زبان کے طبقات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
زبان کے طبقات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 20 ستمبر، 2017

اِک ذرا سی بات پر



اِک ذرا سی بات پر


قیامِ پاکستان کا اعلان ’’پاکستان براڈکاسٹنگ سروس‘‘ لاہور سے ہوا تھا (’’ریڈیو پاکستان‘‘ کا نام بعد میں اختیار کیا گیا)۔ کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل غالباً زیڈ اے بخاری تھے؛ المعروف ’’بڑے شاہ جی‘‘۔ ان کو دورانِ کار کہیں ذرا فرصت ہوتی تو سٹاف روم میں آ کر بیٹھ جاتے۔ عملے کے وہ افراد جو اپنے وقت (نشریات) کے منتظر ہوتے یا، کر چکے ہوتے؛ وہاں گپ شپ لگا رہے ہوتے۔ بڑے شاہ جی کسی بھی غیرنمایاں جگہ پر بیٹھ جاتے، کوئی انہیں دیکھے تو سمجھے کہ اونگھ رہے ہیں۔ عملے کا کوئی فرد اس گپ شپ میں بھی کوئی لفظ یا جملہ غلط بول جاتا یا زبان کی کوئی غلطی کر جاتا تو شاہ جی اُسے فوراً ٹوک دیا کرتے۔ ایک دن کسی نے کہہ دیا: ’’شاہ جی ہم یہاں کون سی نشریات جاری کر رہے ہوتے ہیں، یہ تو محض گپ شپ ہے‘‘۔ بڑے شاہ جی کے جواب کا مفہوم تھا کہ آپ لوگ نشریات کے لوگ ہیں، آپ کی زبان، ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہونی چاہئے۔ یہ غلطیاں جنہیں آپ گپ شپ میں کر جاتے ہیں، یہ آپ کی عادت بھی بن سکتی ہیں۔ نشریے میں ایک لفظ غلط ادا ہو گیا، منہ سے نکلا آسمان کو پہنچا، بعد میں اُس پر جیسی بھی سر زنش ہوتی رہے نشریہ تو متاثر ہو چکا۔
بڑے شاہ جی کی یہ بات ہمارے اہلِ قلم کے لئے ضابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیس بک اور اس نوع کے دوسرے میڈیا کو لے لیجئے؛ ہم چاہے معمول کا تبصرہ ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، ہمیں اپنے الفاظ اور جملوں کی صحت اور معیار کے ساتھ ساتھ لہجے کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ ہم بول کر ایک بات کرتے ہیں تو ہمارے سامع کو علم نہیں ہوتا کہ ہمارے ذہن میں فلاں لفظ کے ہجے کیا ہیں، مگر جب ہم وہی بات لکھ کر کرتے ہیں تو ہماری لکھی ہوئی عبارت (املاء، ہجے، اعراب سمیت) ہمارے قاری کے سامنے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میں ایک لفظ بولتا ہوں ’’بِل کُل‘‘؛ میرا سامع مطمئن ہے کہ میں نے درست بولا؛ میں اسی لفظ کو لکھتے میں ’’بالکل‘‘ کی بجائے ’’بلکل‘‘ لکھ دوں تو میرا باشعور قاری کسی ردِ عمل کا اظہار کرے یا نہ کرے؛ بد دل ضرور ہو گا۔’’اتفاقاً، مثلاً، یقیناً‘‘ بولنے میں نون (تنوین) بولا جائے گا اور یہ جو الف آخر دکھائی دے رہی ہے (جس پر دوزبر کی علامت ہے) یہ الف صوت میں نہیں ہو گا۔ میں ان کو ’’اتفاقن، مثلن، یقینن‘‘ لکھوں گا تو لازماً غلط مانا جائے گا۔ نظیر اور نذیر بولنے میں ہم کوئی فرق نہیں کر پاتے (یہ ہمارے کلے کی ساخت کی بات ہے)، ہم ان کی املاء باہم تبدیل کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ذرا، ذرّہ میں ذال کی جگہ ز، ض، ظ نہیں لے سکتا۔ زِرہ، زَری، زَر میں ذ، ض، ظ نہیں چلے گا؛ لفظ یا تو بے معنی ہو جائے گا، یا وہ کوئی اور لفظ ہو گا : نظیر (مثال) نذیر (ڈرانے والا) علم (پرچم) الم (دکھ) قلب (دل) کلب (کتا)۔ الفاظ کی ساخت اور ان میں مختلف حروف تہجی کا واقع ہونا ایک پوری تہذیب کا عکس ہوتا ہے، یہ محض آوازیں نہیں ہوا کرتیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہجے وہی، صوت بھی وہی مگر الفاظ مختلف! جون (شمسی سال کا چھٹا مہینہ)، جون (نسل) ؛ جوں (جیسے)، جوں (ایک خون آشام کیڑا)؛ پر (حرفِ جار)، پر (پنکھ)؛ وغیرہ۔
اکثر معاملات میں عام سوجھ بوجھ کافی ہوتی ہے، تاہم مسلسل مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اردو میں صدہا الفاظ ایسے ہیں ، یہاں کیا کچھ نقل کیا جائے۔ ادب سے تعلق رکھنے والا شخص کتابوں اور مطالعے سے بے گانہ نہیں رہ سکتا، اس کے پاس اور کچھ بھی نہ ہو، دو چار اچھی ڈکشنریاں ضرور ہونی چاہئیں۔ فی زمانہ انٹرنیٹ پر بے شمار کتابیں مفت ڈاؤن لوڈ کے لئے بھی دستیاب ہیں۔ جسے علم کی پیاس ہو گی، وہ اِن کتابوں کو تلاش بھی کر لے گا۔ املاء کی غلطیوں کے رواج پانے کا سب سے بڑا عنصر محنت سے جی چرانے اور مطالعے سے فرار کا رویہ ہے۔ ہمارے بہت سے اہلِ قلم نے بھی انٹرنیٹ پر میسر یونی کوڈ اور خودکار املاء کو کافی و شافی جان لیا، حالانکہ وہ ابھی اپنے تعمیری مراحل میں ہے اور اس کی تکمیل میں ابھی اچھا خاصا وقت لگے گا۔ کمپیوٹر سے ملنے والی املاء اور ہجوں کو غیر مشروط طور پر سند مان لینا (اہلِ ادب کے لئے خاص طور پر) درست رویہ نہیں۔ 
علم فی نفسہٖ بہت وسیع مفاہیم رکھتا ہے۔ بات اردو زبان میں املاء و اصوات کی ہو رہی ہے۔ پڑھے لکھے مسلمان معاشرے میں قیام اللیل اور اقیمواالصلوٰۃ جیسی تراکیب اجنبی نہیں ہیں۔ قیام اللیل میں میم کے بعد کا الف اور ایک لام بولتا نہیں ہے، دوسرا لام مشدد ہے۔ آوازوں کو کافی سمجھنے کی غلطی ہمیں کسی ایسی املاء تک بھی لے جا سکتی ہے: ’قیاملّیل‘‘ ؛اقیمواالصلوٰۃ میں میم کے بعد ایک واو، دو الف، ایل لام بولنے میں نہیں آتے۔ املاء کو اصوات تک محدود کرنے کی غلطی اس کو ’’اقیمُصّلات‘‘ بنا دے گی؛ چہ عجب! ہمیں اصوات اور تہذیبی عناصر کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ’’املاء صرف اصوات تک‘‘ کا فارمولا زیادہ سے زیادہ وہاں لاگو ہو سکتا ہے (اور وہ بھی نامکمل) جہاں ہم کسی قطعی مختلف رسم الخط کی حامل زبان (مثلاً انگریزی، فرانسیسی، چینی، روسی، جاپانی، کورین؛ وغیرہ) کا تلفظ اپنے خط میں لکھنے کی کوشش کریں۔ اس شعبے میں بھی اہلِ علم نے کچھ ضوابط اپنا رکھے ہیں، جن کا احاطہ کرنا ایک الگ علمی شعبہ ہے، جو آگے کئی شعبوں میں بٹا ہوا ہے۔ یہاں اس کا خاکہ پیش کرنا بھی محال ہے۔ اردو کا گرمکھی، ہندی، دیوناگری رسوم الخط سے فرق بھی حقیقت ہے؛ بہت سی آوازیں تک ایک دوسری تحریر میں مختلف ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ تہذیبی قرب اور صدیوں کے معاشرتی اشتراک کی بدولت بڑی حد تک پٹ جاتا ہے، اور ہمیں بہت زیادہ اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بہ این ہمہ یہ بات کسی بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ اردو کے لئے فارسی رسم الخط ہی موزوں ہے، جیسا (عربی اور فارسی پر کچھ اضافی حروف کے ساتھ) اس وقت رائج ہے۔
ایک بے بنیاد اور بے ڈھب طعنہ جو اردو کو دیا جاتا ہے کہ: ’’جی اس میں تو سارے الفاظ، اسم، فعل ، حرف دوسری زبانوں کے ہیں؛ اپنا کچھ بھی نہیں، اسی لئے تو اس کو لشکری کہتے ہیں‘‘، وغیرہ وغیرہ۔ ایک اندازے کے مطابق اردو میں دنیا کی ۳۰ زبانوں کے الفاظ ہیں۔ انگریزی کی ایک بہت معتبر لغت چیمبرز انگلش ڈکشنری کے ۱۹۷۶ء ایڈیشن میں ۷۹ زبانوں کے ناموں کی فہرست شامل ہے جن کے الفاظ انگریزی زبان میں شامل ہیں۔ ایسا صرف انگریزی یا اردو سے خاص نہیں۔ ماسوائے اس زبان کے جو حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ کریم نے عطا کی تھی، دنیا کی ہر زبان اپنے لوگوں کے مکمل تہذیبی پس منظر میں شامل ان تمام زبانوں سے مستفیض ہوتی ہے جو کسی نہ کسی انداز میں ان لوگوں میں رائج رہی ہوں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ دنیا میں مختلف وقتوں میں رائج تمام زبانوں کا منبع وہی حضرت آدم علیہ السلام والی زبان ہے۔ یہ تو ایک فطری عمل ہے، اور فطرت سے فرار ممکن نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری اردو اس وقت کہاں کھڑی ہے، اس کا لسانی سرمایہ کتنا ہے، اس کے متداول قواعد کیا ہیں؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اردو کے بیٹے ہونے کے دعویدار اپنے دعوے میں کتنے مخلص اور سچے ہیں۔
ہمیں زبان کی صورت میں جو کچھ اپنے بزرگوں سے ملا ہے، اس کی قدر لازم ہے۔ اس میں کہیں کوئی فروگزاشت ہے تو اس کا قابلِ عمل اور قابلِ قبول حل پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ عربی، فارسی، پنجابی، ہندی اور دیگر مقامی زبانیں اردو کے خمیر میں شامل ہیں؛ آپ ان کو نکال نہیں سکتے۔ اس لئے غیرضروری تعصبات سے بچے رہئے، اور زبان کی روایات کو رواں رکھئے۔ املاء، تلفظ، ہجاء، جملے کی ساخت، محاورہ، روزمرہ، ضرب الامثال، تشبیہات، علامات، رعایات، رموز، استعارے، ترکیب سازی کے ضابطے؛ ان کا اکرام کیجئے۔ اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے آگے بڑھئے، نہیں تو آپ دوسروں سے الگ ہو جائیں گے۔
یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ عالمی سطح پر زبان کا درجہ اس کے خط، حروف ہجاء کی تعداد، قواعد وغیرہ کی بنیاد پر متعین نہیں ہوا کرتا، اس بات پر ہوتا ہے کہ اس زبان کو بولنے والے کتنے مؤثر ہیں اور کہاں کہاں! دنیا میں مقابلہ لفظوں سے نہیں،قومی کارناموں اور اثرپذیری سے ہوا کرتا ہے۔ آپ کے جسم میں جان نہ ہو تو آپ کی چیخ پکار بھی کوئی نہیں سنے گا، کسی پر حکم جاری کرنا تو دور کی بات ہے۔
دورِ حاضر میں ایک اور طرزِ فکر کو ہوا دی جا رہی ہے: ’’زبان مذہب سے بالا تر ہوتی ہے، یا زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘‘۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہو گا، زبان لکھنے، بولنے پڑھنے والے کا تو کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتا ہے (لامذہبیت بھی تو ایک مذہب ہے!)۔ کوئی حمد کہتا ہے، نعت، منقبت، سلام، کہتا ہے؛ کوئی بھجن لکھتا ہے؛ کوئی اپنے دیوتاؤں کے قصیدے لکھتا ہے؛کوئی ناگ دیوتا کی مدح سرائی کرتا ہے؛ کوئی جو کچھ بھی لکھتا ہے وہ زبان کا حصہ ہے تو پھر زبان کا مذہب بھی ہے۔ ہر زبان کا مذہب ہوتا ہے! وہی جو اس کے لکھنے والے کا ہوتا ہے۔ لکھنے والا لادین ہے تو اس کی زبان بھی لادین ہے۔ یہاں کتنے لوگ ایسے ہیں؟ اردولکھنے والے پاکستانی، تقریباً سو فی صد مسلمان ہیں؛ ہندوستان کا مجھے نہیں پتہ، آدھے تو رہے ہوں گے۔ اردو ادب میں منبر و محراب کی گونج صاف سنائی دیتی ہے، مصنف چاہے ہندو ہو، پارسی ہو، سکھ ہو، بدھ ہو، جین ہو، کوئی ہو، اردو کا اسلوب اپنا ایک مجموعی رنگ رکھتا ہے۔ انگریزی ادب کو دیکھ لیجئے، وہاں کسی نہ کسی انداز میں صلیب بول رہی ہے۔ چین کی لوک داستانوں سے جدید ترین موویز تک ڈریگن کا راج ہے۔ اگرایک طبقہ زبان کو سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے لادینیت پھیلانا چاہتا ہے تو وہ اس کا مشن ہے، چاہے کسی نے سونپا ہو۔ اس پر بحث کا فائدہ کچھ نہیں۔
کہتے ہیں انگریز سرکار نے اپنے کسی مجسٹریٹ کو مرزا غالب کے پاس بھیجا کہ ان سے ہندوستانیوں کی زبان سیکھے تاکہ اپنے روز مرہ کے امور میں ان لوگوں کی باتیں سمجھ سکے۔ مرزا نے کہا: ’’جاؤ میاں، کسی گھسیارے سے سیکھو، میں تو قلعے کی زبان بولتا ہوں‘‘۔ مرزا کے اس قول کے متعدد پہلو ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ زبان کے بھی طبقات ہوتے ہیں۔ ایک مبتذل ہے تو ایک بازاری ہے، ایک بازار کا ہے، ایک عامیانہ ہے تو ایک عوامی ہے، ایک اشرافیہ کا لہجہ ہے تو ایک اہلِ ادب کا ہے، ایک خواتین کا ہے تو ایک اڈے کوٹھے کا ہے۔ ہر لہجے کی اپنی اپنی افادیت ہے، اپنی اپنی لفظیات ہے اور اپنا اپنا انداز ہے؛ کسی پر گرفت کرنا مقصود نہیں۔ ایک دوست نے بہت اچھی مثال دی: ’’بیٹھ، بیٹھو یار، بیٹھئے، تشریف رکھئے، تشریف فرمائیے، نشست منتظر ہے‘‘۔ زبان میں شائستگی اور شستگی جوں جوں بڑھتی جائے گی زبان کی لذت بڑھتی جائے گی۔ زبان میں جتنا جمالیاتی عنصر شامل ہو گا زبان اتنی ہی ادبی ہوتی چلی جائے گی۔ زبان میں معنی آفرینی کی سطح سے اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ زبان زندگی کے جتنی قریب ہو گی، اتنی اس کی اثر پذیری بڑھے گی۔ زبان اور مٹی کا رشتہ اٹوٹ رشتہ ہے، یہ اپنی مٹی سے کٹی تو مر گئی، لوگ اپنی مٹی سے کٹ گئے تو بھی زبان مر گئی۔ لوگوں میں جان نہ رہی تو زبان ادھ موئی ہو گئی۔لوگوں نے اپنی قدروں اور قدر و منزلت کا جتنا تحفظ کیا، اور دوسروں پر جس حد تک اثر انداز ہوئے، زبان میں بھی اتنی ہی وسعت اور ہمہ گیری آتی گئی۔ گویا زبان کے یہ چار عناصر ہوئے :مٹی، خون، فکر، اور گویائی۔
بات یہاں پہنچی کہ اگر مجھے اور آپ کو ادب تخلیق کرنا ہے، پڑھنا ہے اور ادب میں اچھی روایات قائم رکھتے ہوئے، نئی طرحیں ڈالنی ہیں تو مجھے اور آپ کو (بلا استثناء) مطالعے اور محنت کی ضرورت ہے، اور رہے گی۔مطالعہ اور محنت سے ہل من مزید کا تقاضا تیز تر ہوتاہے۔ اور علم میں وسعت آتی ہے۔


محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان
بدھ: ۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۷ء

منگل، 14 جولائی، 2015

زبان کے طبقات




زبان کے طبقات
در جوابِ آن سوال کہ : SLANG کسے کہتے ہیں۔

انگریزی کو انگریزی والے جانیں؛ اردو اور پنجابی میں تو زبان کے طبقات ہیں، بالکل ہیں۔ عرب ملکوں میں رہنے والے (بالخصوص پاکستانی) جانتے ہیں کہ عربی میں بھی ہیں۔ من حیث المجموع زبان کو ہم کسی ایک طبقے تک محدود نہیں کر سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مثلاً: "جناب زبان وہ ہے جو اشرافیہ میں رائج ہو"، "زبان وہ ہے جو ادباء میں محبوب ہے"، "زبان وہ ہے جو عام آدمی بولتا ہے"، "زبان تو گھسیاروں کی زبان ہے"؛ وغیرہ وغیرہ۔
زبان تو سب کی ہے صاحب! اس میں ادب بھی آئے گا، ادبِ عالیہ بھی، عدالتی زبان بھی، علمائے عُظام کی زبان بھی، اہلِ منطق کی بھی، لسانیات سے متعلق لوگوں کی بھی، سیاست دانوں کی بھی، بھتہ خوروں اور اٹھائی گیروں کی بھی، دفتری زبان بھی، راج مزدوروں کی بھی، ورکشاپ والوں کی بھی، چھاپہ خانوں کی بھی، ڈاکٹروں اور وکیلوں کی بھی، گلی محلوں، میلوں ٹھیلوں کی زبان بھی، بھانڈوں کی زبان بھی، گلہ بانوں اور کاہ کشوں کی زبان بھی، زنان خانے کی بھی، لچھے دار بھی، سادہ بھی، اجڈ بھی، حتیٰ کہ گالم گلوچ بھی زبان ہے۔ جتنے شعبے فوری طور پر ذہن میں آ گئے، لکھ دیے اور بھی سینکڑوں رہے ہوں گے۔
ایک موٹا اصول یہاں سے اخذ ہوتا ہے کہ: جتنے طبقات انسانوں کے ہوں گے، اتنے ہی زبان کے بھی ہوں گے اور اس سب میں کچھ نہ کچھ مشترک بھی ہو گا، کہ جہاں کوئی اشتراک نہ رہا، زبان ہی الگ ہو گئی۔ دوسرا بہت بڑا عنصر علاقائی لہجے اور مقامی لفظیات ہیں؛ میں نے خاص طور پر پنجابی میں علاقائی لہجوں کا بہت تنوع دیکھا ہے (یہاں تک کہ کچھ لوگ ہندکو، سرائیکی اور پوٹھوہاری کو پنجابی سے الگ زبانیں قرار دیتے ہیں)۔ بات اردو کی ہو رہی ہے سو ادھر چلتے ہیں۔
مرزا غالب کا وہ کہنا بہت معروف ہے کہ: "جاؤ میاں کسی گھسیارے سے سیکھو، میں تو قلعے کی زبان بولتا ہوں"۔ مرزا کا مقصود یہ ہرگز نہیں تھا کہ گھسیارے کی زبان اردو نہیں یا قلعے کی زبان اردو نہیں۔ مرزا نے اردو زبان کے دو نمایاں طبقات کا ذکر کیا تھا، اور مقصود یہ تھا کہ ان طبقات میں لسانی بعُد قابلِ لحاظ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ زبان کا علم رکھنے والوں (زبان دان) اور زبان کو ادب بنانے والوں (ادیب) کی ذمہ داریوں کے میدان اہم تر ہیں۔ آپ کوئی واضح حدِ فاصل تو قائم نہیں کر سکتے، بہ این ہمہ یہ محسوس ضرور کر سکتے ہیں کہاں جا کر زبان ادب کا درجہ پا لیتی ہے اور کہاں اس درجے سے گر جاتی ہے؛ اسی نہج پر زبان کے دوسرے طبقات ہیں۔ زبان ایک معاشرتی مظہر ہے اور اس کی بنیاد میں دین و مذہب، عقائد و روایات، رسوم و عادات، تاریخ، لوک داستانیں، لوک گیت، شاعری، رزمیے، معاشرتی نفسیات، پیشے، معاشرتی مناصب، عالمی منظر نامے اور کتنا کچھ بشمول شخصی ترجیحات ایسا شامل ہے جسے ہم حتمی قطعیت کے ساتھ نہ پرکھ سکتے ہیں اور نہ اس کی حدود کا قطعی تعین کر سکتے ہیں۔
قوسِ قُزح کی مثال لے لیجئے۔ اس میں رسماً سات رنگوں کو نمایاں تسلیم کیا جاتا ہے۔ ترتیب: بنفشی، اُودا، نیلا، سبز، زرد، نارنجی، سُرخ۔ نیلا کس خاص نقطے تک نیلا ہے اور سبز کس خاص نقطے تک سبز ہے اور ان دونوں کے درمیانی مراحل کو ہر نقطے پر کیا کیا نام دئے جائیں؟ یہ قطعیت کے ساتھ لفظاً طے نہیں ہو سکتا، مگر محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ زبان کا ہوتا ہے۔ طبقات اس میں بہر حال پائے جاتے ہیں۔
یہ کام علمائے لسانیات و مدنیات پر چھوڑتے ہیں کہ انگریزی والا سلینگ (یا اسے اردو میں جو بھی نام دیجئے) ہمارے ہاں کہاں کہاں پایا جاتا ہے۔ سلینگ سے لفظی تأثر یہ بنتا ہے: ایسا عوامی لہجہ جو شستگی، ملائمت اور قواعد کی چنداں پروا نہ کرے؛ آپ عوامی لہجہ کہہ لیجئے۔ ہر اچھے اور چابک دست ادیب کے پاس یہ فن ہوتا ہے کہ وہ عوامی لہجے سے کرخت الفاظ اور اظہاریوں کو اٹھا کر انہیں ادب میں یوں کھپا دے کہ جمالیات متأثر نہ ہونے پائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی۔ منگل 14 جولائی 2015ء
(اردو محفل فورم پر ایک سوال کے جواب میں)