لچھن: پتہ نہیں،
عجیب سی بے چینی لگی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیوں۔
چھکن: کام وغیرہ ٹھیک چل رہا
ہے؟ کوئی مسئلہ رہا ہو گا۔
لچھن: کام تو
ٹھیک چل رہا ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ کہانا کہ سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔
چھکن: بیوی بچے ٹھیک ہیں؟
لچھن: ہاں، ٹھیک
ہیں۔ ابھی گھنٹہ بھر پہلے فون پر بات بھی ہوئی۔
چھکن: تم گاؤں کب گئے تھے؟
لچھن: کوئی چار مہینے ہو گئے۔
چھکن: کتنا رہے وہاں؟ ایک
مہینہ؟
لچھن: نہیں کچھ زیادہ، ڈیڑھ مہینے کے قریب۔
چھکن: بیوی بچے بھائی بہن
سسرالی، سب ٹھیک ہیں؟
لچھن: ہاں سب ٹھیک ہیں۔
چھکن: تو تم ملے ہو نا، سب سے؟
لچھن: ہاں تقریباً سب سے ملا ہوں۔ جن سے نہیں ملا ان
کی بھی خیر خبر مل گئی تھی، سب نارمل ہے۔
چھکن: اماں کیسی تھیں جب تم
واپس آئے؟
لچھن: ....... (خاموشی) ........
چھکن: کیا ہوا؟ وہ خیریت سے تو
ہیں؟ تم پریشان ہو گئے ہو۔
لچھن: ....... (خاموشی) ........
چھکن: چپ کیوں ہو گئے ہو؟ میں نے اماں کا پوچھا ہے،
کیسی ہیں وہ؟
لچھن: پتہ نہیں۔
چھکن: ہائیں، پتہ نہیں؟ کیا
مطلب؟ تم اماں سے نہیں ملے؟
لچھن: نہیں۔
چھکن: عجیب آدمی ہو؟ تم ڈیڑھ
مہینہ گاؤں میں رہے، سب سے ملے اماں سے نہیں ملے؟
لچھن: ہاں۔
چھکن: یہ کیا بات ہوئی بھلا؟
لچھن: ....... (خاموشی) ........
چھکن: ویسے وہ ٹھیک ہیں نا؟
لچھن: ٹھیک ہی ہوں گی، نہیں تو کوئی مجھے بتا دیتا۔
چھکن: یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کوئی
کیوں بتا دیتا، تم خود کیوں نہیں ملے ان سے؟
لچھن: بس! نہیں ملا۔
چھکن: اماں کو پتہ تو ہو گا کہ
تم آئے، کتنے ہی دن رہے اور چلے گئے۔
لچھن: ہاں، انہیں پتہ ہے۔
چھکن: کچھ سوچا تم نے؟ یا کچھ
محسوس کیا؟
لچھن: کیا؟
چھکن: تمہارا بچوں سے
ملنے کو جی چاہا، تم گئے سب سے ملے، جی خوش ہوا؟
لچھن: ہاں۔
چھکن: ایک ماں کا بیٹا ایک عرصے کے بعد گاؤں میں آیا، مہینہ بھر سے زیادہ رہا اور ماں سے ملے بغیر چلا گیا!
لچھن: تو؟ تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟
چھکن: اس ماں کے دل پر کیا
بیتی ہو گی، کچھ اندازہ ہے تمہیں؟
لچھن: ....... (خاموشی) ........
چھکن: تم کیا کہو گے؟ اماں تم
سے ناراض ہیں شاید؟
لچھن: ہاں۔
چھکن: تو انہیں راضی کرنا تھا،
نا۔
لچھن: تمہیں کچھ پتہ بھی ہے وہ کیوں ناراض ہیں؟
چھکن: اس کیوں سے کیا ہوتا ہے؟
مجھے تو لگتا ہے تم ناراض ہو۔
لچھن: یہ تم نے کیسے کہہ دیا؟
چھکن: تم ناراض نہ ہوتے تو
اماں سے ملتے ضرور۔ وہ تمہارا انتظار کرتی رہی ہوں گی۔
لچھن: ہاں، بیوی نے بتایا تھا۔
چھکن: اور کیا بتایا تھا؟ خیر،
جو بھی بتایا تھا، تم جانو۔ اب پریشانی کس بات کی ہے۔
لچھن: یہی تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔
چھکن: میری سمجھ میں تو آ رہا
ہے۔
لچھن: کیا؟
چھکن: تمہاری ماں کو تم سے پھر
اذیت پہنچی ہے۔
لچھن: کیا مطلب؟ پھر؟؟؟
چھکن: ہاں، تمہیں اماں سے
ناراض ہونے کا حق کس نے دیا۔
لچھن: شکایت مجھے بھی تو ہو سکتی ہے؟
چھکن: کیسی شکایت؟ اماں نے تم
سے کہا کہ نماز نہ پڑھا کرو؟ یا کہا کہ بیوی کو ناحق طلاق دے دو؟
لچھن: یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟ انہوں نے ایسا کچھ
نہیں کہا۔
چھکن: اگر ایسا کچھ نہیں کہا
تو تمہیں اماں سے ناراض ہونے کا کوئی حق نہیں۔
لچھن: ....... (خاموشی) ........
چھکن: تمہارا مسئلہ میری سمجھ
میں آ گیا ہے۔
لچھن: وہ کیا؟
چھکن: اماں کو تم سے جو اذیت
پہنچی ہے تمہاری بے کلی اسی کا ردِ عمل ہے۔
لچھن: تم میری اماں کو نہیں جانتے۔
چھکن: یہ تم نے ’’میری اماں‘‘
کہا؟
لچھن: ہاں، کیوں؟
چھکن: اگر وہ تمہاری اماں ہیں تو تم ان سے ملے کیوں
نہیں؟
لچھن: ....... (خاموشی) ........
چھکن: دیکھو، تمہارے اندر کا شریف آدمی ابھی زندہ ہے، وہی تمہیں بے چین کر رہا ہے۔
لچھن: مگر ......
چھکن: مگر وگر کچھ نہیں۔ ایک
بار پھر گاؤں جاؤ اور واپس تب آنا جب وہ تم سے راضی ہو جائیں۔
لچھن: یہ تو بہت مشکل ہے۔ انہیں راضی کرے گا کون؟
چھکن: تم! اور کون؟
لچھن: یہ ناممکن ہے۔
چھکن: واقعی؟
لچھن: ہاں۔
چھکن: ٹھیک ہے، ابھی تم جاؤ اور جب اماں تم سے راضی ہو
جائیں تو مجھے بتا دینا۔
لچھن: اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو؟
چھکن: تو ... ممکن ہے تم مجھ سے نہ مل سکو۔
لچھن: ....... (خاموشی) ........
ړ ړ ړ ړ ړ ړ ړ
محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا)
پاکستان ہفتہ .... ۱۰؍ جون ۲۰۱۷ء
