اردو ادب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو ادب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 25 اگست، 2018

میں کاٹ دی




میں کاٹ دی




          ابو خاصے پریشان تھے کہ اب کی بار قربانی کا کیا ہو گا۔ منڈی میں کام کا جانور شاذ و نادر دکھائی دیتا تھا۔ کوئی اچھا بکرا دکھائی دے جاتا تو بیچنے والا ستر ہزار، اسی ہزار مانگ لیتا۔ ابو کہتے تھے: ایسا نہ ہو کہ اچھے جانور اور مہنگائی کے چکر میں قربانی ہی جاتی رہے، محلے میں کسی کے ساتھ گائے میں حصہ رکھوا لو، چھوٹا جانور اچھا بن گیا تو وہ بھی لے لیں گے، نہ بنا تو کم از کم عیدِ قربان خالی تو نہیں جائے گی۔ عید ہو اور ہمارے ہاں قربانی نہ ہو؟ پچھلے چالیس برس میں ایسا نہیں ہوا، الحمد للہ۔ ابو کو یہی دھڑکا لگا تھا کہ اب کی بار کہیں ایسا ہو ہی نہ جائے۔ اس گھر کی تو روایت تھی کہ عیدالفطر کے قریب قریب کبھی رمضان کے اواخر میں کبھی شوال کے شروع میں ایک دو جانور خرید لاتے، دو مہینے ان کی خوب ”ٹہل سیوا“ ہوتی ، چارہ، دانہ، چَرائی، نہلانا دھلانا یوں ہوتا کہ جانوروں کے لئے کبھی بچوں کو اور کبھی امی کو بھی جھاڑ پلا دی جاتی کہ یہاں صفائی کیوں نہیں ہوئی، یہ جگہ گیلی کیوں ہے؛ وغیرہ۔

          ابو دفتر سے آتے تو جانوروں کی خدمت میں جُت جاتے۔ انہیں باہر گراؤنڈ میں لے جاتے،گھاس چَراتے، درختوں کی نرم شاخیں توڑ توڑ کر تازہ پتے کھلاتے۔ کپڑوں پر جانوروں کا پیشاب مینگنیاں لگتی ہیں تو لگتی رہیں، کوئی پروا نہیں۔ امی کہتیں: ”اپنے کپڑوں کا تو خیال کر لیا کرو، نماز پڑھنے جوگے بھی نہیں رہتے“۔ تنک کر کہتے: ”تو پھر دھو دو، اِن کو؛ صبح تک سوکھ جائیں گے۔ دانہ وَنڈا مجھے دو، ان کو کھِلا لوں، پھر بدل لوں گا کپڑے بھی!“۔ روزانہ دفتر جانے سے پہلے ایک طویل ہدایت نامہ جاری کرتے کہ ان کو پانی ایسے نہیں پلانا، ایسے پلانا ہے، جگالی نہ کریں تو مجھے فون کر دینا، بارش کا موسم ہے ان کو برآمدے میں باندھ لو؛ وغیرہ وغیرہ۔

          امی اُن سے بھی دو ہاتھ آگے ہوتیں: ”اے لڑکیو! اِ بے زبانوں کو کچھ کھانے کو دیا ہے؟ نہیں دیا نا؟ کھیل میں مگن ہو؟ اے میں کہتی ہوں، تمہارے باپ نے ان کو لا کے باندھ تو دیا ہے، بھوکے پیاسے رکھنے کو! اے لو، میری بھی مت ماری گئی، سبز چارہ تو وہ خرید کر دے گئے جاتے ہوئے، دانہ گھر میں پڑا ہے۔ اٹھو نکمیو! کھیلنا ہے تو اِن کے ساتھ کھیلو، قربانی کے جانور ہیں، لاڈ پیار تو اِن کا حق بنتا ہے“۔

          عید کے دن، نماز پڑھتے ہی گھر کو بھاگتے، کسی ساتھی کی مدد سے جانور کو ذبح کرتے، کھال اتارتے میں خراب کر بیٹھتے تو شرمندہ بھی ہوتے۔ امی کہتیں کسی قصائی کو بلا لیا کرو، تو کہتے: ”نہیں، ابھی ہاتھ ٹھیک نہیں پڑتا، پڑنے لگے گا۔ قصائی والی بات دل کو نہیں لگتی، اور پھر کون اس کا انتظار کرتا رہے! سچی بات ہے خود اپنی تسلی نہیں ہوتی“۔ ہوتے ہوتے ابو کا ہاتھ گھل گیا۔ اب بھی اکثر کہا کرتے ہیں: اپنا کام اپنے ہاتھوں کرنے کا لطف بھی اپنا ہے۔ اور ان کی یہ بات صرف کہنے کی نہیں، کرتے بھی خود ہیں؛ اگرچہ اب ان کی توانائیاں ویسی نہیں رہیں۔ ریٹائر ہوئے دس برس سے اوپر ہو گئے۔ اب بیٹوں سے کہتے ہیں کہ خود سنبھالو سارا کچھ۔ کہنے کو کہہ دیتے ہیں مگر ساتھ لگے رہتے ہیں، ہر بات پر ٹوکتے ہیں، ایسے کرو، ایسے نہ کرو، تم نے نہیں ہو گا، لاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ چھری پکرٹے ہیں، ایک دو ہاتھ چلاتے ہیں اور ہانپنے لگتے ہیں: لو بھئی، اپنی جان ساتھ نہیں دیتی۔ تمہارا کام ہے، کرو۔ میں چلا اپنے کمرے میں! یہاں رہوں گا تو تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ تب ابو کا زیادہ وقت گھر سے باہر گزرا کرتا تھا۔ امی کی وفات کے بعد پورا پورا دن گھر میں پڑے رہتے۔ کوئی ملنے کو آ گیا تو آ گیا، اپنا کہیں آنا جانا ”بہت ضروری“ تک محدود ہو گیا۔ اپنے کمرے سے بھی حسبِ ضرورت نکلا کرتے، اور جب نکلتے تو ان کی آنکھیں اور ناک سرخ ہوتیں اور چہرے پر سجی مسکراہٹ میں تصنع جھلکتا۔ کوئی پوچھتا تو زکام کا بہانہ کر دیتے۔ وہ طنطنہ جو اُن کے لہجے کا خاصہ ہوا کرتا تھا، جاتا رہا۔ تاہم مزاج میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

          بات ہو رہی تھی اس عیدالاضحی کی۔ ہفتہ پہلے خالدی (بیٹے) کو پچاس ہزار دے دئے، اور کہہ دیا اچھا جانور لے کر آنا ہے۔ ایک بکرا آتا ہے تو ایک لے آؤ، دو آتے ہیں تو دو لے آؤ۔ خالدی صاحب، سارا دن گزار کر خالی لوٹ آئے، اگلے دن پھر لوٹ آئے کہ منڈی قابو میں نہیں ہے۔کہا: ”کل پھر جاؤ، پیسے اور چاہئیں تو لے جاؤ، کوئی جانور لاؤ، نہیں ملتا تو یہاں کسی کے ساتھ گائے وغیرہ میں شامل ہو جاؤ، وقت ضائع نہ کرو“۔ پھر بجھے ہوئے لہجے میں بولے: ”پانچ دن میں کوئی کیا سیوا کر لے گا، جانور دیکھ کر لانا یار، بیمار وغیرہ نہ ہو۔ ایک دو مہینے ہوں تو دوا دارو بھی ہو جاتا ہے، پانچ دن میں تو کچھ نہیں ہو سکتا“۔

          خالدی صاحب غروبِ آفتاب کے بعد پلٹے۔ کسی بکرے کا بھاؤ نہیں بنا تھا، سو وہ ایک بچھڑا لے آئے۔ بچھڑا مناسب ہی تھا۔ ایک رات تو اسے پڑوس میں دودھ والوں کے ہاں باندھا، اگلے دن فیصلہ ہوا کہ جب اپنے صحن میں کچی جگہ بھی ہے، درخت بھی ہیں، دھوپ بھی ہے سایہ بھی ہے تو پڑوسیوں کے ہاں باندھنے کی کیا ضرورت ہے، اسے گھر پر ہی رکھا جائے۔چھوٹے بچوں کی تو گویا اسی دن عید ہو گئی۔ اڑوس پڑوس سے اپنے ہم عمر بچوں کو لا رہے ہیں، دکھا رہے ہیں، ہم اس کو عید پر ذبح کریں گے؛ وغیرہ وغیرہ۔ سب سے چھوٹی ڈھائی برس کی عیشہ جانوروں کے قریب نہیں جاتی، دور سے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ اس کی لغت میں بکرا بھی ”میں“ ہے اور بچھڑا بھی ”میں“ ہے۔ دو دن بعد دو بکرے بھی آ گئے، ایک اپنے لئے اور ایک اپنے عزیزوں کا۔ بکرا اکیلا ہو تو شور بہت مچاتا ہے، دو ہوں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر چپ رہتے ہیں۔ دانے چارے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ابو کے حکم نامے گھر کے سارے افراد (خالدی، اس کی بیوی، دوسرا بیٹا، بیٹی )کے لئے پھر سےجاری ہونے لگے۔ 

          عید کا دن آ گیا۔ مرد عورتیں عید کی نماز سے واپس ہوئے۔ تو پہلے عزیز میاں کا بکرا ذبح کیا گیا، پھر اپنا۔ گوشت تیارہو گیا تو گھر والوں کو حکم دیا کہ اس کو تقسیم کریں، پکائیں، محلے کے ان گھروں میں بھیج دیں جن کی قربانی نہیں ہے۔ دن کے دو بجے کے قریب بچھڑے کی باری آئی۔پڑوس میں ایک ساتھی کا گائے ذبح کرنے اور کھال اتارنے کا تجربہ کار، اپنے بھائی کے ساتھ آ گیا تو جانور کو رسیوں وغیرہ سے باندھ کر گرایا گیا۔ چھوٹے بچے، اپنے بھی اور کچھ پڑوسیوں کے بھی، جمع تھے اور ابو اُن سب کو لے کر برآمدے میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ بچے معصومانہ سوال کرتے، ابو کا جواب دیتے اور ہر آدھے منٹ بعد بچوں کو یاد دلاتے کہ جانور کے قریب نہیں جانا، چوٹ بھی لگ سکتی ہے؛ وغیرہ۔

          خالدی صاحب نے بچھڑے کا سر مضبوطی سے پکڑ کر زمین سے چپکایا ہوا تھا، کہنے لگا: ”ابو، وہ ذبح والی چھری دیجئے ذرا“۔ ابو اٹھے خالدی چھری پکڑائی اور چارپائی پر آ گئے۔ انہوں نے دیکھا عیشہ ایک دم پریشان ہو گئی اور اس کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا، اس نے منہ بسورا اور پھر رونے لگی: ”نہیں نہیں نہیں“!۔ تب تک بچھڑے کی گردن پر چھری پھر چکی تھی۔بچی ایک دم دھاڑیں مار کر رونے لگی: ”میں کاٹ دی، میری میں کاٹ دی“۔ اس کا رونا خون دیکھ کر یا ڈر کی وجہ سے نہیں تھا، بچھڑے سے لگاؤ کی وجہ سے تھا۔وہ یوں بلک بلک کر رو رہی تھی کہ اس کا درد صرف محسوس کیا جا سکتا تھا، بیان نہ ہو پاتا۔ ابو اسے اٹھا کر اند لے گئے، وہ ہچکیوں میں کہہ رہی تھی : ”پھوپھو! بابا میں کاٹ دی! ماما! بابا میں کاٹ دی“۔ ”بیٹا! وہ تو ہم لائے ہی کاٹنے کے لئے تھے! میں اللہ کےپاس گئی“ مگر بچی تھی کہ روئے جا رہی تھی: ”بابا، میں کاٹ دی۔ بابا اچھے نہیں“۔ ابو سے زیادہ شاید ہی کوئی اس بچی کا مزاج آشنا ہو گا۔ وہ شدید بے چینی کے عالم میں کبھی برآمدے میں چلے جاتے کبھی اپنے کمرے میں۔ بچی کا کرب ان کے چہرے پر عیاں تھا؛ پھر انہوں نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ بچی رو رہی تھی، اسے کوئی کھلونا دیتے تو پھینک دیتی، ماں بلاتی تو کہتی : میں بولتی نہیں۔ خالدی صاحب اندر آئے عیشہ کو مخاطب کیا تو کہنے لگی: ”میں بولتی نہیں، بابا اچھے نہیں، میں کاٹ دی“۔ بڑوں کے پیار، چمکار کے اثر سے کوئی گھنٹہ بھربعد بچی پر سکون ہو گئی اور پھر سو گئی۔ ابو کمرے سے باہر نکلے تو سب نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ اے کاش ہماری میں  بھی کسی طور کاٹی جا سکے! قربانی تو اُس کی ہے جس نے یہ میں کاٹ دی۔


تحریر: محمد یعقوب آسیؔ
ہفتہ      25 اگست 2018ء
  



منگل، 27 اکتوبر، 2015

بہت رستہ پڑا ہے




بہت رستہ پڑا ہے

زاہدہ رئیس راجیؔ کا اولین شعری مجموعہ ’’خواب گھروندا‘‘ ... ایک مطالعہ
*****


ذات کے ادراک میں راجیؔ کہاں تک آ گئی
ورنہ شاید زاہدہؔ سے شاعری ممکن نہ تھی

شعر کوئی کی طرف اولین احساس شاید یہی ذات کا ادراک ہے، جو متنوع مراحل سے گزرتا ہوا اظہار تک پہنچتا ہے۔ یہ اظہار قاری اور شاعر کے مابین ایک رشتہ قائم کرتا ہے، حرف کا رشتہ۔ ادراک سے اظہار تک کا سفر اپنی ہی نوعیت کا سفر ہے کہ مسافر کا پہلا قدم مکمل بے سر و سامانی کے عالم میں اٹھتا ہے اور وہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے، اس سفر کی دھول، تھکن، آبلے، ولولے، شوق، حوصلے، اس کے لئے زادِ راہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ میں نے اس بات کو کچھ یوں بیان کرنے کی کوشش کی ہے: 
چلو، آؤ چلتے ہیں بے ساز و ساماں
قلم کا سفر، خود ہی زادِ سفر ہے

میں زاہدہ رئیس راجیؔ کو اُس کے اسی زادِ راہ کے حوالے سے جانتا ہوں۔ مناسب تر الفاظ میں میرے پاس اس کے تعارف کا ثانوی ذریعہ وہ بہت مختصر تعارف ہے جو اس نے میرے استفسار پر پیش کیا، تاہم اساسی ذریعہ اس کا یہ ’’خواب گھروندا‘‘ ہے جس کی طرف اس کا سفر جاری ہے۔ وہ اسی زادِ راہ کی بات کرتے ہوئے کہتی ہے: ’’ادب کی کون سی صنف میں کب لکھنا ہے اور کیا لکھنا ہے اس کا فیصلہ خود بہ خود ہوتا چلا گیا‘‘۔ ایک تخلیقی ذہن کے پروان چڑھنے میں یہ رویہ بہت ممد ثابت ہوتا ہے کہ صنفی یا موضعاتی حوالے سے خود پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے، ادب کی اَقدار کا پاس بہر حال کرنا ہوتا ہے اور انہیں اقدار کے منسلک رہ کر اپنی شناخت حاصل کرنا حرف کے سفر میں اہم کامیابی ہوتی ہے۔ یہ کہنا تو خیر مشکل ہے کہ زاہدہ نے اردو شعر میں اپنی شناخت بنا لی ہے۔ اس کا یہ اولین شعری مجموعہ دیکھ کر یہ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ شناخت کی منزل اس سے بہت دور نہیں ہے، تاہم اس کو ابھی بہت محنت کرنی ہو گی۔ میں ادریس آزاد سے متفق ہوں کہ: ’’اس کے اندر محنت کا عنصر کم ہے، البتہ ہ یہ ضرور جانتی ہے کہ پامال ہوئے بغیر کوئی راستہ منزل تک نہیں جا سکتا‘‘۔ فاضل مضمون نگار میرے منہ کی بات مجھ سے بہتر انداز میں کہہ گئے کہ: ’’زاہدہ کو بھی ہر شاعر بلکہ ہر انسان کی طرح ہمیشہ پہلے سے بہتر ہونے کی نہ صرف طلب ہے بلکہ ضرورت بھی ہے‘‘۔ قلم اور خاص طور پر شعر میرے نزدیک اکتسابی چیز نہیں، کوئی شخص یا تو شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ ہم کسی غیرشاعر کو شاعر نہیں بنا سکتے، ایک کمزور شاعر محنت کر کے اچھا شاعر بن سکتا ہے۔ زیرِنظر کتاب میں معدودے چند فرگزاشتیں ہیں جو غالباً بلوچی اور اردو تلفظ اور تذکیر و تانیث کے فرق کا شاخسانہ ہیں یا پھر کتابت کی اغلاط رہی ہوں گی۔ بہ این ہمہ زاہدہ کا شمار کمزور شاعروں میں نہیں ہوتا، بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہا کرتی ہے۔ بالفاظِ دیگر شعر کا سفر جاری رہتا ہے اور اس میں ہر اگلا قدم نیا زادِ راہ فراہم کرتا ہے۔ 

شعر کہنا کسی مفرد احساس یا عمل سے تکمیل پذیر نہیں ہوا کرتا۔ اس میں شاعر کی شخصیت کے جملہ عناصر کارفرما ہوتے ہیں؛ اس اضافے کے ساتھ کہ حرف کی آبیاری خونِ جگر سے کرنی ہوتی ہے۔ پروفیسر انور مسعود نے ایک طویل گفتگو کے دوران بہت پتے کی بات بتائی کہ انسان ایسی سادہ چیز بھی نہیں کہ ہم اس کا سالٹ انالیسس کر کے بتا سکیں کہ اس میں غصہ اتنا ہے، حساسیت اتنی ہے، شعور اتنا ہے، محبت اتنی ہے، نفرت اتنی ہے، ہم دردی اتنی ہے، خلوص اتنا ہے؛ وغیرہ۔ لہٰذا ہم شعر کا تجزیہ بھی ان خطوط پر نہیں کر سکتے، ہمیں اس سے بالاتر اور زیادہ فطری پیمانے درکار ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے معتبر پیمانہ شعری روایت ہے، جس میں یہ سارے عناصر اور مذہب، نظریات، عقائد، معاشرتی پس منظر اور پیش منظر، اندازِ فکر، ترجیحات، تمنائیں، مقاصد، ولولے، خدشات اور انسانی مابعدالطبیعیات شامل ہوتی ہیں۔ 

زاہدہ رئیس راجیؔ کی شخصیت کا مجھے بہت تھوڑا اندازہ ہے۔ اس کا معروضی خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے آباء و اجداد ایک شاندار بلوچی تہذیب کے مقتدر قبیلے سے ہیں، جو امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اس سفید پوش طبقے میں ڈھل گئے ہیں جو اپنی شاندار تہذیبی روایات کو بہر طور عزیز رکھتا ہے۔ زاہدہ کے گھر میں بلوچی بولی جاتی ہے۔ طرزِ معاشرت وہی رئیسی بلوچوں کا ہے، تاہم نصف صدی کے لگ بھگ کراچی شہر میں بود و باش کے اثرات سے انکار بھی ممکن نہیں۔ اس کا اثر زاہدہ کی لفظیات پر بھی پڑا ہے۔ اس کی مادری زبان کا رجحان اردو کی نسبت فارسی کی طرف زیادہ ہے، اور اس کی رسمی تعلیم بھی سائنسی علوم کی ہے، جہاں انگریزی سکہ چلتا ہے۔ 

اس تناظر میں زاہدہ کے یہ الفاظ بہت قیمتی ہو جاتے ہیں: ’’نثر سے ابتدائی سفر طے کرتے کرتے جب چودہ سال کی عمر میں اچانک اردو شعر گوئی کی دنیا میں پہلا قدم رکھا تو پیچھے ماسوائے ایک چیلنج کو قبول کرنے کے کوئی خاص وجہ تو نہیں تھی، لیکن پہلی شعری تخلیق کے پہلے مصرع ’’کتابِ شاعری میں درد کی دنیا بسی ہے کیوں‘‘ نے اندر کی شاعرہ کے بارے میں روزِ اول سے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ اس کے آگے کی منزلیں آسان نہیں ہیں‘‘۔ اس کے بعد زاہدہ نے کچھ مرحلے گِنوائے ہیں اور ناقدین کے اختیار کردہ متنوع بلکہ بسا اوقات متصادم معیارات کا شکوہ بھی کیا ہے۔ یہ امر اس کے ادبی سفر کی تفہیم میں اچھی خاصی مدد دیتا ہے۔

ہمیں جو کچھ اپنے بزرگوں سے حاصل ہوتا ہے وہ صرف مال و منال نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی وراثت اقدار ہوتی ہیں، جو غیر محسوس طریقے پر ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ زاہدہ کا دامن ان اقدارِ پر وقار سے بھرا ہوا ہے۔

اس کے شعروں میں جہاں متانت غالب عنصر کے طور پر جھلکتی ہے، وہیں اعتماد اور شخصی وقار بھی رچا بسا ہے۔ اس نے عورت کی نمائندگی شاید اس انداز میں نہیں کی جیسی ہمیں دیگر بعض شاعرات کے ہاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے نسائیت اپنی پوری قوت کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم ایک فرق کے ساتھ، جس کی مثال یوں سمجھئے کہ وہ بڑی ساری چادر میں لپٹی ہونے کے باوجود اپنی چال ڈھال سے ایسی خاتون دکھائی دیتی ہے، جو بہت سنبھل سنبھل کر قدم اٹھا رہی ہو۔ بہ این ہمہ اس کی ذات میں چھپا ہوا کوئی بہت ہی گہرا اور بہت ہی ذاتی دکھ اپنے ہونے کا پتہ دے جاتا ہے، جسے وہ اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتی ہے اور شاید کسی کو ہمراز بھی نہیں بنانا چاہتی۔ اس کوشش میں اس کے اشعار میں کرب اور تلخی کی کیفیت شامل ہو جاتی ہے۔ اس نے زندگی کی پہلی سانس اب سے کوئی پینتیس برس پہلے یہیں کراچی میں لی۔ تب کراچی یقیناً ویسا نہیں تھا جیسا اب ہے۔یہ اس کا دوسرا کرب ہے۔ اگرچہ اس نے کراچی کی فضا کے بارے میں براہِ راست بہت کم شعر کہے ہیں تاہم اس کی شاعری میں یہ کرب بھی اپنی جھلک ضرور دکھاتا ہے۔ معاشرتی معاشی اخلاقی اور ثقافتی شکست و ریخت سے اٹے اس راستے پر زاہدہ اپنی خود اعتمادی، برداشت اور تنہائی کو ساتھ لئے زندگی کے سفر پر رواں ہے۔
ہواؤں کا سفر ہلکا نہیں تھا
مگر آنچل کبھی ڈھلکا نہیں تھا

دیکھ لو راجیؔ خدا کے نور سے
شب کی آنکھوں میں ضیا کا راستہ

جب دل سے دعائیں اٹھتی ہیں
ملتی ہیں دوا کی تاثیریں

فطرت نے اسے لفظ کے ساتھ تعلق کی نعمتِ بیش بہا عطا کی، جس کا مختصر احوال ہم کتاب میں شامل اس کی خود نوشت میں دیکھ چکے ہیں۔ لفظ کی یہ متاع ساتھ لئے اس نے اپنے خارج سے داخل کی طرف سفر کی پہلی منزل سر کر لی ہے۔ ابھی اس کو اپنے داخل کی بھول بھلیوں میں بھی ایک طویل تر سفر درپیش ہے، جس کی تکمیل کے بعد اپنے داخل کو ساتھ لئے، اپنے خارج کی طرف آ کر اسے اگلی منزلوں کی طرف روانہ ہونا ہے۔
کہاں منزل؟ ابھی تو
بہت رستہ پڑا ہے

جہاں رستہ بہت ہے وہیں اس کے پاس قابلِ قدر زادِ راہ بھی ہے جس میں سب سے قیمتی شے راستوں کے پیچ و خم کا ادراک ہے۔ اس کے پاس اعتماد اور عزم کی سواریاں بھی ہیں اور دعاؤں کا توشہ بھی ہے۔ تلخ تجربوں کے کانٹے بھی اسے درپیش ہیں اور خدشات کی دھول بھی اس کے سر پر اڑ رہی ہے۔ گزرے ہوئے سفر نے اسے دکھوں کی ٹیس بھی دی ہے، اور تھکن بھی۔ بہ این ہمہ اس کی جاگتی آنکھوں کے خواب ہیں جو اس کو روایات کے تپتے صحرا کے اس پار دکھائی دیتے ایک ننھے سے گھروندے کی طرف کشاں کشاں لئے جاتے ہیں۔
ان دِکھے خواب کی تعبیر لیے پھرتی ہے
جانے کس راہ پہ تقدیر لیے پھرتی ہے
روٹھ کر کیا گئی خوشی ہم سے
پھر ملاقات عمر بھر نہ ہوئی

زاہدہ کے اشعار میں مجھے اس کا ایک ایسا دکھ جھلکتا دکھائی دیا، جسے اس نے شاید کسی کے ساتھ بھی سانجھا نہیں کیا۔ ایک ایسا کرب جو اس کے اپنے نام کی معنویت سے متصادم ہوتا ہے تو اس کی سوچوں کو ایک تعمیری تخلیقی رخ دے جاتا ہے۔
نہ کوئی خواب ہے باقی نہ ہی خیال کوئی
بکھر گیا ہے مرا خواب زار آنکھوں میں

وہ بھی ماتم کناں ہوا راجیؔ 
جس نے کاٹے تھے میرے سارے پر

اپنے مابین کوئی تیسرا آیا ہی نہ تھا
فاصلہ بیچ کا پھر حد سے بڑھایا کس نے؟

اس غزل کا ایک مصرع ’’میں کہ پتھر تھی مجھے شیشہ بنایا کس نے‘‘ بہت سے ان دیکھے خوابوں کی کہانی سنا جاتا ہے۔ خود سے لڑتے لڑتے جب وہ بکھرنے لگتی ہے تو پکار اٹھتی ہے۔
تم نہ مانو گے کبھی اپنی خطائیں لیکن
کبھی فرصت میں مری بات پہ سوچا کرنا

تم چلے جاؤ، پلٹ کر نہیں دیکھیں تم کو
شرط یہ ہے کہ خیالوں سے نہ گزرا کرنا

زاہدہ رئیس راجیؔ کی شاعری اس کے مضبوط امکانات کی نقیب ہے۔ اس جملے کے ساتھ میری بات، مکمل ہوتی ہے۔ اس کی یہ دو مختصر نظمیں پڑھئے۔

آڑ
جسے تم چاہ کہتے ہو
انا سے ماورا شے ہے
مگر اتنا سمجھنے میں
انا ہی آڑ ہے ہم دم

استفسار
مرے اندر ٹٹولو گے
پلندہ دل کا کھولو گے
تو اِن آنکھوں کے رستے سے
خموشی چیخ اٹھے گی
فقط اک بات پوچھے گی
لبوں سے لفظ چھینو گے
تو آخر کون بولے گا؟
*****
تحریر: محمد یعقوب آسیؔ ... اتوار 25 مئی 2014ء ۔




جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

ناراض ہوائیں ۔۔ ریڈیو ڈراما





ناراض ہوائیں
تحریر:  محمد یعقوب آسی (ٹیکسلا) پاکستان



کردار اور صدا کار

پہلا لڑکا:
(15، 20 برس کا لڑکا)
ریاض شاہد (بحرین)
دوسرا لڑکا:
(15، 20 برس کا لڑکا)
ڈاکٹر احمد طلال آصف (لاہور)
پکارنے والا:
(پختہ عمر کا کراری آواز والا شخص)
شوکت علی ناز (دوحہ)
چھیدُو:
(30، 35 برس کا صحت مند شخص)
ڈاکٹر محمد آصف مغل (میاں والی)
موجو:
(40، 45 برس کا نشے باز آدمی)
ریاض شاہد (بحرین)
سرفراز:
(20، 25 برس کا صحت مند جوان)
ڈاکٹر صغیر اسلم (کینڈا)
نادر:
(25، 30 برس کا مہذب شخص)
حبیب الرحمٰن مشتاق (گلگت)
ڈاکٹر:
(عمر : 30، 35 برس )
خالق داد امید (پشاور)
شمو:
(20، 22 برس کی نوجوان بیوہ)
الماس شبی (امریکا)
جنتے:
(55، 60 برس کی گرتی ہو صحت والی خاتون)
لیلیٰ رانا (لاہور)
چاچا رفیق:
(60 برس کا بوڑھا، بیمار سا شخص)
محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا)


صدا بندی: الماس شبی، خالق داد امید
ہدایات: الماس شبی
پیش کش: پنج ریڈیو، اَل پاسو، یو ایس اے


(1)
سہ پہر کا وقت، گاؤں کے ساتھ باہر کا منظر، ایک درخت کی چھاؤں میں
اس منظر کے کردار: پہلا لڑکا، دوسرا لڑکا، چاچا  رفیق
فصلوں اور درختوں سے گزرتی تیز ہوا کی سیٹیاں، بھینسوں کے ڈکرانے اور بکریوں کے ممیانے کی ملی جلی آوازیں جو کبھی بلند ہو جاتی ہیں اور کبھی مدھم،  ایک عمر رسیدہ شخص کے کھانسنے کی آواز۔

پہلا لڑکا: دھوپ آ گئی ہے یار، اس ککری کا سایہ بھی تو اتنا سا ہے۔
دوسرا لڑکا: تھوڑا سا ادھر کھسک جاتے ہیں۔
پہلا لڑکا: چل یار، چال چل، چھوڑ چھاؤں کو! تو جل نہیں جائے گا۔
دوسرا لڑکا: یہ لے حکم کی دکی! (پتہ پھینکنے کی آواز) اب تیری باری ہے۔
پہلا لڑکا: اے ! یہ لے پھر! رَنگ!
پہلا لڑکا: وہ، اُدھر دیکھو اوئے، وہ ڈنگوری والا بابا ۔۔۔ ۔
دوسرا لڑکا: وہ جو کھیت سے نکلا ہے، وہ چاچا رفیق ہے۔
پہلا لڑکا: اوئے پتے سمیٹ اوئے، چاچا کیا کہے گا، تاش کھیل رہے ہیں۔
چاچا رفیق کے کھانسنے کی آواز
دوسرا لڑکا: سلام! چاچا!
چاچارفیق: وعلیکم السلام! کیسے ہو بھئی؟ کیا ہو رہا ہے؟
پہلا لڑکا: کچھ نہیں چاچا، بیٹھے ہیں گپ لگ رہی ہے۔
چاچا رفیق: اچھا ہے! مل جل کر رہا کرو بچو! اور بڑوں سے دعائیں لیا کرو ۔
ہولے ہولے دور جاتے قدموں کی تھپ تھپ


(02)
سہ پہر کا وقت، گاؤں کی ایک گلی میں
اس منظر کے کردار: چاچا  رفیق، شمو، سرفراز

چاچا رفیق: (خود کلامی کے انداز میں) مٹی، گَرد! یہ سڑک، یہ سڑک بھی تو اب گرد کی پٹی لگتی ہے (کھانستا ہے) چوتھا برس لگ گیا، شمو کو بیوہ ہوئے! اب تک نہیں سنبھل پائی میری بچی۔ اس کی زندگی میں صرف وہی ہفتہ دس دن تھے خوشیوں کے؟ اللہ! وہ دونوں کتنے خوش تھے! مگر، یہ سُوکھا! یہ سُوکھا نہ پڑتا تو شاید سرفراز نہ مرتا۔ پر کیسے نہ جاتا وہ،  وہ شمو پُتر کے ترلے، یوں ہی بس! میں نے سن لئے تھے۔ (ٹھنڈی سانس لیتا ہے) ہاں! سننا پڑتا ہے، دیکھنا پڑتا ہے، سہنا پڑتا ہے۔

گھڑی کی ٹِک ٹِک کی آواز
فلیش بیک
وقت کا تعین ضروری نہیں، ایک گھر کا صحن

شمو: دیکھ سرفراز! مجھے ڈر لگتا ہے، نہ جا! جانا ہی ہے تو مجھے بھی ساتھ لے جا۔ بہت وسوسے بھرے ہیں میرے دل میں! سرفو! تو نہ جا! ہم فاقے کر لیں گے مگر ۔۔۔ میرے ہاتھوں کو دیکھ سرفو!
سرفراز: کیا ہوا ہے تیرے ہاتھوں کو؟ اچھے بھلے تو ہیں! اور یہ مہندی! ۔۔۔
شمو: تیرے لئے لگائی تھی سکھیوں نے، ڈولی والے دن! تجھے پسند آئی نا، تو اس کی لشک بڑھ گئی۔ تو کیوں جاتا ہے سرفراز مجھے اکیلی چھوڑ جائے گا۔ (لوچ دار آواز میں) ابھی تو دس دن بھی نہیں ہوئے۔
سرفراز: (ٹھہرے ہوئے لہجے میں) بانْوری ہو رہی ہو شمو! جانے کو کس کٹھور کا جی چاہتا ہے پر مجھے جانا ہے۔ یہاں تو کھیتوں میں فصلیں نہیں دھول اگتی ہے۔ شہر جاتا ہوں، کچھ دال روٹی کا بھی تو کرنا ہے! تو میرے ساتھ جائے گی، ہاں!
شمو: (مسرت آمیز حیرت کے ساتھ) سچی!؟ سچی، سرفراز! تو مجھے ساتھ لے جائے گا؟ (بے تابی کے ساتھ) کب جانا ہے؟ میں تیار ہو جاؤں؟ پر، سرفو! اماں اور ابا؟ وہ اُن کو روٹی کون پکا کے دے گا؟ کپڑے کون دھوئے گا۔
سرفراز: کل جانا ہے۔ تو اس طرح کر! آدھی میرے ساتھ چل اور آدھی یہاں رہ، اماں بابا کو بھی تو تیری ضرورت ہے۔
شمو: کیا؟! میں نہیں سمجھی تو کیا بجھارت ڈال رہا ہے۔
سرفراز: سیدھی سی بات ہے جھلئے! تیرا دل میرے ساتھ اور تو؟ اماں بابا کے ساتھ۔ یہاں تو اب مزدوری بھی نہیں ملتی، کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے نا، اس پاپی پیٹ کے لئے! یوں سمجھ کہ آج بارش ہوئی اور کل میں آیا۔
شمو: پر کون جانے بارش کب ہو گی! اور ہو گی بھی کہ نہیں ہو گی (ٹھنڈی سانس بھرتی ہے)۔
سرفراز: ہَوکے کیوں بھر رہی ہے شمو! لا، ذرا اپنے ہاتھ تو مجھے دے۔
شمو: (محبت اور شکایت کے ملے جلے لہجے میں) کیا کرتا ہے! چھوڑ مجھے! کوئی دیکھ لے گا، کوئی سن لے گا، نہ کر!۔
(دونوں ہنستے ہیں پس منظر میں گھنٹیوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں اور ہنسی ان میں تحلیل ہو جاتی ہے۔)

فلیش بیک ختم
گھڑی کی ٹِک ٹِک کی آواز

چاچا رفیق: (خود کلامی کا سلسلہ جاری رہتا ہے) اور وہ چلا گیا۔ مگر اگلے ہی دن لوٹ آیا،  ایک کٹی پھٹی لاش کی صورت میں! سڑک پر کام کرتے میں کوئی ٹرک اس کو کچل گیا تھا۔ (رونے پیٹنے اور بَین کرنے کی آوازیں جیسے کہیں دور سے آ رہی ہوں، چاچا رفیق کی آوازوں کو دبا دیتی ہیں اور پھر مدہم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہیں۔ چاچا کی خود کلامی جاری رہتی ہے) پھر میری بچی کو چپ لگ گئی تھی۔



(03)
رات کا وقت، گھر کا ایک کمرہ
اس منظر کے کردار: جنتے، چاچا  رفیق، شمو

رات کی خاموشی، جھینگروں کی آوازیں مسلسل آ رہی ہیں؛ بیچ میں کہیں کہیں کسی ڈھور ڈنگر کے گلے میں بندھی گھنٹی کی ہلکی سی آواز آتی ہے یا پھر کسی الو کی گمبھیر "اُوووو" اور پھر جھینگروں کی آوازیں


جنتے: یہ روتی کیوں نہیں ہے! شمو کے ابا، اِس کو رلا! جیسے بھی رلا سکتا ہے! مجھ سے اس کی چُپ نہیں سہی جاتی۔ دل پھٹ جائے گا اس کا نہیں روئے گی تو۔
چاچا رفیق: ٹھیک کہتی ہے تو، پر تو اس کی ماں ہے، جنتے! ماں سے بہتر کون جان سکتا ہے بیٹی کو! بیٹا ہوتا تو ۔۔ (ٹھنڈی سانس بھرتا ہے) ۔ دَس دِن کا سہاگ  اور پھر بیوہ! تجھے پتہ ہے نا! یہ تین برس ، مجھے تیس برس اور بوڑھا کر گئے ہیں۔
جنتے: بارش بھی تو نہیں ہو رہی۔ شاید! مینہ برسے تو اس کی چپ ٹوٹ جائے۔
(تیز ہوا کی سیٹیاں سی بجتی ہیں اور اور دور کہیں بادل گرجنے کی آواز آتی ہے)
شمو: اماں! اماں! بادل گرجنے کی آواز! سنی تو نے! وہ، وہ آتا ہو گا۔ ۔۔ اماں میرے کپڑوں کا رنگ کیسا ہے اماں!
جنتے: سُوہا رنگ ہے بیٹی! مہندی سے بھی گاڑھا، جیسا سرخ جوڑا ہوتا ہے۔
شمو: نہیں اماں! سُوہا جوڑا ایسا نہیں ہوتا، یہ تو کالا رنگ ہے۔ سوہا ایسا نہیں ہوتا، یہ کالا ہے، کالا ۔۔
جنتے: نہیں بیٹی! اندھیرا ہے نا، رات ہے! اس لئے تجھے کالا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہے سُوہا رنگ۔
(بادل گرجنے کی آواز جیسے نزدیک سے آتی ہے)
شمو: ہاں، اماں! رات ہے نا، اندھیرا ہے۔ اندھیرا ہی تو ہے! اماں! بادل گرج رہے ہیں۔ پر پتہ نہیں! بارش کب ہو گی!؟
 چاچا رفیق: سو جا میری بیٹی، بارش ہو گی! ضرور ہو گی۔ کبھی تو ہو گی ہی، تو سو جا میری بچی!
جنتے: میں کہتی ہوں رُلا، اِس کو! اور تو سُلا رہا ہے! پھیکے! رُلا اِس کو! ایک چپیڑ ہی مار دے!
چاچا رفیق: میں کیسے رُلاؤں اس کو، بھاگاں والئے! تو ماں ہے نا اس کی! تو اس کو سمجھتی ہے کیسے روئے گی یہ! تو کر کچھ۔
جنتے: میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔ میں کیا کروں، ربا!
(ہواؤں کی سرسراہٹ بڑھ کر سیٹیوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پھر ہولے ہولے خاموشی چھا جاتی ہے)



(04)
دن کا وقت، گاؤں کی ایک گلی میں
اس منظر کے کردار: نادر، چاچا  رفیق، شمو

نادر: السلام علیکم چاچا!
چاچا رفیق: و علیکم السلام، کیسے ہو نادر؟
نادر: ٹھیک ہوں چاچا، آپ کی صحت کیسی ہے؟
چاچا رفیق:  ٹھیک ہے،  (کھوکھلی ہنسی ہنستے ہوئے) جیسی اس عمر میں ہونی چاہئے۔ سناؤ، سلامتے بہن کا کیا حال ہے؟
نادر: ماں جی ٹھیک ہیں چاچا، بخار رہتا ہے ان کو بس۔
چاچا رفیق: ابھی کل پرسوں آئی تھیں ہمارے گھر۔
نادر: ہاں چاچا، مگر اُن کو بھائی چھیدے کی وجہ سے ۔۔۔۔
چاچا رقیق: کیا ہوا چھیدے کو، بھلا چنگا تو ہے وہ!
نادر: وہ تو بھلا چنگا ہے چاچا، پر اس کی وجہ سے ماں دکھی ہیں۔ آپ کو تو اُس کے۔۔ ۔ پتہ ہی ہے آپ کو۔
چاچا رفیق: ہاں، نورے بھائی کو اللہ بخشے ، اس کے مرنے پر چھیدا چوکیدار بنا، پر  ۔ خیر،  پتہ ہے مجھے۔ وہ برا آدمی نہیں ہے۔ مگر ۔۔۔  وہ موجو ملنگ ہے قبرستان کا چوکیدار۔
نادر: میں کیا کروں چاچا، مجھے تو خود شرم آتی ہے۔ کاش میں چھیدے کا بھائی نہ ہوتا!
چاچا رفیق: ایسے نہیں کہتے یار! وہ موجو کی یاری چھوڑ دے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔
نادر: چاچا، وہ! وہ باجی! ڈسپنسری سے نکلی ہے ابھی، دوائی ہے شاید اس کے پاس کوئی؟ لال رنگ کی شیشی میں۔
چاچا رفیق: (بلند آواز میں) شمو! شمو پتر! یہ کیا ہے؟
شمو: دوائی ہے ابا! اماں کے لئے لائی ہوں، اماں بیمار ہے نا!
چاچا رفیق: (ٹھہرے ہوئے لہجے میں)  دوائی دے جا کر ماں کو! شاباش! میں آ رہا ہوں۔
شمو: ابا! وہ ڈاکٹر کہتا تھاٹھیک ہو جائے گی۔ پر، ابا! وہ ڈاکٹر تو خود بھی پاگل ہے۔ کہتا ہے: اس گاؤں کی ہوائیں بیمار ہو گئی ہیں، ان کو میرے پاس پکڑ کر لاؤ، ان کا علاج کروں گا۔ (ایک مجنونانہ قہقہہ) ابا! ہوائیں بھی بھلا کسی کے قابو آتی ہیں؟ کہتا ہے: میں ہواؤں کا علاج کروں گا۔ ابا! یہ ہوائیں بیمار ہو گئی ہیں؟ کیا ہُوا ہے ہواؤں کو؟ یہ بارش کیوں نہیں لاتیں؟ ابا! بتا، نا ... ابا! بارش کب ہو گی؟ (چیختے ہوئے) اماں! ابّا آ گیا ہے، اب دیکھوں گی تو کیسے دوائی نہیں پیتی، اماں! ابا آ گیا ہے۔ (اس کی آواز دور ہوتی جاتی ہے)۔
نادر: چاچا! آپ باجی کا علاج کروائیں یہ ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ جو نیا ڈاکٹر آیا ہے نا، بہت سیانا ہے۔ ویسے بھی اچھا آدمی ہے۔ آپ اس سے مشورہ کریں، باجی ٹھیک ہو جائے گی۔ جب سے یہ ڈاکٹر آیا ہے نا، چاچا! لوگ دَم جھاڑے کی بجائے دوا دارُو کرانے لگے ہیں اور موجو ملنگ بھی بہت بل کھا رہا ہے۔ اس کے جھنڈے کی کمائی گھٹ گئی ہے۔ اور وہ، میرا بھائی!
چاچا رفیق: ہاں نادر پتر! ڈاکٹر واقعی اچھا آدمی ہے، پر یہ دنیا؟ اللہ خیر کرے یہ دنیا اچھے بندوں کو جَرتی نہیں۔



(05)
شام کا وقت، گاؤں کی ڈسپنسری میں
اس منظر کے کردار: شمو، نادر، ڈاکٹر

پرندوں کا متواتر شور

ڈاکٹر: آؤ! شمو بیٹا، آؤ! طبیعت کیسی ہے تمہاری؟
شمو: (لہجے میں نمایاں گھبراہٹ کے ساتھ) ڈاکٹر باؤ! بھاگ جا یہاں سے!لال آندھی آئے گی! جا، تُو بھاگ جا! تو ڈاکٹر ہے نا! پر، تو ہواؤں کا علاج نہیں کر سکتا۔ ہوائیں تجھ سے ناراض ہیں۔ ہاں باؤ! لال آندھی! لال سوہی آندھی آئے گی۔ تو ڈاکٹر ہے نا، پر تُو بھی تو پاگل ہے۔ کبھی کسی نے ہوا کو بھی پکڑا ہے؟ تو بھی نہیں پکڑ سکے گا، اور  وہ لال آندھی تو آئے گی!جا، تو بھاگ جا! ہائے وے رباّ! پتہ نہیں بارش کب ہو گی۔
نادر: سلام ڈاکٹر صاحب!
ڈاکٹر: آؤ! آؤ نادر! کیسے ہو!
نادر: چلی گئی! بے چاری۔ پر ڈاکٹر صاحب! یہ پاگل نہیں ہے! لوگ غلط کہتے ہیں۔ اس کی باتیں ڈرا دیتی ہیں۔ اس کا علاج ہے کوئی؟
ڈاکٹر: ٹھیک کہتے ہو نادر۔ اس کے ذہن پر بہت کچھ مسلط ہے۔ شادی کے ہفتے عشرے میں بیوہ ہونے کا غم، بوڑھے والدین کی بے چارگی، ادھر معاشرے میں پھیلتا زہر، اوپر سے قحط۔ بارش کب ہو گی؛ یہ گرہ کھولنی بہت مشکل ہے۔ اس کا میاں جو کہہ گیا تھا کہ آج بارش ہوئی اور کل میں آیا؛ میں اس کو مایوسی نہیں کہتا، مگر۔۔
نادر: جی ڈاکٹر صاحب، میں سمجھ رہا ہوں۔
ڈاکٹر: اس نے اپنے گرد ایک بہت سخت خول چڑھا لیا ہے۔ اس کا علاج ہے!! کہ یہ روئے! اور اتنا روئے کہ بکھر جائے۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اس کی ماں چاہتی ہے کوئی اس کو رلا دے۔ یہ مامتا بھی عجیب شے  ہے! ایک ماں اپنی بیٹی کو کیسے رلا سکتی ہے! مگر جانتی ہے کہ اس کا علاج یہی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو یہ سچ مچ پاگل ہو جائے گی۔ اور اگر یہ رو پڑی تو، ایسا نہ ہو اس کی ماں اسے دیکھ کر مر جائے!
نادر: جی، ڈاکٹر صاحب، ٹھیک کہا۔
ڈاکٹر: اور اس کا باپ! وہ فولادی اعصاب کا مالک ہے؛ سب یہی کہتے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں۔ اس بوڑھے کی ہمت اور حوصلے کے پیچھے اسی کمزور، بیمار اور بے بس بڑھیا کی ذات ہے۔ وہ اسی کی محبتوں کی ہوا میں سانس لے رہا ہے، اور اسی کے مد و جذر سے توانائی پا رہا ہے۔
نادر: ایک بات کہوں؟ آپ مجھے ڈاکٹر سے زیادہ کچھ لگ رہے ہیں! بہت سوچتے ہیں آپ اس کے بارے میں؟
ڈاکٹر: کہہ سکتے ہو! مگر پتہ نہیں! خیر ،  لگتا ہے یہ گاؤں کے حالات کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہے، مگر بیان نہیں کر پاتی۔ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہو تو ایسا بھی ہو جاتا ہے۔  ہے نا؟
نادر: بارش کب ہو گی اور لال آندھی؟ ان کا کیا مطلب ہے ڈاکٹر صاحب؟
ڈاکٹر: کوئی واقفِ حال بتا سکتا ہے، نادر!
نادر: ہوائیں بیمار ہونا، کیا ہوا؟ وہ اکثر کہتی ہے یہ ہوائیں بیمار ہو گئی ہیں۔
ڈاکٹر: مجھے لگتا ہے نادر! کہ ان بیمار اور ناراض ہواؤں کا رخ میری طرف ہے۔ سرخ آندھی کا خوف اب ختم ہونا چاہئے۔ ہوا ئیں لاکھ بیمار سہی، مجھے ان کا علاج کرنا ہے!بارش؟ ۔۔  بارش جانے کب ہو گی!  ہو گی بھی تو کیسی ہو گی! کچھ تو ہو رہے گا۔۔لال آندھی؟ دیکھا جائے گا! خیر، چھوڑو، نادر! کوئی اور بات کرو ۔




(06)

سہ پہر کا وقت، گاؤں کے ساتھ باہر کا منظر، ایک درخت کی چھاؤں میں
اس منظر کے کردار: پہلا لڑکا، دوسرا لڑکا، چاچا  رفیق

بیلوں گایوں کے ڈکرانے کی آوازیں، کووں کی کائیں کائیں،  سناٹے کی سائیں سائیں، اور ان سب پر حاوی گھڑی کی ٹک ٹک آواز

پہلا لڑکا: تو روند مارتا ہے اوئے؟
دوسرا لڑکا: کس نے روند مارا ہے، جھوٹ بکتا ہے تو!
پہلا لڑکا: کسے کہہ رہا ہے؟ مجھے؟ میں جھوٹ بک رہا ہوں؟ اوئے میں تیری ۔۔۔۔
دوسرا لڑکا: چل اوئے بدمعاشی بند کر! آیا ہے بڑا پھنے خان! پتہ پھینک!
پہلا لڑکا: اوئے ! وہ ۔۔۔ چاچا  ۔۔۔ چاچا آ  رہا ہے۔
دوسرا لڑکا: تو پھر؟ ہم کیا کریں؟ آنے دے۔ چل پتہ سٹ!
دوسری آواز: ہاں (ہنستا ہے)۔
چاچا رفیق: (خود کلامی کے انداز میں) سب کچھ ٹوٹ رہا ہے، میرے ربا! ہوا ہی بیمار ہو گئی ہے۔ یہ دو تین برس میں ہوا بدل گئی! تیریاں تو جانے مالکا! پہلے تو ایسا نہیں  تھا، رب رحم کرے۔ سانس کے ساتھ بھی مٹی چڑھنے لگی ہے۔ (اس کی آواز مدھم ہوتی جاتی ہے)۔




(07)
رات کا وقت، گاؤں کے قبرستان میں
اس منظر کے کردار: موجو، چھیدو

جھینگروں کی آواز، ہوا کی سرسراہٹ کو گمبھیر بنائی ہوئی الو کی ہُوک، اور گیدڑوں کے بولنے کی اکا دکا آوازیں

موجو: (نشہ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں) موجاں! موجاں ای موجاں! جھنڈے دیاں موجاں ۔۔۔
چھیدو: اوئے ناما نیما! تو نے پھر دھتورا چڑھا لیا ہے۔ اپنے آپ میں نہیں ہے تو، موجو!
موجو: ابھی تو دھتورا پیا ہے، ابھی مجھے اس چوزے کا خون پینا ہے۔ دیکھ لینا تو چھیدے!
چھیدو: گھُوکی کچھ زیادہ ہی چڑھ گئی ہے، تیرے مغز کو، بدبختا! مت ماری گئی ہے تیری! ہے نا!؟
موجو: بھونک مت اوئے! میں تجھ سے زیادہ ہوش میں ہوں۔ وہ دو روپے کا لال شربت دیتا ہے، میرا دو سو  روپے کا چڑھاوا مارا جاتا ہے۔ دھتورا بھی نشہ نہیں دیتا اب تو!
چھیدو: کوئی ایک نشہ کرتا ہے تو؟ پوڈر، گولی، ٹھرا جو گند ملا چڑھا لیا!
موجو: سیل بند بوتل تیرا باپ لا کے دے گا مجھے؟ اگر وہ دو روپے کا شربت لوگوں کے دکھ کاٹتا رہا۔ مسل کے رکھ دوں گا اس چوزے کو۔ (مکروہ ہنسی ہنستا ہے) تو ساتھ دیتا ہے میرا کہ نہیں؟ چوکیدارا تیرا کام ہے۔
چھیدا: کیا بکواس کر رہا ہے تو! گندے آدمی۔
موجو: اے، او! تو حاجی ہے نا بڑا؟ بول میرا ساتھ دے گا کہ  ۔۔  (دونوں مل کر ہنستے ہیں)




(08)
رات کا وقت، گھر کے ایک کمرے میں
اس منظر کے کردار: جنتے، چاچا  رفیق، شمو، پکارنے والا

جھینگروں کی آواز تیز ہو جاتی ہے، ہوا کی سرسراہٹ  سیٹیوں میں بدل جاتی ہے۔  گمبھیر بنائی ہوئی الو کی ہُوک، اور گیدڑوں کے بولنے کی اکا دکا آوازیں بڑھ جاتی ہیں۔  اور پھر یک دم خاموشی چھا جاتی ہے۔

جنتے: (بخار زدہ آواز میں) تو میرے سرہانے کیوں بیٹھا ہے، پھیکے؟ رات آدھی تو گزر گئی ہو گی۔
چاچا رفیق: ہاں، آدھی سے زیادہ گزر گئی۔ دئے میں تیل ختم ہو گیا تھا، اور ڈالا ہے۔ تو ہونگ رہی تھی نا، اس لئے چپکے سے تیرے سرہانے آ بیٹھا۔ تیرا ماتھا تپ رہا تھا، اب کچھ کم ہے تپش۔ جنتے! تجھے پانی دوں؟
جنتے: لا اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دے، رہنے دے پانی۔ (حیرت اور پریشانی کا تاثر دیتے ہوئے) وے پھیکے!تیرا تو اپنا وجود تپ رہا ہے! کیا ہوا ہے تجھے؟
چاچا رفیق: سو جا بھاگاں والئے، سو جا! مجھے کیا ہو گا اب۔ مجھے تو تیری فکر ہے۔
جنتے: ہولے بول پھیکے! شمو کی شاید ابھی آنکھ لگی ہے۔ شکر ہے، اسے کچھ نیند آ جاتی ہے۔نہیں تو! (ٹھنڈی سانس بھرتی ہے) مجھے پتہ ہے پھیکے! ان تین برسوں میں تجھ پر کیا کیا بیت گئی ہے۔ خیر چھوڑ! سو جا، جاکے اپنی چارپائی پر۔ میرا بخار اتر رہا ہے اب۔
چاچا رفیق: اچھا سو جاتا ہوں، پہلے تو سو جا۔ رات کو بھی تو نہیں سوئی تھی۔
جنتے: میری بچی، بے چاری۔ سوتے سے ایک دم جاگ اٹھتی ہے جیسے ڈر گئی ہو اور پھر وہی اماں بارش کب ہو گی۔ میں کیا بتاؤں اس کو؟ اس کا سرفو تو آنے سے رہا۔ اس کی دل دھرتی تو بنجر ہو گئی ہے۔ لاکھ بارشیں ہوں اسے کیا!
چاچا رفیق: دوائی پی لی تو نے؟ جنتے!نہیں پی ہو گی، جانتا ہوں میں۔
جنتے: یہ؟ لال شربت؟ نہیں تو! جی نہیں کرتا پھیکے۔
شمو: (ہڑبڑا کر) اماں! اماں ! تو نے دوائی نہیں پی؟ ابا! تو نے بھی نہیں پلائی؟
جنتے: تو جاگ رہی ہے؟ میں سمجھی تو سو گئی ہے۔ چل تیرا دل رکھنے کو پی لیتی ہوں۔
ذرا دیر کو خاموشی چھا جاتی ہے، ہوا کی سرسراہٹ اور جھینگروں کی کبھی تیز کبھی مدھم  آوازیں خاموشی کو قائم نہیں رہنے دیتیں۔
باہر ایک دم بہت سارے کتے بھونکتے ہیں اور کوئی بلند آواز سے پکارتا ہے۔
پکارنے والا: مار دیا! مار دیا! کسی نے ڈاکٹر کا خون کر دیا! گاؤں والو! کسی نے ڈاکٹر کو مار دیا۔
آواز دور چلی جاتی ہے۔
شمو: ہوئے ابا! ابا! (چیختے ہوئے) لال آندھی لے اڑی ڈاکٹر باؤ کو، لے اڑی نا!  میں نے کہا تھا اس سے! میں نے کہا تھا کہ تو بھاگ جا، وہ نہیں بھاگا (اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے)۔
جنتے: شمو! شمو بیٹے ! کیا ہوا، میری بچی رو رہی ہے! پھیکے چپ کرا، اسے! میرا کلیجہ کٹ رہا ہے! چپ کرو میری بچی!
چاچا رفیق: رو نے دے اس کو بھاگ وانے، رونے دے! خود ہی تو کہتی تھی اس کو رلائے کوئی! وہ ڈاکٹر باؤ، وہ رُلا گیا اِسے۔ بڑی مہنگی قیمت چکائی ہے اس نے! دعا دے اس کو  (اُس کی آواز بھرا جاتی ہے)  جو مر کر تیری بیٹی کو زندگی دے گیا۔(وہ تینوں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے ہیں)۔

ان کے رونے کی آواز جھینگروں کی آواز میں دب جاتی ہے، دور سےکتوں کے بھونکنے کی آوازیں آتی ہیں
جھینگروں کی آوازیں تیز تر ہوتی جاتی ہیں، ہوا کی سرسراہٹ سیٹیوں میں بدل جاتی ہے۔

اختتام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تحریر: محمد یعقوب آسیؔ  (ٹیکسلا) پاکستان ۔۔ جمعرات: 8 ۔ اکتوبر 2015ء
ریکارڈنگ (سکائپ کانفرنس موڈ سے): 22، 23، 24  اکتوبر 2015ء