اتوار، 2 جون، 2019

عدوئے جاں



عدوئے جاں




عَدُوٌّ (عربی) دشمن: اس میں واو مشدّد ہے۔ جان (فارسی) روح۔
 اردو میں مرَوَّج تراکیب میں آخری نون اگر ساکن ہو (مثلاً:عدوئے جاں، شہرِ خموشاں، دشمنِ دیں، دشمنِ ایماں، دنیائے دُوں، رازِ درُوں؛ وغیرہ) تو غنہ کرتے ہیں اور کسی وجہ سے متحرک ہو جائے تو نون بولتا ہے (مثلاً دشمنِ دین و ایماں، رازِ درُونِ کائنات؛ وغیرہ) ۔ فارسی اور عربی میں نون غنہ کا تصور اردو سے خاصا مختلف ہے۔ میں نے اس کو نونِ فارسی کا نام دیا ہے۔
فارسی کے ایسے اسماء جن کا آخری حرف الف یا واو معروف ہو؛ ان کے آخر میں دراَصل ”ی“ ساکن ہوتا ہے، جسے کبھی لکھتے ہیں بولتے نہیں، کبھی نہ لکھتے ہیں نہ بولتے ہیں، کبھی لکھتے بھی ہیں بولتے بھی ہیں۔ اس کو میں نے یائے مستور کا نام دیا ہے۔ یائے مستور پر زیر (ترکیبِ اضافی و توصیفی) واقع ہو جائے تو فارسی رسم کے مطابق اسے ”ی“ لکھ کر اس میں زیر کی علامت لگاتے ہیں اور اردو رسم میں یائے مستور ہمزہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس پر واقع زیر کو لمبی ے (مجہول)کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں (مثلاً: نوایِ وقت: نوائے وقت، خدایِ بزرگ و برتر: خدائے بزرگ و برتر، بُویِ گُل: بوئے گل، آرزُویِ وصال: آرزُوئے وصال، رِدایِ سبز: رِدائے سبز) ۔
عربی لفظ عَدُوّ میں اصلاً واو مشدد ہے تاہم اردو اور فارسی میں آ کر یہ غیر مشدد بھی ہو جاتی ہے۔ واو کے علاوہ بھی (مضاعف مادوں کی) متعدد صورتیں معروف ہیں۔ یہاں نوٹ کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ حَکِّ تشدید کا جواز صرف حرف ساکن (مجزوم) کی صورت میں ہے، متحرک (توصیف، اضافت، عطف کی صورت میں یہ تشدید قائم رہے گی۔ مثال کے طور پر حقّ: حق، حقِّ رائے دہی؛ حَدّ: حَد، حَدِّ اَدَب؛ خدّ: خَد، خدّ و خال؛ فَنّ: فَن، فَنِّ شعر؛ شَدّ: شَد، شَدّ و مَد؛ سَبّ: سَب، سَبّ و شتم؛ وغیرہ۔ واضح رہے کہ اردو شاعری میں ایسے مقامات پر حَکِّ تشدید کی معتد بہ مثالیں مل جاتی ہیں۔  ؏: حقِ بندگی ہم ادا کر چلے (میر)؛  ؏: نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے (اقبال)۔
لفظ عَدو کو ہم اہلِ اردو اگر عربی ہجوں میں قائم رکھیں تو ”عدُوِّ جاں“ اور اگر یائے مستور کو نافذ کریں گے تو ”عدُویِ جاں“ یا ”عدُوئے جاں“ لکھیں گے۔ حاصلِ بحث یہ ہے کہ مندرجہ ذیل تینوں صورتیں بالکل درست ہیں: ”عَدُوِّ جاں“ ۔۔ ”عَدُویِ جاں“ ۔۔ ”عَدُوئے جاں“ ۔
شُذرہ: نونِ فارسی اور یائے مستور پر مزید تفصیلات میرے بلاگ پر میسر ہیں۔ واوِ مجہول، آخری ”ی“ (غیر ”یائے مستور“) اور مرکب عطفی کی صورتوں پر پھر کبھی بات ہو گی، ان شاء اللہ۔


 محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ اتوار ۲ جون ۲۰۱۹ء


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں