اتوار، 28 فروری، 2016
پیر، 11 جنوری، 2016
ماں اور ماں ۔۔ میاں بیوی کے درمیان ایک مکالمہ
(میاں بیوی کے درمیان ایک مکالمہ)
بیوی ۔"عورت کو عزت وہی مرد دے سکتا ہے، جس کی تربیت اچھی ہوئی ہو"۔
میاں ۔"بہت خوب! درست کہہ رہی ہیں آپ! اور یہ کام آپ کے کرنے کا ہے"۔
بیوی ۔"وہ کیسے، مرد تم ہو، میں نہیں"۔
میاں ۔"اپنے بیٹوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کیجئے نا، تا کہ آپ کی بہوئیں عزت
پا سکیں"۔
بیوی ۔"آئے ہائے! پتہ نہیں کون کون سی نگوڑی کہاں کہاں سے میرے بچوں کے پلے پڑیں
گی! میں ان کے لئے ہلکان ہوتی رہوں کیا؟"۔
میاں ۔"یقین کیجئے میری اماں نے ایسے نہیں سوچا تھا جیسے آپ سوچ رہی ہیں"۔
بیوی ۔"تو کیسے سوچا تھا تمہاری اماں نے! مجھے اس سے کیا! مجھے تو اپنے بیٹوں کو
سردار بنانا ہے"۔
میاں ۔"اور بہوؤں کو؟ سردارنیاں؟"۔
بیوی ۔"میری جوتی! میں لونڈیوں کو سردارنیاں بناؤں گی، بھلا؟ تم الٹا سوچ رہے
ہو"۔
میاں ۔"آپ میں اور آپ کی سمدھن میں کچھ فرق نہیں ہے۔ وہ بھی ہماری بیٹی کو لونڈی
ہی سمجھتی ہیں"۔
بیوی ۔"میں میں میں منہ نوچ لوں گی اُس کلموہی کا، میری بیٹی کو لونڈی بنائے گی
وہ؟ میری بیٹی کو تو رانی بننا ہے، رانی! دیکھنا تم"۔
میاں ۔"آپ کے منہ میں گھی شکر، مگر ایسا ہو گا تبھی اگر انہوں نے بھی اپنے بیٹے کی
تربیت اچھی کی ہو گی"۔
بیوی ۔"ہاں نا، یہی تو میں کہتی ہوں، اب اس نکمے کی تربیت اچھی نہ ہوئی ہو تو؟ پتہ
نہیں!"۔
میاں ۔"آپ تو اپنے بیٹوں کی اچھی تربیت کریں نا!"۔
بیوی ۔"پھر وہی! تمہیں ان پھاپھے کٹنیوں کا غم لگا ہوا ہے جو ابھی آئی بھی نہیں
ہیں، اور میری بیٹی، میری شہزادی، میری ملکہ۔ تم نہیں سمجھ سکو گے، تم نے عورت کی
قدر ہی کب جانی ہے! اب میری بیٹی پر آئی ہے تو تم بھی مجھے ہی جلی کٹی سنا رہے
ہو"۔
میاں ۔"میں نے تو سب بیٹیوں کی بات کی ہے۔ اس بیٹی کی بھی جسے آپ نے جنا اور ان
بیٹیوں کی بھی جنہیں چنیں گی اور وہ آپ کے پوتوں پوتیوں کو جنیں گی"۔
بیوی ۔"پتہ ہے؟ میرے پوتے پوتیاں فرشتے ہوں گے سب شہزادے اور شہزادیاں!"۔
میاں ۔"نگوڑیوں اور پھاپھے کٹنیوں کی اولادیں اور ہوں فرشتے حوریں شہزادے
شہزادیاں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟"۔
بیوی ۔"اے، تم نے مجھے نگوڑی کہا؟ مجھے پھاپھے کٹنی کہا؟"۔
میاں ۔"نہ، نہ، نہ! میں نے بھی انہی کو کہا جنہیں آپ نے کہا۔ آپ یہ تو چاہتی ہیں
کہ آپ کی بیٹی جو کل پرائی ہونے والی ہے، وہ رانی بنے، اور وہ بیٹیاں جن کے ساتھ
آپ کو ساری عمر رہنا ہے وہ نگوڑیاں پھاپھے کٹنیاں سب لونڈیاں بنی رہیں؟ اپنی اور
اپنی سمدھنوں کی آرزوؤں کو متوازی نہیں برابر رکھ کر دیکھئے۔ اور ہاں! لونڈیوں کی
گود میں شہزادے نہیں پلا کرتے! کیا فرماتی ہیں آپ؟"۔
بیوی ۔"پتہ نہیں کیا کہہ رہے ہو! تم نے مجھے چکرا کر رکھ دیا ہے"۔
میاں ۔"آپ درست نہیں کہہ رہیں، میں تو آپ کو چکر میں پڑنے سے بچانے کی بات کر رہا
ہوں، کہ میری اماں نے مجھے یہی سکھایا تھا کہ بیٹا تمہاری بیوی تمہاری اولاد کی
ماں ہے اور اولاد کی تربیت ماں کرتی ہے! آپ اپنے بیٹوں کو یہ سبق نہیں دیں گی
کیا؟"۔
بیوی ۔"ہاں مگر وہ کلموہی میری رانی کی ساس!"۔
میاں ۔"اس کی آپ فکر مت کیجئے، اگر وہ یہ چاہتی ہے کہ جیسی عزت اسے ملی ہے اس سے
اچھی اس کی بیٹی کو ملے تو وہ اپنے بیٹے کو غلط کچھ نہیں سکھائے گی"۔
بیوی ۔"تمہیں اس پر اتنا اعتماد ہے؟ اور مجھ پر نہیں؟"۔
میاں ۔"آپ پر تو ہے ہی! ساری عمر یوں ہی تو ساتھ نہیں بِتا دی۔ اور ان
پر بھی ہے کہ وہ بھی اپنے پوتوں پوتیوں کو فرشتے حوریں شہزادے شہزادیاں دیکھنا
چاہتی ہیں۔ جیسے آپ چاہتی ہیں"۔
بیوی ۔"میں کیا کروں پھر؟ تم ہی بتاؤ"۔
میاں ۔"کچھ نہیں جتنا پیار ایک نانی کے روپ میں بانٹنا چاہتی ہیں آپ، اتنا ہی ایک
دادی کے روپ میں بھی بانٹئے۔ شہزادہ شہزادی کوئی بھی ہو، اس کی ماں ملکہ ہوتی ہے۔
ملکہ کو ملکہ مانئے، لونڈی نہ بنائیے"۔
بیوی ۔"اے، میں کب بناتی ہوں وہ تو"۔
میاں ۔"سنئے میری اچھی بیگم! داماد وہ بیٹا ہوتا ہے جس کو آپ کی بیٹی آپ کا بیٹا
بناتی ہے اور بہو وہ بیٹی ہوتی ہے جس کو آپ کا بیٹا آپ کی بیٹی بناتا ہے۔ مگر اس
کے لئے شرط یہ ہے کہ آپ خود کو دونوں جگہ ماں کے مقام کی اہل ثابت کریں"۔
بیوی ۔"ارے، میں نے ایسے سوچا ہی نہیں تھا! یعنی میں اچھی ماں نہیں ہوں؟"۔
میاں ۔"آپ اچھی ماں ہیں! یقیناً بہت اچھی ماں ہیں، ایک ذرا سی چوک یہ ہو رہی تھی
کہ آپ نے ماں کے اندر ایک ساس پیدا کر لی تھی۔ ہوتی ساس بھی ماں ہے، ہے نا؟"۔
بیوی ۔"ٹھیک کہہ رہے ہو۔ عورت کو عزت وہ مرد دیتا ہے جس کی تربیت اچھی ہوئی ہو اور
تربیت اس کی اچھی ہوتی ہے جس کی ماں اچھی ہو"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تحریر مرتجل۔
۔۔۔ محمد یعقوب آسی (ٹیکسلا) پاکستان۔
منگل یکم دسمبر 2015ء۔
لیبلز:
بہو,
بیٹی,
بیوی,
ماں اور ماں,
محمد یعقوب آسی,
مکالمہ,
میاں
پیر، 4 جنوری، 2016
دور کی کوڑی
دور کی کوڑی
شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے
وہ لے جا کے سب اہلِ مغرب نے جوڑے
اس سے پہلے کہ بات دور جا نکلے اور یار لوگ ہمیں ’’دقیانوسی، رجعت پسند‘‘ وغیرہ کے القابات سے نوازیں، لالہ مصری خان اور بلال میاں کی گفتگو کا کچھ مذکور ہو جائے۔ بلال میاں کے من میں سمائی کہ اپنے نظامِ تعلیم کو درست کیا جائے۔ بات بھی کچھ ایسی بری نہیں بلکہ بڑی بات ہے کہ قسمتِ نوعِ بشر ہمارے سرکاری اور نجی اسکولوں کی پیشانیوں پر لکھے ایک شعر ہی سے تو تبدیل ہوتی ہے۔ ہمارے خان لالہ کو تو وہ شعر بھی ایک آنکھ نہیں بھایا اور انہوں نے اک مقدس فرض کی تکمیل کے ڈانڈے تذلیل سے جا ملائے۔ مصری خانی متن سے گریز اولیٰ! ہم نہیں چاہتے کہ سکولوں کی طرح ہمارے مہربانوں کی پیشانیوں پر بھی اژدہے لوٹتے دکھائی دینے لگیں۔
بلال میاں کی جو شامت آئی تو براہِ راست خان لالہ سے کہہ بیٹھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ ہمارے نظامِ تعلیم کو مغربی نظام سے ہم آہنگ کیا جائے، وہ لوگ ہم سے آگے نکلے ہیں تو اس کی وجہ تعلیم کا نظام ہے، اور ان کے بچے ابتدا ہی سے انگریزی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں‘‘۔ لاٹ صاحب کے ہندوستانی نظامِ تعلیم کی بات چھیڑنا دوستوں کو بے فائدہ رنجیدہ کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ لاٹ صاحب یہاں بس کلرک اور غلام پیدا کرنا چاہ رہے تھے۔ وہ تو جو چاہ رہے تھے کر گزرے مگر ہمارے پالیسی سازوں کے سر تال کو نہ جانے کیا ہوا کہ ستر سال ہونے کو آئے اس لے میں کوئی تبدیلی نہیں کر پائے۔ بلکہ معاملہ تیز ترک گام زن والا ہے کہ انگریزی کے غم میں ہم ان سے زیادہ ہلکان ہو رہے ہیں۔
بلال میاں کی حیرت کی انتہا نہیں رہی ہو گی جب لالہ مصری خان نے کہا: ’’کیوں نہیں! ضرور ہونا چاہئے بلکہ خشتِ اول سے ہونا چاہئے‘‘۔ ہاں انہوں نے بعد میں جو کچھ کہا اس سے بلال میاں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بڑے بوڑھوں سے سنا کہ ایک وزیرِ با تدبیر ایسے بھی ہو گزرے ہیں جو جملہ دستاویزات پر بکمالِ شفقت انگوٹھا ثبت فرمایا کرتے تھے۔ ویسے بھی، دایاں ہو یا بایاں، انگوٹھا تو انگوٹھا ہوتا ہے؛ اور ہوتا بھی کسی طاقتور کا ہے، کسی ماڑے موٹے کا تو ٹینٹوا ہی ہو سکتا ہے۔ یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ انگوٹھا لگاتے یا دباتے وقت ان کے سامنے ٹینٹوا کس کا ہوتا ہو گا۔
لالہ مصری خان کا اگلا ارشاد تھا: ’’بھائی! پہلی کچی سے بچوں کو سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتو میں پڑھائیے اور چوتھی پانچویں سے اردو متعارف کرائیے، پھر آگے اردو میں چلئے اور اعلیٰ جماعتوں میں انگریزی بھی پڑھائیے، عربی بھی‘‘۔ بلال میاں کے ذہن میں تو وہی بات تھی انگریزی میں ابتدائی تعلیم دینے کی، کہ ترقی کا جن انگریزی میں مقید ہے۔اور ان کا مؤقف یہ بھی تھا کہ اردو بانجھ ہے، مقامی زبانیں ان پڑھ ہونے کی دلیل ہیں؛ وغیرہ۔ گھڑوں پانی والی بات لالہ نے یہ کہی: ’’میاں صاحب زادے! فرانس والے اپنے چھوٹے بچوں کو فرانسیسی پڑھاتے ہیں، جرمنی والے جرمن پڑھاتے ہیں، روس اور چین والے علاقائی زبانوں میں پڑھاتے ہیں؛ تمہیں اپنی مقامی اور قومی زبان سے کد کیوں ہے! مغرب والوں کا طریقہ بھی تو یہی ہے‘‘۔ خان لالہ نے اتنا سا تو نہیں کہا ہو گا نا، بہت کچھ کہا ہو گا جس کا ہمیں کچھ کچھ اندازہ پہلے بھی تھا، اور کچھ ان کے چہرے پر بحال ہوتے تناؤ سے بھی ہو رہا تھا۔
ہماری سوچوں میں ایک طوفان برپا تھا مگر ہم لالہ مصری خان سے کچھ بھی نہیں کہہ سکے۔ سو، اب خودکلامیوں پر گزران ہے اور خود سے پوچھا کرتے ہیں کہ: (۱) ہمارے طبقہ اشرافیہ میں مغرب کتنا ہے اور مشرق کتنا ہے، (۲) جب وہ بہم ہوتے ہیں تو کس زبان میں بات کرتے ہیں، (۳) ترقی سے ہماری کیا مراد ہے اور کیا ہونی چاہئے، (۴) علم کس چڑیا کا نام ہے؛ وغیرہ وغیرہ۔
*******
محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ سوموار: ۴؍ جنوری ۲۰۱۶ء
لیبلز:
اردو,
بلال میاں,
تعلیم,
دور کی کوڑی,
فکاہیہ,
لالہ مصری خان,
مادری زبان
پیر، 30 نومبر، 2015
ہمزہ اور یائے مستور

ہمزہ
اور یائے مستور
اردو میں ہم فارسی سے
آمدہ الفاظ تمنائی، دریائی، تماشائی، وغیرہ سے مانوس
ہیں۔ فارسی رسمِ تحریر میں ان کی املاء تمنایی،
دریایی، تماشایی، وغیرہ ہے جب کہ ہم ان کی یی کے بجائے ئی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ یعنی
جس ی پر ی وارد ہوئی وہ ہمزہ میں بدل گئی۔ ایک بات اور بھی قابلِ غور ہے۔ ہم لکھتے
ہیں: مجلس آرا، دریا، تمنا، تماشا، سر و پا، فردا ۔ فارسی والے یوں بھی لکھتے
ہیں: مجلس آرای، دریای، تمنای، تماشای، سر و پای، فردای مگر یہ ی عام طور پر بولنے
میں نہیں آتا۔ جب اس پر کوئی حرکت ہو تو لکھنے بولنے دونوں میں آ جاتا ہے۔ خدای سے
خدایان، خوش بوی سے سے خوش بویات، خوب روی سے خوب رویان؛ وغیرہ۔ اس کو یائے مستور
کہہ لیجئے۔ یائے مستور کے مقامات تین ہیں:
ایک ۔ جب ایک اسم الف معروف پر ختم ہو رہا ہو۔ خدا، ہوا، صدا، نوا۔ ان میں ہر جگہ یائے مستور موجود ہے۔ اس پر واوِ عطف واقع ہو تو ہمزہ غیر مملوء (لکھے بغیر) شامل ہو جاتا ہے۔ خدا و انساں (صوتیت: خدا ؤ انساں، خدا ءُ انساں) اگر اس میں یائے مستور لکھا ہوا ہو تو۔ خدای و انساں (صوتیت: خدا یو انساں، خدا یُ انساں)۔ معانی وہی ہیں :خدا اور انسان۔
شُذرہ: ایسے اسم پر اضافت یا توصیف کی وجہ سے
زیر لاگو ہو تو فارسی طریقہ تو ہے کہ یائے مستور کو لکھ کر اس پر زیر لگاتے ہیں۔
ہوایِ غم، نوایِ جبریل۔ مگر یہ اردو میں مانوس نہیں ہے۔ اردو میں الف کے بعد کی
یائے مستور کی جگہ ہمزہ اور اس پر واقع ہونے والی زیر کی جگہ یائے مجہول (ے) لکھتے
ہیں: نوائے وقت، بلائے بے درمان۔ شعر میں اس یائے مجہول کو گرایا جانا عام ہے۔
دو ۔ جب ایک اسم واو معروف یا واوِ لین پر ختم ہو رہا ہو۔ خوب رُو، پیش رَو، خوش بُو، سرِ مُو، وغیرہ۔ ان میں بھی ہر جگہ یائے مستور موجود ہے۔ ان اسماء کے آخر پر زیرِ اضافت یا زیرِ توصیف لاگو ہو تو یائے مستور حسب بالا ظاہر ہو جاتی ہے۔ فارسی کے مطابق: رُویِ سخن (اردو: روئے سخن)، بانویِ شہر (اردو: بانوئے شہر)، رُویِ زیبا (اردو: رُوئے زیبا)، بُویِ گل (اردو: بوئے گل) وغیرہ۔ دیگر کوئی حرکت واقع ہونے کی صورت بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ جمع: خوب رُویان، خوش بویات، جویا (متلاشی)۔ غالب نے تو اردو میں بھی اس ی (یائے مستور) کو متحرک کیا ہے۔ ع: چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد ۔
تین ۔ جب اس ی پر زیر واقع ہو تو قاعدے کے مطابق وہ زیر اسی ی پر واقع ہوتا ہے اور فارسی والے لکھتے بھی اسی طرح ہیں۔ گرمیِ محفل، شادیِ مرگ، خوبیِ قسمت۔ اردو میں البتہ ایسی ی کے بعد (یاد رہے کہ ی کے بعد! نہ کہ پہلے!) والی یائے مستور بہ صورتِ ہمزہ ظاہر ہو جاتی ہے اور زیر اس ہمزہ پر وارد ہوتی ہے۔ گرمیءِ محفل، شادیءِ مرگ، خوبیءِ تقدیر، والیءِ شہر، مَےءِ لالہ فام، در پےءِ آزار وغیرہ۔
یائے مستور کی جگہ آنے والا ہمزہ چھوٹے ہمزہ کی صورت میں ی، ے کے اوپر لکھا جانے لگا اور زیر اس پر وارد ہوئی۔ گرمیِٔ محفل، شادیِٔ مرگ، خوبیِٔ تقدیر، والیِٔ شہر، مَۓِ لالہ فام، در پۓِ آزار وغیرہ۔ ترتیب اس کی وہی تھی (ی، ہمزہ، زیر) مگر خطاطی میں (اور بعد میں کمپیوٹر کی کچھ مجبوریوں کے سبب) بعد کی بجائے اوپر آنے کی وجہ سے کچھ غلط تصورات پل گئے۔ جن کے زیرِ اثر اصل املاء: گرمیءِ محفل، شادیءِ مرگ، خوبیءِ تقدیر، والیءِ شہر، مَےءِ لالہ فام، در پےءِ آزار (ہمزہ چھوٹا لکھیں یا، کمپوٹر کی مجبوری کے تحت بڑا) کی غلط املاء: گرمئی محفل، شادی مرگ، خوبئی تقدیر، والئی شہر، مَئے لالہ فام، در پئے آزار، وغیرہ چل نکلی۔
لفظ مَے اور پَے کے معاملے میں کچھ مزید غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ بعضوں نے مۓِ لالہ فام (مےءِ لالہ فام) کو مئے لالہ فام لکھنا شروع کر دیا۔ پھر اسی غلطی کے تواتر کے سبب ایک نئی بات پیدا ہو گئی کہ مَے کے ہجے کیا ہیں؟ یعنی بعضوں کے ہاں اس کی املاء بجائے خود سوال کی زد میں آ گئی۔ اور، یار لوگ اسے "مئے" لکھنے لگے جو قطعی طور پر غلط ہے۔ لفظ مَے اصولی طور پر دو حرف کا ہے (م، ے) فارسی میں گول ی اور لمبی ے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، اردو میں ہوتا ہے۔
درست کیا ہے؟ نمایش یا نمائش؟ زندہ و پایندہ یا زندہ و پائندہ؟ اس کا اصولی جواب جاننے کے لئے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ یائے مستور پیدا کیسے ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے فارسی کے کچھ بنیادی قواعد کا علم ہونا لازمی ہے۔ آئندہ سطور میں ہم ان قواعد کا اجمالی ذکر کریں گے۔ تفصیل اس فقیر کے مضمون "زبانِ یارِ من" میں آ چکی ہے۔
فارسی میں مصدر وہ اسم ہے جس میں معانی کام، عمل، فعل کے پائے جاتے ہیں اور اصلاحاً فعل وہ اس لئے نہیں کہلاتا کہ فعل کے میں زمانہ کے ساتھ فاعل، مفعول یا نائب فاعل کا ہونا لازمی ہے۔ اردو میں مصدر کی موٹی علامت ہے: اس کے آخری دو حرف "نا"۔ کھانا، پینا، لکھنا، پڑھنا، آنا، جانا، دیکھنا، مرنا، جینا۔ وغیرہ۔ چلئے انہی کے لئے فارسی مصادر دیکھ لیتے ہیں: خوردن، نوشیدن، نوشتن، خواندن، آمدن، رفتن، دیدن، مُردن، زیستن ۔۔۔ ان میں ہم نے دیکھا کہ مصدر کے آخری دو حرف "تن" ہیں یا "دَن"۔ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اگر ہو گا تو وہ مصدر نہیں کہلائے گا۔
فارسی اہلِ زبان کے ہاں ہر مصدر کے ساتھ ایک مضارع منسلک ہوتا ہے۔ مصدر سے مضارع بنانے کے قواعد کوئی ہیں بھی تو وہ بہت پیچیدہ ہیں۔ ہم غیر فارسی والوں کے لئے یہی کافی ہے کہ ہر مصدر کے ساتھ ایک مضارع متعین شدہ موجود ہے اور ہمیں اسی کو درست تسلیم کرنا ہے (بہ الفاظ، دیگر ان کو یاد کرنا ہے)۔
منقولہ بالا مصادر کے مضارع یہ ہیں: خوردن سے خورَد، نوشیدن سے نوشَد، نوشتن سے نویسَد، خواندن سے خوانَد، آمدن سے آیَد، رفتن سے رَوَد، دیدن سے بینَد، مُردن سے میرَد، زیستن سے زِیَد ۔۔ توجہ فرمائیے کہ مضارع کا آخری حرف ہمیشہ د (مجزوم) ہوتا ہے اور اس سے پہلے حرف پر ہمیشہ زبر (فتحہ) واقع ہوتا ہے۔ ان کے رسمی معانی کئے جاتے ہیں: وہ کھائے، وہ پئے، وہ لکھے، وہ پڑھے، وہ آئے، وہ جائے، وہ دیکھے، وہ مرے، وہ جیے۔ تاہم یہ کامل معانی یوں نہیں کہلاتے کے کہ مضارع پر سابقے لاحقے داخل ہونے سے نئے معانی بنتے ہیں، جو ہمارا اس وقت کا موضوع نہیں۔ کچھ اور مصادر اور ان کے مضارع دیکھے لیتے ہیں: گفتن سے گوید، آمدن سے آید، جُستن سے جُویَد، نمودن سے نمایَد۔ ان کو پہلی فہرست میں شامل کر لیجئے۔
نوٹ کیجئے کہ اگر مضارع سے اس کی علامت یعنی د کو ہٹا دیا جائے تو د سے پہلے حرف کی زبر از خود ساقط ہو جاتی ہے اور وہ ساکن ہو جاتا ہے۔ خوردن سے خورَد اور اس سے خور، نوشیدن سے نوشَد اور اس سے نوش، نوشتن سے نویسَد اور اس سے نویس، خواندن سے خوانَد اور اس سےخوان، رفتن سے رَوَد اور اس سے رَو، دیدن سے بینَد اور اس سے بِین، مُردن سے میرَد اور اس سے مِیر، زیستن سے زِیَد اور اس سے زی، گفتن سے گوید اور اس سے گوی، جُستن سے جُویَد اور اس سے جوی، نمودن سے نمایَد اور اس سے نمای، آمدن سے آیَد اور اس سے آی۔
یہ سارے جہاں فعل امر ہیں یعنی کھا، پی، لکھ، پڑھ، جا، دیکھ، مر، جی، کہہ، ڈھونڈ، دکھا، آ ۔۔۔ وہیں یہ اسم فاعل بھی ہیں۔ مثلاً گوشت خور، عرضی نویس، نعت خوان، تیز رَو، جواں میر، قصہ گو، حیلہ جُو، چہرہ نما، (آ یعنی آنے والا اردو میں مانوس نہیں ہے)۔ گفتن اور اس کے بعد کے مضارعوں میں حرفِ مزارع د سے پہلے ی موجود تھی، د کے ہَٹنے پر صوتیت میں ساکت (خاموش) ہو گئی ساقط نہیں ہوئی۔ یہی یائے مستور ہے۔ اس کو جہاں حرکت ہو گی ظاہر کر دیں گے اور کبھی بغیر حرکت کے بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔ یہی وہ ی ہے جو حسبِ موقع اردو میں ہمزہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
اس بحث کی روشنی میں اور اسی قاعدے کی توسیع کے حاصل کے طور پر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اردو کے لئے نمایش اور نمائش، نمایندہ اور نمائندہ، آیندہ اور آئندہ، پایندہ اور پائندہ، ہر دو صورتیں درست ہیں۔ اگر آپ کا عمومی میلان فارسی کی طرف ہے تو ی لکھئے، بصورتِ دیگر ہمزہ لکھئے؛ اس کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان۔ سوموار 30 نومبر 2015ء۔
اتوار، 22 نومبر، 2015
ہمزہ کیسے لکھیں اور کہاں لکھیں
ہمزہ کیسے لکھیں اور کہاں
لکھیں
جناب
ذیشان نصر کے ایک سوال کے جواب میں
اصول و قواعد کی بحث تو خیر خاصی طویل
ہے، میں نے اس پر کچھ لکھا بھی ہے۔ کسی وقت میرے بلاگ کا چکر لگائیے۔ ایک مضمون تو
ہے ’’ہمزاتِ ہمزہ‘‘ اس کے علاوہ ایک مقام پر میں نے ’’یائے مستور‘‘ پر بھی بحث کی
ہے، اور ہمزہ مستور پر بھی (اس وقت یاد نہیں کہاں کی ہے)۔
فی الحال الفاظ زیرِ بحث کے بارے میں
عرض کئے دیتا ہوں۔ شمع یہ سودائئِ دل سوزئِ پروانہ ہے (چھوٹے ہمزہ کے ساتھ، زیر
چھوٹے ہمزہ پر واقع ہو گی)۔ یہاں خط کی شکل درست نہیں بن رہی۔ ترتیبِ حروف یہ ہے:
سو دا ئیءِ دل سوزیءِ پروانہ (ی کے اوپر چھوٹا ہمزہ اور اس ہمزہ پر زیر)۔واضح رہے
کہ اصولی طور پر زیرِ اضافت یہاں ی پر واقع ہوتی ہے، یعنی: ’’سودائیِ دل سوزیِ
پروانہ‘‘ یہ املاء درست ہے۔ تاہم ایک روایت چلی آتی ہے کہ ایسی ی پر جہاں زیر واقع
ہو ہمزہ اضافی لکھتے ہیں اور زیر کی علامت ہمزہ پر منتقل ہو جاتی ہے، سو یہاں
چھوٹا ہمزہ بناتے ہیں۔ سودائئِ دل سوزئِ پروانہ (سودائیِ دل سوزیِ پروانہ)
فرق ان میں صرف خطاطی کا ہے، اور کوئی فرق نہیں۔
ایسا ہی معاملہ ’’بے تابئِ الفت‘‘ کا
ہے۔ ترتیب: بے تابیءِ الفت ( ترجیحاً چھوٹا ہمزہ زیر کے ساتھ) اور اگر پڑھنے میں
دقت کا خدشہ ہو تو بڑا ہمزہ ی کے بعد لکھ کر اس پر زیر لگائیں گے۔ یا پھر ہمزہ
لکھیں گے ہی نہیں: بے تابیِ الفت (تاہم ایسے میں غلط گمان یہ ممکن ہے کہ لکھی ہوئی
زیر حرف ماقبل ی کی ہے، اس لئے ہمزہ لکھنا اولیٰ۔ زندگئِ جاوداں کا بھی یہی معاملہ
ہے۔
مجموعی طور پر میں سفارش کروں گا کہ
آپ ایسی ی پر چھوٹا ہمزہ لگائیں اور زیر کی علامت نہ لکھیں، پڑھنے والا از خود
سمجھ جائے گا کہ یہاں ہمزہ پر زیر واقع ہو رہا ہے: سودائئ دل سوزئ پروانہ (سودائی کی شکل
خطاطی میں ٹھیک کر لیجئے: سودائئ ) ، زندگئ جاوداں، بے تابئ الفت، گرمئ محفل، شوخئ
تحریر؛ وغیرہ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا ہمزہ ی کے بعد لکھا جائے گا: گرمئی
محفل یا شوخئی تحریر لکھنا قطعی طور پر غلط ہے۔ بقیہ الفاظ کو اسی پر قیاس کر لیں۔
ایک بات یاد رہے کہ الف مقصورہ (لیلیٰ،
دعویٰ) اور الف کو اس حوالے سے مماثل قیاس کریں گے اور ترکیب کی صورت میں املاء
یوں ہو گی: لیلائے شب، دعوائے حق، دنیائے دنی، بالائے لب، نوائے سروش؛ وغیرہ۔
سلسلۂ کوہسار، قصۂ غم، فسانۂ آزاد؛
وغیرہ۔ ان میں ہ کے بعد چھوٹا ہمزہ ہے اور زیر اس ہمزہ پر ہے۔ تاہم جیسے پہلے کہا
گیا: ہ، ی پر چھوٹا ہمزہ عام طور پر لکھا ہی تب جاتا ہے جب وہاں زیرِ اضافت یا زیرِ
توصیف واقع ہو رہا ہو، لہٰذا زیر کی علامت حذف بھی کر دیں تو پڑھنے میں مسئلہ نہیں
بنتا۔ مہدی مجروح دو الگ الگ لفظ ہیں۔ مراد ہے : میر مہدی مجروح (مرزا غالب کے قریبی ساتھی تھے)... میر مہدی
(نام) مجروح (تخلص)... اس پر اضافت نہیں ہے۔ ترکیب کی صورت یہ ہو گی: مہدئ موعود،
وادئ فاران، بازئ دِل؛ وغیرہ۔
فارسی اور عربی میں ی کو گول (ی) یا
لمبی (ے) کسی بھی طرح لکھ دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چھوٹی ی، بڑی ے کا فرق اردو
اور پنجابی وغیرہ سے خاص ہے۔ مے (شراب) کو بہت سارے دوست مئے لکھتے ہیں جو کہ غلط
ہے۔ میکدہ، میخانہ وغیرہ سے بھی عیاں ہے کہ ’’مے‘‘ ایک دو حرفی لفظ ہے۔ اس کو مَے
لکھیں یا مَی ایک ہی بات ہے، مئے کا کوئی جواز نہیں۔ اسی نہج پر درست املا ہے: مۓ شبانہ، مےءِ شبانہ (رات
کی بچی ہوئی شراب)۔ اس کو مئے شبانہ یا مئی شبانہ لکھنا کسی طور بھی درست نہیں۔
ایسا ہی معاملہ شے، طے، کے، قے، درپے (سب یائے لین)؛ کا ہے۔ درست املا: مے، شے،
طے، کے (مراد ہے کیخسرو)، قے، درپے؛ مۓ ناب، شۓ نایاب، درپۓ آزار؛ ترکیب میں
ہمزہ ایسی ے کے بعد واقع ہوتا ہے، حسبِ خط اس کو چھوٹا ہمزہ لکھیں، بڑا ہمزہ لکھیں
وہ ضرورت کی بات ہے۔ مئے، شئے، طئے، کئے، قئے، درپئے؛ وغیرہ لکھنا درست نہیں ہے۔
یائے معروف کے بعد ایسا اضافی ہمزہ واقع ہونے کی دو مثالوں کے ساتھ ان گزارشات کو سمیٹتے ہیں۔ (1) درست املاء: شومیِ قسمت، شومیٔ قسمت، شومیءِ قسمت ۔۔۔ غلط املاء: شومئی قسمت۔ (2) درست املاء: والیِ شہر، والیٔ شہر، والیءِ شہر ۔۔۔ غلط املاء: والئی شہر۔
یائے معروف کے بعد ایسا اضافی ہمزہ واقع ہونے کی دو مثالوں کے ساتھ ان گزارشات کو سمیٹتے ہیں۔ (1) درست املاء: شومیِ قسمت، شومیٔ قسمت، شومیءِ قسمت ۔۔۔ غلط املاء: شومئی قسمت۔ (2) درست املاء: والیِ شہر، والیٔ شہر، والیءِ شہر ۔۔۔ غلط املاء: والئی شہر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ
ہفتہ ۲۱ نومبر ۲۰۱۵ء
اتوار، 1 نومبر، 2015
بے چارہ (7)۔
بے چارہ (7)
سرِ راہ ملاقات ہو گئی،
علیک سلیک کے بعد فرمانے لگے: ’’کیسے ہو؟‘‘
عرض کیا: ’’خدا کا شکر
ہے، سب ٹھیک ہے خداوندِ دو عالم کے کرم سے، آپ کیسے ہیں؟‘‘
فرمانے لگے: ’’اللہ کا
شکر ہے ... اور ہاں، یہ تم نے کیا کہا؟ ’خدا‘ کا شکر ہے؟ تمہیں پتہ ہے؟ خدا نہیں
کہتے، اللہ کہتے ہیں‘‘۔
عرض کیا: ’’خدا سے میری
مراد ظاہر ہے ’اللہ‘ ہی ہے، میں مجوسی بھی تو نہیں جو آپ کو میرا لفظ ’خدا‘ بولنا
اتنا کھٹکا ہے‘‘۔
ارشاد ہوا: ’’جب تمہارے
پاس لفظ ’اللہ‘ موجود ہے، تو پھر ’خدا‘ کہنے کا کیا جواز ہے؟ فارسی مجوسیوں کی
زبان ہے، تم مجوسی نہ ہو کر ان کی زبان بول رہے ہو! اور وہ بھی ’اللہ‘ کی شان میں!
لا حول ولا قوۃ الا باللہ، کیا زمانہ آ گیا ہے! کسی کو کام کی بات بتائیں تو ناک
چڑھاتا ہے‘‘۔
ہماری طبیعت تو خاصی مکدر
ہوئی، تاہم یہ مکالمہ چونکہ ہمارے صدر دروازے پر ہو رہا تھا، سو ہم نے خوش اخلاقی
کو خود پر لازم رکھتے ہوئے کہا: ’’چھوڑئیے! آپ کن چکروں میں پڑ گئے۔ آئیے، آپ کو
چائے پلاتے ہیں‘‘۔
کہنے لگے: ’’نہیں، میرا
روزہ ہے، اور نماز کا وقت بھی ہو رہا ہے، میں چلوں گا۔ ’خدا‘ اور ’اللہ‘ کے فرق پر
پھر بات ہو گی‘‘۔
وہ جانے لگے تو ہم نے روک
لیا: ’’تو آپ نماز پڑھتے ہیں؟‘‘۔ جواب ملا: ’’ہاں، کیوں؟ تم نہیں پڑھتے؟‘‘۔
عرض کیا: ’’حضور! نماز تو
وہ ہے جو مجوسی پڑھتے ہیں، اور ... ’روزہ‘ نام کی کسی عبادت کا نہ قرآن شریف میں
ذکر ہے اور نہ کسی حدیث میں۔ یہ آپ نے کہاں سے لے لی؟‘‘ ۔
بہ آوازِ بلند ’لاحول‘ کا
مکرر ورد کرتے ہوئے انہوں نے دو تین بار ’استغفراللہ‘ کہا اور بولے: ’’کیا کفر بک
رہے ہو؟ میں بھی مجوسی تو نہیں جو تمہیں میرا ’نماز‘ کہنا اتنا برا لگا ہے۔ اور
کیا کہتے ہیں نماز روزے کو؟ نماز، روزہ ہی تو کہتے ہیں!‘‘۔
عرض کیا: ’’آپ ہی کا
فرمان آپ کو یاد دلایا ہے کہ جب آپ کے پاس لفظ ’صوم و صلوٰۃ‘ موجود ہے تو نماز
روزہ کہنے کا کیا جواز ہے؟‘‘۔ وہ ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے، مگر
ہم نے بات جاری رکھی: ’’حضور والا! اللہ کریم بھی جانتا تھا اور جانتا ہے کہ دینِ
اسلام کسی ایک محدود علاقے کے لئے نہیں پورے کرہء ارض کے لئے ہے۔ اور اللہ کریم یہ
بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں ...‘‘۔
وہ پھٹ پڑے: ’’تم کہنا
کیا چاہ رہے ہو؟ اب تم یہ کہو گے کہ ہمیں نماز پڑھنی بھی اپنی اپنی زبان میں چاہئے
عربی ہی کیوں؟ ہے نا؟‘‘۔
عرض کیا: ’’نماز نہیں
حضرت! صلوٰۃ! اور وہ بالکل اس طرح جیسے نبی کریم نے فرمایا: صلُّوا کما رئیتمونی اُصَلّی۔ اگر لفظ نماز سے آپ کی
مراد وہی نماز ہے تو نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر مجوسیوں والی نماز ہے تو
وہ نہ میں پڑھتا ہوں نہ آپ۔ خاطر جمع رکھئے اور جائیے کہ’ آپ کی مسجد‘ میں نماز کا
وقت ہو چلا ہے‘‘۔ وہ پھٹ پڑے: ’’اب یہ کیا بک رہے ہو!‘‘۔
عرض کیا: ’’جناب! یہ بھی
آپ کا ارشاد ہے، پرسوں جب میں نے کہا کہ اذان ہو رہی ہے توآپ نے فرمایا تھا: ’یہ
ہماری مسجد کی اذان نہیں ہے‘ ۔ فرمایا تھا، نا؟‘‘۔
انہوں نے ہمیں یوں گھورا
جیسے کچا چبا جانے کا ارادہ ہو، اور سلام کہے بغیر چلے گئے۔
محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔
اتوار ۔ یکم نومبر ۲۰۱۵ء
بے چارہ (6)۔
بے چارہ (6)
’’بیٹا
پیدا ہوا تھا، ماموں جی! تھوڑی دیر بعد فوت ہو گیا‘‘ فون پرداماد کی غم میں ڈوبی
ہوئی آواز ابھری۔
لالہ مصری خان بیگم سمیت
بیٹی کے گھر پہنچے، بچوں کو دلاسا دیا، نومولود کی میت کو غسل دیا، کفن پہنایا، بیٹے کو بھیجا کہ قبر کھدوائے۔ بیٹی اور داماد سے کچھ مشاورت کی اور جنازے کی نماز
کا وقت طے کر لیا۔ محلہ داروں، دوستوں اور قریبی عزیزوں کو خبر کر دی اور یہ بھی
کہہ دیا کہ جو سہولت سے پہنچ سکے پہنچ جائے۔ مولوی صاحب کو بھی اطلاع دے دی، انہوں
نے کہا میں پہنچ جاؤں گا۔
اعلان کے مطابق نماز کا
وقت ہو گیا، مولوی صاحب نہیں پہنچے تھے۔ کوئی پانچ منٹ اوپر ہوئے ہوں گے کہ حاضرین
سے ایک ’’مولانا‘‘ لالہ مصری خان کے پاس آئے اور فرمانے لگے: ’’آپ کے مولوی صاحب تو
نہیں آئے، ہم جنازہ پڑھا دیں؟‘‘ لالہ نے کہا: ’’ذرا سا انتظار اور کر لیتے ہیں۔‘‘
مولانا گویا ہوئے: ’’پتہ نہیں کتنا انتظار کرنا پڑے!‘‘ لوگوں کی توجہ ان کی گفتگو
پر لگی تھی۔ لالہ خاموش رہے مگر ان کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر مولانا صاحب ادھر ادھر ہو گئے۔
لالہ مصری خان نے وہاں
موجود لوگوں کو ، جو پچاس سے زیادہ نہیں ہوں گے، متوجہ کیا اور بلند آواز میں
بولے: ’’دوستو! میں مولوی صاحب کا انتظار صرف اس لئے کر رہا ہوں کہ انہیں نماز پڑھانے کا کہہ چکا ہوں۔ وہ آتے ہوں گے، کوئی مسئلہ
ہوتا، تو مجھے ضرور بتاتے۔ پھر بھی ہم زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔ چند منٹ اور
دیکھ لیتے ہیں، وہ نہیں آتے تو نماز میں خود پڑھاؤں گا۔ جو دوست بہت جلدی میں ہیں
انہیں اجازت ہے!‘‘ اتنے میں مولوی صاحب کی موٹر سائیکل سڑک سے اتر کر آتی دکھائی دی۔
نماز ہو چکی تو ہم نے
دیکھا کہ ’’مولانا‘‘ صاحب وہاں نہیں تھے۔
محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ جمعہ
۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء
لیبلز:
اردو کالم,
بدرِ احمر کے قلم سے,
بے چارہ,
جنازہ,
طنزیات,
لالہ مصری خان
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)


