فاعلات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فاعلات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 6 اکتوبر، 2017

۔رؤف امیرؔ ۔۔ ایک سیمابی شخصیت (2)۔





۔رؤف امیرؔ  ۔۔ ایک سیمابی شخصیت (2)۔
یادوں کے جھروکوں سے
                                                   
۔"چھوڑ یار آسیؔ تو نکما آدمی ہے۔ اگر اپنی کتاب (فاعلات) پر دیباچہ لکھوایا ہوتا تو وہ بھی آج اس مجموعے میں شامل ہوتا!" رؤف امیرؔ نے معمول کے مطابق ایک اور بڑھک چھوڑ دی۔ دیباچوں کی کتاب کا نام ہے: "رؤف امیر کے دیباچے"، مجھ سے کہنے لگا: یہ کتاب ٹائپ کر دو۔ پوچھا پبلشر کون ہے، کہا فلاں ہے۔ میں نے کہا: بھائی اس سے کہو مزدوری دے دے، کام تمہاری تسلی کا ہو جائے گا۔ بات ہوئی، کتاب ٹائپ ہو گئی، مزدوری بھی مل گئی (جو بہرحال ایک معجزہ تھا)۔ رؤف امیر مجھ سے ڈسکٹ لینے آیا تھا۔ اسے پتہ نہیں کیا سوجھی کہ مجھے احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے کو یہ بڑھک چھوڑ دی۔ مجھے رؤف امیرؔ سے ایسی حرکت کی توقع بہرحال نہیں تھی۔
میں نے تنک کر کہا: "میں پڑھ چکا ہوں تمہارے کارنامے! تم نے کتابیں نہیں فوٹو دیکھ کر لکھے ہیں سارے"۔ وہ ایک دم دھاڑا: "کیا بک رہے ہو"۔ کہا: "ٹھیک بک رہا ہوں اور مجھے تمہاری منافقت پر غصے کی بجائے ہنسی آ رہی ہے۔ بہت بھولے ہو تم، یعنی بے وقوف، اور سمجھتے دوسروں کو ہو"۔ وہ بھنائے ہوئے انداز میں بولا: "تمہارا مطلب کیا ہے؟ کہنا کیا چاہتے ہو؟"۔ "چاہتا نہیں ہوں، کہہ چکا ہوں، تم سمجھ نہیں سکے تو پھر میں نے ٹھیک کہا کہ تم بہت بھولے ہو، سچ مچ"۔ "میں واقعی نہیں سمجھا"۔ اس نے خاصی بیزاری سے کہا۔
"میں جانتا ہوں، تم اس لئے نہیں سمجھے کہ تمہیں کچھ اگر یاد ہے تو بھی بھول چکنے کی ایکٹنگ کر رہے ہو۔ میں نے مسودہ تمہیں دیا تھا، تمہارے گندھارا کالج میں۔ اور وہ تین چار مہینے تک وہاں پڑا رہا۔ تم مجھے متواتر ٹالتے رہے، پھر ایک دن میں مسودہ اٹھا کر لے آیا"۔
"مجھے بالکل نہیں پتہ، میں تمہیں کیسے ٹال سکتا تھا؟"۔
"بنو نہیں، یار! میں ثبوت دکھا سکتا ہوں"۔
"ثبوت؟" وہ حیرت زدہ ہو کر بولا۔
"ہاں، ثبوت! کہ تم نے میرے مسودے کو خاصی توجہ سے پڑھا تھا۔  اس پر مختلف مقامات پر کچی پنسل سے تمہارے ہاتھ کے لکھے ہوئے نوٹس! یہ شاید 1988 یا 1989 کی بات ہے۔ اب یہ نہ کہنا کہ تم میری لکھائی نہیں پہچانتے۔ کچھ سمجھے؟"
"پتہ نہیں کیابک رہے ہو"۔
"میں یہ بک رہا ہوں کہ  ع: غزل کے روپ میں تہذیب گا رہی ہے نسیمؔ  ۔ یہ پورا شعر میں نے تمہارے نوٹس سے نقل کر کے کتاب میں شامل کیا تھا، اور کچھ ایسی ترمیمات بھی کی تھیں جو تم نے حواشی کے طور پر لکھی تھیں۔ اور بھی کچھ یاد دلاؤں؟"
"مثلاً، کیا"
"میری کتاب تمہارے اس دیباچے کے بغیر 1993 میں شائع ہو گئی جسے لکھنے کا تمہارا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اب یہ بھی کہہ دو کہ تمہیں کتاب نہیں ملی!"
"میں نے تمہیں کب کہا تھا کہ تم عروض کا پنگا لو؟"
"تمہارے کہے کو میں کب مانتا بھلا! یہ تو اختر شاد کی طرف سے تحریک تھی"۔
"چلو جس کی بھی تحریک تھی؛ کتاب ملی تھی مجھے۔ آگے بکو"۔
"کتاب کی تقریبِ رونمائی 1998 میں ہوئی ہے نا مزے کی بات۔ اور تم نے اس تقریب میں میری اسی کتاب پر ایک بھرپور مضمون پڑھا تھا"۔
"میں نے کوئی مضمون نہیں پڑھا، غلط کہہ رہے ہو"۔
"رؤف امیر! تم اندر سے مان چکے ہو، اب اوپری انکار کو چھوڑو۔ تم تقریب میں موجود تھے؟ تو بغیر مضمون کے نہیں ہو سکتے۔ میرا تمہارا تعلق پندرہ سال سے زیادہ کا ہے، پندرہ سال کا تو تب تھا، جب تقریب ہوئی تھی"۔
"مضمون تمہارے پاس ہے؟"
"میرے طلب کرنے کے باوجود تم نے مضمون مجھے دینے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ رف لکھا ہوا ہے میں فیئر کر کے دے دوں گا۔ میں نے کہا بھی کہ میں فیئر کر لیتا ہوں، تمہیں دکھا دوں گا۔ یاد ہے تم نے کیا رعب جھاڑنے کی کوشش کی تھی؟ تم نے کہا تھا فیئر کرنے میں کچھ جمع تفریق بھی ہو جائے تو اچھا ہے نا۔ اور میں نے تمہاری بکواس پر یقین کر لیا"۔
" میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے مضمون پڑھا ہی نہیں، پتہ نہیں کس جمع تفریق کی بات کر رہے ہو"۔
"سنو یار رؤف امیرؔ! حلقے کا رجسٹر، اس پر لکھے شرکاء کے نام اور مضامین کی موٹی موٹی باتیں؛ معمول کے مطابق  اگلے اجلاس میں تقریب کی روداد پیش کی گئی اور اس کی توثیق ہوئی۔ اس بُدھ کو بھی تم اجلاس میں موجود تھے۔ نکالوں رجسٹر؟"۔
"اچھا یار! اب یہ بک بک بند کرو اور تیز سی چائے پلاؤ۔ مجھے جانا ہے"۔ رؤف امیر کے اس جملے پر مجھے ہنسی آ گئی، جس میں وہ بھی ایک بے ہنگم قہقہہ لگا کر شامل ہو چکا تھا۔ چائے کے ساتھ دوسروں کی غیبت کا پیریڈ بھی چلا۔ میں دروازے تک چھوڑنے گیا۔ اس نے ڈسکٹ ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ اسے تھپتھپاتے ہوئے بولا: "اس میں غلطیاں تو خیر کہیں کوئی ہوں گی، ہے نا؟"۔ "پریشان نہ ہوں، اس کا رف پرنٹ نکال کر پڑھ لینا اور غلطیاں مارک کر دینا، میں ٹھیک کر دوں گا"۔
اس نے رخصت ہوتے وقت وہی پرانے اسٹائل کا ایسا وحشیانہ معانقہ کیا کہ۔۔۔ آپ سمجھ گئے نا؟ کہ میں نے جو الفاظ بمشکل روکے، وہ ادا ہوتے تو کیسے ہوتے!۔

فقط: محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان  6 ۔ اکتوبر  2017ء ۔

جمعرات، 12 مارچ، 2015

اپنا مختصر تعارف ۔ محمد یعقوب آسی ۔ Self intro in Urdu and English


محمد یعقوب آسیؔ  ۔۔۔ اپنا تعارف
Self-Intro Muhammad Yaqub Assy


نام: محمد یعقوب، تخلص: آسیؔ 
Name: Muhammad Yaqub, Pen-Name: Assy
پیدائش: (میٹرک کی سند کے مطابق): یکم جنوری ۱۹۵۳ء
Birth (according to SSC): January 01, 1953
رسمی تعلیم: بی اے: پرائیویٹ (ملتان یونیورسٹی) 1978ء
Formal Education: Bachelor of Arts (BA) – Bahauddin Zakariya University Multan 1978
پیشہ: ڈپٹی کنٹرولر امتحانات، جامعہ ہندسیہ ٹیکسلا (ریٹائرڈ: ۳۱ دسمبر ۲۰۰۷ء)
Occupation: Deputy Controller Examinations (UET Taxila) – Retd. 31st December 2007
مشقِ سخن: اردو اور پنجابی (غزل، نظم، نثر، وغیرہ)
Authorship: Urdu and Punjabi – Prose and Poetry
اولین شائع شدہ کوشش: ماہنامہ ’’پنجابی زبان‘‘ لاہور ۱۹۷۲ء ایڈیٹر ڈاکٹر رشید انور۔
First published articles: Monthly “the Punjabi Zuban” Lahore 1972, ed. Dr. Rashid Anwar

تصانیف: 
Publications:
۱۔ ’’فاعلات‘‘ اردو کے لئے عروض کا نیا نظام (۱۹۹۳ء) دوست ایسوسی ایٹس لاہور
1. “Faelaat” –( New System of Prosody for Urdu); Dost Associates, Lahore 1993
۲۔ ’’مجھے اک نظم کہنی تھی‘‘( اردو نظمیں) مارچ ۲۰۱۵ء، الف لام میم پبلی کیشنز، ٹیکسلا
2. “Mujhay ik Nazm Kehni thee” (Urdu Poems); Alif Laam Meem Publications, Taxila 2015  
۳۔ ’’پنڈا پیر دھرُوئی جاندے‘‘ (پنجابی شاعری) اپریل ۲۰۱۵ء، الف لام میم پبلی کیشنز، ٹیکسلا
3. “Pinda Pair Dhruwi Jaanday” (Punjabi Poetry); Alif Laam Meem Publications, Taxila 2015  
۴۔ ’’لفظ کھو جائیں گے‘‘( اردو غزلیں) مئی ۵ا۲۰ء، الف لام میم پبلی کیشنز، ٹیکسلا
4. “Lafz Kho Jaen Gay” (Urdu Ghazals); ; Alif Laam Meem Publications, Taxila 2015  

زیرِ ترتیب:
Under Editing:                                                                                                                                 
۱۔ فاعلات کا دوسرا ایڈیشن (ترمیم اور اضافے کے ساتھ) بشمول: آسان علمِ قافیہ اور عروض اور چھندا بندی۔
1. Faelaat – Second Edition (with amendments and aditios) including “Aasan Ilm-e-Qafia” and “Arooz aur Chhanda-Bandi”.
۲۔ ’’آسان عروض کے دس سبق‘‘ شائقینِ عروض کے استفسارات پر مبنی اسباق۔
2. Aasaan Arooz kay 10 Sabaq – Lessons based on the queries of readers
۳۔ ’’حرف سفیر‘‘ ہم عصر شعراء کی کتابوں کی تقریظات
3. “Harf Safeer” – Notes on Literary Work (books) of contemporary writers
۴۔ ’’بھلے لوگ‘‘ معاصر ادبی شخصیات
4. “Bhalay Log” Contemporary Literary Personalities
۵۔ ’’زبانِ یارِ من‘‘ فارسی زبان کے مختصر قواعد اوراہلِ قلم کے لئے اہم نکات
5. “Zuban-e-Yar-e-Man” Concise Rules and Hints on Persian Language for writers.
۶۔ ’’تھا وہ اک یعقوب آسیؔ ‘‘ سرنوشت
6. “Tha Wo ik Yaqub Assy” Autobiography
۷۔ ’’خوشبو اور پہیلی‘‘ نثری تخلیقات اردو
7. “Khushboo aur Paheli” Creative Prose writings in Urdu
۸۔ ’’اچیاں لمیاں ٹاہلیاں‘‘ نثری تخلیقات پنجابی
8. “Uchian Lamian Tahlian” Creative Prose writings in Punjabi
۹۔ ’’مِری آنکھیں مجھے دے دو‘‘ مختصر مضامین، شذرات اور کالم
9. “Meri Aankhen Mujhay Day Do” Short Essays, Columns and Notes

ادبی سرگرمیاں:
Literary Activities:
تیس برس کا عرصہ مقامی سطح پر سرگرمِ عمل ادبی تنظیموں میں شامل رہا: صدر، جنرل سکریٹری اور سکریٹری نشر و اشاعت، کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ مدیر مسؤل ’’ماہنامہ کاوش‘‘ ٹیکسلا۔ (اور .... پھر قویٰ ویسے نہ رہے) 
Thirty years long active participation in the local literary organization, held the offices of the President, General Secretary and Press Secretary on times, editor of “The Monthly Kawish” Taxila

بلاگ: مِری آنکھیں مجھے دے دو
Blog: “Meri Aankhen Mujhay Day Do”
http://yaqubassy.blogspot.com/

گوگل سرچ: "Muhammad Yaqub Assy" یا ’’محمد یعقوب آسی‘‘۔
میڈیا فائر، ڈراپ باکس، گوگل پلَس، اردو محفل فورم، القرطاس، فیس بُک وغیرہم۔
Google Search: “Muhammad Yaqub Assy” or “محمد  یعقوب آسی”;
Media Fire, Drop Box, Google Plus, Urdu Mehfil Forum, Face Book; etc.




English Translation of the Titles of the Literary Works:
Published:
1. “Faelaat” – Faelaat (no translation possible)
2. “Mujhay ik Nazm Kehni thee” (Urdu Poems) – I had to say a Poem
3. “Pinda Pair Dhruwi Jaanday” (Punjabi Poetry) – Feet Pulling the Body
4. “Lafz Kho Jaen Gay” (Urdu Ghazals) – Words Will Go
Under Editing:
1. Faelaat – Second Edition (with amendments and aditios) including “Aasan Ilm-e-Qafia” and “Arooz aur Chhanda-Bandi”.
2. Aasaan Arooz kay 10 Sabaq – 10 Lessons of Arooz – Made Easy
3. “Harf Safeer” – Words are the Ambassadors
4. “Bhalay Log” – Noble People
5. “Zuban-e-Yar-e-Man” – The Language of  My Love
6. “Tha Wo ik Yaqub Assy” – There was a Man named Yaqub Assy
7. “Khushboo aur Paheli” – Fragrance and Puzzle
8. “Uchian Lamian Tahlian” – High Sheesham Trees
9. “Meri Aankhen Mujhay Day Do” – Return to me my Vision


**********