املاء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
املاء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 20 ستمبر، 2017

اِک ذرا سی بات پر



اِک ذرا سی بات پر


قیامِ پاکستان کا اعلان ’’پاکستان براڈکاسٹنگ سروس‘‘ لاہور سے ہوا تھا (’’ریڈیو پاکستان‘‘ کا نام بعد میں اختیار کیا گیا)۔ کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل غالباً زیڈ اے بخاری تھے؛ المعروف ’’بڑے شاہ جی‘‘۔ ان کو دورانِ کار کہیں ذرا فرصت ہوتی تو سٹاف روم میں آ کر بیٹھ جاتے۔ عملے کے وہ افراد جو اپنے وقت (نشریات) کے منتظر ہوتے یا، کر چکے ہوتے؛ وہاں گپ شپ لگا رہے ہوتے۔ بڑے شاہ جی کسی بھی غیرنمایاں جگہ پر بیٹھ جاتے، کوئی انہیں دیکھے تو سمجھے کہ اونگھ رہے ہیں۔ عملے کا کوئی فرد اس گپ شپ میں بھی کوئی لفظ یا جملہ غلط بول جاتا یا زبان کی کوئی غلطی کر جاتا تو شاہ جی اُسے فوراً ٹوک دیا کرتے۔ ایک دن کسی نے کہہ دیا: ’’شاہ جی ہم یہاں کون سی نشریات جاری کر رہے ہوتے ہیں، یہ تو محض گپ شپ ہے‘‘۔ بڑے شاہ جی کے جواب کا مفہوم تھا کہ آپ لوگ نشریات کے لوگ ہیں، آپ کی زبان، ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہونی چاہئے۔ یہ غلطیاں جنہیں آپ گپ شپ میں کر جاتے ہیں، یہ آپ کی عادت بھی بن سکتی ہیں۔ نشریے میں ایک لفظ غلط ادا ہو گیا، منہ سے نکلا آسمان کو پہنچا، بعد میں اُس پر جیسی بھی سر زنش ہوتی رہے نشریہ تو متاثر ہو چکا۔
بڑے شاہ جی کی یہ بات ہمارے اہلِ قلم کے لئے ضابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیس بک اور اس نوع کے دوسرے میڈیا کو لے لیجئے؛ ہم چاہے معمول کا تبصرہ ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، ہمیں اپنے الفاظ اور جملوں کی صحت اور معیار کے ساتھ ساتھ لہجے کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ ہم بول کر ایک بات کرتے ہیں تو ہمارے سامع کو علم نہیں ہوتا کہ ہمارے ذہن میں فلاں لفظ کے ہجے کیا ہیں، مگر جب ہم وہی بات لکھ کر کرتے ہیں تو ہماری لکھی ہوئی عبارت (املاء، ہجے، اعراب سمیت) ہمارے قاری کے سامنے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میں ایک لفظ بولتا ہوں ’’بِل کُل‘‘؛ میرا سامع مطمئن ہے کہ میں نے درست بولا؛ میں اسی لفظ کو لکھتے میں ’’بالکل‘‘ کی بجائے ’’بلکل‘‘ لکھ دوں تو میرا باشعور قاری کسی ردِ عمل کا اظہار کرے یا نہ کرے؛ بد دل ضرور ہو گا۔’’اتفاقاً، مثلاً، یقیناً‘‘ بولنے میں نون (تنوین) بولا جائے گا اور یہ جو الف آخر دکھائی دے رہی ہے (جس پر دوزبر کی علامت ہے) یہ الف صوت میں نہیں ہو گا۔ میں ان کو ’’اتفاقن، مثلن، یقینن‘‘ لکھوں گا تو لازماً غلط مانا جائے گا۔ نظیر اور نذیر بولنے میں ہم کوئی فرق نہیں کر پاتے (یہ ہمارے کلے کی ساخت کی بات ہے)، ہم ان کی املاء باہم تبدیل کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ذرا، ذرّہ میں ذال کی جگہ ز، ض، ظ نہیں لے سکتا۔ زِرہ، زَری، زَر میں ذ، ض، ظ نہیں چلے گا؛ لفظ یا تو بے معنی ہو جائے گا، یا وہ کوئی اور لفظ ہو گا : نظیر (مثال) نذیر (ڈرانے والا) علم (پرچم) الم (دکھ) قلب (دل) کلب (کتا)۔ الفاظ کی ساخت اور ان میں مختلف حروف تہجی کا واقع ہونا ایک پوری تہذیب کا عکس ہوتا ہے، یہ محض آوازیں نہیں ہوا کرتیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہجے وہی، صوت بھی وہی مگر الفاظ مختلف! جون (شمسی سال کا چھٹا مہینہ)، جون (نسل) ؛ جوں (جیسے)، جوں (ایک خون آشام کیڑا)؛ پر (حرفِ جار)، پر (پنکھ)؛ وغیرہ۔
اکثر معاملات میں عام سوجھ بوجھ کافی ہوتی ہے، تاہم مسلسل مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اردو میں صدہا الفاظ ایسے ہیں ، یہاں کیا کچھ نقل کیا جائے۔ ادب سے تعلق رکھنے والا شخص کتابوں اور مطالعے سے بے گانہ نہیں رہ سکتا، اس کے پاس اور کچھ بھی نہ ہو، دو چار اچھی ڈکشنریاں ضرور ہونی چاہئیں۔ فی زمانہ انٹرنیٹ پر بے شمار کتابیں مفت ڈاؤن لوڈ کے لئے بھی دستیاب ہیں۔ جسے علم کی پیاس ہو گی، وہ اِن کتابوں کو تلاش بھی کر لے گا۔ املاء کی غلطیوں کے رواج پانے کا سب سے بڑا عنصر محنت سے جی چرانے اور مطالعے سے فرار کا رویہ ہے۔ ہمارے بہت سے اہلِ قلم نے بھی انٹرنیٹ پر میسر یونی کوڈ اور خودکار املاء کو کافی و شافی جان لیا، حالانکہ وہ ابھی اپنے تعمیری مراحل میں ہے اور اس کی تکمیل میں ابھی اچھا خاصا وقت لگے گا۔ کمپیوٹر سے ملنے والی املاء اور ہجوں کو غیر مشروط طور پر سند مان لینا (اہلِ ادب کے لئے خاص طور پر) درست رویہ نہیں۔ 
علم فی نفسہٖ بہت وسیع مفاہیم رکھتا ہے۔ بات اردو زبان میں املاء و اصوات کی ہو رہی ہے۔ پڑھے لکھے مسلمان معاشرے میں قیام اللیل اور اقیمواالصلوٰۃ جیسی تراکیب اجنبی نہیں ہیں۔ قیام اللیل میں میم کے بعد کا الف اور ایک لام بولتا نہیں ہے، دوسرا لام مشدد ہے۔ آوازوں کو کافی سمجھنے کی غلطی ہمیں کسی ایسی املاء تک بھی لے جا سکتی ہے: ’قیاملّیل‘‘ ؛اقیمواالصلوٰۃ میں میم کے بعد ایک واو، دو الف، ایل لام بولنے میں نہیں آتے۔ املاء کو اصوات تک محدود کرنے کی غلطی اس کو ’’اقیمُصّلات‘‘ بنا دے گی؛ چہ عجب! ہمیں اصوات اور تہذیبی عناصر کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ’’املاء صرف اصوات تک‘‘ کا فارمولا زیادہ سے زیادہ وہاں لاگو ہو سکتا ہے (اور وہ بھی نامکمل) جہاں ہم کسی قطعی مختلف رسم الخط کی حامل زبان (مثلاً انگریزی، فرانسیسی، چینی، روسی، جاپانی، کورین؛ وغیرہ) کا تلفظ اپنے خط میں لکھنے کی کوشش کریں۔ اس شعبے میں بھی اہلِ علم نے کچھ ضوابط اپنا رکھے ہیں، جن کا احاطہ کرنا ایک الگ علمی شعبہ ہے، جو آگے کئی شعبوں میں بٹا ہوا ہے۔ یہاں اس کا خاکہ پیش کرنا بھی محال ہے۔ اردو کا گرمکھی، ہندی، دیوناگری رسوم الخط سے فرق بھی حقیقت ہے؛ بہت سی آوازیں تک ایک دوسری تحریر میں مختلف ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ تہذیبی قرب اور صدیوں کے معاشرتی اشتراک کی بدولت بڑی حد تک پٹ جاتا ہے، اور ہمیں بہت زیادہ اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بہ این ہمہ یہ بات کسی بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ اردو کے لئے فارسی رسم الخط ہی موزوں ہے، جیسا (عربی اور فارسی پر کچھ اضافی حروف کے ساتھ) اس وقت رائج ہے۔
ایک بے بنیاد اور بے ڈھب طعنہ جو اردو کو دیا جاتا ہے کہ: ’’جی اس میں تو سارے الفاظ، اسم، فعل ، حرف دوسری زبانوں کے ہیں؛ اپنا کچھ بھی نہیں، اسی لئے تو اس کو لشکری کہتے ہیں‘‘، وغیرہ وغیرہ۔ ایک اندازے کے مطابق اردو میں دنیا کی ۳۰ زبانوں کے الفاظ ہیں۔ انگریزی کی ایک بہت معتبر لغت چیمبرز انگلش ڈکشنری کے ۱۹۷۶ء ایڈیشن میں ۷۹ زبانوں کے ناموں کی فہرست شامل ہے جن کے الفاظ انگریزی زبان میں شامل ہیں۔ ایسا صرف انگریزی یا اردو سے خاص نہیں۔ ماسوائے اس زبان کے جو حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ کریم نے عطا کی تھی، دنیا کی ہر زبان اپنے لوگوں کے مکمل تہذیبی پس منظر میں شامل ان تمام زبانوں سے مستفیض ہوتی ہے جو کسی نہ کسی انداز میں ان لوگوں میں رائج رہی ہوں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ دنیا میں مختلف وقتوں میں رائج تمام زبانوں کا منبع وہی حضرت آدم علیہ السلام والی زبان ہے۔ یہ تو ایک فطری عمل ہے، اور فطرت سے فرار ممکن نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری اردو اس وقت کہاں کھڑی ہے، اس کا لسانی سرمایہ کتنا ہے، اس کے متداول قواعد کیا ہیں؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اردو کے بیٹے ہونے کے دعویدار اپنے دعوے میں کتنے مخلص اور سچے ہیں۔
ہمیں زبان کی صورت میں جو کچھ اپنے بزرگوں سے ملا ہے، اس کی قدر لازم ہے۔ اس میں کہیں کوئی فروگزاشت ہے تو اس کا قابلِ عمل اور قابلِ قبول حل پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ عربی، فارسی، پنجابی، ہندی اور دیگر مقامی زبانیں اردو کے خمیر میں شامل ہیں؛ آپ ان کو نکال نہیں سکتے۔ اس لئے غیرضروری تعصبات سے بچے رہئے، اور زبان کی روایات کو رواں رکھئے۔ املاء، تلفظ، ہجاء، جملے کی ساخت، محاورہ، روزمرہ، ضرب الامثال، تشبیہات، علامات، رعایات، رموز، استعارے، ترکیب سازی کے ضابطے؛ ان کا اکرام کیجئے۔ اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے آگے بڑھئے، نہیں تو آپ دوسروں سے الگ ہو جائیں گے۔
یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ عالمی سطح پر زبان کا درجہ اس کے خط، حروف ہجاء کی تعداد، قواعد وغیرہ کی بنیاد پر متعین نہیں ہوا کرتا، اس بات پر ہوتا ہے کہ اس زبان کو بولنے والے کتنے مؤثر ہیں اور کہاں کہاں! دنیا میں مقابلہ لفظوں سے نہیں،قومی کارناموں اور اثرپذیری سے ہوا کرتا ہے۔ آپ کے جسم میں جان نہ ہو تو آپ کی چیخ پکار بھی کوئی نہیں سنے گا، کسی پر حکم جاری کرنا تو دور کی بات ہے۔
دورِ حاضر میں ایک اور طرزِ فکر کو ہوا دی جا رہی ہے: ’’زبان مذہب سے بالا تر ہوتی ہے، یا زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘‘۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہو گا، زبان لکھنے، بولنے پڑھنے والے کا تو کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتا ہے (لامذہبیت بھی تو ایک مذہب ہے!)۔ کوئی حمد کہتا ہے، نعت، منقبت، سلام، کہتا ہے؛ کوئی بھجن لکھتا ہے؛ کوئی اپنے دیوتاؤں کے قصیدے لکھتا ہے؛کوئی ناگ دیوتا کی مدح سرائی کرتا ہے؛ کوئی جو کچھ بھی لکھتا ہے وہ زبان کا حصہ ہے تو پھر زبان کا مذہب بھی ہے۔ ہر زبان کا مذہب ہوتا ہے! وہی جو اس کے لکھنے والے کا ہوتا ہے۔ لکھنے والا لادین ہے تو اس کی زبان بھی لادین ہے۔ یہاں کتنے لوگ ایسے ہیں؟ اردولکھنے والے پاکستانی، تقریباً سو فی صد مسلمان ہیں؛ ہندوستان کا مجھے نہیں پتہ، آدھے تو رہے ہوں گے۔ اردو ادب میں منبر و محراب کی گونج صاف سنائی دیتی ہے، مصنف چاہے ہندو ہو، پارسی ہو، سکھ ہو، بدھ ہو، جین ہو، کوئی ہو، اردو کا اسلوب اپنا ایک مجموعی رنگ رکھتا ہے۔ انگریزی ادب کو دیکھ لیجئے، وہاں کسی نہ کسی انداز میں صلیب بول رہی ہے۔ چین کی لوک داستانوں سے جدید ترین موویز تک ڈریگن کا راج ہے۔ اگرایک طبقہ زبان کو سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے لادینیت پھیلانا چاہتا ہے تو وہ اس کا مشن ہے، چاہے کسی نے سونپا ہو۔ اس پر بحث کا فائدہ کچھ نہیں۔
کہتے ہیں انگریز سرکار نے اپنے کسی مجسٹریٹ کو مرزا غالب کے پاس بھیجا کہ ان سے ہندوستانیوں کی زبان سیکھے تاکہ اپنے روز مرہ کے امور میں ان لوگوں کی باتیں سمجھ سکے۔ مرزا نے کہا: ’’جاؤ میاں، کسی گھسیارے سے سیکھو، میں تو قلعے کی زبان بولتا ہوں‘‘۔ مرزا کے اس قول کے متعدد پہلو ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ زبان کے بھی طبقات ہوتے ہیں۔ ایک مبتذل ہے تو ایک بازاری ہے، ایک بازار کا ہے، ایک عامیانہ ہے تو ایک عوامی ہے، ایک اشرافیہ کا لہجہ ہے تو ایک اہلِ ادب کا ہے، ایک خواتین کا ہے تو ایک اڈے کوٹھے کا ہے۔ ہر لہجے کی اپنی اپنی افادیت ہے، اپنی اپنی لفظیات ہے اور اپنا اپنا انداز ہے؛ کسی پر گرفت کرنا مقصود نہیں۔ ایک دوست نے بہت اچھی مثال دی: ’’بیٹھ، بیٹھو یار، بیٹھئے، تشریف رکھئے، تشریف فرمائیے، نشست منتظر ہے‘‘۔ زبان میں شائستگی اور شستگی جوں جوں بڑھتی جائے گی زبان کی لذت بڑھتی جائے گی۔ زبان میں جتنا جمالیاتی عنصر شامل ہو گا زبان اتنی ہی ادبی ہوتی چلی جائے گی۔ زبان میں معنی آفرینی کی سطح سے اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ زبان زندگی کے جتنی قریب ہو گی، اتنی اس کی اثر پذیری بڑھے گی۔ زبان اور مٹی کا رشتہ اٹوٹ رشتہ ہے، یہ اپنی مٹی سے کٹی تو مر گئی، لوگ اپنی مٹی سے کٹ گئے تو بھی زبان مر گئی۔ لوگوں میں جان نہ رہی تو زبان ادھ موئی ہو گئی۔لوگوں نے اپنی قدروں اور قدر و منزلت کا جتنا تحفظ کیا، اور دوسروں پر جس حد تک اثر انداز ہوئے، زبان میں بھی اتنی ہی وسعت اور ہمہ گیری آتی گئی۔ گویا زبان کے یہ چار عناصر ہوئے :مٹی، خون، فکر، اور گویائی۔
بات یہاں پہنچی کہ اگر مجھے اور آپ کو ادب تخلیق کرنا ہے، پڑھنا ہے اور ادب میں اچھی روایات قائم رکھتے ہوئے، نئی طرحیں ڈالنی ہیں تو مجھے اور آپ کو (بلا استثناء) مطالعے اور محنت کی ضرورت ہے، اور رہے گی۔مطالعہ اور محنت سے ہل من مزید کا تقاضا تیز تر ہوتاہے۔ اور علم میں وسعت آتی ہے۔


محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان
بدھ: ۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۷ء

پیر، 30 نومبر، 2015

ہمزہ اور یائے مستور


ہمزہ اور یائے مستور




اردو میں ہم فارسی سے آمدہ الفاظ تمنائی، دریائی، تماشائی، وغیرہ سے مانوس ہیں۔ فارسی رسمِ تحریر میں ان کی املاء  تمنایی، دریایی، تماشایی، وغیرہ ہے جب کہ ہم ان کی یی کے بجائے ئی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ یعنی جس ی پر ی وارد ہوئی وہ ہمزہ میں بدل گئی۔ ایک بات اور بھی قابلِ غور ہے۔ ہم لکھتے ہیں: مجلس آرا، دریا، تمنا، تماشا، سر و پا، فردا ۔ فارسی والے یوں بھی لکھتے ہیں: مجلس آرای، دریای، تمنای، تماشای، سر و پای، فردای مگر یہ ی عام طور پر بولنے میں نہیں آتا۔ جب اس پر کوئی حرکت ہو تو لکھنے بولنے دونوں میں آ جاتا ہے۔ خدای سے خدایان، خوش بوی سے سے خوش بویات، خوب روی سے خوب رویان؛ وغیرہ۔ اس کو یائے مستور کہہ لیجئے۔ یائے مستور کے مقامات تین ہیں: 

ایک ۔ جب ایک اسم الف معروف پر ختم ہو رہا ہو۔ خدا، ہوا، صدا، نوا۔ ان میں ہر جگہ یائے مستور موجود ہے۔ اس پر واوِ عطف واقع ہو تو ہمزہ غیر مملوء (لکھے بغیر) شامل ہو جاتا ہے۔ خدا و انساں (صوتیت: خدا ؤ انساں، خدا ءُ انساں) اگر اس میں یائے مستور لکھا ہوا ہو تو۔ خدای و انساں (صوتیت: خدا یو انساں، خدا یُ انساں)۔ معانی وہی ہیں :خدا اور انسان۔  
شُذرہ: ایسے اسم پر اضافت یا توصیف کی وجہ سے زیر لاگو ہو تو فارسی طریقہ تو ہے کہ یائے مستور کو لکھ کر اس پر زیر لگاتے ہیں۔ ہوایِ غم، نوایِ جبریل۔ مگر یہ اردو میں مانوس نہیں ہے۔ اردو میں الف کے بعد کی یائے مستور کی جگہ ہمزہ اور اس پر واقع ہونے والی زیر کی جگہ یائے مجہول (ے) لکھتے ہیں: نوائے وقت، بلائے بے درمان۔ شعر میں اس یائے مجہول کو گرایا جانا عام ہے۔

دو ۔ جب ایک اسم واو معروف یا واوِ لین پر ختم ہو رہا ہو۔ خوب رُو، پیش رَو، خوش بُو، سرِ مُو، وغیرہ۔ ان میں بھی ہر جگہ یائے مستور موجود ہے۔ ان اسماء کے آخر پر زیرِ اضافت یا زیرِ توصیف لاگو ہو تو یائے مستور حسب بالا ظاہر ہو جاتی ہے۔ فارسی کے مطابق: رُویِ سخن (اردو: روئے سخن)، بانویِ شہر (اردو: بانوئے شہر)، رُویِ زیبا (اردو: رُوئے زیبا)، بُویِ گل (اردو: بوئے گل)  وغیرہ۔ دیگر کوئی حرکت واقع ہونے کی صورت بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ جمع: خوب رُویان، خوش بویات، جویا (متلاشی)۔ غالب نے تو اردو میں بھی اس ی (یائے مستور) کو متحرک کیا ہے۔ ع: چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد ۔

تین ۔ جب اس ی پر زیر واقع ہو تو قاعدے کے مطابق وہ زیر اسی ی پر واقع ہوتا ہے اور فارسی والے لکھتے بھی اسی طرح ہیں۔ گرمیِ محفل، شادیِ مرگ، خوبیِ قسمت۔ اردو میں البتہ ایسی ی کے بعد (یاد رہے کہ ی کے بعد! نہ کہ پہلے!) والی یائے مستور بہ صورتِ ہمزہ ظاہر ہو جاتی ہے اور زیر اس ہمزہ پر وارد ہوتی ہے۔ گرمیءِ محفل، شادیءِ مرگ، خوبیءِ تقدیر، والیءِ شہر، مَےءِ لالہ فام، در پےءِ آزار وغیرہ۔ 

یائے مستور کی جگہ آنے والا ہمزہ چھوٹے ہمزہ کی صورت میں ی، ے کے اوپر لکھا جانے لگا اور زیر اس پر وارد ہوئی۔ گرمیِٔ محفل، شادیِٔ مرگ، خوبیِٔ تقدیر، والیِٔ شہر، مَۓِ لالہ فام، در پۓِ آزار وغیرہ۔ ترتیب اس کی وہی تھی (ی، ہمزہ، زیر) مگر  خطاطی میں (اور بعد میں کمپیوٹر کی کچھ مجبوریوں کے سبب) بعد کی بجائے اوپر آنے کی وجہ سے کچھ غلط تصورات پل گئے۔ جن کے زیرِ اثر  اصل املاء: گرمیءِ محفل، شادیءِ مرگ، خوبیءِ تقدیر، والیءِ شہر، مَےءِ لالہ فام، در پےءِ آزار (ہمزہ چھوٹا لکھیں یا، کمپوٹر کی مجبوری کے تحت بڑا) کی غلط املاء: گرمئی محفل، شادی مرگ، خوبئی تقدیر، والئی شہر، مَئے لالہ فام، در پئے آزار، وغیرہ چل نکلی۔

لفظ مَے اور پَے کے معاملے میں کچھ مزید غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ بعضوں نے مۓِ لالہ فام (مےءِ لالہ فام) کو مئے لالہ فام لکھنا شروع کر دیا۔ پھر اسی غلطی کے تواتر کے سبب ایک نئی بات پیدا ہو گئی کہ مَے کے ہجے کیا  ہیں؟ یعنی بعضوں کے ہاں اس کی املاء بجائے خود سوال کی زد میں آ گئی۔ اور، یار لوگ  اسے "مئے" لکھنے لگے جو قطعی طور پر غلط ہے۔ لفظ مَے اصولی طور پر دو حرف کا ہے (م، ے) فارسی میں گول ی اور لمبی ے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، اردو میں ہوتا ہے۔ 

درست کیا ہے؟ نمایش یا نمائش؟ زندہ و پایندہ یا زندہ و پائندہ؟  اس کا اصولی جواب جاننے کے لئے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ یائے مستور پیدا کیسے ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے فارسی کے کچھ بنیادی قواعد کا علم ہونا لازمی ہے۔ آئندہ سطور میں ہم ان قواعد کا اجمالی ذکر کریں گے۔ تفصیل اس فقیر کے مضمون "زبانِ یارِ من" میں آ چکی ہے۔

فارسی میں مصدر وہ اسم ہے جس میں معانی کام، عمل، فعل کے پائے جاتے ہیں اور اصلاحاً فعل وہ اس لئے نہیں کہلاتا کہ فعل کے میں زمانہ کے ساتھ فاعل، مفعول یا نائب فاعل کا ہونا لازمی ہے۔ اردو میں مصدر کی موٹی علامت ہے: اس کے آخری دو حرف "نا"۔ کھانا، پینا، لکھنا، پڑھنا، آنا، جانا، دیکھنا، مرنا، جینا۔ وغیرہ۔ چلئے انہی کے لئے فارسی مصادر دیکھ لیتے ہیں: خوردن، نوشیدن، نوشتن، خواندن، آمدن، رفتن، دیدن، مُردن، زیستن ۔۔۔ ان میں ہم نے دیکھا کہ مصدر کے آخری دو حرف "تن" ہیں یا "دَن"۔ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اگر ہو گا تو وہ مصدر نہیں کہلائے گا۔

فارسی اہلِ زبان کے ہاں ہر مصدر کے ساتھ ایک مضارع منسلک ہوتا ہے۔ مصدر سے مضارع بنانے کے قواعد کوئی ہیں بھی تو وہ بہت پیچیدہ ہیں۔ ہم غیر فارسی والوں کے لئے یہی کافی ہے کہ ہر مصدر کے ساتھ ایک مضارع متعین شدہ موجود ہے اور ہمیں اسی کو درست تسلیم کرنا ہے (بہ الفاظ، دیگر ان کو یاد کرنا ہے)۔

منقولہ بالا مصادر کے مضارع یہ ہیں: خوردن سے خورَد، نوشیدن سے نوشَد، نوشتن سے نویسَد، خواندن سے خوانَد، آمدن سے آیَد، رفتن سے رَوَد، دیدن سے بینَد، مُردن سے میرَد، زیستن سے زِیَد ۔۔ توجہ فرمائیے کہ مضارع کا آخری حرف ہمیشہ د (مجزوم) ہوتا ہے اور اس سے پہلے حرف پر ہمیشہ زبر (فتحہ) واقع ہوتا ہے۔ ان کے رسمی معانی کئے جاتے ہیں: وہ کھائے، وہ پئے، وہ لکھے، وہ پڑھے، وہ آئے، وہ جائے، وہ دیکھے، وہ مرے، وہ جیے۔ تاہم یہ کامل معانی یوں نہیں کہلاتے کے کہ مضارع پر سابقے لاحقے داخل ہونے سے نئے معانی بنتے ہیں، جو ہمارا اس وقت کا موضوع نہیں۔ کچھ اور مصادر اور ان کے مضارع دیکھے لیتے ہیں: گفتن سے گوید، آمدن سے آید، جُستن سے جُویَد، نمودن سے نمایَد۔ ان کو پہلی فہرست میں شامل کر لیجئے۔

نوٹ کیجئے کہ اگر مضارع سے اس کی علامت یعنی د کو ہٹا دیا جائے تو د سے پہلے حرف کی زبر از خود ساقط ہو جاتی ہے اور وہ ساکن ہو جاتا ہے۔ خوردن سے خورَد اور اس سے خور، نوشیدن سے نوشَد اور اس سے نوش، نوشتن سے نویسَد اور اس سے نویس، خواندن سے خوانَد اور اس سےخوان، رفتن سے رَوَد اور اس سے رَو، دیدن سے بینَد اور اس سے بِین، مُردن سے میرَد اور اس سے مِیر، زیستن سے زِیَد اور اس سے زی، گفتن سے گوید اور اس سے گوی، جُستن سے جُویَد اور اس سے جوی، نمودن سے نمایَد اور اس سے نمای، آمدن سے آیَد اور اس سے آی۔

یہ سارے جہاں فعل امر ہیں یعنی کھا، پی، لکھ، پڑھ، جا، دیکھ، مر، جی، کہہ، ڈھونڈ، دکھا، آ ۔۔۔ وہیں یہ اسم فاعل بھی ہیں۔ مثلاً گوشت خور، عرضی نویس، نعت خوان، تیز رَو، جواں میر، قصہ گو، حیلہ جُو، چہرہ نما، (آ یعنی آنے والا اردو میں مانوس نہیں ہے)۔ گفتن اور اس کے بعد کے مضارعوں میں حرفِ مزارع د سے پہلے ی موجود تھی، د کے ہَٹنے پر صوتیت میں ساکت (خاموش) ہو گئی ساقط نہیں ہوئی۔ یہی یائے مستور ہے۔ اس کو جہاں حرکت ہو گی ظاہر کر دیں گے اور کبھی بغیر حرکت کے بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔ یہی وہ ی ہے جو حسبِ موقع اردو میں ہمزہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

اس بحث کی روشنی میں اور اسی قاعدے کی توسیع کے حاصل کے طور پر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اردو کے لئے نمایش اور نمائش، نمایندہ اور نمائندہ، آیندہ اور آئندہ، پایندہ اور پائندہ، ہر دو صورتیں درست ہیں۔ اگر آپ کا عمومی میلان فارسی کی طرف ہے تو ی لکھئے، بصورتِ دیگر ہمزہ لکھئے؛ اس کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔



محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان۔  سوموار 30 نومبر 2015ء۔

اتوار، 22 نومبر، 2015

ہمزہ کیسے لکھیں اور کہاں لکھیں



ہمزہ کیسے لکھیں اور کہاں لکھیں
جناب ذیشان نصر کے ایک سوال کے جواب میں


اصول و قواعد کی بحث تو خیر خاصی طویل ہے، میں نے اس پر کچھ لکھا بھی ہے۔ کسی وقت میرے بلاگ کا چکر لگائیے۔ ایک مضمون تو ہے ’’ہمزاتِ ہمزہ‘‘ اس کے علاوہ ایک مقام پر میں نے ’’یائے مستور‘‘ پر بھی بحث کی ہے، اور ہمزہ مستور پر بھی (اس وقت یاد نہیں کہاں کی ہے)۔

فی الحال الفاظ زیرِ بحث کے بارے میں عرض کئے دیتا ہوں۔ شمع یہ سودائئِ دل سوزئِ پروانہ ہے (چھوٹے ہمزہ کے ساتھ، زیر چھوٹے ہمزہ پر واقع ہو گی)۔ یہاں خط کی شکل درست نہیں بن رہی۔ ترتیبِ حروف یہ ہے: سو دا ئیءِ دل سوزیءِ پروانہ (ی کے اوپر چھوٹا ہمزہ اور اس ہمزہ پر زیر)۔واضح رہے کہ اصولی طور پر زیرِ اضافت یہاں ی پر واقع ہوتی ہے، یعنی: ’’سودائیِ دل سوزیِ پروانہ‘‘ یہ املاء درست ہے۔ تاہم ایک روایت چلی آتی ہے کہ ایسی ی پر جہاں زیر واقع ہو ہمزہ اضافی لکھتے ہیں اور زیر کی علامت ہمزہ پر منتقل ہو جاتی ہے، سو یہاں چھوٹا ہمزہ بناتے ہیں۔ سودائئِ دل سوزئِ پروانہ (سودائیِ دل سوزیِ پروانہ) فرق ان میں صرف خطاطی کا ہے، اور کوئی فرق نہیں۔

ایسا ہی معاملہ ’’بے تابئِ الفت‘‘ کا ہے۔ ترتیب: بے تابیءِ الفت ( ترجیحاً چھوٹا ہمزہ زیر کے ساتھ) اور اگر پڑھنے میں دقت کا خدشہ ہو تو بڑا ہمزہ ی کے بعد لکھ کر اس پر زیر لگائیں گے۔ یا پھر ہمزہ لکھیں گے ہی نہیں: بے تابیِ الفت (تاہم ایسے میں غلط گمان یہ ممکن ہے کہ لکھی ہوئی زیر حرف ماقبل ی کی ہے، اس لئے ہمزہ لکھنا اولیٰ۔ زندگئِ جاوداں کا بھی یہی معاملہ ہے۔

مجموعی طور پر میں سفارش کروں گا کہ آپ ایسی ی پر چھوٹا ہمزہ لگائیں اور زیر کی علامت نہ لکھیں، پڑھنے والا از خود سمجھ جائے گا کہ یہاں ہمزہ پر زیر واقع ہو رہا ہے: سودائئ دل سوزئ پروانہ (سودائی کی شکل خطاطی میں ٹھیک کر لیجئے: سودائئ ) ، زندگئ جاوداں، بے تابئ الفت، گرمئ محفل، شوخئ تحریر؛ وغیرہ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا ہمزہ ی کے بعد لکھا جائے گا: گرمئی محفل یا شوخئی تحریر لکھنا قطعی طور پر غلط ہے۔ بقیہ الفاظ کو اسی پر قیاس کر لیں۔  ایک بات یاد رہے کہ الف مقصورہ (لیلیٰ، دعویٰ) اور الف کو اس حوالے سے مماثل قیاس کریں گے اور ترکیب کی صورت میں املاء یوں ہو گی: لیلائے شب، دعوائے حق، دنیائے دنی، بالائے لب، نوائے سروش؛ وغیرہ۔

سلسلۂ کوہسار، قصۂ غم، فسانۂ آزاد؛ وغیرہ۔ ان میں ہ کے بعد چھوٹا ہمزہ ہے اور زیر اس ہمزہ پر ہے۔ تاہم جیسے پہلے کہا گیا: ہ، ی پر چھوٹا ہمزہ عام طور پر لکھا ہی تب جاتا ہے جب وہاں زیرِ اضافت یا زیرِ توصیف واقع ہو رہا ہو، لہٰذا زیر کی علامت حذف بھی کر دیں تو پڑھنے میں مسئلہ نہیں بنتا۔ مہدی مجروح دو الگ الگ لفظ ہیں۔ مراد ہے : میر مہدی مجروح  (مرزا غالب کے قریبی ساتھی تھے)... میر مہدی (نام) مجروح (تخلص)... اس پر اضافت نہیں ہے۔ ترکیب کی صورت یہ ہو گی: مہدئ موعود، وادئ فاران، بازئ دِل؛ وغیرہ۔

فارسی اور عربی میں ی کو گول (ی) یا لمبی (ے) کسی بھی طرح لکھ دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چھوٹی ی، بڑی ے کا فرق اردو اور پنجابی وغیرہ سے خاص ہے۔ مے (شراب) کو بہت سارے دوست مئے لکھتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ میکدہ، میخانہ وغیرہ سے بھی عیاں ہے کہ ’’مے‘‘ ایک دو حرفی لفظ ہے۔ اس کو مَے لکھیں یا مَی ایک ہی بات ہے، مئے کا کوئی جواز نہیں۔ اسی نہج پر درست املا ہے: مۓ شبانہ، مےءِ شبانہ (رات کی بچی ہوئی شراب)۔ اس کو مئے شبانہ یا مئی شبانہ لکھنا کسی طور بھی درست نہیں۔ ایسا ہی معاملہ شے، طے، کے، قے، درپے (سب یائے لین)؛ کا ہے۔ درست املا: مے، شے، طے، کے (مراد ہے کیخسرو)، قے، درپے؛ مۓ ناب، شۓ نایاب، درپۓ آزار؛ ترکیب میں ہمزہ ایسی ے کے بعد واقع ہوتا ہے، حسبِ خط اس کو چھوٹا ہمزہ لکھیں، بڑا ہمزہ لکھیں وہ ضرورت کی بات ہے۔  مئے، شئے، طئے، کئے، قئے، درپئے؛ وغیرہ لکھنا درست نہیں ہے۔

یائے معروف کے بعد ایسا اضافی ہمزہ واقع  ہونے کی دو مثالوں کے ساتھ ان گزارشات کو سمیٹتے ہیں۔ (1) درست املاء: شومیِ قسمت، شومیٔ قسمت، شومیءِ قسمت ۔۔۔ غلط املاء: شومئی قسمت۔ (2) درست املاء: والیِ شہر، والیٔ شہر، والیءِ شہر ۔۔۔ غلط املاء: والئی شہر۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ
ہفتہ ۲۱ نومبر ۲۰۱۵ء

جمعرات، 6 اگست، 2015

مٹی دی مہک (1) ۔ پنجابی دی املاء (2) ۔




پنجابی دی املاء (2)


دوست ہوراں دی ایس گل نال مینوں پورا اتفاق اے بئی املاء اکو جیہی ہونی چاہی دی اے، علاقائی تلفظ جیہڑا وی بنے۔ ایتھوں اسیں اک اصطلاح وی لے سکدے آں: *کسے ’’زبان‘‘ دے اکو املاء وچہ لکھے ہوئے لفظ جدوں علاقائی لہجے دے زیرِ اثر وکھ انداز وچہ ادا کیتے جان یا بولے جان تے اوس علاقائی لہجے نوں ’’بولی‘‘ آکھیا جاوے، وکھری زبان نہ سمجھیا جاوے۔* اسیں ایس تعریف نوں تسلیم کر لئیے تے پنجابی دے علاقائی لہجیاں یا بولیاں وچ کار کوئی جھگڑا نہیں رہوے گا۔ دوست کیہ کہندے نیں؟ رہی تہاڈی دوجی گل ’’پین‘‘ تے ’’بھین‘‘ والی، ایہدا تاں بڑا سوکھا تے سدھا جیہا حل اے۔ تسی لفظ ’’بھین‘‘ لکھو تے ادا اُنج کروں جیویں تہاڈا مقامی لہجہ کہندا اے۔ میں اردو پنجابی بول چال دی مثال دیاں گا۔ اردو وچہ اسیں لکھدے آں: بھرتی، جھاڑو، دھوبی، ڈھول، گھر؛ تے ایہو ای لفظ جدوں اسیں پنجابی دے ماجھی لہجے وچہ ادا کردے آں تے : بھرتی وچہ بھ دی آواز جھٹکے والی پ، جھاڑو وچہ جھ دی آواز جھٹکے والی چ، دھوبی وچہ دھ دی آواز جھٹکے والی ت، ڈھول وچہ ڈھ دی آواز جھٹکے والی ٹ،گھروچہ گھ دی آواز جھٹکے والی ک؛ بن جاندیاں نیں۔ 

نوٹ: ایس لکھی ہوئی گل بات وچہ کوئی صوتی فائل شامل نہیں، لہٰذا ایس توں ودھ وضاحت نال بیان کرنا مینوں اوکھا لگ رہیا اے۔ ہاں اِک طریقہ ہے وے۔ جے اِن پیج وچہ ورتیا جان والا نکو جیہا دائرہ یونی کوڈ وچہ صحیح مقام تے ڈھل جاوے تے ایہناں لفظاں دی آواز نوں سمجھان واسطے انج بیان کیتا جا سکدا اے: بھرتی، پْرتی؛ جھاڑو، چْاڑو؛ دھوبی، تْوبی؛ ڈھول، ٹْول؛ گھر، کْر۔پر، ایہدے وچہ وڈا مسئلہ اوہو ای آ جاندا اے جدھر دوست ہوری اشارہ کر چکے نیں۔ سرگودھی، ملتانی، ریاستی پنجابی وچہ ایہ نکو دائرے والے اکھر بے کار ہون گے۔ ایس لئی اردو وچہ لکھے جان والے دو چشمی ھ والے اکھر ہی درست رہن گے، پڑھن والا جیویں دل منے پڑھے پیا۔ یاد رہوے کہ سابقے لاحقے توں وکھ جے دوچشمی ھ والے اکھر لفظ دے وچ کار یا آخر تے آون تے ایہناں دی صوتیت اردو والی ہی رہندی اے۔ 



محمد وارث ہوراں دی گل دا آسان جواب ایہ وے بئی جے پنجابی املاء اک فارمولے دے مطابق ہو جاوے تے پڑھن وچہ اول تے کوئی اوکڑ ہووے گی نہیں، جے ہووے گی وی تے اک دو تحریراں پڑھن توں بعد قاری اوس اک فارمولے دے مطابق ای اونہاں نوں سوکھا سوکھا پڑھدا ٹریا جاوے گا۔ رہی گل سکولاں وچ پنجابی پڑھان والی تے ایہ کوئی اچرج گل نہیں سی جس تے عمل نہ ہو سکدا۔ ایوان تے قلمدان تاں پنجاب دے اونہاں پتراں کول نیں جنہاں نوں ماں دی گود وچہ انگریزی ملی سی، اردو وی اونہاں نے رومن وچہ پڑھی اے، پنجابی اوہ کتے کتے فیشن دے طور تے بولدے نیں،اوہناں نوں پنجابی دی لوڑ کیہ اے؟ مینوں یاد اے، اک واری سرکاری سکولاں وچہ پنجابی قاعدے دا رولا پیا سی، تے پھر اوہو لمی ڈوہنگی چپ۔ محمد وارث صاحب، یا تے تسی وزیرِ تعلیم بنو یا میں بناں تے پھر رب کرائے سانوں چیتے وی رہ جاوے بئی کدی ساڈے دل وچہ پنجابی دا درد ہوندا سی، تے خبرے پنجابی تعلیم دا مڈھ بجھ جاوے۔جیہڑی تھوڑی بہت پنجابی تسی ادب وچہ ویکھ رہے او، ایہ غریب مسکین اہلِ علم دے دم نال ای اے نا!



مٹھیاں سلونیاں دے نال نال کچھ اپنے موضوع دی گل وی چلدی رہوے۔ پنجابی تے اردو دے وچکار بڑیاں سانجھاں نیں۔ اینہاں دونہاں زباناں وچہ جملے دی ساخت، اسم فعل حرف فاعل مفعول، فعل ناقص، ترکیب اضافی توصیفی عطفی عددی، واحد جمع، مذکر مؤنث سے سارے قاعدے اکو مکو نیں۔ اسیں ایویں برائے نام تبدیلی کر کے اردو دی گرامر پنجابی تے لاگو کر سکدے آں۔ فرق صرف محاوریاں تے ضرب الامثال وچہ کدھرے آندا اے جیہڑا قواعد دا نہیں علمِ بیان دا شعبہ اے۔میری ایس گزارش نوں ٹیسٹ کیتا جا سکدا اے، تے اردو قواعد نوں ضرورت دے مطابق ویکھیا پرکھیا جا سکدا اے۔

دوست ہوراں دی ایس گل نال مینوں پورا اتفاق اے بئی املاء اکو جیہی ہونی چاہی دی اے، علاقائی تلفظ جیہڑا وی بنے۔ ایتھوں اسیں اک اصطلاح وی لے سکدے آں: *کسے ’’زبان‘‘ دے اکو املاء وچہ لکھے ہوئے لفظ جدوں علاقائی لہجے دے زیرِ اثر وکھ انداز وچہ ادا کیتے جان یا بولے جان تے اوس علاقائی لہجے نوں ’’بولی‘‘ آکھیا جاوے، وکھری زبان نہ سمجھیا جاوے۔* اسیں ایس تعریف نوں تسلیم کر لئیے تے پنجابی دے علاقائی لہجیاں یا بولیاں وچ کار کوئی جھگڑا نہیں رہوے گا۔ دوست کیہ کہندے نیں؟ رہی تہاڈی دوجی گل ’’پین‘‘ تے ’’بھین‘‘ والی، ایہدا تاں بڑا سوکھا تے سدھا جیہا حل اے۔ تسی لفظ ’’بھین‘‘ لکھو تے ادا اُنج کروں جیویں تہاڈا مقامی لہجہ کہندا اے۔ میں اردو پنجابی بول چال دی مثال دیاں گا۔ اردو وچہ اسیں لکھدے آں: بھرتی، جھاڑو، دھوبی، ڈھول، گھر؛ تے ایہو ای لفظ جدوں اسیں پنجابی دے ماجھی لہجے وچہ ادا کردے آں تے : بھرتی وچہ بھ دی آواز جھٹکے والی پ، جھاڑو وچہ جھ دی آواز جھٹکے والی چ، دھوبی وچہ دھ دی آواز جھٹکے والی ت، ڈھول وچہ ڈھ دی آواز جھٹکے والی ٹ،گھروچہ گھ دی آواز جھٹکے والی ک؛ بن جاندیاں نیں۔ 


نوٹ: ایس لکھی ہوئی گل بات وچہ کوئی صوتی فائل شامل نہیں، لہٰذا ایس توں ودھ وضاحت نال بیان کرنا مینوں اوکھا لگ رہیا اے۔ ہاں اِک طریقہ ہے وے۔ جے اِن پیج وچہ ورتیا جان والا نکو جیہا دائرہ یونی کوڈ وچہ صحیح مقام تے ڈھل جاوے تے ایہناں لفظاں دی آواز نوں سمجھان واسطے انج بیان کیتا جا سکدا اے: بھرتی، پْرتی؛ جھاڑو، چْاڑو؛ دھوبی، تْوبی؛ ڈھول، ٹْول؛ گھر، کْر۔پر، ایہدے وچہ وڈا مسئلہ اوہو ای آ جاندا اے جدھر دوست ہوری اشارہ کر چکے نیں۔ سرگودھی، ملتانی، ریاستی پنجابی وچہ ایہ نکو دائرے والے اکھر بے کار ہون گے۔ ایس لئی اردو وچہ لکھے جان والے دو چشمی ھ والے اکھر ہی درست رہن گے، پڑھن والا جیویں دل منے پڑھے پیا۔ یاد رہوے کہ سابقے لاحقے توں وکھ جے دوچشمی ھ والے اکھر لفظ دے وچ کار یا آخر تے آون تے ایہناں دی صوتیت اردو والی ہی رہندی اے۔ 


محمد وارث ہوراں دی گل دا آسان جواب ایہ وے بئی جے پنجابی املاء اک فارمولے دے مطابق ہو جاوے تے پڑھن وچہ اول تے کوئی اوکڑ ہووے گی نہیں، جے ہووے گی وی تے اک دو تحریراں پڑھن توں بعد قاری اوس اک فارمولے دے مطابق ای اونہاں نوں سوکھا سوکھا پڑھدا ٹریا جاوے گا۔ رہی گل سکولاں وچ پنجابی پڑھان والی تے ایہ کوئی اچرج گل نہیں سی جس تے عمل نہ ہو سکدا۔ ایوان تے قلمدان تاں پنجاب دے اونہاں پتراں کول نیں جنہاں نوں ماں دی گود وچہ انگریزی ملی سی، اردو وی اونہاں نے رومن وچہ پڑھی اے، پنجابی اوہ کتے کتے فیشن دے طور تے بولدے نیں،اوہناں نوں پنجابی دی لوڑ کیہ اے؟ مینوں یاد اے، اک واری سرکاری سکولاں وچہ پنجابی قاعدے دا رولا پیا سی، تے پھر اوہو لمی ڈوہنگی چپ۔ محمد وارث صاحب، یا تے تسی وزیرِ تعلیم بنو یا میں بناں تے پھر رب کرائے سانوں چیتے وی رہ جاوے بئی کدی ساڈے دل وچہ پنجابی دا درد ہوندا سی، تے خبرے پنجابی تعلیم دا مڈھ بجھ جاوے۔جیہڑی تھوڑی بہت پنجابی تسی ادب وچہ ویکھ رہے او، ایہ غریب مسکین اہلِ علم دے دم نال ای اے نا!



مٹھیاں سلونیاں دے نال نال کچھ اپنے موضوع دی گل وی چلدی رہوے۔ پنجابی تے اردو دے وچکار بڑیاں سانجھاں نیں۔ اینہاں دونہاں زباناں وچہ جملے دی ساخت، اسم فعل حرف فاعل مفعول، فعل ناقص، ترکیب اضافی توصیفی عطفی عددی، واحد جمع، مذکر مؤنث سے سارے قاعدے اکو مکو نیں۔ اسیں ایویں برائے نام تبدیلی کر کے اردو دی گرامر پنجابی تے لاگو کر سکدے آں۔ فرق صرف محاوریاں تے ضرب الامثال وچہ کدھرے آندا اے جیہڑا قواعد دا نہیں علمِ بیان دا شعبہ اے۔میری ایس گزارش نوں ٹیسٹ کیتا جا سکدا اے، تے اردو قواعد نوں ضرورت دے مطابق ویکھیا پرکھیا جا سکدا اے۔

ہندوستان وچہ رائج رسم الخط نوں دیوناگری کہندے نیں۔ ایس لفظ ”دیو ناگری“ دا معنٰی اے، دیوتاواں دی نگری توں متعلق۔ ہندو مت وچہ دیوتاواں تے دیویاں دی اہمیت ساریاں نوں پتہ اے۔ ایسے حوالے نال ایس خط دا ناں وی دیوناگری رکھیا گیا۔ ہندوستان دا پرانا تہذیبی تے علمی ورثہ سارا دیوناگری وچہ اے۔ تے پورے ہندوستان وچہ بولیاں جان والیاں زباناں (ما سوائے اک دو توں) ایسے خط وچہ لکھیاں جاندیاں سن تے ہن وی لکھیاں جاندیاں نیں۔ 

ہن اسیں اک مختصر جیہا جائزہ لئیے بئی فارسی لپی ایتھے کیویں آئی۔ عام خیال اے بئی مسلمان حملہ آور اپنا رسم الخط نال لے کے آئے۔ دیبل دے رستے محمد بن قاسم دے سپاہی ایس خطے وچہ اترے، تے عربی آئی، جہڑی اونہاں دی مادری زبان تاں ہے ای۔ قرآن شریف دی زبان وی اے۔ گویا عرباں دا سارا ثقافتی تے دینی ورثہ عربی زبان وچہ اے جہدا رسم الخط ”فارسی“ اکھواندا اے۔ پھر افغانستان دے راہیں آن والے حملہ آور نیں جنہاں دی مادری زبان فارسی تے مذہب دی زبان عربی اے۔ تاجر، صوفی، تے دوجے لوگ ایہناں توں علاوہ نیں۔ عربی فارسی تے مقامی زباناں دے میل جول نال ہندوستان وچہ اک نویں زبان دا مڈھ بجھا جنہوں مختلف ناں دتے جاندے رہے تے، آخرکار ایس زبان نوں ”اردو“ آکھیا گیا۔ ایہدے نال نال مقامی زباناں دی املاء مقامی خط توں علاوہ فارسی خط وچہ وی آ گئی۔ عربی فارسی وچہ کنیاں ساریاں اوہ آوازاں وی سن جنہاں لئی اصلی دیوناگری وچہ کوئی اکھر موجود نہیں سی۔ مثلاً ز، ذ، ض، ظ، ق، ف، وغیرہ ایسے طرح فارسی خط وچہ بھ، پھ، تھ، ٹھ وغیرہ لئی کوئی حرف موجود نہیں سی۔ دونہاں خطاں دے تال میل نال کچھ نویں اکھر دونہاں خطاں وچہ بنے، دیوناگری وچہ ججا تے بندی لا کے ززا، پھپھا تے بندی لا کے ففا، گگا تے بندی لا ے غغا بنایا گیا۔ پھپھا تھتھا کھکھا وغیرہ دیاں آوازاں لئی فارسی خط وچہ پ، ت، ک دے نال دو چشمی ھ جوڑ کے حرف بنائے گئے۔ انج دونہاں خطاں نوں اک دوجے توں فائدہ ہویا اے۔

جنہاں علاقیاں دے وچہ اسلامی تہذیب اگے ودھ گئی اوتے فارسی خط عام ہو گیا تے جتھے کچھ پچھے رہ گئی اوتھے دیوناگری خط بہتا ورتوں وچہ رہیا۔ مغلاں دی حکومت جدوں پورے ہندوستان تے ہو گئی تے فارسی خط لئی اک نواں ناں شاہ مکھی رواج پا گیا۔ جدوں کہ دیوناگری خط نوں گورو نانک دی نسبت نال گور مکھی آکھیا جان لگ پیا۔ اوہ زبان جنہوں عام طور تے ہندی زبان آکھیا جاندا اے، شاید اوہو ای اے جیہڑی کسے زمانے وچہ سنسکرت اکھواندی سی؟ مینوں ایہدے بارے زیادہ پتہ نہیں۔ سوکھا سوکھا انج سمجھ لئو بئی، ہندی یا سنسکرت تے دوجیاں پراکرتاں لئی گورمکھی رواج پا گئی، جدوں کہ پنجابی گورمکھی تے شاہ مکھی دونہاں خطاں وچہ لکھی جاندی سی تے اردو، فارسی، پشتو وغیرہ فارسی خط وچہ سن۔ 
میرا خیال اے، ایہ وجہ اے ایس سوال دے پیدا ہون دی بئی پنجابی لئی گورمکھی بہتر اے یا فارسی۔


پاکستان وچہ وسن والے لوگاں چوں اک دو فی صد چھڈ کے ساریاں دا مذہب اسلام اے۔ ہندوستان وچہ وی مسلمان اک وڈی آبادی نیں۔ قرآن شریف، حدیث، تفسیر، فقہ دا جناں ذخیرہ ساڈے کول اے، اوہ وی تے تاریخ وی (طبری نوں پہلا باقاعدہ مؤرخ متھیا جاندا اے) فارسی خط وچ اے، مغلاں دی وجہ توں درباری تے سرکاری زبان فارسی بنی تے سرکاری اطلاعات، احکامات، وغیرہ لسانی اعتبار نال بھانویں کئیاں زباناں دا مکسچر رہے ہون، خط پنجابی سی۔ سو، ایہ خط ساڈے وڈیاں دے لہو وچہ رچ گیا اے، ایس لئی سانوں گورمکھی دی نسبت چنگا ای لگدا اے۔
اک گل ہور وی اے پاکستان بنن توں بعد ایک خطے وچہ گورمکھی صرف اونہاں بزرگاں کول رہ گئی جہڑے پہلوں گورمکھی لکھ پڑھ لیندے سن، رسمی تعلیم اردو وچہ ہو گئی تے گورمکھی جانن والا اج کل کوئی کدھرے ٹانواں ٹانواں لبھے گا، جدوں کہ فارسی خط بہت معروف اے۔ میں نہیں سمجھدا بئی اسیں پنجابی لئی گورمکھی خاص کر کے کوئی وڈا کم کر سکاں گے۔ رہی گل ہندوستان دی تے اوتے فارسی خط یا تے مکدا جا رہیا اے یا پھر مکایا جا رہیا اے (جیویں پاکستان وچہ اردو نال دشمنی کیتی جا رہی اے)، ایہدی تھاں دیوناگری لے رہی اے۔ ظاہر اے ہندوستانی پنجابی بہتی گورمکھی وچہ، تے پاکستانی پنجابی فارسی وچہ ای ہووے گی۔ اک فرق لفظالی (لغت) دے پکھوں وی پیا اے۔ ویلے دے نال نال ہندوستانی پنجابی وچہ سنسکرت یا ہندی دے لفظ رَلدے گئے تے رَلدے جا رہے نیں، جدوں کہ پاکستانی پنجابی وچہ عربی تے فارسی لفظ رچ مِچ گئے نیں۔ سو، اودھر دی پنجابی تے ایدھر دی پنجابی دے وکھریویں نوں کوئی چنگا کہوے یا مندا، نظر انداز نہیں کر سکدا۔
میں پاکستان وچہ رہندا آں، میرا سارا دینی، تاریخی، ثقافتی، علمی، ادبی ورثہ فارسی خط وچ اے تے مینوں ایہو ای خط سوکھا وی لگے گا تے چنگا وی۔ گورمکھی مینوں نہ لکھنی آندی اے نہ پڑھنی۔ جیویں انڈیا وچہ فارسی خط پڑھن والے گھٹدے جا رہے نیں۔ انڈین مسلماناں دا تعلق رشتہ جہڑا دِین دے حوالے نال، قران شریف تے دوجے دینی علوم نال بندا اے، اوہدی وجہ توں انڈیا وچہ جے مسلمان موجود نیں تے فارسی خط وی موجود رہوے گا۔ ہاں اک پڑھیا لکھیا بندا، جیہڑا فارسی تے دیوناگری دونہاں خطاں نوں پڑھ لکھ سکدا اے تے گل بات کر جاندا اے، اوہ اپنے لئی جہڑا وی راہ چن لوے!!۔



ایس پاروں میری رائے پاکستانی پنجابی واسطے فارسی رسم الخط (شاہ مکھی) دے حق وچہ اے دیوناگری (گور مکھی) دے حق وچہ نہیں۔ 
اتے آئی ساری بحث دی روشنی وچہ میں پاکستانی پنجابی واسطے ابتدائی طور تے تھلے دتی ہوئی الف بے (اکھر پٹی) تجویز کردا آں (میں کیہ تجویز کردا ہاں، پہلوں ای ایہ معیار دا درجہ رکھدی اے):۔
ا: اَلِف، آ: الف مَدٌَہ
ب:بے، بھ:بھے، پ:پے، پھ:پھے، ت:تے، تھ:تھے، ٹ:ٹے، ٹھ:ٹھے، ث:ثے
ج:جِیم، جھ:جھے، چ:چے، چھ:چھے، ح:حے، خ:خے
د:دال، دھ:دھے، ڈ:ڈال، ڈھ:ڈھے، ر:رے، ڑ:ڑے، ڑھ:ڑھے، ز:زے، ژ:ژے
س:سِین، ش:شِین، ص:صاد، ض:ضاد، ط:طوئے، ظ:ظوئے، ع:عَین، غ:غَین
ف:فے، ق:قاف، ک:کاف، کھ:کھے، گ:گاف، گھ:گھے
ل:لام، لھ:لھے، م:مِیم، مھ:مھے، ن:نُون، نھ:نھے،
و:واو، ہ:ہے، ء:ہمزہ، ی:نکی یے، ے:وڈی یے
واو مَعدُولہ، نُون غُنٌَہ
علامت : توں پہلوں حرف لکھیا اے تے علامت توں بعد اس حرف دا ناں لکھیا اے۔
اعراب اوہی عربی فارسی اردو والے زبر، زیر، پیش، شد، مد، دو زبراں، دو زیراں، دو پیشاں، نون غنہ دی علامت جتھے ضروری ہووے۔ اوقاف دیاں علامتاں وی اردو فارسی والیاں۔


ہُن اسیں لہجیاں دی ونڈ تے گل کراں گے۔ جے کسے علاقے دا ناں مینوں بھل گیا اے یا لکھنوں رہ گیا اے یا کچھ اگے پچھے ہو گیا اے تے سجن چیتا کرا دین، یا آپ شامل کر لین۔ ایہ گل پلے بنھن جوگی اے پئی اسیں لہجیاں تے زباناں دے نانواں نوں جدوں علاقیاں نال نسبت دیندے آں تے اوتھے سیاسی یا جیومیٹری والی تقسیم تہیں چلدی۔ پھر، اک لہجے یا اک زبان والے کسے وی علاقے وچہ دوجے لہجیاں تے زباناں والے لوکی وی ہوندے نیں تے بہتیرے ہوندے نیں۔ ایس لئی لہجیاں دی تقسیم نوں موٹی موٹی ونڈ سمجھیا جاوے، بارڈر لائن کھچن دا کوئی فائدہ نہیں ہووے گا۔ رلواں ملواں نقشہ کچھ ایس طرح دا اے:۔ 
۔ 1۔ وسطی پنجاب دا لہجہ جنہوں ماجھی وی آکھیا جاندا اے؛ گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، قصور، سیالکوٹ، ساہیوال، جہلم، گجرات، وزیرآباد، اوکاڑا، پاکپٹن، چکوال، جڑانوالہ، تے ایہناں آلے دوالے دے ضلعیاں وچہ بولیا جاندا اے۔
۔ 2۔ جہلم توں راولپنڈی ولے ٹر پئیے تے پوٹھوہاری لہجہ ودھدا جاندا اے، گوجر خان، راولپنڈی، مری، کہوٹہ، کوٹلی ستیاں، ٹیکسلا، تے اگے پچھے پوٹھوہاری پنجابی لہجہ سنن وچہ آندا اے۔ 
۔3۔ ٹیکسلا دا مقامی لہجہ بڑا نویکلا اے، اپنے اگے پچھے نال وی نہیں رَلدا۔ واہ چھاؤنی تے دوجے فوجی فیکٹریاں والے علاقیاں وچہ پورے پنجاب کیہ پورے پاکستان دے لہجے سنے جاندے نیں۔
۔4۔ سرگودھا، میاں والی، اٹک، خوشاب، فتح جنگ، تے ایہناں علاقیاں دا اپنا لہجہ وکھرا پہچانیا جاندا اے۔ یار لوگاں نے ایس لہجے دا ناں ”سماخ“ وی رکھیا ہویا اے، اگرچہ ایہ ناں معروف نہیں۔ س:سرگودھا، م:میاں والی، ا:اٹک، تے خ:خوشاب۔ رومن خط وچہ خ دی تھاں کے لکھ دیندے نیں، تے ایس ایم اے کے (سمیک) وی کہہ دیندے نیں۔
۔5۔ کامرہ توں اگے صوبہ خیبر وچہ داخل ہوئیے تے ہندکو لہجہ سنیندا اے، جیہڑا پشاور تے مردان تیکر جاندا اے۔ دوجے پاسے ٹیکسلا توں جولیاں خان پور دے لہجے وچہ ہندکو تے پوٹھوہاری دونہاں دا ملاپ ویکھن وچہ آندا اے۔ اگے ہندکو دا علاقہ اے جتھے پشتو وی بولی جاندی اے۔
۔6۔ اک سوال اپنی جگہ اہم ہو سکدا اے، کہیا جاندا اے بئی ہندکو پنجابی زبان دا لہجہ اے۔ کچھ لوگاں دا کہنا اے بئی کسے زمانے وچہ پشاور وی پنجاب وچہ ہوندا سی جدوں لاہور دارالحکومت سی۔ تخت لاہور تے تخت ہزارا ایہ دو جگہاں دے ناں پرانیاں پنجابی لوک داستاناں تے گیتاں وچہ ملدے نیں۔ اللہ دیاں اللہ جانے، میں کوئی دعوٰی نہیں کر رہیا۔
۔7۔ ساہی وال توں ملتان ول ٹرئیے تے سرائیکی لہجہ ودھدا جاندا اے۔ خانیوال، جہانیاں، وہاڑی توں ملتان ولے ماجھی تے سرائیکی دونویں لہجے سنن وچ آندے نیں۔
۔8۔ ملتان دے بارے آکھیا جاندا اے اوتھے سارا سرائیکی لہجہ اے، بہاول پور تیکر۔ ملتان مظفر گڑھ، راجن پور، لیہ، سارے سرائیکی والے علاقے نیں۔ میں اوس علاقے وچہ کدے نہیں گیا، اوتھوں دے آل دوالے دے سجن بیلی بہتر دَس سکدے نیں۔
۔9۔ بہاول پور تے بہاول نگر وچہ اک ہور لہجہ ملدا اے جنہوں ”ریاستی“ آکھیا جاندا اے، سنیا اے اوہ سندھ تیکر جاندا اے، میرے علم وچہ نہیں۔
۔10۔ پنجاب دا انڈیا دے نال نال دا علاقہ زیادہ تر ماجھی تے ہٹھاڑی لہجے دا علاقہ اے، ایس علاقے وچ میواتی تے رانگڑھی لہجے وی نیں، جنہاں دا مڈھ کسے زمانے وچہ اکو ای سی۔
۔ ۔11۔ ہٹھاڑی لہجہ عام طور تے راوی تے ستلج دیاں جُوہاں وچہ ملدا اے۔ اک عام خیال اے کہ پنجاب دے اصل وسنیک ایہو لوک سن، جنہاں نوں جانگلی کہندے نیں۔ اینہاں چوں کچھ وڈے قبیلیاں دے ناں: کھرل، سیال، مجوکے، سجوکے، تالپور، نوناری، لنگڑیال وغیرہ۔
۔12۔ ماجھی لہجے وچہ اگے کئی لہجے نیں، سیالکوٹ، شیخوپورہ، گوجرانوالا، فیصل آباد، لاہور، دے لہجیاں دی تھوڑی بہت شناخت مینوں وی ہو جاندی اے، باقیاں دا پتہ نہیں لگدا۔ لاہور شہر دا اک ”وخرا ای لہیا ہیغا اے“۔ 

ایہ نقشہ اپنی تھانوے نا مکمل تے ادھورا اے، سارے دوستاں نوں گزارش اے بئی آؤ رل کے ایس نقشے نوں ٹھیک ٹھیک لِیک لئیے۔ پھر اسیں وڈے وڈے لہجیاں وچہ املاء دے بارے کوئی صلاح مشورے کراں گے۔



پیر، 3 اگست، 2015

مٹی دی مہک (1) ۔ پنجابی دی املاء (1)۔


پنجابی دی املاء (1)


لکھائی تے بُلارے


زبان کوئی وی ہووے اوہدے پچھے اک پوری تہذیب ہوندی اے اپنے جغرافیے سمیت۔ تہذیب دے عناصر وچہ سب توں پہلوں مذہب آندا اے، پھر اوس معاشرے دی سیاسی سماجی تاریخ تے زبان۔ زبان دے دو پکھ ہوندے نیں: اس دی لکھائی کس طرح دی اے، تے اس دیاں آوازاں کس طرح دیاں نیں۔ ایہ جہڑی تحریر تسیں ویکھ رہے او، ایس نوں عالمی سطح تے فارسی رسم الخط کہیا جاندا اے۔ عربی، فارسی، سندھی، بلوچی، پنجابی، گجراتی، ترکی، دری، پشتو، کھوار، کشمیری، تے ہور کئی زباناں ایس رسم الخط وچہ لکھیاں جاندیاں نیں۔ الف بے یا اکھر پٹی وچہ حرفاں دی تعداد تے شکل صورت وچہ کتے تھوڑا کتے بہتا فرق موجود ہوندا اے۔ ساڈیاں جانیاں پہچانیاں زباناں وچوں پشتو تے سندھی دی مثال دتی جا سکدی اے، جہدی اکھر پٹی اکو مڈھ ہوندیاں وی اردو تے فارسی توں تھوڑی جیہی وکھری دِسدی اے۔ ایس لئی اسیں بڑے مان نال ایہ کہہ سکدے آں بئی ایس ٹبر دی کسے اک اکھر پٹی نوں جانن والا تھوڑی جیہی محنت کر کے دوجیاں اکھر پٹیاں نوں وی جان سکدا اے۔ سرسری جیہا ذکر کر دینا چنگا، زباناں دا اک گروپ رومن اکھواندا اے، جہدے وچوں انگریزی نوں اسیں چنگی طرح پہچاندے آں۔ آخر اک صدی اوہناں دے غلام رہے آں ( ذہنی طور تے حالے تیکر آزاد نہیں ہوئے)۔ فرانسیسی، جرمن، روسی، اطالوی، یونانی، لاطینی وغیرہ ایس گروپ وچہ آندیاں نیں۔ اک ہور گروپ تصویری زباناں دا گروپ اے مثلاً چینی، جاپانی، وغیرہ۔ گروپ زباناں تے خط ہزاراں توں دوھ نیں، ساریاں نال نہ تے مینوں کوئی جانکاری اے تے نہ ایہ ایہدا موقع اے۔

اسیں جدوں پنجابی نوں فارسی گروہ وچہ شامل کردے آں تے ساڈی مراد پاکستانی پنجابی ہوندی اے، جہدی اکھر پٹی اردو والی اے۔ آزادی توں پہلوں وی علمی سطح تے اردو تے پنجابی فارسی رسم الخط وچہ ای لکھے جاندے سن۔ ہاں جتھے کتے ایہناں ای زباناں نوں ہندی آکھیا گیا اوتھے رسم الخط وی دیو ناگری ہو گیا۔ ہندوستان وچہ مسلماناں دی آمد توں وی بہت پہلے پنجابی پنجاں دریاواں دی دھرتی دی زبان سی، ایہدا رسم الخط کیہ سی، میں نہیں جاندا۔ ایناں ضرور کہہ سکدا آں بئی جدوں ایس علاقے وچہ دریاواں وچوں نہراں کڈھن دا رواج نہیں سی، اودوں پہلی آبادی پانی دے آل دوالے ہوئی، تے دریاواں دے کنڈھیاں دے نال نال کھلردی رہی۔ پانی دی اہمیت کسے وضاحت دی محتاج نہیں۔ تہذیب دے اندر زبان دا وڈا وصف ایہ ہونا چاہی دا اے بئی اوہ جِیبھ تے پانی طرح رواں ہووے۔ ہندوستان وچہ مسلماناں دی آمد نے ایتھے موجود رسم الخط یعنی دیوناگری تے وی اک وڈا احسان وی کیتا اے۔ اوس توں پہلوں دیوناگری وچہ ایہناں آوازاں واسطے کوئی اکھر موجود نہیں سی: ث، خ، ذ، ز، ژ، س، ص، ض، ظ، ع، غ، ف، ق ۔ مسلم تہذیب دے پچھے چونکہ عربی تے فارسی زباناں بھرویں طور تے موجود سن، مسلماناں دے جتھے جیہڑے دیبل راہیں تے تجارتی قافلیاں دی صورت ہندوستان وچہ اترے اونہاں دا اینہاں آوازاں تو بغیر گزارہ ای نہیں سی۔ ایس وگوچے نوں پورا کرن لئی نزدیک ترین آواز والے اکھراں تے بِندیاں لا کے اونہاں نوں نویں ناں دتے گئے۔ مختصر نقشہ کچھ اس طرح اے۔ ش جمع بندی: ث، س، ص؛ کھ جمع بِندی: خ؛ جیم جمع بِندی: ذ، ز، ض، ظ؛ گ جمع بِندی: غ؛ پھ جمع بِندی: ف؛ ک جمع بِندی: ق؛ میرا اپنا خیال اے، الف لئی موجود آڑا، اِیڑی، اُوڑی کولوں ع دا کم لیا جا رہیا اے۔ بِندی سسٹم نال وی مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوئیا پر کچھ گزارہ ہون لگ پیا، کیوں جے آون والیاں کول اپنی زبان دی املاء وی موجود سی۔ ایس میل جول نے فارسی رسم الخط نوں وی کچھ نوے اکھر دتے ۔ اوہ مقامی آوازاں جنہاں لئی عربی فارسی وچہ کوئی اکھر نہیں سی، نویں اکھر بنائے گئے، مثلاً ٹ، ڈ، ڑ، وغیرہ۔دیوناگری وچہ ورتوں آندے کچھ اکھراں دی آواز واسطے دو چشمی ھ نوں پہلوں تو موجود اکھراں نال رلایا گیا تے بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ فارسی لپی وچہ رلے۔ یاد رہوے بئی دیوناگری وچہ دو چشمی ھ والے گروپ لئی اکہرے اکھر پہلوں تو ایتھے موجود سن۔ عربی، فارسی، مقامی زباناں تے کچھ بدیسی زباناں مثلاً ترکی وغیرہ دے لفظ مقامی اثر ہیٹھاں تبدیل وی ہوئے تے کچھ لفظاں نو ں نویں معنے ملے جہڑے اصل زبان دے نیڑے رہ کے وی کچھ نواں پن اپنے اندر رکھدے نیں۔ رسم الخط دی تبدیلی نال بہت سارے لفظاں نوں آداز دی بنیاد تے نویں ہجے تے نویں املاء دے عمل چوں وی لنگھنا پیا۔ ایس دے باوجود اکھر پٹی وچہ کوئی بہت وڈا اضافہ نہیں ہوئیا۔ ایہ گل وی پلے بنھی جانی چاہی دی اے بئی اکھراں تے لفظاں دی تشکیل کوئی اک دونہہ سالاں وچہ مکمل نہیں سی ہو گئی ایہدے وچہ نسلاں دے پینڈے نیں۔ ایس توں اک قدم ہور اگے ودھائیے تے پتہ لگدا اے کئی لفظ بنے تے ویلے دے نال نال اونہاں دی تھاں نویں لفظ آندے گئے۔ اردو تے پنجابی دونہاں زباناں دی سانجھ ایس سارے عمل وچہ دوجیاں زباناں دی نسبت بہتی گُوہڑی رہی۔ شاید ایہی وجہ اے بئی سانوں اگرچہ نصابی سطح تے پنجابی کدے وی نہیں پڑھائی گئی پھر وی اسیں جے اردو لکھ پڑھ لیندے آں تے پنجابی وی لکھ پڑھ لیندے آں۔ جیہڑی تھوڑی جیہی اوکڑ آندی اے اوہدے دو کارن نیں۔ پہلا تاں بس اِک جھاکا اے ہور کچھ وی نہیں۔ ایس جھاکے دے پچھے اوہی گل اے جہدے ولے کچھ دوستاں نے اشارہ وی کر دتا اے: پنجابی زبان نوں پنجابی دے پتراں نے مترئی ماں دا مقام وی نہیں دتا، کوئی کیہ کرے! دوجی وجہ اے وکھریواں تے لا علمی؛ تے ایس لاعلمی دی وجہ وی اوہی اے، مترئیاں والا سلوک، اج کل پنجابی نوکراں خدمت گاراں دی زبان بنا دتی گئی اے۔ طبقہ اشرافیہ تاں اپنی تھاں پنجاب وچہ جمے پلے ادیب، نقاد، تے منے پرمنے شاعر (ماسوائے چند اِک) اپنیاں نجی محفلاں وچہ وی پنجابی بولنا ہِینا سمجھدے نیں۔ پنجاب دے کسے وی شہر دے اک محلے وچہ اِک پھیرا مار کے ویکھ لؤ، بہتیاں گھراں وچہ زنانیاں تے بال اردو یا انگریزی بولدے ویکھ لؤ گے۔
دور کیہ جانا اے، اپنے گھر دی گل دساں! ٹیکسلا کوئی وڈا شہر وی نہیں، میری رہائش شہر توں باہر اک رلویں ملویں آبادی وچہ اے، کہہ لؤ ادھا پنڈ تے ادھا شہر۔ میرے رشتہ داراں وچوں اک کڑی میری دوہتی لگدی اے (اوہدے ماں پیو، یعنی میری بھانجی تے اوہدا گھر والا، ٹھیٹھ پنجابی بولدے نیں)۔ اوہ ست اٹھ سالاں دی سی میں اونہاں دے گھر گیا، کوئی گل ہوئی تے میں پچھیا: پنجابی نہیں آندی تینوں؟ کہن لگی ’’مجھے نہیں آتی پجابی وجابی‘‘ میں کڑی نوں کیہ کہندا، اوہدے ماں پیو ول ویکھن لگ پیا۔ تسی سوچدے ہووو گے جدوں اوہ بالڑی وڈی ہووے گی تے پنجابی ونجابی تے سمجھو گئی! قصور تاں اصلی اوہ ٹھیٹھ پنجابی بولن والے ماں پیو دا اے نا؟ اوہ کڑی ہن ماشاء اللہ اک بیٹی دی ماں اے، میاں بیوی سعودی عرب وچ رہندے نیں۔ اوس دا سوہرا خالص پنجابی بولن والا بندہ اے، میں اس نوں وی ذاتی طور تے جاندا آن۔ دو تن مہینے ہوئے نیں کڑی ( پجابی وجابی) دو مہینے لئی پاکستان آئی تے ساڈے گھر وی آئی۔ اپنی پھل بھر بچی نال اوہ پنجابی لہجے والی اردو وچہ گل کردی سی، میں مذاق نال پچھیا: کیوں بئی؟ پنجابی آئی کہ نہیں؟ بولی:’’سمجھ لیتی ہوں بول نہیں سکتی‘‘۔ دسو اسیں سرکار نوں کیہ کہئے!
میرا اِک سجن جہڑا پنجابی بول لیندا اے، نہ لکھ سکدا اے نہ پڑھ سکدا اے، اردو انگریزی اوہد بڑی مضبوط اے، اک دن بڑا سینہ پھلا کے کہن لگا ’’اسیں پنجابی آں سر جی! مینوں اپنے پنجابی ہون تے مان اے‘‘۔ میں کہیا: ’’یار، کاہدا مان کردا ایں پیا، تیرے ماں پیو پنجابی بولدے سی، توں وی بول لیندا ایں، اوہ وکھری گل اے تیری پنجابی وچہ پنجابی گھٹ تے انگریزی اردو بہتی ہوندی اے، نہ توں لکھ سکدا ایں نہ پڑھ سکدا ایں۔ پنجابی نوں چھڈ دین دا مان کردا ایں تے پھر ٹھیک اے، کیتی رکھ!‘‘ بعد وچہ کیہ ہوئیا بیتیا، اوہنوں چھڈو۔
اک وضاحت ضروری ہو گئی اے ایتھے۔ میریاں گلاں تو ں ایہ بالکل وی گمان نہ کیتا جاوے بئی میں اردو توں بے زار آں۔ میرے اردو محفل والے، فیس بک والے، القرطاس والے، مجلس ادب والے، حلقہ تخلیق ادب والے، صریرِ خامہ والے، سب جاندے نیں مینوں، میں اردو لئی وی اپنی ہمت نالوں ودھ کے کم کر رہیا آں، دوجیاں نال مینوں غرض نہیں۔ اک گل سناواں اردو دے حوالے نال؛ اک دوست دی پنجابی پوٹھوہاری شاعری دی کتاب آئی، کتاب دی تقریب شاعر دے آبائی شہر گوجرخان دی اک پنجابی پوٹھوہاری ادبی تنظیم نے کرائی۔ تنطیم دے کرتا دھرتا اک بابا جی سن، اوہناں نے بڑے دھڑلے نال اعلان کر دتا بئی ایس اجلاس وچہ جہڑے مضمون پیش کیتے جان پنجابی پوٹھوہاری وچہ کیتے جان، جہڑی گل بات سٹیج تے کیتی جاوے اوہ بھی پنجابی پوٹھوہاری وچہ کیتی جاوے، کسے اردو دی ایتھے کوئی گنجائش نہیں۔ میرا دل بڑا خراب ہوئیا سوچیا، اپنے ٹیکسلا والے سنگیاں نوں نال لئیے تے چلئیے۔ میرا ناں پروہنیاں وچہ سی، مینوں سٹیج تے بلایا جانا وی طے ہو چکیا سی۔ جدوں میری واری آئی تے میں کتاب دے بارے اپنے لکھے ہوئے اشاریاں نوں چھڈ دتا تے باباجی دی افتتاحی تقریر دا اپنے ولوں بھرواں پر شائستہ جیہا جواب دتا۔ میرے توں بعد اک مقامی پروفیسر صاحب دی واری سی، اونہاں نے گل بات کیتی تاں پوٹھوہاری وچہ، پر، بابا جی نوں کھریاں کھریاں سنائیاں۔ اجلاس دے صدر اک مقامی سیاست دان سن، اوہناں نے ساری تقریر اردو وچہ کیتی ۔

دوست ہوراں دی ایس گل نال مینوں پورا اتفاق اے بئی املاء اکو جیہی ہونی چاہی دی اے، علاقائی تلفظ جیہڑا وی بنے۔ ایتھوں اسیں اک اصطلاح وی لے سکدے آں: *کسے ’’زبان‘‘ دے اکو املاء وچہ لکھے ہوئے لفظ جدوں علاقائی لہجے دے زیرِ اثر وکھ انداز وچہ ادا کیتے جان یا بولے جان تے اوس علاقائی لہجے نوں ’’بولی‘‘ آکھیا جاوے، وکھری زبان نہ سمجھیا جاوے۔* اسیں ایس تعریف نوں تسلیم کر لئیے تے پنجابی دے علاقائی لہجیاں یا بولیاں وچ کار کوئی جھگڑا نہیں رہوے گا۔ دوست کیہ کہندے نیں؟ رہی تہاڈی دوجی گل ’’پین‘‘ تے ’’بھین‘‘ والی، ایہدا تاں بڑا سوکھا تے سدھا جیہا حل اے۔ تسی لفظ ’’بھین‘‘ لکھو تے ادا اُنج کروں جیویں تہاڈا مقامی لہجہ کہندا اے۔ میں اردو پنجابی بول چال دی مثال دیاں گا۔ اردو وچہ اسیں لکھدے آں: بھرتی، جھاڑو، دھوبی، ڈھول، گھر؛ تے ایہو ای لفظ جدوں اسیں پنجابی دے ماجھی لہجے وچہ ادا کردے آں تے : بھرتی وچہ بھ دی آواز جھٹکے والی پ، جھاڑو وچہ جھ دی آواز جھٹکے والی چ، دھوبی وچہ دھ دی آواز جھٹکے والی ت، ڈھول وچہ ڈھ دی آواز جھٹکے والی ٹ،گھروچہ گھ دی آواز جھٹکے والی ک؛ بن جاندیاں نیں۔ 

نوٹ: ایس لکھی ہوئی گل بات وچہ کوئی صوتی فائل شامل نہیں، لہٰذا ایس توں ودھ وضاحت نال بیان کرنا مینوں اوکھا لگ رہیا اے۔ ہاں اِک طریقہ ہے وے۔ جے اِن پیج وچہ ورتیا جان والا نکو جیہا دائرہ یونی کوڈ وچہ صحیح مقام تے ڈھل جاوے تے ایہناں لفظاں دی آواز نوں سمجھان واسطے انج بیان کیتا جا سکدا اے: بھرتی، پْرتی؛ جھاڑو، چْاڑو؛ دھوبی، تْوبی؛ ڈھول، ٹْول؛ گھر، کْر۔پر، ایہدے وچہ وڈا مسئلہ اوہو ای آ جاندا اے جدھر دوست ہوری اشارہ کر چکے نیں۔ سرگودھی، ملتانی، ریاستی پنجابی وچہ ایہ نکو دائرے والے اکھر بے کار ہون گے۔ ایس لئی اردو وچہ لکھے جان والے دو چشمی ھ والے اکھر ہی درست رہن گے، پڑھن والا جیویں دل منے پڑھے پیا۔ یاد رہوے کہ سابقے لاحقے توں وکھ جے دوچشمی ھ والے اکھر لفظ دے وچ کار یا آخر تے آون تے ایہناں دی صوتیت اردو والی ہی رہندی اے۔ 

محمد وارث ہوراں دی گل دا آسان جواب ایہ وے بئی جے پنجابی املاء اک فارمولے دے مطابق ہو جاوے تے پڑھن وچہ اول تے کوئی اوکڑ ہووے گی نہیں، جے ہووے گی وی تے اک دو تحریراں پڑھن توں بعد قاری اوس اک فارمولے دے مطابق ای اونہاں نوں سوکھا سوکھا پڑھدا ٹریا جاوے گا۔ رہی گل سکولاں وچ پنجابی پڑھان والی تے ایہ کوئی اچرج گل نہیں سی جس تے عمل نہ ہو سکدا۔ ایوان تے قلمدان تاں پنجاب دے اونہاں پتراں کول نیں جنہاں نوں ماں دی گود وچہ انگریزی ملی سی، اردو وی اونہاں نے رومن وچہ پڑھی اے، پنجابی اوہ کتے کتے فیشن دے طور تے بولدے نیں،اوہناں نوں پنجابی دی لوڑ کیہ اے؟ مینوں یاد اے، اک واری سرکاری سکولاں وچہ پنجابی قاعدے دا رولا پیا سی، تے پھر اوہو لمی ڈوہنگی چپ۔ محمد وارث صاحب، یا تے تسی وزیرِ تعلیم بنو یا میں بناں تے پھر رب کرائے سانوں چیتے وی رہ جاوے بئی کدی ساڈے دل وچہ پنجابی دا درد ہوندا سی، تے خبرے پنجابی تعلیم دا مڈھ بجھ جاوے۔جیہڑی تھوڑی بہت پنجابی تسی ادب وچہ ویکھ رہے او، ایہ غریب مسکین اہلِ علم دے دم نال ای اے نا!
مٹھیاں سلونیاں دے نال نال کچھ اپنے موضوع دی گل وی چلدی رہوے۔ پنجابی تے اردو دے وچکار بڑیاں سانجھاں نیں۔ اینہاں دونہاں زباناں وچہ جملے دی ساخت، اسم فعل حرف فاعل مفعول، فعل ناقص، ترکیب اضافی توصیفی عطفی عددی، واحد جمع، مذکر مؤنث سے سارے قاعدے اکو مکو نیں۔ اسیں ایویں برائے نام تبدیلی کر کے اردو دی گرامر پنجابی تے لاگو کر سکدے آں۔ فرق صرف محاوریاں تے ضرب الامثال وچہ کدھرے آندا اے جیہڑا قواعد دا نہیں علمِ بیان دا شعبہ اے۔میری ایس گزارش نوں ٹیسٹ کیتا جا سکدا اے، تے اردو قواعد نوں ضرورت دے مطابق ویکھیا پرکھیا جا سکدا اے۔

خاص کر جناب عمران اسلم ہوراں اگے ایہ گزارش اے بئی پنجابی دی املاء دا رولا میری تہاڈی عمر توں وی کتے بہتا پرانا رولا اے۔ ایہنوں دو چار مکالمیاں وچہ حل نہیں کیتا جا سکدا۔ الف نظامی ہورا نے بڑے سچج نال لفظ ”وچہ“ دی املاء ولے اشارہ کیتا اے، کچھ دوستاں دا خیال اے پنجابی لئی فارسی رسم الخط دی نسبت گورمکھی بہتر اے، جدوں کہ کچھ دوست اپنے اپنے لہجے لئی اپنی اپنی املاء دے قائل نیں۔ میرا طریقہ تسیں ویکھ چکے او، میں چاہندا آں کہ پہلوں اسیں مڈھلیاں گلاں نوں اک واری چنگی طرح ویکھ لئیے تے پھر املاء دی گل سمجھنا سوکھا ہو جاوے گا۔ ایس بحث وچہ حالے اسیں کوئی خاص املاء نافذ کر دین دے فیصلے تے نہیں اپڑے۔

تسیں اک گل نوٹ کیتی ہووے گی، میرے سمیت ایس گل بات وچہ حصہ لین والے سارے سجناں دی املاء بہت حد تیکر ”ذاتی“ اے۔ املاء دے بارے میرا اپنا اک واضح نظریہ وی اے تے میرے ذہن وچہ املاء دا اک خاکہ وی بنیا ہویا اے پر میں کسے سجن نوں کم از کم ایس گل تے نہیں ٹوکیا بئی تسیں فلاناں لفظ اِنج کیوں لکھیا، اُنج کیوں نہیں لکھیا۔ ایس نوک ٹوک نال ساڈی گل بات کُراہے پے سکدی اے، ایس لئی فی الحال (ایس گفتگو دی حد تیکر) اسیں اپنی گل جیویں سوکھلی کر سکیے کر دئیے، کوئی ہرج نہیں۔
دوجی گل، پنجابی زبان اجے تیکر نافذ کیوں نہیں ہوئی، دوجیاں علاقائی زباناں توں اسیں پئجابی وچہ کیوں پچھے رہ گئے آں۔ کون کناں ذمہ دار اے۔ ایہ سارا کچھ بہت اہم اے پر ایس پکھ دا کھلار ایناں وڈا اے بئی جے اسیں اودھڑ ٹر پئے تے ساری بحث کھلارا ای بن جائے گی، کسے سرے لگن دے امکان گھٹدے جان گے۔ اینہاں پکھاں تے وی گل ہووے گی، ان شاء اللہ۔ بہتر ہووے گا کہ اسیں واری واری اک اک ٹاپک لے کے ٹرئیے۔ ایس گل بات دا عنوان ”پنجابی املاء دے رولے“ رکھن دے پچھے وی میری ایہو سوچ کم کر رہی سی بئی اسیں پہلوں اک ٹاپک نوں توڑ چڑھا لئیے۔
ہن، ساڈے سامنے اک وڈا سوال جیہڑا آیا اے: پنجابی دی لپی کیہڑی ہونی چاہی دی اے، گورمکھی یا شاہ مکھی؟ میری رائے شاہ مکھی دے حق وچہ اے۔ دلائل ان شاء اللہ اگلی قسط وچہ دیاں گا۔

7 ستمبر 2010ء