جمعرات، 5 مارچ، 2015

دیکھ چاکھ کے (استفادہ، توارد، یا سرقہ) ۔۔ بدرِ احمر کے قلم سے


دیکھ چاکھ کے

استفادہ، توارد، یا ۔۔ سرقہ


ورثہ روایات کا ہو، افکار کا ہو، فن کا ہو، فکر کا ہو، اظہار کا ہو، زبان کا ہو، رسوم و رواج کا ہو، اقدار کا ہو؛ ہم میں سے ہر شخص موجود ورثے میں سے اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق ایک چیز لے لیتا ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ قباحت یہی ہو سکتی ہے کہ ایک کی منتخب کردہ اور اختیار کردہ چیز مجھے اچھی نہ لگے۔ سو، میں اس کو چھوڑ دوں گا۔ اگر مجھے بھی اچھی لگتی ہے تو میں بھی اپنا لوں گا۔

بھگت کبیر اور اس کی لفظیات بلکہ زبان کا ٹھیک ٹھیک ادراک تو یہاں بہتوں کو نہیں۔ سو یہی ہے کہ ایک نے ایک بات اٹھا بھی لی تو اس کا رنگ ڈھنگ، انداز کچھ نہ کچھ تو بدلا ہو گا، اس سے دوسرے تیسرے چوتھے نے وہی چیز لے لی تو وہ کچھ اور بدل گئی۔ کسی نے براہِ راست لے لی توبیان اپنے انداز میں کیا۔ گویا یہ ایک لوک ریت یا لوک روایت بن گئی، جو کسی پر بھی وارد ہو سکتی ہے۔ سرقہ کا مقام ایسی صورت میں نہیں بنتا۔

سخاؔ دہلوی نے بہت عمدہ بات کی: ’’سرقہ کی خبر یا تو سرقہ کرنے والے کو ہوتی ہے یا اس کے خدا کو‘‘؛ یہ بات صد فی صد درست نہ بھی ہو تو بھی قرینِ قیاس ضرور ہے۔ مثال کے طور پر میرا مطالعہ ہی کچھ نہیں تو میں کیسے جان پاؤں گا کہ کس نے کس کے الفاظ، خیال، مضمون کی چوری کی ہے۔ نیتوں کا حال بھی وہی بات ہے کہ نیت والا جانے یا وہ جانے جو علیم و خبیر ہے۔ یار لوگ کچھ کچھ اندازے قائم کر سکتے ہیں سو، کر لیتے ہیں۔

لیلیٰ مجنوں کا قصہ بھی پہلے پہل تو کسی ایک نے لکھا ہو گا اور اس کے پیچھے بھی کچھ دیکھا چاکھا اور کچھ سنا سنایا رہا ہو گا اور پھر جس جس نے اس ایک پہلے سے پڑھا یا سنا اُسے کون سا زبانی حفظ ہو گیا ہو گا، اس کہیں اور بیان کیا تو کچھ نہ کچھ جمع تفریق ہوئی ضرور۔ یہ سلسلہ کتنا طویل ہے اور اس کے کتنے واسطے ہیں کسے معلوم؟ سو، اس قصے کی آج دو ڈھائی ہزار صورتیں بھی ہوں تو کچھ بعید نہیں۔ یہ این ہمہ ان سب میں کوئی ایک قدرِ مشترک ضرور رہی ہو گی، اس کو ہم قصے کا مغز یا تخم بھی سمجھ سکتے ہیں۔ ہر ایک کا اندازِ نظر اپنا اپنا اور بہت ساروں کے اس اپنے اپنے میں کئی کئی اشتراک بھی ہو سکتے ہیں۔ کہانی بھی اسی طور آگے بڑھتی ہے، روایت بھی اسی طور آگے بڑھتی ہے اور میرا خیال ہے کہ یہی فطری انداز ہے۔ کچھ اپنا کچھ مانگے کا، کچھ اختیار کیا ہوا اور کچھ اندر سے پھوٹا ہوا۔

ایک شخص کسی کا خیال اٹھاتا ہے، لفظ اٹھاتا ہے، چلئے چوری کی نیت سے اٹھاتا ہے؛ اسے بیان تو کرتا ہے نا! ظاہر ہے اٹھاتا ہی بیان کرنے کو ہے۔ وہ بیان کرتا ہے تو اس کی دو صورتیں بہت آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہوتی ہیں۔ وہ بیان کرنے میں اصل کی سطح کو نہیں پہنچ پاتا، تو اہلِ علم کے ہاں مطعون ٹھہرتا ہے۔ وہ بیان کرنے میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتا ہے جو اصل میں نہیں تھا اور وہی خیال، لفظ، بات اٹھ جاتی ہے تو اس کی واہ واہ ہو گئی۔ اس واہ واہ میں اس کا اپنا کچھ نہ کچھ حصہ، اس کی اپنی صلاحیتوں کا کوئی نہ کوئی پرتو ضرور کارفرما ہوتا ہے۔

یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک نے کسی بدیسی زبان میں کچھ پڑھا جو اس کے آگے پیچھے کے زیادہ لوگوں نے نہیں پڑھا۔ اس نے پڑھا، اپنے لفظوں میں ڈھالا اور اپنے انہی آگے پیچھے کے لوگوں میں بانٹ دیا۔ خدا معلوم یہ ترجمہ ہے یا ترجمانی ہے یا کیا ہے۔ پر، علم میں اضافے کا وسیلہ ضرور بنتا ہے۔ ایک نے چھ سو صفحوں کی ایک داستان، ناول، قصے، مثنوی کی تلخیص پندرہ بیس صفحوں میں لکھ دی۔ اس نے بھی استفادہ تو کیا ہے نا، اور اس کے قاری اس سے استفادہ کرتے ہیں، وہ موقع فراہم کرتا ہے۔ سو، ہر ایک کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے اور اس کے اچھے اثرات کے امکانات بھی بہت ہیں۔ تو، کیوں نہ ہم بھی استفادہ کریں! پر، ذرا دیکھ چاکھ کے!۔

محمد یعقوب آسیؔ سوموار ۲؍ مارچ ۲۰۱۵ء

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں