مشتاق عاجز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مشتاق عاجز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 20 فروری، 2019

جناب مشتاق عاجزؔ کی مختصر ترین خود نوشت




جنابِ مشتاق عاجزؔ کا مکتوب بنام محمد یعقوب آسیؔ
نوشتہ غیر مؤرخہ ۔۔ موصول: 19 فروری 2019ء


اس مکتوب کو جناب مشتاق عاجزؔ کی مختصر ترین خود نوشت قرار دیا جا سکتا ہے


۔1۔
          میرے اجداد موضع سیدن (علاقہ چھچھ) کے رہنے والے تھے۔ددھیال اعوان تھے اور ننھیال شیخ؛ زمیندار تھے۔اپنی بارانی اور چاہی زمین  میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔ میرے دادا کے دو ہی بیٹے تھا۔ چچا جی دادا پردادا کی طرح کاشتکاری ہی کرتے رہے اور ان کے اکلوتے بیٹے بھی مگر میرے والد پولیس کے ملازم تھے۔ نانا کے پانچ بھائی تھے۔ پانچوں نے کاشت کاری کی البتہ ان میں دو اپنی اپنی بیل گاڑی پر مال برداری بھی کرتے رہے جو کشمیرتک مال لے جاتے اور وہاں سے خشک میوہ جات لاتے تھے۔ میرے نانا نے بیل گاڑی کی بجائے ایک لاری خرید لی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں وہ ایک فوجی قافلے کے ساتھ سامانِ حرب (اسلحہ بارود وغیرہ) اور کچھ فوجی لے کر بنوں گئے اور پھر وہیں گے ہو رہے۔
          قیامِ پاکستان کے بعد وہ تا دمِ مرگ وہیں رہے اور اُن کی بس بنوں سے لکی مروت تک چلتی رہی۔ خود بوڑھے ہو گئے تو میرے اکلوتے ماموں بس چلانے لگے۔ اس کے بعد ماموں نے ایک ٹرک بھی لے لیا اور ساری عمر روڈ ٹرانسپورٹ سے ہی وابستہ رہے۔ نانا اوران کے پانچوں بھائی ان پڑھ تھے ماموں بس پانچ جماعتیں ہی پڑھے تھے۔ میرے نانا کی اکلوتی بیٹی،میری والدہ بھی پڑھی لکھی نہ تھیں۔ والد مڈل پاس تھے۔ میرے دو بڑے بھائیوں میں بڑا مڈل تک پڑھا تھا جو پنجابی پولیس سے سب انسپکٹرریٹائر ہوا اور دوسرا پرائمری پاس بھی نہ تھا جو گورنمنٹ کنٹریکٹر تھا۔ دونوں فوت ہو چکے ہیں۔
          میں اپنے خاندان کا کیا، گاؤں کا پہلا گریجوایٹ تھا۔ میری زندگی اپنے گاؤں میں نہیں بلکہ کیمپبل پور میں گزری ہے سو میں نے تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازمت کرتا رہا۔ جبکہ میرے آباء میں کوئی بھی فرد پڑھا لکھا اور تعلیم یافتہ نہ تھا۔ ورثے میں قرطاس و قلم ملا نہ کتاب اور ذوقِ مطالعہ۔

۔2۔
          میری پیدائش 1944ء میں جنڈ نامی قصبے میں ہوئی جہاں میرے والد انچارج پولیس چوکی تھے اور میری والدہ مجھ سے دو سال بڑے بیٹے (جو میری پیدائش سے سال بھر بعد فوت ہو گیا)، میرے دو بڑے بھائیوں اور ایک بہن (جن کی والدہ فوت ہو چکی تھیں) سمیت رہائش پذیر تھیں۔
          جنڈ ایک دیہاتی قصبہ تھا جہاں میری زندگی کا صرف پہلا سال ہی گزرا کہ میری والدہ اپنے پہلے بیٹے کی وفات کے بعد جنڈ چھوڑ کر کیمپبل پور میں آ بسی تھیں، سو میں یہیں سکول میں داخل ہوا جہاں میری تاریخ پیدائش یکم اپریل 1944ء درج کرائی گئی۔ مجھے ایم بی (اے وی) مڈل سکول کیمپبل پور (موجودہ اٹک) میں داخل کرایا گیا تھا اور میں نے اسی سکول سے مڈل سٹینڈرڈ امتحان پاس کیا تھا۔ اس کے بعد، میں گورنمنٹ ہائی سکول کیمپبل پور (موجودہ گورنمنٹ پائلٹ ہائر سیکنڈری سکول، اٹک) میں داخل ہوا اور یہیں سے 1960ء میں میٹرک کیا۔

۔3۔
          شاعری مزاج میں شامل تھی۔ جس کا علم مجھے اس وقت ہوا جب میں گراموفون پر اور سینما ہاؤس میں سنے گیتوں کی دھن پر نیا مکھڑا لکھ کر سنی ہوئی دھن پر گاتااور محسوس کرتا بلکہ جان لیتا تھا کہ مطلوبہ دھن میں گایا ہوا میرا اپنا مکھڑا سنے ہوئے مکھڑے کے عین مطابق ہے۔ حادثے (جن کی طرف آپ کا اشارہ ہے) کسی ایسے شخص کو شاعر تو نہیں بنا سکتے جسے یہ ہنر ودیعت نہ ہوا ہو۔ جسے شعر کی سطر (مصرعے) اور نثر کی سطر (جملے) میں واضح فرق کا ادراک نہ ہو اور جس کا مزاج شعر کے لئے موزں نہ ہو۔ ہاں، ایسے حادثے شاعر کے جذبات، محسوسات اور مزاج کو ضرور بدلتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی شاعری کے موضوعات مضامین اور انداز و اسلوب میں تغیر رونما ہوتا ہے۔ ایسے حادثات میرے اندر چھپے شاعر پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں مگر مجھے شاعر بنانے میں ان حادثات کا کوئی کردار نہیں۔ البتہ انہوں نے میری شاعری کو نئے زاویوں سے آشنا کر کے اس میں نکھار اور وقار ضرور پیدا کیا ہے۔
          بزرگوں میں کوئی بھی صاحبِ قلم اور شاعر یا نثّار نہ تھا کہ کسی سے اکتسابِ فیض کرتا۔ فلمی گیتوں، گائی ہوئی غزلوں اور تائب رضوی (مرحوم) اور ان کے ہم عصر اور ہم نشین بزرگ اور سینئر اساتذہ کی صحبت اور قرب سے ضرور فیض یاب ہوا اور ان بزرگوں میںتائب مرحوم کے علاوہ سعداللہ کلیم، جعفر ملک، اعجاز سلیم، حیدر واسطی اور شاہد پانی پتی (مرحومین) شامل تھے۔

۔4۔
          ایف اے اور بی اے گورنمنٹ ڈگری کالج، کیمپبل پور (موجودہ گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجوایٹ کالج اٹک) سے کیا۔ بی ایڈ گورنمنٹ سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے، ایم اے اردو (پرائیویٹ) پنجاب یونیورسٹی لاہور سے؛ اور ایم ایڈ (سیکنڈری ایجوکیشن) آئی ای آر (انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ایند ریسرچ یعنی ادارۂ تعلیم و تحقیق) لاہور سے کیا۔

۔5۔
          ملازمت کا آغازبطور ہیڈماسٹر گورنمنٹ مڈل سکول جَبّی کَسراں (تحصیل فرح جنگ ضلع کیمپبل پور) سے یکم نومبر 1966ء کو کیا۔ 1972ء سے 1978ء تک ہائی مدارس میں سینئر انگلش ٹیچر (ایس ای ٹی) سیکنڈری سکول ٹیچر (ایس ایس ٹی) رہا۔ 1979ء سے 1987ء تک اے ڈی آئی ایس (اسسٹنٹ ڈسٹرکت انسپکٹر آف سکولز) اور اے ای او (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر) رہا۔ 1988ء میں میں ہیڈماسٹر ہائی سکول، 1989ء تا 1993ء ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر اور 1994 تا 10۔ فروری 1998ء سینئر ہیڈماسٹر (یہ پوسٹ کا نام ہے) رہا؛ اور 53 سال، 10 ماہ، 9 دن کی عمر میں بوجہ عارضہ قلب (ماہرینِ امراضِ قلب کے فیصلے کے مطابق) ریٹائرمنٹ لے لی۔

۔6۔
          شاعری کے علاوہ ۔۔ اردو میں تین افسانے کہانیاں، ایک انشائیہ، ایک اخباری کالم، چند شخصی خاکے، ایک مجموعہ مکتوبات اور درجن بھر شعری مجموعوں کے دیباچے لکھے اور اپنی یادداشتوںپر مشتمل اپنی سوانح لکھی (جو ابھی غیر مطبوعہ ہے)۔ پنجابی میں صرف ایک افسانہ کہانی؛ چھاچھی میں چار کہانیاں افسانےاور اپنے شعری مجموعے ”پھلاہی“کا پیش لفظ لکھا۔

۔7۔
مطبوعہ کتب ۔۔۔٭  آئینے سے باہر (شاعری) 2000ء،٭  الاپ (غزلیں) 2008ء، ٭ سمپورن (دوہے) 2011ء، ٭  پھلاہی (پنجابی چھاچھی شاعری) 2016ء، ٭ زندگی گیت ہے (گیت) 2018ء۔
زیرِ ترتیب کتب ۔۔۔ ٭  عجزِ بیان (مجموعۂ نعت)، ٭ دھجیاں گریباں کی (خود نوشت سوانح)۔

۔8۔
          کہاں تصوف اور کہاں یہ ناچیز! دل کا گداز اللہ کی دین ہے۔ رحم دلی اسی رقیق القلبی کی عطا ہے۔ خدمتِ خلق اور مخلوقِ خدا سے محبت نے عشق مجازی کا روپ دھارا جس نے عجز اورایثار کی نعمت عطا کی۔ اگر میرے خیالات اور رولوں سے تصوف کی مہک آتی ہے تو بس رحم دلی، خدمت، محبت، عجز اور ایثار ہی کو منازلِ سلوک جان لیجئے۔ عشق ایثار اور ترکِ طلب ہے اور ترکِ طلب استغناء۔ بس یہی ہے رویہ جس نے مجھ ایسے ناکارہ کو آپ کی نظر میں صوفی بنا دیا، ورنہ مجھے صوفی ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں۔

۔9۔
          سُر اور لَے کا ادراک کسبی نہیں وہبی ہے۔ گلوکاری اسی ادراک کا عملی مظاہرہ تھا۔ جو سُر سماعت کو بھایا وہ اپنی تال اور لَے سمیت اندر سما گیا اور میں نے گائک کی نقل کر کے گا دیا۔ بس اتنی سی ہے میری گلوکاری۔ جس شخص کو سُر کا اِدراک ہے وہ سنی ہوئی دھن کو گلے سےنکال سکتا ہے اور جو شخص کوئی سُر یا دھن گلے سے نکال کستا ہے وہ اس سُر کو کسی بھی ساز سے برآمد کر سکتا ہے، استاد سے سیکھ کر آسانی اور جلدی سے اور بغیر استاد کے محنت اور ریاضت سے ذرا دیر اور مشکل سے۔ میں صرف بینجو بجاتا رہا اور محض اپنے شعور، شوق اور محنت اور ریاض سے۔ کوئی استاد میسر آتا تو اس سے صرف راگ راگنیاں اور گانے یا بجانے کے آداب سیکھتا۔
          سکول ہی میں رنگوں کا مزاج، امتزاج، اور استعمال سیکھ گیا تھا۔ قوتِ متخیلہ کچھ تیز تھی۔ دیکھی ہوئی شے کے خیالوں میں محفوظ نقش کاغذ پر اتار لیتا تھا۔ سکول کے ڈرائنگ ماسٹر رانا محمد اقبال (مرحوم) نے توازن، تناسب، ترتیب اور تنظیم کا شعور اور علم دے دیا تھا۔ سکول کی زندگی میں بھی اور اس کے بعد شوقیہ تصاویر بناتے بناتے کچھ مہارت حاصل کر لی۔ کچھ مصوروں کی صحبت بھی میسر آئی، کچھ بڑے مصوروں کے شاہکار دیکھ کر بھی سیکھا اور اللہ کے فضل و کرم سے فن میں جدت، ندرت اور صفائی (کسی حد تک) آ ہی گئی۔
          شاعری کا شعور بھی وہبی تھا۔ در اصل طبع موزوں تھی تمام فنونِ لطیفہ کے لئے۔ جمال آشنائی، جمال پسندی فطرت میں شامل تھی اور جمال میری نظر میں حسنِ توازن، حسنِ تناسب، حسنِ ترتیب اور حسنِ تنظیم (ڈسپلن) کا مظہر ہے۔ سو، جمال افزائی اور جمال آفرینی مجھے لازم بھی تھی اور سہل بھی۔ شاعری بھی میں نے فلمی گیتوں سے سیکھی۔ جیسے گانے کے سر نقل کرتا تھا ویسے ہی گیتوں کے مکھڑے اور بول بھی اپنے الفاظ میں نقل کر لیتا تھا۔ اوزان اور بحور کا جب پتہ تھا، نہ اب ہے۔ تھاپ پر پرکھ لیتا تھا۔ اب بھی کہیں اپنےیا کسی کے مصرعے پر کوئی شک ہو تو اپنے طریقے سے پرکھ لیتا ہوں۔
          موسیقی، گلوکاری، مصوّری اور شاعری سیکھنے کے لئے کسی استاد کی باقاعدہ شاگردی نہیں کی لیکن تمام موسیقاروں، گلوکاروں، سارے مصوّروں اور سبھی سینیئر جونیئرشعراء کو اپنا استاد مانتا ہوں کہ سبھی سےکچھ نہ کچھ اکتسابِ فیض کیا اور فیض پایا ہے۔

۔10۔
          بچپن لڑکپن (زمانہ طالب علمی) میں بھگت کبیر داس کے دو تین دوہے پڑھے تھے۔ شاعری شعار کی تو ٹی وی پر مشاعرے سنتے سنتے جمیل الدین عالی کے دوہے ان کے مخصوس ترنم میں سنے۔ ان کے دوہوں کے ہلکے پھلکے مضامین بھی اچھے لگے اور ان کا دوہوں کے لئے مخصوص ترنم بھی بھایا۔ لیکن دوہا کہنے کا شوق نہ چرایا۔ کوئی دس بار برس پہلے (جب میں ریٹائرمنٹ کے بعد بطور شاعر متعارف ہو چکا تھا) حضرو کے خاور چودھری نے اپنے دوہے سنائےاور کتاب چھاپنے کا ارادہ ظاہر کیا تو کچھ دن بعد دوہا کہنے کو جی چاہا مگر عملاً کوئی دوہا نہ لکھا۔ اور جب لکھنا چاہا تو محسوس کیا کہ خاور اور کبیر داس کے دوہوں کی بحر ایک ہی ہے مگر عالی صاحب کے دوہوں کی بحر ان سے مختلف ہے۔ مجھے عالی صاحب کی بحر زیاد مترنم اور رواں لگی۔
          پھر ایک صبح مجھے اپنے اور خاور کے مشترک دوست ملک محمد اعظم نے فون کر کے بتایا نہ اس نے خواب میں دیکھا میری تیسری کتاب شائع ہوئی ہے جس پر یہ شعر (اب شعر کیا لکھنا) لکھاہے۔ میں نے وہ دو مصرعےملک اعظم خالد کے حکم کی تعمیل میں کاغذ پر لکھ لئے اور محسوس کیا کہ اس شعر کی زبان اور بحر عالی صاحب کے دوہوں سے مماثل ہے۔ شاید اسی شام میں نے اس بحر میں کوئی تیس پینتیس متفرق دوہے لکھ لئے۔ لگا جیسے میں دوہا لکھ سکتا ہوں۔
          تیسری کتاب کا خواب اعظم خالدؔ نے دیکھا تھا اور دوہا میں لکھ سکتا تھا۔ سوچا ایک نئی صنف میں ایک نئی کتاب لائی جا سکتی ہے۔ سو، میرے اندر کے معلم اور مدرس نے مضامین مہیا کئے، ہندی فلموں کے مکالموں اور گیتوں نے زبان و الفاظ عنایت کئے اور مشقِ سخن نے عالیؔ جی کی بحر میں دوہا کہنے کی جرأت دی اور میں ایک کم مقبول صنف میں نئی کتاب لے آیا۔ پذیرائی بھی ہوئی اور اپنی شعر گوئی پر اعتماد بھی بحال ہوا۔ اس سارے عمل کے بعد میں نے جناب ڈاکٹر طاہر سعید، جناب امین خیال کے دوہے بھی پڑھے اور خواجہ دل محمد دلؔ کےبھی۔ پھر ایک روز ڈاکٹرسلیم اختر صاحب کا مضمون ”دوہا نگر“ پڑھا تو دوہے کی جانکاری ہوئی۔ پرتو روہیلہ صاحب کے دوہے بھی پڑھے۔ قتیل شفائی اور کشور ناہید کے بھی بلکہ میرپور خاص کے جناب تاج قائم خانی کے بھی اور خود پر اعتماد بحال ہوا (مگر مزید دوہا کہنے کی ہمت نہ ہوئی)۔
          گیت نگاری میں نے محض یہ پڑھ کر اور جان کر کی کہ ”دوہار اور گیت اس دھرتی کی اپنی اصناف ہیں“۔ طبع موزوں تھی، میدان وسیع تھا۔ جانتا تھا کہ گیت نسوانی جذبات کے بے ساختہ اظہار ہے۔ سینکڑوں گیت یاد تھے۔ بڑی آسانی سے تین ماہ میں 80 گیت لکھ لئے اور پنجابی کے شعری مجموعہ ”پھلاہی“ کی اشاعت اور پذیرائی کے بعد جلد ہی گیت کا مجموعہ لے آیا۔ یوں جانئے اپنی دھرتی کی دو شعری اصناف لکھ کر اور پنجابی چھاچھی زبان میں شاعری کا مجموعہ مرتب کر کے دھرتی اور پنجابی زبان کا حق اور اپنافرض ادا کیا ہے۔

۔11۔
          دوستوں کا کہنا ہے کہ میں غزل کا شاعر ہوں جب کہ میں اپنے آپ کو محدود کرنے کے حق میں نہیں، یہ اور بات کہ میں نے نظم پر توجہ نہیں دی اور غزل میرے زمانے سے بہت آگےجا چکی ہے۔

۔12۔
          قریبی دوستوں میں سے تو صرف دو چار ہی صاحبِ قلم ہیں۔ باقی سارے کے سارے صاحبِ دل اور محبت کرنے والے دوست ہیں جن سے نصف صدی پر محیط بے بدل دوستی ہے۔ جو چندرخصت ہو چکے ہیں ان میں صرف دو ہی شاعر تھے مگر ان کی شاعری کتابی صورت میں سامنے نہ آئی۔ باقی مرحومین میں سے دو کو موسیقی سے شغف تھا، گانے بجانے کے رسیا تھے صاحبِ قلم نہ تھے۔ کئی اہلِ قلم خواتین و حضرات سے بڑے مضبوط اور بے لوث محبت کے رشتے ہیں مگر انہیں ”قریبی دوست“ کیسےکہوں کہ ان میں سےکچھ عزیز برخوردار ہیں، کچھ محسن ہیں۔ کچھ سے احترام کا رشتہ ہے۔ ان کے نام گنوائے دیتا ہوں۔
۔۔۔ محمد اعظم خالدؔ: ”فرصتِ نگاہ“ (سفر نامہ)۔
۔۔۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ
۔۔۔ شہاب صفدر
٭٭٭٭٭





محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ 20۔فروری 2019ء




جمعرات، 26 اکتوبر، 2017

ماٹی میں رُوپا


ماٹی میں رُوپا

جناب مشتاق عاجزؔ  کے اردو گیتوں پر مشتمل "زندگی گیت ہے" کا مختصر مطالعہ


اپنا حال اُس گنجی والا ہے جس کے پاس نچوڑنے کو بھی کچھ نہیں۔ گیت کیا ہے، اور اس کو کیسا ہونا چاہئے؛ مجھے اس کا کوئی خاص اندازہ نہیں تھا۔ ’’زندگی گیت ہے‘‘ کے مطالعے سے شہ پا کر لڑکپن کی یادیں پتہ نہیں کن کونوں کھدروں سے نکل کر ذہن کے پردے پر نقشے سے بنانے لگیں۔ زیادہ تر نقوش تو بہت دھندلے ہیں، تاہم کہیں کہیں کوئی صاف اور واضح نقش بھی دکھائی دے جاتا ہے۔ اور مجھے گمان ہونے لگتا ہے کہ میں گیت کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا ضرور ہوں کہ گیت ہوتا کیا ہے۔

اس تفہیم میں بھی مشتاق عاجزؔ کا حصہ زیادہ ہے۔ ان کے لکھے ہوئے گیتوں کو پڑھ کر، اور ان کے رنگ روپ، چال ڈھال، بول چال کے سارے نقشوں کو اپنی حد تک ترتیب دے کر گیت کے خدوخال کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کو اس پورٹریٹ میں شریک کرنا یوں بھی ضروری ہے کہ آپ عملی طور پر گیت کے تینوں بڑے شعبوں سے منسلک ہیں۔ اور مجھ سے کہیں زیادہ جانتے ہیں کہ گیت کا رُوپ ماٹی میں گھلی رُوپا سے نکھرتا ہے۔ میرا مطالعہ تو خیر کیا ہوتا، لڑکپن میں سنے لوک گیتوں اور طبع زاد گیتوں تک محدود رہا ہوں جو کبھی ریڈیو پر بجا کرتے تھے، یا کبھی گاؤں آ جانے والے گویوں سے سنے تھے۔ مثال کے طور پر:۔ 
* اماں مورے بابا کو بھیجو ری کہ ساون آیا
* شیام توری بنسی پکارے رادھا رام
* جھوٹ بولے کوا کاٹے، کالے کوے سے ڈریو
* آوو گے جب تم ساجنا، انگنا پھول کھلیں گے
* رینا بیتی جائے، سجنوا نہ آئے، ہائے رے منوا ہائے
* کہاں سے آیا رے بدرا، سجنی کی جُلفاں سے
* مہندی ہے رچنے والی
* لگن لاگی تو سے سجن، لاگی رے لاگی
* اگنیا سَونیا کی، برہن کے چت کو جلاوے
* مری پیاری بہنا، بنے گی دلہنیا
* راجا کی آئے گی بارات رے
* کاگا سب تن کھائیو، چن چن کھائیو ماس
* چھاپ تلک سب چھین لی رے مو سے نیناں ملائی کے
* بگیا میں آئی رے بہار، منوا کو سوگ لگا
* برسو ری، برسو ری، میگھا ری میگھا، برسو ری
......وغیرہ

اسے کیا نام دیجئے گا؟ ہلدی کی گنڈھی پر طبابت تو ہونے سے رہی، نیم حکیم والی بات ہے کہ وہ کسی اور کے لئے خطرہء جان ہو نہ ہو، اپنے لئے ضرور ہے۔ بہ این ہمہ، گیت کے لئے جو بنیادی اوصاف سمجھ میں آ سکے، عرض کئے دیتا ہوں۔
۔۱۔ گیت سن کر یا پڑھ کر طبیعت کو کھُلنا اور کھِلنا چاہئے اور رواں ہونا چاہئے؛ چاہے ہونٹوں پر، چاہے آنکھوں سے؛ کہ گیت کا ناطہ سینے اور دل سے ہے۔ مزا جب ہے کہ دل کنپٹیوں میں دھڑکے، اشک سانسوں کو بھٹکا دیں اور لہو بجلی بن کر ہر رگِ جاں میں سنسنی دوڑا دے۔ گیت پڑھنے سے کہیں زیادہ گانے کی چیز ہے؛ اس کی لے، سر، تان، تال، چال، چھند، ماتروں کو ہر گیت کے انفرادی منظرنامے اور مزاج سے موافق اور اُس پر محیط ہونا چاہئے۔
۔۲۔ گیت کو اپنی دھرتی سے ایسے جڑا ہوا ہونا چاہئے کہ اس میں مٹی کی مہک بلکہ ذائقہ محسوس ہو سکے۔ گیت کی زبان میں مکھن کی سی ملائمت ہونی چاہئے؛ ثقالت نہیں۔ زبان عام لوگوں کی ہو، پر، عامیانہ نہ ہو۔گیت کا موضوع کچھ بھی ہو، اس میں اسلوب رومانی ہو۔ بات دل سے نکل کر سیدھی دل میں اترے۔گیت کے سنگھار میں ادب کی چاشنی غازے کی حیثیت رکھتی ہے۔ 
۔۳۔ گیت میں جذباتیت کا ہونا بہت لازم ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ گیت نام ہی جذبے کی ترسیل کا ہے، وہ نہ ہو تو گیت گیت نہیں رہتا، چاہے کتنی بڑی نظم بن جائے۔ گیت میں ادق فلسفے کی گنجائش نہیں۔ بات جتنی سامنے کی ہو اور سادگی سے بیان ہو، چاشنی بھی اسی قدر ہو گی۔ گیت میں اعلیٰ افکار کا ہونا اس کی قدر و قیمت کو بڑھاتا ضرور ہے؛ تاہم اس کی تاثیر مترتب افکار سے کہیں زیادہ بے ترتیب دھڑکنوں اور سنسناتی سانسوں سے وابستہ ہے۔
۔۴۔ گیت کے مضامین کہیں سے ڈھونڈھ کر نہیں لانے پڑتے۔ بلکہ روزمرہ سے لے کر خاص خاص اور بڑے مواقع تک ہر جگہ ہم پر گزرتے ہیں۔ مثلاً: سگائی، بیاہ شادی، ڈولی، بارات، رخصتی، عید شب برات، ہولی دیوالی کی رسمیں، بنسی، بین، ڈھولک؛ تاہم گیت اِن گنی چنی چیزوں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں بہادری، بزدلی، پہلوانی، شہ زوری، مردانگی، وجاہت اور سورمائی؛ نسوانیت، ناز و ادا، لوازماتِ حسن، جھانجھن، چوڑی، موسموں کی رعایت، سرسوں، ساون، جاڑے، گرمی، بادل، چندا، سورج، دھرتی، گرج چمک، پروا، جھکڑ،کے ساتھ ساتھ وراگ روگ، بجوگ، سنجوگ کی کیفیات اور ان کی منظر نگاری، مکالمہ، خود کلامی غرضے کہ سماج اور تہذیب سے جڑی ہر چیز (بڑی لمبی بلکہ کبھی مکمل نہ ہونے والی فہرست) شامل ہے۔ گیت کو معاشرتی روایات و اَقدار، اور ان سے جڑے محسوسات کی گہرائی اور گیرائی کا امین ہونا چاہئے۔ 
۔۵۔ عروض کے قواعد گیت پر لاگو نہیں ہوتے، چاہے اردو کا ہو چاہے پنجابی کا۔چلئے اپنی سہولت کے لئے ایک گیت کی پوری عروضی ہیئت کو آہنگ کا نام دئے لیتے ہیں۔ طبع زاد اور لوک ورثہ دونوں طرح کے گیتوں کے آہنگ میں بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے، اتنا زیادہ کہ عروض کے قواعد اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کسی بھی گیت کا آہنگ انفرادی بھی ہو سکتا ہے، نیا بھی اور پہلے سے موجود کسی گیت کے آہنگ پر بھی؛ تاہم جو بھی ہوگیت کو اپنی جگہ پر ایک اکائی اوراس کے ہر حصے (بند) کو آپس میں ہم آہنگ ہونا چاہئے۔

مزید کچھ اس لئے بھی نہیں کہہ سکوں گا کہ گائیکی اور موسیقی سننے اور لطف اٹھانے سے آگے کا مجھ میں دم نہیں ہے۔ مشتاق عاجزؔ کے ہاں اتنی توانائی ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ گیت کے منقولہ بالا تقاضوں کو نہ صرف یہ کہ بخوبی پورا کرتا ہے، بلکہ ان کو اپنے دام ہم رنگِ زمین اسلوب میں ڈھال لیتا ہے۔ تاثیر اتنی ہے کہ قاری تو قاری، خود مشتاق عاجزؔ اس کے سحر میں آ جاتا ہے۔ 

مجھے یہاں ’’سمپورن‘‘ کی بو، باس اور چاشنی تازہ محسوس ہو رہی ہے۔دوہے لکھنے کا عمل اور دورانیہ جتنا بھی طویل یا مختصر رہا ہو، فاضل شاعر ایک عرصے تک خود اپنے رومانی اور محسوساتی تجربے اور تہذیبی رومان کے مطالعے میں مصروف رہا ہے۔ زیرِ نظر گیت مجھے اس طویل اور جان گسل مطالعے کا حاصل محسوس ہوتے ہیں۔ فاضل شاعر نے اپنے متعدد گیتوں کے اندر دوہے شامل کئے ہیں۔ اپنے ہی لکھے سے تحریک پانا اور اپنے تجربے کو ایک مختلف اظہار دینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ میرے نزدیک ہما شما کے بس کی بات نہیں، اس عمل کے لئے کوئی مشتاق عاجزؔ ہی درکار ہے، جسے اپنے لکھے کی سچائی، گہرائی اور گیرائی پر مکمل اعتماد ہو۔ ہوا غالباً یہ ہے کہ دوہے لکھنے کے طویل اور مسلسل عمل میں فاضل شاعرنے جہاں کہیں یہ محسوس کیا کہ ایک صورتِ حال کو دوہے کی دو سطروں میں لانا اظہار میں رکاوٹ بن سکتا ہے، یا یہاں گیت کا ایک متبادل آہنگ موزوں تر ہے؛ اس نے وہ آہنگ اختیار کر لیا۔ اس کے دو فائدے ہوئے: اول: اظہار میں رکاوٹ نے شاعر کی ذات میں گھٹن پیدا نہیں کی، بلکہ ایک خوبصورت اظہار سے نواز دیا۔ ع: رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور (غالب)۔دوم: گیت کا چکنے چکنے پات والا ہونہار بروا زمین کو چیر کر اُس کے چہرے کا غازہ بن گیا۔ ع: پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر (بھرتری ہری)۔ بہ الفاظِ دیگر: گیت کی اس سدا بہار کھیتی کی جڑوں سے کونپلوں تک دوہے کی سبز کھاد لہو بن کر رواں ہے۔


فقط .... محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان
جمعرات .... ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء



مشمولہ: کتاب ”زندگی گیت ہے“ مئی 2018ء (صفحہ 13 تا 17)۔ 

بدھ، 15 فروری، 2017

کالے کوکلے



کالے کوکلے

مشتاق عاجزؔ ہوراں نے پہلوں تاں اک لمی چُپ وٹی رکھی، مینوں لگدا اے اوہ سیپی وچ بنْدے موتی لئی بڑی ضروری سی۔ عمراں دا تجربہ تے ورتارا شعر نوں پکاندا اے؛ بھٹھی سمجھ لؤ۔ کَکھ پتان سَڑ بل جاندے نیں، اِٹ پکی ہو کے نکلدی اے، کچی سوچ دا اوہ کشتہ بن جاندا اے جیہڑا انسانیت دے باہر دِسدے زخماں تے پھوڑیاں دے نال نال اندر دیاں گُجھیاں پیڑاں تے سُدّیاں دا وی دارو ہو جاندا اے۔ سیپیاں دی چپ ٹُٹدی اے تے پھر موتی کھلر جاندے نیں۔ بابے ہوراں دے کچھ موتی ساڈے تائیں اپڑے نیں۔ اونہاں نے سن ۲۰۰۰ء وچ اردو شاعری ’’آئینے سے باہر‘‘ دے سرنانویں نال پیش کیتی،سن ۲۰۰۸ء وچ اردو غزلاں ’’الاپ‘‘ تے پھر سن ۲۰۱۱ء وچ اردو دوہے ’’سمپورن‘‘۔ سن ۲۰۱۶ء وچ بابے ہوراں دی پنجابی شاعری ’’پھلاہی‘‘ دے ناں نال سجناں تیکر اپڑ گئی۔ یار زندہ صحبت باقی۔ اللہ سوہنا بابے ہوراں نوں حیاتی دیوے تے سانوں ہور سچے موتی لبھدے رہن۔

پھلاہی تے پھلاہی دی جوہ، دونہاں دا رنگ ڈھنگ تے انگ سارا کچھ بس آپ اپنے ورگا اے۔ کتے ندی نالے، کتے ٹبے، کتے سوکا، کتے ڈوبا، کتے مٹی تے وٹے رلے ملے، کتے گھٹ ودھ، کتے واہند، کتے چراند، کتے بچڑیاں، کتے باراں، کتے بارانی، کتے چاہی، تے نال نہری وی؛ ایس جوہ وچ اکو تھاں تے کئی رنگ جمع ہو گئے نیں۔ سارے رنگ دھرتی دے، تے وچ پھلاہی دے نکے وڈے رُکھ؛ کنڈے وی تے بور وی۔ بور توں مینوں اوہ دوہا پھر یاد آ گیا: انبوا لاگا بور۔ مشتاق عاجز ہوری شعر کہندے نیں تے ایہ سارے رنگ ڈھنگ تے اینہاں دی رَسان شعراں دا رَس بن جاندی اے۔ اتوں پنجابی زبان دی سانجھ: چھاچھی توں پوٹھوہاری تے پوٹھوہاری توں ماجھی تیکر دیاں بولیاں وچ حرف، لفظ، ورتارے دی رنگا رنگی ہور وی سنھپ بن جاندی اے۔ رسماں رِیتاں دی مٹی وچ گنھیاں ہوئیاں لوک وَنْگیاں، انساناں دے رویے، سدھراں، چا، لاڈ، دکھڑے، ہاڑے تے ہَوڑے؛ زندگی دے کنے ای رنگ نیں، کنے ای سواد سَت نیں جنہاں دی دھپ چھاں تے کِنْ مِنْ وچ سدھراں وی پنگردیاں نیں تے دھُڑکو وی جمدے نیں، چاواں تے لاڈاں دے ہلارے وی ہوندے نیں تے دکھڑیاں تے ہاڑے وی۔ جیون جو ہوئیا!۔

مشتاق عاجز ہوری ایس جیون دے نال کھیہہ کے، دھرتی نال جُڑ کے، اپنے اندر دی گل کوئی لون مسالہ لائے بغیر اپنے قاری نال سانجھی کردے نیں تے پھر اوہ گل نری گل ای نہیں رہندی دھڑکناں تے ہنجواں تے ہاسیاں دی سانجھ بن جاندی اے۔ ایتھے بس نہیں! عاجز ہوراں نے شعر دیاں لوک صنفاں دا پلو نہیں چھڈیا۔ کدھرے ماہئے، کدھرے ٹپے، کدھرے گیت، کدھرے وَینْ؛ کدھرے سٹاں تے پھٹ تے کدھرے پھٹاں دے پھل پھلاہیاں وی بن جاندے نیں تے کنڈیارا وی تے پوہلی وی، اَک وی تے اَک سِنھ وی، دَبھ تے بَرُو، کانے تے نڑے؛ کچھ نِگَّر، کچھ پھوکلے! جے میں جینا اے، حیاتی دا پندھ کرنا اے تے ایہ سارا کچھ نال نال چلے گا۔ مٹھا مٹھا ہَپ تے کَوڑا کَوڑا تھُوہ نت نہیں چلدا، کدی چل وی جاندا اے۔

بابے ہوراں دی ’’سمپورن‘‘ آئی، تے میرے کولوں جو کچھ بن جُڑ سکیا، اپنے تھوڑے جیہے علم تے مطالعے دے لحاظ نال جو کچھ میں سمجھ سکیا، سجناں تیکر اپڑا دتا سی۔ کچھ ایسے طرح دا حساب ’’پھلاہی‘‘ نال وی کرنے آں۔ تنقیدی تے معاشرتی تے تہذیبی تے ثقافتی تے فنی تے فکری حوالیاں نال گل کرن والے بڑے بڑے سیانے لوکی پئے نیں۔ اپنا تے اوہ حساب اے: گنجی دا نہاونا کیہ تے نچوڑنا کیہ۔ ہاں، سبق پڑھن والی گل ضرور ہیگی اے۔

مشتاق عاجز ہوراں نے کتاب دی وَنڈ دو حصیاں وچ کیتی اے۔ پہلا حصہ ’’کندھاں دا پرچھانواں‘‘ اوہناں دے کہن مطابق ٹکسالی پنجابی اے تے دوجا ’’سوتر نی اٹی‘‘ چھاچھی پنجابی اے۔ دونہاں حصیاں دی لفظالی وچ چنگا بھلا فرق وی اے تے کچھ کچھ سانجھ وی اے؛ مُڈھ تاں اکو ای اے نا، تے گنیاں دا سواد وی اکو ای ! لمی نظم اکو ای اے: ’’سجرا پھٹ‘‘۔ ایس طرح دے پھٹ رہندے ای سجرے نیں۔ جوان پتر دی اچانک موت مشتاق عاجز ہوراں نوں بڈھا کر گئی۔ ایس پھٹ وچ اج وی اونیاں ای چبھکاں پیندیاں نیں، جنیاں پھٹ لگن ویلے پیندیاں سن۔ ٹیلیفون تے گل ہو رہی سی، کہن لگے: ’’ایہ اوہ نظم اے کئی ورھے ہو گئے لکھی نوں، میں کدھرے وی پڑھ کے سنا نہیں سکیا‘‘۔ میرا اوہ حساب بنیا، بھئی دوجیاں دے دکھ ویکھ کے اپنے دکھ چیتے آ جاندے نیں۔ میری گھر والی فوت ہو گئی تے میں کوئی چھ مہینے پچھوں نظم کہی: ’’ذرا سی بات‘‘۔ میں وی اوہ نظم کسے محفل وچ پڑھ کے نہیں سنا سکیا۔ دکھاں دی یاد وی تے دکھ دیندی اے! مینوں پک اے میرے طرح مشتاق عاجز ہوری وی اپنی نظم کلیاں بہہ کے کئی کئی واری پڑھدے ہون گے، تے نالے ... کچھ نہ پچھو!

میں کہندا ہاں: دکھ دا اظہار کر لینا وی غنیمت اے، نہیں تے بندہ اندروں اندر ساہ ساہ مردا رَہوے۔ ساہواں توں چیتے آئی، اک ہور نظم دا ذکر ضرور کراں گا: ’’کویلے چیتے‘‘۔ پتہ کدوں لگدا اے؟ ایہ ساہ؟ اکھے: ’’ساہ دا وساہ کوئی نہ!‘‘ ایہ ایڈے پولے پیریں نسدے جاندے نیں، پتہ ای نہیں لگن دیندے۔ دھولا جھاٹا ہو جاوے تاں وی گھٹ ای سوچ آندی اے۔ پھر ایہ ساہ اکھڑن لگ پیندے نیں، مشتاق عاجز گیت گا کے کیہ سناوے، اوہنوں تاں گل کردیاں ساہ چڑھدا اے۔ ساری عمر دی دوڑ، اوہ وی اڑکناں والی! ساہ نہ چڑھے تے ہور کیہ ہووے۔ اتوں ایہ چنتا وی ہووے بھئی، کیہ کچھ بیت گئی اے، کیہ کچھ کرنا سی، کیہ کچھ کرنا رہ گیا اے، چاء کیہدے سن، لبھیا کیہ اے، پچھے کیہ سی، اگے کیہ اے؟ یقین کرو، ساہ اتھل پتھل ہوون لگ پیندے نیں۔ دل، پھپھریاں، سینے تے سنگھ دیاں دوائیاں نال ساہ کچھ سوکھے ضرور ہو جاندے نیں پر جیون اوڈا ای اوکھا رہندا اے۔
ادھی راتی چکی جھوئی، سلھے دانے پائے .... کِنج پیہواں نی مائے
بڈھی بوڑی رن کچجی، نکلی مل دنداسہ .... بنیا اے جگ دا ہاسا

بڑیاں وَنْگیاں نیں! کلی کلی نظم تے گل کرنا ڈاہڈا اوکھا کم اے۔ ایہناں نظماں دا اسلوب، مزاج تے لفظالی صاف دسدیاں نیں ایہناں نوں کہن دا عرصہ بڑا لما اے۔ ویکھن پڑھن وچ ایہ نکیاں نکیاں نظماں اپنے اندر بڑے ڈوہنگے تے کھلارویں مضمون سمیٹی بیٹھیاں نیں۔ انتخاب؟ نہیں! اوکھا کم اے! کسے وی نظم نوں اَگولیا نہیں جا سکدا۔ ماں دے موضوع تے ساڈے شاعراں نیں بہت کچھ لکھیا اے۔ پروفیسر موہن سنگھ دی چونہہ سطراں دی نظم یاد آ گئی:
ماں ورگا گھن چھانواں بوٹا مینوں نظر نہ آئے
جس توں لے کے چھاں ادھاری رب نے سورگ بنائے
باقی کل جہان دے بوٹے جڑ سکیاں مرجھاندے
اے پر پھلاں دے مرجھایاں ایہ بوٹا سک جائے

انور مسعود ہوراں دی نظم ’’امبڑی‘‘ بھلا کس نوں یاد نہیں ہووے گی۔ میں اونہاں نوں کہیا: جی ایہ نظم، میں اُچی نہیں پڑھ سکدا۔ کہن لگے: میں آپ نہیں پڑھ سکدا تے۔ مشتاق عاجزؔ ہوراں دی نظم ’’ماں‘‘ دا سبھا اک وکھرے پکھ دا اے، ایہدے وچ ماں دی عظمت نمایاں اے۔ آخری دو تن شعر:
خالق، رازق، مالک رب نوں منیا میں
پر تو مینوں پالا گود کھڈایا اے
ہس ہس بخشیا میریاں سبھ تقصیراں نوں
پردہ پا کے عیباں تے صفتایا اے
لکھاں نیں احسان ترے میں عاجزؔ تے
مٹھیے مائے اک وی نہیں چتایا توں

نظم ’’کوک‘‘ وچ عشق دیاں ساریاں اَوکڑاں کوکدیاں پیاں نیں۔ اک صفحے دی ایک نظم دا کھلار سسی پنوں، سوہنی مہینوال، ہیر رانجھا ساریاں نوں ولھیٹ لیندا اے۔ آخری سطر: ’’جنگل، بیلے، کسی ... ویکھ مری بے وسی‘‘۔ سچ نہیں مردا، بھانویں جھوٹھ کنے کھیکھن کر لوے، ’’سچیاں دا سچ جیوندا رہندا‘‘۔ نظم ’’ہوڑاں‘‘ پڑھ کے مینوں ’’جگا جٹ‘‘ چیتے آ گیا۔ جدوں اوہ گھروں ٹریا تے اوہدی ماں نے بڑیاں متاں دتیاں:
بھادروں دا وٹ برا ... بنے اتے جٹ برا
ہٹی چو نہ چھیڑئیے کراڑ اوئے
رنڈی دے پتر نوں نہ چھیڑئیے
اوہ تاں کڈھدا اے پھٹ دیندی گالھ اوئے

مشتاق عاجزؔ ہوری اپنیاں نظماں وچ پنجاب دی اوسے رِیت نال جڑے ہوئے دِسدے نیں۔ گل اپنے زمانے تے اپنی دھرتی تے اپنی رہتل تے اپنیاں رسماں رِیتاں دی کردے نیں۔ ایس نظم دی خاص گل اس دی ردیف ’’نانہہ‘‘ (احتیاط! بچ کے! انج نہیں کرنا) اس نوں نواں رنگ دے گئی اے:
رن کپتی گل نہ پائیے پتر دے
دھی نوں عیبی بندے نال ویاہئے نانہہ
سکیاں ویراں لوکوں گھنڈ نہیں کڈھی دا
بابل ساہویں سر توں چنی لاہئے نانہہ
پوہ، مانہہ، مگھر پھگن چھانویں بہی دا نہیں
ہاڑ مہینے دھپے منجا ڈاہئے نانہہ

’’کاں‘‘ پنجابی زبان دی رومانی روایت وچ وی اک وڈی تے مضبوط علامت اے، تے نال ای بدخواہی دا استعارہ وی اے۔ کچھ اکھان نیں: ’’کانواں دے آکھیاں ڈھور نہیں مردے‘‘؛ ’’کاں رہندا وسوں وچ بھالدا اجاڑ اے‘‘۔ مشتاق عاجز ہوراں کاں نوں کھوہ موہ دی علامت بنا کے اجوکے ویلے نال جوڑ دتا اے۔ جتھے ہر کوئی اک دوجے دے ہتھ دی روٹی کھوہن دے چکر وچ پیا اے:
کانواں والے طور طریقے بندیاں سکھ لئے کیہ کرئیے
کیہڑا کیہڑا کاگ اڈائیے کیہدا کیہدا ڈھڈ بھرئیے
کاں تے ہتھوں کھوہندے سن، ایہ مونہوں وی کھوہ لیندے نیں
ست پلیاں وچ کجی روٹی سنگھ لیندے، ٹوہ لیندے نیں
سوچ رہیا واں یا تے کالے کاں دی منج مروڑ دیاں
یا پھر بھکھا رہنا سکھ لاں، روٹی کھانا چھوڑ دیاں

’’سجرا پھٹ‘‘ جیہڑا نت سجرا رہندا اے، اوس تے اسیں اک واری گل کر چکے آں، پر کئی واری پھر وی کیتی جاوے گی۔ مینوں لگدا اے ’’سنگی دا وچھوڑا‘‘ وی ایسے پھٹ نال رل گئی اے۔ غم دا حاصل کیہ اے؟ بابے ہوراں نے اندر ای اک ہور بڑی وڈی گل دسی اے، پلے بنھن والی جے:
اوہناں دے دل عاجزؔ بنجر ہوندے نہیں
جیہڑے لوکی اکھاں دے کھوہ جھوندے رہے

’’سورج دا نھیرا‘‘، ’’سفنا‘‘، ’’پیار دی جھگی‘‘ ایہ نظماں بڑیاں نازک نظماں نیں۔ ع: ’’انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو‘‘؛ ایہ گل سوچ کے میں چپ کر گیا آں، آپ ای پڑھ لینا۔ اک ہور بڑی نازک نظم اے ’’سولھواں سال‘‘، پہلوں انج لگدا اے، بابے ہوری مڑکے جوان ہو گئے نیں۔ اس نظم وچ مشتاق عاجز ہوری دوہری چال لے کے آئے نیں۔ ایس دا ویروا فن تے گل ہوئی تے کراں گا۔ نظم دا آخری شعر سن لؤ:
عمر دا سولھواں سال ہنڈا کے ککھ نہیں رہندا پلے
اشکے اشکے سولھویں سالا، واہ وا، بلے، بلے

سولھواں سال ہے ای بڑا ظالم سماں! مینوں بابے ہوراں دا اوہ دوہا پھر چیتے آ گیا:
ماتھے بندیا آن سجاؤ مانگ بھرو سیندور
جھولا آن جھلاؤ متوا، امبوا لاگا بور

’’پکھی واس دا گیت‘‘ مینوں اوس پورے طبقے دا ہاڑا لگدا اے جہنوں گھٹے مٹی وچ گھیر کے اگے پچھے کندھاں کھڑیاں کر دتیاں گئیاں ہون۔ اوہ منگ پن کے خمیریاں پتیریاں نال وی ڈھڈ دا کھوہ بھر لوے تے غنیمت اے۔ ’’گیت‘‘، ’’تماشا‘‘، ’’جگنی‘‘؛ اینہاں نظماں وچ مشتاق عاجز ہوری سوچ دا دوجا اَنگ لے کے آئے نیں۔ جیون دی بھٹھی وچ بھجے ہوئے کنک دے، مکئی دے، چھولیاں دے دانے رلے ملے تے نال گڑ دی وَڈی ساری روڑی؛ اس دا اپنا ای سواد ہوندا اے۔ ہے نا!
منڈیاں تے کڑیاں نوں مت کاہنوں لاندا ایں
کاہنوں لہو ساڑدا تے مغز کھپاندا ایں
کدوں کوئی سندا اے عاجزاؔ ملنگ دی
گوری چٹی وینی وچ ونگ سوہے رنگ دی

توں نہیں بھکھی، بھکھی کل خدائی اے
بھکھی خلقت میلہ ویکھن آئی اے
بھکھ دی اڑئیے مچی ہوئی دہائی اے
ایہ کہانی گھر گھر دی! بیجو باندری
دنیا دکھ پئی جردی! بیجو باندری

چک لے اپنی گھگری میرے پچھے آ
ایہ بھکھیاں دی نگری ایتھوں پھٹاں کھا
رب دیوے گا، بندیاں ول نہ ہتھ ودھا
ہو کے رہ اس در دی! بیجو باندری
پھر نہیں بازی ہردی! بیجو باندری

بولی ... پنجابی لوک شاعری وچ انج پنگری اے جیویں کھمباں پنگردیاں نیں۔ اک خاص چال، سر، لے وچ اک اکلی سطر تے اک مکمل مضمون! انور مسعود ہوراں نیں اک واری کہیا سی: ’’اردو والوں کو چاہئے کہ اس صنف کو اپنا لیں‘‘۔ پنجاب دی مٹی وچ گنھی ہوئی ایس صنف دا رَس وی ایسے مٹی وچ اے، تے ایہدا مزاج وی مٹی ورگا اے۔ ذرا کرڑا ہتھ لگ جائے تے کھمب طرح ایہ وی مٹی ہو جاندی اے۔ مشتاق عاجز ہوراں دیاں کچھ طبع زاد بولیاں نقل کر رہیا آں:
اگ لائیں نہ کلیجے ساڈے ... نی بلھیاں تے سک مل کے
لہو سدھراں دا ڈلھ ڈلھ پیندا ... نی مہندی والے ہتھ کج لے
اکھ بھر کے ماہی نے مینوں تکیا ... تے گھر دا میں راہ بھل گئی
گت پٹ لؤ بے بے میری ... جے بھابو کتوں گل سن لئی
گھر آئے نیں پروہنے تیرے پنڈ دے ... تے ویہڑے ساڈے لو لگ گئی
اینا گھٹ کے نہ پھر گٹ میرا ... وے چناں میری ونگ ٹٹ جاؤ

بابے ہوراں دیاں بولیاں دا حق بنْدا اے اینہاں تے کھلی ڈلھی گل کیتی جاوے، پر ایس ویلے ساڈے سامنے ’’پھلاہی‘‘ اے۔ بولیاں بارے پھر کدھرے سہی۔اپنی ۲۰۱۴ء دی کہی ہوئی اک بولی بابے ہوراں دی نذر:
میری گندل ورگی وینی ... ویکھیں وے کتے توڑ نہ دئیں

جگنی وی ایسے مٹی چوں پنگری اے، فرق ایناں ای اے جناں کھمب تے کھبل دا فرق ہوندا اے۔ کھبل گھاء اک تھاں اگدا اے تے اگے جڑاں کڈھی جاندا اے، نویں بوٹے بنائی جاندا اے۔ ایسے طرح جگنی دیاں کئی چالاں نیں؛ ہر بند دا اپنا مضمون وی ہو سکدا اے، مضمون دے نال نال جگنی دا مزاج وی بدلدا رہندا اے۔
ایہ جگنی تَسیاں بالاں دی
ریتاں وچ رُلدے لعلاں دی
ایہ جگنی لاٹ مشالاں دی
ایہ جگنی نھیرے ٹالدی اے
ایہ لہو دے دیوے بالدی اے

روایت مشہور اے جدوں حضرت یوسف علیہ السلام نوں بازار وچ پیش کیتا گیا تے اک بڈھڑی مائی نے سوتر دی اٹی مل لایا سی۔ دوجے حوالے نال ایس دنیا دی ساری حیاتی دا مل سوتر دی اک اٹی اے۔ کوئی اوس اک اٹی جنی کمائی وی کر لے جاوے تے ایہ وی بڑی وڈی گل اے۔ پنجاب دے وسیب وچ کپاہ، پھٹی، چگنا، چھنڈنا، ویلنا، پنجنا، کتنا، چرخہ، ترنجن، پونیاں، تنداں، چھلیاں، اٹیاں، تانیاں ایس حیاتی دے آہر وی نہیں؛ تے اخروی حیاتی دی تیاری دیاں علامتاں وی۔ چرخے دی گھوک، وچھوڑے دی ہوک، ساہ دی پھوک رومان دی رِیت روایت دا ناں وی اے۔ مشتاق عاجز ہوری اپنی گل شروع ایتھوں کردے نیں:
سوں گئی چرخہ کتن والی، گھوکر ہوئی بند
گنجھل گنجھل سوتر ہویا، ایہ جہی ترٹی تند
پچھی نے وچ گوہڑیاں پیاں، نلیاں وٹے کون
دس نی مائے سدھراں والی پونی کتے کون

دھاگے، تند تے ڈور توں ٹردی گل اُنّ دی رسی تیکر اپڑدی اے تے بابے ہوریں اپنے قاری نوں بنھ کے سقہ آباد، فتح جنگ، میاں والی، جتیال، قطبال دیاں ساریاں جوہاں وچ نال دھروئی پھردے نیں۔ رسی آخر کار اودوں کھلدی اے جدوں چھیکڑلا ساہ نکل جاندا اے ۔ نظم ’’رسی‘‘ وچوں ونْگی لین دا خیال سی؛ پر، لگدا اے ایس نظم نوں پورا پڑھنا پئے گا۔ میں پڑھنا آں، تسی سنو:
منی وینا بھیڈ، جت لاہی وینا لیلے نی
کتی وینا رسی، گھانی گھتی وینا ویلے نی
ڈھیرنا بھنوائی وینا، رسی وٹی وینا وے
پیرے پیرے ساہے والا پینڈا گھٹی وینا وے
وٹی ہوئی رسی پیا ڈھیرنے تے ولنا
ہولے ہولے عمراں نا دیہوں پیا ڈھلنا
ایہا تلیہارے نی، تے نتھ ایسے رسی نی
بھارواں نے گل پئی، رسی بے وسی نی
ایہا گلدانویں نی، تے ایہا رسی ڈھنگے نی
وچھی سقہ وانداں نی، تے بھانویں فتح جنگے نی
وَیہڑا میاں والے نا، تے بھانویں جتیالاں نا
داند بھانوں قطبے، تے بھانویں قطبالاں نا
بھانویں کوئی میلے نے میدان پیا سجنا
بھانویں مٹھا ٹُرنا، تے بھانویں چنگا بھجنا
بھانویں گل گانیاں، تے بھانویں پئیاں ٹلیاں
رسیاں نیں، بھارواں نے گلے نال ولیاں
جیہڑے پاسے دل کرے، سائیں رہوے موڑنا
بھارواں نی رسی، سائیں ہتھوں نہیں چھوڑنا
مک وینا پینڈا، جدوں راہ مک وینے وُن
رسی کھل وینی، جدوں ساہ مک وینے وُن

نظماں ’’دنیا‘‘ تے ’’بدل‘‘ دا مرکزی خیال ایس نظم ’’رسی‘‘ نال رلدا ملدا اے پر علامتاں تے اونہاں دی معنویت اپنا وکھرا رنگ وکھاندی اے۔ کہیا جا سکدا اے بھئی بابے ہوراں دا صوفیانہ مزاج دنیا دی بے ثباتی دے بیان وچ کھل سامنے آیا اے۔ وچ وچ کدھرے شوخ تے چنچل جذبیاں دا ویروا عاجز ہوراں دے قاری نوں یک رنگی توں اَکن نہیں دیندا؛ میں نظم ’’ونگاں‘‘ دی گل کر رہیا آں۔ 
ونگاں نے چھنکارے وچوں، ڈلھ ڈلھ پینے ہاسے
سوچاں تے فکراں وچ کڑیو، ونگاں دین دلاسے
ونگاں باہجوں وینیاں لگنیاں، ہجر وچھوڑے ڈنگیاں
کچ نیاں ونگاں چنگیاں
ایہ گل مانہہ ونگیاری دسی، ونگیارے سمجھائی
ونگاں نانہہ چھنکاویں کڑیے، ہر ویلے ہر جائی
نہیں تاں بدنانویں نی سولی ساہواں رہسن ٹنگیاں
کچ نیاں ونگاں چنگیاں

نظم ’’سدھر‘‘ وچ بابے ہوری اک واری پھر جوگی بن جاندے نیں تے اونہاں دی ونجھلی چوں نکلی تان بڑی دور تیکر جاندی اے۔ ایتھے گھگی دی علامت سمجھن نالوں بہتی محسوس کرن والی لگدی اے: 
وَت کوئی نکھڑن دشمن سَجن
گھگیاں حال حوالے دَسن
وَت یعقوب آں اکھیاں لبھن
وَت یوسف نا چولا آوے
شالا وچھڑا ڈھولا آوے

’’جھوٹا‘‘ سرنانویں دی نظم پڑھ کے اگے چلئے۔
کھلا ویہڑا، وچ دھریکاں، پایا چیچ مکوڑا
ساریاں اس نا جھوٹا گھدا، کیں بہوں کیں تھوڑا
جو تھوڑے تے صابر شاکر، اس تے مالک راضی
لمیاں حرصاں والا جھگڑا، آپ نبیڑے قاضی

جیویں میں پہلوں کہیا سی، بابے ہوراں دیاں نکیاں نکیاں نظماں اصل وچ بڑیاں ڈوہنگیاں نیں، تے سٹ وی ڈوہنگی تھاں جا کے ماردیاں نیں۔ اک اک نظم دا بیان میری گل نوں بہت لما کر دیوے گا۔ اسیں گل ’’ونگاں‘‘ دی کر رہے ساں۔ ایسے انگ دی نظم ’’کلو شبکا‘‘ (یعنی کِکلی) وچ میل ملاپ، پریم پریت، سدھراں چاواں دی گل جوان جذبیاں نوں اناردانے دی رعایت نال بہت نازک بنا جاندی اے:
اگلے دیہاڑے ٹری گھروں گھڑا چا کے
کوئی گل کیتی اس پچھے پچھے آ کے
ناں مینڈھا گھینیاں اوہ ذرا بی نہ جھکا
کلوشبکا
کلو شبکا، انار دانہ پھکا
باجرے نا سٹا، ادھا کچا، ادھا پکا

’’چینجک دمہ‘‘، ’’پنج گیٹ‘‘ تے ’’چھپن چھوت‘‘ اج دے دکھیار زمانے وچ بڑی قیمتی شاعری دے نمونے نیں۔ ایہناں نظماں وچ مشتاق عاجز ہوری، جتھے اپنے بیتے ہوئے رنگلے ویلیاں نوں پورے ویروے نال تازہ کردے نیں اوتھے اپنے قاری نوں وی اپنے جذبیاں دی خوشبو وچ نہوا دیندنے نیں۔ 

’’کوکلے‘‘ چھیاں کلیاں دی نظم پڑھ کے مینوں انج لگا میں پھر دساں باراں سالاں دا ہو گیا آں، مینہ ورھدا اے پیا تے اسیں منڈے کھنڈے رل کے کوکلے (چیچو چیچ گنڈیریاں) کھیڈ رہے آں۔ اوہ کھیڈاں ہن کتھوں! کچیاں کوٹھیاں دیاں کندھاں نہ رہیاں، نہ دھپے تھپیاں مینہ وچ بھِجدیاں تھاپیاں تے گھورے۔ جیون دا منہ مہاندرا اینا بدل گیا اے بھئی اوہ سنگ ساتھ وی بس کدھرے کدھرے ای رہ گئے نیں۔ آؤ نظم پڑھئے تے ویکھئے بابے ہوری کوکلیاں دے نال قاری نوں کتھے لے جاندے نیں:
ہکا کھیڈ سکھلی جاتی
کوکلے کھیڈے نال حیاتی
کولیاں نال پرائیاں کدھاں
کل بی کالیاں کرنا رہئیاں
اج بی چٹیاں ورقیاں اتے
کالے کوکلے پانا پئیاں

بابے ہوری اگے ٹرن ای نہیں دیندے۔ ’’مٹھا میوہ‘‘ تے ’’ہٹی‘‘؛ احساس والے مقناطیس دے دونویں قطب سمجھ لؤ۔ اک دوجے دے الٹ، پر کھچ وی اک دوجے لئی۔ بندہ ’’ڈوہنگیاں سوچاں‘‘ وچ نہ پوے، ایہ نہیں ہو سکدا۔ تے پھر’’ اندرے نا چور‘‘ وی لکن لئی تھاں لبھدا اے پر پھڑیا جاندا اے۔ رب سائیں دا ڈنگر مال والا فرمان سچا اے نا، اوہ تے سچا رہے گا ای!
کالے کم کرتوت نہ چھوڑے، چٹی ہو گئی داڑھی
ہن عملاں نی کالی کٹوی، ٹھڈے چلھے چاہڑی
کس ہڈاں وچ دھس گئی، تاں میں سُنڈھ ملٹھی کاڑھی
بانگاں دیویں توں پنج وقتی، بھج بھج وڑیں مسیتی
ہک نماز قضا نہ کیتی، ہک نہ ڈھڈوں نیتی
باہروں توں چٹ کاپڑ، توہنڈے اندر وڑی پلیتی

نظم ’’پیکا‘‘ وچ اک نویکلی تے بڑی ڈاہڈی پیڑ اے۔ پیو سر تے نہ رہوے تے وڈا بھرا پیو دی تھاں سمجھیا جاندا اے۔ تے جے اوہ اپنے آپ نوں ایس منصب دا اہل ثابت نہ کر سکے تے دھیاں دھیانیاں دے ساہواں نال مچدے بھانبڑ! توبہ! پتھر وی پنگھر جاندے نیں۔ میں ایس نظم تے اس توں وَدھ کچھ کہن جوگا نہیں۔ ’’دھیاں نی ما‘‘ ایدھے نالوں وی وڈا دکھ اے۔ کیہڑی ماں نوں پتر کھڈان دی سک نہیں ہوندی، بھلا! بندے نوں کچھ سوچنا چاہی دا اے۔ اندر دی گل دساں، ایہ نظماں مینوں ہڈ بیتیاں لگدیاں نیں، رب دیاں رب جانے یا پھر جس دے سر ورھی ہووے اوہ جانے؛ ایہ ’’ریٹی رونا‘‘ انج ای سمجھو۔ نظم ’’گھانی‘‘ توں پتہ لگدا اے، ایہ کہانی پوری حیاتی دے نال چلے گی۔ حیاتی مک گئی تے ساریاں کہانیاں مک گئیاں، جانو۔ گل پھر اوتھے ای آ جاندی اے:
پینڈا مک وینا، جدوں راہ مک وینے وُن
رسی کھل وینی، جدوں ساہ مک وینے وُن

پھر وی، اک امید جیہی رہندی ضرور اے۔ آس امید، سہارے، ایمان تے کردار دی اہمیت؛ بابے ہوری اپنے تجربیاں دا نچوڑ نظم ’’جینا سکھو‘‘ وچ دس گئے نیں۔ خبرے کس دی سوچ، کس دا احساس کیہڑے ویلے کس گل تے جاگ پوے۔ ایس لئی کہندے نیں بھئی ڈلھیاں بیراں دا کچھ نہیں گیا۔پر، جے بیری وڈھ دتی جاوے تے پھر؟ بابے ہوری ڈوہنگیاں پیڑاں دا بیان اینے سچج نال کر جاندے نیں، بھئی پڑھن سنن والے دے دل وچ چبھک تے پیندی اے پر، مونہوں آہ نہیں واہ نکلدی اے۔
ویہہ ورھیاں وچ کیڑ نہ گھدی تدھ مینڈھی
پڑھ پڑھ نفل نمازاں عمر گزار گئیاں
گلاں وچ، سنھوں نیاں چھلاں، گھیر گھدا
مانہہ گھِن ڈُبیاں تینڈی بیڑی تار گئیاں
ست سمندر پار وسینیا، بے خبرا!
مینڈھیاں چیکاں ست اسمانوں پار گئیاں
کفنی پا کے پیو نے ویہڑیوں وَیساں میں
ڈولی پے کے کُڑیاں سوہرے گھار گئیاں

مشتاق عاجزؔ ہوراں نے؛ جیویں میں پہلوں عرض کیتا اے؛ دھرتی نال جڑ کے شاعری کیتی اے، اپنے آل دوالے دی ساری مینہ کنی، بدل، مٹی، چکڑ، ریتا، دھُدل، ہنیری،ٹھنڈیاں سیت ہواواں تے لوواں نال کھیڈے نیں؛ امیری فقیری، سانجھاں تے روسے، سارا کچھ اپنی جان تے جھلیا اے۔ تے پھر ایسے مٹی دی مہک نال گنھے ہوئے لہجے وچ، لوک صنفاں راہیں اپنے قاری تیکر اپڑایا اے۔ کچھ ونْگیاں ویکھو:
بازار وکینا گھیو وے
سکا ساک امبڑی تے پیو وے
کر گھن خدمت بہوں، پچھتاسیں وَت ماہیا
وین کریسیں، اکھیوں چوسی آ رَت ماہیا

پھل پئے کھڑنے ویہڑے
ہونے عملاں نال نبیڑے
نکا جیہا موہڑا، موہڑے وگنے ہل ماہیا
حکم الٰہی، پاک نبی نی گل ماہیا
گل سونے نی گانی
شالا مانیں پاک جوانی
گھڑ سنیاریا، مینڈھا چوڑا، پاسے نا
صدقہ کر ماہیا، مٹھا بول دلاسے نا

بہوں کَوڑ نہ کیتا کر
دشمن دار چنا، گھٹ صبرے نے پیتا کر
مجھ ساوا گھا کھاسی
چنگیاں نیتاں نا، مل آپ خدا پاسی
کجھ بوٹے لا ساوے
دلوں دعا دیوے، جیہڑا ایہناں نا پھل کھاوے
پے سکنے ٹانڈے نیں
سیتی چ بھج ویسن، بندے مٹی نے بھانڈے نیں

فارسی ہووے، بھانویں اردو، بھانویں پنجابی؛ غزل دا مزاج دوجیاں صنفاں توں وکھرا ہوندا اے۔ بابے ہوراں دیاں غزلاں تے تفصیلی گل پھر کدھرے کراں گے۔ تبرک دے طور تے کچھ شعر پیش کر کے اپنے مطالعے دے دوجے حصے ولے ودھنے آں۔
گھر گھر نوراں جم پئی عاجزؔ 
گلی گلی پئے رُلنے دُلے
چکی دانے دلنی رہسی
پُڑ کیہ جانن نکے ٹھُلھے
کیہ مینڈھے نال کیتی لوکاں
نہ کیں پچھی، نہ میں دسی
کانواں مانیاں رج رج موجاں
گھگی ونج کڑکی پھسی
اتوں ساد مرادے لوک
اندروں پورے چونا گچ
ایتھے وِکنے ہکا بھا
موتی، ہیرے، پھیکڑ، کچ
مٹھی نظری جے کوئی تکے
اس نیاں گلاں بی مَٹھیائیاں
ساہواں وچ رب رہنا یار
اللہ اللہ بول تے سہی
سچ وکینا اچے بھا
سُچا سودا تول تے سہی

مشتاق عاجزؔ ہوراں دی کتاب ’’پھلاہی‘‘ دی شاعری دے مضموناں بارے میں جنی جوگا ہے ساں، گل کیتی اے۔ میرا ایہ خیال ہور پکا ہو گیا اے پئی پھلاہیاں دی ایس جُوہ وچ جس طرح دھرتی دے کئی رنگ نیں، کتے رکڑ، کتے میرا، کتے بارانی، کتے چاہی؛ اوسے طرح چھچھ تے اگے پچھے دی تہذیب وی رنگ رنگیلی اے۔ بابے ہوراں نے دھرتی دے سارے رنگاں تے رُتاں نوں وی سہانیا، پچھانیا اے؛ تے لوکاں نوں وی، تے اپنے آپ نوں وی۔ اپنے آپ نوں سہان پچھان لینا ای سب توں وڈا سچ اے۔

کندھاں دے پرچھانویں تے رکھاں دے پرچھانویں وچ بڑا فرق ہوندا اے۔ گل جدوں سوتر دی اٹی تے آ جاوے تے ایہدا مطلب اے شاعر نے ویلے دیاں طناباں کھچ کے، تے اپنی تاریخی، تہذیبی، فکری ورثے وچ کھُب کے شعر کہے نیں۔ سجناں دا کہنا سر متھے تے، مینوں ایہناں دونہاں حصیاں وچ فرق محسوس ہوئیا اے۔ بابے ہوراں اردو شاعری وی کیتی؛ غزل نظم دوہے؛ جس طرح دا فن کار شاعر اردو شعراں وچوں جھاکدا اے، اوسے طرح دا فن کار شاعر ایہناں دی پنجابی شاعری وچ وی دِسدا اے۔ اِک فائدہ ایتھے بابے ہوراں لیا اے تے سوہنا لیا اے۔ ماں بولی نوں ماں بولی کہندے ای ایس لئی نیں بھئی ایہ ماں دے دُدھ راہیں ساڈی ذات دا مڈھ بنھدی اے تے پھر جاندے ساہ تیکر نال رہندی اے۔ ماں پیو توں اسیں نرا دُدھ روٹی نہیں لیندے، اونہاں دی بھرویں زندگی دا رس وی ساڈی شخصیت دا حصہ بن جاندا اے۔ مثل مشہور اے: ’’ماں پر پیت، پتا پر گھوڑا، بہتا نہیں تو تھوڑا تھوڑا‘‘۔ دھرتی ماں نال ساڈا جوڑ میل وی تے ساڈے ماں پیو دے راہیں بنْدا اے نا۔ مشتاق عاجزؔ ہوراں نے زندگی طرح شاعری وچ وی بڑیاں فنکاریاں کیتیاں نیں۔ اک نظر فنی تے لسانی تے شعری سچج تے وی پا لئی جاوے۔ تہذیبی ورثے توں اگے ودھ کے ایہ تے بابے ہوراں دا اپنا ہنر اے نا۔

مشتاق عاجزؔ ہوراں نے رومانی داستاناں دی روایت نوں سب توں پہلوں اپنا موضوع بنایا اے، تے رومان دی ایسے رِیت نوں نبھاندیاں ہویاں اپنے لئی تانیث دا صیغہ پسند کیتا اے۔ ’’کوک‘‘ دی قافیہ بندی دا سواد سونے تے سہاگا اے:
تھل مارو دفناویں مینوں
میں پنوں دی سسی
عشق چنھاں وچ ڈوب کے ماریں
میں مہینوال دی تسی
کھیڑیاں نال نہ ٹوریں ربا
پا رسماں دی رسی
جھلی کر کے رول نہ دیویں
جنگل، بیلے، کسی

واہی بیجی تے حیاتی کرن دے تجربے نری نصیحت بن جان تے پڑھن سنن والا اَک جاندا اے۔ پر جے واہی وان دے ہتھ وچ ہنر دا چابک ہووے تے لفظ اوہدے اگے اگے انج ٹر پیندے نیں، جیویں پنجالی وچ ڈھگے۔ قافیاں تے ردیفاں دی بندش تے شعر وچ کھب کے ورتن دا ڈھنگ ویکھو:
وتر آن تو پہلاں، زمیاں واہئے نانہہ
کنکاں چھولیاں نال، مکئیاں راہیے نانہہ
سکیاں ویراں کولوں، گھنڈ نہیں کڈھی دا
بابل ساہویں، سر توں چنی لاہئے نانہہ
پھٹ پرانے ہو کے، سک وی جاندے نیں
سجرے پھٹ توں، کدی کھرینڈا لاہئے نانہہ

بابے ہوراں دی چابک دستی دیاں مثالاں کنیاں ای نظماں غزلاں وچ بھرواں لطف دے جاندیاں نیں۔ نظم ’’کویلے چیتے‘‘ ٹپے دی قسم ڈیوڑھ دا اک بہت ودھیا نمونہ تے مضمون آفرینی ویکھو ذرا:
ادھی راتی چکی چھوئی، سلھے دانے پائے
کنج پیہواں نی مائے
دنے باتی تیل نہ پایا، ستی چڑھ پڑچھتی
راتیں بلی نہ بتی

اولاد دے چا، لاڈ پورے نہ ہون دا دکھڑا نظم ’’سجرا پھٹ‘‘ جیویں دل نوں مُٹھ بھر لیندی اے:
تینوں یاراں مہندی لانی سی
ساڈے ویہڑے واجے وجنے سن
تینوں ویراں گانا بنھنا سی
تیرے سر تے سہرے سجنے سن
تینوں پھپیاں جوڑا لانا سی
گل ہار پھلاں دے پانے سن
اجے رل کے مُنڈیاں کڑیاں نے
تیرے گانے سہرے گانے سن
نچ نچ کے بھین نمانی نے
ہجے واگ پھڑائی لینی سی
گا گا کے ڈوماں ڈومنیاں
گھر آن ودھائی لینی سی
کسے مامے چاچے ماسی نے
تینوں لاڑا بنیا تکیا نانہہ
کسے آس دا بوٹا پھلیا نہیں
کوئی ریجھاں دا پھل پکیا نانہہ

میرا یقین اے بھئی کسے وی تہذیب، ثقافت دا مڈھ بنھن وچ دو چیزاں دا کردار مڈھلا ہوندا اے: اک مذہب تے دوجی دھرتی۔ زبان دی سانجھ دھرتی وچوں اُگدی اے۔ ایس لئی روشن دل تے روشن دماغ والے قلمکار (خاص طور تے شاعر) دی لفظالی ایہناں تناں چیزاں دے آل دوالے گھمدی اے۔ تناں وچوں اک رشتہ وی ماڑا پے جاوے تے شعر چس نہیں دیندا۔ دوجے پاسے، ویلے دے نال نال حیاتی دے سفر وچ آندیاں تیزیاں اپنی تھاں وا ورولے بنْدے جاندیاں نیں، تے پھر ایہناں تناں بنیادی قدراں وچ بھن تروڑ ہون لگ پیندی اے۔ قلمکار دا وِہار تے ہوندا ای لفظاں راہیں اے یعنی زبان۔ زبان کسے وی تہذیب دا عطر ہوندی اے جہدے وچ پوری ثقافت مہکدی اے۔ ایہ پورنے، اکھر تے شبد جنہاں نوں مشتاق عاجز ہوراں نے ’’کالے کوکلے‘‘ دا علامتی ناں دتا اے، اکلے شاعر دے ای نہیں اس دی پوری رہتل، رسماں، ریتاں تے حیاتی دے ون سونے رنگاں دے ونجارے ہوندے نیں۔ کسے تہذیب دے مٹھیاں پے جان دا پہلا مطلب ہوندا اے، لوکائی دا زبان نال رشتہ کمزور ہو رہیا اے۔

اک سیانا شاعر شاعری دے نال نال اکھراں تے شبداں دے ورثے نوں وی بنھ جوڑ کے سنبھالدا جاندا اے۔ ایہ سنبھال جنے سلیقے نال شعر وچ ہوسکدی اے شاید نثر وچ نہ ہو سکے۔ کیوں؟ جے شعر دی لذت قاری نوں کئی کئی شعر، پوریاں پوریاں غزلاں تے نظماں زبانی یاد کرا دیندی اے، نثر نوں ایس طرح بہر حال یاد نہیں رکھیا جا سکدا۔ مشتاق عاجز ہوراں نے ثقافت دے ایس عطر نوں اپنی شاعری وچ پوری طرح سنبھالن دا سربندھ کیتا اے تے اوہدے وچ کامیاب وی رہے نیں۔ خاص طور تے کتاب دا دوجا حصہ ’’سوتر نی اٹی‘‘ ایس ورثے دا امین دِسدا اے۔ ایس حصے دیاں پہلیاں چار پنج نظماں (پونی کتے کون، دنیا، رسی، بدل، ونگاں) ساریاں دیاں ساریاں عطر دیاں شیشیاں نیں۔ نظم ’’ونگاں‘‘ پڑھدیاں انج لگدا اے، بندے دے ساہ وی چھنکنْ لگ پیندے نیں۔ ساری نظم ای پڑھن جوگی اے۔ ایہ نظم پڑھ کے مینوں بہت پہلوں دا سنیا ہوئیا کسے دا شعر یاد آ گیا، پیش کر دیندا آں:
ساجن کی یادیں بھی کیسے کیسے وقت پہ آ جاتی ہیں
گوری آٹا گوندھن لاگی، نون ملانا بھول گئی تھی

’’یاداں تے فریاداں‘‘ وچ مشتاق عاجز ہوری کہندے نیں:
نگدی تے دل شکری کھاہدی، پیتے گھول پتاسے
ڈھڈوں نکلیاں مٹھیاں گلاں، دلو نکلے ہاسے
ہٹیوں گھن مرنڈے کھاہدے، کھاہدے کھنڈ مکھانے
ہک بوجھے وچ گڑ چا پایا، ہک بوجھے وچ دانے
نہ کوئی رنگ برنگیاں پڑیاں، نہ شاپر، نہ ڈبے
بھٹھیوں ونج بھنائے دانے، جھولی پا کے چبے
کھوہ دھرکنے، کھتی پائے، رل مل کھیڈی گنجی
کچے ویہڑے مٹی چ کھیڈے، ستے واہنی منجی

نظم ’’کیوں‘‘:
نہ میں لمی کوڈی کھیڈی، نہ کھیڈا بڑ بٹا
نہ میں اِٹی ڈَنا کھیڈا، تے نہ چاڑی وَٹا
وت کیوں لوک ونگارنے رہنن
ودھ ودھ اڈے مارنے رہنن
ٹلے مار پدانے رہنن
ڈاہڈے چاڑیاں کھانے رہنن

کلو شبکا، پنج گِیٹ، چھپن چھوت، کوکلے؛ حرفوں حرف انتخاب نیں، آپ ای پڑھ لینا۔ اگے کچھ نظماں مٹھا میوہ، ہٹی، ڈوہنگیاں سوچاں، اندرے نا چور، بیر نہ ڈھٹھے، دھیاں نی ما، جینا سکھو، سانجھ، پھلاہی، گھانی؛ ساڈی ثقافت دیاں بولدیاں ہوئیاں اوہ تصویراں نیں جنہاں دے وچ اندر دیاں پیڑاں دی چبھک وی اے، سدھراں دے ٹھنڈے ساہ وی، تے ٹٹدیاں بھجدیاں قدراں دا سیک وی اے۔ ایہ نظماں محسوس کرن والیاں نیں، ایہناں تے گل کرنا شاید ایہناں دی تاثیر نہ گھٹا دیوے۔ صرف ایہناں نظماں وچ ای نہیں، ساری کتاب وچ مشتاق عاجز ہوراں دی معاملہ بندی، مضمون نگاری تے مضمون آفرینی دا جادو سر چڑھ کے بول رہیا اے۔

جیویں میں پہلوں عرض کیتا اے، پھر کہاں گا: مشتاق عاجز ہوری رہتل تے ثقافت دے نال نال زبان دی لوک رِیت نال وی پوری طرح جڑے ہوئے نیں۔ لوک کلاسیکی روایت دے وچ گلاں پرانیاں تے نویاں ایس طرح رلا ملا کے کر جاندے نیں، قاری ویکھدا رہ جاندا اے، کچھ بول کہہ نہیں سکدا۔ ع: ہو گئی محفل ساری چپ!
گڈی آئی، لیناں لیناں
بہوں مان کرینیاں، بھیناں
کدے نہ نکھڑن، شالا، بھین بھرا ماہیا
اَڈ اَڈ جھولیاں، بھیناں منگن دعا ماہیا

تینڈے گھر نی سین سوانی
اس کھڑے وئے باغ نی رانی
پوتے پوتریاں، دادی نے پھل ماہیا
لاڈ مراداں نا، نونہاں پایا مل ماہیا
سوہنی پئی نبھنی، رب چاہڑی آ رنگ ماہیا
نال حیاتی، بڈھی بڈھے نا سنگ ماہیا

ایہ بڈھی بڈھے نا سنگ ایڈی وڈی نعمت اے، جس دا جناں وی شکرانہ ادا کیتا جاوے، ہو نہیں سکدا۔ جیہدے سر وری اوہ جانے؛ سجناں نے میری نظم ’’ذرا سی بات‘‘ پڑھی ہووے گی۔ ایس توں وَدھ کچھ کہنا میرے لئی ڈاہڈا اوکھا اے۔ دل تے پتھر کیہ رکھیا جاوے، ایہ تاں جیویں آپ ای پتھر ہون لگ پیندا اے۔

صوتی تکرار دے سوہنے سلکھنے نمونے پوری کتاب وچ تھاں تھاں لبھدے نیں۔ اک ہور ونْگی:
اُڈدیاں گڈیاں نوں پیچے جدوں پیندے نیں
ڈکو ڈولے کھاندیاں نوں منڈے لٹ لینڈے نیں
ٹٹ جاندی ڈور جدوں اُڈدی پتنگ دی
گوری چٹی وینی وچ ونگ سوہے رنگ دی

ونگاں توں یاد آیا، مشتاق عاجز ہوراں نے ایس ناں دا اک پنجابی رسالہ اٹک توں جاری کرنا سی۔ حالے تیکر اڈیکی جا رہیا آں۔ پتہ نہیں، یا تے ثقلین ہوری رُجھ گئے نیں، یا پھر شاہ جی نوں ویہل نہیں مِلدا۔ بہر حال میں اڈیکی جا رہیا آں۔ حیاتی دے پندھ وچ اڈیک دی اپنی اک رسان ہوندی اے، ایس توں انکار نہیں کیتا جا سکدا۔ مشتاق عاجز ہوراں حیاتی دا لما پینڈا مہکدی مٹی نال ایس طرح جڑ کے کھچیا اے پئی ایہ مہک اونہاں دے حرفاں، لفظاں، اکھراں، شبداں وچ رچ وس گئی اے۔ جیون کھیڈ دے ایہ کالے کوکلے بابے ہوراں دی اک وڈی ہوشیاری دا وی پتہ دیندے نیں۔ رب سائیں ایہناں نوں ہور حیاتی دیوے تے ایہ ساڈے لئی چیچو چیچ گنڈیریاں تے کالے کوکلے بناندے رہن تے اسیں کھیڈ کھیڈ وچ لبھدے رہئے۔ 

میری ساری گل بات مشتاق عاجزؔ ہوراں دی اک غزل دا مقطع؛ ایہدے وچ لفظ عاجز دی بندش! کیا کہنے:
ساہے نا سیت وساہ نہیں عاجزؔ 
کئیں نی آکڑ، کیہ وڈیائیاں
۔۔۔۔۔

محمد یعقوب آسیؔ بدھ ۱۵؍ فروری ۲۰۱۷ء