منگل، 2 فروری، 2021

مجھے اپنی کتاب ضرور بھیجئے گا

مجھے اپنی کتاب ضرور بھیجئے گا


اس سے قطع نظر کہ کوئی آپ کو اور آپ کی کتاب کو جانتا بھی ہے یا نہیں؛ مجھے دنیا جانتی ہے۔ اور یقین جانئے کہ جتنا جانتی ہے وہ بہت کم ہے؛ اہلِ علم ہنوز بے قدری کا شکار ہیں۔ بہ این ہمہ، کسی نے میرا نام سن رکھا ہو، اس کی کوئی کتاب شائع ہو، اور وہ مجھےنہ بھیجے؛ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ کتاب میں شامل مواد تو ہوا آپ کا، اس کی تو کوئی قیمت لگائی ہی نہیں جا سکتی؛ وہ تو ’’بے بہا‘‘ ہے، اور اس کی قدر کرنا ہر اہلِ ذوق کی ذمہ داری ہےتاہم یہ ذمہ داری بنتی ہی تب ہے جب کتاب اس تک پہنچے۔ اس امر کو یقینی بنانا تو آپ پر ہے، نا۔ کتاب کی اشاعت البتہ کاروباری معاملہ ہے۔ اس پر آپ کا یا کسی اور کا جو بھی خرچہ آیا ہے، وہ تو آنا تھا۔ ایک خوش ذوق قاری اور ناقد کو اتنا حق تو دیجئے کہ اسے آپ کی کتاب خریدنی نہ پڑے؛ ورنہ اس کے ذوق کی توہین ہو گی۔ ہو گی نا! اہلِ قلم طبقہ بہت حساس ہوتا ہے، آپ بھی یقیناً کسی کی توہین نہیں کرنا چاہیں گے۔ ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ آپ نے ایک کتاب تخلیق کی، مرتب کی، اس کی اشاعت کا بوجھ اٹھایا، کس لئے؟ کہ آپ کی کتاب کو پڑھا جائے۔ گویا کتاب کو پڑھا جانا آپ کی ضرورت بھی ٹھہرا، ضرورت ذمہ داری کو جنم دیتی ہے۔ یہاں تک تو واضح ہو گیا۔

سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کتاب مجھے ہی کیوں بھیجی جائے؟ اس کا جواب چنداں مشکل نہیں۔ میں آپ کی کتاب کا کماحقہٗ مطالعہ کرنے اور اس پر اپنی ناقدانہ رائے دینے کا اہل ہوں۔ اس امر میں البتہ آپ کے عمل کا بہت دخل ہے جو میری تنقید کو کتاب کی تنقیص، تحسین یا تقریظ کا راستہ دکھائے گا۔ ورنہ میں تو کتاب سے محبت کرنے والا آدمی ہوں۔ میں تو کتاب سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ اس کو کھولنا اور اس کی ورق گردانی کرنا بھی مجھ پر شاق گزرتا ہے کہ کہیں اوراق کو نقصان ہی نہ پہنچ جائے۔ جو کتابیں میں نے کسی ضرورت کے تحت خریدی تھیں، ان کی ورق گردانی اور ویرانی میرا مسئلہ ہے۔ آپ مجھے کتاب بھیجیں گے تو ہدیہء محبت کے طور پر بھیجیں گے اور اس توقع پر بھیجیں گے کہ میں اس کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کسی معروف پلیٹ فارم پر کروں۔ یہ آپ کا عین فطری حق ہے اور یہ بھی کہ آپ کی کتاب میرے ہاتھوں میں محفوظ رہے۔ اس لئے مجھ پر لازم ہے کہ میں آپ کے تحفے کو مکمل حفاظت میں رکھوں، چاہے مجھے آپ کی کتاب سات پردوں میں رکھنی پڑے، اور میں برسوں سے یہی کرتا آ رہا ہوں۔ بلند بانگ دعوے رکھنا میرے مزاج میں شامل نہیں، آپ چاہیں تو میرے ہاں برسوں پہلے موصول ہوئی کتابوں کا معائنہ کر لیجئے۔ آپ کو یقین ہو جائے گا کہ ان کو کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھا گیا۔ نہیں؟ ارے کیوں! کیا آپ کو اب بھی میری محبت پر یقین نہیں ہے؟ اگر ہے تو ۔۔۔
مجھے اپنی کتاب ضرور
بھیجئے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔ 

 محمد یعقوب آسیؔ(ٹیکسلا) پاکستان

منگل: ۲؍ فروری ۲۰۲۱ء


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں