منگل، 27 اکتوبر، 2015

جینے مرنے کا فن



جینے مرنے کا فن
(سید عارف کے شعری مجموعہ ’’ لہو کی فصلیں‘‘ پر یہ تاثراتی مضمون پاکستان یوتھ لیگ واہ کینٹ کے اجلاس مؤرخہ ۹؍ جنوری ۱۹۹۲ء میں پیش کیاگیا)


میں روشنی ہوں
افق افق پھیلنا ہے مجھ کو
عروقِ ہستی سے زہرِ ظلمت نکالنا ہے
مجھے تمنا کا گوشہ گوشہ اجالنا ہے

سید عارف کی کتاب ’’لہو کی فصلیں‘‘ اور اس کا موضوع ایک اعتبار سے اِس نظم میں مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ وادئ کشمیر، خطۂ جنت نظیر آج جہنم کا نمونہ بنی ہوئی ہے اور ہر حساس آنکھ پر اس وادئ گل رنگ کو خوں رنگ ہوتے دیکھ کر جو گزرتی ہے اس کا ادراک مجھے اور آپ کو سب کو ہے۔ سید عارف نے نعت کے زیرِ عنوان مسلمانانِ عالم کی زبوں حالی اور بے بسی کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں مجھے ایک خاص نکتہ دکھائی دیتا ہے؛ یہ مصرعے دیکھئے:
ع             زباں پہ نام ترا، دل میں خوف کے اصنام
ع             ترا پیام محبت، مرا ضمیر غلام
ع             انا فروش ہوں نیلام ہو گیا ہوں میں
ع             اسیر گردشِ ایام ہو گیا ہوں میں
ع              یہی سزا ہے مری اور یہی مرا انجام
ع              کہ حادثاتِ زمانہ کی ٹھوکروں میں رہوں

یہ ہے وہ اصل بات کہ ہم خود کے لئے مخلص نہ رہے تو ہم پر زمانے بھر کے آلام و مصائب نے ہلہ بول دیا۔ یہ صورتِ حال صرف کشمیر میں نہیں پوری دنیا میں ہے۔سید عارف نے کشمیر کو پوری اسلامی دنیا کے لئے علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ’دخترِ کشمیر کی پکار‘ میں وہ امتِ وسطیٰ کی حالت زار کا جس انداز میں نقشہ کھینچتے ہیں اس کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی، اور ہاں! یہاں بات صرف داد دینے کی نہیں، بات ہے محسوس کرنے کی اور غم میں سانجھی بننے کی اور اس کا مداوا کرنے کے عزم کی۔ یہ دعوت بھی ہے، دعا بھی، تاریخ بھی اور احساس بھی جس کا ایک تاثر ’کشمیری ماں کی دعا‘ میں ملتا ہے:
خدائے عالم
مرے وطن کے یتیم شہروں میں
پھر سے کوئی محبتوں کا رسول اترے
کبھی تو چہروں سے
بے یقینی کی دھول اترے

سید عارف نوحہ نہیں کرتا، بلکہ اپنے عزم کا اظہار کرتا ہے اور عمل کی دعوت دیتا ہے:
کہ میں مسکراتے ہوئے
موت کی وادیوں سے گزرنے کا فن جانتا ہوں
کہ میں روشنی بن کے
تاریکیوں میں بکھرنے کا فن جانتا ہوں
کہ میں سینۂ سنگ میں بھی اترنے کا فن جانتا ہوں
میں جینے کا مرنے کا فن جانتا ہوں

یہ مرنے کا فن ہی زندگی کی ضمانت ہے ۔ اور سید عارف اس لئے بھی زندہ رہنا چاہتا ہے کہ اسے حقِّ آزادی حاصل ہے، کہ اس کی نسبت رسول ہاشمی ﷺ سے ہے جنہوں نے جنہوں نے جہاں میں آدمی کا بول بالا کیا اور ظلمات کا دل چیر پر اجالا کیا۔ سید عارف مرتا ہے تو اس لئے کہ اسے مر کر زندگی تخلیق کرنی ہے، اسے اپنے لہو سے روشنی حاصل کرنی ہے اور:
مجھے صدیوں سے دشتِ شب میں
آرزوؤں کی جبیں پر
صبحِ نو کا اک حسیں جھومر سجانا ہے
مجھے عارف 
ہر اک وحشت کدہ مسمار کرنا ہے
کہ مجھ کو آگ کا ہر ایک دریا پار کرنا ہے

اس کی دعوت حسین بن کر جینے اور مرنے کی دعوت ہے، یہ جسارتوں کے گلاب کھلانے کی اور حرفِ بقا سے شناسائی کی دعوت ہے:
کہ میں
لوحِ ارض و سما پر لکھا
ایک حرفِ بقا ہوں
کہ میں حریت کی اک ایسی صدا ہوں
جسے کوئی دیوار بھی روک سکتی نہیں ہے

اُس کے پیشِ نظر ایک ایسا مردِ حر ہے جو بدی کی بڑی سے بڑی قوت سے ٹکرا جاتا ہے۔ جو اپنے دشمن کی سوچ پڑھ لینے کی قدرت رکھتا ہے، جو خوشبوؤں کا پیمبر ہے، جو روشنی کی علامت ہے:
میں اک علامت ہوں روشنی کی
وہ روشنی جو ضمیر صبحِ ازل سے پھوٹی
خدائے کون و مکاں کا عکسِ جمال ہوں میں
کہ جس کی خاطر خدا نے ارض و سما تراشے
ادب کرو میرا دنیا والو
کہ میں پیمبر ہوں خوشبوؤں کا
محبتوں کا رسول ہوں میں

اسے بدگمانیوں کے زہر کا پوری طرح ادراک ہے، وہ بدگمانی جو اعتماد اور یقین کے رشتے توڑ دیتی ہے، جو آدمی کو ذرہ بنا دیتی ہے، جو زندگی کی تازگی چھین لیتی ہے، جو ذہنِ انسانی کو تاریک کر دیتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ:
تضادِ قول و عمل کی شب کا طلسم ٹوٹے
کبھی تو شامِ گمان گزرے
کبھی تو صبحِ یقین پھوٹے

سید عارف نے اِس کتاب میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ ایک سچے اور کھرے انسان کو اُس کی قوت کا احساس دلایا ہے، اسے امید بخشی ہے، ولولۂ سفر بھی دیا ہے اور نشانِ منزل بھی:
ہر مجلس میں ہر زنداں میں
اک حشر اٹھانا ہے مجھ کو
ظلمت کا جفا کا وحشت کا
ہر نقش مٹا نا ہے مجھ کو
اِس پار بھی رہنا ہے عارف
اُس پار بھی جانا ہے مجھ کو

اُس نے اپنے زبان میں جاودانی اور الوہی پیغام دیا ہے، اب اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا میرا کام ہے، آپ کا کام ہے۔


 محمد یعقوب آسی ۔۔۔ 9 جنوری 1992ء

کچی عمر کی پکی باتیں




کچی عمر کی پکی باتیں

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر شاہد محمود ذکیؔ کے پہلے شعری مجموعہ ’’خوشبو کے تعاقب میں‘‘ پر ایک تأثر (کتاب کی تقریبِ رونمائی [مؤرخہ ۱۲؍ اپریل ۱۹۹۶ء حلقہ تخلیقِ ادب ٹیکسلا] میں پڑھا گیا)

صاحبو! سب سے پہلے تو مجھے شکریہ ادا کرنا ہے عزیزی شمشیر حیدر کا جنہوں نے مجھے شہرِ اقبال کے ابھرتے ہوئے شعر جناب شاہد محمود ذکیؔ سے متعارف کرایا اور اسی دن یعنی ۲۰؍دسمبر ۱۹۹۵ کو جناب ذکیؔ کی غزلوں پر مشتمل پہلی کتاب ’’خوشبو کے تعاقب میں‘‘ عطا فرمائی۔ پھر مجھے شکریہ ادا کرنا ہے جناب عادل صدیقی کا جنہوں نے شاعر کے متعلق نہ صرف بنیادی معلومات اور اہم اطلاعات سے نوازا ہے بلکہ اس کے نقاد کے لئے کچھ حدود کا تعین بھی کر دیا ہے۔ لکھتے ہیں: تتلیاں پکڑنے کی عمر سے ذرا آگے پہنچ کر اگر کوئی شخص شعر گوئی کا ہنر پالے تو دیکھنے اور سننے والوں کو حیرت ضرور ہوا کرتی ہے اور اگر کوئی انسان زندگی کے اکیسویں سال میں ہی صاحبِ تصنیف بھی ہو جائے تو اور بھی حیرانی کی بات ہو گی۔ تو پھر آپ سچ جانئے کہ شاہد ذکیؔ ابھی اکیس کے سن میں ہی داخل ہوا ہے کہ خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑا ہے، خدا اس نونوان کو نظرِ بد سے بچائے۔‘‘ جناب عادل صدیقی کے بقول ’’یہ بھی شکیب جلالی، سبط علی صباؔ ، آنس معین اور عارف جلیل کے قبیلہ کا فرد معلوم ہوتا ہے اور پھر خوشبو کے تعاقب میں نکلنا کارِ آسان بھی نہیں۔ اگر اس نوجوان نے اس غیر معمولی دشوار سفر پر چل نکلنے کا عزم اور حوصلہ پکڑ لیا ہے تو ہماری دعا ہے کہ یہ زندگی میں خوشبوئیں سمیٹتا رہے اور انسانی ماحول یا معاشرے کو عطربیز کرتا رہے۔‘‘

خود شاہد ذکیؔ کہتے ہیں: ’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاہد ذکیؔ کی شاعری میں کچا پن ہے۔ مجھے اس بات کا بخوشی اعتراف ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کچا پن ہی میری شاعری کا حسن ہے۔ بقول محترمہ پروین شاکر کہ میں نہیں چاہتی کہ میرا فن کچی عمر میں ہی فلسفے کا عصا لے کر چلنا شروع کر دے‘‘۔ شاہد کا کہنا ہے: ’’ویسے بھی میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں آنکھوں میں خواب، کتابوں میں پھول اور ہونٹوں پر نغمے رکھے جاتے ہیں اور انہی خوابوں پھولوں اور نغموں کا عکس ہی میری شاعری ہے۔ کبھی کبھی یہ خواب پھول اور نغمے ٹوٹ کر بکھرتے ہیں تو دکھ تو ہوتا ہے نا! یہی وجہ ہے کہ کہیں کہیں آپ کو میرے کرب آمیز تفکر کی جھلکیاں نمایاں نظر آئیں گی۔ ان کرب ناک داستانوں کو رقم کرنے میں میری شعوری کوششوں کو ہرگز ہرگز دخل نہیں ہے۔‘‘

مناسب ہو گا کہ آگے بڑھنے سے پہلے ڈاکٹر قمر تابش کے الفاظ دوستوں کے گوش گزار کر دوں۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ’’بارش کا پہلا قطرہ کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو، زمین کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ہمیں یقین ہے کہ شعروں کے حوالے سے اُس کی آنے والی ہر کاوش پہلے سے کہیں بہتر ہو گی اور خوب سے خوب تر کا سفر انسانی فطرت کے حوالوں سے جاری رہے گا۔ شاعری کے حوالے سے شاہد محمود ذکی کا قلم قبیلے کے قدیم اور جدید لکھاریوں کے درمیان پورے قد سے کھڑا ہے اور اپنے بھر پور جذبوں کے ساتھ خوشبو کے تعاقب میں ہے، اپنی معصوم اور پیاسی کوششوں کے ساتھ۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین اس کے شعروں کی بعض سہواً فنی فروگزاشتوں کو برداشت کریں گے اور اسے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے بہتر سے بہتر شعر کی تخلیق کا موقع فراہم کریں گے۔‘‘ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب، کہ آپ نے وہ بات کہہ دی جو مجھے بھی کہنی تھی۔

پھر، مجھے شکریہ ادا کرنا ہے شاہد ذکی کے قریبی دوست قیصر فداؔ کا بھی اور ندیم اسلام آمرؔ کا بھی جن کے ملفوظات سے مجھے بات کرنے میں آسانی ہو گئی ہے۔ ایک بات البتہ مجھے بڑی عجیب محسوس ہوئی کہ ’’خوشبو کے تعاقب میں‘‘ کے شاعر شاہد محمود کا تخلص ذکیؔ جو کتاب کے سرورق پر تو لکھا ہے اور کتاب میں شامل مضامین میں بھی آیا ہے مگر تہتر غزلوں، ایک حمد اور ایک نعت پر مشتمل چورانوے صفحات پر پھیلے پانچ سو چھتیس اشعار میں یہ لفظ ذکیؔ بطور تخلص ایک بار بھی نہیں آیا۔ بلکہ شاعر نے اپنے نام کا پہلا لفظ شاہد بطور تخلص باندھا ہے۔ اس کو میں یوں دیکھتا ہوں کہ شاہد محمود نے تکلفاً اپنے نام کے ساتھ ایک عدد تخلص چسپاں کرلیا ہے ورنہ وہ سیدھے سادے ۱نداز میں براہ راست اسی نام سے پہچانا جانے کا خواہش مند ہے جو اُسے زندگی کے ساتھ ملا اور جو بچپن سے آج تک بلا امتیاز ہر سطح پر اس کے ساتھ رہا یعنی ’شاہد‘۔ یہی براہ راست انداز اس کی شاعری میں جا بجا نہ صرف نظر آتا ہے بلکہ بعض مقامات پر تو بے تکلفی کی حدود سے آگے نکلتا دکھائی دیتا ہے:
آرزوئیں فضول ہوتی ہیں
گویا کاغذ کا پھول ہوتی ہیں
ذرا سی بات پہ کیا یوں پھلا کے منہ چلے جانا
جوانی تو جوانی ہے شرارت ہو ہی جاتی ہے

تا دمِ تحریر میری شاہد سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور فی الحال مجھے اس کے شخصی مزاج کا کوئی اندازہ نہیں ہے اور شعر پر بات کرنے کے لئے یہ ایک اچھا اتفاق ہے۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ ذاتی مشاہدہ اشعار کے تجزیے پر اثر انداز ہو کر کسی حد تک ہی سہی جانب دارانہ صورت اختیار کر لے۔ اپنی شاعری میں شاہد کبھی تو اپنی عمر سے بہت بڑا دکھائی دیتا ہے اور کبھی ایک ننھا سا بچہ اور کبھی ایک ایسا نوجوان جیسا وہ بظاہر ہے۔ اس کے کچھ نوجوان اشعار ملاحظہ ہوں:
بھیگی رتوں کے قرب سے تن جھومنے لگا
بارش کے لمس نے مجھے لذت عجیب دی
اسی لئے میں نہیں اب سنوارتا خود کو
میں جب سنورتا ہوں تو بے طرح بکھر جاتا ہوں
کچی تھی عمر عشق کی کچی تھی سوچ بھی
ایسے میں حادثات کو دیکھا تو ڈر گئے

اس کی شاعری میں دکھائی دینے والا سال خوردہ بوڑھا گرگِ باراں دیدہ اپنی ذات کا اظہار کچھ یوں کرتا ہے:
زندگی تو نے مرا حال عجب کر ڈالا
اب مجھے موت بھی دیکھے گی تو ڈر جائے گی
مری اک عمر کی محنت سے جو مکان بنا
وہ میرے بچوں کو سستا دکھائی دیتا ہے

بچوں کی سی بلکہ ’بچگانہ‘ معصومیت کا اظہار شاہد کے ہاں:
میں پھول ہوں تو ہونٹ کو تتلی بنا کے مل
میں چاند ہوں تو جسم کا ہالہ بھی دے مجھے
کوئی بتلا نہیں سکتا کہ مٹھی میں چھپا کیا ہے
کوئی چہرے سے عادت کا تصور کر نہیں سکتا

کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار مجھے ایسے لگاکہ شاہد نے شاعری نہیں بلکہ ڈائری لکھی ہے اور اپنے روزمرہ واردات، تأثرات، یاد داشتیں اور افکار جس طرح وہ وارد ہوئے رقم کرتا گیا ہے:
وہیں پہنچے جہاں سے ہم چلے تھے
سفر کے واہمے ہیں اور ہم ہیں
یہ مرے شعر تو نہیں شاہد
یہ ہیں میری کتاب کے آنسو
پھر آج مجھے میری ضرورت نے ستایا
پھر آج تجھی سے میں تجھے مانگ رہا ہوں
میرے قاتل کے خد و خال سے لگتا ہے مجھے
یہ کسی دور میں محبوب رہا ہے میرا

اس بات سے مراد ہرگز یہ نہیں کی شاہد نے زندگی کے نشیب و فراز کو کبھی سنجیدگی سے محسوس نہیں کیا یا یہ کہ وہ ڈائری لکھ کر خود ساری ذمہ داریوں سے دست بردار ہو کر بیٹھ رہا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ شاہد نے زندگی کا مشاہدہ کیا ہے اور اہل قلم ہونے کے ناتے پوری ذمہ داری سے اپنے منصب کو نبھانے کی سعی کی ہے۔اس نے اپنے ارد گرد کے دگرگوں معاشرے کو دیکھا بھی ہے محسوس بھی کیا ہے اور اپنے قاری کو اپنے احساس میں شریک بھی کیا ہے:
ماں ہر اک لمحہ اسی سوچ میں گم رہتی ہے
جب مرا بچہ جواں ہو گا تو کیسا ہوگا
تو نے تو ارادے ہی مرے توڑ دیے ہیں
گزرے گا سفر کیسے کھڑا سوچ رہا ہوں
اجتماعی سفر میں جب اسے اپنے ساتھ کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا تو تہ چلّا اٹھتا ہے:
اُس قوم نے کیوں مجھ سے بغاوت کی اے مالک
جس قوم کی خاطر میں لڑا، سوچ رہا ہوں

زندگی کے تجربے اور یقین کی مبہوت کن سطح اس کے بہت سے اشعار میں نظر آتی ہے۔ حیاتِ گریز پا کے تجربات کی فلسفیانہ توجیہ ملاحظہ ہو:
راز کوئی بھی ہو نہیں چھپتا
راز آوارہ گرد ہوتا ہے
خواب ٹوٹیں تو کچھ نہیں ہوتا
خواب بکھریں تو درد ہوتا ہے
عشق کا ساتھ دینا مشکل ہے
عشق صحرا نورد ہوتا ہے
اُن کی خوشیاں بھی عارضی ہوں گی
جن کے غم جاوداں نہیں ہوتے

فکر اور فن دونوں کا منبع انسان کی ذات کے اندر کہیں چھپا ہوتا ہے۔ شاید اسی لئے اظہار کی ابتدا عموماً داخلی سطح سے ہوتی ہے۔ یہ داخلی سطح انسانی شخصیت کی بنیاد قرار پاتی ہے۔ شاہد کے داخل میں ایک ایسی ٹھنڈی ٹھار روشنی ہے جو کسی بہت ہی ’پرائیویٹ‘ قسم کے چاند یا جگنو کی مرہونِ منت ہے۔ اِس کی نقرئی کرنیں اُس کے الفاظ میں کچھ اس طرح جھلملاتی ہیں:
کیا وہ بھی مجھے میری طرح سوچ رہا ہے
میں چاند جسے چھت پہ کھڑا سوچ رہا ہوں
شاہد یہ بات شہر کو حیران کر گئی
چڑیا کی رہنمائی کو جگنو نکل پڑے
اے چاند اُسے کہہ دے کہ سپنے نہ دکھائے
اے چاند اُسے کہہ دے میں اب جاگ گیا ہوں
شہر کا کہہ کے مجھے دشت میں لے آئے ہیں
گویا جگنو بھی شرارت پہ اتر آئے ہیں

پہلا شعری مجموعہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ شاعر اور قاری کے درمیان پہلا رابطہ ہوتا ہے اور اگر پہلا رابطہ ترسیلِ احساس کا فریضہ انجام نہ دے سکے تو شاعر اپنے قاری سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر اگر شاعر اپنے دل کی دھڑکنیں اور خون کی گردش اپنے الفاظ کو عطا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو محبتیں اس کی راہ میں گل بدست بلکہ فرش راہ ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا شاہد کی یہ کتاب یہ مقصد حاصل کر رہی ہے؟ جواب میں شاہد کے کچھ اشعار پیش کرتا ہوں:
ہم نے تمہارے شہر سے مانگا نہیں تجھے
ہم نے تمہارے شہر کو ویراں نہیں کیا
اے مرے شہر کے لوگو، مجھے تنہا کر دو
میری وحشت کو تماشا نہ بناؤ، جاؤ
ہر خوشی آخری نہ تھی میری
ہر خوشی آخری نظر آئی
مجھے نہ روکو کہ صحرائے مرگ سے آگے
مجھے حیات کا رستہ دکھائی دیتا ہے
تیرے آنے پہ بھی نہیں چھلکے
لگ رہا ہے کہ مر گئے آنسو
ناکام محبت کا سفر کیا ہے نہ پوچھو
اک لاش ہے جو رہنے کو گھر ڈھونڈ رہی ہے
سب نے کچے گھڑے کا دُکھ دیکھا
کس نے دیکھے چناب کے آنسو

میں تو اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شاہد نے زندگی کو تمام زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ جاگتی آنکھوں سے زندگی کا نظارہ کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ یہاں ضبط مشکل ہے اور ضبطِ مسلسل تو اور بھی مشکل ہے۔ یہ کیفیت جب اُس کی جان کو آتی ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے: 
ع ’’میں ضبطِ مستقل سے نہ مر جاؤں اے خدا!‘‘

اور خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ
ممکن ہے تیرے صبر کا یہ امتحان ہو
شاہدؔ غمِ حیات کا مقصد کوئی تو ہے

اور میرا مقصد؟ میرا مقصد شاہد کی شاعری کو اس طرح پیش کرنا تھا کہ آپ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ شاہد کا اپنا دعویٰ تو یہ ہے کہ:
مرے نقاد کو شاہدؔ بڑا حیران کرتی ہے
مرے الفاظ کی ندرت، مری سوچوں کی گہرائی

آپ کیا کہتے ہیں، غور کیجئے گا، شاہد کی شاعر کی شاعری پر بھی اور میری گزارشات پر بھی! 


محمد یعقوب آسی ۔۔۔ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۹۵ء


اوچن خراشو، انشائیہ اور صدیقی صاحب



اوچن خراشو، انشائیہ اور صدیقی صاحب

عثمان خاور کے سفرنامہ ’’ہریالیوں کے دیس میں‘‘ پر ایک نظر
(یہ مضمون مذکورہ کتاب کی تقریبِ رونمائی میں پیش کیا گیا اور بعد میں کاوش میں شائع ہوا)


او چن خراشو! جی ہاں! کیا کہنے! بہت خوب! یہی ترجمہ ہے اس کا! عثمان خاور کا سفر نامہ پڑھ کر جو پہلا تاثر بنتا ہے وہ یہی ہے، اوچن خراشو! یہ لفظ بھی اسی کتاب سے لیا گیا ہے اور صدیقی صاحب سے تو اس کتاب کے سبھی قارئین واقف ہو چکے ہوں گے۔ معراج صدیقی صاحب جو اندر سے پورے پاکستانی ہیں اور پاسپورٹ کے اعتبار سے پورے امریکی، ہریالیوں کے دیس میں جہاں جہاں عثمان خاور اور سلمان باسط کے قدم پہنچے صدیقی صاحب اُن کے ہم رکاب رہے یا یوں کہئے کہ یہ دونوں بھائی صدیقی صاحب کے ہم رکاب رہے۔ رہ گئی بات انشائیے کی! تو، یہ وہ صنفِ سخن ہے جس کی حدود کا صحیح تعین ابھی تک نہیں ہو سکا۔ ناقدین نے تعریف در تعریف کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ بات کسی سرے لگتی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر موضوعات کو چھیڑتے ہوئے، مسائل کا ادراک بہم پہنچاتے ہوئے، ان کے درمیان سے ہلکے پھلکے گزر جانے کا نام انشائیہ ہے تو پھر یہ کتاب سفر نامہ تو ہے ہی، انشائیہ بھی ہے! فاضل سفرنامہ نگار، بلکہ ہمارے ’’فاضل مسافر‘‘ کی زبان ایسی ہے کہ جملوں میں شگفتگی اور کاٹ دونوں بیک وقت پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔ چند مثالیں جو کتاب کی ابتدا سے ہی نظر آ جاتی ہیں ملاحظہ ہوں:

ص ۱۱..۱۲: ’’آپ کا سامان کہاں ہےَ‘‘ ایئر پورٹ پر کئی لوگوں نے پوچھا۔ ’’یہی تو ہے!‘‘ ہم نے اپنے کندھو ں سے لٹکتے ’’بے حیثیت‘‘ بیگوں کی طرف اشارہ کیا۔ ’’کمال ہے کچھ تو لے آتے، خرچہ ہی نکل آتا۔‘‘ چھلے کچھ دنوں سے ہم ٹریول ایجنٹ کے دفتر کے کئی چکر کاٹ چکے تھے۔ وہاں ایسے آزمودہ کار مہربانوں سے سابقہ پڑا تھا جنہوں نے ہمیں یہ راہ سجھائی تھی مگر ہم ایسے کورچشموں اس راہ پر سوائے تاریکی کے کچھ سجھائی نہ دیا۔ ایسا نہیں کہ ہم درویش خدامست تھے اور ہمیں مال و منالِ دنیوی سے کوئی غرض نہ تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نے ایک دو بار سوچا بھی کہ آخر کیا مضائقہ ہے۔ اگر سفر کے اخراجات ہی پورے ہو جائیں تو بھی گھاٹے کا سودا نہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم جیسے سبک سارانِ ساحل نے کہ جن سے زندگی کا بوجھ ہی اٹھائے نہیں اٹھتا، اس زائد بوجھ کو اٹھانا آدابِ سفر کے منافی جانا اور اس بھاری پتھر کو چومے بغیر ہی چھوڑ دیا۔

ص ۱۳: آپ جانتے ہیں کہ اندر کی چیزیں باہر نکلنے کا عمل ایک ناخوشگوار عمل ہے جو بسا اوقات خفت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انسان کے اندر کتنی ہی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں وہ دوسروں کی نظر سے بچا کر رکھنا چاہتا ہے۔

ص ۲۴..۲۵: (تاشقند کے ہوائی اڈے پر) بیگ کھول کر سامان کی تلاشی لی جا چکی تو حکم ہوا ’’شو کرنسی!‘‘ یعنی جو کچھ جیب میں ہے چپ چاپ باہر نکال دو۔ کیا غیر شریفانہ طرزِ عمل ہے کہ اچھے خاصے شریف آدمی کو بیچ بازار رسوا کر دیا جائے۔ اس کے ہاتھوں میں پستول نہ تھا مگر اس کی آنکھوں میں شک کا باردو بھرا تھا۔ ہم نے عافیت اسی میں جانی کہ اس باردو کے پھٹنے کا انتظار نہ کیا جائے اور اپنے اثاثوں کا بلاتاخیر اعلان کر دیا جائے۔ اچھا ہے کامریڈ حقیقت جاننے کے بعد اپنے مطالبے پر خود ہی شرمندہ ہوں گے۔ ہم نے ڈرتے جھجکتے اپنی جیبیؓ خالی کیں اور ساری پونجی اس کے ڈیسک پر ڈھیر کردی:
لو، ہم نے دامن جھاڑ دیا .... لو جام الٹائے دیتے ہیں
’’اونلی دِس؟ بس یہی کچھ ہے؟‘‘
’’کامریڈ بھائی! ہم نے کہا نہ تھا اصل میں ہم تم سے بڑے پرولتاری ہیں۔ تم ہی ہمیں خواہ مخواہ بورژوا قرار دینے پر مُصِر تھے، اَب بھگتو!‘‘

ص ۲۵: یہ وہ مخلوق تھی جسے عرفِ عام میں گائیڈ کہا جاتا ہے اور جس کے بارے میں ہمیں نوید سنائی گئی تھی کہ چاہیں تو مرد کو چن لیں اور چاہیں تو عورت کو۔ بہت سارے لوگوں نے ہمارے سامنے یہاں کی خوبصورتی اور خصوصاً نسوانی حسن کے خوب خوب چرچے کئے تھے: ’’بڑی خوبصورت جگہ ہے جی! کوہ قاف کا نام تو سنا ہو گا۔ بس سمجھ لیں پریاں ہیں پریاں‘‘۔ مگر ان میں صنفِ نازک کا تناسب بہت کم تھا۔ اور ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب گائید ’’صنفِ کرخت‘‘ سے تعلق رکھتے تھے اور سارے کے سارے شاہِ جنّات کے شاگرد نظر آتے تھے۔

پوری کتاب ایسی عبارتوں سے مزین ہے۔ ایک سے ایک بڑھ کر جملہ کہ کیا کہیں، سوائے اس کے کہ ’اوچن خراشو‘۔خاور صاحب کا اندازِ بیان، شگفتگی اور جا بجا اشعار کا بر محل استعمال قاری کو اکتانے نہیں دیتا۔ زبان میں ثقالت نام کو نہیں۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں، فارغ وقت میں بیٹھ کر پڑھئے گا اور مزہ لیجئے گا۔

ص۲۳: تاشقند کا ایئر پورٹ قطعاً غیر مؤثر تھا۔ جہاز سے اترے ہی پرانے ماڈل کی ’’پرولتاری‘‘ بسیں مسافروں کو لے کر بغلی راستوں سے ہوتی ہوئی ایک بڑی عمارت کے پچھواڑے ایک برآمدہ نما راہداری کے سامنے آن رکیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سابق کامریڈ پہلے تاثر کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا اپنے پاکستانی مہمانوں کے بورژوا جذبات کا ادراک کرنے سے عاری، کہ انہوں نے ہمیں ہوائی اڈے کی عمارت کے سامنے کے منظر سے محروم رکھا تھا (بعد میں معلوم ہوا کہ عمارت کی تزئین و آرائش ہو رہی تھی)۔ بسوں سے اترنے پر ایک ہڑبونگ کی کیفیت نظر آئی۔ اس طویل برآمدے کے آخری سرے پر امیگریشن کا کاؤنٹر تھا اور ہر مسافر اس مرحلے سے جلد سے جلد گزر جانا چاہتا تھا۔ مسافروں کی تعداد کچھ ایسی زیادہ بھی نہ تھی مگر نہ جانے یہ بے صبری ہمارے لاشعور کا حصہ کیوں بن چکی ہے۔ انسان اپنے ماحول اور مزاج کا کس قدر اسیر ہوتا ہے کہ اجنبی ماحول میں بھی کسی بھی پیش آمدہ صورتِ حال میں اس کے در عمل کا تعین اس کی عادت ہی کرتی ہے اور وہ ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو بسا اوقات جگ ہنسائی کا موجب بنتی ہے۔

ص ۵۵..۵۶: پانی پیا تو خدا کا شکر ادا کیا۔ کہ پانی بہرحال ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ازبکستان میں تو پینے کا پانی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ آپ سڑکوں پر سڑکیں ناپتے چلے جائیں، پینے کا پانی کھلے عام دستیاب نہیں ہو گا۔ شاید کچھ لوگ چھپ چھپا کر پیتے ہوں۔ ہمیں اکثر گھاس کو سیراب کرنے والے نلکوں سے منہ لگا کر پانی پینا پڑا۔ یوں نہیں ہے کہ اس ملک میں پانی کم یاب ہے یا اس کے حصول کے لئے پیسے دینے پڑتے ہیں مگر شاید یہ لوگ سادہ پانی پینے کو بدذوقی کی علامت سمجھتے ہیں۔ اسی لئے پانی کا پوچھو تو واڈکا حاضر مگر کیا کیا جائے کہ ہمیں پانی ہی سے نشہ ہوتا ہے۔ تاشقند میں ایک روز پیاس محسوس ہوئی تو ایک راہ گیر سے پوچھا۔ وہ سوچ سوچ کر ہمیں ایک چبوترے پر بنی ہوئی کچھ اس طرح کی حوضیوں کے پاس لے گیا جس طرح ہمارے ہاں گھوڑوں کے لئے پانی پینے کی جگہ بنی ہوتی ہے۔ اوپر ایک لمبے نل کے ساتھ دو تیں ٹونٹیاں لگی تھیں جن کے منہ اوپر کی جانب تھے اور ان سے فواروں کی صورت میں پانی نکل رہا تھا۔ 

بچپن میں جب کبھی تانگے کی سواری کے دوران ایسا مرحلہ آتا کوچوان کسی ایسی حوضی کے پاس گھوڑے کی باگیں کھینچتا اور اسے چمکار کر پانی پنے کی ترغیب دیتا تو گھوڑا اپنی لمبی سی گردن جھکا کر حوضی کے اندر ڈال دیتا۔ ایسے موقعوں پر مجھے ہمیشہ یہی دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں گھوڑے کی گردن تھوڑی اور نہ جھک جائے اور تانگے کا توازن خراب ہونے کے باعث کہیں ہم سب دھڑم کر کے نیچے نہ گر جائیں۔ ویسے یہ ’’دھڑم کر کے‘‘ نیچے گرنے کا خوف بچپن ہی میں نہیں، بڑے ہونے پر بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اس کی نفسیات پر آسیب کی طرح سوار رہتا ہے۔ اس کی ساری تگ و دو اس افتادگی سے بچنے کی خواہش کا اظہار ہی تو ہے۔

اور اب کہ ہم بچپن کی سرحدوں کو بہت پچھے چھوڑ آئے تھے، زندگی کے تانگے میں جتے ہوئے دن رات سڑکوں پر دڑکی چال چلتے چلتے ہم تھک گئے تھے۔ بوجھ کھینچ کھینچ کر ہاپنپنے لگے تھے۔ ہماری کمر پر چابک کے نشان تھے اور جسم پسینے میں شرابور۔ پیاس کی شدت سے ہماری زبانیں باہر کو نکل آئی تھیں۔ حوضی سامنے تھی، ہم نے اپنی گردنیں جھکائیں اور اس کے اندر ڈال دیں۔

ص ۷۶..۷۷: ہماری بس وقفے وقفے سے رکتی۔ بعض سواریاں اترتیں، کچھ نئے مسافر چڑھ آتے مگر یہ کوئی باقاعدہ سٹاپ نہ تھے۔ جہاں کہیں کوئی دیاتی ہاتھ میں سامان کا تھیلا اٹھائے سڑک کے کنارے کھڑا بس کو رکنے کا اشارہ دیتا، بس ایک بے بس معمول کی طرح وہیں رک جاتی اور اسے لے کر پھر سے چل پڑتی۔ ایک بار بھی ایسا نہ ہوا کہ راستے میں کھڑے کسی مسافر کے لئے یا بس میں پہلے سے موجود اترنے کے خواہش مند کسی مسافر کے لئے بس نہ رکی ہو یا ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے پہلو تہی کی کوشش کی ہو۔ یہ الگ بات کہ اس عمل میں ایک لمحے ساے زائد کی تاخیر روا نہ رکھی گئی۔ شاید آپ اس سے اتفاق نہ کریں کیونکہ راستے کی سواری اٹھانا لوکل بسوں کا کام ہوتا ہے۔ مگر یقین کیجئے مجھے اس میں محض مسافروں کی سہولت اور تکریم کی خواہش ہی کارفرما نظر آئی۔ ایا نہیں ہوا کہ راستے میں خواہ مخواہ کسی سٹاپ پر دیر تک رک کر، بار بار پریشر ہارن بجا کر اور گھنٹوں بس کو ایک فٹ آگے اور دو فٹ پیچھے دھکیلنے کی مشق کر کے، اور اندر بیٹھے مسافروں کو انتظار کے پسینے میں نہلا کر اور ان کی گالیاں اور بددعائیں سمیٹ کر بس کا پیٹ بھرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ نہیں کہ سٹاپ پر کھڑی سواریوں کی راہ میں آنکھیں بچھائی جائیں اور پہلے سے اندر بیٹھے مسافر بے تکریم ٹھہریں۔ اور یقیناً ایسا بھی نہیں ہوا یہ صرف دور کی سواری کے لئے بس روکی جائے اور قریب جانے والی کم پیسوں کی سواری کے پاس سے اس تیزرفتاری سے گزرا جائے کہ اس کے چہرے پر انتظار کے کرب کے ساتھ ساتھ مایوسی کی گرد پھیل جائے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ شاید وہاں ایسا نہیں ہوتا۔

ص ۱۱۹: شہر سے باہر ایک پہاڑی پر مرزا الغ بیگ کی قدیم رصد گاہ اور میوزیم واقع ہے۔ ہم وہاں پہنچے تو ٹکٹ دینے والے بابو نے ہمارے ہاتھ میں کیمرہ دیکھ کر کہا: ’’فوٹو کھینچنے کے تین سو روبل زیادہ ہیں‘‘۔
’’ٹھیک ہے ہم فوٹو نہیں کھینچیں گے‘‘ سلمان نے کہا اور ہم کیمرہ کندھے پر لٹکائے آگے بڑھ گئے۔ ٹکٹ بابو اطمینان سے دوسرے سیاحوں کو ٹکٹ دینے میں مشغول ہو گیا۔ اگر ہم میں سے کوئی اس کی جگہ ہوتا تو کہتا کہ پہلے کیمرہ اتار کر یہاں رکھو پھر آگے جاؤ گے۔ مگر وہ ایک خوش قسمت قوم سے تعلق رکھتا تھا جس نے دوسروں پر اعتماد کرنا سیکھ لیا تھا۔ ہم البتہ اس معاملے میں کم نصیب واقع ہوئے تھے کہ نہ ہم نے اعتماد کرنا سیکھا تھا نہ اعتماد نبھانا۔ اسی لئے خود اعتمادی سے بھی کوسوں دور تھے۔
چنانچہ جونہی ہم اس کی نظروں سے اوجھل ہوئے ہم نے کیمرہ نکالا اور بغیر کسی شرمندگی یا احساسِ جرم کے اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔

ص ۱۶۰: ریلوے سٹیشن کی عمارت بلند اور کشادہ تھی ہم سامان لے کر انتظار گاہ میں داخل ہوئے تو ہال خالی خالی سا نظر آیا۔ ابھی بہت کم مسافر پہنچے تھے۔ ٹکٹ والی کھڑکی بھی بند تھی۔ ہم نے پلیٹ فارم پر جانے والے راستے کے قریب ایک کونے میں اپنا سامان رکھا اور خالی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔ اندر جانے والا راستہ ویران پڑا تھا۔ کسی آوارہ انجن کی شنٹنگ اور خالی ڈبوں کے ٹکرانے کی آواز فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ ہال کے اندر ایک ’’مائی‘‘ فرش پر پوچا مار رہی تھی۔ ڈیوٹی پر موجود سپاہی اس کی صاف کی ہوئی جگہ کو اپنے گرد آلود بوٹوں سمیت کراس کرنے لگا تو مائی نے ’’وے!‘‘ کا نعرہ لگایا اور پنچے جھاڑ کر یوں اس کے پیچھے پڑی کہ اس غریب کے لئے جان چھڑانا مشکل ہو گیا۔

ص ۱۸۳: میں اب البم کے آخری صفحے پر تھا وہ سنہری البم جسے محض چند روز قبل میں نے شوق کے کپکپاتے ہاتھوں سے کھولا تھا اور کھولنے کے 
ساتھ ہی اس کی رنگین طلسماتی دنیا مٰں کھو گیا تھا۔ اور جس کی شوخ تصویریں یوں ورق الٹ الٹ کر میرے سامنے آ رہی تھیں کہ میں نے حیرت کے مارے سانس روک رکھی تھی۔ آج میں اس کے آخری صفحے پر آ پہنچا تھا۔ قدیم کاروانی راستوں پر گرد اڑاتا، سمرقند اور بخارا سے ہوتا ہوا ہمارا مختصر قافلہ اب اس ہرے بھرے راستے کے آخر میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ ہریالیوں کے اس سفر کے اختتام پر میں نے ایک لحظے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لاتعداد منظر میری آنکھوں کے سامنے جھلملانے لگے۔ سنہری لمحوں کے بے شمار پرندے اڑتے ہوئے میرے سامنے سے گزرنے لگے۔ پہلے ایک پھر دوسرا پھر تیسرا۔۔۔

راہ چلتا مسافر جو آنکھیں کھلی رکھے، ارد گرد کی آوازوں پر دھیان دیتا ہوا جا رہا ہے، اُس کا احساس جاگتا ہے اور سوال اٹھاتا جاتا ہے۔ ایسے سوال جن کا جواب فوراً نہیں مل پاتا۔ ایسا ہی ہے یہ سفر خاور صاحب کا جو بیک وقت بدنی بھی ہے، فکری بھی اور تجزیاتی بھی۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ جس طرح فاضل مسافر نے ہلکے پھلکے اور مختصر سامان کے ساتھ سفر کیا ہے، اس کا قاری بھی اسی طرح ہلکا پھلکا گزر جاتا ہے، لطف لیتا ہوا۔ یہ کتاب عثمان خاور کے روپ میں ہماری ملاقات ایک ایسے پاکستان سے کراتی ہے جو سر بسر پاکستانی ہے، جسے ہر جگہ وطنِ عزیز کی عزت اور ناموس کا خیال رہتا ہے اور مادرِ وطن کے حوالے سے فخر کا ایک احساس بھی۔ وہ کہیں بھی معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپناتا اور نہ کہیں پاکستانی ہونے پر شرمندہ ہوتا ہے۔ اگر کہیں ایسی صورتِ حال کا سامنا ہوا ہے جہاں اُسے اپنی صفائی پیش کرنا پڑی تو صرف وہاں جہاں اس سے پہلے کوئی معذرت خواہ قسم کا پاکستانی اپنا کام دکھا گیا ہو۔ ہمارے فاضل مسافر کا مخاطب عبدالحامد ہو یا شورُخ، آقائے محمود جان ہو یا صدیقی صاحب، نوئلہ کاری جانووا ہو یا لیلیٰ، وہ مسجد خواجہ عبد دارون میں ہو یا مقبرۂ خواجہ اسماعیل بخاری میں، بازار میں ہو، ریل میں، ہوٹل میں یا کسی سیر گاہ میں، ہر جگہ پاکستانی رہتا ہے، اوریجنل پاکستانی اور اوریجنل ٹورسٹ۔ بہت سے سفرنامہ نگار جب اپنا احوال سفر بیان کرتے ہیں تو نہ جانے کیوں کہیں یہ تاثر نہیں دے پاتے کہ انہوں نے خود کو برملا ’مسلمان‘ کہا ہو، ماسوائے کسی مجبوری یا حلال و حرام کے معاملے میں۔ دوسری طرف عثمان خاور نے ’السلام علیکم‘ کو، جو ایک دعا بھی ہے، اپنی آمد کا اعلان بھی اور یہ منادی بھی کہ آنے والا مسلمان ہے، ’’اسلامی ہتھیار‘‘ کا نام دیا ہے اور ہر مشکل وقت میں اس کو ’ماسٹر کی‘ بھی بنایا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ایک عمر رسیدہ خاتون کو باہتمام پردہ کرتے دیکھا تو اسلامی اقدار کی یہ پاسداری انہیں اتنی اچھی لگی کہ اپنے سفر نامے میں اُس کی اہمیت بھی اجاگر کر دی۔ عام آدمی ایسے واقعات کہاں یاد رکھتا ہے۔

عثمان خاور سے چند ایک رسمی سی ملاقاتوں کی وجہ سے کچھ ایسا ہوا کہ جب اس سفرنامے میں انشا پردازی کے ساتھ خالص مزاح کا عنصر موجود پایا تو بڑی خوشگوار حیرت ہوئی۔ ’’مائی نیم از شوگر‘‘ اور ’’ٹومارو، ٹومارو‘‘ عقل مند را اشارہ کافی است۔ اس کتاب میں خالص مزاح بھی اپنے عمدہ معیار کے ساتھ ملتا ہے اگرچہ بہت زیادہ نہیں ہے۔

یہ کتاب دورِ حاضر کے دیگر سفرناموں سے ایک اور لحاظ سے بھی منفرد ہے۔ فاضل مصنف نے ہوائی جہاز، ریل، بس، ٹرام سبھی ذرائع سفر سے استفادہ کیا، بڑی بڑی عمارات، تاریخی مقامات، مساجد، ہوٹل، شاہراہیں، تفریح گاہیں دیکھیں۔ سب کچھ جیسے دوسرے دیکھتے ہیں مگر یہاں منفرد شے فاضل مصنف کی نظر ہے جو اِس پورے پیش منظر کے ساتھ اُس کے پس منظر اور درونِ ذات کو بھی دیکھتی ہے۔ ’لوگ کیا پہنتے ہیں‘ کے ساتھ ساتھ ’ لوگ کیا سوچتے ہیں، اور کیوں سوچتے ہیں‘ بھی خاور صاحب کے پیش نظر رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سفرنامہ انسانوں کی ذات نسلوں اور قوموں کا سفر نامہ بن گیا ہے۔ کتنے ایسے مناظر ہیں جن کو عثمان خاور کے قلم نے جاندار بنا ڈالا اور قاری کے احساس کو ایک طرح کی سانجھ کی قوت سے جگایا ہے۔ مثلاً لیلیٰ کا المیہ اور نوئلہ کی مجبوریاں وہ یوں محسوس کرتے ہیں جیسے اپنے معاشرے اور اپنے گھر کا مسئلہ ہو۔ شاید اسی وجہ سے یہاں حساس قاری کی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے۔

روس ٹوٹ گیا، ایک جبری وحدت بکھری تو کئی وحدتیں اجاگر ہوئیں۔ روسی تہذیب کتنا عرصہ مسلط رہی؟ اس کے اثرات کب تک رہیں گے اور مٹتے مٹتے کتنا عرصہ لیں گے؟ یہ سوالات اور اُن سے آگے سوال در سوال کہ اِن نو تعمیر شدہ ریاستوں کے حوالے سے مسلم دنیا پر کیا فرض عائد ہوتا ہے؟ بحیرہ قزوین سے بحیرہ عرب تک کی معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تہذیبی تصویر میں یہ ریاستیں کیا رنگ بھرتی ہیں؟ عظمتِ رفتہ اور اسلامی اقدار کی بازیافت کا عمل کب اور کس نہج پر چلنے کی توقع ہے؟ اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے سامنے آدمی کا وضع کردہ نظام فیل ہو جانے اور اپنے منطقی انجام کو پہنچ جانے کے بعد بر اعظم ایشیا کے قلب سے احیائے علوم کا عمل کب اور کیسے شروع ہوتا ہے؟ یہ ہیں وہ سوالات جو اِس سفرنامے کو پڑھ کر میرے ذہن میں ابھرے ہیں۔ مگر فی الوقت میرے پاس کوئی اور جواب نہیں سوائے اس کے کہ میں آنے والے وقتوں کو دیکھا کروں۔ لہٰذا میں نے جو سمجھا، بے کم و کاست بیان کر دیا۔ جہاں تک میری سوچوں نے میرا ساتھ دیا میں عثمان خاور کے ساتھ چلا اور جو میری چشمِ شعور نے مجھے دکھایا میں نے دیکھا۔ اس تناظر میں اگر میں اس کتاب کے تعارف کا حق ادا نہ کر سکوں تو یہ قصور کتاب کا نہیں میرا ہے۔

آخری بات، کہ عثمان خاور نے نہ خود کو راجہ اِندر بنا کر پیش کیا ہے اور نہ کتاب کو اپنا یا سلمان باسط کا اشتہار بننے دیا ہے۔ صدیقی صاحب کا کردار بہت اہم سہی مگر خود یہ دونوں بھائی تو مرکز میں کھڑے ہیں۔ ہمارا فاضل مسافر اپنے چاروں طرف پھیلی ٹیکسی ڈرائیوروں، گائیڈوں، ہوٹلوں کے چھوٹوں، ریلوے سٹیشن کی مائیوں، کلبوں کی ماماؤں جیسے لوگوں کی بھیڑ میں اپنے ساتھ ایک ایک کو شناخت دے کر، ساتھ لے کر چلتا ہے، اپنے قاری سمیت ۔

یوں یہ سفرنامہ ایک دو افراد کا نہیں ایک بھرے پُرے کارواں کا سفرنامہ بن جاتا ہے جس میں عثمان خاور خیرالقرون کے امرائے سفر کی طرح نمایاں بھی ہے اور ہم سفروں میں گم بھی ۔ عثمان خاور، میں اور شورخ .... اوچن خراشو!



محمد یعقوب آسی ۔۔ ۸؍ جولائی ۱۹۹۶ء

کہہ مکرنی سے آگے




کہہ مکرنی سے آگے
(طفیل کمالزئی کے افسانوں کے تازہ مجموعے ’اچھے دنوں کا انتظار‘ کا نفسیاتی تجزیہ)



بات اس طرح کی جائے کہ اُس میں بیک وقت نفی بھی ہو اور اثبات بھی اور معنوی ابلاغ کی یہ دونوں سطحیں یکساں اجاگر ہوں تو اُسے کہہ مکرنی کہا جاتا ہے۔ اُس میں منطق، احساس، تجزیہ، سوال اور کہانی سب کچھ موجود ہو تو یہ کہہ مکرنی سے آگے کی چیز ہے۔ طفیل کمالزئی نے اسی چیز میں شاعرانہ ایجاز اور اختصار شامل کرکے جو فسوں کاری کی ہے وہ ایک خاصے کی چیز ہے۔ ظفری پاشا کہا کرتا ہے: ’’افسانہ وہ ہے جو قاری کو بے چین کردے‘‘ اور طفیل کمالزئی نے قاری کو بے چین کر دیا ہے۔ ان کا اختصار کی طرف رجحان اس بے چینی کے ساتھ حیرت بھی شامل کر دیتا ہے۔ اس طرح ہم بلاخوفِ تردید طفیل کمالزئی کو ایک کامیاب فسوں کار قرار دے سکتے ہیں۔ بات آگے بڑھانے سے قبل مناسب ہو گا کہ ’اچھے دنوں کا انتظار‘ میں شامل افسانوں کے اندر پائی جانے والی زیریں رَو کا مشاہدہ کر لیا جائے۔
§        دُھند میں لپٹی ایک لڑکی: دو محروم شخصیتوں کی ایک تیز رفتار کہانی ہے جس کے دونوں مرکزی کردار اظہار کے لئے بچوں کا سہارا لیتے ہیں۔
§        اسٹیٹس: ظاہری ٹھاٹھ باٹھ سے آگے ایک لڑکی کے مزاج میں شامل احساسِ برتری کا شاخسانہ جو اُس کی زندگی کو ویرانی کی طرف لے جا رہا ہے مگر وہ لڑکی اِس کا شعور نہیں رکھتی۔
§        الجھی ہوئی لڑکی: بھائی کو ترسی ہوئی ایک لڑکی کی نفسیات، جس کے بارے میں لوگ چہ مے گوئیوں سے آگے نہیں سوچ سکے۔
§        رکھوالا: آج کے پُر آشوب دور میں والدین کی جوان اولاد کی طرف سے لاپروائی کا نتیجہ جس میں عمارت کا رکھولا عزت کا رکھوالا بھی ہے اور اندھیرے میں روشنی کی کرن بھی کہ اُس کا جرم، جرم محسوس نہیں ہوتا۔
§        پرکھ: ایک ایسی لڑکی کی فکر کا پرتو ہے جو صاحب ذوق ہوتے ہوئے بھی اپنے ذہن میں پڑی گرہ کھولنے سے قاصر ہے۔
§        نچکیّا: فن، فنکار اور فرسودہ روایات کی تکون میں ایسے فن کار کا المیہ جو ایوارڈ اور عرفیت کے تصادم کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔
§        دوسری لڑکی: ایک دوسری قسم کی لڑکی کا پورٹریٹ ہے جو مرد کو جنسِ مخالف سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی۔
§        خوشبو: محبت اور مادیت کے تصادم کا خوب صورت منظر نامہ ہے جس میں دلوں کی دھڑکن نوٹوں کی کڑکڑاہٹ میں دب جاتی ہے۔
§        بے سکون آدمی: سرشاری کو ترسے ہوئے ایک صاحبِ ذوق کی حالتِ زار ہے۔ ہر حساس شخص اسی طرح سوچتا ہے۔
§        اندر کا آدمی: محنت کشوں کے اندر چھپی ہوئی حیوانی قوت کو صحیح رُخ پر چلانے والے ایک حیوان کا قصہ جس کا وجود زندگی کا متحرک رکھتا ہے۔
§        سودا: شناخت وہ چیز ہے جو کبھی برائے فروخت نہیں رہی۔ ایک خریدار کا واقعہ جع ایک قلم کار سے اُس کی شناخت خریدنے چلا تھا۔
§        راز کی بات: روایات اور پاکیزہ طرزِ عمل کے حامل نوجوانوں کے دل دادہ ایسے آدمی کی بپتا جس نے ایک نوجوان کو بے راہ روی کی طرف پہلا قدم اٹھاتے دیکھا۔
§        تازہ گل: ایک تیسری قسم کی عورت کا شکار ہونے والے ایک تازہ پھول کی کہانی جس پر خزاں آئی تو اُس کا چھوٹا بھائی گلِ تازہ کی طرح کھل رہا تھا۔
§        ڈھلتے سائے: مشرق کی دمکتی روایات پر شام کے ورُود اور مغرب زدگی کی رات کی آمد آمد میں ایک زرد ہوتی ہوئی کہانی جس کے چہرے پر ایک خاندان کی شکست و ریخت کے کرب کا عذاب دکھائی دیتا ہے۔
§        ورثہ: ایک تہی دامن کا قصہ جو اولاد کے لئے ورثہ میں کچھ نہ کچھ چھوڑ جانے کا متمنی تھا۔
§        محرّک: ایک ایسے شخص کی بدنامی کی ڈائری جو محض سوئے ظن کا نشانہ بنا اور جب بد ظنی کا طلسم ٹوٹا تو وہ شخص ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔
§        آخری کوشش: محبت کی کوئی زبان نہیں ہوتی مگر کبھی کبھی یہاں بھی الفاظ کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ایک محبت کرنے والے کو لفظ بخشنے والے ایک ایثار پیشہ حرف گَر کا المیہ جس کا چہرہ حرف حرف جھرّیوں سے بھر ا ہوا ہے۔
§        پہچان: جی ہاں! ایسا اب بھی ہوتا ہے۔ ایک بھوکا لڑکا اور ایک بھوکا کتا، دونوں ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔
§        ابلیس: ہماری اجتماعی نفسیات کا نقشہ جس میں ہر آنے والے دن میں کوئی نہ کوئی قدر مر جاتی ہے اور ہم اُس پر آنسو بہانے کے لئے زندہ رہتے ہیں، جب کہ ابلیس قہقہے لگاتا ہے۔
§        سوال: زندگی کا اصل سرمایہ عزم و ہمت ہے۔ یہ سرمایہ ضائع ہو جائے تو ٹونے ٹوٹکوں اور پتھروں پر ایمان لے آتا ہے۔
§        اچھے دنوں کا انتظار: ایک باہمت خاتون کے اندر کی کہانی جو دنیا کی نشتر نظروں کے تابڑ توڑ حملوں کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے اور اُس کا زخمی احساس ہر کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔
§        ناطہ: ایک بیوہ کی کہانی جو ایک دوسری عورت کے سوئے ظن کا نشانہ بنی۔ یہ تریا ہٹ پر ایک بھرپور نفسیاتی طنز ہے۔


کہا جاتا ہے کہ ہر افسانے کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔ زیرِ نظر افسانوں میں ہر ایک کے پیچھے ایک سچی کہانی کا وجود محسوس ہوتا ہے، جن میں افسانہ نگار خود بھی نظر آ رہا ہے۔اور اُس نے اِن کہانیوں کو واقعاتی سطح سے بلند کر کے دیکھا ہے۔ شہر اور گان کی زندگی میں جہاں مادیت کے اعتبار سے فرق موجود ہے، وہیں فکری سطح پر بھی امتیاز پایا جاتا ہے۔ آج کے ترقی پذیر معاشرے میں لوگوں کی گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت کے ساتھ ساتھ شہری زندگی میں اخلاقی اقدار کا انحطاط پذیر ہونا ایک بدیہی امر ہے۔ سانجھ کا فقدان، گھٹن ار تنہائی کا عذاب اور سطحیت کمالزئی صاحب کو خاص طور پر پریشان کرتی ہیں۔ وہ تو خوشیوں کے ساتھ ساتھ دکھوں میں بھی سانجھ کے متمنی ہیں۔


یہ سوال اکثر سامنے آتا ہے کہ ادیبوں اور اخبار والوں کو معاشرے میں صرف برائیاں ہی کیوں نظر آتی ہیں! اصل بات یہ ہے کہ معاشرے کا نباض ہونے کی حیثیت سے ادیب پر لازم ہے کہ وہ برائی کی نشاندہی کرے اور اگر اُس کا علاج بھی تجویز کر سکے تو یہ سونے پر سہاگے والی بات ہے۔ ظفر خان نیازی نے کیا خوب کہا ہے کہ: خبر وہ ہے جو ہمارے معمولات سے ہٹ کر ہو۔ اور اخبارات میں برائی کا خبر بننا اس امر کا ثبوت ہے کہ برائی ابھی ہمارا معمول نہیں بنی ورنہ خبر بھی نہ بنتی۔ میں اس پر یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ: ڈریے اُس وقت سے جب اچھی باتیں خبر بننے لگیں گی۔ طفیل کمالزئی نے معمول کی خوبیوں سے ہٹے ہوئے واقعات کو اجاگر کیا ہے اور خبرِ محض بھی نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اپنے گرد و پیش کے المیوں کو خبر اور کہانی سے اوپر لے جا کر دیکھا ہے اور اس مشاہدے میں اپنے قاری کو بھی شامل کیا ہے۔


بات ہو رہی تھی کہہ مکرنی کی۔ زیرِ نظر کتاب میں شامل اِن افسانوں کو دیکھئے گا: اسٹیٹس، الجھی ہوئی لڑکی، پرکھ، خوشبو، تازہ گل، اور ناطہ۔ یہ افسانے ایسے ہی مفاہیم کے حامل ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان سب میں مرکزی کردار عورت کا ہے۔ عورت اور کہہ مکرنی! کیا یہ محض اتفاق ہے، یا افسانہ نگار کی زیرک نگاہی کا مظہر ہے؟ غور فرمائیے گا۔ 



محمد یعقوب آسی ۔۔۔ ۱۲؍ نومبر ۱۹۹۶ء