انٹرویو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
انٹرویو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 31 مارچ، 2016

احساس کا پُتلا ۔ پروفیسر انور مسعود





احساس کا پُتلا

پروفیسر انور مسعود سے ایک غیر رسمی انٹرویو
گورنمنٹ کالج (لائبریری) سٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی ۳۱؍ جنوری ۱۹۹۰ء صبح دس بجے
انٹرویو پینل : محمد یعقوب آسیؔ ، محمد احمد، محمد یوسف ثانی، آفتاب رانا

()
نوٹ: یہ انٹرویو آڈیو کیسٹ پر ریکارڈ کیا گیاتھا اور اس کا خلاصہ یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ، ٹیکسلا کے سالانہ مجلہ ’’شاہِین‘‘ (مئی ۱۹۹۰ء) میں شائع ہوا، جسے آفتاب رانا نے لکھا تھا۔ حلقۂ تخلیقِ ادب ٹیکسلا کے ماہانہ خبرنامہ’’کاوش‘‘ کے قارئین کے لئے میں نے اسے آڈیوکیسٹ سن کر دوبارہ لکھا ۔ یہ انٹرویو کاوش میں (فروری ۱۹۹۹ء سے مئی ۱۹۹۹ء تک) سلسلہ وار شائع ہوا۔
()

پروفیسر انور مسعود کا نام اردو اور پنجابی مزاحیہ ادب میں ایک حوالے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔نہ صرف آپ کے قطعات زبان زدِ عام ہیں بلکہ طویل پنجابی نظمیں ’’انار کلی دیاں شاناں‘‘ ’’جہلم دے پُل تے‘‘ ’’اج کی پکائیے ‘‘اور ’’تندور تے‘‘خواص اور عوام میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ پروفیسر صاحب کی مادری زبان پنجابی ہے جب کہ آپ کی خاتونِ خانہ کا تعلق اتر پردیش کے ایک اردو بولنے والے خاندان سے ہے۔آپ نے اردو، پنجابی اور فارسی میں شاعری کی ہے۔ طنز و مزاح میں آپ کے کلام کو بلا مبالغہ سند کا درجہ حاصل ہے۔ پروفیسر صاحب کا بات کرنے کا انداز کچھ ایسا ہے کہ وہ ایک بات کرتے کرتے دوسری بات شروع کر دیتے ہیں اور پھر پہلی بات کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس طرح سامع کی دل چسپی تو قائم رہتی ہے تاہم بعض مقامات پر قاری کو الجھن ہو سکتی ہے۔ آپ گفتگو کے دوران اردو، پنجابی، انگریزی، فارسی تمام زبانیں اس روانی سے آپس میں ملا دیتے ہیں کہ کہ فوری طور پر اس کا احساس بھی نہیں ہو پاتا اور کسی طرح کی اجنبیت بھی پیدا نہیں ہوتی۔ انٹرویو سے پہلے آپ سے غیر رسمی بات چیت ہو رہی تھی کہ آفتاب رانا نے ایک سوال کر کے باقاعدہ انٹرویو کا آغاز کر دیا۔ اس طرح یہ انٹرویو کسی تمہیدی تقریر یا رسمی تعارف کے بغیر شروع ہو گیا۔

()
آفتاب رانا: یہ جو شاعری ہوتی ہے، اس کا موضوع بڑا وسیع ہوتا ہے اور وہ جو اقبال نے یا غالب نے شاعری کی ہے، اور اقبالؔ نے کہا ہے کہ
ع سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
اب یہ دیرینہ مسئلہ ہے کہ کائنات حرکت میں ہے یا غیر حرکت میں۔ اس مسئلے کو موضوع بنایا ہے انہوں نے شاعری میں۔ توکیا مزاحیہ شاعر جو ہے، وہ اس طرح کے بڑے بڑے مسئلوں کو ڈِس کَسdiscuss کر سکتا ہے؟

پروفیسر انور مسعود: بڑا اچھا سوال ہے آپ کا، یہی سب کہا کرتے ہیں۔ انٹرویو دینے والا یہی کہا کرتا ہے، بڑا اچھا سوال ہے آپ کا ... پہلے ہم لفظ مزاح پر بات کرتے ہیں۔ ..اس میں ایک نقطہ ڈال دیجئے ۔

محمد یعقوب آسیؔ : مزاج

پروفیسر انور مسعود:ہاں، مزاج ۔ بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے سوال کے اندر ہی جواب چھپا ہوتا ہے، وہ ہمیں معلوم نہیں ہوتا۔ اب جیسے آپ نے مزاج کہہ دیا تو یہ بات مزاج کی بن گئی۔ ہر وہ شخص مزاح نگار ہے جس کے اندر مزاح موجود ہے، مزاج ہے جس کا! دیکھیں دنیا میں کہاں شاعری نہیں ہے! ساری دنیا میں شاعری پھیلی ہوئی ہے، یہاں تک کہ ... دیکھئے ... نالی میں پانی جا رہا ہے۔ اب یہ کوئی موضوع تو نہیں ہے۔ نالی میں گندا پانی جا رہا ہے اور ایک آدمی اس میں جھاڑو دے رہا ہے، یہ کوئی ٹارگٹ target نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کی نظر شاعرانہ ہے، آپ کے پیچھے مجید امجد ہے تو، وہ کہتا ہے ... کہ:
گلی کے موڑ پر نالی میں پانی
تڑپتا تلملاتا جا رہا ہے
زدِ جاروب کھاتا جا رہا ہے
وہی مجبورئ افتادِ مقصد
جو اُس کی کاہشِ رفتار میں ہے
مرے ہر گامِ نا ہموار میں ہے
تو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نظر اگر شاعرانہ ہے تو ہر جگہ شاعری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ کا مزاج مزاحیہ ہے تو ہر جگہ مزاح موجود ہے۔ دنیا کے بڑے مسائل میں بھی مزاح موجود ہے۔ آپ زندگی میں کوئی ناہمواری دیکھتے ہیں، کوئی ایسی چیز جو اپنی صحت سے ہٹی ہوئی ہے، صراطِ مسقیم سے بھٹک گئی ہے، تو وہاں، وہ ایک مزاحیہ سیچوایشن situation ہے۔ مثلاً یہ دیکھئے، ہمارے ہاں سنجیدہ ترین صنف جو ہے ادب کی، وہ ہے غزل۔ اس میں مزاح موجود ہے۔ غزل میں مزاح موجود ہے! اقبال جیسا سنجیدہ شاعر جو ہے، بانگِ درا میں .. اس کا .. مزاحیہ حصہ موجود ہے۔ عالیؔ صاحب رات دوہے پڑھ رہے تھے، وہ کیا کہہ گئی کہ ، بھیّا کہہ گئی نار ...
چھَیلابن کے نکلے تھے اور بھیّا کہہ گئی نار
اس میں مزاح موجود ہے ... مزاح ہر جگہ موجود ہے .. اس کے ساتھ ساتھ دیکھئے، اکبر الٰہ آبادی نے کوئی غیر سنجیدہ مضامین چھیڑے ہیں؟ تہذیب اور یورپ Europe ، یورپ کی تہذیب سے اسے ایک نفرت ہے۔ اسے اپنی قدریں عزیز ہیں، یہ کتنا بڑا المیہ ہے، کتنا بڑا مسئلہ ہے اور اُس نے اِس کوچھیڑا ہے۔ تو، میں سمجھتا ہوں کہ مزاج ہونا چاہئے اور پھر آدمی ہر بات اس رنگ میں کہہ سکتا ہے
ع ڈاروِن بولا بُوزنہ ہوں میں
ہیں جی! تو یہ جو ہے ارتقاء کا مسئلہ، مزاح میں آیا ہے۔ کتنا دیرینہ اوراہم مسئلہ ہے ڈاروِن Darwin کا! دیرینہ مسئلہ اس لئے کہ اسے رومی نے بھی چھیڑا ہے۔ رومی نے تو اس سے بہت پہلے کہہ دیا ہے بلکہ بہت سے ایسے مسئلے ہیں جو آئن سٹائن Ein Stein نے بیان کئے ہیں یا نیوٹن Newton نے بیان کئے ہیں رومی کے ہاں وہ ہمیں ملتے ہیں۔ بات اصل میں مزاج کی ہے۔ مثلاً اقبال ... کتنی بڑی بات ہے، انسان پر طنز کر رہا ہے۔ کہتا ہے کہ شیطان خدا کے پاس گیا اور اس نے شکایت کی:
اے خداوندِ صواب و ناصواب
من شدم از صحبتِ آدم خراب
اے اچھائی اور برائی کے خدا! میں تے چنگا بھلا ہوندا ساں ، مینوں تے ایس بندے دی صحبت نے خراب کیتا اے، شیطان کہہ رہا ہے! کتنی عظیم بات چھیڑی ہے!تو، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ انسان مزاح میں معمولی بات بھی کر سکتاہے اور غیر معمولی بات بھی کر سکتا ہے۔

آفتاب رانا: آپ نے بھی تجربات کئے ہیں؟ بڑے بڑے مسائل جو ہیں، ان کو ڈِسکَسdiscuss کرنے کی کوشش کی ہے؟

پروفیسر انور مسعود: جی، میں بتاتا ہوں۔ دیکھئے جی، بات یہ ہے کہ اس دور میں مزاح میں ویرائٹی variety آ گئی ہے۔ بہت ویرائٹی آ گئی ہے! ایک زمانہ تھا، جب مزاح جو ہے وہ بعض اوقات تین چار موضوعات تک محدود تھا۔ یا تو فیشن پہ نظمیں لکھی جاتی تھیں، یا مہنگائی پر، یا بیوی پر۔ اب یہ ہے کہ ابھی، میں آپ کو بتاؤں! آج بیان آپ نے پڑھا ہے، یہ لیٹسٹ latest بات ہے، روس نے کہا ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں اٹھایا گیا تو ہم اسے پھر ویٹو veto کر دیں گے۔ یہ آج کا مسئلہ ہے، تو، تمہاری بھینس کیسے ہے؟ میں اپنا قطعہ سنا رہا ہوں:
تمہاری بھینس کیسے ہے کہ جب لاٹھی ہماری ہے
اب اس لاٹھی کی زدمیں جو بھی آئے سو ہمارا ہے
مذمت کاریوں سے تم ہمارا کیا بگاڑو گے ؟
تمہارے ووٹ کیا ہوتے ہیں جب ویٹو ہمارا ہے
اب دیکھئے نا، کتنا سنگین ، کتنا سنجیدہ اور بین الاقوامی مسئلہ ہے، میں مزاح میں لایا ہوں۔ اس لئے بنیادی بات وہی ہے، اگر آپ کے اندر مزاح موجود ہے، ہیں جی! وہ مکئی کا دانہ* بننے کی آپ کے اندرصلاحیت ہے! اچھا، ایک اور بات، اُتنا مزاح عظیم ہو گا جتنا اس کے پیچھے غم عظیم ہوگا۔ جتنا دکھ عظیم ہو گا، کیونکہ دکھ کے بغیر نہیں مزاح پیدا ہوتا!اصلی جو ہے سرچشمہ مزاح کا، درد مندی ہے۔ اب مزاح اور طنز میں فرق سمجھ لیجئے۔ مزاح میں صرف ایک تفریحی پہلو ہے، لیکن طنزوہ ہے، جب مزاح کی ڈائریکشن direction بنتی ہے ،آدمی کے ذہن میں کوئی سمت ہوتی ہے۔ مَیں اسے آسان لفظوں میں کہوں، جب اس کا نقطۂ نظر اخلاقی اور اصلاحی ہوتا ہے تو اس وقت طنز ہوتی ہے۔ مجھ سے پوچھئے عام لوگ یہ کہتے ہیں، ممتاز مفتی صاحب، اگلے دن انہوں نے کہا کہ جی انور مسعود ہمارا بڑا اچھا شاعر تھا لیکن کیا ہے، طنز میں پڑ گیا ہے۔ میں نے قراٰن مجید کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس میں مجھے محسوس ہوا ہے۔ مجھے مزاح کی مثال بہت کم ملی ہے لیکن طنزکی مثال ملی ہے۔’ وہ لوگ جو ضدی ہیں، حقیقت کو قبول نہیں کرتے‘، قراٰن نے کہا ہے وَ بَشّرْھِمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمِ (انہیں عذابِ الیم کی خوشخبری سنا دو!) یہ طنز کا پیرایۂ اظہار ہے، اور .. .. دردمندی نہ ہو نا، تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے بس، مزاح کیا وہ کھوکھلا پن سا ہوتا ہے۔

آفتاب رانا: سٹوڈیو2- میں بھی آپ سے سوال پوچھا گیا تھا۔ آپ نے اس کا جواب نہیں دیا تھا، منّو بھائی نے دیا تھا کہ مزاحیہ شاعر جو ہوتا ہے وہ مسائل کو موضوع بناتا ہے۔ ان مسائل کا ایک طرح سے مذاق اڑاتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے۔ تو کیا یہ صورتِ حال ایک لا تعلقی کو جنم نہیں دیتی؟ کہ آپ نے ہنس لیا اور چپ ہو کے بیٹھ گئے۔

پروفیسر انور مسعود: میں سمجھتا ہوں کہ جتنے بھی جواب دئے گئے تھے ، مجھے لوگوں نے کہا ہے کہ آپ کا جواب بہتر تھا۔ میں نے یہ عرض کیا تھا کہ .. ایسا مزاح بھی ہو سکتا ہے جو آپ کے اندر پست قسم کے جذبات پیدا کرے، ایسا مزاح بھی ہو سکتا ہے جو آپ کے اندر اونچے خیالات پیدا کرے اور آپ کے جذبات کی اچھی طرح سے تطہیر کر کے آپ کو اچھا انسان بنائے۔ سو، میں اُن سے اتفاق نہیں کرتا۔ وہی بات آ جاتی ہے کہ ...دیکھئے، اقبال نے فنونِ لطیفہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا بلکہ خود فنِ لطیف (شعر) کا اتنا بڑا ہنرِزیبا اس کے پاس ہے۔ اتنا بڑا ہنر ہے اس کے پاس! وہ خود کہتا ہے، مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کی طرح، لیکن اس سے بڑا شاعر تو صدیوں کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ وہ بھی کہتا کہتا ہے ، مصوّری پرتنقید کر رہا ہے۔ مثلاً ایک تصویر اس نے دیکھی، اس نے کہا:
ع:   کُودَکے بَر گردنِ بابائے پِیر
یہ کیا تصویر بنائی ہے کہ ایک بچہ ایک بوڑھے آدمی کے کندھے پر بیٹھا ہے۔ بچہ بھی کمزور ہے، بوڑھا بھی کمزور ہے۔ اقبال کو یہ تصویر پسند نہیں آسکتی۔ اُسے کیسے پسند آئے؟ کمزوری کی تصویر بنا دی آپ نے! وہ تو قوت کو مانتا ہے جس کا وہ ایک سمبل symbol ہے، اس طرح جیسے ، وہ، ایک تشخیص کرتا ہے اور تمیز کرتا ہے کہ فنون ایسے جو ہیں .. میرؔ کے شعر کو اس نے فارسی میں ڈھال دیا، وہ ہے نا کہ:
ع:  تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
تو اس نے فارسی میں یہ کہا کہ بری شاعری کی جب وہ مثال دیتا ہے تو کہتا ہے کہ ’’شیونِ اُو از دیدۂ ہمسایہ خواب شُصت‘‘ کہ اس کے رونے سے ہمسائے کی نیند جاتی رہی، تو، یہ کوئی شاعری ہے؟ اسی طرح مزاح کی بھی درجہ بندی ہے، اس کی بھی اقسام ہیں۔ اونچے درجے کا مزاح بھی ہوتا ہے ۔ آپ نہیں کہہ سکتے کہ اکبرؔ کا مزاح پست درجے کا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو سرسیّد سے بھی آگے نظر تھی اس کی! وہ دیکھ رہا تھا کہ ہماری جو ہے، کورپٹcorrupt ہو رہی ہیں ویلیوز values ... مشرق کی ویلیوز کورپٹ ہو رہی ہیں، تو، اس لئے اس نے ہمارے اندر ایک جذبہ بیدار کیا ہے اپنی ویلیوز سے محبت کرنے کا۔ مزاح سے کام لیا ہے اس نے۔

محمد احمد: یہ مزاح جو ہے، اِم بیلینس imbalance ، غیر متوازن کیفیت، کنٹراسٹcontrast ان چیزوں سے پیدا کیا جا سکتا ہے کہ لوگ ان پر قہقہہ لگانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو طنز بیسیکلی basically ایک بالکل علیحدہ سی بات ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ ہمیشہ مزاح کے ساتھ جڑ کر آئی ہے۔ ان کا جو امتزاج ہے، وہ ان دونوں کی مخالف ڈائریکشنdirection کو بیلینس کرنے لے لئے یہ کیا جاتاہے اور یہ اچھا لگتا ہے۔ طنز کڑوی چیز ہے، مزاح میٹھی چیزہے۔ ان کا تعلق اس کے علاوہ بھی کوئی ہے کیا؟

پروفیسر انور مسعود: بات یہ ہے کہ طنز صرف طنز اگر ہو اس میں مزاح نہ ہو تو وہ ایسے ہے جیسے آدمی کسی پر حملہ کردے، ڈانگ کڈھ مارے۔ کوئی بھی کڑوی دوا نہیں کھاتا یار! اس کے لئے، شوگر کوٹڈ پلزsugar coated pills ہونے چاہئیں! اچھا، سعدی کتنا بڑا معلمِ اخلاق ہے، بہت بڑا ریفارمرreformer ہے اور اس کے ہاں مزاح موجود ہے۔ دو ہی صورتیں ہیں۔ آپ جب کڑوی چیز پیش کریں تو .. .. فنکار کا منصب ہے کہ اسے حسین بنائے۔ جمال فطرت کی بڑی ضرورت ہے۔ انسان خوبصورت بنایا گیا ہے اور خوبصورتی سے محبت اس کے دل میں ہے۔ فنِ لطیف یہی ہے یعنی تخلیقِ حسن۔ اور مزاح نگار جو ہے اگر وہ صرف طنز کا خیال رکھے گا اور اس میں مزاح شامل نہ کرے گا تو لوگوں کے اندر بیزاری پیدا ہو گی۔اور اگر آپ اس میں مزاح آمیز کریں تو وہی بات آپ کی جو ان کے خلاف جا رہی ہے اس پر وہ خود ہنسیں گے۔ اور ... بہتر مزاح وہ ہے، بہتر طنز وہ ہے کہ ہنسیں نہیں بلکہ بعد میں رو بھی پڑیں اور اپنا محاسبہ بھی کریں۔ مثلاً میں نے ایک قطعہ لکھا، قطعہ پڑھا وہاں جا کے حویلیاں ۔ تو میں نے جب قطعہ پڑھا تو ایک آدمی اٹھ کے ایک دم نکل گیا باہر، جویں شُوٹ مار کے نکل جاندا اے باھر، تو بعد میں میری ملاقات ہوئی اس سے، میں نے کہا: بھائی آپ کیوں اُٹھ کے آ گئے؟ کہنے لگا: جو آپ نے پڑھ دیا تھا اس کے بعد میرے اندر کچھ سننے کی تاب نہیں تھی۔ اور وہ قطعہ کیا تھا، میں آپ کو بتاؤں .. کہ:
کس طرح کا احساسِ زیاں تھا کہ ہُوا گُم
کس طرح کا احساسِ زیاں ہے کہ بچا ہے
ملک آدھا گیا ہاتھ سے اور چپ سی لگی ہے
اک لَونگ گواچا ہے تو کیا شور مچا ہے
تو، اس میں اگر مزاح کا عنصر نہ ہوتا تو بات ایسی ہی تھی۔ سنئے! بیلینس کرنے کے لئے، بڑا اچھا لفظ آپ نے کہا کہ اس میں ایک توازن، ایک تعادل ، اس میں ایک اعتدال پیدا کرنے کے لئے۔ .. ...

محمد احمد: مزاح جس طرح پیدا کیا جاتا ہے، اس کے مختلف عناصر کہا جا سکتا ہے ان چیزوں کو، جیسے کنٹراسٹcontrast، متوازن، غیر متوازن کیفیت، اب تو طنز بھی اس میں شامل ہے۔ اس کی حقیقت جو ہے کوئی زمانی سی نہیں ہے؟ جن چیزوں پر ہم آج ہنستے ہیں، شام کو نہیں ہنستے، جن چیزوں کو آج دو دفعہ ہم نے سن لیا اس کو گھنٹے بعد جب سنیں گے، نہیں ہنسیں گے۔ اس لحاظ سے پرانا مزاح جو ہے اس کی کیفیت کیا ہے؟ کیا وہ ایک ہسٹریhistory سی نہیں بن گیا؟ مزاح کی ایوولیوشنevolution میں تو اس کا پوائنٹpoint ہے مگر آج ہم اس کو مزاح اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اس پر آج قہقہہ نہیں لگتا، تو اس اعتبار سے... 

پروفیسر انور مسعود: اصل میں یہ جو بات آپ نے کی ہے، وہ لفظ جو اس کے لئے استعمال ہوتا ہے، وہ ہے ’’حربے‘‘۔ کہ آپ مزاح پیدا کرنے کے لئے کون سے حربے استعمال کرتے ہیں، ٹیکنیکtechnique جسے کہتے ہیں۔ اس کا ایک حربہ پیروڈیparody ہے، یہ ویسٹwest سے آیا ہے بلکہ ویسٹ سے کیا آیا ہے ہمارے ہاں مشرق میں بہت پرانا موجود ہے۔ اس کے بعد لفظی بازی گری ہے، وہ بھی ایک حربہ ہے، پھر مبالغہ ہے، وہ بھی ایک حربہ ہے، مثلاً یہ کہ اگر کسی آدمی کی ایک چیز بہت نمایاں ہو تو اس کو مزید نمایاں کریں جیسے کارٹونcartoon ، یہ وہی حربہ ہے۔ وہ عربی شاعر تھا ایک، اس کا دوست تھا جس کی ناک بہت لمبی تھی، تو وہ اسے کہا کرتا تھا اَلسَّلامُ عَلَیْکُمَا تم دونوں پر سلام ہو، یعنی اس کی ناک کو بھی الگ شخصیت بنا دیا۔یہ وہ بات ہے کہ قیامت تک جتنے سال بھی گزر گئے، اس پر آپ ہنسیں گے۔ میں آپ کے جواب کی طرف آتا ہوں ۔ پرانی سیچوایشنsituation جو سیچوایشن ختم ہو جاتی ہے، اس پر لکھا ہوا شعر بھی ضائع ہو جاتا ہے اور زندگی میں بعض قدریں دوامی ہیں، بعض باتیں بہت اہم ہیں جو انسان کے ساتھ ہمیشہ ہیں : اس کی بھوک ہے، اس کی پیاس ہے، اس کی محبت ہے، اس کی نفرتیں ہیں، اس کے دُکھ ہیں، جو مزاح ان سے پھوٹے گا اس کی قدر دوامی ہو گی! ہنگامی مسائل پر پیدا ہونے والا..مثلاً کوئی ایک واقعہ ہے، میں نے وزیر کے ایک واقعے پر قطعہ لکھا ہے، وہ چھپا تھا اخبار میں، وہ اگالدان والا۔ وہ وزیر کا بیان آیا تھا کہ میں وزارت پر تھوکتا ہوں، تو، میں نے کہا کہ:
کبھی تو مثلِ قلم دان تھا یہی منصب
سلام کرتے تھے سب لوگ اس کی عظمت کو
یہ انقلاب تو دیکھو کہ خود جنابِ وزیر
اگال دان سمجھنے لگے وزارت کو
اب یہ واقعہ صرف ہنگامی ہے اور اس قطعے کی اہمیت بھی ہنگامی ہے۔لیکن یہ ہے کہ کچھ ہماری جدید تہذیب کی باتیں ہیں جیسے آج دروازے پُلpull اور پُشpush دیکھے ہیں آپ نے، پہلے نہیں ہوتے تھے ایسے دروازے۔ ضمیر جعفری نے کہا ہے کہ:
اُن کا دروازہ تھا مُجھ سے بھی سوا مشتاقِ دید
میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھُلا
زندگی کے خارج میں جو تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اس سے متعلق مزاح ہوتا ہے! اس میں ایک تاثیر ملتی ہے۔ اور پرانی باتوں میں بعض دوامی قدریں لٹریچرliterature میں بھی ہیں، محبت کا مضمون ہے، وہ آفاقی ہے، وہ عالمگیر ہے، وہ زمان و مکاں سے ماورا ہے۔ تو، کوشش آپ کو یہ کرنی چاہئے، ہمارے فن کار کو، کہ ہمارا کس سے مقابلہ ہے؟ ہمارا مقابلہ یہ ہے ہم اکھاڑے میں اترے ہوئے ہیں اور ہمارے سامنے ٹائمtime اور ہماری کشتی ہو رہی ہے۔ اب، جو زیادہ سے زیادہ ٹائم کوشکست دے سکتا ہے، وہ بڑا شاعر ہے۔اسی لئے اقبالؔ ، اقبالؔ بڑا شاعر ہے! جب اقبال کی برسی منائی گئی صد سالہ تقریبات، سن ستتّر میں ،تو میں نے پنجابی کا ایک شعر کہا، کہ:
صدی سمندر جد تک ڈِگسن، ورھے ورھے دیاں ندیاں
سن ستتّر(۷۷) تے اِک پاسے، ساریاں تیریاں صدیاں
حافظؔ آج بھی زندہ ہے، سعدیؔ آج بھی زندہ ہے، اقبالؔ آج بھی زندہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوامی عناصر کو اپنانا چاہئے، وہ دیرپا ہوتے ہیں اور باقی ہنگامی سی چیزیں ہیں جیسے مجیدؔ لاہوری۔ ہیں جی! انہوں نے سیاست کو اپنا موضوع بنا لیا۔ سیچوایشنل situational  شاعری ہے، جب سیچوایشن مر گئی، شعر مر گیا۔ آپ حیران ہوں گے سن کے، کہ علامہ مشرقی شاعر بھی تھے! میری ان سے ملاقات ہوئی، میں آپ سے چھوٹی عمر کا تھا جب ان سے ملا۔ انہوں نے کہا: میں نے جیل میں تین کتابیں لکھی ہیں شاعری کی، دیکھوں گا ہندوستان میں کون ماں کا پُوت ہے جو ان کا جواب لکھتا ہے! اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ علامہ مشرقی بعد میں فوت ہوئے، ان کی شاعری پہلے مر گئی۔ جمالی نہیں ہے، وہ تو حساب کا آدمی تھا!

آفتاب رانا: ایسا تو نہیں کہ وہ نصیحت کر رہے ہیں معاشرے کو؟

پروفیسر انور مسعود: ہاں ہاں! ناصحانہ پن بھی ہے لیکن وہ خشک ناصحانہ پن ہے۔ ایسا مولوی نہیں گوارا ہوتا، ہیں جی! دیکھئے ایک بات ہے! ایک مولوی صاحب وعظ کر رہے تھے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے دنیا میں جو چیز بنائی گئی ہے، بہترین ہے! جناب، وہ منبر کے نیچے ایک کُبڑا بیٹھا ہوا تھا۔ بات ختم کر کے چلے تو اُس نے کہا: مولانا، یہ آپ نے کیا فرما دیا ہے کہ اللہ نے ہر چیز اچھی بنائی ہے؟ ذرا میری طرف تو توجہ فرمائیے۔ مولوی نے کہا: قسمے خدا دی اِس توں بہتر کُبّا بن ای نہیں سکدا !

محمد احمد: مزاح کے مقاصد، جیسے کوئی کہتا ہے یہ بالکل ہنسنے کے لئے ہے، مذاق اڑا دیتے ہیں اور اصلاحی ہے تو اس میں طنز بھی شامل ہے، ڈائریکشنل directional ہو جاتا ہے۔ آپ کی نظر میں اس کے کون سے مقاصد ہیں؟ آپ نے طنز تو بہت لکھی ہے اس میں مزاح شامل کر کے لیکن اس کے ساتھ اور بھی مقاصد ہیں جن کو آپ آئیڈیلideal سمجھتے ہیں اور جب مزاح لکھنے بیٹھتے ہیں تو وہ آپ کے سامنے ہوتے ہیں؟

پروفیسر انور مسعود: اصل میں آپ نے بحث چھیڑ دی ہے، فن برائے فن یا فن برائے زندگی۔ یہ بنیادی مسئلہ ہے! تو میں اس کا .. فن برائے فن کا .. اس حد تک ضرور قائل ہوں، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کہ اس سے مسرّت حاصل ہو۔ ایک تفریحی عنصر، جو آپ کی تھکن کو اتار دے، آپ کو زندگی میں تازہ دم کر دے۔ قُرآنِ مجید میں حسن کی تعریف آئی ہے کہ جب اُن سے کہا گیا کہ گائے ذبح کرو اس کا یہ رنگ ہو، بسنتی رنگ ہو اس کا، ہیں جی! اور ساتھ آیا ہے، آیت آئی ہے تَسُرُّالنَّاظِرِیْنَ دیکھنے والوں کو مسرت بخشے۔ فن کا یہ بہت بڑا منصب ہے۔ تو گویا قرآن نے بتایا کہ جمال وہ ہے جو انسان کومسرت بخشتا ہے۔ اور اگر جناب وہ ڈائریکشنل ہو تو سبحان اللہ، سونے پر سہاگہ، بہت اچھی بات ہے وہ تو۔ سُنئے آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے یہ دنیا بے مقصد نہیں بنائی! سنّتِ الٰہی یہی ہے کہ آدمی کوئی بے مقصد کام نہ کرے، مقصود کوئی ہونا چاہئے! تو میرا مقصد یہ ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں، میں دیکھتا ہوں، کہ:
اجڑا سا وہ نگر، کہ ہڑپّہ ہے جس کا نام
اُس قریۂ شکستہ و شہرِ خراب سے
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے ٹنوں کے حساب سے
تو، میں تو اس کی مقصدیت کا قائل ہوں۔

آفتاب رانا : معاشرے کی قدریں جو زوال پذیر ہیں، نوجوانوں کی خاص طور پر۔ اس حوالے سے آپ کا ایک قطعہ تھا .. .. . .

پروفیسر انور مسعود : ہاں ہاں، اس کا نام تھا ’’دھواں‘‘:
تبصرے ہوں گے مرے عہد پہ کیسے کیسے
ایک مخلوق تھی میراثِ رواں چھوڑ گئی
پھونکتی رہتی تھی پٹرول بھی تمباکو بھی
ہائے کیا نسل تھی دنیا میں دھواں چھوڑ گئی

محمد احمد: یہ جو مزاح ہے، اب اسی پر سوالات ہو رہے ہیں تو یہ موضوع ختم کر لیا جائے۔ یہ کہ اس کے پیچھے غم ہوتا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ بندے کو غم تو ہوتا ہے، لیکن جو مزاح وہ لکھتا ہے اس کا پہلو اور موضوع وہ نہیں ہوتا جو کہ اس غم کا ہوتا ہے۔ یہاں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ غم ایک ایسا جذبہ تھا جس کا ردّ عمل مزاح ہے، اس کے متعلق آپ فرمانا چاہیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ جس کے متعلق، فرض کریں وزارت، ہمیں آج کل تلخیاں ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے، تو اسی پر طنز بھی ہو جاتی ہے ، اس کا موضوع تو وہی ہوا جس کا ہمیں غم ہے۔ لیکن کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں غم کوئی شدید ہے، بہت عجیب قسم کا لیکن جو ہم لکھنے بیٹھتے ہیں تو اس کی صورت ہی کوئی اور ہوتی ہے، اس کا موضوع ہی کوئی اور ہوتا ہے۔ تو کیا یہ کوئی رد عمل ہے اس جذبے کے خلاف؟ مطلب یہ کہ غم کے بعد جو جذبہ ابھرتا ہے، وہ مزاح کا ابھرتا ہے یا کوئی اور بات ہے؟

پروفیسر انور مسعود: ہاں یہ کہہ سکتے ہیں آپ۔ یہ ایک قسم کا ری ایکشن reaction ضرور ہے، عکس العمل کہوں گا میں اسے۔ یہ عکس العمل ہے۔ دیکھئے، کئی قسم کے ردِ عمل ہو سکتے ہیں، ایک آدمی کسی چیز کو دیکھ کر تیوری چڑھا سکتا ہے، ایک آدمی کسی چیز کو دیکھ کر رو سکتا ہے تو ایک آدمی زہرخند بھی ہو سکتا ہے، زہریلی ہنسی بھی ہنس سکتا ہے اور ایک آدمی تعمیری ہنسی بھی ہنس سکتا ہے۔ یہ سارے ری ایکشن ہی تو ہیں، سوچیں ہیں تو ری ایکشن، کوئی بھی فن ہے وہ ری ایکشن تو ہے۔

محمد احمد: پیر صاحب کے متعلق آپ نے کچھ لکھا تھا .. .

پروفیسر انور مسعود: پیر فضل حسین صاحب؟

محمد احمد: جی ہاں، پہلی کتاب میں وہ شامل ہے۔ پہلے ہی، اس میں شروع کی جو نظم ہے، پتہ چلتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ طنز لکھی ہے، ہمیشہ چوٹیں کی ہیں، اس کے پیچھے کیا غم ہے؟ یا یہ سراپا ردّ عمل ہے غم کوئی نہیں ہے؟ آپ کو وراثت میں ردِّ عمل ہی ملا کہ غم بھی ملا جس کے جواب میں آپ نے مزاح لکھا؟

پروفیسر انور مسعود: دیکھئے، بات یہ ہے کہ شاعری کوئی جیومیٹری geometry نہیں ہے، کوئی میتھے میٹکسmathematics نہیں ہے اور نہ اس کے اندر اتنی تفریق کی جا سکتی ہے کہ یہ وہ ہے اور یہ وہ ہے، جیسے وہ سالٹ انیلے سس salt analysis کرتے ہیں آپ۔ تو اس کا سالٹ انیلے سس نہیں ہو سکتا۔ نہ، نہ! اس میں تو یہ ہے کہ کئی رَویں شامل ہو سکتی ہیں، وہ سب کچھ ہے۔ وہ ہے، وہ ہے، یہاں اس کی مقدار کتنی ہے، یہاں اس کو تول نہیں سکتے آپ۔ ابھی ہمارے پاس کوئی ایسی لیباریٹری laboratory نہیں کہ ہم یہ تولیں کہ اس میں ری ایکشن کتنا ہے اور اس میں غم کتنا ہے ...تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساری چیزیں ملی جلی ہیں، مل جل کے ایک مرکب سا بن جاتا ہے۔

محمد احمد: سر، اس میں نفسیات بھی تو شامل ہوتی ہے اس لحاظ سے انیلے سس کرنا تھوڑا آسان نہیں ہو چکا، شخصیت کا؟

پروفیسر انور مسعود: ہاں، یہ ٹھیک ہے، لیکن یار! اب آدمی اتنی ایزیeasy چیز بھی نہیں ہے۔ ابھی کہاں نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ آدمی پورا دریافت ہو چکا ہے۔ پورا نہیں دریافت ہوا ابھی، تو میں نہیں کہہ سکتا کہ کتنا ہے؟ اس میں ریشوratio نہیں بیان کی جا سکتی۔ آپ کا سوال بہت ریاضیاتی ہے۔
یوسف ثانیؔ : اچھا جی، آپ کی دو کتابیں آ چکی ہیں۔ آپ کا ان دونوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تقابلی جائزہ تھوڑا سا۔

پروفیسر انور مسعود: یہ، اصل میں، میلا اکھیاں دا کتاب جو ہے، وہ تو بی اے کے نصاب میں شامل ہے دو یونیورسٹیوں میں آپشنل optional ۔ یہ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں اور پنجاب یونیورسٹی میں اس کی کچھ نظمیں شامل ہیں اور اللہ نے اس کو بڑی پاپولیرٹی popularity دی۔ پانچ ایڈیشن اس کے لگ گئے ہیں اور اب چھٹا ایڈیشن آنے والا ہے....

آفتاب رانا: نام کے ساتھ ساتھ دام بھی کما رہے ہیں آپ شاعری سے۔

پروفیسر انور مسعود: نہیں! شاعر، اصل میں، اسبغول تے کجھ نہ پھرول۔ زیادہ، پتہ ہے کماتا کون ہے؟ دکاندار۔ دیکھیں جی، پبلشر نے کتاب چھاپنی ہے، دکاندار نے بیچنی ہے۔ جس نے کسٹمر کو دینی ہے۔ اس کا کوئی حصہ نہیں، شعر اس نے نہیں لکھے، اس نے چھاپی نہیں لیکن اس کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ یہ استحصال کہہ لیں یا کچھ کہہ لیں۔ سب سے کم جس کو ملتا ہے، وہ شاعر ہے۔

محمد احمد: آپ کا شاعری کے علاوہ مشغلہ کیا ہے، وہ جو آپ کرتے ہوں اکثر۔

پروفیسر انور مسعود: بس یہی یار، شعر ہی سمجھ لیں۔ کوئی ایسا خاص مشغلہ نہیں۔ کھیلوں سے مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ کسی زمانے میں گُلّی ڈنڈا کھیلا۔ ہاکی پسند ہے۔ البتہ یہ ہے مجھے سب سے جو اچھا لگتا ہے کہ فرصت ہو تو کوئی کتاب ہو: کتابے و گوشۂ چمنے! کوئی اچھی کتاب اور اچھی خوشبو، یہ دو چیزیں مجھے پسند ہیں۔ یہ تھوڑا ہے مشغلہ؟ شعر سے عہدہ برآ ہونا کوئی آسان ہے؟

آفتاب رانا: بات پنجابی شاعری کی ہوئی تھی، آپ کی جو شاعری ہے پنجابی کی، اس میں بہت سے الفاظ بڑے عوامی قسم کے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس دَور میں جب کہ لوگ پنجابی چھوڑ رہے ہیں، آپ نے اتنے مشکل الفاظ استعمال کئے جو، میرا خیال ہے، پنجاب میں بھی کم ہی سمجھے جاتے ہیں۔ اس میں اچھے اچھے الفاظ بھی ہیں۔ وہ جو تندور ہے یا ساس بہو کا جھگڑا ہے ، تو، اتنی عوامیّت کی وجہ کیا ہے؟

پروفیسر انور مسعود: بھئی یہ انہی کے ... وہ سمجھتے ہیں ہماری بات! انہیں کچھ اجنبیّت نظر نہیں آتی، وہ بات جو ہے انہیں کچھ ایسا لگتا ہے کہ وہ جو ہم بیان کرتے ہیں وہی میں نے جو آپ سے کہا تھا کہ میں نے ہونٹوں سے لے کر کانوں کو واپس کر دی ہے۔

یوسف ثانیؔ : آپ گاؤں سے شہر میں آئے۔ اس کے علاوہ آپ نے اردو پنجابی دو مختلف زبانوں میں لکھا، سنجیدہ بھی اور مزاحیہ بھی۔ آپ لکھتے اردو میں اور پنجابی میں ہیں اور آپ پروفیسر ہیں فارسی کے۔ یہ تضادات، ان کو آپ کیسے سنبھالتے ہیں؟

پروفیسر انور مسعود: پہلی بات تو یہ ہے کہ میں گاؤں سے نہیں آیا، میں شہر کا رہنے والا ہوں۔ دوسرا یہ ہے کہ میری بیوی جو ہے، وہ اردو سپیکنگ ہے۔ اور میرے بچوں کی مادری زبان اردو ہے۔ ہر زبان کا ایک لیول level ہے ، ہر لیول پر مجھے زبان عزیز ہے۔ پنجابی میری مادری زبان ہے۔ اردو میری قومی زبان ہے، فارسی میری تہذیبی زبان ہے اور عربی میری دینی زبان ہے! انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ ہر زبان کا ایک مقام ہے اس اعتبار سے مجھے عزیز ہے۔
ہاں، مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز
شکر ہے انورؔ مری سوچیں علاقائی نہیں

یوسف ثانیؔ : آپ ماشاء اللہ ایک استاد بھی ہیں۔ استاد اور شاگرد کے موجودہ تعلقات، ان کے درمیان کمیونیکیشن communication کچھ زیادہ ہونی چاہئے اور آج کل جو حالات چل رہے ہیں، اُن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

پروفیسر انور مسعود: دیکھئے جی! اس دَور میں استاد کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔ جو شاگرد ہے وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھتا ہے، وہ نعیم بخاری کو دیکھتا ہے، وہ طارق عزیز کو دیکھتا ہے، وہ ڈرامے دیکھتا ہے، وہ فلمیں دیکھتا ہے، وہ عظمیٰ گیلانی کو دیکھتا ہے، وہ عابد علی عابدؔ کو دیکھتا ہے۔ تو، اب اس کو وہاں سے کھینچ کے لانا ہے۔ چیلنج ہے، بہت بڑا چیلنج! اور لڑکا اگر اس ڈرامے کو چھوڑ کر انور مسعود کے لیکچر میں آ جائے اور وہاں نہ جائے تووہ کامیاب لیکچرر ہے، نہیں تو نہیں ہے! یہ ہے میرا، باقی لڑکے اس طرح ہیں، لڑکے بہت اچھے ہیں لڑکے آج بھی با ادب ہیں۔ ٹیچر کوئی مطمئن کرنے والا بھی تو ہو، نا! میں لڑکوں کو برا کہہ دوں، یہ بات نہیں ہے۔ ساتواں پیریڈ میرا ہوتا ہے۔ لڑکے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں آپ کے پیریڈ کے لئے بیٹھے ہیں۔ کیوں بیٹھے ہیں؟ ایک تو میں نے فاصلہ زیادہ نہیں بڑھایا، ’’جا، جا، جا، جا!‘‘ یہ نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ میرا مستقبل بیٹھا ہوا ہے۔ یہ میرا پاکستان ہے، یہ میرا سرمایہ ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کی ٹیچنگ teaching بھی ایک ... میں نے اسے ایسے ہی نہیں اپنایا۔ میں نے کہا تھا پبلک سروس کمیشن مجھے نہیں نا سیلیکٹselect کرتا، تے میں مُنڈے لَے کے مسیت چو بہہ جاں گا۔ مجھے پڑھانے کا اتنا شوق تھا۔ ورنہ اتنا پڑھا کے تو لوگ بور ہو جاتے ہیں۔ اک کلاس اچ جانا، مصیبت پَے جاندی اے۔مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب میں کلاس میں لیکچر دے رہا ہوتا ہوں۔ حافظؔ کا ایک شعر ہے:
حافظؔ درونِ مے کدہ دارد قرارہا
کَالطَّیْرِ فِی الْحَدِیْقَۃِ وَاللَّیْثِ فِی الْعَجَمِ
جیسے باغ میں پرندہ ہوتا ہے، جیسے جنگل میں شیر ہوتا ہے تو ایسے میں کلاس میں ہوتا ہوں۔ بالکل ایسے اور میں لڑکوں کو منع نہیں کرتا کسی بات سے، سوال کرنے سے، میں انہیں پہلے دن کہہ دیتا ہوں دیکھو، سوال کرو! میں نے اپنے اساتذہ سے یہی سیکھا ہے۔ جب آپ کوئی ایسا سوال کریں گے کہ جس کا جواب مجھے نہیں آئے گا میں صاف کہہ دوں گا۔ سارا کچھ تو کسی کو بھی نہیں آتا، یار! سیدھی سی بات ہے، مجھے نہیں آتا بھائی، میں آپ کا ممنون ہوں مجھے آپ نے ایک ایسی بات دی جس کو میں ڈھونڈوں گا۔ تو، میں شکریہ ادا کرتا ہوں سوال کرنے والے کا۔ اس لئے میں ایسا ماحول رکھتا ہوں۔ سٹوڈنٹ آج بھی اچھا ہے، ٹیچر کو چاہئے اسے مطمئن کرے!

یوسف ثانیؔ : کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں آپ، طالبِ علم کو؟

پروفیسر انور مسعود: میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ عام طور پر طلبا کی توجہ آج کل وہ پڑھائی کی طرف ویسی نہیں رہی جیسی کبھی ہوا کرتی تھی۔ اصل میں، اصل مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں پرائرٹیز priorities بدل گئی ہیں۔ جو چیز زیادہ اہم نہیں ہے اس کو ہم اہم سمجھتے ہیں، جو چیز اہم ہے اس کو اہم نہیں سمجھتے۔ طلبا کے لئے یہی ہے کہ، جس کام کے لئے، مقصد جو ہے، آپ کالج میں کیوں داخل ہوئے، والدین نے آپ کو کیوں بھیجا ہے، ان کا پیسہ آپ کا وقت، سب کچھ خرچ ہو رہا ہے، ایک خاص مقصد کے لئے ، تو اس کی طرف توجہ دیں! اور پیغام؟ پیغام کوئی مشکل نہیں ہوتے۔ دیکھئے! زندگی میں سچائیاں بڑی آسان ہیں، بہت آسان۔ یہ کوئی مشکل بات ہے؟ بھائی جھوٹ نہ بولو۔ قرآن نے تو انہیں معروف کہا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے۔اصل بات عمل کرنا ہے، اصل بات ہے کہ آپ ان پر عمل کریں۔ اگر اثر ہوتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ہمارے پروفیسر صاحب کہا کرتے تھے: میں سمجھاتا ہوں اگر سمجھ میں آ جائے آپ کو، تو اچھی بات ہے نہیں تو اور بھی اچھی بات ہے۔ یہ ہے کہ اپنی جو ڈیوٹی ہے، فرضِ منصبی ہے، اس کی طرف توجہ کریں۔

محمد یعقوب آسیؔ : یہ گفتگو باقاعدہ طور پر ختم کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہئے ڈھیروں، کہ انہوں نے بہت سارا وقت دیا اور جتنے ہمارے سوالوں کے جوابات سے نوازا، اور میرا خیال ہے ذاتی طور پر کہ پروفیسر صاحب کو خوشی ہوئی ہو گی یہ سوالات سن کر۔

پروفیسر انور مسعود: ہاں، بالکل اچھا، میں یہ کہہ دیتا ہوں۔بھئی مجھے بہت خوشی ہوئی اور اچھا بھئی، وعلیکم الشکریہ۔ (قہقہہ)

محمد یعقوب آسیؔ : تو ... اختتامی بات یہ ہے کہ:
ہس ہس جردے تتیاں ریتاں دھن مکئی دے دانے
جیوں جیوں بھانبڑ مچدا جاوے بندے جان مکھانے
طنز اور مزاح لکھنا اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے .... شکریہ!
()



بدھ، 24 جون، 2015

اپنا حوالہ ۔۔ ایک فاصلاتی انٹرویو ۔۔


اپنا حوالہ
اردو محفل فورم  سے بات چیت۔ دسمبر ۲۰۱۲،جنوری ۲۰۱۳


اردو محفل  (۱) آپ کا بنیادی حوالہ شعر ہے ،آپ فرمائیے کہ آپ سالیبِ شعری کے علاوہ ادب کی دیگر اصناف سے بھی رغبت رکھتے ہیں ؟
شعر بھی اپنا حوالہ بن سکے تو بڑی بات ہے۔
میں نے کبھی اختصاص سے کام نہیں لیا۔ اردو میں بھی لکھا، پنجابی میں بھی، اردو سے پنجابی اور فارسی سے پنجابی میں ترجمے بھی کئے۔ غزل بھی کہی نظم بھی، اور رباعی کو بھی چھیڑا۔ ’’لفظ کھو جائیں گے‘‘ احباب کی نظروں سے گزر چکی۔ ’’مجھے اک نظم کہنی تھی‘‘ ان شاء اللہ جلدی پیش کر دوں گا۔ اردو نثر میں: چند ایک شخصیات سے بات چیت اور ان کی شاعری پر اور شخصیت پر اظہار بھی ہے۔ کتابوں کی تقریظیں ہیں کہ تقریظ پر کوئی ناراض نہیں ہوتا۔ افسانہ اور کہانی لکھنے کی بھی کوشش کی۔ تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔ پنجابی میں غزل بھی کہی نظم بھی اگرچہ بہت کم کم۔ جو کچھ نظم ہو سکا ’’گوہلاں‘‘ کے عنوان سے یہاں پیش کر چکا ہوں۔ وہاں بھی کہانی، افسانہ، مضمون اور راہوارِ قلم جدھر لے گیا۔
یہ ضرور ہے کہ احباب نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ہے، نہیں تو شاید یہ سب کچھ بہت مشکل ہو جاتا۔

اردو محفل : (۲) آپ شعر کیوں لکھتے ہیں ؟ ادب کی دیگر اصاف بھی تو ہیں ان کی طرف میلان و رغبت کیوں نہیں ہوئی ؟ اگر ہوئی ہے زیادہ مطمئن کس اظہار میں ہیں شعر یا نثر ؟
یہ بات تو ہو گئی، کہ میں نے اپنے قلم پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ جو کچھ اپنے اندر سے اٹھا ہے، اس کو بس اپنی استعداد کی حد تک بنا سنوار کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ سوال کا پہلا حصہ مجھ پر لاگو نہیں ہوتا۔
چاشنی شعر اور نثر دونوں کی اپنی اپنی ہے۔ البتہ بعض حوالوں سے شعر کو اولیت حاصل ہے۔ نثر میں آپ پر شعر جتنی پابندیاں نہیں ہوتیں، وہاں دیگر عناصر ہوتے ہیں۔ شعر میں سب سے پہلا معاملہ تو بحر، قافیہ، ردیف، صنفی تشکل (رباعی، خماسی، مسدس، مخمس، ترکیب بند، ترجیع بند؛ وغیرہ) کے تقاضوں کا ہے، اسلوب اور مضامین کا معاملہ اپنی جگہ! ایک شخص اگر ان سارے مراحل سے بخیر و خوبی گزر جاتا ہے تو اس کی مسرت بالکل بجا ہے۔ شعر کی ایک خاص بات اس کی یاد رہ جانے کی خوبی ہے۔ کسی کا شعر (نقل کرنے والے کو بھی شاعر کا پتہ نہیں تھا) مجھ تک پہنچا۔ ایک بار پڑھا تو جیسے ازبر ہو گیا۔ آپ بھی پڑھئے:
اس لئے بھی تری تصویر جلا دی میں نے
اور کچھ تھا ہی نہیں دل کو جلانے کے لئے
اس پر مستزاد یہ کہ ایک شعر یاد آتا ہے تو پھر کسی نہ کسی تعلق سے شعر پر شعر یاد آنے لگتے ہیں۔ نثر میں ایسا نہیں ہوتا۔ بہت نمایاں جملے یاد رہ جائیں تو رہ جائیں، پیراگراف کے پیراگراف تو خود لکھنے والے کو بھی یاد نہیں رہتے، الاماشاءاللہ۔
غزل کو میں اردو شاعری کا عطر کہا کرتا ہوں، جتنی نزاکتیں یہاں کارفرما ہوتی ہیں شاید ہی کسی اور صنفِ سخن میں ہوں۔ غزل کی ریزہ خیالی کی بدولت اس کا ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل مضمون کا حامل ہوتا ہے، سو کسی بھی موقع پر دو سطروں کے مختصر حوالے کا کام کر جاتا ہے۔ کفایت لفظی بہت اہم چیز ہے۔ خیر الکلام ما قل و دل (بات کی عمدگی یہ ہے کہ وہ مختصر ہو اور مدلل ہو)۔ غزل کا شعر جس قدر مختصر اور جامع ہو گا اسی قدر وقیع ہو گا۔ ایک اور اہم عنصر جو ادب کو ادب بناتا ہے وہ جمالیات ہے۔ جمالیات کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔

اردو محفل : (۳) شاعری کو روح کا خلجان کہاں جاتا ہے ۔۔ ناآسودگی کا نوحہ کہا جاتا ہے۔۔ ؟؟ کیا آپ کے نزدیک یہ بات درست ہے ؟ اور کیوں ؟
کہنے کو بہت کچھ کہا گیا، یہ روح کا خلجان ہے یا نغمہ ہے، نا آسودگی کا نوحہ ہے یا آسودگی کا سامان ہے، پیمبری کا حصہ ہے یا پریشان خیالی کا مظہر ہے؛ و علٰی ہٰذاالقیاس۔ یہ خواص تو نثر میں بھی ہو سکتے ہیں۔ اور پھر یہ جتنے عناصر بیان کئے گئے ہیں اُن سب کو شعر کہنے والے کی شخصیت اور معاشرے میں اس کے مقام کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو کھلتا ہے کہ ہم کسی بھی شعر سے اس کے شاعر کو کلیتاً خارج نہیں کر سکتے۔ غالب، میر، مومن، فیض، اقبال، جوش اپنے کلام میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔ میرے نزدیک شاعری اظہارِ ذات کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ ذات کی تشکیل میں داخل، خارج سب کچھ کا اثر ہوتا ہے۔ جسے فارسی میں کہتے ہیں: ’’از ماست کہ بر ماست‘‘۔ یہ ضرور ہے کہ کسی بھی معاشرت کا اعلٰی ترین مظہر اس کی زبان ہوتی ہے، پھر زبان میں ادب کو بلند تر درجہ حاصل ہے، ادب میں شاعری کو اولٰی مانا گیا ہے، اور اردو شاعری کا عطر غزل ہے۔

اردو محفل : (۴) ہمارے گردو پیش میں ایک سوال بازگشت کرتا نظر آتا ہے کہ ”شاعری کیا ہے“ ۔۔ آپ کیا کہتے ہیں ا س بارے میں کہ اس سوال سے”شاعری“ کی کوئی جہت دریافت ہوسکتی ہے یا محض وقت گزاری ہے؟
اس کا آدھا جواب تو اوپر ہو چکا۔ مختصر ترین الفاظ میں شاعری اظہارِ ذات کا ایک انداز ہے۔ اور بھی بہت سے انداز ہوا کرتے ہیں، وہ ایک الگ بحث ہے۔ شاعری، اگر کوئی حقیقی شاعری کرے، تو اس کی اتنی ہی جہتیں ہوں گی جتنی صاحبِ کلام کی شخصیت کی ہوں گی۔ شاعری کی دنیا میں مشاہیر کو مشاہیر کیوں کہا جاتا ہے؟ اس لئے کہ ان کی شاعری جہتوں کا تعین کرتی ہے، لوگوں کے متفق یا غیر متفق ہونے سے قطع نظر مشاہیر کے ہاں کوئی نہ کوئی ایسا عنصر ضرور ہوتا ہے وہ فکری ہو، فنی ہو، فلسفیانہ ہو، سوقیانہ ہو، اصلاحی ہو، تخریبی ہو، جیسا بھی ہو، ہوتا ضرور ہے۔ رہی وقت گزاری والی بات تو جناب! اگر وقت گزاری ہی کرنی ہے تو پھر اس قدر سخت ذریعہ ہی کیوں؟ اس کے باوجود کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اس کو وقت گزاری کا طریقہ ہی سمجھتے ہیں۔ وہ جتنے بھی باصلاحیت رہے ہوں، اور پی آر یا ایسے کسی طریقے سے منظرِ عام پر بھی ہوں، وقت ان کو گزار دیتا ہے یعنی وہ بہت جلد فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ پروفیسر انور مسعود نے ایک بہت خوب صورت بات کی: ’’اللہ فرماتا ہے ہم نے اس کائنات کو عبث پیدا نہیں کیا۔ سو، سنتِ الٰہی یہی ہے کہ بندہ کوئی بے مقصد کام نہ کرے‘‘۔
حسنِ نیت نہ میسر ہو تو انور صاحب
ہے خطر ناک بہت ذہنِ رسا کا ہونا

اردو محفل : (۵) کیا اس سوال کا اسالیبِ ادب میں کوئی مقام ہے ؟ اگر ہے تو اس سے کیا فائدہ ممکن ہوسکا ہے اب تک ؟؟
وہ جو اوپر سوال گزرا ہے؟ وقت گزاری والا؟ اس کا تعلق تو شاعری کی اصلیت اور مقصدیت سے ہے، اسلوب نہیں۔ اسلوب کے بارے میں سوال آگے آتا ہے۔

اردو محفل : (۶) سنجیدہ ادبی حلقوں میں یہ نعرہ بڑے زور و شور سے بلند کیا جاتا ہے کہ ادب روبہ زوال ہے کیا یہ بات درست ہے ؟ بادی النظرمیں عام مشاہدہ یہ ہے کہ لکھنے والوں کی تعداد خاصی ہے ، کتابیں رسائل جرائد بھرے پڑے رہتے ہیں تخلیقات سے اور طباعتی ادارے خوب پھل پھول رہے ہیں۔۔۔
ادب رو بہ زوال نہیں ہے صاحب! اَقدار رو بہ زوال ہیں! اور ادب پر اگر کوئی زوال ہے تو وہ قدر کی حیثیت سے ہے، اس پر تفصیلی بات کریں گے۔ معیارات بدل گئے، پیمانے بدل گئے، محبت اور مؤدت کی جگہ آسائشوں کی دوڑ نے لے لی، تعلقات کی حیثیت ثانوی ہو گئی۔ بڑے شہروں میں انسان سے انسان کی دوری نے کچھ زیادہ رنگ دکھایا۔ ہم سہولیات کی دوڑ میں شامل ہوئے تو وہی سہولیات ضرورت بن گئیں اور تعیشات کو سہولیات کہا جانے لگا، پھر یہ بھی رفتہ رفتہ ضرورت بن گئیں۔ حقوق و فرائض کا تصور بدل گیا، ذمہ داری کے معانی تبدیل ہو گئے۔ آزادی ’’مادر پدر آزادی‘‘ میں ڈھل گئی، فلاح و بہبود اپنے گھر تک محدود ہو گئی، ہمسایہ اجنبی بن گیا۔ کھرے اور کھوٹے کی پہچان باقی نہ رہی۔ تعلیم جیسا مقدس کام کاروبار بن گیا، کردار سازی کا تصور درس گاہوں سے رخصت ہو گیا۔ اور بات یہاں تک پہنچی کہ حکام جن کو رعایا کے خدام کہا جاتا تھا، رعایا کے خدا بن بیٹھے۔
اس شہر کا کیا جانیے کیا ہو کے رہے گا
ہر شخص بضد ہے کہ خدا ہو کے رہے گا
اور یہ سب کچھ صرف ہمارے ہاں نہیں ہوا، پورا گلوب اس توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہا ہے۔ ادیب بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہے، وہ بھی اس توڑ پھوڑ میں شامل رہا (کہیں شکار کی حیثیت سے اور کہیں شکاری کی حیثیت سے) اور اپنے اس منصب سے دور ہو گیا جو اِس کو فکری راہنما کا درجہ دیتا تھا۔
ادب کی اصناف میں انحطاط رونما ہوا جسے آخرکار سند تسلیم کر لیا گیا، تنقید اور تنقید نگاری میں پہلے یہ ہوتا تھا کہ نقاد تخلیق کار کی شین قاف بھی درست کرتا اور اس کی راہنمائی بھی کرتا۔ بہ ایں ہمہ اس عمل کو شاعر کی ’’آزادیء اظہار‘‘ پر پابندی سمجھا جانے لگا تو تنقید سمٹ کر ہاں، نہیں تک رہ گئی۔ نقاد پر ایک الزام سہل پسندی کا بھی دیا جاتا ہے کہ جی وہ فلاں اس نے دس بارہ دساوری حوالے دیے اور سب کو چپ کرا دیا۔ مقصد سب کو چپ کرانا قطعاً نہیں تھا۔ نقالی کا جو بخار پورے معاشرے پر وبا بن کر چھا رہا ہے، اُس نے دانشِ مشرق کو دانشِ افرنگ کا دست نگر بنا دیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ’’غزل کیا ہے‘‘ کے مباحث میں فرانسیسی اور برطانوی نقادوں کو حوالے کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ بھائی اُن لوگوں کا غزل سے دور کا واسطہ نہیں، اُن سے کیا پوچھتے ہو، اپنی بات کرو کہ یہ تو ہے ہی خالصتاً آپ کی چیز۔ سیاست اور معیشت کے بعد نثر اور نظم کی دساوری تعریفات نے ادب میں بھی ایک تیسری دنیا کی داغ بیل ڈال دی۔ ان کے میٹرز اپنے ہیں، سٹریس اینڈ سٹرین اپنے ہیں، آپ کے اپنے ہیں، وہ اپنی زبان کی اصناف میں جو بھی کریں آپ پر ان کی پیروی کہاں لازم تھی! نئے دور میں کچھ نئے نعرے لگے: ’’ادب مذہب سے بالاتر ہے‘‘، ’’ادیب معاشرے کا عکاس ہوتا ہے‘‘؛ وغیرہ وغیرہ۔ تاہم یہ ہمار اس وقت کا موضوع نہیں ہے۔
کتابیں لکھی جاتی ہیں! بہت، اور پہلے سے کہیں زیادہ اور کاروبار کا ایک سلسلہ جو اس سے مربوط ہے وہ بھی چل رہا ہے۔ بہت سے لوگ دوسروں کے غم و آلام کی کمائی کھا رہے ہیں۔ ادب کا پبلشر نئے نام سے بدکتا ہے، اسے معیار سے کیا لینا دینا۔ اسے ’’خصوصی ڈائجسٹ‘‘ اور ’’عمومی ڈائجسٹ‘‘ چھپوا کر ایک مہینے میں جتنی کمائی ہوتی ہے، اساتذہ کے دیوان بیچ کر وہ اتنی کمائی سال بھر میں نہیں کر سکتا۔ ایک زمانہ تھا جب بقول شخصے فقیر گلی میں اور مغینہ کوٹھے پر اساتذہ کی غزلیں گایا کرتے تھے، آج قومی تقریبات میں دساوری پاپ اور سپرپاپ چلتا ہے، گھروں کا تو پوچھنا ہی کیا!۔ 
ہم نے تو دس بارہ سال پہلے سنا تھا کہ وطنِ عزیز میں اوسطاً دو شعری مجموعے روزانہ شائع ہو رہے ہیں۔ مگر ان کی قیمت؟ سچی بات ہے اپنی رسائی میں تو نہیں کہ ہر مہینے بارہ ہزار روپے ذوقِ مطالعہ پر خرچ کر سکیں۔ ایک ’’عمومی ڈائجسٹ‘‘ میں مطبوعہ مواد کم و بیش بیس نثری مجموعوں کے برابر ہوتا ہے، غزلیات کی کہئے تو پچاس! اور اس کی قیمت صرف پچاس روپے! اور سو غزلوں پر مشتمل کتاب دو سو روپے میں۔ ادھر ادب کو عام قاری کی رسائی سے باہر کر دیا، ادھر ادیب کی جیب سے کتاب چھاپ کر اسے اس کی اصل رقم سے بھی یا تو محروم کر دیا گیا یا پھر وہ کئی کئی چکر لگا کر خود تھک ہار کر بیٹھ رہا۔ وہ مرحلہ جس میں ناشر ادیب کے پیچھے پیچھے پھرے، آتا اس وقت ہے جب ادیب اپنے بڑھاپے کو طویل کرنے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے۔ طباعتی اور اشاعتی ادارے پھل پھول رہے ہیں، بالکل بجا۔ ادیب اور قاری دونوں کی تو سانس پھول رہی ہوتی ہے۔
اس کے باوجود اچھا ادب بھی تخلیق ہو رہا ہے، اور بازا میں دستیاب بھی ہے جس کا سہرا صرف چند ایک سرپھروں کے سر جاتا ہے۔

اردو محفل : (۷) نئے لکھنے والے اس بات سے شاکی رہتے ہیں ہے کہ ان کے ”سینئرز“ ان کی نہ رہنمائی کرتے ہیں اور نہ انہیں قبول کرتے ہیں ۔۔کیا یہ شکوہ جائز ہے ؟ اور یہ فضا کیسے تحلیل ہوسکتی ہے ۔
نہیں صاحب! ایسی کوئی بات نہیں۔ دیکھئے، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ اور وہ جو معاشرتی انحطاط کی بات ہوئی تھی وہ یہاں بھی کارفرما ہے۔ شاعری اور وقت گزاری کا سوال بھی اس سے منسلک ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ میں نے جو کچھ (ادب میں) سیکھا ہے اپنے متقدمین (سینئرز) سے سیکھا ہے۔ ان کی محفلوں میں بیٹھا ہوں، ان کے مباحث سنے ہیں، اپنے سوالات پیش کئے ہیں اور مجھے ہمیشہ شافی جواب بھی ملا ہے، الا ما شاء اللہ۔ آپ احباب میرا طریقہ تو دیکھ چکے کہ میں کسی فن پارے پر بات کرتا ہوں تو وہ کچھ جسے میں (اپنی استعداد کے مطابق) درست سمجھتا ہوں کھلے کھلے سب کو بتا دیتا ہوں۔ چلئے یہ تو میری بات ہو گئی، کوئی کہہ دے کہ جی ہم نے عموماً یہی دیکھا ہے کہ بابے نئے لکھنے والوں کو سکھاتے نہیں۔ ادبی تنظیموں کا کردار آپ کے سامنے ہے، (گروہ بندی کی بات آگے آتی ہے) اس کے با وجود ہر ادبی تنظیم ایک ادبی تربیت گاہ ہوتی ہے۔ وہاں کسے کیسی تربیت ملتی ہے، یہ ہمارا موضوع نہیں، تربیت ملتی ضرور ہے!
ایک بات مجھے جونیئرز کے حوالے سے بھی کہنی ہے۔ میں نے متعدد نو قلم کاروں میں ’’فرار‘‘ کا رویہ بھی دیکھا۔ انہیں ایک بات بتائی جاتی ہے تو جواب ملتا ہے۔ اسے چھوڑیں جی، آپ بتائیں یہ شعر گزارہ کرے گا؟ میں ذاتی طور پر چند ایسے نوجوان لکھاریوں کو بھی جانتا ہوں جو ایک غلطی کرتے ہیں، لسانی یا فنی یا عروضی یا مضمون کے حوالے سے، انہیں بتایا جاتا ہے تو وہ یا تو تسلیم نہیں کرتے یا یہ کہ ’’آپ کی بات اور ہے جی، ہم نئے لکھنے والے ہیں، ہمیں تو رعایت حاصل ہے‘‘۔ ایسے میں سینئر کے پاس خاموشی کے سوا کیا بچتا ہے؟ ایک مثال سنئے (لکھاری کا نام نہیں بتاؤں گا)۔ انہوں نے ایک نظم کہی اور حلقہ میں تنقید کے لئے پیش کر دی۔ کم و بیش ہر ناقد نے نظم کو کمزور گردانا اور اس میں کچھ اغلاط کی نشان دہی کی۔ نظم پر گفتگو ختم ہوئی تو وہ صاحب چپکے سے اٹھے اور محفل سے چلے گئے۔ بعد ازاں اُن کے گھر پر کچھ دوست جمع ہوئے تو موصوف نے اعلان کر دیا کہ وہ حلقے میں نہیں آئیں گے، بقول ان کے ’’یہاں کسی کو ادب کا پتہ ہی نہیں‘‘۔ اس رویے کو کیا نام دیجئے گا۔ وہ نوجوان قلم کار بھی ہیں جو بہت تیزی سے سیکھتے ہیں اور ان کی تحریروں میں بہت تیزی سے نکھار آتا ہے۔ کچھ بزرگ شعراء رہے بھی ہوں گے جو سکھانے بتانے سے کتراتے ہوں، تاہم میرا مشاہدہ اور تجربہ اس کو صاد نہیں کرتا۔

اردو محفل : (۸) ادب میں حلقہ بندیوں کے باوصف گروہ بندیوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں کیا اس سے ادب کو کوئی فائدہ یا نقصان پہنچ سکتا ہے ؟
’’حلقہ بندیوں کے باوصف گروہ بندیوں میں‘‘ ۔۔؟؟ اگر یہاں حلقہ بندی سے مراد ادبی تنظیموں اور حلقوں کا قیام ہے تو ایک بات کی وضاحت کر دوں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک جگہ پر ایک حلقہ کے ہوتے ہوئے دوسرا صرف اس لئے قائم ہو کہ ’’کچھ لوگ‘‘ وہاں خوش نہیں ہیں۔ نئے حلقے بنا کرتے ہیں، اور اس کی کئی ایک وجوہات ہوتی ہیں۔ مثلاً آنے جانے کے مسائل، ملازمت اور دیگر مسائل جو موجود حلقہ کے اوقاتِ کار سے لگا نہ کھاتے ہوں، کسی ایک آبادی میں رہنے والے قلم کاروں کی تعداد کہ یار ہم اتنے لوگ یہاں رہتے ہیں کیوں نہ ہفتہ وار یا پندرہ دن میں یا مہینے بعد مل بیٹھا جائے؟ کچھ لوگ مل بیٹھیں گے تو کچھ نہ کچھ کام بھی ہو گا۔ میں اس کے حق میں ہوں بشرطے کہ ایسی حلقہ بندی کے پیچھے ایک مثبت سوچ کار فرما ہو۔ اور دو چار چھ اجلاسوں میں شرکت کر لی جائے تو اس سوچ کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔ گروہ بندیوں کا رجحان بڑے شہروں میں زیادہ ہے، کیوں؟ یہ تو بڑے شہروں کے رہنے والے بتا سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو 1985 سے اب تک کبھی رسمی انتخابات کی نوبت بھی نہیں آئی، دوستوں کو پکڑ دھکڑ کر مجلسِ عاملہ میں شامل کیا جاتا ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ گروہ بندیاں ادب کو فائدہ بھی پہنچاتی ہیں اور نقصان بھی۔ کہیں صحت مند مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے تو گروہی حوالے سے ہی سہی کچھ لوگ بہتر تخلیقی کاوشوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ تنقید کے میدان میں گروہی بنیاد پر بھی کسی کو رد کرنا یا کسی کی حوصلہ شکنی کرنا مقصود ہو یا کسی کو ہوا دینا تو کوئی نہ کوئی لولا لنگڑا جواز تو بنانا ہی پڑے گا۔ اس سے تنقید میں نئے اندازِ فکر کو راہ ملتی ہے۔ گروہ بندی کی فضا میں ذمہ داری کا احساس رکھنے والے اہلِ قلم اور دانش ور بہت سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں اور سیکھنے والوں کے لئے بہت کچھ مہیا کر جاتے ہیں۔ نقصانات کو بھی دیکھتے چلئے۔ کچھ لوگ حوصلہ شکن رویے کا شکار ہو کر پہلے ادبی اداروں سے اور پھر اپنے ادبی ارادوں ہی سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ تنقید اور تنقیص کے معانی ایک ہو جاتے ہیں، جیسے سیاست میں تنقید کا معنی ہی تنقیص ہے۔ کسی شخص کی صلاحیتوں کو تباہ کرنا مقصود ہو تو اس کی ہر غلط بات پر واہ، کیا خوب! داد کے ڈونگرے برستے ہیں۔ یوں اس شخص کے ساتھ جو نشانے پر آیا ہوا ہے بہت سے دوسرے بھی بھٹک سکتے ہیں۔ آپ کے خدشات بے جا نہیں ہیں۔

اردو محفل : (۹) آپ کیا کہتے ہیں کہ کسی شاعر کے ہاں اسلوب کیسے ترتیب پاسکتا ہے ؟
اسلوب، اسلوب کے عناصر، اسلوب کیسے بنتا ہے ۔یہ بہت بڑا موضوع ہے۔ میں خود کو اس قابل نہیں پاتا، مجھے اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے۔

اردو محفل : (۱۰) ہم عصر شعراءاور نوواردانِ شعر میں معیارِ شعر کا فرق ؟ یہ فرق کیسے ختم ہوسکتا ہے ؟ اچھے شعر کا معیار کیا ہے ؟
نو واردان بھی تو ہم عصروں میں آتے ہیں۔ آپ کا سوال واضح نہیں ہے۔ اگر اسے یوں سمجھا جائے کہ منجھے ہوئے شعراء اور نوواردانِ شعر میں معیار کا کیا فرق ہے، تو بھی بات کرنا خاصا مشکل ہے۔ ہمیں اس سوال کو مختلف اجزاء میں تقسیم کرنا ہو گا۔
الف۔ نووارد کون ہے، اور پرانا کون ہے؟
ب۔ کیا ان کے کلام میں معیار کا فرق ہے بھی یا نہیں؟
ج۔ کیا یہ فرق ختم ہو سکتا ہے؟  اور کیسے؟
د۔ اچھے شعر کا معیار کیا ہے؟

الف۔ نووارد کون ہے، اور پرانا کون ہے؟
نیا اور پرانا کا امتیاز زمانی ترتیب سے؟ کس نے پہلے شعر کہنا شروع کیا یا کون پہلے معروف ہوا، یا کس کی کتاب پہلے آ گئی؟ یہ تینوں پیمانے اپنی اپنی جگہ اہم، تسلیم! مگر  بہت سے لوگ دو تین سالوں میں معروف ہو جاتے ہیں اور بہت سوں کو عمروں میں کوئی نہیں جانتا۔ سیکھنے کی استعداد اور لگن ہر ایک کی اپنی اپنی ہے، اور حالات بھی اپنے اپنے! کوئی جل جل کر راکھ بن جاتا ہے اور کوئی پہلے تاؤ میں تاب دینے لگتا ہے۔ کتابوں کی بات پہلے ہو چکی، میرے پاس پیسے نہیں تھے یا نہیں ہیں تو میں انٹرنیٹ ایڈیشنز پر خوش ہوں۔ اُس کے پاس پیسے ہیں وہ ایک سال میں چھ کتابیں لا سکتا ہے۔ آپ کا اپنا معیار ایسا کڑا ہے کہ دوستوں کی شدید خواہش کو آپ یہ کہہ کے ٹال دیتے ہیں: ’’نہیں یار، ابھی میری شاعری اس قابل نہیں ہوئی، ہو جائے گی تو دیکھیں گے‘‘۔ ایک بزرگ شاعر 1952 سے باقاعدہ شاعری کر بھی رہے ہیں، ان کو ایک زمانہ تسلیم کرتا ہے مگر ان کا اولین مجموعہ 2010 میں شائع ہوتا ہے۔ تب تک ان کے شاگرد انہی کے سجھائے ہوئے مضامین میں کہے گئے شعروں کی بدولت جانے جاتے ہیں۔ حاصل کیا ٹھہرا؟ جو جتنا جلدی معروف معیارات کا پاس رکھتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار لیتا ہے وہ پرانا ہے چاہے اسے شعر میں وارد ہوئے تین چار پانچ سال ہی ہوئے ہوں۔۔ اور ۔۔ جو اپنی مشقِ سخن کی مبینہ خامیوں کو خوبیاں کہنے پر بضد ہے وہ نیا ہے اور نیا رہے گا، چاہے آدھی صدی تک مصرعے سیدھے کرتا رہے۔ اصل فرق ہے ہی معیار کا! سو یہ سوال بھی بھگت کیا کہ:  کیا ان کے کلام میں معیار کا فرق ہے بھی یا نہیں؟
ج۔ کیا یہ فرق ختم ہو سکتا ہے؟  اور کیسے؟
فرق ختم نہیں ہو سکتا! جن اہلِ فن اور اساتذہ کو ہم لوگ سند مانتے ہیں، فرق اُن میں بھی ہے۔ یہاں ہمیں ایک چیز فرض کرنی پڑے گی: ایک شاعر بیس پچیس سال سے شعر کہہ رہا ہے اور اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی حد تک اس ’’کارِ کوہ کنی‘‘ سے مخلص بھی ہے۔ ایک نوجوان شاعر ہے وہ کہہ لیجئے دو سال سے شعر کہہ رہا ہے اور اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی حد تک اس ’’کارِ کوہ کنی‘‘ سے وہ بھی مخلص ہے۔ فرق تو یہاں بھی ہو گا، ہاں یہ نوجوان جب ان تجربات سے یا ان سے ملتے جلتے تجربات سے گزرے گا تو ہو سکتا ہے بابا جی سے آگے نکل جائے!
’’کیسے‘‘کی ذیل میں سب سے پہلے تو خدا داد صلاحیت ہے، جسے ودیعت ہو گئی۔ پھر خلوص لگن اور تہیہ ہے، پھر محنت ہے اور علم کی پیاس اور مطالعہ و مکالمہ ہے، پھر وسیع المشربی ہے۔ یہ سفر شروع ہوتا ہے بے سروسامانی سے اور مسافر اپنا زادِ راہ اسی سفر سے حاصل کرتا ہے۔ اور اگر اس کی طلب صادق ہے اور او خود فریبی کا شکار نہیں ہے تو منزلوں پر منزلیں مارتا چلا جاتا ہے۔ بقول متشاعر ۔۔۔ 
چلو آؤ چلتے ہیں بے ساز و ساماں
قلم کا سفر خود ہی زادِ سفر ہے

اب وہ مرحلہ آتا ہے کہ ع: ’’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی‘‘۔ یعنی:
د۔ اچھے شعر کا معیار کیا ہے؟
’’جاؤ میاں! کسی گھسیارے سے جا کے سیکھو، میں تو قلعے کی زبان بولتا ہوں‘‘۔ مرزا غالب نے تو یہ بات عوام اور خواص کی روزمرہ کے حوالے سے کہی تھی، تاہم یہاں اس سوال کا جزوی جواب بھی ملتا ہے کہ ’’اچھے شعر کا معیار کیا ہے؟‘‘۔ پہلے بات ہو چکی کہ ادب میں شائشتگی اور شستگی ہونی چاہئے، جمالیات کی بات بھی ہو چکی۔ نثر اور شعر کا تھوڑا سا تقابل بھی ہو چکا۔ پروفیسر انور مسعود سے بھی سنا (1990ء) کہ: شعر وہ ہے جو آپ کو چھیڑ دے اور ذہن اس کے پیچھے یوں لپکے جیسے بچہ تتلی کے پیچھے دوڑتا ہے۔
شعر کا تعلق اصلاً محسوسات اور ان کے ابلاغ سے ہے۔ محسوسات کو ہم فزکس کیمسٹری کی طرح لگے بندھے پیمانوں سے نہیں ناپ سکتے۔ ابلاغ میں شاعر اور قاری دونوں کا اپنا اپنا حصہ ہے۔ ایک شاعر کے ایک ہزار قاری ہوں تو لازمی نہیں کہ تمام قارئین کو شعر کا یکساں ابلاغ ہوا ہے۔ زبان کون سی شستہ ہے کون سی نہیں، اس پر بھی اتفاقِ رائے محال ہے۔ جمالیاتی اقدار بھی متفرق اور کہیں کہیں انفرادی ہو سکتی ہیں۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ شعر جتنا ’’بہترین‘‘ ہو سکے ہونا چاہئے، تاہم اس ’’بہترین‘‘ کو گراف پر لکیرنا بھی ممکن نہیں۔ تو پھر؟ کہاں جائیے گا؟!! ہم جس پیمانے کی بھی بات کریں وہ شاعر اور قاری دونوں کی مشترکہ معاشرتی کی اقدار کی مناسبت سے ہو گا۔ بہ این ہمہ، ہم شعر کے معیار کا تعین کرنے والے عناصر کی بات تو کر ہی سکتے ہیں۔ تاہم ان میں کسی عنصر کو دوسروں پر قطعی ترجیح نہیں دے سکتے۔
اظہار کا ٹُول یعنی لفظیات اور زبان:۔ اس میں شائستگی بہت لازم ہے، ہمیں شعر میں کوئی تلخ بات بھی کرنی ہو تو لازم ہے وہ تلخی الفاظ کے حسنِ ترتیب، حسنِ انتخاب اور حسنِ ادا کو متاثر نہ کرے۔ بقول انور مسعود: ’’تلخ بات تو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا یار! شوگر کوٹڈ پلز ہونے چاہئیں، یہ نہیں کہ سِر وِچ ڈانگ کڈھ مارو۔‘‘ عشقِ مجازی کو لے لیجئے، محبوب کو کٹھور، ظالم، بے رحم، قاتل اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا جاتا ہے۔ سیدھے سبھاؤ بات کی جائے تو یہ صاف گالیاں بنتی ہیں۔ شاعر بات کرتا ہے اور یہی کچھ ایسے انداز میں کہہ جاتا ہے کہ خود محبوب بھی سنے تو اسے اچھا لگے۔ یہ وصف ’’سلیقہ‘‘ کہلائے گا۔
ملائمت اور سلاست:۔ یہ میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے، میں اس کو بہت اہمیت دیتا ہوں خاص طور پر غزل کے لئے۔ نہ صرف یہ کہ لہجہ ملائم ہو اور الفاظ اپنے دقیق یا بوجھل معانی کے ہوتے ہوئے بوجھل محسوس نہ ہوں۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ شعر میں ساری سلیس اردو لکھی جائے، پھر شاعر کی اپنی ایک علمی اور فکری سطح ہے اور اُسے ایک باریک بات اپنے قاری تک پہنچانی ہے یا کسی دقیق فلسفیاتی حوالے سے بات کرنی ہے تو اس میں شوکتِ لفظی تو آئے گی۔ ملائمت کا دائرہ صرف الفاظ کے چناؤ تک محدود نہیں ہونا چاہئے، بلکہ صوتیت (ادائیگی) میں بھی ہو۔ قریب المخارج یا ہم مخرج حروف صوتیت میں ٹکرانے نہ پائیں اور قاری کو شعر کی صوتیت میں کوئی دقت یا رکاوٹ پیش نہ آئے۔
زبان کے معروف قواعد کی پابندی:۔ یہ معاملہ فی زمانہ بہت نازک ہوتا جا رہا ہے۔  زبان کے قواعد معروف ہیں۔ ترکیب سازی کیسے ہو سکتی ہے، کیسے نہیں ہو سکتی۔ کسی نئی بحث میں پڑنے سے کہیں بہتر ہے کہ مروجہ قواعد کی توقیر کی جائے۔ وحدت و جمع، تذکیر و تانیث، فاعل فعل اور مفعول کی مطابقت، ہجے تلفظ اور املاء۔ محاورہ اور ضرب المثل؛ شعر میں ان سب کا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ ہم آٹھ آٹھ آنسو رو سکتے ہیں، چار چار چھ چھ دس دس نہیں۔ چھینکا بلی کے بھاگوں ہی ٹوٹے گا اور چھینکا ہی ٹوٹے گا، دودھ کا جگ نہیں۔ مینہ چھاجوں برستا ہے، بارش چھاجوں نہیں برستی، اور چھاج چھاج ہی رہتا ہے کڑاہا نہیں بن سکتا۔ ہاں انہیں محاوروں اور ضرب الامثال کو معنویت دینا آپ کی فنی پختگی اور اعلیٰ اپچ کی دلیل ہو گا۔
شعر کی زمین اور عروضی معاملات:۔ ردیف اختیاری ہے، لیکن جب آپ نے ایک ردیف اپنا لی تو پھر اس کو نبھانا لازم ہے۔ قوافی میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں، ان سے خبر دار رہئے اور اپنے تئیں کسی بھی ’’ارادی غلطی‘‘ سے گریز کیجئے۔ آپ کی یہ احتیاط آپ کو دوسروں کے لئے مثال بھی بنا سکتی ہے۔ اوزان کی غلطیوں سے بچنا بہت ضروری ہے، میں ذاتی طور پر نامانوس زمینوں (بحر، قافیہ، ردیف) سے کنی کتراتا ہوں، اگر آپ اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت اور ہمت رکھتے ہیں تو ضرور ہوجئے۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ مانوس بحروں میں کی گئی شاعری قاری کو زیادہ لبھاتی ہے۔ اور اساتذہ کے ہاں عام طور پر وہی انتیس تیس مانوس بحریں ملتی ہیں۔
موضوعِ سخن:۔ ہماری روز مرہ زندگی ایک نہیں ہزاروں موضوعات لئے ہوئے ہوتی ہے۔ کچھ موضوعات من حیث الانسان ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں: زندگی، جد و جہد، خدشات، امیدیں، آرزوئیں، محبت، نفرت، دشمنی وغیرہ، کچھ موضوعات ہر معاشرے کے خاص اپنے اپنے ہوتے ہیں، ان کو ملکی، سیاسی، سماجی، مذہبی، نظریاتی حوالوں کے موضوعات کہا جاتا ہے۔ کچھ واقعات اور حوادث موضوع بن جاتے ہیں، ان میں کچھ قلیل وقتی ہوتے ہیں، کچھ طویل، کچھ مستقل، کچھ ذاتی، کچھ ذاتی موضوعات کا پھیلاؤ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ ان میں سے کوئی بھی موضوع شاعری میں آ سکتا ہے (کبھی ایک، کبھی ایک سے زیادہ، کبھی ایک پہلو سے، کبھی زیادہ جہتوں سے)۔ کسی عارضی اور وقتی موضوع پر شعر کہا جائے تو ظاہر ہے اس شعر کے بھی عارضی اور وقتی ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ کسی مستقل اور جامع تر موضوع پر شعر کہا جائے تو اس کا حوالہ جاتی دائرہ بھی اسی قدر مستقل اور جامع ہو گا، یوں بات آفاقیت تک پہنچتی ہے۔ شعر میں آفاقیت کا عنصر جتنا بلند ہو گا، شعر بھی اتنا بلند ہو گا (دیگر عناصر کی نفی مقصود نہیں ہے، ان کی اہمیت ساتھ ساتھ چلتی ہے)۔
شاعرانہ حربے:۔ جی ہاں، مجھے یہ لفظ بہت موزوں لگتا ہے۔ اب تک ہم نے شعر کے معیار پر جتنی بات کی ہے اس میں تخلیقی عنصر کا کماحقہٗ ذکر نہیں ہوا۔ جیسا ہم نے پہلے کہا شعر کہنے کی صلاحیت ایک ودیعت ہوا کرتی ہے۔ شاعر کا کام کسی بات، واقعے، صورتِ حال کو محض بیان کر دینا نہیں بلکہ اس کو شعر میں ڈھالنا ہے یعنی اپنے قاری کو چھیڑنا! اس عمل میں ایک تو انشاء پردازی ہے، شعر میں یا تو کوئی سوال ہو گا، یا سوال جیسا جواب ہو گا، یا کسی جذبہ، کیفیت وغیرہ میں قاری کو شریک کرنا مقصود ہو گا یہ کیفیت نگاری ہوئی۔ پھر فکر و فلسفہ بھی ہے، پیام بھی ہے! بات سے بات نکالنا بھی ہے، اس کو آپ مضمون آفرینی کہہ لیجئے۔ کسی نہ کسی طور ایک نقشہ ایسا بنانا ہے کہ قاری کی نظر میں کھب جائے، اس کو منظر آفرینی کا نام دے لیجئے۔ اس کے ساتھ ساتھ لفظوں کا چناؤ شاعر کے مزاج میں ہوتا ہے، اس کا کوئی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا۔
غزل کی بات کریں تو اُس کی بحر الفاظ کا حیطہ طے کرتی ہے، قافیہ مضامین اور موضوعات سجھاتا ہے اور ردیف پوری غزل کو ایک ماحول دیتی ہے۔ مذکورہ بالا معاملات بدستور موجود! آپ خود اندازہ لگا لیجئے کہ یہ چومکھی بھی نہیں ہزار مکھی لڑائی ہے جو شاعر اپنے آپ سے بھی لڑتا ہے اور اپنے قاری سے بھی۔ شاید اسی لئے یہ جملہ مشہور و مقبول ہوا کہ: ’’شاعری خونِ جگر مانگتی ہے‘‘۔
شاعر کی لفظی اور فنی ترجیحات:۔ بہت فطری سی بات ہے کہ لکھاری کو کچھ خاص الفاظ اور تراکیب اچھے لگتے ہیں اور وہ بار بار اُن سے کام لیتا ہے۔ اس سے یہ قطعاً باور نہ کیا جائے کہ وہ اپنی اس محبوب لفظیات و تراکیب کا اسیر ہوتا ہے یا اس سے باہر نہیں جا سکتا۔ لفظیات اور تراکیب کا دوسرا سرا شعر کے موضوع سے جڑا ہوتا ہے، بحر اُن لفظیات پر کچھ پابندیاں لگاتی ہے اور ان سب عوامل کے تعامل میں ایک وہ کیفیت بنانی ہوتی ہے جسے چلئے ’’توازن‘‘ کا نام دے لیجئے۔ لفظی ترجیحات کے پیچھے ایک اور عامل ہوتا ہے، شاعر کا اپنا طرزِ فکر اور طرزِ احساس۔ یہ اس کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔ قلمکاروں سے میں ہمیشہ یہ سفارش کیا کرتا ہوں کہ وہ خود پر جبر نہ کریں اور اپنی شخصیت کو چھپانے پر محنت ضائع نہ کریں۔ آپ اپنی فکر کا حلقہ توڑ کر کچھ لکھ بھی لیں تو اُس پر خود آپ کا مطمئن ہونا بھی مشکل امر ہے۔ اسے جو بھی نام دے لیجئے، چلئے ’’فنی صداقت‘‘ کہے لیتے ہیں۔ آپ فن میں کتنے صادق ہیں، اور لفظی اور فنی ترجیحات میں کس حد تک توازن قائم کر سکتے ہیں؛ یہ بھی آپ کے شعری معیار کا ایک پیمانہ ہے۔
ابلاغ:۔ شاعر اور قاری دونوں کا اصل مسئلہ ہے۔ میں شعر اس لئے کہتا ہوں کہ میری فکر یا میرا احساس میرے قاری تک اپنی پوری جمالیاتی تب و تاب کے ساتھ پہنچے۔ یہاں کچھ میرا کام ہے اور کچھ میرے قاری کا۔ مجھے اپنی بات کو بہت زیادہ الجھائے بغیر قاری تک پہنچانا ہے اور قاری کا منصب یہ ہے کہ وہ میری بات کا ادراک کرے۔ اس کے لئے بنیادی بات ہے کہ میں اس زبان میں بات کروں جو ادب کے ایک قاری کے لئے اجنبی نہ ہو۔ زبانِ غیر کی بات ہو تو وہاں مترجم چاہئے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ہاں زبان کی چاشنی ترجمے میں کھو جایا کرتی ہے، تاہم یہ ایک الگ بحث ہے۔ قاری میں اور مجھ میں جتنی (فنی فکری مذہبی لسانی سماجی نفسیاتی سیاسی تخلیقی) سانجھ ہو گی، ابلاغ کی سطح اتنی ہی بلند ہو گی۔ اس میں ابہام کا نہ ہونا بہترین بات ہے۔ اصولی طور پر ابہام ابلاغ کی ضد ہے، تاہم بسا اوقات یہ واقع ہو جاتا ہے۔ کہیں میں پورے طور پر بات کر نہیں پایا، کہیں میرے لفظوں میں کچھ ایہام جیسی بات ہو گئی، قاری کی اور میری سانجھ کسی بات پر صفر ہے یا تقریباً صفر ہے، وغیرہ وغیرہ۔ فکری اور نظریاتی ٹکراؤ اور چیز ہے تضاد اور چیز ہے۔
ابہام اور ایہام کو ہم معنی سمجھ لینا تخلیق میں ابہام پیدا کرتا ہے۔ ایہام کو بطور صنعت استعمال کرنا کم از کم میرے بس میں نہیں، میرے ہم قلم جانیں اور ان کی صلاحیتیں جانیں۔
یوں خیالوں کی تصویر قرطاس پر کیسے بن پائے گی
لفظ کھو جائیں گے فن کی باریکیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے

اردو محفل : (۱۱) مملکت ِ ادب میں چلن عام ہے کہ لکھنے والے بالخصوص نئی نسل اپنے کام کو ” ادب کی خدمت“ کے منصب پر فائز دیکھتی ہے ۔ کیا ایسا دعویٰ قبل از وقت نہیں ؟
اردو محفل : (۱۲) ادب کی حقیقی معنوں میں خدمت کیا ہے ؟
یہ دونوں سوال در اصل ایک ہیں۔ دوسرے سوال کا جواب بنیاد فراہم کرتا ہے۔ دیکھئے! بیس، پچاس، سو، دو سو غزلیں کہہ لینا یا نظموں کی کتاب چھپوا لینا، بلاشبہ ایک کام ہے، آپ کا شمار اہلِ قلم میں ہوتا ہے، آپ کو اعتماد ملتا ہے، ادب کے خزینے میں کچھ عمدہ شاعری کا اضافہ ہوتا ہے۔ اسی بات کو نثر پر منطبق کر لیجئے۔ اس کام کو کام تسلیم نہ کرنا قلم کار کے ساتھ زیادتی ہے۔
حقیقی معنوں میں ادب کی خدمت یہ ہے کہ میں اور آپ کوئی ایسی طرح ڈال جائیں کہ بعد والوں کو اسے قبول کرنے میں شرمندگی نہ ہو۔ ایسے ادبی مسائل پر بحث کریں جو ہنوز کسی حتمیت تک نہیں پہنچے۔ اس میں نظم، نثر، تحقیق، تنقید، تنقیح کی تقسیم نہ کیجئے یہ ایک ہمہ جہتی مسئلہ ہے۔ زبان پر کام کیجئے، عروض پر کام کیجئے، یا جو بھی آپ کا من پسند شعبہ ہے اس میں کام کیجئے اور اس طرح کیجئے کہ جو مسائل آپ کو دقیق لگ رہے ہیں اُن کو آنے والوں کے لئے آسان بنانے کی طرف پیش رفت کا سامان کر سکیں یا ایسی پیش رفت کے لئے راہ ہموار کر جائیں۔  یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ آپ کو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہے پڑے گا، اور خود اپنے ہی کئے ہوئے کام کے نتیجے میں اگر آپ کا اپنا کوئی نظریہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے تو اس کو غلط ماننا پڑے گا۔

اردو محفل : (۱۳) نظم کی بات الگ مگراسالیب ِ غزل میں”لسانیاتی تداخل“ کے نام پرعلاقائی بولیوں، زبانوں بالعموم و بالخصوص انگریزی زبان کے الفاظ زبردستی ٹھونسے جارہے ہیں، کیا غزل اس کی متحمل ہوسکتی ہے؟
اردو محفل : (۱۴) لسانیاتی تشکیل اور اس کے عوامل کے جواز کے طور پر تہذیب و ثقافت سے یکسر متضاد نظریات کے حامل بدیسی ادیبوں کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں ۔۔ کیا زبانِ اردو اوراصنافِ ادب مزید کسی لسانیاتی تمسخر کی متحمل ہوسکتی ہیں ؟؟
یہ دونوں سوال بھی ’’مسلسل‘‘ ہیں۔ میں اپنی علاقائی زبانوں کے الفاظ قبول کرنے میں کچھ قباحت نہیں سمجھتا۔ لیکن ایک شرط پر! بات چونکہ غزل کے حوالے سے ہوئی اور میں نے خود اس کو اردو ادب کا عطر قرار دیا، تو عطر میں ملاوٹ؟ صرف اور صرف ایک صورت میں قابلِ قبول ہے کہ اس کی مہک میں چاشنی آئے۔ آپ سندھی بلوچی پشتو پنجابی کشمیری سے کوئی بھی لفظ لیجئے اگر استعمال کر سکتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ غزل کی ملائمت قائم رہے، لفظ کھردرا محسوس نہ ہو اور معانی کی سطح پر بھی اپنا جواز رکھتا ہو، تو درست۔ نہیں تو معذرت!
یہ بات ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنی ہو گی کہ نہ صرف اردو بلکہ دنیا کی تمام زبانیں کئی کئی زبانوں کے ایسے اختلاط سے وجود میں آئی ہیں جسے آپ آٹا گوندھنے سے تشبیہ دے سکیں۔ آٹے میں آپ نمک مرچ، آلو، گوبھی کچھ بھی ڈال لیجئے پہلے اس کو باریک کرنا ہوتا ہے اور پھر اس کو گیلا کر کے کوٹ پیٹ اور لپیٹ کے عمل سے گزارنا ہوتا ہے کہ سب کچھ ایک دوسرے میں گھل مل جائے۔ ذائقہ ہر چیز کا اپنا اپنا رہے گا مگر اس کو الگ نہیں کیا جا سکے گا۔ اور یہ عمل نسلوں بلکہ صدیوں میں ہوا کرتا ہے، جمعہ جمعہ آٹھ دن یہاں مؤثر نہیں ہوتے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اردو میں اصلاً انیس سے زیادہ بڑی زبانوں کی لفظیات اور محاورے ہیں جن میں سے اکثر کا ہمیں یہی پتہ ہے کہ یہ اردو کا ہے اور بس۔ مقامی زبانوں کو آنے دیجئے لیکن ذرا سلیقے کے ساتھ۔
رہی بات بدیسی زبانوں کی، پہلے ایک وضاحت کہ یہاں بدیسی سے سیاسی تقسیم مراد نہ لی جائے۔ بارڈر لائنیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، وہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہر وہ زبان بدیسی ہے جو کسی دُور کی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں بھی کچھ الفاظ البتہ ایسے ہو سکتے ہیں جو اردو میں یوں سما جائیں کہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ پروفیسر انور مسعود کی ایک اور بات یہاں بیان کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا: ’’پنجابی میری مادری زبان ہے، اردو میری قومی زبان ہے، فارسی میری تہذیبی زبان ہے اور عربی میری دینی زبان ہے۔ مجھے ہر زبان اپنی اپنی سطح پر عزیز ہے‘‘۔
ہاں مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز
شکر ہے انور مری سوچیں علاقائی نہیں
انگریزی فرانسیسی جرمن جاپانی میں تو غزل ہوتی ہی نہیں! غزل پر میرے لئے مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر جمیل جالبی کی رائے کہیں زیادہ معتبر ہے اس قول کے مقابلے میں جو لارڈ بائرن، موپساں وغیرہ کے حوالے سے بیان کیا جائے۔ انگریزی میں کہانی ہے، مختصر کہانی ہے؛ ان کے جو بھی خواص ہیں وہ اپنی جگہ درست، مگر انگریزی میں افسانہ نہیں ہے۔ کوئی دو چار دس مختصر کہانیاں افسانے جیسی ہوں تو بھی یہ کہنا زیادتی ہے کہ افسانہ انگریزی کی مختصر کہانی سے پیدا ہوا۔ ہائیکو جاپان والوں کا ادبی سرمایہ ہے، بجا اور یہ بھی بجا کہ ان کے ہاں یہ صنف موضوع کے اعتبار سے ہے، ہیئت کے اعتبار سے نہیں۔ جیسے ہمارے ہاں نظم میں حمد و نعت ہے، بہاریہ ہے، واسوخت ہے، غزل ہے، قصیدہ ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے دانشور اس کی ہیئت پر مصروفِ بحث ہیں اور اردو میں اس کے اوزان کا تعین نزاع بنا ہوا ہے۔ صاحبو! جاپانی زبان کے تو میٹرز ہی ہم سے نہیں ملتے۔ انگریزی کے میٹرز بھی اردو سے مختلف ہیں، تو پھر میں اپنی توانائیاں وہاں صرف کیوں کروں؟ اگر مجھے میڑز پر ہی کام کرنا ہے تو مجھے اپنے موجودہ عروضی نظام پر بات کرنی چاہئے۔ بجائے اس کے کہ چینی زبان کی سر اور لے کا اردو متبادل کیا ہے۔
رہی بات لفظیات کی! اس کے پیچھے ایک طویل دور ہے جس میں ہم پر انگریز بھی مسلط رہا۔ اس کے اثرات ہنوز زائل نہ ہوئے تھے کہ گلوبل ولیج کی تھیوری آ گئی۔ یہ دانشِ افرنگ کے اثرات ہیں۔ ایک نظم دیکھی، لسانی حوالے سے بات کرتا ہوں۔ اس نظم میں بہت شاندار تراکیب بڑی چابک دستی سے استعمال ہوئی تھیں، مگر نظم کا عنوان انگریزی میں تھا۔ میں ایسا نہیں سمجھتا کہ شاعر کے پاس عنوان کے لئے لفظ نہیں رہے ہوں گے۔ یہ اندازِ فکر دراصل ذہنی غلامی کا نمائندہ ہے۔
 نظریات اس سے اگلا مرحلہ ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ نظریات کا اثر زبان پر سب سے زیادہ ہوا کرتا ہے، کوئی اس کو مانے یا نہ مانے۔ تاہم اگر یہاں نظریات پر بحث چلتی ہے تو ہمارا موضوع رہ جائے گا۔ سو، اس کو موقوف کرتے ہیں۔

اردو محفل : (۱۵) پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے پورے ملک بالخصوص دبستانِ لاہور سے پنجاب بھر میں رمزیات سے قطعِ نظر اسالیبِ غزل میں مذہبی علامتوں تشبیہات کا دخول نظر آتا ہے ۔۔ کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ دیکھا جائے تو غزل میں حمد و نعت، سلام، مناقب کے اشعار کا رجحان تیزی سے ترتیب پا رہا ہے کیا ایسا کرنے سے خود غزل اور دیگر اصناف کی حیثیت مجروح نہیں ہوتی ؟
میں نے عرض کیا نا، کہ نظریات کا اثر زبان پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ سو، ایک مسلمان معاشرے میں اسلام اور اسلامی معاشرت سے مطابقت رکھنے والی لفظیات تو آئیں گی۔ تشبیہ استعارہ تاریخ اور روایات کی ہیرو شخصیات، اُن سے نہ میں بھاگ سکتا ہوں نہ آپ۔ میں اس کو دخول کا نام نہیں دیتا۔ اپنی زبان کے پنپنے اور تشکیل پانے کے ادوار دیکھ لیجئے، بات بالکل صاف ہو جاتی ہے۔
غزل کو کچھ نہیں ہوتا صاحب! غزل میں بہت لچک ہے اور اس کی ریزہ خیالی والی خوبی اس کی بقا کی علامت ہے۔ غزل میں سیاست، معیشت، روٹی، بھوک، جنس، ہوس، آزادی، سلاسل، حقِ اظہار سب کچھ کی باتیں ہو سکتی ہیں تو پھر حمد و نعت اور سلام کے اشعار پر بھی کوئی قدغن نہیں لگ سکتی۔ یہ جو شعری اصناف کی بات ہے، اس کو ہم دو پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔ ایک ہیئت کا پہلو ہے: بیت، شعر، قطعہ، رباعی، غزل، مسدس، مخمس، سباعی، خماسی، مثنوی، وغیرہ۔ ان میں کوئی بھی موضوع اور مضمون ہو سکتا ہے۔ دوسرا پہلو موضوعات کے حوالے سے ہے: حمد، نعت، مرثیہ، منقبت، شہر آشوب، قصیدہ، ہجو، داستان، وغیرہ تو یہ کسی بھی صنفِ شعر میں ہو سکتے ہیں۔ ہاں، غزل کو ایک خاص اہمیت یوں حاصل ہے کہ یہ ایک ہیئت بھی ہے اور اس میں یہ دو مصرعوں میں ایک مضمون لانے کی پابندی بھی ہے۔ آپ خاطر جمع رکھئے کسی صنف کی کوئی حیثیت مجروح نہیں ہو رہی۔

اردو محفل : (۱۶) محدود مشاہدے کے مطابق اسی کی دہائی کی نسل اور نسل ِ نوکے ہاں عام طور پر اسے تصوف کی شاعری پر محمول کیا اور جتایا جاتا ہے اسالیبِ شعری میں تصوف اور عرفیت کا غلغلہ چہ معنی دارد ؟
اردو محفل : (۱۷) کیا مجازکی راہ سے گزرے بغیریہ نعرہ درست ہے؟ کیا محض تراکیب وضع کرنے اور مضمون باندھنے سے تصوف در آتا ہے ؟ اور کیا ایسا ہونا لاشعوری طور پر زمیں سےرشتہ توڑنے کا اشاریہ نہیں ؟
اس معاملے میں میرا علم بہت محدود ہے، مجھے خاموش رہنے کی اجازت دیجئے۔

اردو محفل : (۱۸) تقسیمِ ہند کے بعداردو ادب میں مختلف تحاریک کا ورود ہوا،اس سے کلاسیکیت کے نام بوسیدگی کو ادب گرداننے جیسے نظریات کو خاصی حد تک کم کیا گیا۔ مگر بعد ازاں اخلاق، سماج ،ثقافت اور روایت سے باغی میلانات نرسل کی طرح اگنے لگے اور بے سروپا تخلیقات انبار لگ گئے ۔۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجود دور میں ادب کومزیدکسی تحریک کی ضرورت ہے ۔۔ ؟؟
شعر کے معیار کے ضمن میں میری گزارشات آپ تک پہنچ گئیں۔ شکریہ

اردو محفل : (۱۹) نئے لکھنے والوں کے لیے فرمائیے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کن باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے ؟؟
محسنات اور منکرات کا سب کو پتہ ہے، محسنات کی طرف آئیے اور منکرات سے بچئے، زندگی میں بھی، فکر میں بھی، فن میں بھی، اظہار میں بھی۔ ایک بات جو پہلے بھی ہو چکی اسی کا دوسرا پہلو ہے کہ فضولیات اور لغویات سے پرہیز کیجئے اور اگر آپ نے شعر کہنے کی ٹھان لی ہے تو مطالعہ بھی کیجئے۔ ادبی محفلوں میں جایا کیجئے، وہاں تحریک بھی ملتی ہے اور تربیت بھی۔ اصلاح کا پہلا قدم اپنی غلطی کا ادراک اور اس کو غلطی تسلیم کر لینے کی جرات ہے۔ اغلاط سے بچئے اور ان پر اَڑیے نہیں، ایسا کریں گے تو نقصان آپ کو تو ہو سکتا ہے، کسی دوسرے کو نہیں۔
یاد رکھئے کہ جدت روایت سے پھوٹتی ہے اور روایت سے منسلک رہ کر اپنی حیثیت بناتی ہے گویا جدت روایت کے تنے سے پھوٹنے والی ایک شاخ ہے۔ اس کو پھلنے پھولنے کے لئے درخت سے جڑے رہنا ہو گا، درخت سے الگ ہو کر وہ لکڑی یا ایندھن یا کچھ اور تو کہلا سکتی ہے شاخ نہیں کہلا سکتی اور نہ زندہ رہ سکتی ہے۔ ادب میں اپنے سینئرز کی بات مانئے یا نہ مانئے اُن سے ترش روئی نہ برتیے گا۔
اپنے آپ سے کبھی جھوٹ نہ بولئے اور شعر میں کوئی ایسی بات کبھی نہ کیجئے جس کو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ غلط ہے۔ ایک بات میں ہر ایک سے کہا کرتا ہوں کہ ہم برے بھلے جیسے بھی ہیں اولاً مسلمان ہیں، پھر پاکستانی اور پھر کچھ بھی! اپنی ان دونوں بنیادوں کا پاس رکھئے۔ اور مسلمان اور پاکستانی کہلانے میں کسی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوئیے۔
اللہ میرا، آپ کا سب کا حامی و ناصر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد یعقوب آسی: جمعۃ المبارک ۴ جنوری ۲۰۱۳ ع