اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعہ، 30 نومبر، 2018
جمعہ، 27 مئی، 2016
لفظ (یاد) رہ جائیں گے ۔۔۔ احمد فاروق
محمد یعقوب آسی کے فنِ شعر پر احمد فاروق کا مختصر تبصرہ (بہ شکریہ: اَدَب زار)
یہ جو ایک مسلمہ طرزِ نقد
و نظر رائج ہے کہ شاعر کے ہاں فلاں فلسفہ، یہ جذبات اور وہ خیالات پائے جاتے ہیں
اور یہ کہ ان اجزا کی موجودگی اس دعوے کا کافی و شافی ثبوت ہے کہ یہ شاعری ہے،
مجھے اس سے اختلاف ہے۔ کیا اگر فلسفہ جذبات اور خیالات نثر میں بیان کر دیے جائیں
یا محض منظوم کر دیے جائیں تو یہ شاعری بن جائیں گے؟
شعر بننے کے لئے بنیادی
عنصر لفظ کا برتنا (بلکہ بسر کرنا) ہے۔ برتنے کا ہنر تو لفظ کے برتن میں اپنے
معانی ڈال دے۔ ادھر لفظ کے اندر پہلے سے بھرے معانی ہی چھلکائے جا سکیں تو بڑی بات
ہو۔ اور پھر لفظ جوڑ کر ایسا مصرع بنانا جو لفظوں کی بے روح قطار کی تہمت سے بچ
سکے کارِ دیگر ہے۔
بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں
کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتشؔ
مرصع ساز کا
حشو و زوائد سے پاک مصرع
زبانِ حال سے دعویٰ کرے کہ اک لفظ ہو نہ پائے اِدھر سے اُدھر مرا۔ پھر لفظوں کو
یوں ہم آمیز کرنا کہ آمیختہ نئے معانی سے چمک جائے، کہ پتھر کے ٹکڑے مل کر پانی کا
سا بہاؤ دکھائیں۔ فطرت کی مرصع سازی سے ایک مثال دیکھیں کہ آکسیجن کے اپنے معانی،
ہائیڈروجن کے اپنے معانی، ان کی بندش سے بنا پانی، یکسر مختلف کہ اجزا کے معانی یک
قلم منسوخ۔ مگر ان اجزا کو یوں ملانا ایک جوکھم ہے۔
اس سب جوکھم سے عہدہ برآ
ہونے کی مثالیں دیکھئے:
شہر پہ چھایا ہے سناٹا
کیا جانے کب کیا ہو جائے
اُن زلفوں کی یاد دلائیں
شام کے لمبے لمبے سائے
ہم سفر کوئی نہ تھا اور
چل دیے
اجنبی تھا راستہ اور چل
دیے
شدّتِ شوقِ سفر مت پوچھیے
ناتواں دل کو لیا اور چل
دیے
اہل محفل کی جبینیں دیکھ
کر
خوش رہو، ہم نے کہا، اور
چل دیے
عشق پروانوں کا بھی سچا
نہیں
شمع کا شعلہ بجھا اور چل
دیے
میری بچی بھولپن میں بات
ایسی کہہ گئی
مجھ کو یاد آئیں بڑی شدت
سے اماں جان کل
کیا خبر کیسی کیسی بہشتیں
نظر میں بسا لائے تھے
مر گئے لوگ شہرِ بلا میں
اماں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
میرے جذبوں کے بازو بھی
لگتا ہے جیسے کہ شل ہو گئے
سرد لاشوں میں ٹھٹھری
ہوئی بجلیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
یوں خیالوں کی تصویر
قرطاس پر کیسے بن پائے گی
لفظ کھو جائیں گے فن کی
باریکیاں ڈھنڈتے ڈھونڈتے
ہم سا بے خانماں ہو کسی
رنج میں مبتلا کس لئے
اپنا گھر ہی نہ تھا تھک
گئیں آندھیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
لو، کسی کوئے بے نام میں
جا کے وہ بے خبر کھو گیا
روزناموں میں چھپتی ہوئی
سرخیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
آدمی کیا ہے یہ جان لینا
تو آسیؔ بڑی بات ہے
سوچ پتھرا گئی رشتۂ جسم و
جاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
میں اسے دیکھتا تھا، وہ
مجھ کو
خامشی میں کلام کیا کیا
تھے
شہر میں ہم اداس رہتے ہیں
دشت میں شاد کام کیا کیا
تھے
شام ہونے کو آئی تو سوچا
آج کرنے کے کام کیا کیا
تھے
جو ستارے بجھا دیے تو نے
گردشِ صبح و شام! کیا کیا
تھے
بند کوچے کے دوسری جانب
راستے بے شمار نکلے ہیں
زندگی اک دم حسین لگنے
لگی مجذوب کو
اک نگاہِ ناز نے کیا کیا
نہ جادو کر دیے
تھا وہ اک یعقوب آسیؔ
دفعتاً یاد آ گیا
میری گردن میں حمائل کس
نے بازو کر دیے
ازل کے حبس کدوں میں چلی
ہوا تازہ
نگاہِ ناز نے وا کر دیے
ہیں باب عجیب
من پاگل جو ساری رات
بناتا ہے
لے جاتا ہے دِن تصویریں
بھی اپنی
اس شہر کا کیا جانئے کیا
ہو کے رہے گا
ہر شخص بضد ہے کہ خدا ہو
کے رہے گا
سرِ شام ہے جو بجھا بجھا
یہ چراغِ دل
دمِ صبح پاؤ گے اطلاعِ
فراغِ دل
اعتماد اپنے لکھے پر کچھ
مجھے یوں بھی ہوا
پڑھتے پڑھتے بھول جاتا
ہوں، بتا دیتے ہیں دوست
زندگی درد کا دریا ہی سہی
پر، ہمدم
موج در موج بڑا لطف ہے
پیراکی میں
عمر نے چہرے پہ صدیوں کی
کہانی لکھ دی
زندگی ٹیڑھی لکیروں نے
لکھی ہاتھوں پر
آپ کرتے ہیں بات خوابوں
کی
اور ہم نیند کو ترستے ہیں
اک عجب سلسلہ شکست کا ہے
اشک بھی ٹوٹ کر برستے ہیں
فلسفہ، جذبات، خیالات آپ
جانیں، مجھے تو ان اشعار میں وہ لفظ ملے جو یاد رہ جائیں گے۔
احمد فاروق .... بدھ ۲۵؍ مئی ۲۰۱۶ء
لیبلز:
احمد فاروق,
اردو شاعری,
محمد یعقوب آسی,
مرصع سازی
منگل، 27 اکتوبر، 2015
اخترِ صبح
اخترِ صبح
پرویز اختر کے شعری
مجموعہ ’سائبان ہاتھوں کا‘ پر ایک نظر (شاملِ کتاب)
حرف کا رشتہ بھی کیا عجیب رشتہ ہے۔ رشتے تو اور بھی ہیں! بلکہ انسان
توانسان کہلاتا ہی اس لئے ہے کہ وہ رشتوں کا پابند ہے۔رشتوں کے یہ بندھن نہ ہوں تو
انسان اور ڈھور ڈنگر میں کوئی امتیاز نہ رہ جائے۔ ایک رشتہ جسم کا ہے تو ایک جان
کا ، اور ایک جسم و جاں کا رشتہ ہے اور کوئی انسان اس رشتے کو نبھاتے میں کہاں تک
جا سکتا ہے، یہ بات جناب پرویز اختر کی نگاہِ تیز سے پنہاں نہیں رہ سکتی۔ سرسبز
دیہات میں گھرے صنعتی شہر فیصل آباد کے گلی کوچوں میں جوان ہونے والا پرویز اختر
رشتوں کی پاسداری کے لئے عرب کے تپتے صحراؤں کی طرف نکل گیا۔ مجھ جیسا کم ہمت شخص
بھی اتنا تو کر گزرا کہ صحرا کو نہ سہی کوہسار کو چل نکلا، اسی رشتہٗ جسم و جاں کی
تلاش میں۔ یہ الگ بات کہ اُدھر سوچوں میں صحرا کی سی وسعت آتی ہے تو اِدھر پتھروں
کے ساتھ رہتے رہتے سوچیں بھی پتھرا جاتی ہیں:
آدمی کیا ہے یہ جان لینا
تو آسیؔ بڑی بات ہے
سوچ پتھرا گئی رشتۂ جسم
وجاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے
جسم و جان کے اس رشتے کو قائم رکھنے کی سعی میں اختر پر کتنے سخت
مرحلے گزرے ہوں گے اور وہ کن حالات سے گزراہو گا کہ راحتیں اُس کی ہمت بندھانے کی
بجائے حوصلے توڑنے کے درپے نظر آتی ہیں:
دھوپ شدت کی تھی، گرمِ
سفر تھا کوئی
حوصلہ ٹوٹ گیا رہ میں شجر
آتے ہی
’’سائبان ہاتھوں کا‘‘ اسی کڑی دھوپ سے نبرد آزما رہنے کا استعارہ ہے۔
اختر کا جتنا کلام میری نظروں سے گزرا ہے اس میں سب سے نمایاں عنصر زندگی کی تگ و
تاز ہے، جس کا ہر لمحہ زندہ محسوس ہوتا ہے۔
واضح کرتا چلوں کہ میں پرویز اختر کو اختر کہنا زیادہ پسند کرتا ہوں،
حالانکہ خود اُس نے اپنے نام کے جزوِ اول یعنی پرویز کو بطور تخلص استعمال کیا
ہے۔اپنی اس پسند کی وجہ سے شعوری طور پر شاید میں خود بھی واقف نہیں تاہم ایک
علامت ہے جومیرے اس عمل کا جواز کہلا سکتی ہے، اور وہ ہے اس کا اپنا نام۔اسے اتفاق
ہی کہئے کہ مجھے اُس کے موصولہ کلام میں ستارے کا صرف ایک حوالہ دکھائی دیا،جس کے
ساتھ ہی چراغ اور سورج کا حوالہ موجود ہے:
وہاں آفتاب ہتھیلیوں پہ
لئے ہوئے کئی لوگ تھے
مجھے اپنا آپ عجب لگا، کہ
چراغ تھا مرے ہاتھ میں
مجھے اپنے پیاروں کی
صورتیں ذرا دیکھنی تھیں قریب سے
نہیں چاند تارے ملے تو
کیا، کہ چراغ تھا مرے ہاتھ میں
چاند، تارے، چراغ، آفتاب؛ یہ سب روشنی اور زندگی کی علامات ہیں۔ اسی
روشنی کے حوالے سے اُسے اختر کہنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ ویسے ہی جیسے اختر کو زندگی
کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔مجھے اُس کے الفاظ بولتے اور دھڑکتے محسوس ہوتے ہیں۔
اختر بڑے خوبصورت انداز میں زندگی کی چھوٹی بڑی دلداریوں کا احوال بیان کر جاتا
ہے۔ اس کے ہاں گھر اور گھر کے لوگ اپنے حقیقی اور معنوی پیش منظر کے ساتھ وارد
ہوتے ہیں:
کیسے دن بھر کی تھکن پل
میں اتر جاتی ہے
بچے سینے سے جو لگ جاتے
ہیں گھر آتے ہی
بتاؤ بچوں کو کالی کریں
نہ دیواریں
وہ کہہ بھی سکتا تھا، آخر
مکان اُس کا تھا
اہلِ خانہ سے جو ہو جاتی
ہے رنجش پرویزؔ
چھوڑنے کوئی نہیں آتا ہے
دروازے تک
اتنا احساس دلوں میں نہیں
جاگا اب تک
ہم میں رنجش ہو تو بچوں
پہ اثر پڑتا ہے
ان کے چہروں سے نہ
سنجیدگی ٹپکے کیوں کر
میرے بچوں کو ہیں معلوم
مسائل میرے
میں خود ڈرا ہوا تھا، پہ
ہمت سی آگئی
جب بچہ ڈر کے میرے گلے سے
لپٹ گیا
اُسے ابھی سے نہیں ہے
پسند پابندی
وہ لڑکا لکھتا نہیں حاشیے
کے اندر کیوں
اختر جب گھر سے باہر نکلتا ہے تو اُس کا احساس اُسے کہیں رنجیدہ کرتا
ہے اور کہیں فکر مند، کہیں وہ خوف اور واہموں کا شکار ہوتا ہے تو کہیں عزم و ہمت
کا درس دیتا ہے۔یوں اُس کے ہاں کسی یوٹوپیا کی بجائے جیتے جاگتے شہر ملتے ہیں،اپنے
حقیقی مسائل اور رنگوں کے ساتھ!
کسی دباؤ میں آ کر وہ تم
سے ہارا تھا
تمہاری جیت مجھے کس لئے
نہ مات لگے
ہیں ایک جیسے مسائل سبھی
کے ساتھ لگے
کسی کی بات ہو اپنے ہی
گھر کی بات لگے
مجھ کو اخبار سے کیا کام
کہ دن چڑھتے ہی
گھیر لیتے ہیں مجھے اپنے
مسائل میرے
دلوں پہ چھائے ہوئے ڈر کا
کر لو اندازہ
کہ لوگ دن میں بھی رکھتے
ہیں بند دروازے
جیتے جاگتے شہر کے ان مسائل میں جہاں انصاف پر حرف آتاہے، اور کوئی
معاشرتی ناہمواری دکھائی دیتی ہے، اختر اُس پر تڑپ اٹھتا ہے۔ایسی صورتِ حال پر اس
کا اندازِ اظہار کسی قدر کھردرا بھی ہو جاتا ہے،اور یہ رد عمل انسانی سلامتِ طبع
کے عین مطابق ہے۔ ایسے میں وہ کہیں براہ راست انداز اختیار کرتا ہے تو کہیں سوالیہ
لہجہ،اور سوال ایسا اٹھا جاتا ہے جس میں جواب ازخود پنہاں ہوتا ہے:
میرے بچوں کے تحفظ کی
ضمانت جو نہیں
نام قاتل کا بتاتے ہوئے
ڈر جاتا ہوں
منصفِ وقت ہے خود میرے
گناہوں میں شریک
جرم ثابت نہیں مجھ پر
کوئی ہونے والا
وہی اک وارداتِ قتل کا ہے
عینی شاہد
وہی اس سانحے سے بے خبر
کیوں لگ رہا ہے
منصف کو بس سزائیں سنانے
سے کام تھا
مجرم وہ کیوں بنا تھا پتا
ہی نہیں چلا
وہ بھی دور آئے کہ ظالم
کو عدالت سے ملے
لوگ لکھیں جو سزا شہر کی
دیواروں پر
جس کو اخبار نہیں مصلحتاً
چھاپ سکے
جا بجا ہم نے پڑھا شہر کی
دیواروں پر
بہ ایں ہمہ اُسے انسانوں سے پیار ہے، اور انسان کی مجبوریوں کا ادراک
بھی ہے۔ وہ کہیں انسانی نفسیات کی گرہیں کھولتا ہے تو کہیں اُس کے دکھوں پر سانجھ
کا اظہار کرتا ہے۔ اُس کے بعض اشعار کی محسوساتی سطح لفظوں سے کہیں اوپر اٹھ جاتی
ہے، اور اُس کا قاری اُس کی فسوں کاری کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا:
کہتے ہیں نقشِ پا، کہ رکا
تھا وہ دیر تک
دستک دئے بغیر جو در سے
پلٹ گیا
ثابت ہوا کہ میری زمیں
مجھ کو راس تھی
آکر بلندیوں میں مرا وزن
گھٹ گیا
سوتا نہیں تھا میں تو
کبھی فرشِ سنگ پر
آج اتنا تھک چکا تھا پتا
ہی نہیں چلا
تو کیا پرندہ زمیں سے
فرار چاہتا ہے
پروں کے کھلتے ہی جاتا ہے
آسماں پر کیوں
بدل کر بھیس میں پہچان
اپنی کھو رہا ہوں
مگر یہ جاں بچانے کو
بدلنا پڑ رہا ہے
ممکن نہیں کہ بدلے زبانوں
کا ذائقہ
اترے گی اب نہ کوئی کتاب
آسمان سے
تھا یہ تنہائی پسندی کا
تقاضا پرویزؔ
میں نے دانستہ مکاں بھی
لیا کونے والا
میں وہی ہوں کہ پلاتے ہی
جسے آبِ حیات
لوگ اِک قحط زدہ شہر میں
چھوڑ آئے تھے
کچے رنگوں سے ہے بیٹے نے
بنائی تصویر
کہہ دو بارش سے نہ آئے
مری دیوار کے پاس
اختر کی شاعری کا خاص وصف اس کی سہل نگاری ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ
شعر کی زبان کو آسان بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اُس کے بعض اشعار لفظی سطح پر اتنے
سادہ اور معنوی سطح پر اتنے عمیق ہیں کہ حیرت ہوتی ہے:
یہی بہتر ہے کہ مضبوط ہوں
رشتے ورنہ
کون بچ سکتا ہے گر چھت سے
ہو دیوار جدا
پانیوں سے تھا گزر میرا
ہوا سے تیرا
کیا عجب ہے جو رہی دونوں
کی رفتار جدا
کتنا دشوار ہے ہر اک سے
مراسم رکھنا
وہ جو پاس آئے تو یہ دور
بھی ہو سکتا ہے
تم نہیں جاؤ گے کیا اپنے
وطن اب کے برس
پوچھتا ہے مجھے اکثر یہ
کھلونے والا
نہ بوند بوند کو ترسے مری
زمیں پرویزؔ
مرا مزاج اگر بادلوں کے
ہاتھ لگے
ہم میں رنجش تھی وہ حیران
سا لگتا کیوں تھا
رات بھر بیٹا پریشان سا
لگتا کیوں تھا
رات بھر لکھا گیا شہر کی
دیواروں پر
اگلے دن کچھ بھی نہ تھا
شہر کی دیواروں پر
اختر نے بہت اچھا کیا کہ اظہار کو نئی نئی اور نامانوس بحروں کے
تجربوں کی بھینٹ نہیں چڑھایا۔اُس کا اندازِفکر اور اندازِاظہار اتنا صاف ہے کہ
اُسے طویل اور مشکل تراکیب گھڑنے کی ضرورت ہی نہیں ۔یہ وہ اوصاف ہیں جو اختر کو
خواص تک محدود رکھنے کی بجائے اردو شاعری کے عام قاری تک پہنچنے میں ممد و معاون
ثابت ہوتے ہیں، اور اُسے ہر دل عزیز بناتے ہیں۔
مجھے یقین ہے صبح کے اس ستارے کی روشنی طلوعِ سحر تک اختر کے قاری کا
ساتھ دے گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ تیز دھوپ میں ہاتھوں کا سائبان بنا نے کا گُر ہر
کسی کو آتا ہی کب ہے!
محمد یعقوب آسی ۔۔۔ ۲؍ نومبر ۲۰۰۵ء
لیبلز:
اردو شاعری,
پرویز اختر,
تقریظات,
دمام,
سائبان ہاتھوں کا,
محمد یعقوب آسی
بہت رستہ پڑا ہے
زاہدہ رئیس راجیؔ کا
اولین شعری مجموعہ ’’خواب گھروندا‘‘ ... ایک مطالعہ
*****
ذات کے ادراک میں راجیؔ
کہاں تک آ گئی
ورنہ شاید زاہدہؔ سے
شاعری ممکن نہ تھی
شعر کوئی کی طرف اولین
احساس شاید یہی ذات کا ادراک ہے، جو متنوع مراحل سے گزرتا ہوا اظہار تک پہنچتا ہے۔
یہ اظہار قاری اور شاعر کے مابین ایک رشتہ قائم کرتا ہے، حرف کا رشتہ۔ ادراک سے
اظہار تک کا سفر اپنی ہی نوعیت کا سفر ہے کہ مسافر کا پہلا قدم مکمل بے سر و سامانی
کے عالم میں اٹھتا ہے اور وہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے، اس سفر کی دھول، تھکن، آبلے،
ولولے، شوق، حوصلے، اس کے لئے زادِ راہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ میں نے اس بات کو کچھ
یوں بیان کرنے کی کوشش کی ہے:
چلو، آؤ چلتے ہیں بے ساز
و ساماں
قلم کا سفر، خود ہی زادِ
سفر ہے
میں زاہدہ رئیس راجیؔ کو
اُس کے اسی زادِ راہ کے حوالے سے جانتا ہوں۔ مناسب تر الفاظ میں میرے پاس اس کے
تعارف کا ثانوی ذریعہ وہ بہت مختصر تعارف ہے جو اس نے میرے استفسار پر پیش کیا،
تاہم اساسی ذریعہ اس کا یہ ’’خواب گھروندا‘‘ ہے جس کی طرف اس کا سفر جاری ہے۔ وہ اسی
زادِ راہ کی بات کرتے ہوئے کہتی ہے: ’’ادب کی کون سی صنف میں کب لکھنا ہے اور کیا
لکھنا ہے اس کا فیصلہ خود بہ خود ہوتا چلا گیا‘‘۔ ایک تخلیقی ذہن کے پروان چڑھنے
میں یہ رویہ بہت ممد ثابت ہوتا ہے کہ صنفی یا موضعاتی حوالے سے خود پر کوئی پابندی
نہ لگائی جائے، ادب کی اَقدار کا پاس بہر حال کرنا ہوتا ہے اور انہیں اقدار کے
منسلک رہ کر اپنی شناخت حاصل کرنا حرف کے سفر میں اہم کامیابی ہوتی ہے۔ یہ کہنا تو
خیر مشکل ہے کہ زاہدہ نے اردو شعر میں اپنی شناخت بنا لی ہے۔ اس کا یہ اولین شعری
مجموعہ دیکھ کر یہ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ شناخت کی منزل اس سے بہت دور نہیں
ہے، تاہم اس کو ابھی بہت محنت کرنی ہو گی۔ میں ادریس آزاد سے متفق ہوں کہ: ’’اس کے
اندر محنت کا عنصر کم ہے، البتہ ہ یہ ضرور جانتی ہے کہ پامال ہوئے بغیر کوئی راستہ
منزل تک نہیں جا سکتا‘‘۔ فاضل مضمون نگار میرے منہ کی بات مجھ سے بہتر انداز میں
کہہ گئے کہ: ’’زاہدہ کو بھی ہر شاعر بلکہ ہر انسان کی طرح ہمیشہ پہلے سے بہتر ہونے
کی نہ صرف طلب ہے بلکہ ضرورت بھی ہے‘‘۔ قلم اور خاص طور پر شعر میرے نزدیک اکتسابی
چیز نہیں، کوئی شخص یا تو شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ ہم کسی غیرشاعر کو شاعر نہیں
بنا سکتے، ایک کمزور شاعر محنت کر کے اچھا شاعر بن سکتا ہے۔ زیرِنظر کتاب میں
معدودے چند فرگزاشتیں ہیں جو غالباً بلوچی اور اردو تلفظ اور تذکیر و تانیث کے فرق
کا شاخسانہ ہیں یا پھر کتابت کی اغلاط رہی ہوں گی۔ بہ این ہمہ زاہدہ کا شمار کمزور
شاعروں میں نہیں ہوتا، بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہا کرتی ہے۔ بالفاظِ دیگر شعر کا
سفر جاری رہتا ہے اور اس میں ہر اگلا قدم نیا زادِ راہ فراہم کرتا ہے۔
شعر کہنا کسی مفرد احساس
یا عمل سے تکمیل پذیر نہیں ہوا کرتا۔ اس میں شاعر کی شخصیت کے جملہ عناصر کارفرما
ہوتے ہیں؛ اس اضافے کے ساتھ کہ حرف کی آبیاری خونِ جگر سے کرنی ہوتی ہے۔ پروفیسر
انور مسعود نے ایک طویل گفتگو کے دوران بہت پتے کی بات بتائی کہ انسان ایسی سادہ
چیز بھی نہیں کہ ہم اس کا سالٹ انالیسس کر کے بتا سکیں کہ اس میں غصہ اتنا ہے،
حساسیت اتنی ہے، شعور اتنا ہے، محبت اتنی ہے، نفرت اتنی ہے، ہم دردی اتنی ہے، خلوص
اتنا ہے؛ وغیرہ۔ لہٰذا ہم شعر کا تجزیہ بھی ان خطوط پر نہیں کر سکتے، ہمیں اس سے
بالاتر اور زیادہ فطری پیمانے درکار ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے معتبر پیمانہ شعری
روایت ہے، جس میں یہ سارے عناصر اور مذہب، نظریات، عقائد، معاشرتی پس منظر اور پیش
منظر، اندازِ فکر، ترجیحات، تمنائیں، مقاصد، ولولے، خدشات اور انسانی
مابعدالطبیعیات شامل ہوتی ہیں۔
زاہدہ رئیس راجیؔ کی شخصیت کا مجھے بہت تھوڑا اندازہ ہے۔ اس کا معروضی خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے آباء و اجداد ایک شاندار بلوچی تہذیب کے مقتدر قبیلے سے ہیں، جو امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اس سفید پوش طبقے میں ڈھل گئے ہیں جو اپنی شاندار تہذیبی روایات کو بہر طور عزیز رکھتا ہے۔ زاہدہ کے گھر میں بلوچی بولی جاتی ہے۔ طرزِ معاشرت وہی رئیسی بلوچوں کا ہے، تاہم نصف صدی کے لگ بھگ کراچی شہر میں بود و باش کے اثرات سے انکار بھی ممکن نہیں۔ اس کا اثر زاہدہ کی لفظیات پر بھی پڑا ہے۔ اس کی مادری زبان کا رجحان اردو کی نسبت فارسی کی طرف زیادہ ہے، اور اس کی رسمی تعلیم بھی سائنسی علوم کی ہے، جہاں انگریزی سکہ چلتا ہے۔
اس تناظر میں زاہدہ کے یہ
الفاظ بہت قیمتی ہو جاتے ہیں: ’’نثر سے ابتدائی سفر طے کرتے کرتے جب چودہ سال کی
عمر میں اچانک اردو شعر گوئی کی دنیا میں پہلا قدم رکھا تو پیچھے ماسوائے ایک
چیلنج کو قبول کرنے کے کوئی خاص وجہ تو نہیں تھی، لیکن پہلی شعری تخلیق کے پہلے
مصرع ’’کتابِ شاعری میں درد کی دنیا بسی ہے کیوں‘‘ نے اندر کی شاعرہ کے بارے میں
روزِ اول سے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ اس کے آگے کی منزلیں آسان نہیں ہیں‘‘۔ اس کے
بعد زاہدہ نے کچھ مرحلے گِنوائے ہیں اور ناقدین کے اختیار کردہ متنوع بلکہ بسا
اوقات متصادم معیارات کا شکوہ بھی کیا ہے۔ یہ امر اس کے ادبی سفر کی تفہیم میں اچھی
خاصی مدد دیتا ہے۔
ہمیں جو کچھ اپنے بزرگوں
سے حاصل ہوتا ہے وہ صرف مال و منال نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی وراثت اقدار ہوتی ہیں،
جو غیر محسوس طریقے پر ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ زاہدہ کا دامن ان اقدارِ
پر وقار سے بھرا ہوا ہے۔
اس کے شعروں میں جہاں
متانت غالب عنصر کے طور پر جھلکتی ہے، وہیں اعتماد اور شخصی وقار بھی رچا بسا ہے۔
اس نے عورت کی نمائندگی شاید اس انداز میں نہیں کی جیسی ہمیں دیگر بعض شاعرات کے
ہاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے نسائیت اپنی پوری قوت کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم ایک فرق
کے ساتھ، جس کی مثال یوں سمجھئے کہ وہ بڑی ساری چادر میں لپٹی ہونے کے باوجود اپنی
چال ڈھال سے ایسی خاتون دکھائی دیتی ہے، جو بہت سنبھل سنبھل کر قدم اٹھا رہی ہو۔
بہ این ہمہ اس کی ذات میں چھپا ہوا کوئی بہت ہی گہرا اور بہت ہی ذاتی دکھ اپنے
ہونے کا پتہ دے جاتا ہے، جسے وہ اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتی ہے اور شاید کسی کو
ہمراز بھی نہیں بنانا چاہتی۔ اس کوشش میں اس کے اشعار میں کرب اور تلخی کی کیفیت
شامل ہو جاتی ہے۔ اس نے زندگی کی پہلی سانس اب سے کوئی پینتیس برس پہلے یہیں کراچی
میں لی۔ تب کراچی یقیناً ویسا نہیں تھا جیسا اب ہے۔یہ اس کا دوسرا کرب ہے۔ اگرچہ
اس نے کراچی کی فضا کے بارے میں براہِ راست بہت کم شعر کہے ہیں تاہم اس کی شاعری
میں یہ کرب بھی اپنی جھلک ضرور دکھاتا ہے۔ معاشرتی معاشی اخلاقی اور ثقافتی شکست و
ریخت سے اٹے اس راستے پر زاہدہ اپنی خود اعتمادی، برداشت اور تنہائی کو ساتھ لئے
زندگی کے سفر پر رواں ہے۔
ہواؤں کا سفر ہلکا نہیں
تھا
مگر آنچل کبھی ڈھلکا نہیں
تھا
دیکھ لو راجیؔ خدا کے نور
سے
شب کی آنکھوں میں ضیا کا
راستہ
جب دل سے دعائیں اٹھتی
ہیں
ملتی ہیں دوا کی تاثیریں
فطرت نے اسے لفظ کے ساتھ
تعلق کی نعمتِ بیش بہا عطا کی، جس کا مختصر احوال ہم کتاب میں شامل اس کی خود نوشت
میں دیکھ چکے ہیں۔ لفظ کی یہ متاع ساتھ لئے اس نے اپنے خارج سے داخل کی طرف سفر کی
پہلی منزل سر کر لی ہے۔ ابھی اس کو اپنے داخل کی بھول بھلیوں میں بھی ایک طویل تر
سفر درپیش ہے، جس کی تکمیل کے بعد اپنے داخل کو ساتھ لئے، اپنے خارج کی طرف آ کر
اسے اگلی منزلوں کی طرف روانہ ہونا ہے۔
کہاں منزل؟ ابھی تو
بہت رستہ پڑا ہے
جہاں رستہ بہت ہے وہیں اس
کے پاس قابلِ قدر زادِ راہ بھی ہے جس میں سب سے قیمتی شے راستوں کے پیچ و خم کا
ادراک ہے۔ اس کے پاس اعتماد اور عزم کی سواریاں بھی ہیں اور دعاؤں کا توشہ بھی ہے۔
تلخ تجربوں کے کانٹے بھی اسے درپیش ہیں اور خدشات کی دھول بھی اس کے سر پر اڑ رہی
ہے۔ گزرے ہوئے سفر نے اسے دکھوں کی ٹیس بھی دی ہے، اور تھکن بھی۔ بہ این ہمہ اس کی
جاگتی آنکھوں کے خواب ہیں جو اس کو روایات کے تپتے صحرا کے اس پار دکھائی دیتے ایک
ننھے سے گھروندے کی طرف کشاں کشاں لئے جاتے ہیں۔
ان دِکھے خواب کی تعبیر
لیے پھرتی ہے
جانے کس راہ پہ تقدیر لیے
پھرتی ہے
روٹھ کر کیا گئی خوشی ہم
سے
پھر ملاقات عمر بھر نہ
ہوئی
زاہدہ کے اشعار میں مجھے
اس کا ایک ایسا دکھ جھلکتا دکھائی دیا، جسے اس نے شاید کسی کے ساتھ بھی سانجھا
نہیں کیا۔ ایک ایسا کرب جو اس کے اپنے نام کی معنویت سے متصادم ہوتا ہے تو اس کی
سوچوں کو ایک تعمیری تخلیقی رخ دے جاتا ہے۔
نہ کوئی خواب ہے باقی نہ
ہی خیال کوئی
بکھر گیا ہے مرا خواب زار
آنکھوں میں
وہ بھی ماتم کناں ہوا
راجیؔ
جس نے کاٹے تھے میرے سارے
پر
اپنے مابین کوئی تیسرا
آیا ہی نہ تھا
فاصلہ بیچ کا پھر حد سے
بڑھایا کس نے؟
اس غزل کا ایک مصرع ’’میں
کہ پتھر تھی مجھے شیشہ بنایا کس نے‘‘ بہت سے ان دیکھے خوابوں کی کہانی سنا جاتا
ہے۔ خود سے لڑتے لڑتے جب وہ بکھرنے لگتی ہے تو پکار اٹھتی ہے۔
تم نہ مانو گے کبھی اپنی
خطائیں لیکن
کبھی فرصت میں مری بات پہ
سوچا کرنا
تم چلے جاؤ، پلٹ کر نہیں
دیکھیں تم کو
شرط یہ ہے کہ خیالوں سے
نہ گزرا کرنا
زاہدہ رئیس راجیؔ کی
شاعری اس کے مضبوط امکانات کی نقیب ہے۔ اس جملے کے ساتھ میری بات، مکمل ہوتی ہے۔
اس کی یہ دو مختصر نظمیں پڑھئے۔
آڑ
جسے تم چاہ کہتے ہو
انا سے ماورا شے ہے
مگر اتنا سمجھنے میں
انا ہی آڑ ہے ہم دم
استفسار
مرے اندر ٹٹولو گے
پلندہ دل کا کھولو گے
تو اِن آنکھوں کے رستے سے
خموشی چیخ اٹھے گی
فقط اک بات پوچھے گی
لبوں سے لفظ چھینو گے
تو آخر کون بولے گا؟
*****
تحریر: محمد یعقوب آسیؔ
... اتوار 25 مئی 2014ء ۔
لیبلز:
اردو ادب,
اردو شاعری,
بہت رستہ پڑا ہے,
تعارف,
تقریظات,
زاہدہ رئیس راجی,
محمد یعقوب آسی
پیر، 12 اکتوبر، 2015
اچھا لکھتے ہو یار ۔۔۔ شہزاد عادل کی 20 غزلوں پر گفتگو
اچھا
لکھتے ہو، یار
(یہ مضمون "دیارِ ادب ٹیکسلا" کے ہفتہ وار ادبی اجلاس
جمعہ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء میں پیش کیا گیا)
جمعہ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء میں پیش کیا گیا)
شہزاد عادل کی اپنی منتخب کی ہوئی بیس غزلیں ہمارے سامنے ہیں ، زمانی ترتیب میں۱۹۸۸ء سے ۲۰۱۴ء تک؛ جن میں ۲۰۰۰ء کی چار، اور ۲۰۱۴ء کی چار غزلیں ہیں، بقیہ میں پچیس برسوں سے شاعر نے بارہ غزلیں منتخب کی ہیں۔ یہ جو میں نے عنوان میں کہا ہے ’’اچھا لکھتے ہو‘‘، اس کی پہلی شہادت اس کا اپنا انتخاب ہے۔ اس نے یقیناًبہت سوچ سمجھ کر یہ بیس غزلیں منتخب کی ہیں۔
دوسری بڑی شہادت زیرِ نظر
غزلوں کی زمینیں ہیں۔ شہزاد کی ان غزلوں میں آٹھ بنیادی بحور آئی ہیں اور ان میں
بھی فاضل شاعر نے بہت زیادہ تصرفات سے کام نہیں لیا۔ ساری بحور ’’مانوس‘‘ کے زمرے
میں آتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اسے قافیہ پیمائی یا ردیفوں
کو گانٹھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ شعر سے تعلق کی وجہ سے ہم سب جانتے ہیں کہ ایک غزل
میں ایک شعر جو پہلے ہو جاتا ہے، بقیہ شعر اسی کی طرح میں کہے ہوئے ہوتے ہیں؛ یا
یوں کہہ لیجئے کہ ہم جزوی طور پر شعر ’’بناتے‘‘ ہیں۔غزل کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ
کوئی بھی شعر ’’بنایا ہوا‘‘ نہ لگے، بلکہ یوں لگے کہ ’’بنا بنایا‘‘ اترا ہے۔ شہزاد
کے ہاں یہ خوبی خاصی نمایاں ہے (’’بدرجۂ اتم‘‘ والی بات دوسری ہے)۔ یہ ضرور ہے کہ
شاعر کہیں بھی غیر ضروری مشقت میں نہیں پڑا اور نہ کہیں جمود کا شکار ہوا ہے۔
اس کی بحور اور زمینوں
میں ایک متوازن قسم کا تنوع پایا جاتا ہے۔ یہ صفت اس کے ہاں تب بھی موجود تھی جب
وہ اول اول ’’دیارِ ادب، ٹیکسلا‘‘ کے اجلاسوں میں شامل ہوا۔ اس کے ہاں فکر و فن
اور مضمون آفرینی کی خوبی تب بھی قابلِ لحاظ تھی۔ شہزاد عادل کی ایک غزل کا میں
اکثر حوالہ دیا کرتا ہوں، وہ بھی اس حد تک کہ خود صاحبِ غزل بھی کبھی چیں بہ جبیں
ہو جایا کرتے تھے (اب نہیں ہوتے)۔ جو شعر مجھے یاد ہیں پیش کر دیتا ہوں، تجزیہ خود
کر لیجئے گا:
ادھر بھی لوگ آنے لگ گئے
ہیں
کہ پتے کھڑکھڑانے لگ گئے
ہیں
ہے دیکھو کیا غضب موسم نے
ڈھایا
کہ ہم بھی گنگنانے لگ گئے
ہیں
ترے دل میں ہوا ہے پیار
پیدا
مگر اس میں زمانے لگ گئے
ہیں
غمِ دنیا! ہٹا لے بوجھ اب
تو
زمیں سے میرے شانے لگ گئے
ہیں
میں نے یہ بھی محسوس کیا
کہ وہ چھوٹی بحر میں بہت مضبوط شعر کہتا ہے، حالانکہ چھوٹی بحر میں شاعر کو لفظوں
میں خاصی کفایت کرنی پڑتی ہے۔ عربی کاایک مشہور قول ہے: خَیْرُ الْکَلَامِ مَا
قَلَّ وَ دَلَّ (تھوڑے لفظوں میں دلیل کے ساتھ کی گئی بات بہترین بات ہوتی ہے)۔ اس
میں بھی آپ بڑا شعر کہہ سکتے ہیں۔ زیرِ نظر انتخاب تک محدود رہتے ہوئے، کچھ شعر
پیش کرتا ہوں، کوئی ان کو بڑا شعر نہ بھی کہے تو خوبصورت ضرور کہے گا:
مجھ کو محوِ انا دیکھ کر
چل دیا کاروانِ جنوں
پھر بلانے لگا ہے مجھے
کوچۂ بے امانِ جنوں
داغِ سجدہ نہیں واعظو!
ہے جبیں پر نشانِ جنوں
یہاں فاضل شاعر کا ایک
اور ہنر سامنے آتا ہے: ایک دم بات کو پلٹ کر نئے اور غیرمتوقع مفاہیم لے آنا۔ مجھے
قوی امید ہے کہ کبھی یہ ہنر فاضل شاعر کے اسلوب کا خاصہ قرار پائے گا۔ شہزاد عادل
کے اشعار نے فکری اور محسوساتی غذا گرد و پیش بکھرے معاشرے سے کشید کی ہے، وہ
حالات کے زیر و بم کو الفاظ میں سمو دیتا ہے۔ وہ تعلقِ خاطر کے رومانی تصور سے
باغی نہیں بلکہ اس کو ایک نئی معنویت عطا کر تا ہے۔وہ دورِ حاضر کی کلفتوں سے فرار
بھی نہیں ڈھونڈتا۔ بلکہ وہ ایک عام آدمی کی سوچ کو زبان دے رہا ہے؛ ایسے عام آدمی
کی سوچ کو جو عامیانہ پن سے مبرا ہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے: ’’A common man is not so
common ‘‘ شہزاد عادل کا عام آدمی رنجیدہ بھی ہوتا
ہے، کبیدہ خاطر بھی ہوتا ہے، کبھی اس پر مایوسی غلبہ پاتی ہے تو کبھی امید اور عزم
اس کا سہارا بنتے ہیں؛ یعنی وہ نہ تو مکمل طور پر رجائیت کے طلسم میں قید ہے اور
نہ مایوسی کی کال کوٹھڑی میں۔ وہ ایک متوازن شخص ہے اور اسی رعایت سے اس کے شعر
اور اظہار میں بھی توازن ہے۔ ہم اس کو آسان زبان میں ’’سنبھلا ہوا کلام‘‘ کہہ سکتے
ہیں۔
اس کے موضوعات اور اندازِ
اظہار ہماری اس توازن والی بات کو خاصی تقویت پہنچاتے ہیں۔ یہ دونوں عنصر اس کے
ہاں ایسے گندھے ہوئے ملتے ہیں کہ ان کو الگ الگ دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے؛ یہ
کیمیائی ترکیب اس کی شاعری میں جا بجا کارفرما ہے:
اب کے بھی زرد چہروں پہ
مہکے نہیں گلاب
پھیکی ہے اب کی بار بھی
رنگت بہار کی
یہ دیکھ کر کہ تجھے چین آ
گیا شاید
تری گلی میں تجھے آج پھر
پکار آئے
ہم ایسے لوگ طلب کے قمار
خانے میں
حیات بیچ کے جو کچھ ملا
سو ہار آئے
آنکھ سے زندگی کی دلیلِ
کہن مل رہی ہے مگر
زرد چہروں سے محسوس ہوتا
ہے محرومِ جاں لوگ ہیں
کل مصلحت کے بیج بوئے تھے
مرے اجداد نے
اب کاٹنا ہیں مجھ کو عادل
عمر بھر مجبوریاں
نسلِ آئندہ میں غیرت کی
کمی لازم ہے
خوف بڑھتے ہوئے ارحام تک
آ پہنچا ہے
ہم سے کچھ لوگوں کی خبر
مل جاتی تھی
ملتا ہے اب اپنا پتہ کچھ
لوگوں سے
ہر سنگ کو خون پلا کر ہم
جب شہر سے نکلے تو یہ کھلا
صحرا کی تپتی ریت کو بھی
اک آبلہ پا کی خواہش تھی
اس کا پانی پہ بھی اجارہ
ہے
جس نے بھر دی ہے روٹیوں
میں آگ
فقیر لوگ ہیں ساقی تجھے
دعا دیں گے
ہماری سمت بھی ساغر کوئی اچھال کبھی
چلو عادل یہاں سے کوچ کر
جائیں کسی جانب
ہمارے شہر میں بونوں کی
سرداری کا موسم ہے
ہمیں معلوم ہے اندر اتر
جائے گا غم کتنا
مگر پھر بھی تمہاری یاد
سے باہر نکلنا ہے
تعاقب کر رہی ہے موت میرا
مرے مد مقابل زندگی ہے
پھر اس کو ہم نے محافظ
بنا لیا اپنا
وہ جس کا ہاتھ ہماری ہر
اک شکست میں تھا
شعر کیسا، کہاں کی غزل
یہ تو ہے داستانِ جنوں
بنایا ہے مرے دل کی تپش
سے اس نے سورج کو
تمہارے حسن کی لو سے مہِ
کامل بنایا ہے
نتیجہ کوئی نکلتا نہیں
ترے بارے
قیاسِ نکتہ وراں ساری رات
چلتا ہے
اک نہ اک دن تو اسے شہر
بدر ہونا تھا
وہ اصولوں کا تھا پابند،
اسی لائق تھا
منقولہ بالا شعروں میں
مضمون بندی، مضمون آفرینی اور تلازماتی نظام کے ساتھ ساتھ ہمیں استعاروں کا ایک
مضبوط تانا بانا ملتا ہے۔ موضوعات اور اظہار کی رنگا رنگی کے باوجود شہزاد عادل کی
غزل جیسے کسی نادیدہ ڈور میں پروئی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ ہنر اس کے قاری کو ایک
دوستانہ فضا فراہم کرتا ہے اور وہ فکری طور پر ہی نہیں محسوساتی سطح پر بھی شاعر
کے ساتھ بہ سہولت چل سکتا ہے۔ یہ کامیاب شاعری کی ایک علامت ہے۔
شہزاد عادل ملمع کاری نہیں
کرتا۔ ابہام کی اسے ضرورت ہی نہیں ہے؛ نہ تخلیقی سطح پر، نہ اسلوبی سطح پر۔ وہ
قاری کو امتحان میں نہیں ڈالتا ، حاصل یہ ہے کہ اس کا بیانیہ سادہ ہونے کے باوجود
اپنے اندر پُرکاری رکھتا ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
ہر گھڑی ہم نئے حادثوں کے
تعاقب میں رہنے لگے
دیکھنا، پھر کوئی حادثہ
ہو گیا ہے جہاں لوگ ہیں
ہے کاروانِ دل رہِ دشتِ
الم پر گامزن
ایسا نہ ہو کیسے کہ جب
ہیں راہ بر مجبوریاں
مے خانے سے گھر جانا بھی
مشکل ہے
چھپتی نہیں ہے لغزشِ پا
کچھ لوگوں سے
تیرا دل نرم کیوں نہیں
پڑتا
جب کہ ہوتی ہے پتھروں میں
آگ
اسے کرنی پڑی جذبات کی
شیرازہ بندی
حضورِ حسن میں دل بے زباں
یوں ہی نہیں تھا
دلوں کی آگ باہر آ گئی
تھی رفتہ رفتہ
ہمارا شہر عادل بے اماں
یوں ہی نہیں تھا
شہزاد عادل کے اشعار میں
ہمیں حسنِ تعلیل اور ذو معنویت کا حسین امتزاج بھی ملتا ہے۔ سادگی اور پرکاری،
استعاراتی نظام، صنعت گری، حسنِ تعلیل اور ذومعنویت سے مل کر ایک ایسی جمالیاتی فضا
بناتے ہیں کہ اس کے مضامین اور لفظیات ایک خوش ذوق قاری کی حسِ جمال سے بھی ہم
آہنگ ہو جاتے ہیں۔ کچھ اور مثالیں دیکھئے:
شہر کی ساری دیواروں پر
لکھا ہے
عادل تو جو کہتا رہا کچھ
لوگوں سے
یقین دل سے جسے ہو خدا کے
ہونے کا
غمِ حیات سے ہوتا نہیں
نڈھال کبھی
زیرِ نظر غزلوں کی زبان و
بیان میں کوئی بہت قابلِ ذکر فروگزاشت نہیں، کتابت کی ایک آدھ غلطی البتہ رہ گئی
ہے۔ میں فاضل شاعر کو یہ مشورہ ضرور دوں گا کہ ملائمت اور نرمی کے میلان کو
بڑھائیں، ان کی غزل مزید نکھرے گی۔
غزل کے بارے میں وہ جو
کہا جاتا رہا ہے کہ عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کی سی باتیں کرنا، یا اس کو گل
و بلبل اور لب و عارض سے ، یا ہجر و فراق اور وصالِ یار، حسن و عشق، داد بے داد
وغیرہ سے خاص کر دینا؛ وہ باتیں پرانی ہو چکیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ غزل نے
زندگی کے جملہ موضوعات کو اپنے اندر سمویا ہے اور ایسی خوبی سے سمویا ہے کہ متعدد
دیگر اصناف سے خاصی آگے نکل گئی ہے۔
دکھ، رنج، خوشیاں،
محبتیں، حسرتیں، شکوے، خوف، رجا، بیم اور دیگر مد وجذر کا تعلق جیسا انسان کے داخل
سے ہے، ویسا ہی انسان کے خارج سے بھی ہے۔ شہزاد عادل کے ہاں تعلقِ خاطر موجود ہے
مگر اس میں رومانی پہلو بہت زوردار نہیں۔ وہ لب و عارض کی بات بھی کرتا ہے، وصال و
ہجر کی بھی مگر بنیادی تبدیلی اس میں یہ آئی کہ تعلق کی نوعیت رومان سے آگے بڑھ کر
معاشرے، برادری، دوستی، اور اکرامِ باہمی کو احاطہ کرنے لگی۔ وہ روایتی محبوب کے
نازو ادا کی بات بھی کرتا ہے تاہم اس کا شاکی رہنے کی بجائے دوست، بھائی، راہنما،
چارہ گر، شہریار وغیرہ سے مکالمہ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
ہم سخن، ہم نفس، ہم سفر،
ہم نظر، ہم زباں لوگ ہیں
نفسا نفسی کے اس دور میں
بھی کئی مہرباں لوگ ہیں
اب تو کچھ بول صفائی میں
مری جانِ غزل
شائبہ وصل کا الزام تک آ
پہنچا ہے
جو موتی آنکھ سے ٹپکے تھے
دامن کی تمنا تھی ان کو
جو دل پہ لگے ان زخموں کو
مرہم کی، دوا کی خواہش تھی
کچھ لوگوں کی ساری باتیں
بھول گئیں
دل پر نقش ہے جو بھی کہا
کچھ لوگوں نے
صفوں میں حد نگاہ تک مقتدی
کھڑے ہیں
مگر ابھی تک امام ہے بے
وضو ہمارا
یہ کیسے خوف کا سایہ ہے
جو آیا ہے جنگل سے
بھری بستی کو جس نے اس
قدر بزدل بنایا ہے
معاشرتی روایات اور اقدار
شہزاد عادل کو بھی عزیز ہیں، وہ افکار میں بھی اور اظہار میں بھی روایت کے ساتھ
مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم وہ روایات کا اندھا پچاری نہیں ہے۔معاشی ناہمواری پر
بہت کچھ کہا گیا ہے، شہزاد عادل نے تفاوت کے کچھ دوسرے زاویوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس
کے نزدیک فکری ناہمواری زیادہ قابلِ توجہ ہے کہ کردار فکر سے تشکیل پاتا ہے اور اس
کے اثرات پوری معاشرتی اقدا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
اسی گلی میں فقیہانِ شہر
بستے ہیں
جہاں پہ ذکرِ بتاں ساری
رات چلتا ہے
خبطِ عظمت نے زمین بوس
کیا تھا جس کو
تھا وہ خود اپنا خداوند،
اسی لائق تھا
گناہ کرتا ہوں یہ جانتے
ہوئے عادل
کہ میری فردِ عمل سے وہ
دیکھتا ہے مجھے
مری میت بھی گھر کے صحن
میں رکھی ہوئی تھی
مرے گھر پر ہجومِ دوستاں
یوں ہی نہیں تھا
یہاں تک کہ وہ، جہاں
محسوس کرتا ہے، براہِ راست ناصحانہ انداز اپنانے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ اس کی یہ
پوری غزل ملاحظہ ہو:
حصارِ جبر و استبداد سے
باہر نکلنا ہے
ہمیں ہر حال میں افتاد سے
باہر نکلنا ہے
شہزاد عادل کے متعدد
اشعار اس کی ایک اور صلاحیت کے نمائندہ ہیں۔ بہ ظاہر وہ داخل کی بات کر رہا ہوتا
ہے اور مطالب میں خارج جھلکتا ہے یا اس کے الٹ، یا پھرایک ہی شعر اپنے اندر دونوں
رُخ رکھتا ہے۔
وہ شخص تو مدت سے ہے خوش
کن خبر کا منتظر
کیسے اسے میں لکھ کے
بھیجوں نامہ بر مجبوریاں
شوق سے تو قریب آ میرے
سوچ لے! ہے مرے لبوں میں
آگ
پلٹ کے آیا ہوں اپنی طرف
تو یاد آیا
جو ارتعاش مرے دل کی
بازگشت میں تھا
دبا دی ہے کہیں ہم نے بھی
پورے چاند کی خواہش
گھروندا ریت کا جب سے سرِ
ساحل بنایا ہے
شہزاد عادل نے گزشتہ دو
برسوں میں بہت غزلیں کہی ہیں، ہم نے سنیں بھی، ان پر گفتگو بھی کی۔ دوستوں کا کہنا
ہے کہ وہ شعر کہنے کے لئے ادبی نشستوں سے زیادہ اپنے روزمرہ گردو پیش سے تحریک
پاتا ہے۔ اُس کی شاعری اس امر کی گواہ ہے کہ وہ اپنی مجبوریوں سے ہنر کشید کرنے کا
فن جانتا ہے۔
وہ دن گئے جب لمحہ لمحہ
کمتری کا خوف تھا
اب شہرِ فنکاراں میں ہیں
اپنا ہنر مجبوریاں
شہزاد عادل کی ان
صلاحیتوں اور معیار کو سامنے رکھتے ہوئے میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں، کہ وہ
اپنی غیر متردد غزلوں کا ایک معتبر مجموعہ آج بھی لا سکتا ہے۔ ’’اچھا لکھتے ہو،
یار‘‘ ، شہزاد عادل!
******
محمد یعقوب آسیؔ سوموار ۱۲۔ اکتوبر۔ ۲۰۱۵ء
لیبلز:
20 غزلیں,
اردو شاعری,
اردو غزل,
تنقید,
ٹیکسلا,
دیارِ ادب,
شہزاد عادل,
محمد یعقوب آسی,
نقد و نظر,
ہم عصر
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)




