اتوار، 5 جولائی، 2015

تینوں اِک اَلِف درکار

تینوں اِک اَلِف درکار


’’کیا بک رہے ہو، بدرُو!!‘‘ لالہ مصری خان کی دھاڑ ہمارے لئے قطعی طور پر غیر متوقع تھی۔ مزید پریشانی ہمیں اُن کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھ کر ہوئی، وہ کہہ رہے تھے: ’’تمہیں پتہ بھی ہے؟ کہ تم کہہ کیا رہے ہو!!!‘‘

ہم نے تو یوں ہی سرسری انداز میں بات کی تھی کہ: ’خاکوانی میاں ہم سے یا ہماری علمیت سے دبتے ہیں‘۔ ہمارے لہجے میں البتہ سرخوشی کی لہر ضرور تھی۔ دیکھئے نا، کوئی آپ سے مرعوب ہو تو ایک انجانا سا سرور تو ہوتا ہے۔ اس پر لالہ جی کا یوں آگ بگولا ہونا ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ ہمارے پاس سوائے چند الٹے سیدھے لفظوں کے اور ایسی کوئی شے تو ہے نہیں (اور اچھا ہی ہے کہ نہیں ہے) جس کے بل پر ہم کسی پر رعب جھاڑ سکیں۔ نہ پاؤ کروڑ کی کار، نہ ہزار گز کا شاہانہ بنگلہ، نہ مل، نہ جاگیر، نہ نوکروں چاکروں کی فوج، نہ جیالے، نہ متوالے۔ ایک یہ دو حرف ہی تو ہیں اپنے پاس! اور خان لالہ اس پر بھی تین حرف بھیج چکے؟!۔

ڈرتے ڈرتے عرض کیا: ’’لالہ جی! ہم نے کون سا کسی امارت وزارت کا رعب ڈالا ہے، علم کا رعب ایسا برا بھی نہیں کہ ...‘‘ ۔ خان لالہ کا دایاں ہاتھ فضا میں بلند ہوا، ہم سمجھے کہ آیا ایک جھانبڑ بھی۔ جھانبڑ تو خیر نہیں پڑا، ایک اور دھاڑ سنائی دی جو پہلی سے کہیں زیادہ بلند اور تلخ تھی: ’’نائیں! تمہیں کچھ علم نہیں ہے! جاہل ہو تم، گنوار ہو!‘‘۔ یہ کہا اور صوفے پر یوں ڈھے گئے جیسے ہزار میٹر کی دوڑ ہار کر آئے ہوں۔ کچھ گہری سانسیں لیں اور بے دم سا ہو کر آنکھیں موند لیں، چند منٹ کی خاموشی کے بعد بولے: ’’سنو! بدرِ احمر!‘‘ہمیں لالہ کی آواز کسی کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔ اُن کا چہرہ جو ابھی کچھ دیر پہلے غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا، وہ بھی اتر چکا تھا، لہجہ اور الفاظ دونوں گویا زخمی ہو چکے تھے، وہ کہہ رہے تھے: ’’کاش تمہیں کچھ علم ہوتا! تمہیں علم ہوتا کہ ... علم دوسروں کو مرعوب کرنے کے لئے نہیں ہوتا، برخوردار! علم انکسار سکھاتا ہے، تکبر نہیں ... علم حِلم ہے اور عالم کو تو حلیم الطبع ہونا چاہئے! کیسے عالم ہو تم؟ کہ چاہتے ہو دوسرے تم سے ڈریں، خوف کھائیں؟ مرعوب ہوں! اس سے تو کہیں بہتر تھا کہ تمہیں کچھ بھی علم نہ ہوتا‘‘۔ لالہ جی اور بھی بہت کچھ کہتے رہے مگر ہمارے سنسناتے ہوئے کانوں میں لفظ نہیں اتر رہے تھے، صرف کرب اتر رہا تھا۔ اپنی بے وقعتی کا کرب، اپنا تنک سا ظرف کہ ایک حرف سے لبریز ہو گیا! اور دوسرا طغیانی بن گیا!؟ ’’کتنے چھوٹے ہو تم! بدرِ احمر!‘‘ یہ خان لالہ کی نہیں، ہماری اپنی آواز تھی۔

ہم نے بمشکل سر اٹھایا۔ سامنے صوفے پر دھُند سی پھیلی ہوئی تھی اور اس میں ایک چہرہ بھیگ رہا تھا۔ دھند چھٹی تو ہمیں وہ چہرہ جگمگاتا ہوا لگا۔ لالہ مصری خان کے ہونٹ، آنکھیں اور گال تو کیا، کانوں کی لَویں تک مسکرا رہی تھیں۔ ہمیں اپنے گالوں پر سرکتے قطروں کا احساس ہوا تو ہم نے لالہ کی آنکھوں میں دھند سی اتری دیکھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے، ہمارے قریب آئے، ہمارے چہرے کو اپنے مضبوط چوڑے چکلے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولے: ’’مجھے معاف کر دینا، میرے چھوٹے بھائی! غصے نے مجھے بے قابو کر دیا تھا، میں پتہ نہیں کیا کچھ کہہ گیا۔ ہاں، ایک بات جو تمہارے علم میں ہو گی، یاد دلا دوں ... عالم وہ ہے جس کے آگے لوگ اپنے دل چیر کر رکھ دیں، کجا آں کہ اسے دیکھ کر دبکتے پھریں‘‘۔ لالہ جی کے لہجے کا ٹھہراؤ اور احساس کا نشتر اتنا گہرا تھا، کہ ہمیں اپنی انا چِرتی ہوئی محسوس ہوئی، ایک ایک لمحہ جانئے ایک ایک صدی بن گیا۔

نہ جانے کب! وہ کیفیت فرو ہوئی تو پتہ چلا کہ ہم اکیلے ہیں۔ لالہ مصری خان اگر وہاں تھے بھی تو کب کے جا چکے تھے۔

بدرِ احمر کے قلم سے ... بدھ ۱۸؍ فروری ۲۰۱۵ء


بے چارہ (3) ۔

بے چارہ (3)

یوں تو اُس کی چال میں بھی لڑکھڑاہٹ تھی، اس نے دو کی بجائے چار برس کی عمر میں چلنا سیکھا تھا وہ بھی جھولتے جھالتے۔ مگر زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ بچہ ٹھیک طور پر بول نہیں سکتا تھا۔ بچے کے کتنے ہی ٹیسٹ ہوئے، آنکھیں کان گلا سب ٹھیک تھے۔ ڈاکٹر کہتے تھے اس کے اعضاء درست ہیں مسئلہ اعصاب کے ساتھ ہے۔  سیروں کے حساب سے سیرپ اور دوائیاں اس کے پیٹ میں اتاری جا چکی تھیں؛ ٹیکوں کے نشانات سے سارا جسم بھرا پڑا تھا۔

لاڈلے میاں کے والد کو ایم ڈی صاحب کا شوفر ہونے کے ناطے جائز کے ساتھ ساتھ دیگر نوع کی مراعات بھی حاصل ہیں جن کے استعمال میں اس نے ہمیشہ فراخ دلی سے کام لیا ہے۔ سپیشل سکول نہ تو ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ان کی فیسیں ادا کرنا ہما شما کے بس میں ہوتا ہے۔ ایسے اداروں میں بچوں کے دیگر ہوش ربا اخراجات کے لئے بھی معقول اور مستقل ذرائع درکار ہوتے ہیں جب کہ خود ساختہ مراعات کی عمر قلیل اور غیر یقینی ہوا کرتی ہے۔

عام سکول میں لاڈلے میاں کو داخلہ دلوانا جنابِ شوفر کے شایانِ شان نہیں تھا۔ سو، اسے ایک اقامتی دینی مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ اور کچھ نہیں تو مولوی تو بن ہی جائے گا، نا!مسیں بھیگنے تک وہ خاصا چالاک ہو چکا تھا۔ اس کی زبان اور قدم دونوں ہنوز لڑکھڑاتے تھے مگر اسے اس کی چنداں پروا نہیں تھی۔ اس کی تربیت بھی ہزاروں ایسے بچوں کی نہج پر ہوئی تھی جنہیں سوچنے کی اجازت نہیں ہوتی؛ انہیں بڑے استاد جی جو کچھ بتا دیں اس پر مکمل ایمان لانا ہوتا ہے۔ بڑے استاد جی کی تربیت بھی تو ایسے ہی ایک مدرسے میں ہوئی تھی اور وہی نسل در نسل منتقل ہوتی اس تک پہنچی تھی۔

وہ اذان بھی کہا کرتا، اقامت بھی اور نعتیں بھی۔ موقع بموقع اعلانات بھی وہی کرتا۔ اہلِ محلہ نے بڑے استاد جی سے مکرر درخواست کی کہ لاڈلے میاں کے الفاظ سننے والوں کی سمجھ میں نہیں آتے، اعلانات کسی اور کے ذمے لگا دیں۔ جواب ملا:’’ ہماری سمجھ میں تو آتے ہیں!‘‘

لالہ مصری خان کے بقول لاڈلے میاں مطبخ کے انچارج ہیں اور خوب صحت مند ہیں۔ متعدد انواع کی راتوں اور عیدوں کے مواقع پر لذات کام و دہن کا انتظام و انصرام انہیں کے ذمے ہوتا ہے۔ بڑے استاد جی کی آشیرواد حاصل کرنے میں جہاں جہاں لاڈلے میاں طباقوں سے کام لیتے ہیں وہیں کچھ ایسے ذرائع سے کام لینے میں بھی ماہر ہیں جن کا ذکر کرنے کی قلم اجازت نہیں دیتا۔

تازہ خبر یہ ہے کہ لاڈلے میاں کو مدرسے کے نصاب میں غیر اعلانیہ طور پر شامل ایک کتاب میں سے درس دینے کا سلسلہ بھی تفویض کر دیا گیا ہے۔ کسی منہ پھٹ بدتمیز کی اس ہرزہ سرائی پر  کہ موصوف کے ارشادات کو سمجھنا  عام انسانی کانوں کے بس کا روگ نہیں؛ بڑے استاد جی نے فرما دیا: ’’سہولت اس میں یہ بھی ہے کہ کتاب کے متن میں نثر کم اور ابیات زیادہ ہیں، بنا بریں عقائد و نظریات کی تدوین بہتر انداز میں ہو سکتی ہے۔ رہا بولنے کا مسئلہ،  تو وہ  اس  بے چارے کی طبعی مجبوری ہے، اس پر تنقید سے گریز کیا جائے۔‘‘ خان لالہ شدت سے اس دن کے منتظر ہیں جس دن لاڈلے میاں خطیب کی اور پھر بڑے استاد جی کی مسند پر رونق افروز ہوں گے۔



بدرِ احمر کے قلم سے: اتوار ۵؍ جولائی ۲۰۱۵ء

ہفتہ، 4 جولائی، 2015

کچھ فارسی کے مصادر کے بارے میں


کچھ فارسی کے مصادر کے بارے میں





ہم دیکھتے ہیں کہ فارسی کے مصادر کے آخری دو حرف ’’تَن‘‘ ہوتے ہیں یا ’’دَن‘‘۔ اس پر بحث نہیں کہ ان کے علاوہ کوئی اور کیوں نہیں۔ دیکھنا یہ مقصود ہے کہ ’’تن‘‘ آخر سے پہلے حروف میں اور ’’دن‘‘ آخر سے پہلے حروف میں کوئی امتیاز کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ چلئے ہم یہاں اپنی سہولت کے لئے ’’تن‘‘ یا ’’دن‘‘ سے فوراً پہلے واقع ہونے والے حرف کو ’’تیسرا حرف‘‘ (یعنی اختتام کی طرف سے تیسرا) یا ’’ثالث‘‘ کہے لیتے ہیں۔ مثلاً: فروختن (خ)، شگفتن (ف)، خریدن (ی)، نمودن (و)، آوردن (ر)، شکستن (س)، آفریدن (ی)، آزمودن (و)، نشستن (س)؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ میں نے کچھ باتیں نوٹ کیں، ان میں آپ کو شریک کر رہا ہوں۔

۔۱۔ ثالث اگر حرف علت(الف، واو، یاے)  ہو تو علامتِ مصدر ’’دَن‘‘ ہوتی ہے: نمودن، آزمودن، کشیدن، دریدن، بریدن، خوابیدن، نہادن، افتادن، فرستادن، دادن، آسودن

۔۲۔ اگر ثالث (ماسوائے حرفِ علت) مجزوم ہو تو مندرجہ ذیل دو صورتوں میں سے ایک واقع ہوتی ہے۔ 
(الف)۔ ثالث (س، ف، ش) کے ساتھ علامت مصدر ’’تن‘‘ ہوتی ہے، ماسوائے صورت ۳ کے جو آگے آتی ہے: شکستن، شگفتن، نوشتن، گرفتن
(ب)۔ ثالث ماسوائے مذکور کے ساتھ علامت مصدر ’’دَن‘‘: بُردن، آوردن، گزاردن

۔۳۔ اگر ثالث ساکن غیر مجزوم (خ، ف، س، ش) میں سے کوئی ہواور اس سے پہلے حرف علت واقع ہو تو علامت ’’تن‘‘ ہوتی ہے: ریختن، خواستن، برداشتن، پرداختن، تافتن، کوفتن، فریفتن، انگیختن، برخاستن، آموختن، ساختن، یافتن، بافتن، فروختن، انداختن، اندوختن، وغیرہ
۔4۔ ثالث کی جگہ ’’الف، نون غنہ‘‘ آئیں تو علامت مصدر ’’دن‘‘ ہوتی ہے:  خواندن، ماندن، نشاندن
۔۵۔ شُدَن اور زَدَن اپنی نوعیت کے صرف دو مصدر ہیں (غالباً) کہ ان میں علامت مصدر ’’دن‘‘ سے پہلے صرف ایک حرف ہے، جو ظاہر ہے متحرک ہو گا۔

حاصلات:

اول: صورت ۔۳ کے تحت آنے والے مصادر سے فعل ماضی پہلا صیغہ (جو اِسم حاصل مصدر بھی ہے): خواست، برداشت، پرداخت، تافت، کوفت، فریفت، ساخت، آموخت، شناخت، یافت؛ وغیرہ .... اِن کا آخری ت وہی ہے جسے ’’فاعلات‘‘ میں تائے فارسی کا نام دیا گیا ہے۔ عروضی وزن میں یہ تائے فارسی ساکن ہو تو کالعدم ہوتا ہے، متحرک ہو تو معمول کے مطابق گنتی میں آتا ہے۔

دوم: واوِ معدولہ کا رویہ مصادر کی ساخت میں: اگر اس کے بعد کوئی حرفِ علت واقع ہو تو یہ کوئی آواز نہیں رکھتا۔ اگر کوئی اور (غیر حرفِ علت) ہو تو یہ پیش کے برابر حرکت پیدا کرتا ہے، نہ کہ واوِ علت کی طرح۔ واوِ معدولہ کی معنویت بہر حال مسلم ہے؛ ’’خار‘‘، ’’خوار‘‘ برابر نہیں ہو سکتے۔

سوم: حرفِ ثالث عام طور پر ان میں سے کوئی ہوتا ہے: خ، ر، س، ش، ف، ن، نون غنہ، حروفِ علت (ا،و، ی)؛ ص (شاذ ہے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


محمد یعقوب آسی ۔ 16 مارچ 2015

زیرِ ترتیب رسالہ "آسان علمِ قافیہ" سے ماخوذ۔

جمعہ، 3 جولائی، 2015

بے چارہ ۔(2)۔

 
بے چارہ (2)

کالے رنگ کی ریشمی چادر پر سنہری، نقرئی اور دیگر شوخ رنگ کے دھاگوں سے بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔ ان کے بیچوں بیچ کلمۂ شہادت، آیت الکرسی، اور دیگر کلمات عمدہ اور منقش خطوط  میں کشیدہ کئے ہوئے  تھے۔ مخصوص طرز کی ایک چارپائی پر چادر اس سلیقے سے رکھی تھی کہ اس پر  لکھا قرآن شریف کی آیت کا جزو ’’کُلُّ نفسٍ ذائقَۃ المَوت‘‘ قبلہ کی طرف بھی رہے، اور جنازے میں آئے ہوئے لوگوں سے ہر ایک کی نظر میں بھی نہ آئے۔ بڑے خواجہ صاحب تو اپنی زندگی گزار گئے تھے، اب ہر ایک کو اُس کی موت یاد دلا کر کیا فکرمند کرنا!
خواجہ صاحب کا نام جو مدت ہوئی محلے داروں کے ذہن سے محو ہو چکا تھا؛ صبح سویرے مسجد کے سپیکر پر اس اعلان کے طور پر پکارا گیا کہ وہ اِس دارِفنا سے کُوچ کر چکے ہیں، ہما شما ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ’’کَون خواجہ خیر دین یار؟‘‘ کسی نے جواب میں بڑے خواجہ صاحب کہا تو لوگوں کا ہجوم ’’خواجوں کی حویلی‘‘ پر پِل پڑا۔ اس میں خواجہ اینڈ سنز کی انسانی شہرت سے  کہیں زیادہ کشش خواجہ مارکیٹ کی تھی۔ رزق تو اللہ کریم دیتا ہے؛ جسے چاہے جتنا عطا کر دے! یرزقُ مَن یشاءُ بغیرِ حساب۔ یہاں تک کہ رزق جو ایک انسان کے لئے لکھ دیا گیا ہے اس کی مثال موت کی سی ہے؛ وہ ملے گا، ضرور ملے گا اور مقررہ وقت پر ملے گا۔ یوں کہئے رزق مَوت کی طرح انسان کےپیچھے پڑا ہوا ہے۔ اس امر کا انحصار البتہ انسان پر ہے کہ وہ اپنے نصیب میں لکھے ہوئے رزق کو حاصل کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کرتا ہے اور اس کے صائب یا غیرصائب ہونے پر کتنی توجہ دیتا ہے۔
کمائی تو ہر کوئی کرتا ہے۔ کماتا وہ بھی ہے جس کی ایک فون کال پر لاکھوں روپے کا حساب ادھر سے ادھر ہو جاتا ہے۔کماتا وہ بھی ہے جو سرِراہ ہاتھ پھیلا کر آواز لگا رہا ہوتا ہے: ’’دے جا انھیا! سخی نوں پیسہ‘‘ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو بس کی بھیڑ میں پھنسے ایک سفید پوش بابو کی وہ جیب صاف کر جاتا ہےجس میں اس کی مہینے بھر کی تنخواہ ہوتی ہے اور اس کی بیوی اپنے چار بچوں کو بہلا رہی ہوتی ہے کہ: ’’آج بابا کو تنخواہ ملی ہے، شام کو بازار جائیں گے اور کھلونے بھی لائیں گے اور نئے کپڑے بھی۔ ‘‘ حالانکہ وہ جانتی ہے کہ اتنے میں تو چولھا بھی مشکل سے چلتا ہے۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو ایک کار کی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے شخص کی کنپٹی پر ٹھنڈی فولادی نالی رکھ کر اس کے زور پر گاڑی میں سوار خواتین کا سارا زیور اتروا لیتا ہے۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو ایک جعلی ٹیکا تیار کرتا ہے اور اسےکیمسٹوں اور ہسپتالوں تک یوں پہنچاتا ہے کہ اصلی لائف سیونگ ڈرگ کا ٹیکا  سرے سے غائب ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہو جاتا ہے کہ اس کا اپنا جوان بیٹا  وہی زہر سپلائی کرتے ہوئے اپنے ابا جیسے کسی قارون کی گاڑی سے ٹکرا کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور اسی جیسی جعلی ’’لائف سیونگ ڈرگ‘‘ کا شکار ہو جاتا ہے۔
کمائی وہ بھی کرتا ہے جو سارا دن گدھا گاڑی  پر دوسروں کا سامان ڈھوتا ہےاور خود بھی  گدھے کی طرح جان کھپاتا ہے۔ وہ بھی جو سارا دن اینٹیں ڈھوتا ہے، وہ بھی جو منشی گیری کرتا ہے اور تب تک کرتا ہے جب تک اس کی آنکھیں دیکھنے سے انکار نہیں کر دیتیں۔ کمائی وہ بھی کرتا ہے جو مونگ پھلی کی بھٹی کے ساتھ اپنا خون بھی جلاتا ہے؛ کہ خون جلے گا تو چولھا جلے گا۔اور کمائی وہ بھی کرتا ہے جو سارا دن چھابڑی سر پر اٹھائے پھرتا ہے؛ موسم کے مطابق چھوٹی موٹی اشیاء کچھ گھر پر تیار کر کے اور کچھ بازار سے خرید کر ان کی پڑیاں بناتا ہے اور پانچ دس پیسے پڑیا پر اپنی محنت کے کما کر شام کوآٹا دال  خرید لاتا ہے۔ مال اور مشقت، قیمت دونوں کی لگتی ہے۔ خالص پر جو ملتا ہے بھلے تھوڑا ہو پر اسے کھا کر رات کو نیند بے فکری کی آتی ہے۔ ناخالص پر کچھ زیادہ مل جاتا ہے اور جیبیں بھرنے لگتی ہیں، نیند کا کیا ہے خالص نہ سہی، ناخالص سہی!
اگلا مرحلہ خرچ کرنے کا ہے جو کمانے سے زیادہ نازک ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں! بڑے خواجہ صاحب نے ایسی ’’چھوٹی چھوٹی‘‘ باتوں کی کبھی پروا نہ کی؛ نہ کمانے میں نہ خرچ کرنے میں۔پروا کرتے تو چھابڑی سے مارکیٹ تک کی ملکیت؟ اتنا ضرور ہوا کہ ہر نومولود کو چمچ سونے کا مل گیا۔ یہی بڑے خواجہ صاحب کی کمائی تھی، یہی بچت اور جمع پونجی؛ جسے اب چار پانچ چھوٹے خواجاؤں کے بیچ بٹنا تھا۔ بڑے خواجہ صاحب کالے رنگ کی منقش چادر میں سفید براق ریشمی چادروں میں لپٹے پڑے تھے،بڑے خواجہ صاحب جو ٹھہرے! کھدر لٹھا بھی کوئی سستا نہیں پر ہے تو کھدر لٹھا ہی نا!
اتنی ساری باتیں کرنے کا موقع یوں مل گیا کہ مولوی صاحب کی زوجہ محترمہ کو ہنگامی حالت میں  ہسپتال جانا پڑا۔ خاصے انتظار کے بعد خبر ملی کہ موبائل فون کی گھنٹیاں پڑوسی سن رہے ہیں، جسے مولوی صاحب پریشانی کے عالم میں گھر کے صحن میں چارجنگ پر لگا چھوڑ گئے ہیں۔ جنازہ گاہ میں شور سا ابھرا کہ کوئی ہم مسلک بندہ تلاش کرو جو بڑے خواجہ صاحب کی نماز پڑھا سکے۔ اس شور میں کئی منٹ اور لگ گئے تو ایک کھنک دار آواز نے سب کو چونکا دیا۔ کوئی کہہ رہا تھا: ’’مرحوم کے بیٹے کہاں ہیں؟ ان میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز  کیوں نہیں پڑھا دیتا!؟‘‘ ادھر سے کوئی اور چلایا: ’’یہ کون بدتمیز ہے؟ کیسے موقعے پر کیسی باتیں کر رہا ہے۔ کوئی مولوی ڈھونڈ کر لاؤ، اعلان کراؤ پانچ سو، ہزار کے اس مجمعے میں کوئی مولوی ہے؟‘‘ پتہ نہیں اس پکار کا جواب ملا یا نہیں، اور ملا تو کتنی دیر بعد ملا۔       


بدرِ احمر کے قلم سے: جمعہ ۳؍ جولائی ۲۰۱۵ء

بے چارہ ۔ (1) ۔


بے چارہ (۱)

لالہ مصری خان نے بھرپور بے تکلفی سے مٹھائی کی پلیٹ پر ہاتھ صاف کیا، بلکہ پلیٹ ہی صاف کر دی۔ اپنی پگڑی کے لٹکتے ہوئے پلو سے ہونٹوں مونچھوں اور داڑھی کو صاف کیا، کھنکار کر گلے میں اٹکے ہوئے ذرات سے نجات حاصل کی اور اپنی مخصوص پاٹ دار آواز میں گیا ہوئے: ’’مبارک ہو بھئی! ویسے یہ مٹھائی تھی کس خوشی میں؟‘‘
ہم نے بتایا کہ’’ اللہ کریم نے ہمیں بیٹی سے نوازا ہے۔‘‘ تو لالہ کا چہرہ گویا کھل اٹھا۔ اس پر ان کی باتوں  نے افکار کے بہت سارے در وا کر دیے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے: ’’بیٹی اللہ کی عجیب نعمت ہے۔ تم اس کو پالتے پوستے ہو، تعلیم دلاتے ہو، گھر گھرہستی سکھاتے ہو، اس کے لئے ایسا لڑکا تلاش کرتے ہو جو تمہارے معیارات پر پورا اترتا ہو، دو بول پڑھاتے ہو اور دعاؤں کی چھاؤں میں اسے رخصت کرتے ہوئے ٹوٹ کر روتے بھی ہو اور مزید دعاؤں کی بارش سی برسا دیتے ہو۔‘‘ پھر جیسے چونک کر پوچھا: ’’یہ مولوی صاحب گئے ہیں ادھر سے؟‘‘ 
ہم نے اثبات میں سر ہلا دیا تو پوچھا: ’’کیوں؟ ‘‘ بتایا کہ ’’بیٹی کے کان میں اذان کہنے کو بلوایا تھا۔‘‘
لالہ کا چہرہ ایک دم تمتما اٹھا، بھاری بھرکم مونچھیں زنجیروں میں جکڑے ہوئے مگرمچھوں کی طرح تڑپنے لگیں اور آنکھیں ایسی سرخ ہو گئیں جیسے اندر کہیں کوئی جوالا مکھی پھٹ پڑا ہو۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے لالہ کے چہرے پر بھونچال کے اثرات دیکھے۔ غیض و غضب کے اس منظر سے ہم بخوبی واقف تھے، تاہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ مولوی صاحب اور اذان کے ساتھ اس زلزلے کا کیا رشتہ بنتا ہے جس نے ان کی براعظمی پلیٹوں کا باہم ٹکرا دیا تھا۔ ہم خوف زدگی کے عالم میں ان کے چہرے کو ایک ٹک دیکھ رہے تھے کہ دیکھئے کون سا لاوا نکلتا ہے اور کس کس کو بھسم کر کے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ 
’’کیوں؟ آخر کیوں؟‘‘ وہ بدقت تمام بولے۔ زلزلہ ان کی آواز پر بھی حاوی ہو رہا تھا۔ ’’مولوی کو بلانا کیوں ضروری تھا؟ تمہارا گلا کٹ گیا تھا کیا؟ خود اذان کیوں نہیں کہی؟‘‘ لالہ مصری خان کے لہجے کی کڑواہٹ میں شکایت کی نمکینی بھی شامل تھی۔
’’وہ، خان لالہ، بات دراصل یہ ہے کہ، وہ اصل میں، بات، اذان، کچھ بھی تو نہیں لالہ! بس وہ ایک جھجک سی آتی تھی‘‘۔ 
’’کس بات کی جھجک؟ کوئی گناہ کا کام تھا کیا؟‘‘ لاوا بہہ نکلا۔ ’’مولوی کو بلا بھیجا کہ نیک آدمی ہے ایک آدھ گناہ سے اس کا کیا جائے گا؟ ہے نا!‘‘ ہم لالہ کی نگاہوں کی مزید تاب نہیں لا سکتے تھے۔ بات ان کی صد فی صد درست تھی۔ ندامت کے بار نے ہماری گردن جھکا دی تھی۔
لالہ کہہ رہے تھے: ’’دنیا جہان کے شاعروں کی غزلیں کیا پورے پورے دیوان تمہیں یاد ہیں، بات کرتے ہو تو دلیل اور ردِ دلیل کا وہ ماحول بناتے ہو کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ تمہیں کیا اذان اور اقامت نہیں آتی؟ ‘‘۔
ہم بمشکل کہہ پائے کہ’’ آتی تو ہے، مگر ۔۔‘‘
’’مگر کیا؟ تمہیں ایک اتنے ذرا سے کام کے لئے مولوی درکار ہے! افسوس کا مقام ہے، کہ ایک مسلمان باپ کو اپنے بچے کے کان میں اذان کہنے کو مولوی درکار ہے۔‘‘ ہماری یہ کیفیت کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’’اس بچی سے بڑے کتنے ہیں؟‘‘
’’جی، تین ماشاء اللہ۔‘‘
’’ما شاء اللہ تب کہنا جب اپنی بیٹیوں کے نکاح کا خطبہ خود پڑھ سکو، نہ پڑھ سکو تو خود انا للہ پڑھ لینا۔‘‘ 
لالہ مصری خان کے اتنے تلخ جملے پر بھی ہم نے خاموشی میں عافیت جانی۔ کچھ دیر میں ان کا غصہ فرو ہوا تو بولے :’’ پانی پلواؤ، تمہیں تو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ پانی غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں طنز کا عنصر در آیا: ’’یہ مولوی نالائق ہے تمہارا، ہے نا؟ اس نے تمہیں اتنی سی بات نہیں بتائی۔‘‘ ہمیں یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی دقت نہیں ہوئی کہ نام مولوی کا لیا جا رہا ہے، اور خبر ہماری۔
ہمارے چہرے پر شرمندہ سی مسکراہٹ دوڑ گئی اور ہم پانی لانے کے لئے بیٹھک کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے۔


بدرِ احمر کے قلم سے: جمعرات ۲؍ جولائی ۲۰۱۵ء


بدھ، 1 جولائی، 2015

تھا وہ اک یعقوب آسی (11)۔


تھا وہ اک یعقوب آسی


ایک اور لڑکا اسی بیت المجردین کا باسی تھا، نام تو اس کا یاد نہیں چلئے بابو کہہ لیتے ہیں، اپنے روم میٹ سے جو اسی کے گاؤں کا تھا اکثر کہتا کہ: ’’یار کسی لڑکی سے قلمی دوستی کرا دو!‘‘ (وہ زمانہ قلمی دوستی ہی کا تھا، موبائل فون یا تو کسی سیٹھ کے ہاتھوں میں دکھائی دے جاتا یا کسی بہت پڑھے لکھے بڑے زمیندار کے)۔اس نے سمجھایا بجھایا ہو گا، بابو نہیں مانا تو حشمت سے سازباز کی اور حشمت نے ایک جعلی کردار ’’وسیمہ ناز‘‘ کی حیثیت میں بابو کو پہلا خط لکھا، پتہ ساہی وال شہر کا دے دیا جہاں ان کا کوئی مشترکہ دوست رہتا تھا۔ خط و کتابت کا سلسلہ چل نکلا ؛ وہ مرحلہ آ گیا کہ جنابِ بابو وسیمہ ناز سے ملنے کی منہ زور خواہش کا اظہار کرنے لگے۔ ان کو بہت ٹالا جاتا رہا مگر وہ کہاں ٹلنے والے تھے۔ اس نازک مرحلے پر حشمت اور مڈل مین نے مجھے اعتماد میں لیا کہ یار اس احمق کا یہ سلسلہ بند کراؤ،  اور اُسے احساس بھی نہ ہو کہ میرے ہی ساتھی مجھے بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ میں ایک اور فرضی کردار ’’عذرا کوکب‘‘ (وسیمہ کی دوست اور ٹیچر) کی حیثیت سے اس کھیل میں شامل ہوا۔ ملاقات کا لالچ دے کر جنابِ بابو کو خود ان کے گاؤں کے تین چار  ہنگامی چکر لگوائے، ساہی وال کے معروف پبلک پارک، کالج گراؤنڈ، جہاز گراؤنڈ ، ریلوے سٹیشن وغیرہ میں پھروایا۔ جہاز گراؤنڈ عملی طور پر  کوئی گراؤنڈ نہیں ایک محلے کا نام تھا، ایک چوک میں ایک ہوائی جہاز کا ڈھانچا رکھا تھا، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ انڈین جنگی طیارہ تھا جسے ۱۹۶۵ کی جنگ میں اس جگہ مار گرایا گیا تھا۔ بابو بے چارہ دیوانہ وار بھاگا پھرتا۔ ڈراپ سین کے لئے ساہی وال شہر سے تین چار میل باہر جی ٹی روڈ پر واقع ایک مہنگے ہوٹل کا انتخاب کیا گیا۔ بابو سے کہا گیا کہ وہاں فلاں تاریخ کو لنچ کرائے گا۔ وسیمہ، عذرا اور تین چار سہیلیاں عذرا کی کار میں ہوٹل پہنچیں گی؛ بابو اپنے بھائی کو ساتھ لے کر آئے گا۔ اس زمانے میں یہ کوئی سات آٹھ سو روپے کا نسخہ تھا ۔ ہم جانتے تھے کہ بابو میں اتنی پسلی نہیں ہے۔ بابو نے وعدہ کر لیا تو مڈل مین صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ یار کیا پاگل ہوئے ہو؟ تمہاری چھ مہینے کی تنخواہ جتنا خرچہ ہے کوئی بہانہ لکھ بھیجو اور اس ایک دن کی ہنگامی رخصت لے کر گاؤں چلے جاؤ؛ کہیں ایسا نہ ہو وہ تمہیں ڈھونڈتی ہوئی یہاں آن پہنچے۔ یہ بھی بتانا پڑے گا؟ کہ فرار بالجبر کے اس منصوبے کے پیچھے عذرا کوکب کا دماغ کام کر رہا تھا۔ بابو اس خاص دن کو گاؤں چلا گیا اور اگلے دن معذرت کا خط لکھ دیا کہ مجھے ہنگامی طور پر گاؤں جانا پڑا۔ ’’وسیمہ ناز‘‘ کو خط ملا تو اس کا جواب ’’عذرا کوکب‘‘ نے دیا اور ایسا دیا کہ بابو کے عشق کا بھوت ہی اڑن چھو ہو گیا۔

بہت بعد میں بابو کی شادی اپنے ہی گاؤں میں اپنے عزیزوں کے ہاں ہوئی۔ انہوں نے بیت المجردین کے باسیوں کو پارٹی دی،  اس پارٹی میں یہ ڈراما ان پر کھول دیا گیا۔ تاہم میں اس پارٹی میں شریک نہیں ہو سکا (حشمت البتہ موجود تھا)۔  ایک تو میں وہ ادارہ چھوڑ کر انجینئرنگ کالج ٹیکسلا (کیمپ ساہی وال) میں جا چکا تھا۔ دوسرے، اماں کی رحلت کے بعد بیوی بچوں کے ساتھ پاکپتن چوک کے نزدیک کرائے کے ایک چھوٹے سے گھرمیں رہ رہا تھا۔

 ہمارے دفتر کے ساتھیوں میں ایک ریاض نغمی تھے؛ ہمہ وقت لئے دئے رہتے، کسی سے کم ہی گھلتے ملتے، حلیے سے ایک عجیب لااُبالی پن جھلکتا تھا۔ کسی نے بتایا کہ نغمی صاحب شاعر ہیں، ہم نے کچھ جاننے سننے کی خواہش میں ان سے بات کی بھی مگر انہوں نے ہمیں ، ہماری بات کو یا ہماری کاوشوں کو درخورِ اعتنا نہیں جانا؛ یا کم از کم ہمارا تاثر یہی بنا۔ بارے ایک اقبال صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے ہم لوگوں نے بزمِ اقبال کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنائی ہے اگلے اجلاس میں آئیے گا، پتہ فرید ٹاؤن ہی کا تھا۔ ہم (میں اور حشمت) گئے تو دیکھا کہ ایک بڑا سا احاطہ ہے جس کے ایک طرف کچھ کمرے بنے ہیں اور باقی زمین خالی پڑی ہے۔ احاطے کے بیچوں بیچ ایک بڑی سی دری بچھی تھی جس پر چار پانچ جوان اور ایک قدرے بزرگ شخصیت چہروں پر بیزاری لئے بیٹھے تھے۔ ہم بھی بیٹھ گئے ، رسمی سا تعارف ہوا اور باتیں ہونے لگیں۔ کوئی نہر کے پانی کی بات کر رہا تھا تو کوئی طویل فلائی اوور کی، کوئی اپنے کسی ساتھی کا گلہ کر رہا تھا تو کوئی کسی ریہڑی والے کا شکوہ کر رہا تھا۔ جی میں آئی کہ اِ ن سے کہا جائے کہ یارو! ادب کی بات نہیں کرتے تو کم از کم کوئی ایسی بات تو کرو جس میں فکر کا کوئی عنصر ہو، کوئی سوچنے کی بات ہو؛ وغیرہ۔ حشمت کے چہرے پر بہت کچھ لکھا ہوا تھا مگر ہم نے اسے پڑھنے سے گریز کرتے ہوئے انہی اقبال صاحب سے ایک بہت عام سا سوال کیا: آپ غزل کہتے ہیں یا نظم؟ مختصر سا جواب دیا: جی میں غزلیں لکھتا ہوں، اور پھر لاری والے کی کہانی وہیں سے شروع کر دی جہاں ہمارے سوال کا سپیڈ بریکر پڑا تھا۔ حشمت نے خاصی بے مروتی سے کہا: چل یار واپس، کالج گراؤنڈ میں چلیں گے۔ ایک اور صاحب کا پتہ چلا کہ معروف شاعر ہیں، کسی اخبار سے بھی وابستہ ہیں، فرید ٹاؤن ہی میں رہتے ہیں۔ پتہ معلوم کیا اور ان کی محل نما کوٹھی کی گھنٹی جا بجائی۔ ایک ملازم نکلا، کہنے لگا صاحب کو بتاتا ہوں۔ پھر صاحب تشریف لائے اور وہیں سڑک پر کھڑے کھڑے ہمیں چلتا کیا۔ وہ تو شکر ہے حشمت ساتھ نہیں تھا ورنہ اپنا وہ توا لگتا کہ دنیا دیکھتی۔ اس کے بعد ہمیں وہاں کے کسی  قلم کُش سے ملاقات کی خواہش نہیں رہی۔ وہ معروف شاعر تو کب کے مشہور ممتاز اور پتہ نہیں کیا کیا خطابات پا چکے ہیں مگر ان کا نام سن کر ہمارا منہ پتہ نہیں کیوں کڑوا ہو جاتا ہے۔

1972 سے 1974 تک کا مکمل بے روزگاری کا زمانہ فی الواقع بہت صبر آزما تھا۔ اس دوران انگریزی کی ٹائپنگ بھی کچھ کچھ سیکھ لی ، اور شارٹ ہینڈ کے وہ اسباق بھی کچھ تازہ  کر لئے جو کبھی جلو موڑ میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر پڑھا کرتا تھا۔ تاہم شناختی کارڈ کے محکمے میں اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ ڈسٹرکٹ رجسٹرار (ڈی آر) صاحب کے دفتر میں ایک ٹائپ رائٹر تھی ، اور ایک بابو، محمد امین طاہر ۔ ذیلی برانچوں میں کام کی نوعیت قطعی مختلف تھی: درخواست فارموں کا اندراج رجسٹروں میں ہوتا، کارڈ ہاتھ سے لکھے جاتے، اکاؤنٹس اور سٹورز آفس میں بھی اندراجات وغیرہ ہاتھ سے ہوتے۔ گوشواروں اور رپورٹوں کے لئے چھپے ہوئے فارم تھے جن کی بنیاد پر ماہانہ گوشوارے تیار ہوتے۔ خط و کتابت تھی جس کے لئے ٹاپنگ کی ضرورت ہوتی۔محمد امین طاہر بھی نیا آدمی تھا، جیسے تیسے کام چلا رہا تھا۔

ایک دِن ڈی آر (رشید صاحب) نے طلب کر لیا۔ طلبی کی عام طور پر ایک ہی وجہ سمجھی جاتی تھی کہ سیکشن انچارج نے تحریری شکایت کر دی ہے۔ میں نے خود کو کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال کے لئے تیار کیا تاہم ڈرتے ڈرتے دفتر میں داخل ہوا۔ صاحب گویا ہوئے: ’’آپ یہاں (مراد: اس محکمے میں) آنے سے پہلے کیا کرتے تھے۔‘‘
’’بے کار پھرتا تھا، سر ‘‘
’’بیوی بچے ہیں؟‘‘
’’جی، بیوی بچے بھی ہیں، والدہ بھی ہیں۔‘‘
’’آپ کی والدہ آپ سے خوش ہیں؟‘‘
’’انہی کی دعاؤں کی قبولیت ہے سر، کہ مجھے ڈھنگ کی نوکری مل گئی۔‘‘
’’آپ کے انچارج بتا رہے تھے آپ پہلے کسی دفتر میں کام کرتے تھے۔‘‘
’’جی ہاں، تین سال کے لگ بھگ کام کیا، پھر وہ نوکری جاتی رہی۔‘‘
’’ٹائپ آتی ہے آپ کو اور شارٹ ہینڈ بھی؟‘‘
’’جی، سیکھی تو ہے مگر تجربہ کوئی نہیں، بے روزگار رہا ہوں۔‘‘
’’آپ کی میں اپنے دفتر میں ٹرانسفر کر دوں تو؟‘‘
’’آپ کے پاس اختیار ہے سر، میں کہا کہوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میں دیکھتا ہوں، شکریہ۔ (یعنی دفتر سے نکلنے کا حکم) راؤ صاحب(میرے سیکشن انچارج)  سے کہیں مجھ سے مل لیں۔‘‘

اگلے دن رجسٹریشن سیکشن سے ڈی آر آفس میں تبادلے کا حکم نامہ جاری ہو گیا۔ میں نے راؤ صاحب سے اجازت لی اور اپنے دفتر میں حاضری رپورٹ جمع کرادی۔ دو چار دن میں ہاتھ مشین پر رواں ہو گئے تومحمد امین طاہر کو میری جگہ سیکشن میں بھیج دیا گیا۔ دفتر کا کام میرے لئے نیا نہیں تھا۔ چٹھی آئی، درج ہوئی ، فائل میں لگی، نوٹ لکھا گیا، فائل صاحب کو پیش کی گئی، حکم نوٹ پورشن میں لکھا گیا، اس پر عمل درآمد کی رپورٹ بنی، پیش کی گئی اور کیس فائل؛ چٹھی میں کوئی جواب طلب بات ہوئی یا کوئی گوشوارہ طلب کیا گیا تو وہ تیار کروایا، ایک چٹھی لکھی، دستخط ہوئے، اندراج ہوا، ڈاک میں ڈالی گئی، آفس کاپی فائل میں لگ گئی اور معاملہ ختم۔ ساتھ کے ساتھ کام نمٹانے کی عادت ہو تو کچھ فری وقت بھی مل جاتا ہے۔ ایسے ہی فارغ اوقات میں قواعد و ضوابط کی فائلیں پڑھا کرتا کہ انہی سے تو حوالے دینے ہوتے تھے۔

رشید صاحب مزاج کے اچھے اور انسانی اقدار کا پاس کرنے والے شخص تھے، تاہم  اُن میں خود اعتمادی ویسی نہیں تھی جو میں نے ان کی سطح کے افسروں میں دیکھی تھی۔ دفتری معاملات میں پریشان ہو جایا کرتے اور اکثر مجھے ہی مشورہ دینا پڑتا کہ سر میٹنگ کال کر لیجئے۔ میٹنگ کا ایجنڈا تیار کرنا اور اس کے منٹس لکھنا وہ نیا کام تھا جو میں نے اس دفتر میں سیکھا۔ گفتگو تو ظاہر ہے زیادہ تر پنجابی میں اور کچھ کچھ اردو میں ہوتی تھی، منٹس انگریزی میں لکھنے ہوتے تھے۔ وہاں پہلی بار ایسا سوال سامنے آیا کہ: یہ لوگ آگے پیچھے کیا کرتے پھرتے ہیں وغیرہ وغیرہ کچھ خبر ہو تو بتایا کریں۔ میں نے صاف کہہ دیا کہ: ’’صاحب یہ کام کسی اور کے ذمے لگائیے، میرے پاس میرا اپنا کام بہت ہے۔‘‘

ایک دن کہنے لگے: ’’شارٹ ہینڈ نوٹ بک جاری کروا لیں، اور ڈکٹیشن لیا کریں۔‘‘ گویا میری شارٹ ہینڈ کی مشق کا وقت آ گیا تھا، میں نے بک جاری کروا لی۔ یہاں صورت ایسی تھی کہ جیسا نیا ڈکٹیشن دینے والا ویسا ہی نیا ڈکٹیشن لینے والا، اور پھر چٹھیاں لکھوانے کی نوبت بھی کم کم ہی آتی تھی۔ لطیفہ یہ بنا کہ  مجھ پانچویں سکیل کے کلرک کو یار لوگ پی اے کہنے لگے، حالانکہ وہاں پی اے تو کیا سٹینوٹائپسٹ کی پوسٹ تک نہیں تھی۔ کام کا معاملہ دوسرا ہے، آپ جتنا کچھ اٹھاتے جائیں گے آپ پر ڈال دیا جائے گا اور پھر اٹھانا پڑے گا۔ اپنی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی، بقول سید محمد جعفری:
خالق نے جب ازل میں بنایا کلرک کو
لوح و قلم کا جلوہ دکھایا کلرک کو
کرسی پہ پھر اٹھایا بٹھایا کلرک کو
افسر کے ساتھ پِن سے لگایا کلرک کو
مٹی گدھے کی ڈال کے اس کی سرِشت میں
داخل مشقتوں کو کیا سرنوِشت میں

  چھ سات مہینے گزر گئے۔ اتنا عرصہ صاحب اور پی اے کو ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے بہت ہوتا ہے۔ ایک بات جی میں آئی تو میں نے رشید صاحب سے کہہ بھی دی: آپ کام مجھ سے پی اے اور کلرک دونوں کا لے رہے ہیں اور تنخواہ مجھے کلرک کی مل رہی ہے، پی اے تو گیارہویں سکیل میں ہوتا ہے۔ کہنے لگے: ’’کیا چاہتے ہو نوکری میں تو یہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘
کہا: ’’سر، گیارہواں نہ سہی آٹھواں سکیل تو دلوا دیں یعنی سٹینو ٹائپسٹ۔‘‘
’’میرے پاس تو سیٹ ہی نہیں ہے، تمہیں کہاں سے دلوا دوں‘‘
’’سیٹ منگائی جا سکتی ہے، اس دفتر کو اتنا ہی تو نہیں رہنا، اس کی تحصیل برانچیں بھی بننی ہیں۔‘‘
ہنس پڑے، کہنے لگے: ’’کیس تیار کر لاؤ۔‘‘ میں نے کیس تیار کیا؛ اس میں لکھا کہ: ہمارے پاس فلاں نام کا ایک کلرک ہے جس سے وقت کی ضرورت کے مطابق سٹینوٹائپسٹ کا کام لیا جا رہا ہے،ادھر ہمارے پاس بجٹ میں سٹینوٹائپسٹ کی سیٹ نہیں ہے؛ سفارش کی جاتی ہے کہ اس دفتر میں ایک سیٹ  مہیا کی جائے اور مذکورہ کلرک کو سٹنیوٹائپسٹ  کے عہدے پر ترقی دی جائے۔ چٹھی لاہور چلی گئی۔

خاصی طویل خاموشی کے بعد میں نے ریمائنڈر بھجوایا تو جواب آیا کہ اس مذکورہ کلرک کا ٹائپ اور شارٹ ہینڈ کا ٹیسٹ لے کر اس دفتر کو مطلع کیا جائے۔ چلئے کچھ حرکت تو ہوئی! میں نے کہا :صاحب! یہاں تو ٹیسٹ لینے والا بھی کوئی نہیں، کام آپ میرا دیکھ چکے ہیں، انہیں رسمی ٹیسٹ سے استثناء کے بارے میں لکھئے۔ لکھا گیا اور پھر ایک طویل انتظار کے بعد دو چٹھیاں وصول ہوئیں۔ ایک میں پوسٹ کی منظوری تھی، دوسرا میرے تقرری کا حکم نامہ  تھا، اس نوٹ کے ساتھ کہ کلرک سے سٹینو کے لئے کوئی پروموشن لائن نہیں ہے۔ یوں میں ایک سال کلرکی کر کے باضابطہ طور پر سٹینوٹائپسٹ بن گیا۔ یہ مئی 1975 کی بات ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رزق کا جو وعدہ فرمایا ہے اس کی عملی صورت مجھ پر وارد ہو گئی تھی۔ اس بات پر بھی اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ میں مکمل مایوسی سے کبھی دو چار نہیں ہوا۔ بے روزگاری میں دنوں میں بھی ہاتھ پاؤں توڑ کے نہیں بیٹھا تھا۔ روئی کے ایک کارخانے میں مزدوری کی، ایک وکیل کے ساتھ منشی رہا، ٹول ٹیکس پر اٹھارہ دن، ایک ٹھیکیدار کے ساتھ ایک ڈیڑھ ہفتہ کام کیا؛ اوکاڑہ کی گلیوں میں اخبار بیچے،لُنڈے کی ہوزری بیچی اور پتہ نہیں کیا کچھ۔ اور جب عطا کا  وقت آیا  تو خصوصی طور پر میرے لئے ایک خالص سرکاری ادارے میں پوسٹ نئی آ گئی۔   اور اس پر دوسال بھی نہیں ہوئے تھے کہ  میں یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ ٹیکسلا میں (پے سکیل نمبر 10 میں) جونیئر سٹینوگرافر بھرتی ہو گیا (اپریل 1977ء)۔ بندہ اس ذات باری تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہے۔ ان الانسان لربہ لکنود۔ و انہ علیٰ ذٰلک لشہید۔ و انہ لحب الخیر لشدید (سورۃ العادیات)۔جیسے جیسے میرے گھر کی رونق بڑھتی گئی اللہ کریم نو واردانِ عالمِ فانی کی قسمت کے سکیل مجھے عنایت کرتا رہا۔ ورنہ ہاتھ تو میرے وہی دو تھے۔

تحریر: یکم جولائی ۲۰۱۵ ء

تھا وہ اک یعقوب آسی (10)۔


تھا وہ اک یعقوب آسی


حرف اللہ کریم کا بہت ہی خاص کرم ہے وہ جسے نواز دے اور عظیم ذمہ داری بھی ہے جسے وہ شعور اور اہلیت عطا فرمائے۔ این سعادت بہ زورِ بازو نیست۔ میرا تجربہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی جو اِس ذمہ داری کو سنجیدگی اور دیانت سے نبھانے کی سعی کرتا ہے اللہ کریم اس کو توقیر سے بھی نوازتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’پڑھئے اور آپ کا رب سب سے زیادہ اِکرام والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا‘‘۔ بہت پہلے، بہت پہلے، کہ اس وقت کا علم اللہ ہی کو ہے،  قلم کو حکم ہوا کہ لکھ؛ وہ لکھتا رہا، لکھتا رہا یہاں تک کہ لکھنے کے حکم کی تعمیل ہو گئی۔ پھر روشنائی خشک ہو گئی یعنی جو کچھ لکھا گیا پکا ہو گیا ۔

احباب جانتے ہیں کہ حرف سے میرا تعلق سنِ شعور سے پہلے قائم ہو چکا تھا۔ سکول کے زمانے میں اور اس کے ایک عرصہ بعد تک کچھ غیر سنجیدہ قسم کی کوششیں بھی کیں، جو ظاہر ہے اس قابل نہ تھیں کہ ان کو سنبھال کر رکھا جاتا۔ ہاں بیچ میں دو تین کاوشیں جو اس وقت کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہو گئیں وہ محفوظ ہو گئیں۔ بقیہ کئی نسیاً منسیاً ہو گئیں  اورکچھ کہیں ڈائریوں میں لکھی رکھی ہیں۔  جہاں کہیں ’’ایاز قدرِ خود را بشناس‘‘ کی ضرورت محسوس ہو، اُن کو نکال کر پڑھنے لگتا ہوں کہ وہ ایسا پرانا  آئینہ ہیں جس کا زنگار اترنے والا نہیں۔ساہی وال میں ملازمت کے چار سال کے دوران چند ایک ادیبوں سے شناسائی ہوئی ضرور مگر انہوں نے میری ان تحریروں  کو غور سے دیکھا بھی نہیں کہ وہ شاید اسی قابل رہی ہوں۔ جو کچھ بھی ہیں، وہ کاوشیں میرے تو آئینے ہیں، ٹوٹ بھی جائیں تو کیا ہے، آئینے ہی رہیں گے۔ پتھر بھی تو پتھر رہتا ہے چاہے کرچی کرچی ہو جائے۔
ہم نے انا کے بت کو توڑا بھی پر اس کو کیا کہئے
ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھی پتھر تو پتھر رہتا ہے
کرچی کرچی ہونے کا دکھ اپنی جگہ
پتھر جو برسے کس سے منسوب کروں

خار زارِ حرف  میں باضابطہ طور پر اترنے کا سانحہ تو بہت بعد کا ہے، وہ بھی اپنی ایک خارج از وزن غزل نما اور ایک تازہ شعر کے ساتھ۔ ویسے واقعہ ہے  دل چسپ ، سو آپ بھی شامل ہوجئے۔ یہاں ٹیکسلا میں مئی 1984 میں حلقہ تخلیقِ ادب ٹیکسلا کی داغ بیل ڈالی گئی۔ مقبول کاوش مرحوم (شعری مجموعہ ’’گلاب زخموں کے‘‘ ) صدر بنے۔ اُسی برس ستمبر اکتوبر کی بات ہے، ایک صاحب (مبشر احمد خورشید) نے مجھ سے رابطہ کیا اور حلقے کے اجلاسوں میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اگلے ہی بدھ کو اُن کے بتائے ہوئے وقت پر مقررہ مقام (ایچ ایف ایف بوائز سکول) پر پہنچا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ وہ لوگ تو غروبِ آفتاب کے بعد آئیں گے اور پھر تا دیر بیٹھیں گے۔ وقت گزاری کے لئے ایک چائے خانے میں جا بیٹھا، وہاں سے اٹھا تو دیکھا کہ قریب ہی ایک کھلے میدان میں کوئی جلسہ ہو رہا ہے۔ شاید لوکل کونسلوں کے انتخابات تھے، شامیانے کے نیچے چالیس پچاس کرسیاں رکھی تھیں جن پر پندرہ بیس لوگ بیٹھے تھے اور ایک لیڈر صاحب تقریر فرما رہے تھے۔ کچھ دیر تک بیٹھا اُن صاحب کے ناقابلِ عمل وعدوں اور ناقابلِ یقین دعووں کو سنتا رہا۔ اور اس عالم میں ایک شعر سرزد ہو گیا، جو آج تک فرد ہے:
میرا لہو مجھی کو بیچا، مجھ سے دام بٹور لئے
واہ رے لاشوں کے بیوپاری، مجھ کو بیچا میرے ہاتھ

سکول پہنچا تو کچھ لوگ موجود تھے، سب اجنبی چہرے؛ ایک چہرہ البتہ جانا پہچانا تھا؛ وہی اختر شادؔ، جن کا ذکر ’’مجھے اک نظم کہنی تھی‘‘ کے دیباچے میں آ چکا ہے۔ میری ان کی اولین ملاقات 1979 میں ہوئی تھی، وہ بھی غمِ نانِ جویں سے نبرد آزمائی کے سلسلے میں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ صاحب شاعری بھی کرتے ہیں۔ اُس دن کے اجلاس کی نظامت بھی انہوں نے کی اور پتہ نہیں کس بنیاد پر انہوں نے مجھے صدارت کی کرسی پر بٹھا دیا۔ اجلاس شروع ہوا، حاضر شعرائے کرام کلام سناتے گئے اور میں خود کو کہیں گہرائی میں اترتا محسوس کرتا رہا۔ صدرِ اجلاس ہونے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مجھے سننے اور سوچنے کو تھوڑا سا وقت میسر آ گیا۔ میری باری آئی تو ۔۔ کچھ نہ پوچھئے!سوچا کچھ بات کرتے ہیں اس سے سنبھالا ملے گا۔ کہنا چاہا کہ اتنے سینئر شعراء میں صدارت کی کرسی پر ایک نوآموز ۔۔ منہ سے ’’نو آمیز‘‘ نکلا۔  اس دوران اپنی اس ’’شاہکار غزل‘‘ کو میں پہلے ہی (اس کے مضامین کی یکسانیت کی بنا پر) نظم تسلیم کرکے اسے ایک عنوان بھی دے چکا تھا: ’’ابنِ آدم‘‘،  مگر اشعار جیسے تھے ویسے ہی پیش کرنے پڑے۔احباب کے چیں  بہ جبیں ہونے کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی تھی کہ موصوف (یعنی ہم) ۱۹۷۲ سے شاعری فرما رہے ہیں اور بارہ سال کے عرصے میں اوزان کا ادراک نہیں کر پائے۔ انہیں کیا معلوم کہ وہ بارہ برس کیسے تھے! ’’بارھیں برسیں کھٹن گیا تے کھٹ کے لیاندا ٹھُوٹھا‘‘۔ بہر حال اس ایک تازہ شعر نے بھرم رکھ لیا کہ آسیؔ جی  اگرچہ ابھی تک وزن سے خارج شاعری فرماتے ہیں تاہم ان میں صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس اعتبار سے حلقے میں میری پہلی حاضری ہی مجھے خود تنقیدی کی راہ پر ڈال گئی۔

حلقے کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے جانے لگا، کچھ نیا لکھنے کہنے کا موقع بھی ملا، کچھ وزن میں اور کچھ  ’’خلائی‘‘  شاعری، تاہم ہوتے ہوتے اوزان کا ادراک بہتر ہوتا گیا۔ معمول کی ادبی محفل کے بعد ایچ ایم سی مارکیٹ میں واقع عباسی ہوٹل میں چائے کی پیالی پر غیر رسمی نشست ہوا کرتی، ان نشستوں میں بہت کچھ سیکھا۔ اس وقت میرے سینئرز میں اختر شاد اور مقبول کاوش کے علاوہ رؤف امیر، صدیق ثانی، اور واہ سے تعلق رکھنے والے کئی دوست تھے۔ پھر ایک مرحلے پر مجھے حلقے کا سکریٹری بنا دیا گیا ، روداد نویسی تو ظاہر ہے کرنی ہی تھی۔ ہر بدھ کو مجھے گزشتہ اجلاس کی روداد پیش کرنی ہوتی، اس میں غلطیوں اور خامیوں کی نشان دہی کی جاتی۔ حلقے میں اس وقت تک باضابطہ تنقیدی نشستوں کا رواج نہیں تھا مگر میری لکھی ہوئی روداد پر بہر حال تنقیدی انداز کی گفتگو ہوا کرتی۔ بھائی لوگوں کے اعتراضات اور نکتہ آفرینیوں سے بچنے کے لئے میں ہر بار کوشش کرتا کہ روداد پچھلے ہفتے سے بہتر ہو۔

کچھ احوال ان بارہ برسوں کا تو پہلے بیان ہو چکا۔ قومی شناختی کارڈ کے محکمے کی کلرکی سے میرے بہت سارے افکار تو رفع ہوئے کہ ہر مہینے لگی بندھی تنخواہ مل جاتی تھی۔ گھر میں اماں تھیں، عائشہ تھی اور دونوں بڑی بیٹیاں جن کے لئے کچھ ڈھنگ سُر کی ہنڈیا پک جاتی تھی۔ میں نے ساہی وال میں ایک چھَڑا ہاؤس میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور ہفتہ وار چھٹی پر گھر  جایا کرتا۔

چھڑا ہاؤس عرفِ عام میں اس جگہ کو کہا جاتا تھا جو مختلف اداروں کے کچھ ملازم مل کر کرائے پر لے لیتے۔ ایسی جگہوں پر کوئی اپنے بیوی بچوں کو ساتھ رکھنے سے تو رہا، سو، وہاں کنوارے بیاہے سب چھڑے (تنہا) ہوتے۔ اپنے اولین و آخرین چھڑا ہاؤس سے بہت دل چسپ اور رنگا رنگ یادیں بھی وابستہ ہیں اور زندگی کے ایسے تجربات بھی جو کسی بیت المجردین ہی میں ہو سکتے ہیں۔ 191۔زیڈ، فرید ٹاؤن ساہی وال چار کمروں اور دو کمریوں کے علاوہ ایک کھلے صحن اور اس کے کونے میں واقع  واحد واش روم پر مشتمل تھا۔ کرایہ کا تناسب کمروں اور شراکت داروں کے حساب سے متعین تھا جس میں کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ گیس تھی نہیں، بلی کا بل سارے برابر برابر ادا کرتے۔ مالک مکان ایک بزرگ آدمی تھے جو ماہ بہ ماہ صرف کرایہ اور بل وصول کرنے آیا کرتے تھے۔  کچھ لوگ اپنا کھانا خود پکاتے تھے، کچھ ہوٹل سے کھاتے اور دو بابو ایسے تھے جو کھانے کے لئے ایک اور چھڑا ہاؤس جایا کرتے کہ وہاں ان کے دفتروں کے ساتھی رہتے تھے۔


یہاں میرا ہانڈی وال (کھانے کا ساتھی) دیپال پور کے ایک نواحی گاؤں ’’جسو کے دھَون‘‘ کا رہنے والا، میرے دفتر کا ایک ساتھی حشمت جاوید بھٹی تھا۔ وہ چپاتیاں اچھی بنا لیتا تھا اور میں سالن اچھا پکا لیتا؛ سو اندھے اور لنگڑے کی سی بن آئی تھی۔ حشمت ایک خوش طبع شخص تھا، ادب سے کچھ کچھ لگاؤ اسے بھی تھا، مگروہ صرف پڑھتا تھا، لکھتا نہیں تھا اور میں الٹی سیدھی سطریں لکھ کر بالجبر اس کے کانوں میں انڈیلا کرتا اور وہ حسرت زدہ ادا سے کہا کرتا: ’’اے کاش میں تجھ سے اس ظلم کا بدلہ لے سکتا۔ اچھا، آج روٹی کچی کھلاؤں گا، جیسے تیرے شعر کچے ہیں!‘‘ دوسرے اس نے بی اے کر رکھا تھا اور مجھ سے دو سکیل سینئر تھا۔ اس کے والد شیر محمد بھٹی زمیندار تھے اور پولیس سے تھانے دار ریٹائر ہوئے تھے۔ حشمت کبھی کبھی کہہ بھی دیتا کہ : ’’ابا جی جب سے ریٹائر ہوئے ہیں، ہمارا گھر تھانہ بنا ہوا ہے‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’یار، ابا تیرا زمیندار، تھانیدار، اور تو یہاں اپنے ہاتھ جلا کر روٹی پکاتا ہے‘‘۔  بولا: ’’تجھے سچی بات بتاؤں، میں گھر پر بھی پڑا رہ سکتا ہوں ، مگر میں رہ نہیں سکتا! میں تو پہلے ہی خاصا نکما ہوں اور زنگ لگ جائے گا۔ اور یار شادی بھی تو کرنی ہے! اگلے پوچھتے ہیں کہ لڑکا کرتا کیا ہے‘‘۔ اس پر یا ایسے ہی کسی غیر اہم موضوع پر بھی ہماری نوک جھونک چل نکلتی تو گھنٹوں تک چلتی۔ اس نے میرا نام ہی ’’مسٹر بحثیئر‘‘ رکھ دیا تھا۔ شام کو کھانا وغیرہ کھا کر ہم فرید ٹاؤن والی بڑی سڑک سے ہوتے ہوئے گورنمنٹ کالج کے وسیع و عریض لان ناپا کرتے اور تھک جاتے تو واپس آ جاتے۔ بعد ازاں محکمے نے اوکاڑا میں دفتر کھولا تو حشمت جاوید کی بھی ادھر ٹرانسفر ہو گئی۔ ایک بار اس کے نئے دفتر میں ملاقات ہوئی بس، پھر خبر ملی کہ اس نے 25 سال نوکری کر کے ریٹائرمنٹ لے لی اور گاؤں چھوڑ کر لاہور شہر میں جا بسا۔