتے میں بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ تڑپ کر خیمے کے پاس پہنچتی ہے تو ایک حیرت انگیز منظر اس کا منتظر ہے۔ بچے کے پیروں کی طرف ریت سے پانی رِس رہا ہے جو ذرا سی دیر میں چشمہ بن جاتا ہے۔ اس غیر معمولی نعمت کی عطا پر اس کی مسرت سنبھالے نہیں سنبھلتی اور وہ جوش میں پانی سے کہہ اٹھتی ہے: زَم! زَم! (ٹھہر جا، ٹھہر جا)۔ وہ پانی کے گرد ایک منڈیر سی بنا دیتی ہے، بچے کو پلاتی ہے خود پیتی ہے اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ پانی صرف پیاس کو نہیں بھوک کو بھی سیر کرتا ہے۔ نہ وہ ریت بانجھ رہتی ہے اور نہ وہ خطہ ویران رہتا ہے۔ ’’زَم زَم‘‘ اب تک چل رہا ہے اور اس کا پانی دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہا ہے۔
***
تیسرا منظر
تجارتی اور دیگر قافلے اس خطے میں نہیں رکتے کہ قرب و جوار میں نہ کوئی آبادی ہے نہ نخلستان اور نہ کہیں پانی ہے۔ صفا اور مروہ سے کسی قدر ہٹ کر ایک گزرگاہ پر ایک قافلہ جا رہا ہے۔ایک نوجوان حدی خوان اچانک چیخ اٹھتا ہے: ’’بابا کہاں ہیں! بابا کہاں ہیں‘‘۔
’’میں ادھر ہوں، جوان! اپنی سواری میرے برابر لے آؤ ... ہاں، بولو کیا بات ہے، کیا ہوا جو تم حدی پڑھتے پڑھتے ایک دم شور مچانے لگے؟‘‘
’’وہ دیکھئے بابا! وہ آسمان پر سفید پرندے! میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے‘‘۔ عمر رسیدہ امیر کی نظریں آسمان کی طرف اٹھتی ہیں تو وہ حیرت زدہ ہو جاتا ہے: ’’یہ پرندے! یہ تو پانی کے سفیر ہیں! مگر اس علاقے میں تو پانی کہیں نہیں۔ پھر؟ یہ پرندے یہاں کیوں چکرا رہے ہیں؟ اے جوان، جا! اس پہاڑی پر چڑھ کر دیکھ! ‘‘۔
قافلہ رک جاتا ہے، لوگوں میں کھسر پسر جاری ہے۔ بڑے بوڑھوں کے لئے اس خطے میں پانی کے سفیروں کا ہونا بہت عجیب اور ان ہونی بات ہے۔اس نوجوان کی پکار ابھرتی ہے!۔ ’’ادھر کچھ ہے! دونوں پہاڑیوں کے بیچ ایک خیمہ گڑا ہے!‘‘
’’اچھا، تم وہیں ٹھہرو! میں آ رہا ہوں‘‘۔ امیر اپنے چند سواروں کے ساتھ پہاڑی کی چوٹی پر آتا ہے۔ اور پھر وہ لوگ وادی میں اتر آتے ہیں۔ لق و دق صحرا میں ایک چھوٹا سا خیمہ، اس میں ایک عورت اور اس کا شیر خوار بچہ، سواری بھی کوئی نہیں! مزید حیرت کی بات ہے۔
گفتگو ہوتی ہے۔قافلے والے یہاں پڑاؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ سیدہ ہاجرہ فرماتی ہیں: ’’اس وادی میں کہیں بھی خیمہ زن ہو جاؤ، مگر یاد رہے کہ پانی پر حق میرا ہے‘‘۔ اس وادی میں آبادکاری کا یہ اولین معاہدہ ہے جو نہایت پرامن ماحول میں طے پاتا ہے۔ قافلہ وادی میں آن اترتا ہے خیمے لگنے لگتے ہیں، کچھ عورتیں سیدہ کے ارد گرد جمع ہو جاتی ہیں۔ خاموش سرسراتی وادی میں جانوروں، گھنٹیوں اور انسانوں کی آوازیں کھنکنے لگتی ہیں۔ امن کے شہر مکہ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔

وقت گزرتا رہا، سیدنا اسماعیل علیہ السلام شیرخواری سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی طرف گامزن ہوئے۔ تو چاہِ زمزم کے والی قرار پائے۔ اس وقت کسے معلوم تھا کہ اسی کنویں کے آس پاس وہ مقدس گھر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے کسی نامعلوم زمانے میں تعمیر کیا تھا۔ عرشِ عظیم پر واقع بیت المعمور کی عین سیدھ میں زمین پر یہ گھر، جو ریت کی دبیز تہوں میں چھپ چکا تھا، جنات اور انسانوں کے لئے قبلہ تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم کی تعمیل میں پھر اس وادئ ایمن میں اترے۔ بیٹے کو ساتھ لیا اور اللہ کی طرف سے بتائی گئی نشانیوں کی روشنی میں ریت کی تہوں سے اس گھر کی بنیادیں تلاش کر لیں۔ باپ بیٹے نے مل کر معمار کا کام کیا ، پتھروں اور گارے سے جیسا اللہ نے چاہا ویسا ایک مکعب نما گھر تعمیر کیا اور جنت سے آیا ہوا ایک سفید چمکدار پتھر
اس کی متعینہ جگہ پر دیوار میں نصب کر دیا۔سیدنا اسماعیل علیہ السلام اس گھر کے متولی مقرر ہوئے۔ یہی بیت اللہ ہے یعنی اللہ کا گھر، مسجدِ حرام، خانۂ کعبہ۔ بیت اللہ کی تعمیر مکمل ہو چکی تو خالقِ ارض و سما کی طرف سے حکم آیا کہ اس گھر کو لوگوں کے لئے صاف ستھرا کریں اور لوگوں کو پکاریں کہ آؤ یہ تمہارے معبودِ حقیقی کا گھر ہے، یہاں طواف کرو، عبادت کرو، اعتکاف کرو اور اللہ کی طرف سے برکات سے نوازے جاؤ گے۔ باپ بیٹے نے دعا کی:
الٰہ آخر، یہاں بسا ایک شہر ایسا
کہ جس کے باسی
ترے جہاں کی ہر ایک نعمت سے بہرہ ور ہوں
اللہ کی حکمتوں کے قربان جائیے، وہ چشمہ جو ایک شیر خوار بچے کے قدموں سے پھوٹا تھا، وہ اس اکیلے بچے اور اس کی ماں کے لئے نہیں تھا۔ وہ وہاں آ کر آباد ہو جانے والوں کے لئے بھی تھا اور اللہ کے گھر کی زیارت اور حج کے لئے اور وقوف و اعتکاف کرنے والوں کے لئے بھی ہے، اور اسے تا قیامت جاری رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے پانی میں کچھ ایسے خواص رکھ دئے ہیں جو دنیا جہان کے کسی اور پانی میں نہیں۔
***
چوتھا منظر
دِن ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوا کہ کوہِ صفا کی چوٹی سے ایک توانا آواز ابھرتی ہے: ’’یاصباحاہا! یاصباحاہا‘‘۔ عرب میں یہ پکار تب سنائی دیا کرتی تھی جب کسی پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑی ہو، کوئی رہزنی کا نشانہ بنا ہو، کوئی حملہ آور ہو رہا ہو، یا کہیں آگ لگ گئی ہو۔ لوگ باگ اپنے کام وام چھوڑ کر دوڑے کہ دیکھیں کون پکار رہا ہے اور ہوا کیا ہے۔ کسی نے دور سے دیکھ کر پہچان لیا اور پکارا: ’’یہ تو ابو قاسم ہے! ضرور کوئی بڑی بات ہو گئی ہے ورنہ وہ لوگوں کو یوں نہ بلاتا‘‘۔ لوگ جمع ہوئے پوچھا: ’’اے عبدالمطلب کے بیٹے، کیا ہوا ہے؟‘‘
’’سنو! اگر میں تم سے کہوں کہ اِس چھوٹی سی پہاڑی کے اُس پارایک لشکرِ جرار ہے جو مکہ والوں پر ابھی ٹوٹ پڑے گا، تو کیا تم یقین کر لو گے‘‘۔
’’ہاں، ہاں! کیوں نہیں؟ کہ تم نے کبھی کوئی غیرذمہ دارانہ بات نہیں کی۔‘‘
’’میں نے تم میں چالیس برس گزارے ہیں۔ تم لوگوں نے مجھے کیسا پایا‘‘۔
’’اے ابو قاسم! تم ایک شریف خاندان کے شریف بیٹے ہو۔ ہم نے تمہیں ہمیں سچا اور دیانت دار پایا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تم کوئی الٹی سیدھی بات نہیں کرو گے بلکہ وہی کہو گے جو حق ہے۔‘‘
’’تو پھر سنو! تم سب کو ایک دن مرنا ہے اور اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ جان لو کہ اللہ ہی ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے اور کوئی اس کی پہنچ سے باہر نہیں۔ اس نے مجھ پر اپنا فرشتہ اتارا ہے اور مجھے تمہاری طرف اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے۔ اس سے پہلے کہ موت تمہاری زبان اور حلقوم کو بند کر دے لا الٰہ الا اللہ کہہ دو، عرب و عجم تمہارے قدموں میں ہوں گے۔‘‘
ایک چمکتے دمکتے چہرے والا عمر رسیدہ مگر توانا شخص گرج کر بولا: ’’تجھ پر بتوں کی مار پڑے، اتنی سی بات کے لئے تو نے لوگوں کو دوڑایا!‘‘ وہ شخص اس دمکتے چہرے کی وجہ سے ابولہب کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ اللہ کریم نے اس کے بڑبولے پن اور ظلم و تعدی کا جواب رہتی دنیا تک کے لوگوں کی زبان پر جاری کر دیا۔ ’’ابولہب تباہ و برباد ہو گیا۔ اس کا مال اور اس کی کمائی کچھ بھی اس کے کام نہ آیا۔ وہ بہت جلد لپٹیں مارتی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اور اس کی عورت، خار دار ایندھن ڈھونے والی۔ اس کی گردن میں کھجور کی رسی!‘‘۔ دنیا نے دیکھا کہ ابولہب اس کے کم و بیش آٹھ برس بعد تک زندہ رہا اور اس نے مسلمانوں کا جینا حرام کئے رکھا۔ اللہ کی قدرت دیکھئے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ کا قرآن اس کے بارے میں کیا کہتا ہے، وہ ایمان کی نعمت سے محروم رہا۔ اس کی اواخر عمر کی بیماری اور موت، اس کی بیوی کا انجام سب کے سامنے ہیں۔
***
پانچواں منظر
اللہ کے گھر کے گرد لپٹی کالی چادر کے سائے میں ساتویں چکر کی تکمیل پر خود کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ چاند آدھے سے پورا یا پھر پورے سے آدھا ہو گیا ہے۔ تریسٹھ برس کی عمر، دل کا مرض، پرہیزی کھانا وہ بھی تھوڑا سا اور دوائیاں ڈھیر ساری؛ اس پر زمین کے پورے سات چکر! ریٹائرمنٹ کے بعد عام طور پر اور زوجہ مرحومہ کی رحلت کے بعد خاص طور پر اپنے کمرے تک محدود ہو جانے والے شخص نے گھٹنوں اور پاؤں کو اتنی مشقت میں کب ڈالا ہو گا۔ شاید اسی لئے بدنی محسوسات الگ ہو گئے تھے یا پھر اس کالی چادر میں جذب ہو گئے تھے۔ طبیعت ہلکی ہو گئی تھی، تھکن کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔ مسعٰی میں داخلے کے راستے کے قریب مقامِ ابراہیم کے خاصا پیچھے تھوڑی سی جگہ خالی دیکھی۔ جسم تو وہاں بیٹھ گیا مگر دل و دماغ دوسرے ہزاروں لوگوں کے ساتھ محوِ طواف رہے۔ پورے اطمینان سے دو رکعت نماز ادا کی تو وہ جو تھوڑا سا اضمحلال تھا وہ بھی جاتا رہا۔

خروج کے راستے پر آبِ زمزم کے نلکے لگے تھے۔ ریاض شاہد کا کہا یاد آیا: ’’خوب جی بھر کر پانی پیجئے گا‘‘۔ کوشش بھی کی مگر چائے کی پیالی جتنے پلاسٹک کے دو کپ ہی پی سکا تھا کہ نظر سعی میں تیز تیز قدم اٹھاتے لوگوں پر پڑی۔ یہی تو وہ راستہ ہے جس پر سیدہ ہاجرہ پانی کی تلاش میں دوڑتی رہی تھیں! پھر حلق نے پانی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مگر اس خوف سے کہ کفرانِ نعمت نہ ہو جائے پیالی بھر اور پی لیا۔
تیر کا نشان سامنے اترتے راستے پر دائیں طرف کو اشارہ کر رہا تھا کہ صفا اِدھر ہے۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔جبل الصفا کے پاس پہنچا تو پہاڑی کا کچھ حصہ شیشے کی دیوار کے اس پاردکھائی دے رہا تھا۔ سرمئی رنگ کے دیکھنے میں ملائم مگر ناہموار پتھر اپنی سختی کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ سعی کے سارے راستے پر فرش باندھ دیا گیاہے، اوپر طویل چھت ہے جو دھوپ کو کسی سمت سے بھی آنے نہیں دیتی۔ اس پر بس نہیں مسعٰی پر جگہ جگہ ٹھنڈی ہوا کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ اور آبِ زمزم سے بھرے کولر رکھ دئے گئے ہیں۔
تب تو ایسا نہیں تھا! جب ایک نبی کی بیوی، ایک نبی کی ماں ایک پہاڑ اپنی پیاس کا، اور ایک شیرخوار بچے کی پیاس کا، اٹھائے تپتی جھلستی ریت پر، جلتے سورج کے عین نیچے کبھی ادھر بھاگتی تھیں کبھی ادھر۔ اس کیفیت کا تو ادراک بھی ممکن نہیں تھا!وہ وقت کیسا ہو گا جب سورج عین سروں کے اوپر دھرا ہوگا! بھائی بھائی سے، دوست دوست سے اور بیٹا باپ سے بھاگے گا، ماں اولاد سے بھاگے گی! دل گویا دمدمہ بن گیا اور سینے کی دیوار گرنے لگی۔
خانہ کعبہ کی طرف منہ کیا تو ہاتھ از خود اٹھ گئے اور آرزوئیں، خدشات، امیدیں، دعائیں سب کچھ اشکوں کی صورت بہنے لگا، قدم اٹھنے لگے۔ راستے میں ایک مقام پر سبز روشنیاں نصب کر دی گئیں ہیں۔ بتایا گیا کہ اس حصے میں تیز چلنا ہے۔ بات عین سمجھ میں آتی ہے۔ یہاں سے ننھے اسماعیل کا خیمہ نشیب میں تھا اور دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ماں کی آنکھوں سے دیکھئے تو ایسے میں قدموں کی رفتار تیز ہو جانا عین فطری بات ہے۔ جی میں آتی ہو گی کہ بچے کوبھی ایک نظر دیکھ لوں، پانی کی تلاش بدن کواور بھی دھکیل دیتی ہو گی۔ زمزم کا منبع یہیں کہیں ہے! مگر دکھائی نہیں دیتا کہ دونوں طرف سنگی دیواریں ایستادہ ہیں۔ میری رفتار کبھی تیز ہو جاتی ہے کبھی مدھم؛ خیالات اور محسوسات کے مدوجذر کا اثر قدموں پر بھی تو پڑتا ہے! میں مروہ تک پہنچ جاتا ہوں، اس کا بھی کچھ حصہ دکھائی دے رہا ہے اور اس کے سامنے بھی شیشے کی دیوار اٹھا دی گئی ہے۔ پہاڑی پر چڑھنے کے تصور ہی سے ہانپنے لگتا ہوں، رکتا ہوں دعا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اللہ کریما! خود ہی میرے کانپتے الفاظ کو معانی بھی عطا فرما اور قبولیت بھی۔
پھر صفا پر پہنچا تو یوں لگا میں بھی اس ہجوم میں شامل ہوں جو ’’یاصباحاہا، یاصباحاہا‘‘ کی پکار پر جمع ہوا تھا۔ ایک عجیب سا خیال ذہن میں کوندا۔ اس سے پہلے کہ موت تمہاری زبان اور حلقوم کو بند کر دے لا الٰہ الا اللہ کہہ دو، عرب و عجم تمہارے قدموں میں ہوں گے۔‘‘ اللہ کا شکر ہے یہاں کوئی ابولہب موجود نہیں۔ یہاں تو سارے لا الٰہ الا اللہ کے داعی ہیں! تو پھر؟ وہ عرب و عجم ہمارے قدموں میں کیوں نہیں؟ زبان بھی چل رہی ہے! پر کہیں کچھ خرابی ہے ضرور! کہیں حلقوم تو بند نہیں ہو گئے؟ کہ لاالٰہ الا اللہ زبان پر ہی رک گیا ہے، سینوں میں نہیں اتر پاتا! گڑبڑ یقیناً ہے! خرابی موجود ہے! یا ایھا الذین آمَنوا آمِنوا۔ اپنے ایمان کو تازہ کرنا ہو گا کہ یہ سعی ’’سعیِ مشکور‘‘ بن سکے۔
میری دو بیٹیاں ایک بیٹا اور ایک داماد میرے ساتھ تھے۔ سوچا میں تو بوڑھا ہو گیا، جوڑوں میں سختی آ گئی ہے یہ سارے جوان ہیں، یہ زیادہ تیز چل سکتے ہیں، میری وجہ سے سست رفتاری میں پڑ جائیں گے۔ باہم مشورہ ہوا کہ لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے رہیں گے اور میں اپنے طور پر سعی کروں گا۔ سعی مکمل کر کے وہ اس جگہ رک جائیں گے جہاں سے مطاف کو راستہ جاتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اپنے ہی بچوں سے الگ ہو جانے کے پیچھے اور کیا چیز کار فرما تھی۔ طواف کے ساتھ چکر، یہاں سات دوڑیں، آسمان سات، زمین کے سات پرت، ہفتے کے دن سات! چاند کے دن اٹھائیس، اہلِ بشارت کے میزبان ستر! یا اللہ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا! تیری حکمت ہے تو ہی جانے مجھے تو اتنا پتہ ہے کہ مجھے اس راستے پر مقدور بھر دوڑنا ہے جس پر سیدہ دوڑی تھیں۔ سات دوڑیں پوری ہو گئیں! زَم! زَم! انعام مل چکا! وہ بھی ایسا کہ جس سے سارا جہان فیض یاب ہو رہا ہے، ہوتا رہے گا۔ تا وقتیکہ اس زمین پر سورج آخری بار طلوع ہو جائے۔
مقررہ مقام پر پہنچا تو بچے وہاں نہیں تھے۔ گویا میں پہلے پہنچ گیا؟ یا حیرت ان بوڑھی ہڈیوں میں تو اتنی جان نہیں کہ جوانوں سے تیز دوڑ سکے! یہ کوئی اور قوت رہی ہو گی، کوئی اور جذبہ رہا ہو گا! تھکاوٹ کا احساس تک نہیں تھا۔ جی بھر کر اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کا پانی پیا اور وہیں بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر میں بچے بھی آن ملے۔
الحمد للہ! اللہ کریما ہماری اس کمزور سی بینکی ٹیڑھی کوشش کو سعیِ مشکور بنا دے۔
*******



محمد یعقوب آسی ..... سوموار 23 مئی 2016ء